Home » 2019 » February » 08

Daily Archives: February 8, 2019

حکومت کا شہباز شریف سے پی اے سی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے شہباز شریف سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیرمین شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی اے سی کے دفتر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور نیب مقدمات میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی پی اے سی میں شامل کیا جا رہا ہے اور انہیں تفتیش سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ ناقابل قبول صورتحال ہے، کابینہ نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

علیم خان کی گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل موثر ہونا چاہیے اور یہ نہیں لگنا چاہیے کہ آپ بیلنسنگ ایکٹ (توازن قائم) کررہے ہیں، آپ ہر معاملے پر آپ یہ کررہے ہیں کہ ادھر کا ایک پکڑنا ہے تو ادھر کا بھی ایک پکڑنا ہے، احتساب کے عمل میں بیلنسنگ ایکٹ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے اداروں پر اعتماد نہیں رہتا، نیب کو موثر بنانے اور آزاد بنانے کے لیے اس میں ہر ممکن ترامیم کرنے اور اسے ریسورس کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، اس کے کام میں شفافیت اور غیر جانبداری بہت ضروری ہے،  لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ادھر کا ایک پکڑنا ہے تو ادھر کا بھی ایک پکڑنا ہے، توازن قائم کرنے کے تاثر سے خود ادارے کو نقصان پہنچتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ رضا ربانی اور مشاہد اللہ سمیت متعدد ارکان اسمبلی اور دیگر افراد کے پاس کوئی عہدہ نہیں لیکن وزرا کالونی میں سرکاری گھروں پر قبضہ کرکے بیٹھے ہیں، وزیراعظم نے وزیر ہاؤسنگ کو ایسے لوگوں سے قبضہ چھڑانے اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اشیائے ضروریات کی قیمتوں کے تعین کا جائزہ لیا گیا، یہ بات سامنے آئی کہ سبزی اور دالوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، قیمتوں کا جائزہ لینے کیلیے پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، صحافی اور فن کاروں کو صحت انصاف کارڈ میں شامل کررہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ پیسے دے کر صحت انصاف کارڈ خرید سکتا ہے جس کی قیمت کا تعین کیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ماضی میں فوج، عدلیہ اور کابینہ علیحدہ علیحدہ سوچتی تھی،لیکن اب عدلیہ آزاد ہے، فوج اور حکومت میں تاریخ کی بہترین ہم آہنگی ہے۔

سرفراز فیلوک وائیو تنازع کے بعد پی سی بی میں انسداد نسل پرستی کوڈ متعارف

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق اورسلیکٹر وسیم حیدر کو بورڈ آف گورنرز اجلاس میں طلب کرکے سلیکشن معاملات سوال جواب کیے گئے اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر بھی بات چیت کی گئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ انضمام الحق کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی طویل المعیاد منصوبے پر کام کررہی ہے۔ کئی نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے جو اگلے دس بارہ سال پاکستان ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو پاکستان ٹیم میں لانے کیلئے ایک سسٹم سے گزارا جاتا ہے۔

جمعرات کو انضمام الحق اور سلیکٹر وسیم حیدر نے گورننگ بورڈ کو بریف کیا۔ اجلاس کے بعد احسان مانی کا کہنا تھا کہ پہلی بار چیف سلیکٹر بورڈ میٹنگ میں شریک ہوئے ہیں۔ اراکین سننا چاہتے تھے کہ سلیکشن کمیٹی، سلیکشن میں کیا طریقہ کار استعمال کرتی ہے۔ ان کی پلاننگ کس طرح ہوتی ہے، جو کھلاڑی کسی وجہ سے ٹیم میں نہیں آسکتے ہیں انہیں سینٹرل کنٹریکٹ کے ذریعے سپورٹ کیا جاتا ہے۔

PCB Official

@TheRealPCB

Chairman PCB, Mr. Ehsan Mani Interview after the 52nd BoG Meeting at NCA, Lahore
📽️ https://www.youtube.com/watch?v=L-QlpqiRkdU 

