Home » 2019 » May » 10

Daily Archives: May 10, 2019

کراچی انسداد تجاوزات کیس میں وزیر بلدیات سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس

کراچی: سپریم کورٹ نے فوجی زمینوں پر شادی ہالز سے متعلق سیکریٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی تو اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع، میئر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل، ایم ڈی واٹر بورڈ، کنٹونمنٹ کے افسران اور دیگر اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس

انسداد تجاوزات آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر بلدیات کہتے ہیں میں عدالتی حکم پر عمل نہیں کروں گا، میئر کراچی بھی بولتے پھر رہے ہیں ہم عمارتیں نہیں گرائیں گے، کیا یہ لوگ عدالت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، پورے شہر میں لینڈ مافیا منہ چڑا رہا ہے اور یہ ایسی باتیں کرتے پھر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ درخواست گزار محمود اختر نقوی نے کہا کہ سعید غنی نے عدالتی حکم کے خلاف تقریر کی اور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت چاہے تو 5 منٹس میں بلڈوزر منگوا کر آپریشن شروع کرسکتی ہے، اگر تجاوزات ختم کرنا چاہے تو کیوں نہیں کام ہوسکتا۔

دوران سماعت سینئر وکیل رشید اے رضوی اور بینچ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ رشید اے رضوی نے فاضل جج سے کہا کہ آپ کسی کو نہیں سن رہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں جبکہ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے توغلط ہے۔

فوجی زمینوں پر شادی ہالز گرانے کا حکم

سپریم کورٹ نے فوجی زمینوں پر شادی ہالز اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق سیکریٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹس سے تمام تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے اور شادی ہالز و تجارتی مراکز گرانے کے حکم پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پہلے آپ لوگ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کریں، کیونکہ عام آدمی پوچھتا ہے ہم بعد میں تجاوزات ہٹائیں گے پہلے کنٹونمنٹ سے ہٹوائی جائیں، آرمی کا شادی ہال چلانے کا کیا جواز بنتا ہے، فوجیوں کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ شادی ہال بنائیں، فوج کو کیا اختیار ہے کہ سرکاری زمین کسی فرد کے حوالے کردے۔

ڈی جی ایس بی سی اے پر اظہار برہمی

جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) افتخار قائم خانی پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کورٹ سے جیل جائیں گے، ہم نے حکم دیا تھا کہ کراچی سے غیر قانونی تجاویزات ختم کروائیں اس کا کیا ہوا؟ کارروائی کہاں تک پہنچی؟، غیر قانونی تجاویزات کو ختم کریں یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اس پر عمل کریں۔

کراچی میں فساد کا خطرہ

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں بجلی ہے نہ پانی ہے نہ اسپتال ہے، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے گھر بنا کر دیے ہوئے ہیں، سڑکوں کی حالت تباہ ہوچکی ہے، روڈ پر عوامی بیت الخلا نہیں، سائن بورڈز اور انڈر پاس تک نہیں،  نہ پارکس ہیں نہ کھیل کے میدان، سب تباہ ہوگیا ہے، کراچی والے آفت زدہ زندگی گزار رہے ہیں، عدالت آگاہ کررہی ہے کراچی میں کسی روز بہت بڑا فساد ہوگا۔

سرکلر ریلوے ایک ماہ میں چلانے کا حکم

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماہ میں چلانے کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکریٹری کو میئر کراچی اور دیگر حکام کے ساتھ مل کر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سیکریٹری ریلوے کو حکم دیا کہ ریلوے اراضی سے ہر حال میں دو ہفتے میں تجاوزات ختم کریں۔

سی بریز پلازہ گرانے کا حکم

سپریم کورٹ نے ایم اے جناح روڈ پر 15 منزلہ سی بریز پلازہ کو فوری طور پر گرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ خطرناک قرار دی گئی عمارت شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ ہے، ڈائریکٹر کنٹونمنٹ لینڈ عمل درآمد کرکے رپورٹ پیش کریں۔

