Home » 2019 » May » 02

Daily Archives: May 2, 2019

شریف خاندان کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ تکنیکی وجوہات پر عدالتوں سے بچ نکلے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان کی حدیبیہ پیپر ملز کی منی لانڈرنگ پکڑی گئی، یہ لوگ عدالتوں کو برا کہتے ہیں حالانکہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ تکنیکی وجوہات پر عدالتوں سے بچ نکلے۔

تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ تقرب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، مولانا فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی  سب حکومت کے خلاف اکٹھے ہورہے ہیں، یہ سب جماعتیں جمع ہو کر کہتی ہیں کہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی کرپشن بے نقاب ہوگئی ہے، ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر اداروں نے منی لانڈرنگ  پکڑی ہے،شہباز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ عیاں ہوئی ہے ، جو منی چینجر حمزہ شہباز  کو  پیسے بھیج رہا تھا وہی آصف زرداری کو بھیج رہا تھا، ان کوحکومت گرانےکی جلدی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ عدالتوں نے تکنیکی وجوہات پر انہیں بچایا، 30 سال ملک میں حکومت کرنے والوں نے کوئی ایسا اسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج ہوتا، اگر انہوں نے ایساکوئی اسپتال بنایاہوتاتوآج نوازشریف کوعلاج کیلیےباہرنہ جاناپڑتا، شہبازشریف ، انکے بچے اور داماد ملک سے باہر ہیں جب کہ اسحاق ڈار بھی علاج کے بہانے باہر ہیں اور بچے بھی باہر ہیں، جیل میں اوربھی قیدی ہیں جن کاعلاج یہاں نہیں ہوسکتا کیا ان کو باہر جانے کا حق نہیں، نئےپاکستان میں سب کیلیےایک قانون لےکرآرہےہیں جو قومیں تباہ ہوجاتی ہےجب طاقتور کیلیے ایک اور کمزور کیلیےدوسراقانون ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ60 کی دہائی میں پاکستان کے حکمران بیرون ملک جاتے تھے توعزت دی جاتی تھی لیکن اس کے بعدعزت کم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں نے اپنے لیے سوچنا شروع کیا، جب حکمران کرپشن کرتا ہے تو ملک اور قوم تباہ ہوجاتی ہے، ماضی میں  کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ملائیشیا پاکستان سے آگے بڑھ جائے گا،ملائیشیا میں مہاتیر محمد آیا تو اس نے ملک کو ترقی دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک تھاجو اسلام کے نام پر بنا ہم نے دنیا کے لیے اسلامی فلاحی ریاست کی مثال بننا تھا مگر ہم اس مقصد پیچھے ہٹ گئے، اب ہم نے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست کیطرف لے کر جانا ہے،عمران خان نے کہا کہ میرے رول ماڈل صرف نبی ﷺ تھے، دو قسم کی سیاست ہوتی ہے ایک اپنی ذات اور دوسری اللہ کے لیے ہوتی ہے، جب سیاست اللہ کے لیے ہوتی ہے تو اس میں وقت لگتا ہے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح  ہندوستان کے سب سے کامیاب وکیل تھے جنہوں نے پاکستان بنانے کے لیے 40 سال جدودجہد کی اگر قائد اعظم نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا، یہی فرق ہوتا ہے ذات کے لیے سیاست کرنے والے اور اللہ کے لیے کرنے والے۔

عمران خان نے کہا کہ عوام مشکل میں ہیں اس کا احساس ہے، 19 ارب ڈالر کا خسارہ ملا ہے جب اتنا بڑا خسارہ ہوتو روپیہ دباؤ میں آجاتا ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت کے پہلے 8 مہنیوں میں مہنگائی 21 فیصد تھی جب کہ (ن) لیگ کے دور میں 8 فیصد اور تحریک انصاف کی حکومت میں 6 فیصد ہے۔ اگر ہم قرضے کو 30 ہزار ارب سے 20 ہزار ارب روپے تک لے آتے ہیں تو اب تک کی یہ سب سے بہتر حکومت ہوگی۔

