Home » 2019 » May

Monthly Archives: May 2019

آرمی چیف نے دو فوجی اور ایک سویلین افسر کی سزا کی توثیق کردی، آئی ایس پی آر

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے 2 افسران سمیت 3 افراد کی سزا کی توثیق کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2 فوجی افسران سمیت 3 افراد کی سزا کی توثیق کردی ہے، سزا پانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال، بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کا ملازم ڈاکٹر وسیم شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت جب کہ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کے ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سزا پانے والے افراد پر ملک کے ساتھ غداری، حساس راز و معلومات غیرملکی ایجنسیوں پر افشاں کرنا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہوا ہے، اور ان افسران کے خلاف الگ الگ کیسز میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 2 سال کے دوران مختلف رینک کے 400 افسران کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں جس میں سروس سے برطرفیاں بھی شامل ہیں۔

 

حکومت مسلسل عدلیہ اور جمہوریت پر حملے کر رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری

لاہور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل عدلیہ اور جمہوریت پر حملے کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معزز ایڈیشنل اٹارنی جنرل احتجاجی طور پر مستعفی ہو گئے ہیں، تحریک انصاف سیلیکٹڈ جمہوریت اور سیلیکٹڈ میڈیا چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت مسلسل عدلیہ اور جمہوریت پر حملے کر رہی ہے،  تمام اختیارات عوام کو منتقل کیا جائے ورنہ سب برباد ہو جائے گا۔

واضح رہے تحریک انصاف کی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے 2 ججز کے خلاف بیرون ملک جائیدادیں رکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا اور ان ججز میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ بھی شامل ہیں۔

معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی

حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس وقت غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو اس وقت خزانے کی حالت کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھی کیونکہ ن لیگ سے جو حکومت ملی تو اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر بھی انتہائی کمزور تھے جس کی وجہ سے حکومت کو آتے ہی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی انہی مسائل کا سامنا ہے اسی لئے وزیراعظم نے اجلاس میں کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ جب تک دیگر صوبوں کی جانب سے بھی خاطر خواہ تعاون حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک اس بحران سے نکلنا ناممکن ہے ۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی،سندھ کی جانب سے کچھ شکوے بھی سامنے آئے تاہم ان کو ختم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے ۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا مقصد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا سو اسی کے لئے ہم کوشاں ہیں اور انشاء اللہ جلد ملک معاشی بحران سے نکل جائے گا ۔ قومی اقتصادی کونسل نے ;200;ئندہ مالی سال کے لئے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4 فیصد، وفاق اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1837 ارب روپے رکھنے کی منظوری دی گئی ،وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بارہویں 5 سالہ منصوبے کی بھی منظوری دے دی گئی کونسل نے زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح ساڑھے 3 فیصد صنعت میں 2;46;2 فیصد خدمات کے شعبے میں 4;46;8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی ۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان ملکی تاریخ کے شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور ہماری تمام تر کوشش ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا ۔ ہم وہ تمام کام کر رہے ہیں جو پہلے کئے جانے چاہئے تھے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے وزیراعظم نے صوبوں کو ایف این سی ایواڈ میں سے فاٹا کیلئے حصہ دینے پر بھی زور دیا ۔ صوبے این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کو حصہ دینے کا وعدہ پورا کریں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے مرکز اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے ، حکومت نے پنجاب اور خیبر پی کے میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا ہے،نظام سے اجلاس میں گزشتہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام اور آئندہ مالی سال کے لئے تجویز کردہ ترقیاتی پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام میں زراعت آئی ٹی اعلی تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی اور فنی تعلیمی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں گے،فاٹا کے ضم شدہاور لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ اجلاس کے دور ان سابق فاٹا علاقوں میں تیز رفتار بحالی اور تعمیر نو کے اسپیشل فورم کی توسیع اور وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیلئے ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ معاشی بحران بھی ایک طرح کا موقع ہے ،جو کام پہلے نہیں ہو سکے انکو اب مکمل کیا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ فاٹا کی تیز رفتار ترقی کیلئے مالی وسائل فراہم کریں ۔ اجلا س میں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ،وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار ،مشیر تجارت عبد الرزاق داءود ،گور نر کے پی کے شاہ فرمان ،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان ، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت ، نثار کھوڑو ،مسز ناہید درانی ،وزیر خزانہ کے پی کے تیمور سلیم ، جان محمد جمالی ،وزیر اعلی آزاد کشمیر فاروق حیدر خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان حافظ الرحمن و دیگر شریک تھے ۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے وفد نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا ایم کیو ایم کے وفد نے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں میں کراچی ، حیدر ;200;باد میں جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی گئیں بڑے شہروں کے شہریوں کو سرکاری نوکریوں کے جائز حق سے محروم رکھا گیا اس بدعنوانی اور غیر قانونی عمل کی تحقیقات کرائی جائیں صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام پر عملدر;200;مد یقینی بنایا جائے کراچی اور حیدر ;200;باد کا ترقیاتی فنڈز میں جائز حق یقینی بنایا جائے ۔ وفد میں خالد مقبول صدیقی فروغ نسیم کنور نوید وسیم اختر امین الحق اور فیصل سبزواری شامل تھے اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور معاون خصوصی نعیم الحق بھی موجود تھے ۔