عدالت عظمیٰ نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) سے ہندو جیم خانہ فوری خالی کرانے اور وائی ایم سی اے سے بھی کمرشل سرگرمیاں فوری ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ علیگڑھ والوں نے بھی ہندو جیم خانہ کی زمین پر غیرقانونی عمارت بنالی ہے۔

پی آئی اے چل نہیں رہی اور شادی ہال بنارہے ہیں

سپریم کورٹ نے ایوی ایشن کی زمین نجی استعمال کیلئے دینے پر پی آئی اے کے نمائندے کو طلب کرلیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایوی ایشن کو کس نے اختیار دے دیا کہ وہ زمین بانٹے، کسی صاحب کو خوش کرنے کے لیے اسکول کو زمین دے دی، آپ کی زمین پر جو تعمیرات ہورہی وہ ختم کریں، آپ سے پی آئی اے چل نہیں رہی اور زمینوں پر شادی ہال بنارہے ہیں، اس سب کو ختم کریں۔

کیا پتہ میں بھی شہید ہوجاؤں یا مارا جاؤں، جسٹس گلزار احمد

کراچی میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے دلچسپ ریمارکس دیے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کراچی میں پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرکے شہیدوں کے نام کردیے گئے۔ اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ شہید کا تو بڑا رتبہ ہوتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہاں شہدا کا بڑا رتبہ ہوتا ہے، ہم شہیدوں میں نمبر ون ہیں کیا پتہ میں بھی شہید ہوجاؤں یا مارا جاؤں۔ تو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ شہید کیلئے تو بڑی سخت شرائط ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے میں مارا جاؤں تو شہید نہیں ہوں گا؟، ہم تو پیدا ہی شہید ہونے کے لیے ہوئے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد کے جملے پر کمرہ عدالت کشت زعفران بن گیا۔

فاضل جج کا میئر کراچی وسیم اختر سے بھی معنی خیز مکالمہ ہوا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ڈرائیو ان سینما ختم کردیا گیا آپ نے نہیں روکا، اس جگہ پر اتنا بڑا پلازہ بن گا کہ اب سانس لینا بھی مشکل ہے، میئر صاحب آگے آجائیں۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جوہر میں مال میں آگ لگی رہائشی علاقہ ہونے سے سانس لینے میں مشکلات ہوئی، مجھے بھی ایسی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ جب ہی آپ نے اپنا سیاسی جنازہ نکال لیا ہے۔

