Home » 2019 » May » 04

Daily Archives: May 4, 2019

ای سی سی نے پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دیدی

 اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے پیٹرول کی قیمت 108 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دے دی۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 108 فی لیٹر مقرر کرنے کی منظوری دی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4.89 اضافے کو منظور کیا گیا ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 7.46 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 96.77 روپے ہو گی جب کہ  لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6.40 روپےاضافے سے122.32  منظور کی گئی ہے۔

اوگرا نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں 14 روپے تک اضافے کی تجویز دی تھی تاہم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے قیمتوں میں فوری اضافے کو موخر کرتے ہوئے معاملہ ای سی سی کو ارسال کردیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی تجویز شدہ قیمتوں کے مطابق اضافہ نہ ہونے پر حکومت کو پیٹرول کی مد میں 5 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

کرسی جاتی ہے تو جائے کسی کو این آراو نہیں دوں گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستعفی وزیر خزانہ اسدعمر دوبارہ کابینہ میں شامل ہورہے ہیں جب کہ کرسی جاتی ہے تو جائے کسی کو این آراو نہیں دوں گا۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بوقت ضرورت ٹیم میں تبدیلیاں کرتا رہوں گا، جتنے اچھے لوگ ہیں ان کو لگارہے ہیں اور جہاں جہاں سے اچھے لوگ ملیں ان کا تقرر کریں گے مگر جہاں ماہر لوگ نہیں ہوں گے وہاں ٹیکنیکل لوگ لگائیں گے جب کہ وزراء کو بدلنے کامقصد صرف بیٹنگ آرڈر تبدیل کرناہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 8 ماہ میں پارلیمنٹ میں مجھے گالیاں دے کر این آراو مانگا جارہا ہے لیکن کرسی جاتی ہے تو جائے کسی کو این آراو نہیں دوں گا۔

قانون سازی اور پارلیمان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی فلاح کے لئے 7 بل لارہے ہیں، اگراپوزیشن بلوں کی منظوری میں ساتھ دے تو بڑی بات ہوگی، اپوزیشن جمہوریت کے نام پر اپنی ڈکیتی کو چھپارہی ہے یہ لوگ خود بے نقاب ہوجائیں گے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کا معاشی انڈی کیٹرزدیکھ رہا ہے، مشکل وقت کے بعد اچھے دن آنا ہیں، ہم  نے پانچ سال میں عوام کو اپنی کارکردگی دکھانا ہے۔

مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کے موقع پر وزیراعظم کا خطاب