See PCB Official’s other Tweets

انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی خواتین کرکٹ ٹیم نے کراچی میں میچ کھیل کر پاکستان کے حوالے سے منفی تاثر کو رد کردیا ہے۔ ٹی ٹوئینٹی سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ویسٹ انڈین بورڈ کی جانب سے تعریفی خط ملا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی لڑکیوں نے کراچی میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی انجوائے کیا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا چوتھا ایڈیشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہوگا جس کے آٹھ میچ کراچی میں ہوں گے۔ اس ٹورنامنٹ سے ہونے والی آمدنی کے فوائد جلد آنا شروع ہوجائیں گے۔ اس سال پی ایس ایل میں 40 غیر ملکی کھلاڑی حصہ لیں گے اور 30 غیر ملکی کھلاڑی پاکستانی آئیں گے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب یہ ٹورنامنٹ بڑا قدم ہوگا۔

احسان مانی نے کہا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب بہت کام ہورہا ہے۔

سرفراز کے رویے کے بعد انسداد نسل پرستی کوڈ متعارف

ڈربن ون ڈے میں کپتان سرفراز احمد اور جنوبی افریقی آل راؤنڈر فیلوک وائیو کے واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی انسداد نسل پرستی (اینٹی ریسزازم) کوڈ نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔ پی سی بی ترجمان کا کہنا ہے کہ نیا کوڈ پاکستان سپر لیگ سے نافذ العمل ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجوزہ ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے میں میچوں کی تعداد کم کرکے کوالٹی کرکٹ میچ کرانے پر بھی زور دیا ہے۔ اس وقت گراؤنڈ ز پر حد سے زیادہ میچ ہورہے ہیں۔

لاہور میں ہونے والا گورننگ بورڈ کا اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا جس میں نئے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے پراراکین کو بریفنگ دی گئی۔ اس بات پراتفاق کیا گیا کہ نئے ڈھانچے کے خاکے کو حتمی شکل دینےسے قبل اسے منظوری کیلئے بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کےبعد یہ سسٹم لاگو ہوگا۔

گورننگ بورڈ کی جانب سے نئے ڈھانچے کی سفارشات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس جلد نیا ماڈل منظوری کیلئے بھیجے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کوالٹی لانا چاہتے ہیں۔ گراؤنڈز اور پچز کا حد سے زیادہ استعمال ہورہا ہے ان ٹورنامنٹس میں ایسے کھلاڑی شرکت کررہے ہیں جن کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کے مستقبل کا بھی خیال رکھا جائے گا اور ان کیلئے بھی راستہ نکالیں گے تاکہ کھلاڑی بے روز گار نہ ہوں۔

چیئرمین نے کہا کہ ڈومسیٹک ٹورنامنٹ میں مقابلے کا رجحان ہوگا اور اس ٹورنامنٹ سے ہمیں ٹاپ کلاس کھلاڑی ملیں گے۔ ڈومیسٹک سسٹم میں بہتری کے ساتھ ساتھ جونیئر ٹیموں کے دوروں کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ گورننگ بورڈ کے علم میں یہ بات آئی کہ 123 دن میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پچاس دن کرکٹ کھیلی جس میں 8 ٹیسٹ، 8 ون ڈے اور 9 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل شامل تھے۔

پاکستان نے کرتارپور پر مذاکرات کے لیے بھارت کو 13 مارچ کی تاریخ دے دی

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو کرتار پور راہدری پر مذاکرات کے لیے 13 مارچ کی تاریخ تجویز کردی۔

حکومتِ پاکستان نے بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کھولنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ جواب میں بھارت نے بھی پاکستان کو اپنا وفد نئی دہلی بھیجنے کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان اپنا وفد 26 فروری یا پھر 7 مارچ کو نئی دہلی بھیج سکتا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرتارپور راہداری پر مذاکرات کے لیے پاکستان نے بھارت کو 13 مارچ کی تاریخ تجویز کردی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی وفد 13 مارچ کو بھارت کا دورہ کرے گا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ہماری تجویز ہے کہ پاکستانی وفد کے دورے کے بعد بھارتی وفد جواب میں 28 مارچ کو پاکستان کا دورہ کرے، پاکستان بھارت کی جانب سے مثبت جواب کا منتظر ہے۔

