Home » 2019 » May » 08

Daily Archives: May 8, 2019

نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم؛ جیل حکام جاتی امرا میں موجود

لاہور: سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم ہوگئی ہے جس کے بعد کوٹ لکھ پت جیل کی انتظامیہ انہیں دوباری جیل لے جانے کے لیے جاتی امرا پہنچ گئی ہے۔ 

سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد سابق وزیر اعظم کی ضمانت کی مدت 7 مئی کو ختم ہوگئی ہے۔

کوٹ لکھپت جیل کا عملہ اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ جیل شہزاد کی سربراہی میں جاتی امرا میں موجود ہے، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل  جاتی امرا سے نکلنے والی ہر گاڑی کی خود چیکنگ کررہے ہیں۔

خصوصی افطار

نواز شریف نے جیل جانے سے قبل اپنے اہل خانہ اور سیاسی رفقا کے ہمراہ افطار کیا، اس سلسلے میں جاتی امرا میں نواز شریف کی پسندیدہ کھانے تیار کئے گئے، افطار کے دسترخوان پر کھجوریں، پلاؤ، سفید چاول اور قورمہ خصوصی طور پر رکھا گیا۔

نواز شریف کا سامان جیل پہنچادیا گیا ہے جب کہ وہ قافلے کی صورت میں جیل پہنچیں گے ، ان کے ہمراہ مریم نواز کے علاوہ اہل خانہ اور پارٹی رہنما اور کارکن بھی ہوں گے، جو مختلف مقامات پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے لگائے گئے کیمپوں میں مختصر خطاب کریں گے۔

نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر قائم ہیں

جاتی امرا کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان تباہی کے راستے پر ہیں، انہیں اگر یہ منظور ہے تو چلتے رہیں، نواز شریف کے بیانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اب بھی نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیل عملہ لینے کے لیے آیا ہے تو کیا ہوا ہم اپنے وقت کے مطابق ہی کوٹ لکھپیت جیل جائیں گے، قانون کے مطابق نواز شریف آج رات بارہ بجے سے پہلے کسی بھی وقت جا سکتے ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جیل قوانین پر عمل کیا جائے گا، نواز شریف لاک اپ بند ہونے سے پہلے جیل پہنچیں، جیل میں انہیں نیا قیدی نمبر الاٹ کیا جائے گا۔  نواز شریف کو پہلے والی بیرک میں ہی رکھا جائےگا، اور انہیں بی کلاس دی جائے گی، جہاں انہیں اخبار، ٹی وی، دو کرسیاں، چارپائی، میٹرس، فریج وغیرہ کی سہولت فراہم ہوگی۔ نواز شریف کو نیا مشقتی بھی فراہم کیا جائے گا جو جیل قیدیوں میں سے ہوگا۔

دوسری جانب مریم نواز کا کہنا ہے کہ جتنا کٹھن فیصلہ ایک باپ کا بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل جانے کا تھا، اتنا ہی کٹھن ایک بیٹی کا اپنے محبوب والد کو جیل چھوڑ کر آنا ہے، مگر میں جاؤں گی کیونکہ مقصد قومی ہے اور باپ بیٹی کے رشتوں سے کہیں بڑا ہے، قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں، انشاءاللہ میں کارکنوں کے ساتھ ہوں گی۔

وزیراعظم سے اسد عمر کی ملاقات، وفاقی کابینہ میں شمولیت کا امکان

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے ناراض رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس کے بعد ان کے دوبارہ کابینہ میں شمولیت کے امکان پیدا ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے سابق وزیر خزانہ اسدعمر نے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، معاشی و اقتصادی معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات میں اسد عمر کی وفاقی کابینہ میں واپسی کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اسد عمر کی کابینہ میں واپسی  کا جلد امکان ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسدعمر سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے اور انہیں پیٹرولیم کی وزارت دینے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم اسدعمر نے فوری طور پر کوئی بھی وزارت لینے سے معذرت کرلی تھی۔

