Home » 2019 » May » 07

Daily Archives: May 7, 2019

اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہوگیا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہوگیا اور اس ترمیم کے تحت صوبے بھی ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہے۔ 

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی، اس نظام کے تحت فنڈز براہ راست گاؤں تک جاتے ہیں، 22 ہزاردیہات میں براہ راست پیسہ جائے گا، پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پرزیادہ کرپشن ہوتی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ویلیج کونسل کے براہ راست انتخابات ہوتے ہیں اور اب پنجاب میں پنچایت کے براہ راست انتخابات ہوں گے، پنجاب میں 22 ہزار پنچایت کو40 ارب روپے کے فنڈز دیں گے جب کہ شہروں میں میئر کا الیکشن بھی براہ راست ہوں گے، ہمارے شہر کھنڈر بنتے جارہے ہیں، وہاں سہولتیں ختم ہوتی جارہی ہیں کراچی کی حالت دیکھیں، وہ ٹھیک ہوہی نہیں سکتا، جب تک شہراپنا پیسا اکٹھا نہیں کریں گے، ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں۔

شبر زیدی چیئرمین ایف بی آر تعینات

 اسلام آباد: معروف معیشت دان شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد معروف معیشت دان شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کردیا گیا ہے۔

شبر زیدی پیشے کے اعتباد سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور ملکی کے علاوہ بین الاقوامی فورمز پر بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نگراں سیٹ اپ میں سندھ کے وزیر خزانہ بھی رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جہانزیب خان کو ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا، جس کے بعد چیئرمین ایف بی آر کیلئے مجتبیٰ میمن کا نام لیا جارہا تھا۔ مختلف حلقوں کے اعتراض کے بعد حکومت نے ان کی تقرری کا نوٹی فکیشن روک دیا تھا۔

آئی ایم ایف کے لوگ اسٹیٹ بینک میں بیٹھیں گے تو ہم کیا ملک چلائیں گے، زرداری

اسلام آباد: سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے لوگ اس طرح اسٹیٹ بینک میں بیٹھے ہوں گے تو ہم کیا ملک چلائیں گے۔

سابق صدر آصف زرداری نے پی اے سی چیئرمین شپ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی تقرری کے معاملے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آئی ایم ایف کا آفس پاکستان شفٹ ہو رہا ہے، آئی ایم ایف کے لوگ اس طرح آکر اسٹیٹ بینک میں بیٹھے ہوں گے تو ہم کیا ملک چلائیں گے۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا پی اے سی چیئرمین شپ کی تبدیلی پر آپ سے مشاورت کی گئی ہے اور کیا رانا تنویر کی حمایت کریں گے،  سابق صدر نے کہا کہ خورشید شاہ سے ضرور کی ہوگی، مجھ سے کیوں کریں گے جب کہ رانا تنویر بندہ تو اچھا ہے تاہم دیکھتے ہیں۔

نوازشریف پہلا روزہ کوٹ لکھپت جیل میں افطار کریں گے

لاہور: جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کل شام 6 بجے سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں پہنچ جائیں گے اور پہلا روزہ جیل میں ہی افطار کریں گے۔

سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی مدت 7 مئی کو ختم ہورہی ہے، تاہم جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی او لاہور کی جانب سے لیگی رہنماؤں کو نئے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ نواز شریف 7 مئی شام 6 بجے سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں پہنچ جائیں۔

جیل ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا آگاہ کیا گیا ہے کہ جیل قوانین پر عمل کیا جائے گا، نواز شریف لاک اپ بند ہونے سے پہلے جیل پہنچیں، جیل میں انہیں نیا قیدی نمبر الاٹ کیا جائے گا۔  نواز شریف کو پہلے والی بیرک میں ہی رکھا جائےگا، اور انہیں بی کلاس دی جائے گی، جہاں انہیں اخبار، ٹی وی، دو کرسیاں، چارپائی، میٹرس، فریج وغیرہ کی سہولت فراہم ہوگی۔ نواز شریف کو نیا مشقتی بھی فراہم کیا جائے گا جو جیل قیدیوں میں سے ہوگا۔

جیل ذرائع کاکہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف پہلا روزہ جیل میں ہی افطار کریں گے، اور ان کی سحری اور افطاری کا کھانا گھر سے جائے گا، نوازشریف کے ملازم کا جیل کارڈ بنایا جائے گا جو انہیں کھانا فراہم کرے گا۔ جب کہ ان کے گھر سے ضروری سامان پہلے ہی جیل پہنچا دیا گیا ہے۔