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چور علاج کے نام پر باہر جانا چاہتے ہیں ، این آراو قوم سے غداری اور اللہ سے بیوفائی ہوگی، یہ بات وزیراعظم متعدد بار کہہ چکے ہیں تاہم اس دفعہ انہوں نے جو نئی اختراع استعمال کی جس میں انہوں نے واضح طورپر کہا کہ این آر او دینا اللہ سے بیوفائی ہوگی، یہ ایک ایسا جملہ کامل ہے جس کے بعد اگر عمران خان نے خدانخواستہ اپنے دور اقتدار میں کسی کو بھی این آراو دیا تو وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بیوفائی کرنے والے کی بھی کیا سزا ہوتی ہے لہذا اب اپوزیشن یا مبینہ طورپر این آر او مانگنے والوں کو بھی واضح ہو جانا چاہیے کہ این آراو نہیں ملے گا چاہے یہ ڈیمانڈ بظاہر ہے یا پھر پس پردہ ، وزیراعظم نے بالکل واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی کرپٹ شخص کو کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے، لہذا یہ شور وزیراعظم بتائیں این آراو کون مانگ رہا ہے یہ بات کرنے والوں کو سمجھ آجانا چاہیے کہ اب کسی بھی کونے سے کسی طرح کی کوئی چھوٹ نہیں یہاں اب حکومت کو ایک مشورہ ضرور دینگے کہ تمام کرپشن کرنے والوں کے نام مستقل بنیادوں پر ای سی ایل میں ڈالے جائیں اور انہیں کسی صورت بھی بیرون ملک جانے نہ دیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے حکومت کو سبکی برداشت کرنا پڑتی ہے اور عوام کے ذہنوں میں مختلف النوع خیالات جنم لیتے ہیں جیسے کہ شہباز شریف باہر چلے گئے پھر انہوں نے وہاں پر اپنا ٹھہرنا مزید بڑھا دیا اور اب کہا جارہا ہے کہ برطانیہ کے ڈاکٹروں نے نواز شریف کو بیرون ملک یعنی کہ لندن علاج کیلئے بلایا ہے اور وہاں پر ہسپتال میں ان کیلئے کمرے کا بندوبست کیا جارہا ہے، یہاں یہ بات لازمی قابل بحث ہے کہ یہ افراد کس طرح بیرون ملک جاتے ہیں مگر قوم تو وہ دیکھ رہی ہے جو عمر ان خان نے ان سے وعدے کیے ہیں کہ وہ کرپشن کا پیسہ ہر صورت نکلوا کر رہیں گے ، پھر جب انہوں نے کہہ دیا کہ چور علاج کے نام پر باہر جانا چاہتے ہیں ، لیڈر ہیں تو کرپشن کے الزامات پر جواب دیں ، یہاں پر حکومت یعنی کہ وزیراعظم نے دو الفاظوں کا استعمال کیا جس میں ایک لفظ چور اور دوسرا کرپشن کے الزام پر جواب دینا ہے، جب آپ نے چور کہہ دیا تو پھر الزام کیسا ، مطلب یہ کہ آپ کو 100فیصد کنفرم ہے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو پھر اس کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں دی جاتی ، کرپشن کے الزامات کے جوابات دینے کیلئے تو پھر ایک طویل وقت درکار ہے، یہ کیس تو پھر چلتا رہے گا اس میں نشستاً برخاستاً ہوتی رہے گی، سوال یہ ہے کہ جب پیسہ لوٹا گیا ہے وہ کب، کیسے اور کس طرح برآمد ہوگا، حکومت کی یہی منزل ہے ، انہی سطور میں ہم متعدد بار یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ جس طرح اس وقت ماڈل کورٹس تیزی سے فیصلے کررہی ہیں اسی طرح کرپشن کے حوالے سے بھی ایک ٹائم فریم کے تحت تیزی سے فیصلے کرنے چاہئیں ، وزیراعظم نے مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ ان پر الزام لگے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انتقامی کارروائی ہورہی ہے ، کرپشن کیخلاف قدم اٹھائیں تو یہ لوگ چوری بچانے کیلئے پارلیمنٹ اور جمہوریت کو کہتے ہیں کہ ان کو خطرہ لاحق ہے، عمران خان نے کہا منافق کا درجہ کا فر سے بھی بدتر ہے، منافق کہتا ہے کہ جمہوریت بچا رہا ہوں لیکن وہ اپنا چوری کا پیسہ بچا رہا ہوتا ہے دس سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا ، حکومت کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی بہتری کرے، کرسی کو بچانے کی کوشش کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا ، تاریخ میں ہمیشہ ٹیم کو بچانے والے بڑے کپتان ثابت ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم کی یہ باتیں بالکل سو فیصد درست ہیں ، ہم ان سے متفق بھی ہیں لیکن بات پھر وہی ہے کہ وقت کم مقابلہ سخت ہے ، کرپشن کیخلاف جہاد کرنا ایک عظیم کام ہے مگر اس کا حصول انتہائی ضروری ہے ، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے گا ، این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبے اپنے حصے سے قبائلی علاقوں کو 3 فیصد دیں گے ، یہ بھی بات انتہائی اہم ہے کیونکہ عموماً این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے قبائلی علاقوں کے معاملات گھمبیر ہی نظر آتے رہے ہیں لیکن اب جب ہر صوبہ اپنے حصے میں سے تین فیصد قبائلی علاقوں کو دے گا تو وہاں بھی یقینی طورپر تعمیر و ترقی کے منصوبے تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچیں گے اور بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی ۔ کپتان اگر یہ قدم اٹھا لیتا ہے تو وہ اپنا نام تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھوا کر جائیں گے ۔