بلاول کی نیب میں پیشی۔۔۔ اسلام آباد میں گھمسان کا رن

اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے وقت جیالوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں ، اس دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ، واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا ۔ متعدد جیالوں کو گرفتار کرنے کے بعد رات گئے انہیں رہا کردیا گیا ۔ سارا دن وفاقی دارالحکومت میں گھمسان کا رن مچا رہا ، پیپلزپارٹی، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر تشدد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں کنٹینر پر کھڑی رہی ،پورا اسلام آباد بلاک کیے رکھا ، بیرون ملک دوروں کو سبوتاژ کیا گیا اب وہ یہ کہتے تھے کہ اپوزیشن مظاہرہ کرے تو کنٹینر بھی دیں گے اور کھانا بھی دیں گے لیکن ان سے ذرا سا مظاہرہ بھی برداشت نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن کی اس بات میں خاطر خوا وزن ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے نہ کہ ایک مسئلہ حل کرنے کے ساتھ دوسرا مسئلہ بھی پیدا کردیا جائے اس حالات اور گھمبیر ہوں گے ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جعلی اکاءونٹس کیس میں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے ۔ اس موقع پر اسلام آباد انتظامیہ نے جیالوں کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی لگا دی ،دیگر شہروں سے آنے والے پی پی کارکنوں کو روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔ پابندی کے باوجود اپنے لیڈر کے استقبال اور ان سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں نیب ہیڈکوارٹر پہنچے، انہوں نے اپنے لیڈر بلاول کے حق میں نعرے لگائے ۔ بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی رہنما راجہ پرویز اشرف،سید نوید قمر،مصطفی نواز کھوکھر، مرتضی وہاب، نیئربخاری بھی نیب ہیڈکوارٹر پہنچے ۔ پولیس اور پی پی کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، ادھر چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہ میں سلیکٹڈ حکومت نامنظور ہے یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز، اپوزیشن ا ور جرنلسٹ بھی سلیکٹڈ ہوں ،عید کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے ۔

حکومت کا اندازبتا رہا ہے کہ یہ نہیں چلے گی، آصف زرداری

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ نہیں چلے گی۔

نیب ریفرنس میں احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے بعد سابق صدرآصف زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا اندازبتا رہا ہے کہ یہ نہیں چلے گی، اس حکومت کی کوئی لائف نہیں، اس حکومت نے عوام کا کھانا پینا چھین لیا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ملک میں احتساب چلے گا یا معیشت چلے گی، اپوزیشن اکٹھے ہوکر عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی جسے حتمی شکل دیدی گئی ہے، ہمارا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ مختلف اہداف ہیں۔

آصف زرداری اپنی ممکنہ گرفتاری سے متعلق سوال پر خاموش رہے جب کہ انہوں نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے سوال پربھی کوئی جواب نہیں دیا اورمنہ پرانگلی رکھ کرچپ رہنے کا اشارہ دیا۔