جیل ذرائع نے بتایا ہے کہ پولیس نے نوازشریف کی جیل واپسی کےلیے سیکیورٹی پلان کو بھی حتمی شکل دے دی ہے، سیکیورٹی کے لیے جاتی امراء سے جیل تک 400 اہلکار تعینات ہوں گے، جن میں 3 ایس پی، 6 ڈی ایس پیز اور10 ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں۔

القادریونیورسٹی کاسنگ بنیاد۔۔۔روحانیت کی تعلیم میں کلیدی کرداراداکرے گا

وزیراعظم نے بالکل درست کہاکہ نہ ہم اسلامی رہے نہ ہی فلاحی، بس ریاست بن کررہے گئے ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک فلاحی ،نظریاتی مملکت ہے مگراس میں فلاح نام کی چیزتوکہیں بھی نظرنہیں آتی، اسلامی احکامات سے بھی ہم دور ہیں کیونکہ بظاہرتو عمل کیاجاتا ہے مگراسلام کی جو اصل روح ہے اس پر کوئی بھی صحیح طرح عمل پیرا نہیں ہے ،جہاں تک فلاحی ریاست کی بات ہے تویہاں توغریب عوام شاید فلاح کے نام سے واقف بھی نہیں اس نے تو جب سے آنکھ کھولی تب سے مصائب اورآلام نے ہی گھیررکھا ہے، غالباً پاکستان کی تاریخ میں عمران خان سب سے پہلے اور واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے کہاکہ وہ پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنائیں گے مگرابھی اس پربھی عمل خال خال ہی نظرآتاہے ،تاہم اس جانب وہ کارفرما ضرور ہیں اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ طاقت کے زور پر ملک کو اکٹھا نہیں رکھا جاسکتا ، فوج نہیں عوام ملک کو اکٹھے رکھتے ہیں ،ریاست مدینہ کی بنیاد عدل وانصاف پر تھی، طاقتور سے مال لے کر کمزور پر خرچ کیا جاتا تھا،فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں عوام کی حالت زار انتہائی خراب ہے، اندرون سندھ میں 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، نظریہ سے ہی لیڈر بنتا ہے جب نظریہ ہی نہیں ہوگا تو لیڈر کیسے بنے گا;238;دین کو زبردستی کسی زندگی میں نہیں لایا جاسکتا،کیسے غریب ترین مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی یونیورسٹی میں اس پر تحقیق ہوگی،تعلیم کے بغیر دنیا میں کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا، القادر یونیورسٹی میں جدید علوم کیلئے چین سے مدد لیں گے، مکمل میرٹ پر پاکستان بھر سے ذہین بچوں کو یہاں تعلیم جائے گی ، بھٹو کے بعد جتنے لیڈر آئے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کے خیر خواہ بنے، جب گئے تو لندن میں جائیدادیں تھیں اور عوام غریب ہوگئے،برا بھلا کہنے والوں کو القادر یونیورسٹی سے تحقیق کی بنیاد پر جواب دیا جاسکے گا ۔ روحانیت کو ہم سپر سائنس بنائیں گے،برصغیر اور دیگر علاقوں میں اسلام کا پیغام لے کر آنے والے بڑے بڑے صوفیا کرام پر تحقیق کیلئے کوئی ادارہ موجود نہیں تھا، یہ کام القادر یونیورسٹی کریگی، یورپ اور امریکا میں روحانیت پر ریسرچ کے ادارے قائم ہیں تاہم مسلمان ممالک میں ایسے ادارے نہیں ۔ 9;47;11 کے بعد کس طرح اسلام کی بے حرمتی کی گئی،اس کا کوئی جواب دینے والا نہیں تھا ۔ معاشی بحران اور اچھے برے وقت آتے جاتے ہیں تاہم اگر نظریہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا ۔ عمران خان انسانیت کی قدر کرنے والے رہنما ہیں ، پاکستان میں عمران خان کے عروج کو کوئی نہیں روک سکتا، وزیراعظم نے انقلاب برپا کیا ۔ 30 سال سے اقتدار پر بیٹھے لوگ خود کو ہر چیز سے بالاتر سمجھتے تھے، اقتدار سے چمٹے لوگ چوہے کی طرح بلوں میں گھستے ہیں ۔ کبھی لندن جاتے ہیں کبھی کسی کو معافی دلوانے کا کہتے ہیں ، نواز شریف جیل جارہے ہیں ، زرداری کیس بھگت رہے ہیں ، شہباز شریف بھاگ رہے ہیں یہ حکومت کی کوشش کا نتیجہ ہے، تحریک انصاف متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، ملک میں مہنگائی کا سامنا ماضی کے حکمرانوں کی وجہ سے ہے، ماضی کے حکمرانوں کے دل میں غریب کا خیال ہوتا تو یہ حالات کا سامنا نہ ہوتا، پی ٹی آئی نے سیاسی کامیابی حاصل کی ہے متوسط طبقے کا راج قائم کیا ۔ حکومت عوام کو مسائل سے باہر نکالے گی، عمران خان کی قیادت پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، نظام کے خلاف جدوجہد ختم نہیں ہوئی، عمران خان کی قیادت میں پسماندہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکاجائے گا ۔ تحریک انصاف کی حکومت عوامی فلاحی کاموں میں بھرپوردلچسپی لے رہی ہے شہر،شہرگاءوں گاءوں متعدد عوامی منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے ،بلدیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس سے دیہات کے مسائل حل ہو ں گے ، تحریک ا نصاف کی حکومت کاسب سے بڑاکارنامہ صحت انصاف کارڈ ہے جس سے غریب کاعلاج مفت میں ہوگا ، صحت سہولت پروگرام کے تحت صحت انصاف کارڈمنصوبے کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ۔ حکومت ہر چھوٹے بڑے شہر کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے حکومت کاعزم ہے کہ تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ شہروں کے برابر لائے گی ۔ صرف صحت انصاف کارڈ ہی نہیں بلکہ دیگر ہیلتھ پراجیکٹس پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ عوام کو با اختیار بنانے اور ایک پر وقار معاشرہ تشکیل دینے کیلئے نیا بلدیاتی نظام لایاجارہاہے جس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے ۔

