Home » 2019 » May » 03

Daily Archives: May 3, 2019

پی ٹی ایم کے کچھ لوگ بیرونی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ کے کچھ لوگ بیرونی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پشاور میں خیبرپختونخوا کی مختلف جامعات کے طلبہ سے ملاقات اور بات چیت کی۔

اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں لیکن پی ٹی ایم کے کچھ لوگ بیرونی عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، بھٹکے ہوئے لوگ عوام کے جذبات مجروح کررہے ہیں لیکن یہ منفی قوتیں اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قوم اورمسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم کردار ادا کیا، قوم اور پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں، قبائلی عوام دہشت گردی سے متاثر ہوئے تاہم فورسز قبائلیوں کے مسائل پر بلاتفریق کام کررہی ہیں۔

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ پاکستانیوں کا مستقبل باصلاحیت نوجوانوں سےوابستہ ہے اور  پائیدارامن کی جانب پیش رفت کے لیے سماجی ترقی پہلا قدم ہے،اب  وقت آگیا ہے سماجی اورمعاشی ترقی پرتوجہ دی جائے جب کہ  تعلیم اہم شعبہ جس پرتوجہ کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا این آراونہ دینے کاعزم

وزیراعظم عمران خان اپنے موقف پرقائم ہیں اور پاکستان سے لوٹاگیا پیسہ واپس لانے کے لئے پُرعزم ہیں ،عام انتخابات میں تحریک انصاف کوعوام نے اسی منشورپرکامیابی دلائی تھی کہ وہ قوم کالوٹاہوا پیسہ واپس دلوائیں گے ،اگرچہ انہیں فی الحال مشکلات کاسامنا ہے اورخاطرخواہ کامیابی نہیں مل رہی لیکن ان کاعزم پختہ دکھائی دیتاہے،گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے 23ویں تاسیس کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جمہوریت بچانے کا شور مچا کر اپنی چوری بچانا چاہتے ہیں ، اسمبلی میں شور مچانے کا مقصد این آر او کا حصول ہے، میں کسی صورت این آر او نہیں دے سکتا،تحریک انصاف مسلسل جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچی ،ہ میں کسی جنرل جیلانی یا مبینہ خط نے اقتدار میں نہیں پہنچایا،پی ٹی آئی ہی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالے گی، سیاست میں آنے سے پہلے ہی اللہ نے مجھے اتنی ترقی دید ی تھی کہ آسانی سے زندگی گزار سکوں ، میں سیاست میں اس لیے آیا کیونکہ مجھ میں تبدیلی آئی،جہاں ایمان دار وزیراعظم آیا اس نے ملک کے لیے کام کیا، میں یہ چاہتا ہوں کے ہمارے نوجوان نبی ;248; کی زندگی کو سمجھیں ، درست ہے کہ لوگ مشکل میں ہیں ، ہ میں 19 ارب ڈالرز کا خسارہ ملا جبکہ ن لیگ کو ڈھائی ارب ڈالرز کا خسارہ ملا تھا، پیپلز پارٹی کے پہلے آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح21;46;7 فیصد تھی اور ن لیگ کی آٹھ فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے چھ ماہ میں مہنگائی 6;46;8 فیصد رہی ، جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب تھا، اپوزیشن نے پہلے دن سے شور مچا دیا کہ حکومت کے پاس تجربہ نہیں ہے ،ہم تیل کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو قرضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ تحریک انصاف کی جدوجہد کوسمجھنے کی ضرورت ہے، جب آپ کسی مشن پر ہوتے ہیں تو وقت کوئی معنی نہیں رکھتا، جدوجہد آپ کو مضبوط بناتی ہے اور مسلسل چلتی ہے ۔ پی ٹی آئی کا نظریہ پاکستان تھا، ہ میں اپنی ریاست کو انہیں اصولوں پر لانا ہے،، گزشتہ این آر او سے ملک کو بہت نقصان ہوا، کسی صورت این آر او نہیں ہوگا ۔ آہستہ آہستہ سب کی کرپشن ہمارے سامنے آرہی ہے ۔ اپوزیشن کو سمجھ آ گئی کہ ہر روز ان کی کرپشن کی چیزیں مل رہی ہیں ، ان سب کو پتا ہے کہ ان سب نے پکڑے جانا ہے ۔ بڑی قو میں اس لیے تباہ ہوئیں کیونکہ وہاں طاقتور اور غریب کے لئے الگ قانون تھا ۔ قائدین ملک وقوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ ملک کو اس وقت بہت سے مسائل کاسامنا ہے حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ موجودہ بحران حل ہوں اورعوامی مسائل ختم ہوں کیونکہ غریب بہت مشکل صورتحال میں ہے ،عام آدمی کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں لیکن حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ان مسائل پرقابو پایاجائے اوروہ اس کےلئے سرجوڑکوششیں کررہی ہے ۔ حکومت نے عوامی منصوبے بھی شروع کررکھے ہیں جن کے پورے ہونے کے بعدعوام کیلئے آسانی حاصل ہوگی ۔