انقلابی بلدیاتی نظام………عوامی مسائل دہلیز پر حل ہونگے

وزیراعظم نے کہا کہ وہ انقلابی بلدیاتی نظام لارہے ہیں ،پرانے نظام میں کرپشن تھی ، اب پنجاب میں پنچائیت کے براہ راست انتخابات ہونگے ، یہ اقدام احسن ہے، بلدیاتی نظام آنے سے یقینی طورپر اختیارات نچلی سطح پر ٹرانسفر ہونگے جس کی وجہ سے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونا شروع ہو جائیں گے ، کیونکہ ہر ایک علاقے کا چیئرمین اوریونین کونسل کے ممبر تک عام آدمی کی رسائی ہوگی ۔ نیز میئر بھی وہی کا ہوگا جو ہر وقت عوام کی دسترس میں دستیاب ہوگا جو بھی مسئلہ درپیش ہوگا عوام براہ راست ان بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے حل کرانے کے مجاز ہونگے ۔ کیونکہ ممبر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرنے میں حلقے کے لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات اور مصائب درپیش ہوتے ہیں ، بعض اوقات تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی حلقے کا ممبر قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی یا اگر وزیر ہے تو اس کی کئی کئی مہینوں تک اپنے حلقے کے لوگوں سے ملاقات ہی نہیں ہوپاتی، عوام اپنے حقوق کیلئے ترستے رہتے ہیں ، شوروغوغا مچاتے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہوتی ۔ لہذا اس اعتبار سے بلدیاتی نظام ایک اچھا اقدام ہے ، رہ گئی اس میں یہ بات کہ ایک لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ لفظ ہے ’’ انقلابی‘‘ اب یہ تو نظام آنے کے بعد پتہ چلے گا کہ اس کے آنے کے بعد کتنے انقلابات برپا ہوتے ہیں چونکہ بقول وزیراعظم کے پرانے نظام میں کرپشن تھی اور وزیراعظم کا ایک ہی نعرہ ہے کہ وہ ہر چیز پر کمپرومائز کرسکتے ہیں لیکن کرپشن کرنے پر ایک فیصد بھی معافی موجود نہیں ہے ۔ ہونا بھی نہیں چاہیے جس نے قومی خزانے کولوٹا ، عوام کا پیسہ کھایا ، کرپشن کی اس کو قرار واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے ۔ نئے بلدیاتی نظام میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا میکنزم بنائے جس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور ہر ماہ کونسل کی سطح پر ہونے والے اخراجات کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر باقاعدہ اس کو شاءع کیا جائے ۔ ایک ایک پائی کا حساب واضح ہونا چاہیے کہ اگر ایک محلے کی گلیاں وغیرہ پختہ کرانے کیلئے 50لاکھ روپے دئیے ہیں تو وہ سب کے سب اسی متعلقہ منصوبے پر خرچ ہونا یقینی بنایا جائے اور اس کیلئے لازمی ہے کہ تمام حساب کتاب عوام کے سامنے رکھا جائے تب ہی اس پروگرام کو انقلابی کہا جاسکتا ہے ۔ گو کہ وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب کی 22ہزار پنچائیت کو40 ارب کے فنڈز ملیں گے ، مسئلہ فنڈز کے ملنے کا نہیں اصل مسئلہ ان کو خرچ کرنے کا ہے کہ مناسب جگہ پر ، صحیح انداز میں خرچ کیے جائیں ۔ نیز اس انقلابی بلدیاتی نظام میں وزیراعظم جزا و سزا کی شق کو بھی ترجیحی بنیادوں پرشامل کریں کہ اگر ایک ماہ کے دوران جو فنڈ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کیلئے مختص نہیں کیے وہاں پر خرچ نہ ہونے کی پاداش میں متعلقہ چیئرمین ،کونسلر یا میئر ذمہ دار ہوں گے اور نہ صرف وہ اپنی نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ قرار واقعی سزا بھی ملے گی ۔ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہوگیا ،ترمیم کے تحت صوبے بھی ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہے،نئے بلدیاتی نظام سے نئی لیڈرشپ سامنے آئیگی،22 ہزاردیہات میں براہ راست پیسہ جائیگا، شہروں میں میئر کا الیکشن بھی براہ راست ہوں گا،جب تک شہراپنا پیسا اکٹھا نہیں کریں گے، ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں ،نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سے ;200;رہی ہیں اور کون کررہا ہے;238; پہلے کہا تھا کہ پہلا سال مشکل گزرے گا ۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپی کے میں ویلیج کونسل کے براہ راست انتخابات ہوتے ہیں اور اب پنجاب میں 22 ہزار پنچاتیوں کے براہ راست انتخابات ہوں گے، پنچاتیوں کو 40 ارب روپے کے فنڈز دیں گے پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پر زیادہ کرپشن ہوئی تھی ۔ یوسی ارکان ضلع ناظم کو بلیک میل کرتے تھے، دنیا میں کہیں بھی ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز نہیں دیئے جاتے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں تحصیل ناظم کا انتخاب براہ راست ہوگا ۔ اضلاع بڑے ہوگئے ہیں ، اب ہم نے تحصیل کی سطح تک یونٹ بنا دیئے ہیں ۔ نئے نظام کے تحت 2 سطح پر انتخاب ہوگا، نئے نظام میں تمام فنڈز عوام پر خرچ ہوں گے ۔ شہروں میں میئر کا الیکشن بھی براہ راست ہوں گا، ہمارے شہر کھنڈر بنتے جارہے ہیں ، وہاں سہولتیں ختم ہوتی جارہی ہیں جب تک شہراپنا پیسا اکٹھا نہیں کریں گے، ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں ۔ شہر پھیلتے گئے، پی ایس ڈی پی میں شہروں کیلئے اتنا پیسا نہیں ہوتا، بلدیات کا پیسا ایم این ایز اور ایم پی اے کو دے دیا جاتا ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو ڈویلپمنٹ فنڈز نہیں ملتے ،کوئی شک نہیں کہ آگے جا کر ایم این ایز کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ کراچی سال میں صرف دو کروڑ 10 لاکھ ڈالر اکٹھے کرتا ہے، کراچی کی حالت دیکھیں ، وہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی، ضلع جتنا بڑا ہوگا اس کا انتظام چلانا اتنا ہی مشکل ہوگا ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس پیسہ اکٹھا کرنے کی اہلیت نہیں آئی ہے، اور وہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہے، وفاق دیوالیہ ہوگیا ۔ لوگوں کو گورننس دینا حکومت کی پہلی ترجیح ہے، مجھے نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سے آرہی نہیں اور کون یہ بات کررہا ہے ۔ صدارتی نظام کی بات ہماری جانب سے نہیں ہوئی، اس نظام کے لیے سب سے پہلے پارلیمنٹ کو متحد ہونا ہوگا ۔ کرپشن کا سسٹم ٹھیک کر دیا تو گارنٹی دیتا ہوں کوئی ہ میں ہرا نہیں سکے گا ۔ شہر کا میئر الیکشن کے بعد اپنی کابینہ لے کر آئیگا، پہلی دفعہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے ۔ کوئی بھی اداروں کو ایک دم ٹھیک نہیں کر سکتا، جتنی صلاحیتیں پاکستان میں ہے کہیں نہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سسٹم ہی نہیں ٹیلنٹ اوپر نہیں ;200;پاتا، جب بھی تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے مافیا بھرپور مزاحمت کرتا ہے ۔ ادھر وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں توانائی کے حوالے سے جائزہ لیا گیا ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18 میں محض ایک سال میں گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ دسمبر2018سے مارچ 2019تک بجلی چوری کی روک تھام اور واجب الادا رقوم کی وصولیوں کی مد میں محض چار ماہ میں 48ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے جوکہ رواں سال کے اختتام تک 80ارب تک پہنچ جائے گی ۔ اضافی وصولیاں ;200;ئندہ سال110ارب تک پہنچ جائیں گی ۔