وزیراعظم سے افغان صدرکاٹیلی فونک رابطہ

وزیراعظم عمران خان سے افغان صدر اشرف غنی نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے میں امن و سلامتی اور خوشحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ طویل تنازع نے افغانستان کو غیر مستحکم کیا لیکن پاکستان افغانستان کو اپنا برادر دوست ملک سمجھتا ہے ۔ افغان تنازع سے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان بھی متاثر ہوا، پاک افغان قیادت عوامی فلاح، امن، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے ۔ افغان مسئلے کا پرامن حل افغانیوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے، پاکستان دو طرفہ برادرانہ تعلقات کے استحکام کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا ۔ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ۔ پاکستان کا تو پہلے دن سے یہ موقف رہاہے کہ مسائل جنگوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات ہی سے تمام مسائل حل ہونگے ۔ حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے دوسرے علاقائی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرنے ہونگے ۔

بھارت کی ایل ا و سی پرپھربلا اشتعال فائرنگ

;200;زادکشمیر میں لائن ;200;ف کنٹرول کے مقام پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک 12 سالہ بچہ زاہد اور خاتون شہید اور اس کی بہو زخمی ہو گئی ۔ پاک فوج کی جانب سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ ان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر شیل خاتون کے مکان پر;200; گرا تھا ۔ واقعہ ;200;زادکشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے سہرا میں پیش ;200;یا ، شہید ہونیوالی خاتون کی شناخت 45 سالہ نسرین بیگم کے نام سے جبکہ زخمی خاتون کی شناخت سونیا نعیم کے نام ہوئی ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل ان کی بزدلی کا مظہر ہے ۔ بھارتی حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ اس طرح کے واقعات سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے موقف تبدیل ہوجائے گا ۔ کشمیر ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اوراس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے بھلاکس طرح مقبوضہ کشمیرکوبھلایاجاسکتاہے پاکستان اس کی سفارتی اوراخلاقی حمایت ہرصورت جاری رکھے گا نیزپاکستان نے بین الاقوامی سطح پرہرفورم پرمسئلہ کشمیرکواٹھایا اوراب مسئلہ کشمیراس نہج پرپہنچ چکا ہے جہاں سے کشمیریوں کی آزادی کوروکناناممکن ہے ، بھارت کے بس میں جتناتھا اس نے ظلم کے پہا ڑ توڑ دیئے ہیں ناحق کشمیری بہن بھائیوں کے خون کی ندیاں بہائیں ،پیلٹ گن سے ہزاروں کشمیریوں کو آنکھوں سے محروم کیا آئے دن کی گرفتاریاں ،جیلوں میں قیدوبندکی سختیاں ،کرفیوکانفاذ ،فائرنگ ،تشدد یہ چیزیں بھی آزادی کشمیرکاراستہ نہ روک سکیں اب بھارت کیسے سوچ سکتاہے کہ کشمیری آزادی سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔

حکومت کا 19 اشیائے خورو نوش پر 2 ارب روپے رعایت دینے کا اعلان

وفاقی حکومت نے 19 اشیائے خورو نوش کے لئے 2 ارب روپے کی سبسڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ہمراہ  پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے دنیا میں مذہبی تہواروں پر سیل اور ریلیف دیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں رمضان میں مہنگائی ہوجاتی ہے اور ماہ مقدس میں یہ اشیاء مارکیٹوں سے بھی غائب ہو جاتی ہیں جو سمجھ سے باہر ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت کا پبلک ریلیف اقدام ہے جس میں تمام وزراء اور صوبائی حکومتوں کو عوام کو ریلیف دینے کی حکمت عملی بنانے کا کہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اشیاء ضروریہ کو یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی دینے اور ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹور کو اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، جب کہ یہ سبسڈی وزیراعظم نے خود پلان کی ہے۔

معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو 19 اشیاء سستے داموں فراہم ہوں گی، جن 19 اشیا کے لیے 2 ارب روپے کی سبسڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کو دی گئی ہے، ان میں آٹا، گھی، چینی، چاول، دالیں، کھجور ودیگر شامل ہیں۔  آٹے پر فی کلو 4 روپے، چینی پر 5، گھی  پر 15 ، کھانے کے تیل پر 10 روپے، بیسن پر 20 روپے فی کلو، کھجور پر 30 روپے فی کلو، چاول میں 15 اور پتی پر 50 روپے سبسڈی دے رہے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹور پر اسٹاک برقرار رکھنے کا میکنزم بھی بنایا ہے، کوئی ایک ہی شخص باربار یوٹیلیٹی اسٹور سے اشیاء نہیں خرید سکے گا اس سے کمی ہوتی ہے،  یوٹیلٹی اسٹورز پر سپلائی کا مکینزم کسی صورت ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا۔