سلامتی کونسل نے مسعود اظہرکا نام پابندی فہرست میں شامل کردیا، دفترخارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی داعش اور القاعدہ سے متعلق پابندی کمیٹی نے مسعود اظہر کا نام فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ 1267 کمیٹی نے مولانا مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، اب مسعود اظہر کے اثاثے منجمد، سفری پابندی اور اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی کا سامنا ہوگا، پاکستان ان پابندیوں پر فوری طور پر اطلاق کرے گا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کمیٹی کے تمام تکنیکی معاملات کا احترام کیا ہے اور آج تک کسی نے پابندیوں کا اطلاق نہ کرنے کی شکایت نہیں کی، پاکستان اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں پر عملدرآمد کرتا ہے اس حوالے سے پروپیگنڈہ بے بنیاد اور جھوٹا ہے، پاکستان یو این پابندی کمیٹی کوسیاسی مقاصد کے لیےاستعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

ڈاکٹرمحمد فیصل کاکہنا تھا کہ بھارت مسعود اظہر کو پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے کو اپنی فتح قرار دے رہا ہے، بھارت نے 5 دفعہ پہلے بھی کوشش کی، بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کو کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کی، پاکستان نے بھارت کی اس کوشش کی مخالفت کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد مقامی اور قانونی ہے اسی وجہ سے ان کو پابندیوں کی فہرست شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اب بھارت نے ّکشمیر سے متعلق الزام واپس لیا، اور مسعود اظہر کیخلاف پلوامہ اور کشمیر سے متعلق اپنا موقف تبدیل کیا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے، نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکےعوام حق خوداردیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، کشمیرمیں جدوجہد مقامی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجود ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت نے پلوامہ حملے اور دیگر واقعات کو بنیاد بنا کر حق خودارادیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، پاکستان نے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو دہشتگردی سے جوڑنے کی بھارتی کوشش کی مخالفت کی، بھارت نے اس معاملے پر کئی ایک کوششیں کیں، بھارتی میڈیا میں پروپیگنڈہ پر مبنی خبریں چلائی گئیں،  پاکستان نے بھارت کی اس کو کوشش کو ناکام بنایا، دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور کالعدم و دہشت گرد تنظیموں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔

وفاقی کابینہ کے اہم ترین فیصلےدوررس نتاءج کے حامل ہوں گے

وفاقی کابینہ نے بھی پی ٹی ایم کے حوالے سے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اس کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں اس میں اب کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے ، کلبھوشن یادیو اس کا ایک کھلا اور جانوداں ثبوت موجود ہے ، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہاں ذرا سا بھی پٹاخہ پھوٹ جائے تو وہ اس کا الزام پاکستان پر دھر دیتا ہے، اس سلسلے میں پاکستان کو اپنے سفارتی محاذ کو مزید مضبوط کرنا ہوگا ۔ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو بھی موخر کردیا گیا ، گو کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے تاہم آنے والے دنوں میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زراعت پر توجہ دی جائے گی، پانی کے چیلنج سے نمٹا جائے گا، پنجاب میں کے پی طرز پر بلدیاتی نظام لایا جائے گا، کے پی ویلج کونسل کی طرح پنجاب میں بھی22ہزار پنچائیت بنائی جائیں گی ۔ نیز تمام اربن ایریاز میں الگ سیلف گورننس ماڈل ہوگا ۔ انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ سات نئے بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پانچ لیگل ریفارم بل ہیں ، ایک لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی قائم کی جائے گی، دوسرا بل انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی راءٹس ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین کو وراثت میں ان کا حصہ ملنے کو یقینی بنایا جائے ۔ نیز خاتون محتسب اس پرعملدرآمد یقینی بنائیں گی، اس کو تحصیل کی سطح تک لے کر جائیں گے، تیسرا کورڈ آف سول پروسیجر ترمیمی بل ہے ، ضابطہ دیواتی میں ترمیم کرکے نظا م الاوقات بنا دیا جائے گا ، سول کیس کا فیصلہ، ڈیڑھ سال سے دو سال کرنا لازمی ہوگا، چوتھا بل لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ اجراء کا ہے ، اس وقت وراثت کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اب جانشینی یا وراثت کا سرٹیفکیٹ نادرا سے منسلک کردیا جائے گا، 15دن کے اندر یہ سرٹیفکیٹ مل جائے گا، پانچواں بل وسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن کا قیام ہے اس کا مقصد سرکاری اداروں میں کرپشن کی روک تھام ہے، کرپشن کی نشاندہی پر 20 فیصد رقم بطور انعام دی جائے گی ، دو انسانی حقوق کے بل متعارف کروائے جائیں گے ایک زینب الرٹ بل ہے جس کا مقصد بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچانا ہے، دوسراکارپورل پنشمنٹ بل یعنی سکولوں میں طلباء کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کرنا ہے، جسمانی سزا دینا جرم قرار دیا جائے گا، سابقہ فاٹا کے 10لاکھ گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کی جائے گا، ابھی تک 39ہزار خاندانوں میں یہ کارڈ تقسیم کیا جاچکا ہے، سرمایہ پاکستان لمیٹڈ کو ایس ای سی پی میں بطور ہولڈنگ کمپنی شامل کردیا جائے گا ۔ پی ٹی ڈی سی کا بھی نیا بورڈ بنا دیا گیا ہے ، رمضان میں لوڈشیڈنگ سے بچنے کیلئے حکمت عملی بنائی جائے گی، نیز حکومت 36بل لارہی ہے یہ بل منظور کرانے کیلئے اپوزیشن کو آن بورڈ لیا جائے گا اور قانون سازی یقینی بنائی جائے گی، وفاقی کابینہ کے کیے گئے فیصلے انتہائی دوررس نتاءج کے حامل ہیں ، حکومت جو 36بل لارہی ہے اور اپوزیشن کو بھی اس سلسلے میں آن بورڈ لے گی تو یقینی طورپر اچھے نتاءج برآمد ہوں گے، جہاں تک سکول کے بچوں کو جسمان سزا دینے پر اسے قانونی جرم قرار دلوانا ہے تو یہ بھی ایک اچھا قدم ہے، تاہم ہم حکومت اور قانون ساز اداروں کو یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ اگر حکومت سکولوں میں مار نہیں پیار کا فارمولا اپنانے جارہی ہے تو اس سلسلے میں والدین کو بھی پابند کیا جائے کہ اگر ان کا بچہ ایک سہ ماہی کے بعد دوسری سہ ماہی میں 40فیصد سے کم نمبر حاصل کرتا ہے تو سکول کو اختیار ہے کہ وہ اس بچے کو سکول میں نہ رکھے ۔ نیز حکومت ٹیوشن کے رجحان کی بیخ کنی کرے، تعلیم کا معیار برقرار رکھنے کیلئے لاءحہ عمل طے کیا جانا چاہیے اور اساتذہ کے ہر سہ ماہی ریفریشر کورس ہونے چاہئیں اگر جدید دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ہ میں اپنا نظام تعلیم بھی جدید نظام تعلیم سے منسلک کرنا ہوگا ۔

پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کا بل منظور

پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کا بل منظور ہونے سے ضلع اور یونین کونسل کا موجودہ نظام تحلیل ہو جائے گا، شہروں اور دیہات میں غیر جماعتی بنیادوں پر محلہ اور ویلیج کونسل کا انتخاب ہوگا اس سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو جائیں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے ، اِدھر دوسری جانب اپوزیشن نے بل کی منظوری کے دوران احتجاج کیا، شورشرابا مچایا، ایوان سے واک آءوٹ کیا اور ساتھ ہی بل کو چیلنج کرنے کی بھی دھمکی دیدی، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے تعمیر پر توجہ دے اور مخالفت برائے مخالفت سے احتراز کرے ۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود نئے بلدیاتی نظام کا بل منظور کرلیا گیا،اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں ،اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور باہر کھڑے ہوکر احتجاج کیا اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی قیادت میں بل کے خلاف ایوان میں کارروائی کا بائیکاٹ کیا،نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کو بھجوادیا گیا، گورنر کی منظوری اور گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی موجودہ بلدیاتی ادارے تحلیل ہوجائیں گے، بل کی منظوری کے بعد ضلع اور یونین کونسل کا موجودہ بلدیاتی نظام تحلیل ہو جائے گا اورشہروں اور دیہات میں محلہ کونسلز اور ویلج کونسلز کا قیام عمل میں لایا جائیگاجن کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہوگا، ویلج اور محلہ کونسلز میں زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین منتخب ہوگا ۔