وزیراعظم نے بتادیاسخت فیصلے کرناپڑتے ہیں

پاکستا ن تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس میں اراکین نے وزیراعظم سے خوب کھل کرشکوے کئے بلکہ انہوں نے کہاکہ غیرمنتخب لوگوں کی بجائے عوامی نمائندوں کوموقع دیاجائے، یہ جملہ توچھوٹاسا ہے مگراس کے اندرایک طویل معنی پنہاں ہیں ظاہری سی بات ہے کہ جب ٹیکنوکریٹس کی خدمات لی جائیں گی تو پھرمنتخب افراد کی توحق تلفی لازمی ہوگی اب عمران خان کی بھی مجبوری ہے کہ انہوں نے جس ٹیم کا انتخاب کیاتھا وہ اس طرح کے نتاءج نہ دے سکی جس طرح وہ چاہتے تھے، اول تو ٹیم میں کوئی ماہر تھاہی نہیں اوراگرتھا وہ رزلٹ دینے سے قاصررہا جس کی وجہ سے وزیراعظم کوایسے فیصلے کرنے پڑے جو ان کی ٹیم ممبران پرگراں گزررہے ہیں ۔ ماہر اورٹیکنوکریٹس کے کام کرنے کا اپناہی ایک طریقہ ہوتاہے وہ سنتے کسی کی کم ہیں اور اپنا کام زیادہ کرتے ہیں جبکہ سیاسیوں کاخاصا یہ ہے کہ وہ کام کم کرتے ہیں اور دوسروں کی سنتے زیادہ ہیں مگرحالات کاتقاضا یہ تھا کہ حکومت نے جووعدے کئے انہیں ہرطرح سے پوراکرناتھا جوکہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے اسی وجہ سے وزیراعظم نے کہاکہ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں اب نئی معاشی ٹیم آگئی ہے بہت جلد بہتری آئے گی اب یہ بہتری کس صورت میں آتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر ہم حکومت کویہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے مطالبات اس حدتک تسلیم کرے جس حدتک عوام برداشت کرسکے ۔ ابھی تک جو خبریں آرہی ہیں اس حساب سے تواعلامیہ جاری ہونے سے پہلے ہی عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں اپوزیشن کی جانب سے بھی خاصی مزاحمت سامنے آرہی ہے پی ٹی آئی کے اپنے اراکین بھی ڈانواں ڈول ہیں ، پارلیمانی اجلاس میں ارکان اسمبلی نے کابینہ میں غیرمنتخب لوگوں کی شمولیت پر وزیر اعظم سے گلے شکوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا، غیر منتخب لوگوں کے بجائے عوامی نمائندوں کو موقع دیا جائے تو اچھے نتاءج ;200;ئیں گے، اپوزیشن کو خود تنقید کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ;200;پ کے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک لیکن کچھ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں ،اسد عمر کو تبدیل کرناسخت فیصلہ تھا، اسد عمر ;200;ج بھی میرا راءٹ ہینڈ ہے،وزیر اعظم عمران خان نے تمام ارکان پارلیمنٹ کو نئے بلدیاتی نظام کو بھرپور سپورٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا بلدیاتی نظام انقلابی ہے ،نظام سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی ،نئے بلدیاتی نظام سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، نئی معاشی ٹیم ;200;گئی ہے، بہت جلد بہتری ;200;ئےگی ۔ اجلاس میں نئے بلدیاتی نظام پر مشاورت کی گئی اور وزیراعظم نے نئے بلدیاتی نظام پر ارکان پارلیمنٹ کو بریف کیا اور ملکی معاشی صورتحال پر بھی بات کی ۔ نئے بلدیاتی نظام سے ملک کی تقدیر بدل جائےگی ، تمام ارکان پارلیمنٹ نئے نظام کو بھرپور سپورٹ کریں ، نئے بلدیاتی نظام سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے ۔ نئی معاشی ٹیم ;200;گئی ہے، بہت جلد بہتری ;200;ئےگی ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے فاٹا انضمام کی صورتحال سے ارکان کو ;200;گاہ کرتے ہوئے کہا فاٹا کے انضمام کے بعد فوری ترقیاتی کام شروع کررہے ہیں ، مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے اجلاس کے ارکان کومعاشی صورتحال پربریف کیا اور آئی ایم ایف سے معاملات میں پیشرفت پر آگاہ کیا ۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے گلے شکوے کئے ۔ ارکان قومی اسمبلی نے کہا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا، غیر منتخب لوگوں کے بجائے عوامی نمائندوں کو موقع دیا جائے تو اچھے نتاءج ;200;ئیں گے، اپوزیشن کو خود تنقید کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ;200;پ کے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک لیکن کچھ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں ،اسد عمر کو تبدیل کرناسخت فیصلہ تھا، اسد عمر ;200;ج بھی میرا راءٹ ہینڈ ہے ۔ وزیراعظم نے ارکان کو اسمبلی اجلاس ختم ہوتے ہی حلقوں میں جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا حلقوں میں جائیں ، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر رمضان پیکج پر عملدر;200;مد کرائیں ۔ ارکان قومی اسمبلی نے نیا بلدیاتی نظام لانے پر وزیراعظم کی تعریف کی، اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پنجاب کا بلدیاتی نظام اچھا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان سے ہاورڈ کلب ;200;ف پاکستان کے وفد نے ملاقات کی،وزیراعظم نے کہاکہ نوجوان ملک کاحقیقی اثاثہ ہیں ،انکی بھرپور شرکت کے بغیر ترقی کا عمل ادھورا رہے گا، یہ امر باعث اطمینان ہے کہ نوجوانوں کو ملک کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے، حکومت ان مسائل کے حل کےلئے نوجوانوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ وفد نے وزیر اعظم عمران خان کو ملکی معیشت کی بہتری، فوجداری مقدمات سے متعلقہ انصاف کے طریقہ کار(کریمنل جسٹس سسٹم)، توانائی کے شعبے، ذراءع رسل و رسائل (لاجسٹکس)کی بہتری، نظام تعلیم میں اصلاحات، ملکی قومی تشخص کواجاگر کرنے، ملکی سیاحت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے وغیرہ جیسے اہم معاملات پراپنی تجاویز پیش کیں ۔ نوجوان ملک کاحقیقی اثاثہ ہیں ۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ نوجوانوں کو ملک کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے اور حکومت ان مسائل کے حل کےلئے نوجوانوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ نوجوانوں کی بھرپور شرکت کے بغیر ترقی کا عمل ادھورا رہے گا ۔

