Home » 2019 » February » 09

Daily Archives: February 9, 2019

بعض سیاست دانوں نے اپنی دکان چمکانے کیلیے اسلام کا استعمال کیا، وزیرِ اعظم

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  عوام الناس کی تاریخ اور حقائق سے نا آشنائی مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تاریخ اور حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں جب کہ بعض سیاست دانوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے اسلام کا استعمال کیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور شاعرمشرق علامہ اقبال کے فلسفے اور سوچ سے روشناس کرانے کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں وزیرتعلیم شفقت محمود، وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری ، ترجمان ندیم افضل چن، معاونین خصوصی افتخار درانی،  یوسف بیگ مرزا، وزیر تعلیم پنجاب مراد راس خان، ماہر تعلیم و اقبالیات رضا ہمدانی اور ڈاکٹر رضا گردیزی نے شرکت کی۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی و سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہی واقع ہوتی ہے، اور کرپشن اخلاقی تباہی کا مظہر ہے، عوام الناس کی تاریخ اور حقائق سے نا آشنائی مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تاریخ اور حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں، اور پاکستان میں بعض سیاست دانوں نے اسلام کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے استعمال کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اسلام کی تاریخ اور مسلمانوں کے سب سے  بڑے مفکر علامہ اقبال کی سوچ سے روشناس کرایا جا سکے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے، جب کہ اسلام اخلاقیات کا درس دیتا ہے، ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلم ہیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں ان کی اہمیت تھی، انہی پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کی امامت سنبھالی، آج بھی ہم ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

مرغی چور جیل میں ہے اور 300ارب لوٹنے والے باپ بیٹی کی ضمانت ہوگئی، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 15 مرغیاں چوری کرنے والا جیل میں ہے اور 300 ارب چوری کرنے والے باپ بیٹی کی ضمانت ہوگئی۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ  اگر تحریک انصاف نہ ہوتی تو قوم پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ میں ہی پھنسی رہتی، عمران خان کی وجہ سے نوازشریف اور آصف زرداری سیاست میں قصہ پارینہ بن چکے ہیں ان لوگوں کی سیاست میں اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی آمدنی5 ہزار 647 ارب روپےہے جس میں سے  2 ہزار ارب روپے قرضوں کے سود پر دے رہے جو گزشتہ 10 سال میں لیے گئے تھے،17 سو ارب روپے دفاع پر لگاتے ہیں جب کہ وفاقی حکومت منفی 632 روپے سے  کام شروع کرتی ہے، ماضی کی حکومتوں نے ملکی اثاثوں کو گروی رکھوا کر قرض لیے ۔ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 2ہزار ارب روپے  ہے جس میں700 ارب روپے جعلی اکاؤنٹس  اور اومنی گروپ کے اکاؤنٹس میں چلا گیا جب کہ پنجاب میں 61 ہزار اساتذہ کی بھرتی اور صاف پانی کے لیے مختص پیسے اورنج لائن ٹرین میں پھونک دیے گئے، سابق حکمرانوں نے قومی خزانے کو لوٹا اور پھر عیاشیوں  میں پیسے لٹا دیے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ15 مرغیاں چوری کرنیوالاجیل میں ہے اور 300ارب چوری کرنیوالےوالےباپ بیٹی کی ضمانت ہوگئی،  مرغی چور کی ایک سال سے ضمانت نہیں ہوئی لیکن ملک لوٹنے والوں کو 4 ماہ میں ضمانت مل گئی، 15سو ارب روپے چوری کرنے والے پی اے سی میں ہے اور شہباز شریف کا پروٹوکول میں 6،6 گاڑیاں موجود ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ عمران خان حکومت میں آگیا ہے تو نظام ٹھیک ہوگیا ہے، حکومت بدلنے سے نظام نہیں بدلتا بلکہ نظام بدلنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے، پی ٹی آئی نے حکومت میں آکر نظام کی تبدیلی کے لیے پہلا مرحلہ مکمل کرلیا ہے اور اب دوسرے مرحلے میں نظام تبدیل ہوگا۔