کم عمری کی شادی معاملہ،قرآن و سنت کےمطابق فیصلہ کیا جائے

قومی اسمبلی میں 18 سال سے کم عمری کی شادی کیخلاف وفاقی وزراء میں شدید اختلافات دیکھنے میں سامنے آئے، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام نے بل کی مخالفت کی جبکہ پی پی نے حمایت کی، بل کے حق میں 72 اور مخالفت میں 50ارکان نے ووٹ دئیے ، رائے شماری کے دوران کئی وزراء ایوان سے چلے گئے، حکومتی رکن اقلیتی ممبر ڈاکٹر رمیش کمار نے بچوں کی شادی کا امتناع ایکٹ1929 میں مزید ترمیم کا بل بچوں کی شادی کا امتنازع ترامیمی بل 2019ء ایوان میں پیش کیا ۔ بل میں کہا گیا کہ شادی کی عمر 18سال قرار دی جائے ، کم عمری کی شادی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ، وزیر مملکت علی محمد خان نے اعتراض کیا کہ اس بل کو ایک اقلیتی رکن نے پیش کیا ہے ، قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کرسکتے اس کو پہلے اسلامی نظریاتی کونسل بھجوایا جائے ، عجلت سے کام نہ لیا جائے ۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے بھی بل کی مخالفت کی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجا جائے ان سے اس پر رائے لی جائے ، نیز ملک بھر کے جید علماء کرام کی بھی اس سلسلے میں بیٹھک کرائی جائے ، قرآن و سنت اور احادیث سے رہنمائی لی جائے پھر جو اسلام کے احکامات ہیں اس کے تحت اس حوالے سے قانون سازی کی جائے ۔ وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نے بھی کہاکہ اسلام کیخلاف ایوان میں قانون سازی نہیں کی جاسکتی، یو اے ای، بنگلہ دیش اور ترکی میں شادی کی حد 18سال ہے کیا وہاں اسلام نہیں ، مصر میں 18سال سے قبل شادی پر پابندی ہے، جامع الاظہر کا ا س حوالے سے باقاعدہ فتویٰ موجود ہے ۔

پاکستان کی سفارتی کامیابی؛ بھارت جدوجہد آزادی کشمیر کو مسعود اظہر سے جوڑنے میں ناکام

اسلام آباد: پاکستان نے کشمیری جدوجہد اور مقبوضہ کشمیر میں جاری جدو جہد آزادی کو مولانا مسعود اظہر سے جوڑنے کی بھارتی سازش ناکام بنا دی۔

بھارت اور امریکا کی جانب سے مولانا مسعود اظہر کی اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں نام کے اندراج کے لئے بطور سربراہ جیش محمد درخواست دی تھی، بھارت اور امریکا کا مؤقف مسعود اظہر کو مقبوضہ کشمیر، پلوامہ حملے سے جوڑنے کا تھا، تاہم پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھارت کی سازش ناکام بنا دی ہے۔

بھارت کی درخواست پر فرانس، امریکا اور برطانیہ نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیش کی تھی تاہم 13 مارچ کو بھارت کی ایما پر دی گئی درخواست پر چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کے خلاف قرارداد کو ٹیکنکل اعتراضات لگا کر روک دیا تھا، چین کی مخالفت پر امریکا مسعود اظہر کا معاملہ واپس یو این کمیٹی میں لے آیا اور پابندیوں کی یو این کمیٹی کے ایجنڈے میں مسعود اظہر کو آج دہشت گرد قرار دیا جانا شامل تھا۔

پاکستان کا اعتراض تھا کہ مسعود اظہر کا پلوامہ وکشمیری جدوجہد سے تعلق جوڑنا غلط ہے، بھارت نے تاحال مسعود اظہر کے پلوامہ حملے میں ملوث ہونے سے متعلق ثبوت نہیں دیئے، جس پر یواین کمیٹی میں پلوامہ حملے اور کشمیری حق خود ارادیت سے مسعود اظہر کا تعلق الگ کرنے کا پاکستانی مؤقف مان لیا گیا ہے۔