آئی ایم ایف کے فیصلے۔۔۔مہنگائی کاطوفان آنے کی ’’نوید‘‘

عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اوپر سے شنیدیہ ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تقریباً تمام شرائط کومان لیاہے، دنیابھر میں جائزہ لیاجائے تو آئی ایم ایف نے جس ملک میں بھی قدم رکھا وہاں پر غریب کاعرصہ حیات تنگ ہی ہوتاہوانظرآرہاہے کیونکہ آئی ایم ایف کے اپنے مفادات ہیں وہ پیسہ تو ضرور دیتے ہیں مگر وہاں پر عوام کواتناخوارکردیتے ہیں کہ وہ دووقت کی روٹی کو بھی ترسناشروع کردیتی ہے،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تو ویسے ہی قابو سے باہرہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی آسما ن کو چھورہی ہیں اب ہرآدمی کی ضرورت گیس اوربجلی ہے اس کے بغیرزندگی گزارنامحال ہے ،کہاجاتاہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پرگیس اوربجلی کی قیمتیں بڑھانے کافیصلہ کرلیاہے نیزنیپرا اوراوگرا کوقیمتیں بڑھانے کے سلسلے میں خودمختاربنالیاگیاہے اوراس حوالے سے سبسڈی پربھی قدغن لگادی گئی ہے، حکومت نے صارفین سے تین سال کے دوران بجلی اور گیس کی مد میں تین سوچالیس ارب روپے اکٹھے کرنے ہیں اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے گیس اوربجلی دونوں کی قیمتیں بڑھادی جائیں گی پہلے ہی غریب عوام دووقت کی روٹی کو ترس رہی ہے اب جبکہ گیس کے بل بھی پہنچ سے باہرہوجائیں گے تو غریب کاچولہاتوٹھنڈاپڑناہی ہے، آخریہ غریب کہاجائے حکومت کاکام ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو سہولیات بہم پہنچائے مگریہاں تو کچھ نظام اورہی طرح سے چل رہاہے، ووٹرز اورعوام پریشان ہیں اورحکومت سخت سے سخت فیصلے کرنے پرآمادہ نظرآرہی ہے ،انہی حالات کودیکھتے ہوئے پیپلزپارٹی نے بھی کہہ دیاہے کہ حکومت کے خلاف ہرصورت میں تحریک چلائیں گے ۔

ٹرمپ کا چین پر تجارتی معاہدہ توڑنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر تجارتی معاہدہ توڑنے کا الزام عائد کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان چین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے چینی اشیاء پر ٹیکس عائد کیے تو اس کے جواب میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

امریکی صدر نے جمعے کو 200 ارب روپے کی چینی اشیاء پر ڈبل سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ایک طرف دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی اشیاء پر ٹیکس عائد کرنے کے بیانات داغے جا رہے ہیں جب کہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان امریکا میں تجارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔

امریکا میں چین کے وفد کی سربراہی نائب وزیراعظم لیو ہی کر رہے ہیں جنہیں چین میں ایک طاقتور عہیدار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

چینی حکام سے مذاکرات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے، اب انہیں اس کی قیمت چکانا ہو گی۔

