Home » 2019 » May » 06

Daily Archives: May 6, 2019

رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا، پہلا روزہ منگل کو ہوگا

کراچی: پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا اور اب پہلا روزہ 7 مئی بروز منگل کو ہوگا۔

ماہِ رمضان المبارک 1440 ہجری کی رویت کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت جب کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے جن میں کمیٹیوں کے فاضل اراکین اور اکابر علماء کے ساتھ محکمہ موسمیات کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے رمضان المبارک کے چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر سے چاند کی شرعی رویت کے حوالے سے کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی ، ملک کے کسی حصے میں چاند نظر نہیں آیا لہذا پہلا روزہ 7 مئی کو ہوگا۔

وزیراعظم کی ترین اور شاہ محمود سے الگ الگ ملاقات، کشیدگی ختم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان سرد جنگ ختم کرانے کے لیے سرگرم ہوگئے اور اس سلسلے میں انہوں نے دونوں رہنماؤں سے الگ الگ ملاقات بھی کی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں کشیدگی دور کرنے کی ہدایت کی

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے حکومتی معاملات بھی زیر بحث آئے جب کہ وزیراعظم نے دونوں رہنماؤں سے صوبائی کابینہ کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے بعد خیبر پختونخوا کابینہ میں بھی تبدیلوں کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کئی مرتبہ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں اور تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب شاہ محمود نے جہانگیر ترین کے کابینہ اجلاس میں شرکت پر سوال اٹھایا تھا

جہانگیر ترین نے شاہ محمود کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ  جہاں بھی جاتا ہوں عمران خان کی مرضی اور خواہش سے جاتا ہوں، مجھے پاکستان کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا۔

وزیراعظم عمران خان کا بھی اس پر کہنا تھا کہ زراعت پالیسی پر خود جہانگیر ترین کو اسائنمنٹ دی تھی، عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں تاہم جہانگیر ترین سے بطور ایکسپرٹ بریفنگ لی۔

ملک کو متحد فوج نہیں عوام رکھتے ہیں ، وزیراعظم

سوہاوہ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی بحران آتے جاتے ہیں لیکن نظریہ چلا جائے توقوم ختم ہوجاتی ہے جب کہ ملک کو فوج نہیں عوام متحد رکھتے ہیں۔

جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ روحانیت کے سپہ سالارعبدالقادر جیلانی کے نام پریونیورسٹی کی بنیاد  رکھی ہے، عظیم صوفی بزرگ نے سائنس، روحانیت اور اسلام کا تعلق جوڑا تھا اور روحانیت میں تحقیقات شروع کروائی تھیں، ہم بھی ان کے نظریے کو آگے لے کر بڑھیں گے، ہم بھی سائنس، اسلام اور روحانیت کا تعلق جوڑیں گے اور روحانیات  کو سپر سائنس بنائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم اسکولوں میں  بچوں کو نظریہ پاکستان اور ریاست ِ مدینہ سے متعلق بتائیں گے تاکہ  کم از کم آنے والے نسلوں کو دین کی حقیقی تعلیم دے سکیں، اگر ہم پاکستان بننے کے حقیقی مقصد کے بارے میں نہ پڑھا سکے تو مغربی کلچر کا مقابلہ کرنا   مشکل ہوگا، ہمیں نوجوانوں کو لیڈر بنانا ہے اور یہ تب بنیں گے جب وہ ریاست ِ مدینہ کے اصولوں اور تصورات کے بارے میں پڑھیں گے، اس مقصد کے لیے القادر یونیورسٹی میں ریسرچ کروائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا نظریہ پیچھے چلا گیا تومشرقی پاکستان ٹوٹا ، بھٹو کےبعدجتنےبھی حکمران آئےوہ عوام کےخیرخواہ بنےاورگئےتولندن میں پراپرٹیز تھیں، دراصل پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا آج یہ وہ پاکستان نہیں جو اس کو بننا چاہیے تھا، ملک کو بنانے کیلیے جو سوچ تھی اس کو سیاسی قیادت نے دفن کر دیا، نظریہ ختم ہوتو قوم ہی ختم ہوجاتی ہے، ملک کو فوج نہیں عوام متحد رکھتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ علامہ اقبال نے دین کے ساتھ ساتھ مغربی فلسفے پڑھے وہاں کے اسکالرز سے ملے ،شاعر مشرق کی  90 سال پہلے کی باتیں اور کلام سے ایسالگتا ہے کہ وہ آج ہمارے لیے باتیں کررہے ہیں کیونکہ انہیں سائنس کا بھی پتہ تھا،آج بدقسمتی سے زیادہ تر سیاست دانوں کو  اپنی پڑی ہوتی ہے کہیں سے ترقیاتی فنڈ مل جائے ہمیں ایک بڑی سوچ والے لیڈرز کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عبدالقادر جیلانی یونیورسٹی کو نمل کے طرز پر پر بنائیں گے جو کہ عوام سے پیسے اکٹھے کربنائی جائے گی، اس جامعہ کے لیے حکومت فنڈ نہیں دے گی یہاں ذہین طالب علموں کو داخلہ دیں گے اور میرٹ کی بنیاد پر ملک بھر سے طالب علموں کو یہاں لائیں گے ۔

پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کر نے کی کوششیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک ہی روز میں مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ میں پیسہ نہیں احساس تھا،یورپ میں بھی احساس ہے وہ معاشرے کمزور طبقے کی فکر کرتے ہیں ۔ لاہور میں جے ڈبلیو فور لینڈ کارپلانٹ کی افتتاحی تقریب ، لاہور ہی میں ایچیسن کالج اور رینالہ خورد اکاڑہ میں نیاپاکستان ہاءوسنگ اسکیم کا سنگ بنیارکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کے بنیادی فلسفے کو اجاگرکیا اور واضح کیا کہ جس معاشرے میں احساس نہیں ہوتا وہ کبھی آگے نہیں بڑھتا، کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، صحت ،علاج اور انصاف کی سہولتوں کی فراہمی حکومت کا کام ہے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کر نے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بلاشبہ جن معاشروں میں احساس ناپید ہو جائے وہ تباہی کے دہانے پر جا لگتے ہیں ۔ ماضی میں حکومتوں نے عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کی بجائے سیاست کی جس سے عوام اور حکومت کے مابین خلیج بڑھتی گئی لیکن موجودہ حکومت اس خلیج کا پاٹنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کے حالیہ اقدامات جن میں شیلٹر ہومز، غریب ;200;دمی کے لیے صحت کارڈ زاور اب نیا پاکستان ہاوَسنگ سکیم یہ وہ اقدامات ہیں جن سے متوسط اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی بھاری اکثریت مستفید ہو گی ۔ بلاشبہ یہ ایک مشکل ترین سنگ میل اور ہدف ہے،جس سے نبرد ;200;زما ہونا ہے،تاہم وزیراعظم عمران خان نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یہ مشکل کام کر کے دکھائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ 50لاکھ گھر بنانے کی ذمہ داری لی ہے، ہمارا خواب ہے کہ ہر پاکستانی کے پاس اپنی چھت ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جو برے وقت کا مقابلہ کرتا ہے وہی اوپر جاتا ہے ،عظیم لوگ پیسے کمانے سے نہیں بڑی ذمہ داری نبھانے سے بنتے ہیں ۔ ہاءوسنگ پروگرام مشکل ہے، اگر آسان ہوتا تو پچھلی حکومتیں بنا چکی ہوتیں آسان کام تو وہ کر چکے یہ مشکل کام ہماری حکومت کرے گی،پاکستان میں اسوقت سب سے مشکل معاشی حالات ہیں پھر بھی 50لاکھ گھر 5 سال میں بنائیں گے ۔ جس معاشرے میں احساس نہیں ہوتا وہ کبھی آگے نہیں بڑھتا یورپ میں احساس ہے وہ معاشرہ کمزور طبقے کی فکر کرتا ہے کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، آج یورپ میں جو نظام ہے، یہ نظام آخر الزمان نبیﷺ سب سے پہلے مدینہ کی ریاست میں لائے تھے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینے کی ریاست تھی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضرت عمر;230; نے فرمایا تھا کہ اگر میری ریاست میں کتا بھی بھوکا ہوگا تو میں ذمہ دار ہوں ، انسانیت کا نظام ہمارا نظام تھا آج یہ مغرب میں چلا گیا ، ہم اپنی ہاءوسنگ اسکیم پورے پاکستان میں شروع کررہے ہیں ،50لاکھ گھر پرائیویٹ سیکٹر بنائے گا حکومت صرف مدد کرے گی اس میں نوجوانوں کو چھوٹی چھوٹی کنسٹرکشن کمپنیاں بنانے کا موقع ملے گا اس سے ان کو روزگار ملے گا،40صنعتیں صرف کنسٹرکشن کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں جب گھر بننا شروع ہو جائیں گے تو مزید 40صنعتیں کھلیں گی، ان چالیس کمپنیوں میں نوجوانوں کو روزگار ملے گا انشا اللہ ملک کی شرح نمو بڑھے گی اور ملک میں خوشحالی آئے گی ۔ انہوں نے کچی آبادیوں کے لیے بھی ایک پروگرام لانے کا عندیہ دیا کہ کچی آبادیوں میں تمام سہولتوں سے آراستہ فلیٹس بنائیں گے اس کےلئے چین کی تکنیک استعمال کی جائے گی جس سے یہ فلیٹس ایک سال میں تیار ہوں گے ۔ انشا اللہ ہم ناممکن کو ممکن بنائیں گے اور ہمارا ہاءوسنگ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھے گا اور ان لوگوں کو گھر ملے گا جو کبھی بھی اپنی تنخواہ سے گھر بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ ادھرجے ڈبلیو فور لینڈ کارپلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے سے متعلق قوم سوال پوچھتی ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہی معاشی بحران دور ہوگا ، پہلی مرتبہ پاکستان میں مکمل طورپر گاڑیاں تیار ہوں گی ، مستقبل میں الیکٹرک کارکی تیاری سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرخ فیتا سرمایہ کاروں کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے لوگ دبئی اور دوسرے ممالک میں کاروبار کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، نوجوانوں کو روزگار دینا ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے،انہوں نے بتا یا کہ کار پلانٹ لگنے سے 40ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا ، سرمایہ کاری میں اضافے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے ، جب ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے تو لوگوں کو روزگار اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے انہوں نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر حوصلہ دیا کہ کہ ان کے لیے مشکلات کم کرکے آسانی پیدا کریں گے اور ان کیلئے کاروبار کو آسان بنایا جائے گا ، وزیراعظم نے چین میں سرمایہ کاروں سے ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا کہ ہم انکے لئے اسپیشل اکنامک زونز کی تیاری کررہے ہیں تاکہ جب وہ آئیں تو ان کیلئے آسانیاں پیدا ہوں اور ون ونڈو آپریشن ہو ۔ حکومت کے ان اقدامات اور عزم سے محسوس ہوتا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ملک جلد معاشی بھنور سے نکل جائے گا ۔