جرائم پیشہ افراد اب بھارتی لوک سبھا میں

بھارت میں 11 اپریل سے 19 مئی تک ہونے والے عام انتخابات میں مودی حکومت نے ایک بار پھر برتری حاصل کر لی ہے اور پارلیمنٹ میں واضح اکثریت بھی حاصل کر لی ہے ۔ لیکن گزشتہ پارلیمنٹ کی طرح اس مرتبہ بھی بھارتی پارلیمنٹ میں 40 فیصد سے زائد اراکین جرائم پیشہ اور مختلف مقدمات میں نامزد ملزم ہیں ۔ یوں دیکھا جائے تو جیتنے والے 543 نو منتخب ارکان اسمبلی میں سے 233 پر مقدمے چل رہے ہیں ۔ یہ اراکین قتل، ریپ، قبضے اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں اور کئی کے خلاف تو برسوں سے مقدمے چل رہے ہیں مگر سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں ۔ بھارتی حکمران بی جے پی ہی نہیں دیگر جماعتوں کے منتخب اراکین بھی جرائم پیشہ ہیں ۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کو قتل عام اور ڈکیتی سمیت 204 مقدموں کا سامنا ہے ۔ بھارتی الیکشن چیف نے اس پریشان کن رجحان کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 نو منتخب ارکان میں سے 116 کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ۔ اسی طرح کانگریس کے 52 میں سے 29 کو مقدمات کا سامنا ہے ۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کا یہی المیہ ہے کہ یہاں کی سیاست میں جرائم پیشہ افرا د کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے ۔ بڑے بڑے ٹیکس چور صنعتکار، سرمایہ دار ، جاگیردار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور پیسے کے بل بوتے پر جیت بھی جاتے ہیں ۔ اصل میں ممبر پارلیمنٹ بن کر انہیں اپنے خلاف چل رہے مقدمات کو ختم کرانا اور ان سے باعزت بری ہونا ہوتا ہے ۔ اگر یہ لوگ خود الیکشن میں حصہ نہ لیں تو ان کی حمایت یافتہ سیاسی پارٹیاں میدان میں اترتی ہیں ۔ ان کی پشت پر ان لوگوں کا سرمایہ ہوتا ہے ۔ جیتنے کی صورت میں یہ لوگ حکومت پارٹی کو بلیک میل کر کے اپنے کام کرواتے ہیں ۔ پارٹی بھی اپنے اوپر پیسہ لگانے والوں کا خاص خیال رکھتی ہے ۔ بھارت میں بھی یہی اصول کارفرما ہے ۔ بی جے پی تو ویسے ہی انتہا پسند پارٹی ہے ۔ پیسے کے علاوہ ہندو دیش بنانے کا نعرہ بھی جیت کی بنیاد بنا ۔ لیکن صرف نعرے سے کام نہیں چلتا ۔ الیکشن میں پیسہ بھی خرچ ہوتا ہے اور یہ پیسہ یہی جرائم پیشہ افراد مہیا کرتے ہیں ۔ ویسے بھی بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر اعظم خود ایک جرائم پیشہ شخص ہیں ۔ وہ نہ صرف ایک جرائم پیشہ بلکہ جنگی جرائم پیشہ شخص ہیں ۔ بھارتی گجرات میں ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں جو مسلم خون سے ہولی کھیلی گئی کیا وہ کسی جنگی جرم سے کم ہے ۔ الیکشن سے چند ماہ قبل پلوامہ سانحہ کی ذمہ داری بھی مودی حکومت پر ڈالی گئی ۔ خود پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے اور مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کےلئے 40 سے زائد بھارتی فوجیوں کا خون کیا گیا ۔ کیا یہ جرم کم ہے کہ اپنی ہی فوج کو حکومتی کرسی کی خاطر قتل کر دیا جائے ۔ بھارتی سیاست میں جرائم کی بڑھتی ہوئی آمیزش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مودی کے گزشتہ دور حکومت میں 1700 سے زائد قانون ساز اداروں یعنی ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹ پر بھارتی عدالتوں میں مختلف جرائم کے لیے مقدمات چل رہے تھے ۔ بھارتی لوک سھا اور راجیہ سبھا کے 30 فیصد سے زائد ارکان ایسے جرائم پیشہ تھے جن پر قتل، اقدام قتل، زیادتی، اغوا برائے تاوان اور انسانی سمگلنگ سمیت مختلف سنگین جرائم کے مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں ۔ نریندر مودی کی گزشتہ حکومت کی وزارت قانون و انصاف نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے بتایا کہ 1765 ارکان پارلیمان اور ملک کی مختلف ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں جرائم کے 3045 مقدمات چل رہے ہیں ۔ بھارت میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 4896 ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تہائی سے زائد یا تقریباً 36 فیصد قانون سازوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں ۔ یہ گزشتہ حکومت کے اعدادوشمار ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں اوسطاً ہر رکن کے پاس 14کروڑ 61 لاکھ روپے ہیں ۔ اس طرح لوک سبھا کے تمام اراکین کے پاس موجود مجموعی رقم 6 ہزار 500 کروڑ روپے ہے ۔ بھارت کی قومی زندگی کے یہ حقائق ہولناک ہیں ۔ لیکن ان کی ہولناکی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں 86 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ۔ یعنی ان افراد کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے کم ہے ۔ بھارت کی ایک ارب 20کروڑ آبادی کے 60 فیصد حصے کے پاس بیت الخلا نہیں ہیں ۔ 21 ویں صدی میں بھارت کے 30 کروڑ افراد کے پاس بجلی کی سہولت نہیں ہے ۔ بھارتی اخبارات ہی کی شاءع شدہ رپورٹوں کی بنیاد پر یہ بات کہی جارہی ہے کہ اگر بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے تو پھر حقائق کی بنیاد پر یہ بھی کہنا پڑے گا کہ حالیہ بھارتی پارلیمنٹ دنیا کی سب سے بڑی بدعنوان اور داغدار پارلیمان ہے ۔ بھارت ہی کے ایک نامور جریدے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ دولتمند اور سرمایہ دار بھارتی سیاستدان اپنے ملک کے موثر اخبار نویسوں اور اینکر پرسنوں کو رشوت دے کر اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام اور ذلیل کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں ۔