خیال رہے کہ 2018 میں امریکا نے چین کی اشیاء پر 250 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کئے جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی اشیاء پر 110 ارب ڈالر کے ٹیکس نافذ کیے۔

ملک میں پی ٹی آئی نہیں یہ پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ داتا دربار لاہور میں دہشت گردی کا واقعہ افسوسناک ہے، اس دن وزیراعظم اسمبلی میں آئے اور دعا بھی کی، لیکن ہمیں امید تھی کہ وزیراعظم قوم سے خطاب کرکے کہیں گے کہ آپکا تحفظ ہماری ترجیح ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا، حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی، حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانا چاہیے اور کالعد م تنظیموں کو فی الفور فارغ کرکے پیغام دیا جائے حکومت سنجیدہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی کوئی سمت نہیں، ملکی معیشت کے بارے میں ملک کی عوام پریشان ہیں، 9 روپے اضافہ کر کے عوام پر پیٹرول بم گرایا گیا، پیٹرول، بجلی اور گیس حکومت کی نااہلی کے باعث مہنگے ہوئے، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہوں کو اچانک ہٹا دیا گیا، ایسا تو نہیں کہ آئی ایم ایف فیصلے کر رہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، ملک میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے، اور جب آئی ایم ایف سے آئی ایم ایف مذاکرات کرے گا توعوام کو تکلیف ہوگی، پارلیمنٹ سےمنظوری نہ لی توآئی ایم ایف ڈیل کونہیں مانیں گے، ہم بھی آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے مگر ہم نے ملکی معیشت پر سمجھوتہ نہیں کیا، ایف آئی آرکاٹنے، نیب گردی اور مخالفین کو جیل بھیجنے کی بجائے اپنا کام کرو۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں 18 ویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہو گیا، سچ یہ ہے کہ صوبے وفاقی حکومت کی ناکامیوں کیوجہ سے دیوالیہ ہو رہا ہے، وفاقی حکومت ناکام ہے اپنے ہی ٹیکس ٹارگٹ حاصل نہیں کر پارہی، وفاق سندھ حکومت سے سیکھے ، سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں ٹیکس کلیکشن ہورہی ہے۔

 

دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے صرف بھارتی ہاتھ

بھارت کے حالیہ انتخابات صرف اور صرف پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہو رہے ہیں ۔ حکمران جماعت بی جے پی اور ان کے سربراہ نریندر مودی اپنے پانچ سالہ دور میں کوئی کارکردگی تو دکھا نہ سکے سو ان کے پاس اب صرف پاکستان دشمنی ہی ایسا موضوع رہ گیا جس پر انہیں ووٹ ملنے کی توقع ہے ۔ حکومت دوبارہ حاصل کرنے اور اپنی اکثریت بنانے کےلئے سب سے پہلے مودی نے پلوامہ سانحہ کیا اور سارا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا ۔ اس حملے کو لے کر بڑے بڑے دعوے کئے گئے ۔ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کےلئے ہر طرح کی سرجیکل سٹرائیک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔ بین الاقوامی طورپر پاکستان کودہشت گرد قرار دینے اور تنہا کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ۔ اسی تناظر میں بالا کوٹ پر بھارت نے فضائی حملہ کیا اور بقول مودی کے، کہ ساڑھے تین سو دہشت گرد اور دہشت گردی کا تربیتی کیمپ بھی تباہ کر دیا گیا ۔ جس روز یہ ڈرامہ کھیلا گیا اسی روز بھارتی گجرات میں انتخابی ریلی سے خطاب میں مودی نے سینہ تان کر پاکستان کو سبق سکھانے کی بڑھکیں بھی ماریں ۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ اس خود ساختہ حملے میں صرف تین یا چار درخت شہید ہوئے ۔ نہ تو کسی عمار ت کی تباہی کے اور نہ ہی کسی جانی نقصان کے کوئی آثار دکھائی دیئے ۔ بعد میں سشما سوراج نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بالا کوٹ میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ۔ اس کے بعد احمد باد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن والے کہہ رہے ہیں یہ تو الیکشن والا کھیل ہے جب ہم نے پہلے سرجیکل سٹرائیک کی تھی تب کہاں الیکشن تھے;238; ۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا وعدہ ہے کہ ہم گھر میں گھس کر ماریں گے ۔ مودی کے انتخابی وعدے صرف وعدے ہی رہ گئے ۔ انہیں کبھی بھی براہ راست حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی مگر مکار ہندو بنیا اپنی سازشوں سے باز نہ آیا ۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی فضاء قائم کر دی ۔ پلوامہ کے بعد وطن عزیز میں جتنی بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں ان سب کے پس پشت بھارتی سرکار ہی دکھائی دی ۔ کوءٹہ میں ہونے والے بم دھماکے، سبزی منڈی میں ہزارہ برادری پر بم دھماکہ، کے پی کے اور بلوچستان میں قانون نافذ کرنےو الے اداروں کے جوانوں پر حملے، سرحد پار سے دہشت گردوں کا حملہ، کوسٹل ہائی وے پر پاک فضائیہ کے جوانوں کو بس سے اتار کر شہید کرنا ۔ ان سب حملوں کے پیچھے صرف اور صرف بھارت ہی نظر آیا ۔ اور اب داتا دربار پر حملہ ۔ یقینا یہ بھی بھارتی شرارت ہی ہے ورنہ کوئی مسلمان دربار پر حملہ کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یہاں بھی پولیس وین کو نشانہ بنا کر عوام کے دلوں میں اپنی حفاظت کے متعلق شکوک و شبہات پید اکرنے کی کوشش کی گئی ۔ داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی، بابا فرید کے مزار پر دہشت گردی کا ارتکاب کوئی مسلمان نہیں کر سکتا کیونکہ ہر فرقہ بلکہ یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان مزارات کا احترام کرتے ہیں اور یہاں حاضری کےلئے آتے ہیں ۔ شدت پسندوں نے ان مزاروں اور مساجد کو بھی نہیں چھوڑا ۔ جہاں امن وآشتی کا پیغام ملتا ہے وہاں ان بدبختوں نے انسانیت کو خون میں نہلا دیا ۔ اولیا اللہ کے مزار ہمیشہ سے امن و آشتی کے مرکز رہے ہیں ۔ یہاں سے ہمیشہ محبت، اخوت، امن و بھائی چارہ کی آواز ہی بلند ہوتی ہے ۔ دہشت گردوں نے یہاں بھی اپنی دہشت گردی دکھانی شروع کر دی ۔ ہر دہشت گردی کے واقعہ کے بعد مودی کی دھمکی کو بنیاد بنا کر سوچا جائے تو اس کے تانے بانے سیدھے بھارت سے جا ملتے ہیں ۔ مغربی سرحد پر جب سے افغانستان بھارتی کالونی بنا ہے ہ میں دہشت گردی کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے ۔ سرحد ی علاقوں میں بھارتی تربیتی کیمپ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں سے دہشت گردی پیدا ہو رہی ہے ۔ صرف مودی ہی نہیں بلکہ بھارتی وزیر دفاع کی دھمکی کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف دہشت گردی استعمال کرے گا، قابل تشویش ہے ۔ لہٰذابھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پاکستان بارے جس قسم کے عزائم رکھتی ہے وہ اب بڑی حد تک نمایاں ہوچکے ۔ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان کسی طور پر دھمکی سے کم نہیں جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک کے ذمہ دار کو ہرگز زیبا نہیں ۔ بھارتی وزیر دفاع کے بیان سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کا ملوث ہونا ثابت ہوگیا ہے ۔ ہ میں قیام پاکستان کے وقت ہی ایک ایسے دشمن بھارت سے پالا پڑ گیا تھاجو تشکیل پاکستان کو اکھنڈ بھارت پر ضرب کاری سے تعبیر کرکے اسکی سلامتی کے درپے ہوگیا جس کے ہندو لیڈران نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کے جال بچھانا اور پھیلانا شروع کر دیئے ۔ بھارتی افواج نے اکھنڈ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ہندو لیڈروں کی آلہ کار بن کر پاکستان کی سلامتی ہی نہیں ‘ پورے خطے کے امن و آشتی پر بھی خطرات کی تلوار لٹکا دی اور اس طرح بھارتی سیاسی و عسکری قیادتوں کے امن کے دشمن والے گھناءونے کردار کی پرتیں بھی کھلنے لگیں ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عساکر پاکستان اپنی پیشہ ورانہ حربی مہارت‘ حوصلہ مندی اور دشمن پر غلبہ پانے کی بے بہا استعداد و صلاحیت کے باعث دنیا کی مانی ہوئی سپاہ میں شمار ہوتی ہیں جو قیام پاکستان کے وقت سے اب تک ایک بزدل و مکار دشمن کے مقابل دفاع وطن کے تقاضے قومی جذبے سے معمور ہو کر نبھا رہی ہیں ۔ جہاں ہ میں اپنے آپ کو متحد کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنا ہے وہاں ہ میں اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ یہ دہشت گردی پیدا کون کر رہا ہے ۔ اس ضمن میں مودی کی دھمکیاں اور بڑھکیں بھی پیش منظر رکھنی ہوں گی کہ بھارتی سرکار انتخابات جیتنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا چاہتا ہے تو کر لے، ہم جواب دینگے ، بھارت طالبان کی سرپرستی کررہا ہے ۔ ابھی حال ہی میں بھارت کو ہمارے جواب کا مزہ چکھنا پڑا ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا ۔