;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن ;200;ف کنٹرول کا دورہ

;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہفتہ کو لائن ;200;ف کنٹرول پر ناردرن لاءٹ انفینٹری مین بٹالین کا دورہ کے دوران کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے آگاہ ہیں ،کسی بھی خطرے سے نمٹنے اور اسے شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اورپاک فوج ہر محاذ پر ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس موقع پرآپریشنل تیاریوں کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ ادھراگلے روزراولپنڈی میں کور کمانڈر اجلاس منعقد ہوا جس میں داخلی و خارجی سلامتی اور فوج کے پیشہ وارانہ امور پر غور فکر کیا گیا ۔ کانفرنس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور اندرون ملک آپریشن ردالفساد کی پیش رفت کے ساتھ ملکی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو ہوئی ۔ کانفرنس میں خصوصی طور پر ایک مرتبہ پھر افغان مفاہمتی عمل کےلئے اپنی حمایت کا اظہار کیا گیا ۔ یہ عزم اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ افغانستان میں امن کوششیں کافی عرصہ سے جاری ہیں ۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان کوششوں کے دیر پا مثبت نتاءج بر;200;مد ہونگے لیکن تازہ ترین صورت حال قدرے مایوس کن دکھائی دے رہی ہے ۔ رمضان کے پیش نظر طالبان کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی ہے جوکہ مسترد کر دی گئی ہے ۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کردینے کے بعد قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک مرتبہ پھر تعطل پیدا ہوگیا ہے جبکہ ادھرامریکہ نے واضح کیا ہے کہ امن معاہدے کےلئے بیک وقت فوجوں کے انخلا اور انسداد دہشت گردی کی یقین دہانی، بین الافغان مذاکرات اور تشدد میں کمی کرتے ہوئے جامع جنگ بندی کا معاہدہ ہونا ضروری ہے ۔ آئی ایس پی آرکے مطابق اجلاس میں شرکا نے پائیدار امن کی کوششیں جاری رکھنے اور خطے میں امن کے تمام اقدامات کی حمایت کا عزم دہرایا ۔ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں معاونت فراہم کر رہا ، وزیراعظم عمران خان بھی افغان تنازعہ میں غیر جانبداری دکھانے کا عزم ظاہر کرچکے ہیں ۔ امید ہے کہ فریقین خطے کے امن کے لئے ضد اور ہٹ دھرمی سے نکل کر عوام کے لئے تشدد کو ترک کردیں گے ۔