شہباز شریف کی دو اہم عہدوں سے دستبرداری

آخر کار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پبلک اکاءونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کو چھوڑ ہی دیا، نیز پارلیمانی لیڈر بھی خواجہ آصف کو مقرر کیا گیا ہے، بات اب یہ ہے کہ یہ عہدہ چھوڑ دیا ہے یا چھڑوا دیا گیا ہے یہ دو ایسے اہم نکات ہیں جن پر سیر حاصل بات کی جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت شریف فیملی دو عہدوں سے دستبردار ہوگئی ہے، ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے پی اے سی کے چیئرمین اور پارٹی لیڈر تبدیل کرنے کی منظوری دیدی ہے ، کہا جارہا ہے کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، ان امکانات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی پارٹی لیڈر ہوسکتے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ن لیگ کے متعدد اراکین کے تحفظات ہیں اور ان تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کئی اراکین نے کہاکہ کمزور لوگوں کو بڑے عہدے دینے اور تنظیم میں بندر بانٹ سے مسائل پیدا ہوں گے، پارٹی پالیسی پر ن لیگ کے ارکان پارلیمنٹ برہم دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ فیصلے شہباز شریف کی موجودگی میں ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا، پھر شہباز شریف کا لندن میں مزید ٹھہر جانا بھی اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ اب ن لیگ کے اندرون حالات تبدیل ہورہے ہیں ، اس نے بھی جوشکست وریحت ہورہی تھی وہ سامنے آچکی ہے، چونکہ شہباز شریف بھی بیمار ہیں ،نواز شریف بھی زیر علاج ہیں مگر نواز شریف یہاں پاکستان میں اور شہباز شریف باہر جاچکے ہیں ، اپنے 30سالہ دور میں انہوں نے پاکستان میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں پر ان کی بیماریوں کا کوئی علاج ہوسکے ، عوام بیچاری تو ان 30سالوں اس ملک پاکستان کے ہسپتالوں میں ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دیتے رہے ، قوم سے بنیادی سہولیات پہنچانے کا وعدہ کرکے ووٹ لینے والے آج اپنے علاج کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے تڑپ رہے ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ ہر صورت میں وہ انہیں یہی رکھ کر علاج بھی فراہم کریں ،سزا بھی دیں اور شہباز شریف کو واپس وطن بھی بلائیں ۔ ن لیگ میں ہونے والی یہ تبدیلیاں مسلم لیگ ن کیلئے کوئی اچھا خاصا نظر نہیں آرہی ۔

بلا شبہ پی ٹی ایم غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہی ہے

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن کے بعد قبائل کے مسائل جائز اور فطری ہیں مسئلہ پی ٹی ایم نہیں اس کے کچھ لوگ ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ پی ٹی ایم کے کچھ لوگ سازش کے تحت غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ، یہ ان لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں جو دراصل دہشت گردی سے متاثر ہوئے، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دورہ پشاور کے موقع پر خیبرپختونخوا کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آپریشن کے بعد قبائل کے جو مسائل اجاگر کیے جارہے ہیں وہ جائز اور فطری ہیں ، پی ٹی ایم بذات خود کوئی مسئلہ نہیں اس کے کچھ لوگ ہیں جو سازش کے تحت غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ، ہم تمام دشمن قوتوں اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے ۔

رمضان نشریات: شوبز شخصیات کی میزبانی پر پابندی کی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی نے ماہ مقدس رمضان المبارک میں پاکستانی ٹی وی چینلز پر رمضان نشریات کے پروگرامات کی میزبانی شوبز شخصیات سے کروانے سے متعلق قرارداد پاس کردی۔

پنجاب اسمبلی کی جانب سے پاس کی گئی قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی (پیمرا) کو اس بات کا پابند کرے کہ رمضان نشریات کے پروگرامات کی میزبانی شوبز شخصیات نہ کریں۔

پاکستان کے متعدد نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے رمضان المبارک میں نشر کیے جانے والے رمضان نشریات کے پروگرامات پر اعتراض کی ابتدائی قرارداد گزشتہ ماہ 30 اپریل کو جمع کرائی گئی تھی۔

قراداد کو اسمبلی میں جمع کرانے کی درخواست پنجاب اسمبلی میں پاکستان راہ حق پارٹی کے پارلیمانی لیڈر مولانا محمد معاویہ اعظم کی جانب سے کی گئی تھی۔

اجازت ملنے کے بعد مولانا محمد معاویہ اعظم نے قرارداد کو اسمبلی میں پیش کیا جسے ایوان نے 2 مئی کو پاس کیا۔

قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ رمضان نشریات کے دوران ماہ مقدس کے احترام کا خصوصی خیال رکھا جائے اور ان پروگرامات کی میزبانی علمائے اکرام سے کرائی جائے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند سال سے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل رمضان المبارک کے دوران رمضان نشریات کا اہتمام کرتے آ رہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ ان پروگرامات کی میزبانی شوبز سے وابستہ افراد کرتے ہیں۔