کرپشن کیخلاف حکومت اور نیب کی بلاامتیاز احتساب کی عمدہ مثال

adaria

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے یقینی طورپر ایک سنہری تاریخ رقم کردی ہے۔ماضی میں ایسی مثالیں خال خال ہی ہونگی بلکہ کوئی بھی مثال ملتی ہی نہیں، اب تو اپوزیشن کو بھی اس حوالے سے سکون آجانا چاہیے کہ وہ احتساب کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ احتساب صرف اپوزیشن کا کیا جارہا ہے اور اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہورہا، اپوزیشن اور اقتدار میں تمام لوگوں کو یہ بات سمجھ آجانی چاہیے کہ احتساب کراس دا بارڈر ہورہا ہے چاہے کسی کا کسی بھی جماعت سے تعلق ہو اگر کرپشن کی ہے تو پھر لازمی طورپر قانون کے شکجنے میں آئے گا۔ یہ ایک ایسی قابل تقلید مثال ہے جس سے نظام بہت بہتری کی جانب روانہ ہو جائے گا، اس سے قبل یہ کہا جارہا تھا کہ تحریک انصاف نے اگر احتساب شروع کرنا ہے تو وہ اپنی صفوں سے شروع کرے۔ ہم نے پہلے دن سے یہ بات باور کرادی تھی کہ عمران خان کہ کام ،ان کی نیت پر کوئی شک نہیں اور وہ اس ملک و قوم کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ نیز عمران خان نے پہلے دن سے ہی اپنی ایک منزل طے کررکھی تھی کہ وہ ہر کرپٹ فرد کو جیل میں ڈالیں گے سو اب اس جانب قدم چل پڑے ہیں۔ پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے بعد احتساب اور کرپشن کے حوالے سے بہت سے بادل چھٹ گئے ہیں، عبدالعلیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوایا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ نیب کی حراست میں ہیں اس لئے اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتے، اس لئے میرا استعفیٰ قبول کیا جائے۔استعفیٰ دیتے ہوئے قانونی جنگ لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس بات کو سراہا ہے۔ لہذا اب کوئی بھی شخص ہو اس کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ اگر اس نے کرپشن کی ہے یا اس حوالے سے کوئی بھی کوشش کرے گا تو اسے قرارواقعی سزا لازمی ملے گی۔قومی احتساب بیورو لاہور نے آمدن سے زائد اثاثے اور پانامہ آف شور کمپنی سکینڈل میں پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو گرفتار کر لیا ہے ۔نیب حکام کے مطابق پانامہ سکینڈل میں جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت کے طور پر سینئر صوبائی وزیر ملزم عبدالعلیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی وجوہات کے مطابق ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہاسنگ سوسائٹی میں بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی بدولت پاکستان و بیرون ممالک میں مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنائے۔ عبدالعلیم خان نے رئیل اسٹیٹ بزنس کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں روپے مذکورہ بزنس میں انویسٹ کئے۔ علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900کنال زمین خریدی گئی جبکہ 600کنال مزید زمین کی خریداری کیلئے بیعانہ رقم بھی ادا کی گئی۔ تاہم ملزم عبدالعلیم خان مذکورہ زمین کی خریداری کیلئے موجود وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ ملزم عبدالعلیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اثاثہ جات کے علاوہ 2005اور 2006کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جن میں ملزم کے نام موجود اثاثہ جات سے کہیں زیادہ اثاثے خریدے گئے۔ جن کے حوالے سے نیب افسران تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کے پیشِ نظر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ تاہم دوران گرفتاری ملزم کے اپنے اور دیگر بے نامی اثاثہ جات

کے حوالے یاد رہے 6 ماہ بعد عبدالعلیم خان گزشتہ روز چوتھی بار نیب میں پیش ہوئے، علیم خان کی نیب میں اس سے پہلے پیشی 10 اگست 2018 کو ہوئی تھی۔ نیب نے علیم خان کو گزشتہ روز پانامہ آف شور کمپنی سکینڈل کی پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتارکیا گیا ۔ دوسری جانب عبدالعلیم خان کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات اور بظاہر ان کی گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے اس کے باوجود وہ عدالتوں کا مکمل احترام رکھتے ہیں اور انصاف کی توقع ہی نہیں یقین ہے کہ انشااللہ عبدالعلیم خان سرخرو ہوں گے۔ تاہم نیب نے بلاامتیازاحتساب کے حوالے سے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے، امید ہے کہ وہ آئندہ بھی ایسے ہی بلاامتیاز کارروائی کے ذریعے ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناکر کرپشن جیسے ناسور کے خاتمے کی بنیاد رکھیں گے۔