پیٹرول کی قیمت نہ بڑھائی جاتی توملکی خسارے میں مزید اضافہ ہوتا، وزیرخارجہ

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت نہ بڑھائی جاتی توملکی خسارے میں مزید اضافہ ہوتا۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئی ایم ایف کا طعنہ وہ دے رہے ہیں جو خود سب سے پہلے آئی ایم ایف کے پاس گئے، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی بھی اپنے ادوار میں آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے جب کہ پیٹرول کی قیمت نہ بڑھائی جاتی توملکی خسارے میں مزید اضافہ ہوتا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہرجماعت کو اپنےعہدوں میں ردوبدل کا حق حاصل ہے، (ن) لیگ نے پارٹی عہدوں میں ردو بدل کیا ہے لیکن کچھ قانون اور قاعدہ ہوتا ہے، حیرت ہے کہ مریم نواز پارٹی کی نائب صدرمقررہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سےمطمئن نہیں ہے۔

افغان صدر کا وزیراعظم کوفون، افغانستان میں امن عمل پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفون رابطہ کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال، امن و امان اور افغانستان میں استحکام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ برادرملک ہے، افغان تنازع نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو نقصان پہنچایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ  افغان صدر آئیں تو مل بیٹھ کر تنازعات اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے کریں ۔

القاعدہ اور بھارت کے تعلقات

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں 9;47;11 کے بعد افغانستان پر امریکی قبضے سے شروع ہوئیں ۔ 2003ء تک پاکستان میں دہشت گردی بہت کم تھی ۔ سال بھر میں اموات 164 تھی جو 2009ء میں 3318 تک جا پہنچی ۔ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے مثلاً پشاور، کوءٹہ وغیرہ میں دہشت گردی بہت زیادہ ہوئی اس کے علاوہ لاہور ، کراچی، اسلام آباد بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے ۔ 2001ء سے 2011ء کے درمیان کل 35,000 ہزار شہری مارے گئے ۔ ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے امن دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کئے جا رہے ہیں ۔ پاکستان میں ہونےو الی دہشت گردی میں افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت کا بھی ہاتھ رہا ہے ۔ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے بعد جہاں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی وہاں بہت سے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار بھی پکڑے گئے ۔ ان میں سے نوے فیصد دہشت گرد اور سہولت کاروں کے بھارت سے رابطے تھے ۔ اے پی ایس پر حملہ آور بھی بھارت اور افغانستان نے مل کر بھیجے تھے ۔ اسی طرح ہر دہشت گردی کی کارروائی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ دکھائی دیا ۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھارتی دہشت گردی کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان سمیت ہمسایوں کیخلاف دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے ۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں گرفتاری بھارتی عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ بھارت نے اندرونی سیاست کو امن پر فوقیت دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این قراردادوں پر عملدرآمد، حق خود اختیاری دیئے جانے تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ۔ اقوام متحدہ نے بھی انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے موَثر کارروائیاں کرکے داعش کو پنجے گاڑنے نہیں دیئے ۔ اس حوالے سے جارہ کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کیلئے انتہائی موَثر کارروائیاں کی ہیں ۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے کیے گئے موَثرآپریشنز کے باعث داخلی سطح پر دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس نے بھی پاکستان میں قیام امن کو تسلیم کیا ہے ۔ امریکا کی سال 2017 میں دہشت گردی سے متعلق رپورٹ میں پاکستانی فوج کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشنز کے بعد القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند گروپوں کی سرگرمیوں اور طاقت میں کمی آئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں القاعدہ کے خلاف افغان اور پاکستانی فورسز برسر پیکار ہیں ۔ پاکستانی فوج کے آپریشنز نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی طاقت کو مزید کم کیا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کا تناسب 2014 کے بعد سے بہت کم رہا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کچھ اور کہہ رہا ہے اور امریکی حکومت کی پالیسی کچھ اور نظر آتی ہے ۔ امریکی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز ہی میں پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکی یہ کہہ کر دی تھی کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی ۔ اس لئے 30 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کی جاتی ہے ۔ گو کہ امریکی و زیر خارجہ کے پاکستان دورے کے بعد تعلقات میں کچھ بہتری آنے کا امکان تھا مگر صدر ٹرمپ کی دھمکیوں نے سب سنورے کام بگاڑ دیئے ۔