رمضان المبارک اور ہوشربا ء مہنگائی

رمضان المبارک کی آمد ہوتے ہی ملک بھر میں مہنگائی کا ہوشربا طوفان برپا ہوگیا ہے، اشیاء خوردونوش تو عام بازار میں مہنگی ہونا ہی تھیں اس پر سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے جا لگیں جس کی وجہ سے مہنگائی کو مزید چارچاند لگ گئے ۔ اب اس کا ذمہ دار کون ہے;238; حکومت یا بین الاقوامی سطح پر بڑھنے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مگر ہمارا حکومت سے سوال یہ ہے کہ جب ن لیگ کی حکومت تھی اس وقت تحریک انصاف حساب کرکے بتاتی تھی کہ اتنے لیٹر پٹرول منگوایا جاتا ہے اور اتنی زیادہ قیمت بڑھا کر عام عوام کو فروخت کیا جاتا ہے اب حکومت کیا کررہی ہے ۔ 108 روپے فی لیٹر کی قیمت ناقابل برداشت ہے اسی وجہ سے عوام بھی چیخ رہی ہے اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف شدید احتجاج کیا، ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراو کیا شدید نعرے بازی کی، اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کو چلنے نہ دیا اورحکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے طوفان کے آگے بندھ باندھے ورنہ اپوزیشن سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہو جائے گی ۔

مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت نہیں ان سے منسلک کیا گیا ہے، معاون خصوصی اطلاعات

اسلام آباد: معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ 30 ہزار مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت نہیں ان سے منسلک کیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں توانائی کے مسئلے اور 19 ہزار مدرسوں کو ریگولر کرنے کے لیے تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 ہزار مدرسوں کو محکمہ تعلیم کے ماتحت نہیں ان سے منسلک کیا گیا ہے لہذا وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کے حوالے چلنے والی خبریں درست نہیں جب کہ تمام مدارس کی ون ونڈو رجسٹریشن ہوگی۔

معاون خصوصی اطلاعات کا کہنا تھا کہ مدارس کے بچوں کو کپیسٹی بلڈنگ کے ساتھ ووکیشنل ٹریننگ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، مدارس کے اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ کے نظام کو شفاف بنایا جائے گا، وزارت تعلیم مدارس کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کرے گی،مدارس میں بیرون ملک سے آکر پڑھنے والوں کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور ووکیشنل ٹریننگ کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اجلاس میں رمضان المبارک کے مہینے میں بجلی کی فراہمی پر بریفنگ دی گئی جب کہ پٹرولیم منصوعات کے حوالے سے بھی ای سی سی میں غورکیا گیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے انٹرینمنٹ اینڈ گفٹ بجٹ ختم کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد اب چائے پانی کا خرچہ وزیر کو اپنی جیب سے کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان مزدوروں کی بھرتیوں کے حوالے سے معاہدے کی منظوری دی گئی ہے جب کہ ادوایات کی قیمتوں میں کمی کرکے 7 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔

قطر کا فلسطینیوں کے لیے 48 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

دوحہ: قطر کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے 480 ملین ڈالرز کی امدادی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر نے شدید مالی مشکلات کی شکار فلسطینی انتظامیہ کی معاونت کے لیے 480 ملین ڈالرز کی امدادی رقم مختص کی ہے، یہ رقم تعلیم، صحت اور فوری انسانی ضروریات کی فراہمی کی مد میں استعمال کی جائیں گی۔ فلسطین میں پناہ گزین کیمپوں میں تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات زندگی کے فقدان کا سامنا ہے۔

قطر نے فلسطین کو فوری مالی امداد کا اعلان امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو رقم کی فراہمی کی بندش کے بعد کیا ہے، امریکا نے فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی  تمام تر امداد ختم کردی تھی جب کہ اسرائیل نے فلسطینی علاقے سے حاصل ہونے والے محصولات دینا بند کردی تھیں۔

قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس امداد سے فلسطینی اتھارٹی کی مالی مشکلات میں کمی واقع ہوگی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی حالت زار بہتر ہو جائے گی۔ فلسطین اتھارٹی نے امدادی رقم کے اعلان پر قطر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کا اقدام قابل ستائش ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر نے بیت المقدس میں کام کرنے والے 6 اسپتالوں کو دی جانے والی امداد میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی کٹوتی کر دی تھی جب کہ اس سے قبل اکنامک فنڈز سپورٹ کے 200 ملین ڈالر اور اونرا کو دی جانے والی امداد کو بھی روک دیا گیا تھا۔

پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں

پشتون تحفظ موومنٹ’پی ٹی ایم‘ کے نام سے منظر عام پر آنیوالی تنظیم بظاہر نقل مکانی کرنیوالے بے گھر افراد کی آواز نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں یہ تنظیم ففتھ جنریشن ہائبرڈ جنگ کا ایک حصہ ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا رکھتی ہے ۔ ا س تنظیم کے کرتا دھرتا پشتون کارڈ استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور پاکستانی عوام کے ذہنوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا بھر رہے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ڈی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کوتنبیہ کی تھی کہ وہ اپنی حدود میں رہ کر مطالبات کرے ۔ بیرون ملک رابطوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ حقیقت بھی منظر عام پر آئی ہے کہ پی ٹی ایم کو افغان حکومت سے اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی حمایت حاصل ہے ۔ افغان صدر اشرف غنی بھی ان کی پشت پر ہیں ۔ پی ٹی ایم صر ف پاکستان حکومت اور اداروں کے خلاف ہی مظاہرے کیوں کرتی ہے ۔ کیا کبھی پی ٹی ایم نے امریکہ، را یا این ڈی ایس کے خلاف کوئی مظاہرہ کیا ۔ یہ ممالک اور ایجنسیاں بھی تو افغانستان میں پشتونوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں ۔ پی ٹی ایم ان کے خلاف کیوں نہیں بولتی ۔ سوال یہ ہے کہ منظور پشتین اور دیگر اس وقت کہاں تھے جب لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے تھے اورسروں سے فٹبال کھیلا جاتا تھا ۔ اس وقت پاک فوج نے جا کر دہشت گردوں سے لڑائی کی تھی اور اگر آج حالات ٹھیک ہیں تو تحفظ کی بات آ گئی ہے ۔ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم والے غیروں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں ان کا وقت اب پورا ہو گیاہے ۔ لیکن آرمی چیف کی ہدایت ہے کہ پی ٹی ایم کے جوانوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ پی ٹی ایم کی قیادت اصل میں کس کے ہاتھ بک چکی ہے ۔ پی ٹی ایم جب شروع ہوئی تو سب سے پہلے آرمی چیف کے کہنے پر میری ان کے ساتھ بات چیت ہوئی ۔ میری اپنی محسن داوڑ اور ان کے باقی نام نہاد افراد سے بات ہوئی ان کے تین مطالبے تھے جو کافی حد تک پورے ہو چکے ہیں ۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ مائنز کا تھا کیونکہ وہاں پر جنگ ہوئی تھی تو ہ غیر تباہ شدہ بم موجو دتھے ۔ جب ہمارا ساتھی شہید ہوتاہے تو ہم اس کی میت بھی وہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ہماری ترجیح اسے اٹھانا نہیں بلکہ آپریشن کامیاب کرناہے ۔ یہ مطالبہ درست تھا اس پر ہم نے کام کیا اور48 ٹی میں لگائیں اور انہوں نے 45 فیصد علاقے کو مائنز سے کلیئر کر دیاہے ۔ جب سے کلیئرنس آپریشن شروع کیاہے اور پاک فوج کے کئی جوان شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ علاقے میں جو چیک پوسٹ ہیں ان کو ختم کیا جائے ۔ پاک فوج پاکستان کی فوج ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف ان آپریشنز کے دوران چھ ہزار شہادتیں ہوئیں ۔ اس چیک پوسٹ پر موجود فوجی جو پاکستان کے کسی بھی حصہ سے ہو سکتا ہے ،کی شہادت ہوئی تو وہ وہاں اپنی فیملی کی حفاظت کیلئے نہیں تھا ۔ تیسرا مطالبہ گمشدہ افراد کا تھا ۔ 7 ہزار کی لسٹ تھی جس پر کام ہو رہاہے اور وہ کم ہو کر 25 کی رہ گئی ہے جو کہ ابھی حل نہیں ہوئے ۔ یہ مطالبہ ان کا نہیں بلکہ ان پٹھان بھائیوں کا ہے جو کہ وہاں رہتے ہیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ کے مالی معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے الزامات عائد کیے ہیں کہ انھیں مختلف مقامات پر احتجاج کےلئے بھارت کے خفیہ ادارے را اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوتی رہی ہیں ۔ پی ٹی ایم سے چند سوالات ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں کہ 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے ان کو احتجاج جاری رکھنے کیلئے کتنے پیسے دیئے اور وہ کہاں ہیں ۔ اسلام آباد میں دھرنے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے انہیں کتنے پیسے دیئے اور وہ کس طریقے سے پہنچے اور کہاں استعمال ہوئے ۔ 8 اپریل 2018 میں قندھار میں واقع بھارتی قونصلیٹ میں منظور پشتین کا کونسا رشتہ دار تھا جو کہ اس قونصل خانے میں گیا اور ملاقات ہوئی اور کتنے پیسے دیئے اور وہ پاکستان کیسے آیا ۔ 8 مئی 2018 جلالہ آباد کے بھارتی قونصل خانے نے طورخم میں ریلی کیلئے کتنے پیسے دیئے اور وہ کہاں ہیں ۔ 2018 مئی میں بھارتی سفارتکاروں نے کتنے ڈالر دیئے اور کس طرح آپ کے پاس پہنچے ۔ پشاور کے جلسے کیلئے این ڈی ایس نے آپ کو کتنے پیسے دیئے ۔ آپ کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے ۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے ، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے;238;جب ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوئے تو حکومت پاکستان نے حکومت افغانستان سے ان کے جسد خاکی کی واپسی کےلئے بات چیت شروع کی ۔ اس کےلئے ایک طریقہ کار ہے لیکن پی ٹی ایم کس بنیاد پر وہاں بات کررہی تھی کہ ہ میں قبیلے کی سطح پر جسد خاکی دیا جائے ۔ کیوں منع کیا گیا کہ طاہر داوڑ کا جسد خاکی حکومتی نمائندوں کو نہیں دینا ۔ اگر آپ اپنے آپ کو پاکستان کا ایم این اے ہیں مانتے ہیں تو آپ پر پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔ آپ کیسے زبردستی سرحد پار کرکے افغانستان جاسکتے ہیں اور ساتھ لوگوں کو بھی لے کر جائیں ;238; کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ آپ اشتعال انگیزی کرائیں ۔ لوگوں کو پکڑیں ایک جلوس بنائیں اور کہیں کہ میں نے آج افغانستان جانا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے بیانیہ کیوں ملتا ہے ۔ واضح بات ہے کہ پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں ۔ حکومت ان سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بھاگ بھاگ کر امریکا، افغانستان اور بلوچستان چلے جاتے ہیں ۔ مسائل فاٹا میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں کیمپ لگائیں اور بولیں حکومت اور فوج آئے پھر دیکھیں کون نہیں جاتا ۔