افغان سرزمین کاپاکستان کےخلاف استعمال ہونا افسوسناک ہے

پاک فوج کی وزیرستان میں سرحد پار باڑ لگانے والی ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 3جوان شہید جبکہ 7زخمی ہو گئے ،پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہو گئے، پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کر دیا،شہید ہونے والوں میں لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر اور سپاہی امداد اللہ شامل ہیں ، پاکستان دہشت گرد حملہ کی بھرپور مذمت کرتا ہے، افغانستان اپنی طرف موجود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے ۔ دہشت گرد افغانستان کی طرف سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے فرار میں کامیاب ہوئے ۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ افغانستان ایسے انتظامات کرے کہ آئندہ ایسے حملے نہ ہوں ۔ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل جاری ہے جس کا پہلا مرحلہ گزشتہ برس دسمبر میں مکمل کر لیا گیا ہے ۔ پاک فوج نے پہلے مرحلے میں 900 کلومیٹر طویل سرحد پر کامیابی کے ساتھ باڑ لگا دی تھی، تاہم بقیہ منصوبہ رواں برس ہی مکمل کر لیا جائے گا ۔ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے وقفے وقفے سے متعدد مرتبہ پاک فوج پر حملے کیے ہیں جن میں کئی جوان شہید بھی ہوچکے ہیں ۔ پاکستان سرحد پر باڑ لگا رہا ہے جبکہ افغانستان سے حملے ہو رہے ہیں ، افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کا استعمال روکیں ، پاکستان تمام تر رکاوٹوں کے باوجود باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا ۔

مسعود اظہرپریواین کی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی ہے ۔ چین کی جانب سے تکنیکی اعتراض ختم کئے جانے کے بعد سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی نے کالعدم جیش محمد کے قائد مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ۔ سلامتی کونسل نے مسعود اظہر کے اثاثے منجمد کردیے اور ان کے سفر اور ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے ۔ کونسل کی کمیٹی نے مسعود اظہر پر پابندی کو پلوامہ حملے اور کشمیری حق خودارادیت سے منسلک کرنے کی کچھ ممالک کی تجویز مسترد کردی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی کی قرار داد 27 فروری کوفرانس ، برطانیہ اور امریکا نے پیش کی تھی ،لیکن چین نے اس قرارداد پر تکنیکی اعتراض اٹھایا تھا ۔ اب تکنیکی اعتراض ختم کئے جانے کے بعد سلامتی کونسل نے مسعود اطہر پر پابندی عائد کردی ہے ،نیز ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی داعش اور القاعدہ سے متعلق پابندی کمیٹی نے مسعود اظہر کا نام فہرست میں شامل کرلیا ہے ۔ پاکستان ان پابندیوں پر فوری طور پر اطلاق کرے گا ۔ پاکستان نے ہمیشہ کمیٹی کے تمام تکنیکی معاملات کا احترام کیا ہے اور ;200;ج تک کسی نے پابندیوں کا اطلاق نہ کرنے کی شکایت نہیں کی، پاکستان اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں پر عملدر;200;مد کرتا ہے اس حوالے سے پروپیگنڈہ بے بنیاد اور جھوٹا ہے،بھارت مسعود اظہر کو پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے کو اپنی فتح قرار دے رہا ہے، بھارت نے 5 دفعہ پہلے بھی کوشش کی، بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کو کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کی، پاکستان نے بھارت کی اس کوشش کی مخالفت کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد مقامی اور قانونی ہے اسی وجہ سے ان کو پابندیوں کی فہرست شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ اب بھارت نے کشمیر سے متعلق الزام واپس لیا اور مسعود اظہر کیخلاف پلوامہ اور کشمیر سے متعلق اپنا موقف تبدیل کیا ۔ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور کالعدم و دہشت گرد تنظیموں کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ۔ پاکستان اور اس کے بڑے اتحادی چین کو سفارتی محاذ پر بڑی مشترکہ کامیابی ملی ہے ۔ مولانا مسعود اظہر کا تعلق پاکستان کے ریاستی اداروں ، پلوامہ حملے اور تحریک آزادی کشمیر سے جوڑنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو گئی ہے ۔ عالمی طاقتوں نے بھی پاکستانی موقف کی تائید کر دی ہے ۔ پاکستان پہلے ہی ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے، اسے کسی کے لیکچر کی ضرورت نہیں ، پاکستان سی پیک اور چینی باشندوں کے خلاف ;34;را ;34;کے سپانسرڈ دہشت گرد حملوں سے بھی آگاہ ہے، دشمن کو ہر سازش پر منہ کی کھانا پڑے گی ۔

شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر پی اے سی کے چیئرمین نامزد

مسلم لیگ (ن) نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر کو پی اے سی کا چیئرمین نامزد کردیا۔

مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جگہ سابق وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کردیا اور اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی  اسد قیصر کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ان دنوں علاج کی غرض سے لندن میں ہیں جس کی وجہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس نہیں ہورہے ہیں، اسی وجہ سے پارٹی کی جانب سے رانا تنویر احمد کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے رانا تنویر قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کے پارلیمانی لیڈر تھے لیکن اب ان کی جگہ سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا گیا ہے۔

مدارس کے بچے بھی ڈاکٹر، انجینئر بنیں گے

ہمارے ہاں کئی قسم کے نظام تعلیم راءج ہیں ۔ ایک طرف ماڈرن تعلیم کیلئے اونچے طبقے کے علیحدہ اور مہنگے تعلیمی ادارے ہیں تو دوسری طرف سرکاری سطح پر تعلیمی ادارے ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے نجی تعلیمی ادارے ہیں جو تعلیم کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں ۔ ان تعلیمی اداروں کے علاوہ ملک میں ایک بڑی تعداد دینی مدارس کی ہے جہاں قدیم نصاب تعلیم ہے اور ان اداروں میں لاکھوں غریب طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ ایک اسلامی ریاست میں بلا شبہ دین کی تعلیم ہر سطح پر دینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ معاشرہ بے شمار برائیوں میں پھنسا ہوا ہے ۔ نئی نسل کو دین سے بہرہ مند کرنے کےلئے مدارس اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل جب وطن عزیز میں دہشت گردی عروج پر تھی تو کچھ مدارس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں ۔ ان میں خصوصاً وہ مدارس شامل تھے جو دہشت گردوں کے علاقوں میں تھے جیسے پاک افغان سرحد کے قریب ، سوات ، دیر اور فاٹا کے علاقہ میں اور تحریک طالبان پاکستان اور اس جیسی دوسری دہشت گرد تنظیموں کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا کہ ہم نے اپنے معاشرے کو انتہاپسندی سے پاک کرنا ہے ۔ کالعدم تنظیموں کے ہسپتال، مدرسے اور فلاحی کاموں کو حکومت نے اپنے زیر اثر لینے کا فیصلہ کیا ۔ پاکستان کا تعلیمی نظام یہ ہے کہ ہمارا نمبر دنیا میں 129 پر ہے اور ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں ۔ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدرسے ہیں جس میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ جس میں 70 فیصد ایسے مدرسے ہیں جہاں ایک ہزار ماہانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ 25 فیصد ایسے ہیں جس میں تھوڑا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور 5 فیصد مدرسوں کا انفرا اسٹرکچر زیادہ اچھا ہے جہاں 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں ۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مدرسوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور حکومت نے ان تمام مدارس کو وزارت تعلیم میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تمام علما کرام اس بات سے متفق ہیں کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے اور ایسا نصاب بنایا جائے گا جس میں منافرت کی کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ مدارس میں پڑھنے والے تمام 2;46;5 ملین بچے دہشت گرد نہیں ہیں ۔ حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لیے 2;46;7 ارب روپے جاری بھی کر دیے ہیں ۔ آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے ۔ ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے ۔ حکومت نے تمام مدرسوں کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ تمام علمائے کرام مدرسوں کو مین اسٹریم میں لانے پر متفق ہیں ۔ 1947 میں ملک بھر میں مدرسوں کی تعداد 247 تھی جو 80 کی دہائی میں ڈھائی ہزار سے زائد ہوئے اور جب سے اب تک یہ مدرسے 30 ہزار سے اوپر ہوگئے ہیں ۔ ان میں 2;46;5 ملین بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ یہ مدرسے پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے جو عسکریت پسندی کی طرف راغب ہیں ان کی تعداد 10 فیصد ہے ۔ باقی 90 فیصد مدرسے ویلفیئر کے کام کررہے ہیں جس پر حکومت اور اداروں کی نظر ہے کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے ۔ بقول ڈی جی آئی ایس پی آر جامعہ رشیدیہ کے ایک طالب علم نے فوج میں کمیشن حاصل کرلیاہے ۔ وہ میرٹ پر پورا اترتا ہے لیکن یہ بہت کم ہیں ۔ سوچنے کی بات ہے جب 30 ہزار مدرسوں سے یہ بچے باہر آتے ہیں تو ان کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہوتے ہیں ۔ جب یہ دین کی تعلیم لے رہے ہیں تو دین کی ہی تعلیم کی ملازمت لے سکتے ہیں ۔ کیا ان بچوں کا حق نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئرز بنیں یا فوج میں آئیں ۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ان کے سلیبس میں درس نظامی کے ساتھ دوسرے ہم عصر مضمون ہوں ۔ اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ ان مدرسوں کو مین اسٹریم کیا جائے گا ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان بچوں کے پاس کیرئیر کے اتنے مواقع ہوں جتنے دوسرے نجی اور سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچوں کے پاس ہوتے ہیں ۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھاکہ آرمی چیف کہتے ہیں اپنا فقہ چھوڑو نہیں دوسرے کو چھیڑو نہیں ۔ نئے سلیبس میں دوسرے فقوں کے احترام کے لیے سبجیکٹ شامل کریں گے ۔ ایسا سلیبس بنائیں گے جس میں دین کی تعلیم جیسے ہے ویسی ہی چلے گی ۔ بس نفرت انگیز مواد نہیں ہوگا ۔ اس پر بل تیار ہورہا ہے ۔ ان دینی مدارس کا نصاب تعلیم متوازن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کے فارغ التحصیل افراد بھی معاشرے میں اہم اور مؤثر کردار ادا کرسکیں ۔ ان دینی مدارس میں اسلام کے علاوہ جدید علوم و فنون‘ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس کا اہتمام ہونا چاہئے تاکہ ان اداروں سے تعلیم پاکر نکلنے والے افراد ملک کے مفید اور اچھے شہری بن سکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے اداروں میں عام تعلیم کا یکساں نظام اور نصاب راءج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر ملک میں صحت مند معاشرہ کا قیام ممکن نہیں ۔ ملک میں انگریزی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ عام پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کا نظام تعلیم ہی نہ صرف یکساں ہونا چاہئے‘ بلکہ ان سب کا نصاب تعلیم بھی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہئے تاکہ ایک جمہوری اور اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے ضروری سہولتیں پیدا کی جاسکیں ۔ ہمارے ہاں عدم برداشت‘ انتہا پسندی‘ دہشت گردی اور معاشرتی عدم مساوات اور عدم تفاوت دور کرنے کیلئے یکساں نظام تعلیم نہایت مفید اور معاون ثابت ہوگا ۔ جب ہماری ;200;ئندہ نسلیں یکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کریں گی تو پھر معتدل اور متوازن معاشرہ کا قیام ممکن ہوگا ۔ جب ان مدارس میں جدیدعلوم و فنون اور عام نصاب تعلیم بھی راءج ہوگا تو یہ ادارے بھی ملک و قوم کے مستقبل کی ضروریات کیلئے اچھے اور اور مفید شہری تیار کرسکیں گے ۔

