Home » 2019 » May » 01

Daily Archives: May 1, 2019

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ موخر کردیا، فردوس عاشق

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی اور مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ موخر کردیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پٹرول کی قیمتوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ وزراء کی اکثریت نے قیمتوں میں مزید اضافہ کو پریشان کن قرار دیا تاہم چند وزرا نے قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سارا بوجھ حکومت نہیں اٹھا سکتی۔ رائے منقسم ہونے کے باعث اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا گیا۔

کابینہ اجلاس میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے دورمیں ارسال کی گئی دونوں سمریاں واپس لے لی گئیں جن میں پریس کونسل کے چیئرمین و ارکان کی تعیناتی اور ڈی جی ریڈیو کی تقرری کی سمری شامل تھی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی اور مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس بریفنگ میں کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان میں دفتری اوقات کار صبح 10 سے شام 4 بجے کیے گئے ہیں، دیوانی مقدموں کو ڈیڑھ سے 2 سال میں نمٹانے کیلیے قانون سازی کی جائےگی، بچوں سے زیادتی پر سخت سزا کا قانون لارہے ہیں۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو ریلیف دے گی جس کے لیے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ موخر کردیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے قیمتوں میں اضافے کا معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیج دیا ہے۔

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان 2 مئی کو مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے، بیرونی اور اندرونی قوتوں نے مہمند ڈیم کو بھی کالاباغ بنانےکی کوشش کی جسے ہم نے ناکام بنادیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا ہر نوجوان پی ٹی ایم نہیں ہے، پی ٹی ایم میں ایسے عناصر گھس گئے ہیں جنہوں نے بیرونی آقاؤں کی آشیرباد سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

حکومت نے خواتین کا وراثت میں حق یقینی بنانے کے لیے انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹ بل لانے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں وراثت میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور اسے تحصیل کی سطح تک نافذ کیا جائے گا۔

نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

 اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے سپریم کورٹ میں عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے درخواست دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف کی عبوری ضمانت 7 مئی کو ختم ہورہی ہے، عدالتی حکم کے مطابق 6 ہفتوں کے بعد ضمانت خود بخود ختم ہوجائے گی، نواز شریف نے 26 مارچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کررکھی ہے، جس پر فیصلہ ہونے تک عبوری ضمانت میں توسیع کی جائے، عبوری ضمانت میں توسیع نہ ہوئی تو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، امید ہے کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست منظور ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی تھی۔ نواز شریف نے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں دل اور گردوں کے امراض لاحق ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کے تیسرے درجے کی بیماری میں مبتلا ہیں، لہذا نواز شریف کو علاج کے لیے صرف پاکستان کے اندر پابند کرنے کے 26 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