قرارداد کے مطابق زیادہ تر رمضان نشریات پروگرامات کی میزبانی وہی افراد کرتے ہیں جو عام دنوں میں ٹی وی چینلز پر ایوننگ یا مارننگ شوز میں ناچ گانوں کو فروغ دیتے ہیں۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ رمضان نشریات پروگرامات کی میزبانی دین اسلام سےتعلق رکھنے والے افراد کریں، لیکن ریٹنگ کے چکر میں ان پروگرامات میں ایسے لوگوں سے میزبانی کروائی جاتی ہے جن کا تعلق دین اسلام سے نہیں ہوتا۔

ساتھ ہی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شوبز سے وابستہ افراد سے رمضان نشریات کے پروگرامات کی میزبانی کرانا انتہائی افسوس ناک عمل ہے اور اس عمل سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ ٹی وی چینلز کی نگرانی کرنے والے ادارے پیمرا کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ رمضان نشریات پروگرامات کی میزبانی کے لیے شوبز سے وابستہ افراد پر پابندی عائد کرے اور ایسے پروگرامات کی میزبانی دین اسلام سے تعلق رکھنے والے افراد سے کرائی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے تقریبا تمام ٹی وی چینلز رمضان المبارک میں رمضان نشریات میں متعدد پروگرامات کا انعقاد کرتے ہیں۔

رمضان نشریات میں شامل پروگرامات میں گیم شوزسمیت کھانے پکانے اور مذہب سے متعلق پروگرامات بھی شامل ہوتے ہیں۔

رمضان نشریات میں سحر و افطار کے درمیان پروگرامات نشر کیے جاتے ہیں—پرومو فوٹو
رمضان نشریات میں سحر و افطار کے درمیان پروگرامات نشر کیے جاتے ہیں—پرومو فوٹو