اسپیشل میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کے دل کی صحت سے متعلق رپورٹ جاری کردی

لاہور: اسپیشل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور انہیں 24 گھنٹے عارضہ قلب سے متعلق ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اسپیشل میڈیکل بورڈ نے رپورٹ  مرتب کرتے ہوئے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ نواز شریف کو ایسے اسپتال میں منتقل کیا جائے جہاں ان کو دل کے مرض سے متعلقہ تمام سہولیات ایک چھت تلے ملیں۔

رپورٹ کے مطابق نوازشریف کی عمر 69 سال ہے، تھیلسمیا ٹیسٹ میں نواز شریف کے عارضہ قلب کے بارے میں تشخیص ہوئی اور دل سے متعلق بیماری کے بارے میں نوازشریف کے پہلے معالج سے معلومات لی جاسکتی ہے۔

میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول ہے اور انہیں کم نمک اور پروٹین والی خوراک درکار ہے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل سعودی حکام نے کیا: رپورٹ

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل سعودی حکام نے کیا۔

اقوام متحدہ کی تین رکنی انکوائری کمیشن نے خاشقجی قتل کیس سے متعلق آڈیو ثبوت کا جائزہ لیا اور کمیشن جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق حتمی رپورٹ جون میں پیش کرے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کے ممبر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق ترکی کی تحقیقات میں رخنے ڈالے۔

یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے جسم کے اعضا سعودی قونصلر جنرل کے گھر کے باغ سے برآمد ہوئے تھے۔

 