پاک فوج کابھارت اورپی ٹی ایم کو واضح اوردوٹوک پیغام

پاک فوج کے ترجمان نے پی ٹی ایم کوواضح اور دوٹوک انداز میں پیغام دیدیاہے کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں چل سکتی، میجرجنرل آصف غفورکی پریس بریفنگ انتہائی اہمیت کی حامل تھی،اس میں انہوں نے بھارت کو بھی یہ بتایا کہ آئے دن اس کی جانب سے جودھمکیاں آتی رہتی ہیں ہرزہ سرائی بھی کرتاہے ، وہ کسی بھول میں نہ رہے ،پاک فوج ہرصورت میں اپنے ملک وقوم کادفاع کرے گی، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ سے شانہ ملاکرکھڑی ہوئی ہے،پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے جوسرجیکل سٹرائیک کاڈرامہ رچایا اس کاپاکستان نے بھرپورانداز میں جواب دے کرثابت کردیا کہ جب بھی بھارت سرحد پارکرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو منہ کی کھاناپڑے گی، نیز انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بھارت پاکستان میں جو تبدیلی چاہتاہے وہ کبھی نہیں ہوگی البتہ بھارت نے ہ میں فالو کرناشروع کردیاہے جیسے کہ اس نے ہمارا ایک جنگی ترانہ چوری کیا اسی طرح اس کے تمام الزامات بھی بے سروپا ہوتے ہیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں کسی منظم دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، پاکستان میں داعش کوجگہ نہیں بنانے دیں گے،افغان پناہ گزینوں کی واپسی بہت ضروری ہے ،مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام تو ہو گا نفرت انگیز مواد نہیں ،بھارت امن کےلئے سنجیدہ ہے تو آئے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے،جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت اپنائے گا،اگر 1971 میں ;200;ج کا میڈیا ہوتا ، بھارتی حالات بے نقاب کرتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہیں ہوتا،ہم ہروہ کام کریں گے جو ملک کی سیکیورٹی کیلئے ضروری ہو، پی ٹی ایم کو جتنی آزادی دینی تھی دےدی ،اب قانون حرکت میں آئے گا،اسلام آباد میں دھرنا دینے کیلئے را نے پی ٹی ایم کو فنڈز دیے، پی ٹی ایم لاپتہ افراد کی فہرست ہ میں دے،معلوم کرالیں گے کون کہاں ہے،پی ٹی ایم والوں سے سوالوں کے جواب قانونی طریقے سے لیں گے، پاکستان پلوامہ حملے میں کسی طور پر ملوث نہیں تھا، بھارت کو پیغام دیا کہ وزیراعظم عمران خان کی تحقیقات کی آفر کو قبول کریں ، بھارت نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس پر ہم نے ردعمل دیا، آج اس واقعہ کو دو ماہ ہو گئے لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بول رہا ہے، ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا، ہمارا حوصلہ نہ آزمائیں ، وقت آیا تو پاک فوج عوام کی مدد سے بھرپور دفاع کرے گی اور تاریخ دہرائے گی، بھارت میں الیکشن چل رہے ہیں اور بہت باتیں سنی ہیں ، آج 1971نہیں ہے، نہ وہ فوج ہے اور نہ وہ حالات ہیں ،اگر موجودہ پاکستانی میڈیا 1971 میں ہوتا تو بھارت کی سازشیں بے نقاب کرتا اور آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا، آج پاکستان میں کسی منظم دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، مدارس کے نصاب میں تبدیلی نہیں ہوگی لیکن منافرت پھیلانے والا مواد بھی نہیں ہوگا، عسکریت پسندی کی طرف لے جانے والے مدارس کی تعداد 100 سے بھی کم ہے، بیشتر مدارس پرامن ہیں ، معاشرے کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، مدرسوں سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل نہیں ، اب مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آپریشن ردالفساد بہترین طریقے سے جاری ہے، پاک افغان بارڈر پر ایک ہزار کلو میٹر باڑ مکمل کرلی گئی ہے جلد پورے بارڈر پر باڑ لگالیں گے، اس سے کراس بارڈر حملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے،داعش کو پاکستان میں قدم جمانے نہیں دیں گے ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور نے پر یس بر یفنگ کے دوران خصو صی طو ر پر پختون عوام کے نام پشتو زبان میں پیغام دیا ، پختون عوام کے نام پشتو میں کہا کہ پاک فوج ;200;پ کی ہے، جیسے پاکستان ہم سب کا ہے ۔ اگر پاکستان خوشحال اور ;200;باد ہوگا تو ہم سب بشمول پختون خوشحال ہوں گے، خدانخواستہ پاکستان کو کوئی نقصان ہوگا تو یہ ہم سب کا نقصان ہوگا ۔ کچھ لوگ کسی کے ورغلانے پر آپ کو پاکستان اور اداروں کے خلاف اکسانا چاہتے ہیں ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مملکت پاکستان کو ;200;پ کی قربانیوں کا احساس ہے، ریاست دن رات کوشش کررہی ہے کہ ;200;پ کے مسائل حل کردے، پاک فوج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک ;200;پ کے مسائل حل نہ ہوں ، ہم امید رکھتے ہیں پختون ان کی باتوں میں نہیں آئیں گے، ;200;پ ملک دشمن قوتوں کا راستہ روکیں گے، امید ہے پختون پاکستان کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ بعدازاں پاکستان گرو پ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بہت زبردست تھی تمام ایشوزکوبیان کیا،ڈی جی آئی ایس پی آ نے بھارت کے متعلق بھی بہت تفصیل سے بات چیت کی، اکانومی میں ہم اس طرح بہتر نہیں ہورہے جس طرح ہونا چاہیے،ہرچیز میں پیسے کی ضرورت آپ نے میزائل بنانے ہیں جہازخریدنے ہیں پیسہ چاہیے ، معیشت کوبہترکرنا چاہیے،میرا خیال ہے کہ پی ٹی ایم کو یہ آخری وارننگ ہے،باتیں کرنا تو آسان ہوتی ہیں جن کے گھر اجڑتے ہیں ان کو پتہ ہوتا ہے،ہم لوگ فوج کو ہر چیز میں ملوث کردیتے ہیں ،فوج کبھی بھی کوئی غلط کام نہیں کرتی،ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کو اشارتاً وارننگ بھی دے دی ۔