شوبز شخصیات کی جانب سے مداحوں کو رمضان کی مبارکباد

رمضان المبارک کی آمد پر جہاں سب ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں وہیں شوبز شخصیات کی جانب سے بھی اپنے مداحوں کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔

عدنان صدیقی:

نامور اداکار عدنان صدیقی نے انسٹاگرام پر رمضان کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے سب کو خصوصی پیغام دیا اور کہا کہ میں کچھ سیکھا نہیں رہا صرف کچھ باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ میں سب سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ کھانا ضائع مت کریں کیونکہ کبھی ہم روزے کے باعث بہت زیادہ پکوان بنالیتے ہیں جو آخر کار ضائع ہوجاتا ہے اگر ہم اس (ضائع ہونے والا کھانا) کو ضرورت مندوں کو دیں گے تو زیادہ ثواب ملے گا۔

عدنان صدیقی نے نے کہا کہ میں نے غور کیا ہے کہ ہم اکثر روزے میں حواس باختہ ہوجاتے ہیں جب کہ روزہ صبر اور اپنے آپ میں برداشت کا نام ہے، ہم اللہ کے لیے روزہ رکھتے ہیں پھر کیوں ہم بے تکی گاڑی چلاتے ہیں اور روزے کی حالت میں دوسروں پر غصہ کر بیٹھتے ہیں۔

اداکار نے پیغام دیتے ہوئے مزید لکھا کہ یہ بوجھ نہیں یہ رحمتوں والا مہینہ ہے جس میں عبادت کی جاتی ہے اور محبت پھیلائی جاتی ہے۔

عدنان صدیقی نے ساتھ ہی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سب کو رمضان المبارک کہا اور خوشیوں کے ساتھ رمضان منانے کو کہا۔

ماہرہ خان:

سپر اسٹار ماہرہ خان نے رمضان کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ماہ مبارک سب کے لیے رحمتیں اور امن لائے۔

Mahira Khan

@TheMahiraKhan

May this beautiful month bring with it blessings and peace for all! ✨💕

1,026 people are talking about this

فرحان سعید:

گلوکار و اداکار فرحان سعید نے تمام مداحوں کو رمضان کی مبارک باد پیش کی۔

عروہ حسین:

اداکارہ عروہ حسین نے اپنے شوہر فرحان سعید کے ساتھ خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے پاکستان اور ملک سے باہر تمام افراد کو رمضان کے چاند کی مبارک باد دی۔

URWA HOCANE

@VJURWA

آپ سب کو ہماری طرف سے رمضان کا چاند مبارک 💫 !