قبائلی نوجوانوں کو اکسانے کیلئے بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے، وزیراعظم

مہمند: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قبائلی نوجوانوں کو اکسانے کے لیے بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے۔

ضلع مہمند میں ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جو کام انہوں نےکیا وہ کام عدلیہ کا نہیں حکومت کا تھا تاہم سابق چیف جسٹس نے مجبوری میں ڈیمز بنانے کی ذمہ داری اٹھائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج نے وادی تیراہ میں امن کی بڑی جنگ لڑی، پاک فوج کو تیراہ سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے پر سلام پیش کرتاہوں، اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے، ملک میں جتنازیادہ امن ہوگا اتنی سرمایہ کاری آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں عوام کے بارے میں سوچنے میں ناکام رہیں تاہم ہم نے پاکستان کو چین کی طرح ترقی یافتہ بنانا ہے، چین نے غریب لوگوں کو اوپر اٹھا کر ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، افغانستان سے تجارت کھولنے کا مطالبہ پورا کروں گا جب کہ قبائلی نوجوانوں کو اکسانے کے لیے بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے لہذا قبائلی علاقوں کو اٹھانے کے لیے چاروں صوبے 3 فیصد شیئر دیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ پر کوئی الزام لگتا ہے تو جواب دیں، میں نےایک سال میں 60 دستاویزات عدالت میں پیش کیں، طاقتور سے پیسے کا حساب مانگو تو سیاسی انتقامی کارروائی کا الزام لگاتا ہے، ان پر کرپشن کا الزام ہے تاہم بجائے صفائی پیش کرنے کے پارلیمنٹ میں شور مچایا جارہا ہے اور کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پیسہ چوری کرنے والا کہتا ہے کہ باہر جاکرعلاج کراناہے، ایسے ملک نہیں چلتا، اربوں روپے کی چوری میں ملوث شخص کہتا ہے ذہنی دباؤ ہے، 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، اپوزیشن کے شور کا مقصد این آر او مانگنا ہے تاہم کرپٹ لوگوں کو این آر او دیا تو قوم سے غداری کروں گا۔

اس مصالحے کو روزانہ کھانے کا فائدہ جانتے ہیں؟

دانتوں کا درد بہت عام ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے مگر اس کا علاج تو آپ کے کچن میں ہی چھپا ہوا ہے۔

جی ہاں خوشبودار لونگ جسے کھانے کا ذائقہ دوبالا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر یہ دانتوں کے درد سمیت مختلف امراض کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

درحقیقت یہ مصالحہ ہر گھر میں ہی ہوتا ہے جس کا استعمال کھانے کی مہک بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ صرف 2 لونگوں کو کھانا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

اگر نہیں تو فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے

لونگ ان بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہیں، کیونکہ ان کا استعمال خون میں سفید خلیات کی مقدار کو بڑھاتا ہے جو کہ انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں ، لونگ میں وٹامن سی کی وجہ سے جسم کو یہ فائدہ ہوتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

لونگوں کو عرصے سے نظام ہاضمہ کے مسائل کے لیے استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ یہ مصالحہ ہاضمے کے انزائمے بڑھاتا ہے جبکہ متلی کی کیفیت پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، لونگ میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو معدے کی صحت بہتر کرکے قبض کی روک تھام کرتی ہے، نظام ہاضمہ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے لونگ کا سفوف استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔

دانت کے درد سے ریلیف

لونگ کا مرکزی جز یوجینول (ایک بے رنگ خوشبودار روغنی مرکب) میں سن کردینے اور درد میں کمی لانے جیسی خصوصیات ہوتی ہیں، یہ جز درد کا باعث بننے والے مخصوص ریسپیٹرز کو بلاک کردیتا ہے۔ اس کا اثر 5 منٹ کے اندر شروع ہوتا ہے اور 15 منٹ تک برقرار رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لونگ کا تیل دانتوں کے درد کے لیے انجیکشن جتنا ہی موثر ثابت ہوتا ہے جبکہ سن کردینے والی خصوصیت کی بناءپر یہ تیل مسوڑوں کے امراض کے خلاف بھی موثر ثابت ہوتا ہے۔ دانت کے درد کے لیے لونگ کو چبائیں یا اس کے تیل کی ایک بوند کو متاثر حصے میں ڈال دیں۔