پاکستانیو! اپنی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر نظر رکھو!

افغانستان سے نکلنے کے بعد بھارت کو امریکی مفادات کا پہرہ دار بناکربٹھلانا;39;یکم مئی کو شمالی وزیرستان کے بارڈر پر ;39;فینسنگ کی تعمیر;39; میں مصروف پاکستانی فوجی جوانوں پر سرحد پار سے بلا اشتعال جارحانہ حملہ اورسلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی کا القاعدہ سے تعلق کی بناء پر کالعدم تنظیم جیش محمد کے رہنما اظہر مسعود کو ;39;عالمی دہشت گرد;39; قرار دیا جانا ان تینوں اہم ترین موضوعات پر راقم کی کوشش ہوگی کہ زیرنظر مضمون میں کچھ بات کی جاسکے پہلی بات دوڈیڑھ ماہ گزرے امریکی صدر ٹرمپ نے شکایتی لب ولہجے میں صلاح کاری کا رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا ;3939; امریکا سمجھتا ہے کہ بھارت میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں وہ امریکا کا متبادل ہوسکتا ہے اْن کا یہ کہنا بھی تھا کہ پاکستان بالکل بے فکر رہے بھارت پاکستان کےلئے افغانستان سے مشکلات پیدا نہیں کرئے گا ;3939;سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد بھارت اْس سرزمین پر امریکی پہرہ داری کا کیسا رول ادا کرئے گا;238; خود اپنے دیش کی جو پہرہ داری نہیں کرسکتا اپنے دیش کی ;39;رکھشا;39; نہیں کرسکتا جس کے چہار سو علیحدگی کی مسلح تحریکیں روز بروز مضبوط ہورہی ہیں ابھی یکم مئی کو بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ماونکسلائیٹ تحریک نے نئی دہلی سیکورٹی فورسنز کے ایک کانوائے کو اپنی بچھائی گئی ریموٹ ڈیوائس سے بھون کر رکھ دیا بھارتی اندرونی سیکورٹی پانی کے بلبلے کی مانند دھری کی دھری رہ گئی بھارتی سیکورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی اپنا گھر سنبھالا نہیں جارہا امریکا نے کیسے سمجھ لیا کہ وہ افغانستان میں امریکی مفادات کے لئے افغان طالبان کی سخت مزاحمتوں کے سامنے ڈھال بننے میں کامیاب ہوجائے گا پہلے ہی سے امریکی ذہن جو شکست وریخت سے ٹوٹاپھوٹا ہو اور شکست کی اصل وجوہات کو تسلیم کرنے کی بجائے مختلف کمزور سہاروں کی آڑ لیتا رہاہو اْس سے ایسے ہی فیصلہ کی توقع تھی جہاں تک امریکا کا یہ کہنا کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کےلئے مشکلات پیدا نہیں کرئے گا مطلب یہی ہوا نا کہ وہ صدر غنی کی پاکستان مخالف پالیسیوں کو من وعن جاری وساری رکھے گا پاکستانی فوج کو مغربی بارڈرپر صدر غنی سے زیادہ مصروف رکھنے کی پالیسی کو اپنائے گا ہم صدر ٹرمپ کے پیش کردہ مفروضوں کو جیسا اْنہوں نے عندیہ دیا کہ بھارت افغانستان میں امریکا کا متبادل ہوسکتا ہے پاکستان اْسے قبول کرلے ٹرمپ نے کہہ دیا پاکستانی کیسے مان لیں ابھی تو صرف بات ہوئی ہے کہ یکم مئی کو اشرف غنی نے شمالی وزیرستان کی پاک افغان باڈرپر لگائی جانے والی فینسنگ کے امور میں مشغول پاکستانی فوجیوں پر حملہ کروادیا امریکا چاہتا ہے کہ وہ بطور شکلاً افغانستان سے چلا جائے مگر اْس کے مفادات کی جنگ وہاں کبھی