پاکستان کے عازمین حجاج کے لئے خوشخبری

پاکستان کو سعودی حکومت کی جانب سے اضافی حج کوٹہ مل گیا جس کے بعد مزید 15 ہزار 790 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے ۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اضافی کوٹے کی قرعہ اندازی کی جائے گی جبکہ اضافی کوٹے میں 9 ہزار 474 افراد سرکاری اور 6 ہزار 316 افراد پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے زریعے حج پر جائیں گے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل فروری میں بھی سعودی عرب نے پاکستان کے حج کوٹے میں اضافہ کیا تھا، پہلے پاکستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 84 ہزار تھا تاہم حج کوٹے میں اضافے کے بعد 2 لاکھ کردیا گیا تھا ۔ پاکستانی عازمین حج کےلئے اضافی کوٹے کا معاملہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے درمیان وزیر اعظم عمران خان نے اٹھایا تھا، جس کے بعد پاکستان کے لیے 16 ہزار افراد کے اضافی کوٹے کو شامل کیا گیا تھا ۔ نئے کوٹے کے اضافے کے بعد وزارت مذہبی امور نے ناکام رہ جانے والے درخواست گزاروں کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قرعہ اندازی کی جائے گی ۔ وزارت مذہبی امور نئے کوٹے کےلئے بینکوں سے رقم نکلوانے والوں کو دوبارہ رقم جمع کروانے کے لیے 4 دن کی مہلت دے گی جبکہ جن افراد کی رقم بینکوں میں موجود ہے وہ براہ راست نئی قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے ۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019 کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ملک کے شمالی علاقہ جات کے رہائشیوں کےلئے حج کی فی کس لاگت 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہے جبکہ جنوبی علاقے (کراچی، کوءٹہ اور سکھر) کےلئے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہے، ان اخراجات میں قربانی کی لاگت شامل نہیں ہے، قربانی کے ساتھ یہ اخراجات 4 لاکھ 56 ہزار 426 روپے ہیں ۔