پاک فوج نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنادیا3 جوان شہید

شمالی وزیرستان: شمالی وزیرستان میں الواڑہ کے مقام پر پاک فوج نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنادیا جب کہ کارروائی کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید اور 7 زخمی ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج سرحد پر آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے باڑ لگانے میں مصروف تھی کہ افغانستان سے آئے دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں الواڑہ کے مقام پر باڑ نصب کرنے والے جوانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنادیا تاہم کارروائی کے نتیجے میں 3 جوان شہید اور 7 زخمی ہوگئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق 60 سے 70 افغان دہشت گردوں نے الواڑہ میں حملہ کیا،پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد ہلاک و زخمی ہوگئے، پاکستان کی سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جاری رہے گا، افغان فورسز کو اپنی طرف دہشت گردوں کے خلاف موثر کنٹرول کی ضرورت ہے۔

پاک چین دوستی میں ون مین آرمی ’مشاہد حسین سید ‘

یوں تو پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات اپنی مثال آپ ہیں ہی مگر اس ضمن میں بعض شخصیات تو کچھ ایسا کردار نبھا رہی ہیں جس کی مشابہت بھی کسی دوسری طرف تلاش کر پانا خاصا کٹھن ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ مشاہد حسین سید اور پاک چین دوستی ہم معنی ہو گئے ہیں ۔ پاک چین تعلقات سے معمولی سی بھی آگاہی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے میں مشاہد حسین سید ’’ون مین آرمی‘‘ کا کردار کچھ اس ڈھنگ سے نبھا رہے ہیں جس کا معترف ہر ذی شعور ہے ۔ بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی روزنامے سچ کہوں نے کچھ روز قبل ایک مضمون شاءع کیا جس میں تحریر کیا کہ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو پرکھتے ہوئے بھارت کو مشاہد حسین سید جیسی شخصیات پر کڑی نگاہ رکھنی ہو گی ۔ یاد رہے کہ اقوامِ عالم کے باہمی تعلقات کی جدید تاریخ میں پاک چین دوستی ایک ضرب المثل کی شکل اختیار کر چکی ہے، مختلف تہذیبوں ، مذاہب اور نظامِ حکومت کے تضادات کے باوجود دو ملکوں میں دوستی کی ایسی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے ۔ ماہرین کے مطابق حکومتی سطح پر تو یہ تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں ہی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام کے باہمی رابطوں کو فروغ دینے کا موثر لاءحہ عمل مرتب کیا جائے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ چین نے گزشتہ چند عشروں میں عالمی سطح پر اقتصادی،دفاعی اور سفارتی شعبوں میں جو مقام حاصل کیا ہے اسے انٹر نیشنل ریلیشنز کی حالیہ تاریخ میں ایک معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے چینی بھائیوں کے تجربات سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کریں اور اس دوستی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وطنِ عزیز کو بھی انھی بلندیوں کی طرف لے جانے کی ٹھوس حکمتِ عملی مرتب کی جائے ۔ بہر حال اس زمینی حقیقت سے تو کسی بھی اعتدال پسند اور غیر جانبدار تجزیہ کار کو انکار نہیں ہو سکتا کہ وطنِ عزیز پاکستان کے عوام اور سبھی حکومتوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اپنے ہمسایوں سمیت دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ برابری،عدم مداخلت اور باہمی تعاون کی بنیاد پر اچھے تعلقات قائم کیے جائیں اور پاکستان کو اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔ اگرچہ قوموں کی برادری میں زیادہ تر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں مگر ’’آئرن بردرز‘‘ پاک چین تعلقات گذشتہ کئی عشروں سے دنیا بھر میں مثالی نوعیت اختیار کر چکے ہیں ہیں کیونکہ اس دوستی کو نہ تو بدلتے ہوئے موسم متاثر کر سکے اور نہ ہی داخلی،علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اس مثالی دوستی پر اثر انداز ہو سکیں گویا یہ تعلقات’’نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ‘‘والا معاملہ ہے ۔ تبھی تو چین کے سابق صدر ’’ہوجن تاؤ‘‘ نے چند برس قبل اپنے دورہ اسلام آباد کے دوران کہا تھا کہ ’’پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ مٹھاس پر مبنی ہے‘‘ ۔ 21 تا 22 مئی 2013 اپنے دورہ پاکستان کے دوران اس مثالی دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے چینی وزیرِ اعظم نے چند الفاظ کا مزید اضافہ کیا جب انھوں نے اسے ’’سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ قرار دیا‘‘ ۔ علاوہ ازیں وزیرِ اعظم عمران خان کے دورے سے اس باہمی دوستی کو نئی جہتیں مل رہی ہےں جس کا اظہار کرتے وزیراعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کےلئے یہ دوستی ایک نعمت سے کم نہیں ہے ۔ مثبت نتاءج آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے عوام پر خوش گوار اثرات مرتب کریں ۔ دوسری طرف یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ چین کی حکومت اور عوام کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے محض 25 تیس برس کے دوران 75 سے 80 کروڑ لوگوں کو خط افلاس سے اوپر لانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور انھیں متوسط طبقے کا حصہ بنایا ۔ یہ سب کچھ کسی اقتصادی معجزے سے کم نہیں ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ زندگی کے سبھی شعبوں میں ان مثالی دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے کام کیا جائے ‘ یہ امر خاصا حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خاصی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ خصوصاً زراعت اور سیاحت کے شعبے میں پاکستان چین کے تجربات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھائے کیونکہ دنیا میں متعدد ممالک ایسے ہیں جو صرف سیاحت سے زرمبادلہ کماتے ہیں ۔ سنگاپور، مالٹا، مکاءو، تھائی لینڈ ، میکسیکو، مراکش، تنزانیہ جیسے نسبتاً چھوٹے ممالک جو قریباً ایک عشرہ پہلے تک دوسروں کے دست نگر تھے، آج اپنے ٹورازم کی بدولت نمایاں فی کس آمدنی والے ممالک کی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر گزشتہ 15 سے 20 برس کے دوران مندرجہ بالا ممالک مثلاً تھائی لینڈ، لاءوس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ، سنگاپور ،ملائشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ بہرحال امید کی جانی چاہیے کہ تمام حکومتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوساءٹی بھی اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔

حکومت کا عوام کو بجٹ اور ٹیکس میں ریلیف دینے کا اعلان!

ہرزمانے کے حکمران اپنی رعایا کو اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں ، جو رعایا کو صحیح طرح جینے بھی نہیں دیتے اور مرنے بھی نہیں دیتے ہیں ،جن کی کوشش ہوتی ہے کہ عوامی مسائل اور پریشانیوں کے حل کے دعوے اور وعدے تو بہت کئے جا ئیں ۔ مگر کام ایک فیصد کیا جائے ۔ اِسی لئے حکمران رعایاکو مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا، بھوک، عدم تحفظ، دہشت گردی، لوٹ مار ، غیر یقینی پن اور نا اِنصافی کا شکار کئے رکھتے ہیں ۔ حکمران نہ کل عوام سے مخلص تھے نہ آج ہیں ۔ اور نہ ہی آئندہ ہوں گے ۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر عوام کے سارے مسئلے مسائل اور ساری پریشانیاں حل ہوگئیں ;234; تو پھر یہ اپناسیاسی چورن کیسے بیچیں گے;238; اِن کی کون چوتیاں سیدھی کرے گا;238; سیاستدان کس کے پیچھے مہنگائی کا بم باندھیں گے;238; کون اِن کے لئے زندہ باد اور مخالف کے لئے مردہ باد کے نعرے لگائے گا;238; سوچیں ، جب حکمران سارے عوامی مسائل حل کردیں گے;234; تو پھر کیا اِن کے ہاتھ ’’ گھنٹہ‘‘ اور ’ کدو‘‘ آئے گا ;238;آج اِسی لئے تو حکمران عوام کی پریشانیاں اور مسائل حل نہیں کرتے ہیں ۔ سو فیصد یقین ہے کہ حکمران چاہتے ہیں کہ عوام مسائل اور پریشانیوں میں ہی جکڑے رہیں ۔ تاکہ ان کی حکمرانی اور سیاست کی دال دلیہ چلتی رہے ۔ ہمارے دیس پاکستان میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا یہ طریقہ ہے کہ اپنا پیٹ پہلے بھرو بھلے سے عوام بھوک و افلاس سے مرتے ہیں ;234;تو مرتے رہیں ۔ مگر اپنی توندیں بڑی رکھ کر حکمرانی کئے جاوَ ۔ مُلک میں مہنگائی اور تنخواہ دار طبقے پر نئے ٹیکسوں کا طوفان لئے اگلا بجٹ 2019-2020آنے کو ہے،مگراِس سے قبل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مئی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پیٹرول 14;46;37روپے ، ڈیزل 4;46;89روپے ،مٹی کا تیل 7;46;46روپے اور لاءٹ ڈیزل 6;46;40روپے بڑھانے اور مہنگی کرنے کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی ۔ تاہم پیٹرولیم ڈویژن نے انتہائی غور و خوض کے بعدحکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ۔ اَب عوامی کم مگر حکومتی مفادات کا خاص خیال رکھتے ہوئے، پیٹرولیم ڈویژن نے کچھ دِنوں تک پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا پروگرام موخر کردیا ہے ،ورنہ بجٹ سے پہلے مہنگائی کا ایک نہ تھمنے والا تباہ کن طوفان مُلک میں برپا ہو گیا ہوتا جبکہ اُدھرحکومت کے نہ ، نہ کرنے کے باوجود بھی پاکستان ، آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام پر مذاکرات شروع ہیں ،تو وہیں لگے ہاتھوں حکومت کوآئی ایم ایف نے چار ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا مشورہ بھی دے دیاہے ۔ جس پر حکومت نے تُرنت من وعن عمل کرنے اور اِسے عملی جامہ پہنانے کا آئی ایم ایف سے وعدہ کرلیاہے ۔ کیا پہلے ہی پاکستانی قوم پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا عذاب کچھ کم ہے ;238;جسے پھرمزید مہنگائی اور ٹیکسوں کے پہاڑکے بوجھ تلے دفن کرنے کے لئے آئی ایم ایف، حکومتِ پاکستان کو اضافی ٹیکسوں کا مشورہ دے رہاہے ۔ یقینا دس مئی سے حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین چھ ارب قرض کے لئے شروع ہونے والے مذاکرات پریشان حال پاکستانی عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوں گے ۔ ایسا لگتاہے کہ جیسے پاکستان اور آئی ایم ایف میں چولی دامن کا ساتھ ہوگیاہے، اگرپاکستان، آئی ایم ایف کو یا کبھی آئی ایم ایف ،اِسے چھوڑنابھی چاہئے تو یہ دونوں کے لئے مشکل ترین عمل ہوگا،کیوں کہ آئی ایم ایف ، پاکستان کی مجبوری اور آئی ایم ایف کے کاروبار کے لئے پاکستان بڑی منڈی اور مارکیٹ کی حیثیت اختیارکرگیاہے ۔ اگرچہ، حکومت کے دعوے اور وعدے تو بہت ہیں کہ اگلے بجٹ میں عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دِلانے کے اقداما ت ترجیحات میں شامل ہیں ،اِس کے ساتھ ہی ایک حکومتی توقع اوردعوی یہ بھی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزادتجارتی معاہدوں سے اگلے پانچ سال میں چین کے لئے پاکستانی برآمدات ساڑھے چھ ارب ڈالرتک بڑھ جائیں گی ۔ جس سے قوی اُمید ہے کہ پاکستان میں مالیاتی خسارہ اور زرمبادلہ کے ذخائر پربڑی حد تک دباوَ کم اور ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور مُلکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہوگی ۔ چلیں ،مان لیتے ہیں کہ پاکستان اور چین سے کاروباری مراسم بڑی حد تک استحکام بخش ہورہے ہیں اور اِس سے آنے والے دِنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں میں چین کے لئے پاکستانی برآمدات سے اربوں ڈالرآئیں گے جو کہ بیشک ، ہماری موجودہ بوسیدہ معیشت کو سہارا دینے کےلئے خوش آئند ہے ۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ حکومت دعویٰ کررہی ہے تو پھر پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین چھ ارب ڈالر کے تین سال کے قرضہ پیکچ کے لئے دس مئی سے مذاکرات کا آغاز کس سلسلے کی کڑی ہے;238;کیا حکومت قوم کو دیدہ دانستہ آئی ایم ایف کا غلام بنا ئے رکھنا چاہتی ہے ;238;حکومت آئی ایم ایف سے جان کیوں نہیں چھڑالیتی ہے ;238;کیوں آئی ایم ایف ٹیم نے من پسند ہمارے نئے وزارتِ خزانہ،ایف بی آر حکام سے ملاقات میں ، ٹیکس ہدف میں 6کھرب روپے اضافے کا عندیہ دیاہے;238;گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا حکومت کو کس لئے کہا ہے ;238;جس پر وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر حکام نے اگلے مالی سال کے دوران ٹیکس ہدف حاصل کرنے اور بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کی عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کو یقین دہانی بھی کرادی ہے ۔ آج حکومت کشکول اُٹھا کر قرضوں کی بھیک مانگنا بھی چاہتی ہے;234; اور اپنی خودداری پر آنچ بھی نہیں آنے دینا چاہتی ہے ،سوچیں کہ بے شرمی اور غیرت کی دوکشتیوں پر سوار حکومت عوام کو کیسے آنے والے بجٹ میں نئے ٹیکسوں سے نجات دِلاسکتی ہے ;238;جب کہ یہ عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سے چھ ارب ڈالرکے تین سال کے قرضہ پیکچ کے لئے 6کھرب روپے اضافی ٹیکس کے ہدف حاصل کرنے کا وعدہ بھی کرچکی ہے ۔ ہاں البتہ، حکومت ایسا کرسکتی ہے کہ مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کا طوفان لئے جو اگلابجٹ آئے گا ;234; اِس کے بعد جب غریب عوام بھوک و افلاس کے ہاتھ آغوش قبر میں جا سوئیں گے تو حکومت اگلے بجٹ میں ٹیکس کی مدد میں بیری کے پتے، چٹائی ، چکنی مٹی اور مردے کے کان اور ناک میں لگائی جانے والی روئی کو ٹیکس سے استثنیٰ قرارٰ دے دے تو یہ بھی حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا ورنہ ;238; آئی ایم ایف نے اِن پر بھی ٹیکس لگانے کا حکومت کو مشورہ دیاتو پھر یہ اشیابھی ٹیکس کے زمرے میں آجائیں گیں ۔ آج شاید میرے مُلک میں یہی اشیا ہیں ۔ جن پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے ۔ مگرکب تک