ای کورٹ سسٹم کا نفاذ ایک احسن اقدام
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی زیرصدارت سپریم کورٹ کے ججز کی فل کورٹ میٹنگ ہوئی جس میں تما م ججزنے شرکت کی اور چیف جسٹس کو نیا عہدہ سنبھانے پر مبارکباد پیش کی گئی ۔ فل کورٹ اجلاس میں وکلا اور سائلین کی سہولت کیلئے ای کورٹ نظام اپنانے کے حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی پرنسپل سیٹ اسلام آباد اور اسکی چاروں صوبائی برانچ رجسٹریوں کے مابین ویڈیو لنک کا نظام نصب کرنے کے حوالے سے غور کیا گیا ہے،اجلاس میں سپریم کورٹ کی کارکردگی ، انصاف کی فراہمی کے عمل اور مقدمات نمٹانے کی رفتار جیسے معاملات کا جائزہ لیا گیا ۔ شرکا کو بتایا گیا کہ یکم ستمبر2018سے 31دسمبر2018کے دوران سپریم کورٹ میں 6342مقدمات نمٹائے گئے ہیں، 6407نئے مقدمات دائر ہوئے ہیں جبکہ اس وقت زیر التوا مقدمات کی تعداد 40ہزار535ہے ، اجلاس کے دوران نئے مقدمات کے اندراج اور انہیں نمٹانے کی شرح کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کیس مینجمنٹ کو مزید موثر بنانے کیلئے حکمت عملی اور طریقہ کار پر غورکیا گیا ،اجلاس میں مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی بنچ تشکیل دینے اور مقدمات میں التوا کی سخت حوصلہ شکنی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔نیز چیف جسٹس آف پاکستان نے جھوٹی گواہی کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جھوٹے گواہوں کیخلاف کارروائی کرنے کا آغاز کرتے ہوئے اے ایس آئی مظہر حسین قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو طلب کرلیا ہے۔ اس اقدام سے اب عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور صحیح معنوں میں انصاف بھی فراہم ہوسکے گا۔

گاڑیوں میں معیاری گیس سلنڈر کی تنصیب یقینی بنائی جائے
اس وقت ملک بھر میں آئے دن کوئی نہ کوئی گیس سلنڈر دھماکے کا واقعہ پیش ضرور آتا ہے ، خصوصی طورپر پبلک ٹرانسپورٹ میں یہ واقعات زیادہ دیکھے اور سنے جارہے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی چیکنگ کی ٹیموں کو متحرک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گاڑیوں میں نصب گیس سلنڈر کیا معیاریہیں یا دو نمبر۔ جب سلنڈر معیاری نہیں ہوگا تو یقینی طورپر ایسے حادثات لازمی پیش آئیں گے اسی طرح گھریلو سطح پر بھی معیاری سلنڈروں کا استعمال یقینی بنایا جائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ کم ازکم اگر کسی شخص نے گاڑی میں معیاری سلنڈر نہیں لگایا تو اسے گرفتار کرکے کم ازکم پانچ سال پابند سلاسل کیا جائے اور بھاری جرمانہ بھی عائد کرتے ہوئے ہمیشہ کیلئے گاڑی ضبط اور ڈرائیور کا لائسنس بھی فارلائف منسوخ کردیا جائے۔

کبھی کپتانی چھن جانے کا خوف محسوس نہیں کیا، سرفرازاحمد

لاہور: سرفرازاحمد کا کہنا ہے کہ کبھی کپتانی چھن جانے کا خوف محسوس نہیں کیا اورکوئی عمربھر کیلیے اس منصب پرنہیں رہتا۔

قومی کپتان سرفرازاحمد نے www.cricketpakistan.com.pk کے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویومیں کہا کہ احسان مانی نے چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھالنے کے بعد مجھے بطورکپتان اورکھلاڑی بڑا اعتماد دیا۔

قیادت کے حوالے سے میڈیا میں باتیں آئیں لیکن میرے ذہن میں کوئی شکوک نہیں تھے، بہرحال عوام کے سامنے بھرپور سپورٹ کرنے پر چیئرمین بورڈ اور دیگر عہدیداروں کا شکر گزار ہوں،اس سے میرا حوصلہ کئی گناہ بڑھ گیا جس کی جھلک ورلڈکپ کے دوران پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں بھی نظر آئے گی