ختم نہ ہو اْس کے افغانی آلہ کار اْس کے بھارتی آلہ کاراس کے پہرہ دار بن کر خطہ میں یونہی عدم استحکام کے سلسلہ کو جاری رکھیں تاکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ثمرات وسطی ایشیائی ریاستوں تک نہ پہنچ پائیں یہی افسوس ہے کہ سترہ برس افغانستان میں امریکی فوجیوں کے تابوت ڈھونے کے باوجود امریکا افغانی مزاحمت پسند طالبان کی غیرافغان حملہ آوروں سے شدید نفرت کی سائیکی کو سمجھ نہیں سکا شمالی وزیرستان میں افغان علاقے سے ہونے والے جارحانہ حملہ میں پاکستانی فوج کے تین جوان شہید ہوئے سات زخمی ہوئے ہاں ، یہ غلط نہیں ہے کہ افغان انتظامیہ کی جب ہم بات کرتے ہیں تواصل میں ہمارا اشارہ امریکا کی طرف ہوتا ہے شمالی وزیرستان کے بارڈر پر یہ ایک بزدلانہ کارروائی تھی جس کا پاکستانی فوج نے افغان جارحیت کا بروقت منہ توڑ جواب دیدیا ، ہ میں افسوس ہوتا ہے کہ افغانستان کے امریکی اور افغانی حکام کی پاکستان دشمن پالیسیوں پرپاکستان نے اپنے محدود مالی وسائل سے افغانستان کے دارلحکومت کابل میں چند ہفتوں قبل دوسو بستروں کا جدید ہسپتال قائم کیا جناح ہسپتال کابل کی دیدہ زیب عمارت اورجدید ہسپتال کے آلات پردوکروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جو افغان عوام کےلئے پاکستان کی طرف سے ایک تحفہ ہے افغانستان کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے پاکستان کا یہ طرز عمل ہے اور افغان صدر غنی اور اْن کے امریکی وبھارتی عناصر کی پاکستان دشمنی کا موازنہ کیجئے کیا یہی ہے انسانیت ہے پاکستان کی دوستی اور بھائی چارے کا جواب;238; پاکستانی قوم کا سوال کابل انتظامیہ سے ہے جنہوں نے اپنی عبا قباوں میں پاکستان مخالف سانپوں کے بچے پالے ہوئے ہیں اب ذرا بات ہوجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی سے پاکستان میں پہلے سے کالعدم تنظیم جیش محمد کے غیر متحرک رہنما مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے والے ایشوپر یقینا اس فیصلے نےاکستانیوں کو ایک فیصلہ کن مقام پرضرور لاکھڑا کیا ہے ہم دنیا کوبتانا چاہئیں گے کہ آج کا پاکستان 70;245;80 ۔ 90 یا2001کا پاکستان نہیں رہا پاکستانی قوم کے مزاج اور تیوربدل گئے ہیں سیاسی وجمہوری حکومت کا طرز حکمرانی بھی بدل چکا ہے پاکستان کی فوج بھی وہ فوج نہیں رہی آج کی پاکستانی فوج شعبہ زندگی کے اسباق کے ہرمضمون کی جزوکْل کے امور پر کمال ومہارت کے معجزات دکھانے کی برابر اہلیت رکھتی ہے جس کے مظاہرقوم کے ساتھ ساتھ دنیا بھی دیکھ رہی ہے اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی کے اُس منظور کردہ قرار داد کے مسودہ کی روح کو سمجھنے والے پاکستانیوں سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے ہمارا سوال ہے کہ اظہر مسعود کا نام عالمی دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہو نے سے نئی دہلی نے کیا حاصل کرلیا نئی دہلی کی توساری بھاگ دوڑ ہی یہی تھی کہ مسعود اظہر کو بھارت میں ہونے والی اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزامات میں شامل قرار دے کر دہشت گرد قرار دیا جائے تاکہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو بھی دہشت گردی سے نتھی کیا جانے سکے جو نہیں ہوا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئےبھارت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا ہے ہاں ! پاکستانیوں نے اب ضرور سوچنا ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر جو فکری وذہنی متشدد رویوں کے مکالموں کی آبیاری کا فروغ کر نے سے اب تک باز نہیں آتے اب ہ میں اْن سے دوٹوک بات کرنی ہوگئی وہ یہ ہے کہ ایک محفوظ;39;متمدن;39; پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان جہاں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے لسانی عصبیت کے دنگے فساد اور تلخیاں نہ پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے چونکہ پاکستانی معاشرے میں فکری ،شعوری اورنظری تبدیلیاں اب پروان چڑھ رہی ہیں پاکستانی قوم کی نئی نسل نے یہ ٹھان لیا ہے کہ ہم اپنی بنیادی ضروریات کو کم سے کم کرلیں گے ہم پوری روٹی کی جگہ آدھی روٹی پر گزارا کرلیں گے مگر مغربی دنیا اور امریکا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وہ لگادیں جتنی پابندیاں لگانا چاہتے ہیں قوم قناعت کے ایمانی ثمرات کے فوائد سے آگاہ ہے قوم پْر کٹھن اور مصائب وابتلا کے ہر آنے والے وقت کو خوش آمدیدکہے گی لیکن اپنے ملی اور نظریاتی فہم وادراک ;39;سیاسی وجمہوری نظریاتی شعور وآگہی اورقومی فکری وذہنی عملیات پرمن گھڑت انتہا پسندانہ جنونیت کے مضر اور منفی اثرات کو کسی صورت میں غالب آنے نہیں دے گی کج فہم;39; کم علم;39; ادھوری تشنہ;39;نامکمل اور تنگ نظر علما ء کے بھیسوں میں جگہ جگہ وارد ہونے والے;39; قوم کی اکثریت کو دین اسلام کے نام پر گمراہ کرنے والے چرب زبان رہنما ٹاءپ کے گروہوں کو جو جب چاہیں پاکستانی معاشرے کو انارکی;39;انتشار وافتراق سے دوچار کردیں قوم اْن کے بہکاوے میں اْن کے اکسانے میں اب آنے والی نہیں ہے;39;پاکستان کی نئی نسل نے فیصلہ کرلیا ہے لہٰذا پاکستان دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے مفروضات پر من وعن فرسودہ خوابوں کی تعبیروں کے متلاشی سیاسی دکانداریاں چمکانے والوں ‘ فرقہ ورانہ تعصبات پھیلانے والوں اور سماجی وثقافتی نفرتوں کو ہوا دینے والوں کو قوم بتانا چاہ رہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے ایک ایک نکات پر اْس کی روح کے مطابق فیصلہ ملک بھر میں فی الفور لاگو ہونے میں ہی پاکستان کی سلامتی ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کا راز بھی اسی پلان میں پنہاں ہے لہٰذا ہم وطنو کو اب اور زیادہ ہوشیار ہونا پڑے گا ملک کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی طرف ملک کے ازلی دشمن لالچائی نظروں سے رال ٹپکا رہے ہیں پہلے مرحلے میں ہ میں اپنے اُن ازلی دشمنوں کے ملکی آلہ کاروں کے گرد اپنا شکنجہ کسنا ہے ۔

Google Analytics Alternative