’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا بھارتی خواب

ہندو بہت مکار ،عیاراور چالاک ہے ۔ وہ بغل میں چھری اور منہ سے رام رام پکارتا ہے ۔ ہندو قطعاً نا قابل اعتماد ہے ۔ اس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہندو طاقت کے ذریعے پاکستان پر قبضہ نہیں کر سکتالیکن وہ اپنی عیاری اور منافقت کے ذریعے ہمارے وطن عزیزکو اپنے مال کےلئے منڈی بنانا چاہتاہے اور مقبوضہ کشمیر پر بھی اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ہ میں سب سے پہلے تنازعہ کشمیر حل کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنا ہونگے ۔ اس تلخ حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ہے جس سے ہماری سب سے طویل سرحد ملتی ہے ۔ بھارت واحد ملک ہے جس سے ہمارے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کا پاکستان کو دل سے قبول نہ کرنا ہے ۔ اس میں قصور قطعاً پاکستان کا نہیں کیونکہ بھارت کا کوئی بھی ہمسایہ اس سے خوش نہیں ۔ دفاعی طور پر کمزور اور چھوٹے ممالک مثلا مالدیپ، سری لنکا، بھوٹان اور یہاں تک کہ نیپال جو کہ بھارت کے علاوہ دنیا کی واحد ہندو ریاست ہے وہ بھی اس کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں ۔ پاکستان سے تو بھارت کو خدا واسطے کا بیر ہے ۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن اور پھر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ۔ بعد میں پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غرض سے 1965ء میں رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملہ آور ہوا ۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھیس میں فوج بھیج کر ہمارا مشرقی حصہ ملک سے الگ کر دیا ۔ ’’گوا‘‘ جیسے چھوٹے اور کمزور ملک پر فوجی کشی کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور 80ء کی دہائی میں سری لنکا میں فوج بھیج دی یہ تمام واقعات بھارتی جارحانہ اور توسیع پسندانہ روش کے ان مٹ ثبوت ہیں ۔ بھارت کا یہ غیردوستانہ اور ہمسایہ دشمن رویہ اس کی صدیوں پرانی تاریخ کا حصہ ہے ۔ بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کو اپنے اندر مدغم کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے ۔ اکھنڈ بھارت کے لئے بچھائے گئے جال کی دوڑیں را کے ہاتھ میں ہیں ۔ ’’ را‘‘ نے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل علاقے (مکران ڈویژن) میں دہشت گردی کی تربیت کےلئے 40 کیمپ قائم کررکھے ہیں اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ہزاروں روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ جن میں بہت سے فراری بلوچ اب واپس آچکے ہیں ۔ بعض دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔ گرفتار کئے جانے والے افراد میں سے بعض کے پاس ریموٹ کنٹرول الیکٹرانک آلات اور سٹیلاءٹ موبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں جبکہ بعض اہم دستاویزات اور نقشے بھی ہاتھ لگے ہیں ۔ ماضی گواہ ہے کہ مسلمانان برصغیر اپنی مرضی سے الگ نہیں ہوئے تھے بلکہ ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ مسلمانوں کو اپنے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا ۔ پھر قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے سکھوں نے ہجرت کرتے ہوئے مسلمانوں کیساتھ جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ جذبات میں حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک ہیں ۔ انکے درمیان سرحدوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ ایکدوسرے سے ملا جا سکتا ہے، اچھے روابط رکھے جا سکتے ہیں ۔ سماجی اور معاشی تعلقات کو بڑھایا جا سکتا ہے ۔ بھارت کی انتہا پسند اور فرقہ پرست تنظیموں نے بھارت کے علاوہ کئی ممالک میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔ یہ انتہا پسند ہندو تنظ میں پاکستان کے وجود کے خلاف ہیں اور انہوں نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بھارت کے کچھ طبقے پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم کو استوار کرنا بھی چاہتے ہیں تو یہ انتہا پسند ہندو تنظ میں میں نہ مانوں کا کردار ادا کرکے پا کستان اور بھارت کے تعلقات 1947 ء والی جگہ پر لا کھڑا کرتے ہیں ۔ جس سے دونوں ممالک کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ امن کا خاتمہ اور خطہ میں کشیدگی کو ہوا ملتی ہے ۔ آج انہی فرقہ پرست ہندو جماعتوں کے گھٹیا اور متعصبانہ کردار کی بدولت پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں ۔ تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ اور دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ہے مگر اس میں ہندو بنیا لا تعداد کروٹیں بدل بدل کر بین الاقوامی برادری کو ایسے تاثرات دے رہا ہے جس میں اس بات کو حقیقت کا روپ دینے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان جارح ہے اور ابھی تک وہ در اندازی کامرتکب ہو رہا ہے ۔ حالانکہ پوری عالمی برادری نے اپنے مشاہدہ کے بعد دنیا کے سامنے بھارت کی اس منفی سوچ کو رد کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نہ تو در اندازی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی دہشت گرد کو تربیت دے کر کشمیر بھیج رہا ہے ۔ اگر کشمیر میں کچھ ہو رہا ہے تو یہ کشمیریوں کی اپنی جدو جہد آزادی کا نتیجہ ہے جو وہ عرصہ 71 سال سے غاصب بھارت کے خلاف اپنی آزادی کی تحریک کی صورت میں سامنے لا رہے ہیں ۔

عالمی رہنماؤں کی امت مسلمہ کو رمضان کی مبارک باد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک باد پیش کی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی آمد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے السلام علیکم کہ کر اپنے پیغام کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ رمضان اسلام کے آفاقی تعلیمات کا محور ہے، یہ مہینہ رواداری اور خدمت خلق کا مہینہ ہے اور دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم نے نیوزی لینڈ مساجد حملے کے تناظر میں کہا کہ مسلمانوں کے لیے چند ماہ نہایت تکلیف دہ رہے ہیں، مسلمانوں کو نفرت آمیز رویے، اسلام فوبیا اور تشدد کا سامنا رہا ہے۔ ہم سب کو مل کر اسلام فوبیا کے خلاف کام کرنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے پوری دنیا اور بالخصوص امریکا میں مقیم مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا اور اس ماہ مسلمان اپنی روحانی بالیدگی کے لیے روزوں کا اہتمام کرتے ہیں۔

ادھر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی، برطانوی وزیراعظم تھریسامے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سمیت دیگر عالمی قیادت نے مسلمانوں کو رمضان کی آمد پر دلی مبارک باد پیش کی ہے۔

Google Analytics Alternative