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ شعیب ملک کو قائم مقام کپتان بنائے جانے پر پھیلنے والی افواہوں سے میں قطعی طور پر پریشان نہیں ہوا، آل راؤنڈر کو قیادت سپردکرنے میں میری مشاورت بھی شامل تھی۔

سرفراز نے بتایا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر،منیجر طلعت علی اور چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بات ہوئی تو انھوں نے پوچھا کسے کپتان ہونا چاہیے، میں نے کہا کہ شعیب بھائی ہی ٹھیک ہیں،میں نے کبھی کوئی خوف محسوس کیا نہ اس کی ضرورت ہے، کپتانی اللہ کی دین ہے، کوئی بھی زندگی بھر کیلیے اس پوسٹ پر نہیں ہوتا، کئی کپتان بعد میں بطور کھلاڑی بھی کھیلتے ہیں،مجھے کسی جونیئر یا سینئر کے جگہ لینے کا خوف نہیں تھا، اس وقت شعیب ملک ہی بہترین انتخاب تھے۔

ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ شعیب ملک کے رویے سے میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ قومی ٹیم کی قیادت چاہتے ہیں،میں ان کی کپتانی میں کھیل چکا،وہ ایک ٹیم مین اور مجھے بھی مکمل سپورٹ کرتے ہیں،مجھے محمد حفیظ کی بھی بھرپور معاونت حاصل ہوتی ہے، میں دونوں سینئرز سے خاص طور پر مشاورت کرتا ہوں۔

سرفراز احمد نے کہا کہ کھیل کے دوران کسی موقع پر بھی میرے متبادل کی ضرورت پڑ سکتی ہے، منگل کو پریس کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے بھی کہاکہ نائب کپتان کی تقرری کے معاملے میں وہ کرکٹ کمیٹی سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ کوئی بہترین پلیئر نائب کپتان ہوگا، مجھ سے پوچھا گیا تو ضرور کسی کا نام دوں گا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل کے حوالے سے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ 8 ماہ تک طویل فارمیٹ کی کوئی سیریز ہی نہیں تو اس بارے میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے، میری تمام تر توجہ پی ایس ایل اور ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ سے سیریز اور میگا ایونٹ جیسے مشکل چیلنجز کیلیے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔

انگلینڈ میں ہی چیمپئنز ٹرافی کے ہیروز حسن علی، شاداب خان و فخرزمان کی فارم میں کمی اور خاص طور پر بولرز کی قوت کمزور پڑنے کے سوال پر کپتان نے کہا کہ ہماری بولنگ بہترین ہے، کبھی مشکل وقت آجاتا ہے کہ کارکردگی اچھی نہیں رہتی، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی چار، پانچ ماہ سے مسلسل کھیل رہے ہیں، مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھکاوٹ کا شکار ہو گئے، ون ڈے میں حسن علی نے اچھی بولنگ کی لیکن وکٹیں نہیں لے پائے، روٹیشن پالیسی کے تحت ہم نے شاہین شاہ آفریدی اور محمد عامر کو آرام دیا، فخر زمان ٹیسٹ میچز میں اچھا نہیں کھیل سکے، ون ڈے میں آغاز اچھا لیا مگر بدقسمتی سے اسے بڑے اسکور میں تبدیل نہیں کر پائے۔

منفی بیان،شعیب اختر کے بارے میں دل میں کوئی بات نہیں

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کے بارے میں دل میں کوئی بات نہیں، جنوبی افریقہ میں پیش آنے والے واقعے پر سابق پیسر کے سخت ردعمل اور بعد میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کی جانب سے مثبت پیغام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ ہوسکتا ہے شعیب اختر کے دل میں کوئی بات ہو گی، میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں، وہ پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں اور بہتری ہی چاہتے ہوں گے، کوئی بھی سابق کرکٹر مشورہ دے تو اس کا فائدہ ہی ہوتا ہے، وسیم اکرم سے اکثر فون پر بات ہوتی ہے، معین خان بھی رہنمائی کرتے ہیں، میں سب کی بات سنتا اور عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