Wishing everyone in Pakistan and around the globe , a blessed Ramazan ! @farhan_saeed

123 people are talking about this

عائزہ خان:

اداکارہ عائزہ خان نے بھی اپنے شوہر و اداکار دانش تیمور اور بچوں کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر شیئر کی اور سب کو رمضان مبارک کہا۔

بلال عباس خان:

اداکار بلال عباس خان نے انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے ماہ مبارک کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

میکال ذوالفقار:

اداکار میکال ذوالفقار نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور رمضان کی مبارکباد پیش کی۔

ایمن خان:

اداکارہ ایمن خان اس وقت اپنے شوہر منیب بٹ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں جہاں سے انہوں نے دونوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سب کو رمضان کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ محبتوں کو بڑھائیں اور نفرت کو روکیں۔

نجی اسکولز کا کاروبار نہیں چل رہا تو کوئی اور بزنس کر لیں، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیس میں غیر معمولی اضافے کے لیے اسکولز تین سال انتظار کریں اور ان کا کاروبار نہیں چل رہا تو کوئی اور بزنس کر لیں۔

سپریم کورٹ میں اسکول فیس میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں میں آئے روز فنکشن ہوتے ہیں، بچے ان فنکشنز پر کبھی کیک تو کبھی دودھ لیکر جاتے ہیں، منگوائی گئی اشیاء ٹیچرز گھر لے جاتی ہیں، آج تک بچوں کو وہ اشیاء واپس نہیں ملیں جو ان سے منگوائی گئی ہوں۔

بچوں کے والدین نے روسٹر پر آکر کہا کہ نجی اسکولز میں ڈسپلن نہ ہونے کی وجہ سے بچے منشیات کے عادی ہو رہے ہیں اور ان اسکولز میں مغربی طرز زندگی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے یہاں تک کہ ہیلووین پارٹیز بھی ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس نے والدین سے کہا کہ آپ کو ماحول پسند نہیں تو بچوں کا اسکول بدل لیں، کسی نے زبردستی تو نجی اسکول میں پڑھانے کا نہیں کہا، آپ کو ہیلووین ، ویلنٹائن پارٹی اور کنسرٹ نہیں پسند تو اسکول چھڑوا دیں، عدالت نے اسکولز کے نظام کو نہیں بلکہ قانون کو دیکھنا ہے۔

والدین نے کہا کہ فیس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ مناسب ہے، اس سے زیادہ اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ والدین سمیت سب کے مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرینگے۔

چیف جسٹس نے اسکولز کے وکیل سے پوچھا کہ کیا ہیلووین پارٹی کیلئے بھی فیس سے الگ پیسے لئے جاتے ہیں؟۔ تو وکیل نے جواب دیا کہ ٹیوشن فیس کے ساتھ فیس اسٹرکچر میں سب کچھ شامل ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی حقوق واپس نہیں بلکہ ریگولیٹ کیے جا سکتے ہیں، تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، نجی اسکولز کو ریگولیٹ کرنا بھی ریاست کا کام ہے، اسکولز کو سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو اپنا لائسنس سرنڈر کردے، نجی اسکولز کا کاروبار نہیں چل رہا تو چھوڑ کر اور بزنس کر لیں، ان اسکولوں میں جو ہوتا ہے سب معلوم ہے، یونیفارمز کتابوں پر الگ سے کمائی کی جاتی ہے، ان اسکولز کے نفع اربوں میں ہیں، نقصان اگر ہو بھی تو صرف نفع میں ہوتا ہے، فیس میں غیر معمولی اضافے کے لیے اسکولز تین سال انتظار کریں۔

Google Analytics Alternative