افغان صدر کی ہرزہ سرائی۔۔۔پاکستا ن کی شدیدمذمت

adaria

افغانستان کی جانب سے کبھی بھی پاکستان کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا جبکہ ہرآڑے وقت میں پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ،جب بھی کوئی ایسا مذموم واقعہ درپیش آتا ہے تو اشرف غنی اس کو جانے نہیں دیتے اور کسی نہ کسی صورت پاکستان پرالزام عائد کرتے ہیں۔گزشتہ روز بھی انہوں نے پاکستان کے نہ صرف اندرونی معالات میں مداخلت کی بلکہ باقاعدہ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایسا بیان دیا جس سے خواہ مخوہ خطے میں امن وامان کی صورتحال خراب ہو۔ یہاں پر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ وائس آف جرمنی ،وائس آف امریکہ اور بی بی سی کاکردار بھی اس حوالے سے انتہائی مذموم ہے اور وہ بھی کوئی ایسا واقعہ درگزرنہیں کرتے جس میں کسی نہ کسی صورت پاکستان کے خلاف زہرنہ گھول رہے ہیں جبکہ پاکستان کاکردارپوری دنیا کے سامنے ہے کہ وہ خطے میں قیام امن کے لئے کیسے مثبت کردارادا کررہاہے۔ آج جو بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں چاہے وہ روس میں ہوں یاقطر میں پاکستان کااس میں انتہائی سنہرا اوربامقصد کردارہے لیکن اشرف غنی ہمیشہ دشمن کی صفوں میں ہی شامل رہے ۔ان کی ٹویٹ جس میں انہوں نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے جاری پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔افغان صدر کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی ملک کے حالات پرتوجہ دیں اوروہاں پرامن وامان قائم کریں ۔ آج افغانستان کاسترفیصد سے زائد علاقہ طالبان کے قبضہ میں ہے افغان حکومت کی رٹ کہیں کہیں نظرآتی ہے اوراگریہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ افغان حکومت صرف کابل تک محدود ہے اور ہی بھی دن کے وقت ہوتی ہے رات کے وقت طالبان کا ہولڈ ہوتا ہے جتنی زیادہ دہشت گردی افغانستان میں ہورہی ہے شاید ہی اس کی کوئی مثال ہو ،داعش کے وہاں ٹھکانے ہیں، دیگردہشت گرد گروہ وہاں پرپوشیدہ ہیں۔ آج جب امریکہ وہاں سے اپنی فوجیں نکالنے کی تیاری کررہاہے تو اشرف غنی کودن میں چاندتارے نظرآناشروع ہوگئے ہیں اس کو معلوم ہے کہ اب اقتداراس کے ہاتھ میں نہیں رہے گا اسی وجہ سے اس نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی کمرکس لی ہے ۔افغان صدرکاٹویٹ ناقابل برداشت ہے ۔پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پڑوسی ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے پاکستان میں جاری کارروائیوں کے پسِ منظر میں کی گئی ٹوئٹس پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ‘غیر ذمہ دارانہ’ اور پاکستان کے معاملات میں ‘سنگین مداخلت’ قرار دیا ہے۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوابی ٹوئٹ میں اشرف غنی کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیاہے ۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ہمارے ملکی معاملات میں سنگین مداخلت ہے ۔انہوں نے افغان قیادت پر زوردیا کہ وہ عوام کی دیرینہ سنجیدہ شکایت پر توجہ مرکوز کرے اور دوسروں کے خلاف بیان بازی کی بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دے جبکہ دیگر کئی پاکستانی سیاستدانوں نے بھی افغان صدر اشرف غنی کے پاکستان مخالف بیان کی شدید مذمت کی تاہم وزیرستان سے تعلق رکھنے والی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کے ایم این اے محسن داوڑ نے اشرف غنی کے بیان کا خیر مقدم کیا۔ سوشل میڈیا پر سابق وزیرمملکت خارجہ حنا ربانی کھر ، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان اور دیگر نے بھی اشرف غنی کے ٹویٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ محسن داوڑ نے افغان صدر اشرف غنی کے پاکستان مخالف بیان پر ان کا شکریہ ادا کر ڈالا۔ محسن داوڑ کو سوچناچاہیے کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں اور یہاں کی معززپارلیمنٹ کے رکن ہیں وہ کس ملک دشمن عناصر کی کٹھ پتلی کاکرداراداکررہے ہیں۔سمجھ میں نہیں آتاکہ انہوں نے اشرف غنی کی ٹویٹ کی کس طرح حمایت کی ہے کیا اس ملک میں وہ دہشت گردی پھیلاناچاہتے ہیں کیاوہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرناچاہتے ہیں کیاوہ انارکی کے حق میں ہیں کیا ان کواس وطن عزیز سے محبت نہیں ہے انہیں حمایت کرتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانک لیناچاہیے کہ اشرف غنی پاکستان کادوست نہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کے لئے کٹھ پتلی کاکرداراداکررہاہے۔

پی اے سی کی چیئرمین شپ کامسئلہ پھردرپیش
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کاایک دفعہ پھرمسئلہ آن کھڑا ہوا ہے پہلے تو حکومت شہبازشریف کے نام پرراضی ہی نہیں ہورہی تھی خدا،خدا کرکے راضی ہوئی، پی اے سی کے اجلاس میں لیکن ان اجلاسوں میں شہبازشریف کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے گئے یاانہوں نے بیانات دیئے اس پر حکومت کو تحفظات پیدا ہونا شروع ہوگئے اس حوالے سے باقاعدہ ایک شوراٹھا کہ شہبازشریف کوپی اے سی کاچیئرمین نہیں ہوناچاہیے آخرکارگزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں باقاعدہ طورپرحکومت نے شہبازشریف سے مطالبہ کردیاکہ وہ پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑدیں اب یہ نیاجھگڑاکھڑاہوگیا ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا اس اس مسئلے پرحکومت اوراپوزیشن آمنے سامنے کھڑی ہوگئی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے کہا کہ رضا ربانی اور مشاہد اللہ خان نے غیر قانونی طور پر منسٹرز انکلیو میں قبضہ کیا ہوا ہے، روزمرہ اشیاکی قیمتوں کے جائزہ، قیمتوں کے تعین اور انہیں مناسب سطح پر رکھنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کو پی اے سی کا ممبر بنانے کی باتیں کی گئیں،کابینہ اجلاس میں پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے اس اقدامات پر تفتیش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد مہنگائی میں صرف 1.6 فیصد اضافہ ہوا،بجلی کے بلز زیادہ آنے پر وزیراعظم نے ایکسٹرنل آڈٹ کا حکم دیا ہے ،گیس کے سلیب سسٹم پر بھی نظرثانی کی جارہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے دور میں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا،سبزی اور دالوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے،پٹرولیم کی قیمتوں میں بھی کمی کا ٹرینڈ سامنے آیا ہے،پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جو قیمتوں کا جائزہ لیں گے۔ کابینہ اجلاس میں گیس کے بلوں میں اضافہ پر ایکسٹرنل آڈٹ کی ہدایت دی ہے،روز مرہ اشیا کی قیمتوں کے حوالے سے موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی جارہی ہے،منافع خوری کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