قومی کھلاڑی اب بھی میری ڈانٹ ڈپٹ کا بُرا نہیں مناتے

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ کھلاڑی اب بھی میری ڈانٹ ڈپٹ کا بُرا نہیں مناتے، نوجوان کرکٹرز کے نامور ہوجانے کہ وجہ سے رویے میں تبدیلی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹیم میں کوئی ایسی چیز نہیں، تمام کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ میں زیادہ کیوں بولتا ہوں،اگر کچھ کہتا ہوں تو پرفارمنس بھی انہی کی بہتر ہوتی ہے، دنیا اور رینکنگ میں نام تو ان کا ہی اوپر جاتا ہے۔

چوتھے نمبر پر حفیظ موجود ؛میری پوزیشن پانچویں یا چھٹی ہی بنتی ہے

سرفراز احمد نے کہاکہ میری کارکردگی ٹیم کی پوزیشن بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اگلی سیریز میں وکٹ کیپنگ کے ساتھ اپنی بیٹنگ سے بھی میچز جتوانے کی کوشش کروں گا۔کپتان نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں لوئر آرڈر میں بیٹنگ کا فیصلہ میچ کی صورتحال کے مطابق کیا، چوتھے نمبر پر تو محمد حفیظ موجود ہیں، میری پوزیشن پانچویں یا چھٹی ہی بنتی ہے۔

سرفراز احمد نے کہاکہ ٹیم میں پاور ہٹرز کی کمی نہیں،ہم آل رائونڈر کا خلا پُرکرنے کیلیے کوشاں ہیں،اس حوالے سے فہیم اشرف کو تیار کیا جا رہا ہے، ہمارے پاس دیگر کھلاڑی بھی موجود ہیں، امید ہے کہ کوئی نہ کوئی اپنی پکی جگہ بنالے گا۔

پاور ہٹرز کی کمی کے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ عماد وسیم، شعیب ملک اور حسن علی جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہماری مڈل آرڈر بیٹنگ بھی کمزور نہیں ہے، بابراعظم زبردست فارم میں ہیں، محمد حفیظ نے رنز بنائے، شعیب ملک اور خود میں بھی موجود ہوں۔

میری 4میچز کیلیے معطلی پر قومی کھلاڑی نارمل رہے

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ میری 4میچز کیلیے معطلی پر کھلاڑی نارمل رہے، کھیل میں اس طرح کی چیزیں ہوجاتی ہیں، ٹیم کی توجہ چوتھے ون ڈے میچ پر مرکوز تھی، بعدازاں وطن واپسی پر بھی میں امام الحق، بابر اعظم، شاداب خان اور فخر زمان کے ساتھ رابطے میں رہا۔

فواد عالم کو آنے والے وقت میں ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملے گا

سرفراز احمد نے کہا ہے کہ فواد عالم کو آنے والے وقت میں موقع ملے گا، انھوں نے کہا کہ کبھی موقع ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی جگہ نہیں بنتی، مڈل آرڈر میں بابراعظم آئے تو بہت اچھا کھیل پیش کیا، حارث سہیل نے بھی عمدہ پرفارم کیا، اس لیے فواد عالم کی جگہ نہیں بنی، امید ہے کہ وہ آنے والے وقت میں ضرور کھیلیں گے۔

پابندی کے بعد میدان سے باہر بیٹھ کروقت گزارنا محال ہو گیا

سرفرازاحمد نے کہا ہے کہ پابندی کے بعد میدان سے باہر بیٹھ کروقت گزارنا محال ہو گیا تھا، انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ سے قبل معطل کیے جانے پر ڈریسنگ روم میں بیٹھا تھا، عام طور پر ہم ایک گھنٹے قبل میدان میں پہنچ کر ٹریننگ کرتے ہیں تو وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا، اس روز میں نے منیجر سے پوچھا کہ9 کب بج رہے ہیں، ٹاس کیوں نہیں ہو رہا، پھر پاکستان واپس آگیا تو سب بھول گیا،گھر میں سکون سے بیٹھ کر ٹیم کے میچز دیکھے۔