جمہوریت پسند ججز کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے، نواز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت پسند ججز کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ جمہوریت پسند ججز کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے، حکومت کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس دائر کرنا سراسر نا انصانی ہے، مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ بچاؤ تحریک میں پہلے بھی اہم کردار ادا کیا تھا، انہوں نے ہدایت کی کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس فوری طور پر بلایا جائے، عدلیہ پر حکومتی حملے ناکام بنانے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے، پارٹی عدلیہ کے معزز جج صاحبان پر حکومتی تہمتوں کے پلندے کو بے نقاب کرے اور بھرپور مزاحمت کرے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا پیغام ہے کہ عدلیہ کی آزادی، تحفظ اور دفاع کے لئے ڈٹ جائیں، میں آئین و قانون کے لئے قربانی دے رہا ہوں، ’ووٹ کو عزت دو‘ کی سزا کاٹ رہا ہوں اوراس کے لئے ایک تو کیا اس طرح کی ہزاروں سزائیں کاٹنے کے لئے تیار ہوں۔ ملک کی سالمیت ،آئین و قانون کی بالا دستی کے لئے چاہے جتنی سزائیں کاٹنی پڑے میں تیار ہوں۔

پیٹرول 8 روپے 53 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سمری وزارت پٹرولیم کو موصول

 اسلام آباد: اوگرا نے وزارت پیٹرولیم کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے نئی قیمت 116 روپے 95 پیسے کی تجویز دی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولٰیٹری اتھارٹی (اوگرا)  نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق وزارت پیٹرولیم کو بھجوا دی ہے، اور اوگرا کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو موصول ہوگئی ہے، جس کے تحت یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

اوگرا کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 8 روپے 99 پیسے بڑھا کر نئی قیمت 131 روپے 31 پیسے فی لیٹر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 53 پیسے بڑھا کر 116 روپے 95 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت ایک روپے 69 پیسے بڑھا کر 98 روپے 46 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت ایک روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے نئی قیمت 88 روپے 62 پیسے فی لیٹر کرنے کی تجویز دی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کل وزارت خزانہ وزیراعظم کی مشاورت سے کرے گی جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔

 

اپوزیشن کا اتحادیانیا این آراو

کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن متحد ہو کر رمضان کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرے گی ۔ حکومت اپنی قبر خود کھود رہی ہے ۔ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ۔ تبدیلی کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا گیا ۔ نیب کا ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے ۔ کچھ عناصر کہتے ہیں کہ یہ اتحاد این آر او کیلئے ہے جو ہی کچھ پیش رفت ہوئی یہ اتحاد پارہ پارہ ہو جائیگا ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کاش یہ اتحاد عوام کے مفاد کیلئے بھی ہوتا یہاں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ اتحاد تمام سیاست دانوں کا اپنے مفاد کیلئے ہے ۔ کہتے ہیں کہ اعمال کا دار و مدار اس کے نتاءج پر ہوتا ہے عوام اس کا انتظار کریں کہ آیا یہ اتحاد عوام کو رپیش مسائل کیلئے ہے یا صرف اپنے مسائل کے حل کیلئے کچھ دنوں کے بعد اس کا اندازہ ہو جائیگا ۔ عوام کا حافظہ اتنا کمزور بھی نہیں ہے ۔ اس اتحاد کی ایک جھلکی عوام کو صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی دیکھنے کو ملی تھی ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماءوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں میں کوئی باقاعدہ اتحاد نہیں بلکہ محض ایک بندوبست ہے، الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تمام جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں ، اسے اس طرح نہ پیش کیا جائے کہ ہم نے اتحاد بنایا تھا جسے توڑ دیا گیا، تاہم اپوزیشن کو متحد کرنے میں نہ پہلے کسر چھوڑی ہے نہ اب چھوڑیں گے، اعتزاز احسن کو امیدوار بنانا پی پی پی کا اپنا فیصلہ ہے، پوری کوشش تھی کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار آئے ۔ مولانا فضل الرحمن سے ن لیگ کو اعتزاز احسن کے نام پر راضی کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن وہ خود امیدوار بن گئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ پی پی پی کی مجبوریوں کا تاثر دے رہی ہے، بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف تمام کیسز نواز شریف نے بنوائے تھے، یہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ صرف ایک بندوبست ہے، سب کا اپنا اپنا منشور ہے، اور کوئی ایک دوسرے کا منشور ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی معیشت تباہ ہے اور خزانہ خالی ہے ۔ بیرونی قرض چکانے کیلئے بھی کچکول کا سہارا لیا جارہا ہے کہ قسط ادا کیا جاسکے مگر یہ سب خرابی چند مھینوں کی نہیں گزشتہ تہتر برس کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس وقت جب کہ سی پیک کا ایک مرحلہ تکمیل کی طرف جا رہا ہے تو اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے ۔ یہ جاننا چائیے کہ عالمی سامراج کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ہے اس وجہ وہ مختلف حربے استعمال کرا رہا ہے ۔ مختلف عنوانات سے لوگوں کو اپنے حق اور پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف اکسا رہا ہے ۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نا اعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے ۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہ میں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔ یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950;247;ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947;247;ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبہانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951;247;ء کو یہ قراداد منظور کر کی تھیاور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہ میں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکےں اور ان میں سے کوئی چیز سوویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہ میں استعمال کیا ہے اگرچہ امریکہ نے ہ میں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہ میں آلہ کار بنا کر اس نے ہ میں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہ میں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی ۔ ;247;ہمارے پہلے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1;576247;ٗ;247;ٗ;247;ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1;577247;ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلئے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا ۔ ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگیں ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھہر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹاکھایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں سی پیک سے سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں ۔ اور اپوزیشن کے موجودہ کردار کو ہم بندوبست کا نام دیں یا اتحاد کا نام اور اگر یہ اتحاد ہے تو یہ اتحاد کیا عوامی مفاد کیلئے ہے یا صرف این آرو کے حصول اور نیب سے اپنی جان چھڑانے کیلئے۔۔۔!

Google Analytics Alternative