جگر صحت مند بنائے

جگر کا کام جسم سے زہریلے مواد کی صفائی کرنا ہوتا ہے، لونگ کے تیل میں موجود یوجینول جگر کے افعال کو بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ورم اور جسمانی درد کم کرے

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یوجینول میں سن کردینے اور درد میں کمی لانے جیسی خصوصیات ہوتی ہیں، لونگ کھالیں یا اس کے سفوف کو نمک کے ساتھ ایک گلاس دودھ میں شامل کرکے پینا سردرد میں کمی لاتا ہے جبکہ سر کے درد کے لیے لونگ کے تیل کی کچھ مقدار کو ہتھیلی پر ڈال کر کنپٹیوں پر مناسب دباﺅ کے ساتھ مالش کریں۔

جوڑوں کے مسائل پر قابو پائے

ایک تحقیق کے مطابق لونگ کا استعمال ایسے پروٹین کو جسم میں خارج ہونے سے روکتا ہے جو سوجن کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ لونگوں میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو کمزور ہونے کا عمل سست کردیتے ہیں۔ اس کا آدھے سے ایک چائے کا چمچ روزانہ استعمال جوڑوں کے درد میں کمی کے لیے بہترین ہوتا ہے۔

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور

لونگ میں پولی فینولز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کولیسٹرول اور بلڈپریشر میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ شریانوں کے افعال بھی بہتر ہوتے ہیں اور ان کی لچک برقرار رہتی ہے۔

بلڈ شوگر ریگولیٹ کرنے میں ممکنہ طور پر مددگار

لونگ ایسے افراد کے لیے بہترین ہے جن کو بلڈشوگر کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، یہ جسم کے اندر انسولین کی طرح کام کرتی ہے اور خون میں موجود اضافی شکر کو خلیات میں منتقل کرنے میں مدد دے کر توازن بحال کرتی ہے، جس سے بلڈ شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔

بلڈ کلاٹ کا خطرہ کم کرے

لونگ میں موجود یوجینول بلڈکلاٹ کا خطرہ بھی کم کرتا ہے، مگر خون پتلا کرنے والی ادویات کے ساتھ لونگ کو کبھی استعمال مت کریں بلکہ ایسا کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں

اداکارہ صوفی ٹرنر اور گلوکار جوئے جونس نے شادی کرلی

شہرہ آفاق پولیٹیکل تھرلر فنٹیسی ڈرامہ ’گیم آف تھرونز‘ سے کیریئر کی شروعات کرنے اور اسی ڈرامے سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ صوفی ٹرنراور امریکی گلوکار جوئے جونس نے اچانک شادی کرلی۔

دونوں کے درمیان گزشتہ کئی سال سے تعلقات تھے اور دونوں کو انتہائی قریب سے دیکھا جاتا تھا۔

دونوں نے متعدد بار ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرنے سمیت جلد ایک دوسرے سے شادی کرنے کی بھی تصدیق کی تھی، تاہم کبھی بھی دونوں نے شادی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تھا۔

جوئے جونس کے بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کے دیور اور گلوکار نک جونس کے بڑے بھائی ہیں۔

نک جونس اور پریانکا چوپڑا نے دسمبر 2018 میں بھارتی شہر ادے پور میں شادی کی تھی اور دونوں کی عمر میں 11 سال کا فرق ہے۔

دونوں کئی بار ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر چکے تھے—فائل فوٹو: دکن ہیرالڈ
دونوں کئی بار ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر چکے تھے—فائل فوٹو: دکن ہیرالڈ

چھوٹے بھائی نک جونس کی شادی کے بعد یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ جوئے جونس بھی جلد شادی کرلیں گے اور اب انہوں نے اچانک شادی کرلی۔

شوبز ویب سائٹ ’ای آن لائن‘ کے مطابق دونوں نے معروف میوزیکل ایوارڈ ’بل بورڈز‘ کی سالانہ تقریب کے فوری بعد شادی کرکے سب کو حیران کردیا۔