سعید انور کے ساتھ 1،2روز کیلیے تبلیغ پر جانے کا ارادہ ہے

سرفراز احمد نے عاجزی اور انکساری کو والدین کی تربیت کا نتیجہ قرار دے دیا، انھوں نے کہا کہ میں شروع سے ہی ایسا ہوں، مجھ پر والد صاحب کی دینی تعلیمات کا گہرا اثر ہے، انضمام الحق اورمشتاق احمد کے ساتھ رہ کر بھی یہ چیزیں سیکھیں، سعید انور کے ساتھ ملاقات رہی ہے،کئی بڑے کرکٹرز کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا، کرکٹ تو 10 یا 12سال کی بات ہے، یہ سب ساتھ نہیں جائے گا، یہ عمل دیکھا جائے گا کہ آپ نے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، اللہ نے آپ کو عہدہ دیا تو اس کا کس طرح استعمال کیا، میرے خیال میں آپ کی ایک بڑے کرکٹر سے زیادہ اچھے انسان کے طور پر پہچان ہونا چاہیے، سعید انور کے ساتھ 1،2روز کیلیے تبلیغ پر جانے کا ارادہ ہے۔

کیریئر میں حوصلہ بڑھانے والے تمام افراد کا شکر گزار ہوں

سرفرازاحمد کیریئر میں حوصلہ بڑھانے والے تمام افراد کے شکر گزار ہیں، انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے، اس طویل سفر میں ساتھ دینے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، پاکستان کرکٹ کلب کے اعظم خان، ندیم عمر، ظفر احمد، معین خان اور عبدالرقیب نے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، اقبال قاسم، معاذ اللہ خان اوراظہر خان کا شکریہ جنھوں نے پہلی بار انڈر19 ٹیم میں منتخب کیا، کوچ منصور رانا نے بھرپور حوصلہ افزائی کی اور کپتان بنایا، صلاح الدین صلو، سلیم جعفر اور شفقت رانا نے قومی ٹیم میں شامل کیا۔

محمد الیاس نے بطور منیجر اے ٹیم بڑی ہمت بندھائی، کرنل نوشاد کی معاونت بھی حاصل رہی، طلعت علی نے بھرپور رہنمائی کی، میں وسیم اکرم کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مشکل وقت میں بڑا سپورٹ کیا، اسی طرح کے سی سی اے کے سابق صدر پروفیسر اعجاز فاروقی بھی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہے، حالیہ واقعے کے بعد بھی انھوں نے ہمت بڑھائی، سراج بخاری نے بھی مجھے سپورٹ کیا۔

پی ایس ایل:عمراوراحمدکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہوں

سرفرازاحمد نے کہا ہے کہ میں پی ایس ایل میں عمراکمل اور احمد شہزاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہوں، ماضی میں دونوں کرکٹرز کے نظم و ضبط پر مسائل کے سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ان کو کس طرح ہینڈل کریں گے، یہ لفظ بڑا عجیب سا لگتا ہے، دونوں پاکستان کے سرفہرست کرکٹرز میں سے ایک ہیں، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور میرے لیے بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہمیں ملک کی نمائندگی کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہوں گی۔

حجاب کے معاملے میں تنقید پر اے آر رحمٰن بیٹی کے حق میں بول پڑے

معروف بھارتی موسیقار اے آر رحمٰن کی بیٹی کے حجاب پہننے پر سوشل میڈیا صارفین نے منفی پروپگینڈا شروع کرتے ہوئے گلوکار کو ایک قدامت پسند شخص قرار دے دیا۔

اے آر رحمٰن کے آسکر ایوارڈ جیتنے کے 10 برس مکمل ہونے سے متعلق منعقدہ ایک تقریب کے دوران جب ان کی صاحبزادی خدیجہ کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا تو انہوں نے باحجاب رہتے ہوئے اسٹیج پر اپنے والد کا انٹرویو کیا۔

تاہم اس تقریب کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لوگوں نے خدیجہ کے لباس کی وجہ سے ان کے والد اے آر رحمٰن کو ایک قدامت پسند شخص قرار دے دیا۔

سماجی رابطے ویب سائٹ پر لوگوں کی تنقید کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اے آر رحمٰن نے اپنے گھر کی خواتین کی مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی کے ساتھ تصویر شیئر کی۔