پی ٹی ایم کا بیانیہ ٹی ٹی پی جیسا کیوں ہے

پشتون تحفظ موومنٹ’پی ٹی ایم‘ کے نام سے منظر عام پر آنیوالی تنظیم بظاہر نقل مکانی کرنیوالے بے گھر افراد کی آواز نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں یہ تنظیم ففتھ جنریشن ہائبرڈ جنگ کا ایک حصہ ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا رکھتی ہے ۔ ا س تنظیم کے کرتا دھرتا پشتون کارڈ استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور پاکستانی عوام کے ذہنوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا بھر رہے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ڈی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کوتنبیہ کی تھی کہ وہ اپنی حدود میں رہ کر مطالبات کرے ۔ بیرون ملک رابطوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ حقیقت بھی منظر عام پر آئی ہے کہ پی ٹی ایم کو افغان حکومت سے اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی حمایت حاصل ہے ۔ افغان صدر اشرف غنی بھی ان کی پشت پر ہیں ۔ پی ٹی ایم صر ف پاکستان حکومت اور اداروں کے خلاف ہی مظاہرے کیوں کرتی ہے ۔ کیا کبھی پی ٹی ایم نے امریکہ، را یا این ڈی ایس کے خلاف کوئی مظاہرہ کیا ۔ یہ ممالک اور ایجنسیاں بھی تو افغانستان میں پشتونوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں ۔ پی ٹی ایم ان کے خلاف کیوں نہیں بولتی ۔ سوال یہ ہے کہ منظور پشتین اور دیگر اس وقت کہاں تھے جب لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے تھے اورسروں سے فٹبال کھیلا جاتا تھا ۔ اس وقت پاک فوج نے جا کر دہشتگردوں سے لڑائی کی تھی اور اگر آج حالات ٹھیک ہیں تو تحفظ کی بات آ گئی ہے ۔ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم والے غیروں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں ان کا وقت اب پورا ہو گیاہے ۔ لیکن آرمی چیف کی ہدایت ہے کہ پی ٹی ایم کے جوانوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ پی ٹی ایم کی قیادت اصل میں کس کے ہاتھ بک چکی ہے ۔ پی ٹی ایم جب شروع ہوئی تو سب سے پہلے آرمی چیف کے کہنے پر میری ان کے ساتھ بات چیت ہوئی ۔ میری اپنی محسن داوڑ اور ان کے باقی نام نہاد افراد سے بات ہوئی ان کے تین مطالبے تھے جو کافی حد تک پورے ہو چکے ہیں ۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ مائنز کا تھا کیونکہ وہاں پر جنگ ہوئی تھی تو ہ غیر تباہ شدہ بم موجو دتھے ۔ جب ہمارا ساتھی شہید ہوتاہے تو ہم اس کی میت بھی وہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہماری ترجیح اسے اٹھانا نہیں بلکہ آپریشن کامیاب کرناہے ۔ یہ مطالبہ درست تھا اس پر ہم نے کام کیا اور48 ٹی میں لگائیں اور انہوں نے 45 فیصد علاقے کو مائنز سے کلیئر کر دیاہے ۔ جب سے کلیئرنس آپریشن شروع کیاہے اور پاک فوج کے کئی جوان شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ علاقے میں جو چیک پوسٹ ہیں ان کو ختم کیا جائے ۔ پاک فوج پاکستان کی فوج ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف ان آپریشنز کے دوران چھ ہزار شہادتیں ہوئیں ۔ اس چیک پوسٹ پر موجود فوجی جو پاکستان کے کسی بھی حصہ سے ہو سکتا ہے ،کی شہادت ہوئی تو وہ وہاں اپنی فیملی کی حفاظت کیلئے نہیں تھا ۔ تیسرا مطالبہ گمشدہ افراد کا تھا ۔ 7 ہزار کی لسٹ تھی جس پر کام ہو رہاہے اور وہ کم ہو کر 25 کی رہ گئی ہے جو کہ ابھی حل نہیں ہوئے ۔ یہ مطالبہ ان کا نہیں بلکہ ان پٹھان بھائیوں کا ہے جو کہ وہاں رہتے ہیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ کے مالی معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے الزامات عائد کیے ہیں کہ انھیں مختلف مقامات پر احتجاج کےلئے بھارت کے خفیہ ادارے را اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوتی رہی ہیں ۔ پی ٹی ایم سے چند سوالات ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں کہ22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے ان کو احتجاج جاری رکھنے کیلئے کتنے پیسے دیئے اور وہ کہاں ہیں ۔ اسلام آباد میں دھرنے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے انہیں کتنے پیسے دیئے اور وہ کس طریقے سے پہنچے اور کہاں استعمال ہوئے ۔ 8 اپریل 2018 میں قندھار میں واقع بھارتی قونصلیٹ میں منظور پشتین کا کونسا رشتہ دار تھا جو کہ اس قونصل خانے میں گیا اور ملاقات ہوئی اور کتنے پیسے دیئے اور وہ پاکستان کیسے آیا ۔ 8 مئی 2018 جلالہ آباد کے بھارتی قونصل خانے نے طورخم میں ریلی کیلئے کتنے پیسے دیئے اور وہ کہاں ہیں ۔ 2018 مئی میں بھارتی سفارتکاروں نے کتنے ڈالر دیئے اور کس طرح آپ کے پاس پہنچے ۔ پشاور کے جلسے کیلئے این ڈی ایس نے آپ کو کتنے پیسے دیئے ۔ آپ کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے ۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے ، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے;238;جب ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوئے تو حکومت پاکستان نے حکومت افغانستان سے ان کے جسد خاکی کی واپسی کےلئے بات چیت شروع کی ۔ اس کےلئے ایک طریقہ کار ہے لیکن پی ٹی ایم کس بنیاد پر وہاں بات کررہی تھی کہ ہ میں قبیلے کی سطح پر جسد خاکی دیا جائے ۔ کیوں منع کیا گیا کہ طاہر داوڑ کا جسد خاکی حکومتی نمائندوں کو نہیں دینا ۔ اگر آپ اپنے آپ کو پاکستان کا ایم این اے ہیں مانتے ہیں تو آپ پر پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔ آپ کیسے زبردستی سرحد پار کرکے افغانستان جاسکتے ہیں اور ساتھ لوگوں کو بھی لے کر جائیں ;238; کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ آپ اشتعال انگیزی کرائیں ۔ لوگوں کو پکڑیں ایک جلوس بنائیں اور کہیں کہ میں نے آج افغانستان جانا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے بیانیہ کیوں ملتا ہے ۔ واضح بات ہے کہ پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں ۔ حکومت ان سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بھاگ بھاگ کر امریکا، افغانستان اور بلوچستان چلے جاتے ہیں ۔ مسائل فاٹا میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں کیمپ لگائیں اور بولیں حکومت اور فوج آئے پھر دیکھیں کون نہیں جاتا ۔