بورڈ حکام ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کے خواہش مند

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے ورلڈکپ کے بعد بھی انضمام الحق کے معاہدے میں توسیع کی خواہش ظاہر کردی۔

پی سی بی کے چیئرمین  احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کے ساتھ چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی  ورلڈکپ میچز دیکھنے انگلینڈ جائیں گے۔ عید الفطر کے فوری بعد پاکستان کو آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف اہم میچز کھیلنا ہیں، اس موقع پر بورڈ حکام کے ساتھ چیف سلیکٹر بھی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔

ورلڈکپ میں پاکستان اورآسٹریلیا کا مقابلہ 12 جون کو طے ہے جب کہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کا  آمنا سامنا 16 جون کو ہوگا۔ ذرائع کےمطابق  ابتدائی  پلان کے مطابق چیف سلیکٹر انضمام الحق دوہفتے انگلینڈ  میں قیام کریں گے اورورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

چیف سلیکٹر سمیت قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے تمام کوچنگ اسٹاف کا کنٹریکٹ ورلڈکپ تک ہے، کرکٹ کے اس عالمی میلے کے لیے منتخب کی جانے والی ٹیم انضمام الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کی  آخری اسائمنٹ ہے۔ ورلڈکپ کے بعد انضمام الحق  اور ان کے ساتھیوں کا مستقبل کیاہوگا، اس کا فیصلہ قومی ٹیم کی کارکردگی  پر منحصر ہے تاہم بورڈ حکام  کی خواہش ہےکہ انضمام الحق ورلڈکپ کے بعد بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔

ایک اعلی حکام نے اس سلسلے میں معاہدے میں توسیع کے لیے سابق کپتان سے بات بھی کی ہے تاہم انضمام الحق نے فوری کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، ان کا موقف ہے کہ وہ ورلڈکپ میں قومی کرکٹرز کی پرفارمنس اور حالات وواقعات کو سامنے رکھ کر جواب دیں گے۔

Google Analytics Alternative