بہتر کارکردگی کے حامل افسران کا انتخاب

حکومتی پالیسیوں اور منصوبوں سے عوام اور دیگر محکموں کو آگاہی دینے کےلئے وفاقی سطح پر محکمہ اطلاعات و نشریات اور اس کا ذیلی ادارہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) ، صوبائی سطح پر محکمہ اطلاعات و ثقافت اور اس کا ذیلی ادارہ محکمہ تعلقات عامہ اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے حال ہی میں اپنے نظم و نسق کو بہتر بنانے اور اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کو عوام اور دیگر اداروں تک پہنچانے کےلئے چند اہم تقرریاں اور تبادلے کئے ہیں ۔ یوں تو بہت سے افراد کے تبادلے کئے گئے ہیں لیکن صوبائی محکمہ اطلاعات و ثقافت اور محکمہ خزانہ میں بہت ہی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افسران کو تعینات کیا گیا ہے ۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت اور خزانہ کے افسران نظم و نسق کا بڑا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ دونوں افسران خوش اخلاق ، خوش مزاج اور نہایت مہذب و محب وطن ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ہی قومی اثاثہ ہیں ۔ اسی وجہ سے اب بجا طوپر توقع کی جا سکتی ہے کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت اور محکمہ خزانہ کی کارکردگی نہ صرف بہتر ہوگی بلکہ اس سے متعلقہ شعبوں کے اہلکاروں اور عوام کو بہت فائدہ ہوگا ۔ قبل ازیں مومن علی آغا محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں بطور سیکرٹری تعینات تھے اور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ اطلاعات و ثقافت کا اضافی چارج بھی ان کے پاس تھا لہذا ان پر دونوں محکموں کا بڑا بوجھ تھا ۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن صوبائی حکومت کا ایک بڑا اہم شعبہ ہے جس میں درجنوں پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں ، نو ثانوی و اعلیٰ تعلیمی بورڈزکے علاوہ سینکڑوں کالجز اور ہزاروں اساتذہ موجود ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ مومن علی آغا اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے مسائل حل کرنے میں مصروف رہتے تھے ۔ ایک محکمہ ہونے کی وجہ سے اب وہ محکمہ اطلاعات و ثقافت کے تمام شعبوں کی نگرانی با احسن طور پرکر سکیں گے بلکہ ان کی کارکردگی کو زیادہ بہتر کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ انشاء اللہ ۔ مومن علی آغا اس سے قبل بھی دو تین سال سیکرٹری اطلاعات و ثقافت کی کرسی پر کام کر چکے ہیں اور وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ مالکان سے لے کر صحافیوں ، اینکروں اور کارکنوں تک سے بخوبی واقف ہیں ۔ آغا صاحب فیصل آباد ڈویژن کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے اس علاقے کی ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے کےلئے کافی محنت کی ۔ اسی وجہ سے انہیں ایک اچھے منتظم اور خوش اخلاق کمشنر کے طورپر جانا جاتا ہے ۔ آغا صاحب نہایت دیانتدار اور شریف النفس انسان ہیں اور میل ملاقات کےلئے آنے والوں سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ان کے تقرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کو حکومت کا احسن اقدام قرار دیا ۔ گزشتہ ایک دہائی سے محکمہ اطلاعات و ثقافت کی کارکردگی کچھ اچھی نہیں رہی ۔ آغا صاحب ان تھک افسر ہیں اور مسائل حل کرنے کےلئے بڑی توجہ سے کام کرتے ہیں ۔ ان سے بجا طورپر توقع رکھتے ہیں ان کی زیر نگرانی محکمہ کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کے مالکان اور متعلقہ شعبوں کے اہلکاروں کے علاوہ صحافیوں ، کارکنوں ، آرٹسٹوں اور مصنفین(لکھنے والوں )کی بہتر مدد بھی ہو سکے گی اور ان کارکنوں کی مدد کےلئے مختص فنڈزکا بھی صحیح استعمال ہو سکے گا ۔ حکومت پنجاب نے عبداللہ خان سنبل کو صوبائی محکمہ خزانہ کا سیکرٹری تعینات کیا ہے ۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ صوبائی حکومت کا بہت اہم شعبہ ہے جو نہ صرف صوبائی بجٹ کا میزانیہ تیار کرتا ہے بلکہ تمام محکموں کے ترقیاتی منصوبوں ، افسران اور اہلکاران کے مالیاتی مسائل پر بھی توجہ دیتا ہے ۔ عبداللہ خان پہلے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں ۔ علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں ۔ وسیع مطالعہ رکھتے ہیں ۔ سنبل صاحب دوران تعلیم گورنمنٹ کالج کے میگزین راوی کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ عبداللہ خان لاہور ڈویژن کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں اور انہوں نے لاہور ڈویژن کی ترقی اور عوامی مسائل حل کرنے میں بہت دلچسپی دکھائی ۔ لاہور رنگ روڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں ۔ سنبل صاحب نہایت دیانتدار، باکردار اور بہت اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں ۔ وہ دو تین ہفتے سیکرٹری سروسز بھی رہے اوراب انہیں محکمہ خزانہ کے سیکرٹری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ سنبل صاحب پنجاب کے خزانے کے نظم و نسق کو بہتر بنانے اور صوبائی افسروں و اہلکاروں کے معاملات کو بہتر طور پر دیکھنے میں کامیاب ہوں گے ۔ سرکاری ملازمتوں میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں لیکن قومی خدمت سے سرشار اور خوش اخلاق اچھی صلاحیتوں کے حامل افسران و اہلکاران جن شعبوں میں بھی تعینات کئے جاتے ہیں وہاں ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دیتے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے محکمہ خزانہ کےلئے ایک بڑا با صلاحیت ، لائق و فائق افسر کا انتخاب کیا ہے اور یہ حکومت پنجاب کا خوش آئند اقدام ہے ۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت آئندہ بھی افسران کی تقرری اور تبادلے کرتے وقت بہتر کارکردگی کے حامل افسران کا انتخاب کرے گی جو صوبائی نظم و نسق چلانے میں حکومت کے بہترین معاون ثابت ہوں گے ۔

(ن) لیگ میں تنظیم سازی، شاہد خاقان سینئر نائب صدر اور مریم نواز نائب صدر مقرر

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) میں تنظیم نو کرتے ہوئے شاہد خاقان کو سینئر نائب صدر، مریم نواز کو نائب صدر اور احسن اقبال کو جنرل سیکریٹری مقرر کردیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کی تنظیم نو سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا ہے، تنظیم نو کا اعلامیہ لندن سے پارٹی کے صدر شہباز شریف نے جاری کیا ہے جس کے مطابق نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر ہوں گی۔