علیمہ خان سے قانون کے مطابق ریکوری کریں گے، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد:چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ جرمانے کی بقیہ عدائیگی سے متعلق علیمہ خان سے قوانین کے مطابق ریکوری کریں گے۔

چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کا  کہنا ہے کہ  2کروڑ 94 لاکھ 15ہزار 6سو جرمانے کی کل رقم میں سے علیمہ خان نے 25 فیصد ٹیکس ادائیگی کردی ہےاور قوانین کے مطابق بقیہ  ریکوری کریں گے، علیمہ خان کے خلاف بھی قوانین کے مطابق ہی کارروائی کی جارہی ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ ہمارے ہاں بھارت کی نسبت پیچیدگیاں زیادہ ہیں اور پاکستان میں ٹیکسز کا نظام مزید مربوط آسان بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اشیاء کے نقل وحمل پر پابندی عائد نہیں ہے تاہم ہمارے بارڈر سے اسمگلنگ کی شکایات ملتی رہتی ہیں جس کے تدارک کے لیے سنجیدگی سے عمل پیرا ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت بلا وجہ ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے حق میں نہیں ہے اورتمام تر توجہ ٹیکسز کو آسان اور کم سے کم کرنا ہے تاکہ تاجر اور لوگ خوش ہوں، ٹیکس کلچر کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کررہے ہیں اس لیے علیمہ خان بھی عام ٹیکس گزار کی طرح اپیل کا استحقاق رکھتی ہیں۔

عالیہ بھٹ نے کنگنا رناوت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے کنگنا رناوت کی تنقید پر برامنائے بغیر ان سے معافی مانگ لی۔

چند روز قبل کنگنا رناوت نے اداکارہ عالیہ بھٹ اور عامر خان کو ان کی فلم’’منی کارنیکا‘‘ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے فلم ’’راضی‘‘کے وقت عالیہ بھٹ کو فون کرکے ان کی فلم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاتھا لیکن عالیہ بھٹ نے میری فلم’’منی کارنیکا‘‘کے لیے کچھ بھی نہیں بولا۔

ایک اور انٹرویو میں کنگنا نے کہا عالیہ میری فلمیں دیکھتے ہوئے اتنا خوف کیوں محسوس کررہی ہیں، میں عالیہ کو مشورہ دینا چاہوں گی کہ انہیں خواتین پر بننے والی فلموں کی حمایت کرنی چاہیے اگر وہ ان  فلموں کے لیے اپنی آواز نہیں اٹھاتیں تو مجھے لگتا ہے وہ کرن جوہر کی کٹھ پتلی ہیں  اور ان کی تمام کامیابی کرن جوہر کے مرہون منت ہے لہٰذا میں انہیں ایک کامیاب اداکارہ نہیں مانتی۔