پٹرول کی قیمت میں اضافے پر وفاقی کابینہ کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی کابینہ کے رائے تقسیم ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پٹرول کی قیمتوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ وزراء کی اکثریت نے قیمتوں میں مزید اضافہ کو پریشان کن قرار دیا تاہم چند وزرا نے قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سارا بوجھ حکومت نہیں اٹھا سکتی۔ رائے منقسم ہونے کے باعث اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا گیا۔

کابینہ اجلاس میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے دورمیں ارسال کی گئی دونوں سمریاں واپس لے لی گئیں جن میں پریس کونسل کے چیئرمین و ارکان کی تعیناتی اور ڈی جی ریڈیو کی تقرری کی سمری شامل تھی۔

واضح رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وزارت پیٹرولیم کو سمری ارسال کردی ہے جس میں پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 37 پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

ےوم مئی ۔ ۔ مزدوروں کا عالمی دن

ا;203; تعالیٰ کی عنایت کردہ اس روئے زمےن پر سب سے اعلیٰ و ارفع مخلوق انسان کی ہے ۔ ہر دور اور ہر زمانے مےں رزق کے جو سرچشمے ا;203; تعالیٰ نے بنی نوع انسان کےلئے پےدا کئے تھے ان پر با اثر لوگ قبضہ کر کے بےٹھ جاتے ہےں اور انسان کی مجبورےوں کو اےکسپلاءٹ کر کے انہےں اپنا غلام بنا لےتے ہےں اور غرےب کے منہ سے اس کا نوالہ بھی چھےننے کی مساعی کرتے ہےں ۔ اس عالم رنگ وبو مےں ملکوں کی ترقی کا پہےہ گھمانے والے محنت کش مجبور کر دیے گئے ۔ ےہ مخلوق خدا انتہائی بے بس ہو کر تڑپنے،سسکنے اور اپنا ہی خون پےنے پر مجبور تھی ۔ ےہ طبقہ مزدوراں کرب و اذےت مےں مبتلا تھا ۔ محنت مشقت کر کے ان کی ہڈےاں چٹخ جاتےں لےکن معاوضہ نہاءت قلےل جس سے پےٹ کا جہنم بھرنا بھی کٹھن ۔ اس عسرت و تنگدستی سے نجات پانے کی کوئی صورت دکھائی نہ دےتی تھی ۔ ارباب حل و عقد نے فرض شناسی اور اصول پرستی کی جگہ مفاد پرستی کو اپنا شےوہ بنا رکھا تھا ۔ ان مظلوموں کو اپنے جائز حقوق کے حصول کےلئے بھی در در کی ٹھوکرےں کھانا پڑتی تھےں ۔ اےسے کرب انگےز او ر المناک حالات سے ان کو نکالنا حکمرانوں کی ذمہ داری تھی لےکن ان لوگوں کے مسائل کا ادراک کسی کو نہےں تھا ۔ انہےں نہ تو مہنگائی کا عفرےت ستاتا اور نہ ہی ان کو علاج معالجے کی ضرورت تھی ۔ ان کی معاشی بد حالی کی وجہ امراء کا طلب و رسد پر مکمل کنٹرول تھا جس کی وجہ سے وہ اس طبقہ کو ےرغمال بنائے رکھتا ۔ ان کی جےبوں پر ہاتھ صاف کرتا اور مہےنہ بھر مزدور سے کام لےنے کے بعد ےہ سرماےہ دار اور آجر ان کے ہی خون پسےنے کی آمدن سے چند سکے بطور تنخواہ ادا کر کے باقی سارے سرماےہ کو وہ ہڑپ کر لےتے ۔ اس نظام کی اصلاح احوال بہت مشکل تھی اور ےہ نظام صدےوں سے مستحکم چلا آ رہا تھا لہٰذا اس کی بساط کو لپےٹنا کوئی آسان کام نہےں تھا صدےوں سے محنت کشوں کا استحصال ہو رہا تھا ۔ اس نظام مےں سرماےہ داروں ،آجروں اور صنعت کاروں کے دروازوں پر ےہ مجبور اور بے سہارا انسان جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کرتے ۔ صدےوں سے ظلم کی چکی مےں پسنے والا مزدور جب جاگا تو اس کا مےلا کچےلا ہاتھ استحصالی اور استبدادی قوتوں کے گرےبانوں تک پہنچ گےا جن کی بدولت سماجی نا انصافےاں اور عدم استحکام پےدا ہوتا تھا ان کے خلاف پہلی زور دار آواز1876ء مےں امرےکہ کے شہر شکاگو کے شہےدوں نے بلند کی ۔ ان شہےدوں کی ےاد مےں ےوم مئی تمام دنےا مےں مناےا جاتا ہے ۔ ےہ دن تمام دنےا کے مزدوروں کےلئے شہےدوں کے ناحق بہے خون سے وفا کی تجدےد کا دن ہے ۔ جس مشن کےلئے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیے ان کے مقاصد کو زندہ رکھنا اور مزدوروں کے حقوق کےلئے اگر جانوں کی قربانی بھی دےنی پڑے تو اس سے گرےز نہ کرنا ۔ ےہ دن اسی تجدےد عہد کی اہمےت اجاگر کرتا ہے ۔ معاشرے مےں جن افراد کی وجہ سے عدم استحکام تھا وہ بہت مضبوط تھے ۔ مزدوروں کے مطالبات ماننے کی بجائے ان کی مصلحتوں نے انہےں عدم توجہ کا شکار کر رکھا تھا اور انہوں نے غفلت کا روپ دھار لےا تھا ۔ دولت سمےٹنے کی کھلم کھلا آزادی انسان کے نفس مےں حرص و ہوس کے جہنم بڑھکا دےتی ہے اور کسی کا دل لت پت مزدور کو دےکھ کر نہےں پسےجتا ۔ دولت جسے معاشرے کی رگ حےات مےں خون کی طرح محو گردش ہونا چاہیے ےہ چند ہاتھوں مےں سمٹ کر رہ جاتی ہے ۔ شکاگو کے مزدوروں نے مطالبہ کےا کہ ان کا بھی انسانےت کے ساتھ ناطہ ہے انہےں حےوان نہ سمجھا جائے ۔ ےہ محنت کش اےک تنظےم کی صورت مےں منظم ہوئے ۔ روزانہ آٹھ گھنٹے اوقات کار کے تعےن کرنے اور مزدوروں پر آجروں کے غےر انسانی تشدد بند کرانے کےلئے صدائے احتجاج بلند کی لےکن حکومتی کارندوں نے ان محنت کشوں کو ہمےشہ کےلئے خاموش کر دےنے کےلئے ان کے سےنے گولےوں سے چھلنی کر دیے ۔ ان مظلوموں کے خون نے مزدوروں کے حقوق کی آبےاری کی ۔ مستقبل کا سورج ان کےلئے خوشی کی نوےد لے کر طلوع ہوا ،ان پر سے جورو جفا کا خاتمہ ہوا اور بلآخر محنت کش کامےابی سے سرفراز ہوئے ۔ ارباب اختےار کو اس ستم رسےدہ طبقے کے مطالبات تسلےم کرنا پڑے اسی حوالے سے دنےا بھر کے مزدور ےکم مئی کو اپنا بےن الاقوامی تہوار ےوم مئی مناتے ہےں اور شکاگو مےں محنت کش برادری کے حقوق کی خاطر اپنی جانےں قربان کرنے والے محنت کش شہےدوں کو خراج عقےدت پےش کرتے ہےں ۔ ےہ قربانےاں دنےا بھر کے مزدوروں کے حقوق مزدوراں تحرےک کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی ۔ وطن عزےز کے محنت کش بھی ےوم مئی تہوار جوش و خروش سے مناتے ہےں ۔ پاکستان جہاں اےک زرعی ملک ہے وہاں اس مےں صنعتوں کا جال بھی بچھا ہے ۔ دوسرے شعبہ ہائے زندگی مےں وسعت ہوئی اسی طرح مزدوروں کی تعداد مےں بھی اضافہ ہوا ۔ اس اضافے کے ساتھ ےوم مئی کی اہمےت بھی بڑھی اور ےہ دن عوامی تہوار بن گےا ۔ معزز قارئےن ہم ملک پاکستان کے باسی ہےں اسلام ہمارا دےن ہے ۔ دےکھنا ےہ ہے کہ آےا ہم اسلام کے سنہری اصول اپنائے ہوئے ہےں ۔ خدائے بزرگ و برترنے غےر فطری ،ظالمانہ اور استحصالی نظام کو رد کرتے ہوئے قرآن مجےد مےں اس پر لعنت کی ہے ۔ قرآن مجےد کی رو سے جب کسی مزدور سے کام کراےا جائے تو اس کی اجرت اس کا پسےنہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جائے ۔ اسلام نے اس کےلئے جو ضوابط مقرر کئے ہےں ان کے مطابق آجر،صنعت کار اور مزدور کے مابےن معاہدہ طے پانے کے بعد کسی قسم کا جبر اور زےادتی نہےں ہونی چاہیے ۔ مزدور بھی نہاءت امےن اور معاہدے پر عمل داری کا پابند ہو اور اپنے کام کو نہاءت دےانت داری سے ادا کرے ۔ آجر اور اجےر کے درمےان باہمی محبت کی اےسی فضا قائم ہونی چاہیے جو باہمی اعزاء و اقربا مےں ہوتی ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے برسر اقتدار آنے کے بعد ےوم مئی کو قومی تعطےل قرار دےا اور ابھی تک پاکستان کے محنت کش اپنی و عالمی برادری کے ساتھ اپنے حقوق ،عزت نفس اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر ےوم مئی کی روح کو تازہ رکھے ہوئے ہےں اور شکاگو کے مزدوروں نے اپنے خون سے جو شمع جلائی تھی اسے روشن رکھے ہوئے ہےں ۔