اعلامیے کے مطابق شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور احسن اقبال مرکزی جنرل سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں، نائب صدور میں عابد شیرعلی، ایاز صادق،  برجیس طاہر اور درشن لعل شامل ہیں جب کہ مریم اورنگزیب  پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان ہوں گی۔ مرکزی رہنماؤں کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں خواجہ سعد رفیق،  پرویز رشید،  مشاہد اللہ خان، اقبال ظفر جھگڑا  اور دیگر رہنما شامل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے مرکزی صدر بننے کے باعث مسلم لیگ (ن) پنجاب کی صدارت کا عہدہ خالی تھا اور اس عہدے کے لیے حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کے نام زیر غور تھے تاہم پارٹی قائد نواز شریف نے فیصلہ رانا ثناء اللہ کے حق میں دیا اور اب رانا ثناء اللہ پنجاب کے صدر اور سردار اویس لغاری پنجاب کے جنرل سیکریٹری ہوں گے۔

اداکارو گلوکارآغا علی نے گانا ’’میں ہارا‘‘ ریلیز کردیا

لاہور: معروف اداکار و گلوکار آغا علی نے گانا ’میں ہارا‘ ریلیز کردیا ہے۔

آغا علی نے کچھ  روز قبل  گانا ’میں ہارا ‘ کا ٹیزر جاری کیا تھا جس کے  بعد اُن کے مداحوں کو مکمل گانے کی ویڈیو کا بے صبری سے انتظار تھا، آغاعلی نے مداحوں کا یہ انتطار ختم کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ  پر اپنی آواز میں گایا ہوا مکمل گانا ’میں ہارا‘ ریلیز کردیا ہے۔

4 منٹ 44 سیکنڈ پر مشتمل گانا ’میں ہارا‘ کی ویڈیو پاکستان کے خوبصورت ترین مقام پر فلمائی گئی ہے جس میں آغا علی بھرپور انداز میں گانا گاتے ہوئے اپنی محبت کو یاد کر رہے ہیں، گانے میں آغا کو کار میں تنہا سفر کرتے دکھایا گیا ہے جوکہ آخر میں اپنی محبت کی کچھ  یادوں کو ہوا میں بکھیر دیتے ہیں۔ جذبات سے بھرے اس گانے کی موسیقی قاسم اظہر نے ترتیب دی ہے  جب کہ  احمد سہیل نے ہدایت کاری کے فرائض انجام دیئے ہیں۔

گانے کا ٹیزر ریلیز کئے جانے کے بعد یہ کہا جارہا  تھا کہ آغا علی نے یہ گانا اداکارہ سارا خان سے علیحدگی کے بعد گایا اور گانے کی ویڈیو کے آخر میں نظر آنے والی تصویر بھی اداکارہ ہی کی ہے لیکن  آغا علی نے ایک ویڈیو کے ذریعے سارا خان سے متعلق ان باتوں کو مسترد کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کی نظر ثانی درخواست کی سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے اور بیماریوں میں پیچیدگیاں آتی جارہی ہیں، انہیں جو علاج درکار ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں، دوران ضمانت ان کا ہائپر ٹینشن اور شوگر کا علاج ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز نے اینجیو گرافی کی سفارش کی تھی، اور اس کے لیے ہی عدالت نے ضمانت دی تھی، فیصلہ میں نوازشریف کو پورا پیکج دیا تھا،  ان کے پاس بہت سے قانونی آپشن موجود ہیں، پاکستان میں علاج کے لیے بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں، عدالت نے ضمانت علاج کے لیے دی تھی صرف ٹیسٹ کرانے کے لیے نہیں، 6 ہفتہ بعد بھی ان کی اینجیو گرافی نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ میں دیکھ کر عدالت کو بدنام کیا جاتا ہے، صرف سزائے موت کے مقدمہ میں ہی سزا معطل ہوتی ہے، عدالتی حکم واضح ہے اگر نواز شریف نے سرنڈر نہ کیا تو ان کی گرفتاری ہوگی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔

26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، تاہم ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی تھی۔

نواز شریف نے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کی تیسرے درجے کی بیماری میں مبتلا ہیں، لہذا انہیں علاج کے لیے پاکستان کے اندر پابند کرنے کے 26 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

Google Analytics Alternative