عالیہ بھٹ سے کنگنا کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو عالیہ نے نہایت تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امید کرتی ہوں کنگنا مجھے ناپسند نہیں کرتیں۔ میرا ارادہ کنگنا کو ناراض کرنا نہیں تھا اور ناہی میں نے جان بوجھ کر ان کا دل دکھایا ہے لیکن میں پھر بھی کنگنا سے معافی مانگتی ہوں۔

عالیہ بھٹ نے مزید کہا کہ وہ کنگنا رناوت سے بہت زیادہ متاثر ہیں، وہ بہت صاف گو ہیں اور اس طرح ہونے کے لیے بہت ہمت چاہیے۔ میں شوٹنگ میں مصروف تھی اس لیے مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ کنگنا مجھ سے ناراض ہیں تاہم میں کبھی بھی کسی کوبھی ناراض کرنا نہیں چاہتی۔

واضح رہے کہ کنگنا رناوت نے پوری بالی ووڈ انڈسٹری پر بھڑکتے ہوئےکہاتھا کہ تمام فنکاروں نے میرے خلاف محاذ کھول لیاہے لیکن میں بھی کم نہیں ہوں میں ان تمام لوگوں کے پیچھے پڑجاؤں گی جو میرے مخالف ہیں۔

افضل گورو کو دوران سمات پھانسی دی گئی

افضل گورو کی پیدائش جموں و کشمیر کے ضلع بارامولہ میں ہوئی۔ 1986ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سوپور میں اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طبی دانشگاہ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے اپنے ایم بی بی ایس نصاب کا پہلا سال مکمل کر لیا تھا اور مقابلے کے امتحان کی تیاری میں تھے۔افضل گورو کو دسمبر2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے کے اِلزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پچاس سالہ بھارتی شہری افضل گورو پر ایسے الزامات ثابت کیے گئے تھے کہ وہ تیرہ دسمبر 2001ء میں لوک سبھا پر کیے جانے والے حملے میں ملوث تھا۔ اس پر الزامات تھے کہ وہ حملہ آوروں کے لیے اسلحے کے حصول میں مدد کا مرتکب تھا اور اس نے حملہ آوروں کو پناہ دی تھی۔9 فروری 2013ء بھارتی وقت کے مطابق صبح 8 بجے افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اس سے پہلے بھارت کے سابق صدر جمہوریہ پرناب مکھرجی نے افضل گورو کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دی تھی۔ بھارت کی عدالت عظمٰی نے 2004ء میں انہیں اس حملے کا مرتکب پایا اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ افضل گورو کو 20 اکتوبر 2006 میں صبح چھ بجے پھانسی ہونی تھی لیکن ان کی اہلیہ تبسم گرو کی رحم کی اپیل پر اس وقت کے صدر نے اسے ملتوی کردیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ التوا میں رہا۔ 16 نومبر 2012ء کو صدر پرنب مکھرجی نے افضل گورو کی رحم کی درخواست وزارت داخلہ کو واپس لوٹا دی۔ اس کے بعد 23 جنوری، 2013 کو صدر نے وزارت داخلہ کو افضل گورو کی رحم کی درخواست کو خارج کر دیا۔ 4 فروری 2013 کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے بعد وہیں دفن کردیا گیا۔ جیل حکام کے مطابق افضل گورو اداس ہونے کی بجائے پرسکون تھے۔ جیل ڈائریکٹر جنرل وملہ مہرا کا کہنا ہے کہ افضل خوش اور صحت مند تھے۔ ان کے سیل سے 20 میٹر کے فاصلے پر پھانسی دی گئی۔ تختہ دار پر چڑھانے سے قبل ان کا طبی معائنہ کیا گیا، ان کی صحت اور خونی دباؤ نارمل تھا۔سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل کامنی جیسوال کا کہنا ہے کہ افضل گورو کی رحم کی اپیل سے متعلق ایک عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ایسے میں پھانسی دینا قانونی طور پر بھی درست نہیں ہے۔ چونکہ حکومت بی جے پی سے یہ معاملہ بھی چھیننا چاہتی تھی اس لیے اس نے ایسا کیا ہے۔ یہ صرف اور صرف سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا ہے۔افضل گورو کو پھانسی کی سزا دینے کے بعد بھارتی اور پاکستانی کشمیری علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ناخوشگوار صوتحال پر قابو پانے کے لیے سری نگر سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور کیبل سروس معطل کر دی گئی۔ کشمیری رہنماؤں میرواعظ عمر فارق اورعلی گیلانی نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف چار روزہ ہڑتال کی اپیل کی۔ کشمیری رہنماؤں نے افضل گورو کی پھانسی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے عوام سے پرامن احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی امن کی اپیل کی۔ آزاد کشمیر حکومت نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کشمیری رہنما یسین ملک نے 24 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔افضل گورو کی پھانسی کے بعد جمو ں و کشمیر کے تمام بڑے شہروں میں کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ بھارتی فوج، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بیسیوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکمرانوں کے پتلے اور بھارتی پرچم نذر آتش کئے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو نظربند کر دیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔اس کیس میں افضل گورو کے خلاف سب سے بڑی شہادت اس کا اپنا اعترافی بیان تھا جس سے وہ سات ماہ بعد ہی منحرف ہوگیا تھا۔ اس اعترافی بیان کی قلم بندی کے وقت بھی افضل گورو کا کوئی قانونی مشیر موجود نہیں تھا۔ اس کے متعلق افضل نے اپنے وکیل سشیل کمار کو بھی بتایا کہ وہ بیان اس کے اہلِ خانہ کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیوں کے بعد ریکارڈ کروایا گیا۔اس پھانسی کی کڑیاں 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جب پانچ مسلح حملہ آوروں نے بھارتی پارلیمنٹ پر دھاوا بولا تھا جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت ایک مالی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا اور پندرہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اسی وقت سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام نامعلوم حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی سرکار نے ہر واقعے کی طرح فورا اس حملے کا ملبہ بھی پاکستان پہ ڈالنے کی کوشش کی اور ملوث حملہ آوروں کو پاکستانی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہونے کا الزام عائد کر ڈالا، جس کے نتیجے میں پاک بھارت تعلقات پر نہایت برا اثر پڑا اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں پر تقریبا آٹھ ماہ تک اپنی فوجیں تعینات کئے رکھیں۔ بھارت میں موت کی سزا پہ عملدرآمد شاذ ونادر ہی ہوتا ہے اور 2004ء سے یہ بھارت میں دوسری پھانسی تھی۔ اس سے قبل گزشتہ برس ممبئی حملوں کے الزام میں محمد اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی تھی۔ خود اجمل قصاب کا بھی بھارت میں پھانسی کی سزا پانے والوں میں 309واں نمبر تھا اور دسمبر 2012 تک بھارت میں 477 لوگ ایسے تھے جن کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی تھی لیکن عمل درآمد باقی تھا۔ تو پھر بھارت نے صرف اجمل قصاب اور افضل گورو کو سزا دینے میں ہی اتنی جلد بازی آخر کیوں دکھائی؟ اس پرمزید یہ کہ پھانسی سے قبل وکلاء اور افضل کے گھر والوں کو اس سے لاعلم کیوں رکھا گیا؟ سرکار کی جانب سے فراہم کردہ وکیل نے کبھی اپنے موکل کو کیوں سنجیدگی سے نہ لیا؟ اور بیرونِ عدالت بھی سیاسی جماعتوں اور اہم شخصیات کی طرف سے اس قدر دباؤ کیوں ڈالا جاتا رہا کہ عدالتی کارروائیاں عملاً یرغمال ہو کے رہ گئیں؟اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افضل گورو کو پھانسی دیتے ہوئے بھارت نے قانونی، اخلاقی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کا کھلے عام گلا گھونٹ دیا۔ کیا یہی ہے جمہوری ریاست ہونے کی دعویدار بھارت کے نظامِ انصاف کا اصل چہرہ؟

****

Google Analytics Alternative