اس ٹوئٹ میں اے آر رحمٰن کی بیٹی حجاب میں ہی موجود تھیں، جبکہ اس میں معروف سنگر نے #FreedomToChoose کا ٹیگ استعمال کیا جو ناقدین کے لیے ایک جواب تھا۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لوگوں نے بیٹی کے حجاب پہننے پر اے آر رحمٰن کو ایک قدامت پسند شخص قرار دیا تھا۔

لوگوں نے خدیجہ کے حجاب پہننے اور دیگر بیٹوں کے حجاب نہ پہننے کو اے آر رحمٰن کا اسلام کے لیے دکھاوا قرار دیا۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ خدیجہ کا حجاب صرف ایک دکھاوا ہے جس میں حقیقت نہیں جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ یہ حجاب ان کے والد نے انہیں زبردستی پہنایا ہے اور تصویر بنواکر اسے آزادی انتخاب کا نام دیا۔

کچھ صارفین اپنی مرضی کا لباس اور برقعہ پہننے کے خدیجہ کے فیصلے کو سرہاتے ہوئے بھی نظر آئے۔

تاہم اے آر رحمٰن کی صاحبزادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’کچھ لوگ میرے بارے میں تبصرہ کر رہے ہیں اور اس حجاب کو میرے والد کی جانب سے میرے لیے زبردستی قرار دے رہے ہیں، تاہم میں انہیں صرف اتنا جواب دینا چاہوں گی کہ میرے والدین کا میرے حجاب پہننے یا اس کا انتخاب کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

صورتحال جانے بغیر میرے بارے میں فیصلے دینے سے گریز کریں، خدیجہ رحمٰن — فوٹو، خدیجہ رحمٰن فیس بک اکاؤنٹ
صورتحال جانے بغیر میرے بارے میں فیصلے دینے سے گریز کریں، خدیجہ رحمٰن — فوٹو، خدیجہ رحمٰن فیس بک اکاؤنٹ

خدیجہ نے مزید کہا کہ پردہ اختیار کرنا میری ذاتی خواہش ہے جسے میں نے عزت کے ساتھ قبول بھی کیا ہے کیونکہ میں ایک باشعور بالغ لڑکی ہوں اور اپنی زندگی میں (اچھے فیصلوں کے) انتخاب کے بارے میں جانتی ہوں‘۔

اے آر رحمٰن کی بیٹی نے اپنے پیغام میں بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ایک انسان کو مکمل حق کے وہ اپنے لباس کا انتخاب کرے یا وہ کام کرے جو اس کا دل چاہیے اور میں یہی کر رہی ہوں‘۔

انہوں نے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ لوگ صورتحال کے بارے میں جانے بغیر میرے بارے میں اپنے فیصلے دینے سے گریز کریں۔

نوازشریف سروسز اسپتال سے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل

لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کو سروسز اسپتال سے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 6 روز تک اسپتال میں رکھا گیا اس دوران میڈیکل بورڈ نے ان کے مختلف معائنے کیے اور میڈیکل رپورٹ پیش کی جس میں نوازشریف کو جیل کے بجائے اسپتال میں ہی رکھنے کی سفارش کی گئی۔

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نوازشریف کو سروسز اسپتال سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تاہم نوازشریف نے پی آئی سی جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واپس جیل لے جایا جائے۔

نوازشریف کی خواہش پر آج انہیں سروسز اسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا جب کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو چیک اپ کے لیے دوبارہ اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

ویسٹ انڈیز نے پہلے ایک روزہ میچ میں قومی ویمن ٹیم کو شکست دیدی

ویسٹ انڈیز ویمن نے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستانی ٹیم کو 146 رنز سے شکست دے دی ۔

آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈین ٹیم کی کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ۔ مہمان ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 216 رنز بنائے۔ اوپنر ڈاؤٹن نے 96 اور کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے 58 رنز کی اننگز کھیلیں، کائنات امتیاز نے 3، عالیہ ریاض اور ثنا میر نے ایک ایک وکٹ لی ۔

جواب میں پاکستانی ٹیم 30 اوورز میں 70 کے مجموعے پر ہمت ہار گئی۔ ناہیدہ خان نے 23 اور کپتان جویریہ خان نے 21 رنز بنائے ۔ بسمیٰ معروف  ان فٹ ہونے کی وجہ سے  میچ نہ کھیل سکیں ۔ ان کی جگہ جویریہ خان نے ٹیم کی قیادت کی ۔

Google Analytics Alternative