شادی سے 2 گھنٹے قبل جوئے جونس نے بل بورڈ ایوارڈ تقریب میں پرفارمنس بھی کی تھی۔

ویب سائٹ کے مطابق جوڑے نے اچانک شادی کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب جوڑے نے کچھ دن قبل ہی عدالت سے شادی کا لائسنس حاصل کیا تھا۔

دونوں کی شادی کی تقریب انتہائی سادگی سے منعقد کی گئی اور دلہن صوفی ٹرنر نے سفید لباس پہن رکھا تھا۔

دونوں کی شادی مسیحی رسومات کے مطابق ہوئی اور تقریب میں شوبز اور میوزک انڈسٹری کے چند نامور اور جوڑے کے قریبی افراد نے شرکت کی۔

دونوں کی عمر میں 6 سال کا فرق ہے، جوئے جونس کی عمر 29 جب کہ صوفی ٹرنر کی عمر 23 برس ہے۔

جوئے جونس نے متعدد میوزیکل ایوارڈ حاصل کر رکھے ہیں اور وہ گلوکاری کرنے سمیت اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں۔

صوفی ٹرنر کو گیم آف تھرونز سے شہرت ملی—فائل فوٹو بزنس انسائڈر
صوفی ٹرنر کو گیم آف تھرونز سے شہرت ملی—فائل فوٹو بزنس انسائڈر

ان کے چھوٹے بھائی نک جونس بھی گلوکار ہیں جب کہ بڑے بھائی کیون جونس بھی گلوکار اور اداکار ہیں۔

جونس برادران امریکی شوبز و میوزک انڈسٹری میں شہرت رکھتے ہیں اور ان کا سب سے چھوٹا بھائی 18 سالہ فرینکی جونس بھی چائلڈ آرٹسٹ ہیں۔

صوفی ٹرنر نے 18 برس کی عمر میں معروف ڈرامے ’گیم آف تھرونز‘ سے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور وہ ڈرامے کے پہلے سیزن سے اس کا حصہ رہی ہیں۔

اس ڈرامے کے آٹھویں اور آخری سیزن کی پہلی قسط گزشتہ ماہ 14 اپریل کو ریلیز کی گئی تھی اور اب تک اس کی تین قسطیں نشر کی جا چکی ہیں۔

گیم آف تھرونز کے آخری سیزن کی مجموعی طور پر 6 قسطیں نشر کی جائیں گی۔

دونوں نے شادی کا لائسنس پہلے ہی حاصل کرلیا تھا—فوٹو: ہارپر بازار
دونوں نے شادی کا لائسنس پہلے ہی حاصل کرلیا تھا—فوٹو: ہارپر بازار

انتہاپسند ہندو جماعت کا بھارت ميں نقاب اور برقعے پر پابندی کا مطالبہ

ممبئی: ہندوانتہا پسند تنظیم شيو سينا نے وزير اعظم نريندرا مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ سری لنکا کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے بھارت ميں بھی نقاب اور برقعے پر پابندی عائد کی جائے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے ملک میں مسلم خواتین کے چہرے ڈھانپنے اور نقاب پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے، شیوسینا نے میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکا نے دہشت گردانہ حملوں کے بعد نقاب پر ملک گير پابندی عائد کی ہے، ہم سری لنکا کے فيصلے کا خير مقدم کرتے ہيں اور وزير اعظم نريندر مودی سے مطالبہ کرتے ہيں کہ سری لنکا کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے بھارت ميں بھی نقاب اور برقعے پر پابندی عائد کی جائے۔

انتہا پسند شيو سينا نےمؤقف اختيار کيا ہے کہ برقعے کا اسلام يا بھارتی مسلمانوں سے کوئی تعلق نہيں، بلکہ بھارت ميں مسلم خواتین صرف عرب ثقافت کی پيروی کرتے ہوئے برقع پہنتی ہيں۔

دوسری جانب بھارت کے مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ برقعے پر پابندی ان کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کے مساوی ہو گی، اور عام انتخابات کے موقع پر يہ مطالبہ کوئی نيا ہندو مسلم تنازعہ کھڑا کرنے کے مقصد سے کيا جا رہا ہے۔

Google Analytics Alternative