اقرا عزیز کو یاسر حسین کے متنازع بیان کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا

ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کو یاسر حسین کے خواجہ سرا کے حوالے سے متنازع بیان کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔

یاسر حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ڈرامہ ’دردانہ‘ میں خواجہ سرا کا کردار کی جھلک جاری کی تھی۔ تصویر پر ایک صارف نے  یاسیر حسین سے سوال کیا تھا کہ اس کردار کے کے لئے اصل خواجہ سرا کی خدمات حاصل کیوں نہیں کرتے جس پر یاسر حسین نے سیدھا جواب دینے کے بجائے مداح کو یہ جواب دیا کہ ’آپ کو یہ جاب چاہئے‘۔ اداکار کے تلخ انداز میں جواب دینے پر انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس موقع پر رہنمائی کرنے کے بجائے اداکارہ اقرا عزیز اُن ہی کی حمایت میں میدان میں آگئیں۔

اقراء عزیز نے یاسر حسین کی تصویر پر تلخ لہجہ میں جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نفرت زدہ کمنٹس کرنے والوں نے مایوس کیا ہے،آپ لوگ خود کو انسان کہتے ہیں اور دنیا کو بہتر بنانے کے لئے مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ ہی وہ لوگ ہیں جوکہ کسی خواجہ سرا کو اپنا پڑوسی بھی نہ بنائیں۔

اقراء نے یہ بھی کہا کہ آگر آپ لوگ کسی کو اچھے بُرے کی تمیز سکھانا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آپ خود کیا غلط کر رہے ہیں اور اسی کے تحت آج ہمیں خواجہ سراؤں کے برابری کے حقوق کے لئے مہم چلانی پڑ رہی ہے جوکہ اُن کا حق ہے لیکن ہم انہیں نہیں دیتے کیوں کہ آپ میں سے ہی کوئی نہ کوئی انہیں دل سے قبول نہیں کرتا جب کہ ہمیں ہر کسی کی عزت کرنا چاہیے۔

اداکارہ نے یاسر حسین کی حمایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں کسی کی مخالفت نہیں کرنا چاہتی لیکن اچھائی کی شروعات خود سے کریں نہ کہ فنکار کے کسی کمنٹ کو غلط انداز میں سمجھ کر اپنے نمبر بڑھائیں۔

فروہ نامی صارف نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اقرا عزیز واقعی میں یاسر حسین کے بے معنی اور گھٹیا لطیفوں پر حمایت کر رہی ہیں۔ پیار اندھا ہوتا ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ یاسر حسین نے اب تک اپنے اُس بیان پر معافی نہیں مانگی لیکن اقرا عزیز عجیب و غریب انداز میں یاسر حسین کا دفاع کر رہی ہیں لیکن اب اقرا کا دفاع کون کرے گا؟۔

فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ میں ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ میں ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیرصدارت فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں  مقدمات نمٹانے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف انتظامی امور زیرِغور آئے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ میں ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ریسرچ سینٹر قائم کا مقصد سپریم کورٹ کو مختلف مقدمات میں مدد فراہم کرنا ہو گا۔

اعلامیے کے مطابق فل کورٹ میں یکم جنوری سے 26 اپریل تک مقدمات نمٹائے کا جائزہ لیا گیا، یکم جنوری سے 26 اپریل تک 7213 مقدمات کا اندراج ہوا اور اسی عرصے کے دوران 6169 مقدمات کے فیصلے کئے گئے،فل کورٹ نے مقدمات کے نمٹانے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

فل کورٹ میں مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے برانچ رجسٹریوں میں خصوصی بینچز تشکیل دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا،سپریم کورٹ میں اس وقت زیر التواء مقدمات کی تعداد 39338 ہے۔

Google Analytics Alternative