گوگل میں اپنا ڈیٹا خودکار طور پر ڈیلیٹ کرنا سیکھیں

آپ جب بھی گوگل استعمال کرتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک معاہدہ کرلیتے ہیں کہ آپ اس کی جو بھی سروس یعنی جی میل، ڈرائیو، سرچ، یوٹیوب یا میپ استعمال کریں گے، اس کے بدلے میں آپ اپنے بارے میں معلومات اس سرچ انجن کو فراہم کریں گے۔

گوگل اس معلومات کو اشتہاری کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے تاکہ آمدنی حاصل کرسکے اور کمپنیاں اسے اپنی مصنوعات کی فروخت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

گوگل آپ کے بارے میں جاننے کے لیے متعدد طریقہ کار استعمال کرتا ہے، جیسے اگر آپ اینڈرائیڈ فون استعمال کرتے ہیں تو آپ کا نام، فون نمبر، جگہ اور بہت کچھ اس کو معلوم ہوجاتا ہے۔

مگر یہ سرچ انجن انٹرنیٹ پر بھی آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے اور آپ کی دلچسپیوں کا تعین انٹرنیٹ سرچز سے کرتا ہے، یعنی آپ کیا سرچ کررہے ہیں، کس پر کلک کرہے ہیں اور یہ کام گوگل کی اپنی سروسز یا کسی بھی ویب سائٹ پر وزٹ کے دوران جاری رہتا ہے۔

مگر اب پرائیویسی سیٹنگز کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے گوگل نے حال ہی میں ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا جو آپ کی سرگرمیوں سے کمپنی کی جانب سے ڈیٹا کے حصول کو روک سکتا ہے۔

اس نئی سیٹنگ کے تحت گوگل خودکار طور پر ویب اور ایپ ایکٹیویٹی ڈیٹا کو 3 یا 18 ماہ کے لیے ڈیلیٹ کرتا ہے، اس سے قبل یہ کام صارف کو خود کرنا پڑتا ہے۔

اس مقصد کے لیے myaccount.google.com پر جائیں۔

وہاں بائیں جانب Data & personalization کے آپشن پر کلک کریں۔

اس کے بعد نیچے Web & App Activity پر کلک کریں اور اس کے بعد Manage Activity کا انتخاب کریں۔

وہاں نیچے Choose to delete automatically بٹن کو پریس کریں۔

وہاں آپ کے سامنے 3 آپشن ہوں گے، ایک آپشن یہ ہے کہ آپ خود ڈیٹا ڈیلیٹ کریں، دوسرا 18 ماہ بعد خودکار طور پر ڈیلیٹ کرنے کا ہے جبکہ تیسرا تین ماہ بعد ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کا ہے۔

اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ کس آپشن کا انتخاب کررہے ہیں۔

اینڈرائیڈ فون میں سیٹنگز میں جاکر گوگل پر کلک کریں۔

وہاں گوگل اکاﺅنٹ کے آپشن پر جائیں اور پھر Data & personalization پر چلے جائیں۔

وہاں Web & App Activity پر کلک کرکے Manage activity پر جائیں۔

اس کے بعد Choose to delete automatically میں جاکر اپنی پسند کے آپشن کا انتخاب کریں۔

کشمےرےوں پر ظلم کی ےہ تارےک رات ختم ہو جائے گی

معزز قار ئےن نوجوان نسل کو مسئلہ کشمےر سے کماحقہ آگاہی و شناسائی دلانے کےلئے ضروری ہے کہ تارےخی سےاق و سباق کے حوالے سے اس کا مختصر سا تعارف اور معلوماتی خاکہ پےش کےا جائے کشمےر دنےا کی اےک حسےن ترےن برف پوش وادی ہے جہاں مسلمانوں نے پانچ سو سال تک حکومت کی برصغےر مےں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو سکھوں نے ےورشےں کر کے اس جنت نظےر وادی کو چھےن لےا انگرےزوں نے ہندوستان پر تسلط جمانے کے بعد سکھوں پر ےلغار کردی اور سکھوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اس برف پوش وادی کو گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاتھ 76لاکھ کے عوض فروخت کر دےا اےک صدی کے طوےل عرصہ تک مسلمان سکھوں اور ڈوگروں کے ظلم کی چکی مےں پستے رہے ۔ 1931ء مےں اس ظلم اور بربرےت کے خلاف جموں و کشمےر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اےک انگرےز مصنف کی تصنےف ’’ دی وےلی آف کشمےر‘‘ کے مطابق اس زمانے مےں ساڑھے تےن سو مجاہدےن پر مقدمات چلائے گئے اور 13جولائی 1931ء کے خون آشام واقعہ مےں بائےس مسلمان شہےد ہوئے ۔ 1947ء مےں تقسےم ہند کے بعد اس وادی فردوس نظےر کا فےصلہ ےہاں کے رہنے والے باشندوں کے سپرد کےا گےا کہ وہ اپنی رائے کے مطابق اس کا الحاق ہندوستان ےا پاکستان سے کر سکتے ہےں ۔ 24اکتوبر1947ء کو اس وادی کا حکمران ہری سنگھ ڈوگرہ جموں بھاگ گےا ۔ اس الحاق ہندوستان کے معاہدے پر دستخط کر کے ہندو فوج طلب کر لی ۔ معاہدے کے فوراً بعد ہندوستان نے اپنی فوجےں سرینگر بھےج دےں ۔ مسلمانوں کا قتل عام از سرنو شروع کر دےا گےا ۔ 1947ء سے تا حال اہل کشمےر اسی استصواب رائے کا انتظار کرتے رہے اور اپنے خون نا حق کی قربانی دےتے رہے ۔ معزز قارئےن 5جنوری 1947ء کو اقوام متحدہ مےں اےک قرار داد پاس ہوئی جس کے مطابق رےاست جموں و کشمےر کے ہندوستان ےا پاکستان سے الحاق کا معاملہ جمہوری طرز فکر کے تحت آزادانہ اور غےر جانبدارانہ اقوام متحدہ کی زےر نگرانی منعقد ہونے والی رائے شماری کے ذرےعے طے کےا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کی اس قرار داد پر بھارت کے سابق آنجہانی وزےر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ےہ اعلان کر کے مہر تصدےق ثبت کر دی کہ کشمےر کی قسمت کا فےصلہ کشمےر کے لوگ کرےں گے ۔ وزےر اعظم نے کہا کہ ہمارا ےہ عہد نہ صرف کشمےرےوں سے بلکہ پوری دنےا سے ہے اور ہم اس عہد کی پاسبانی کرےں گے ۔ بعد ازاں بھارت اس تسلےم شدہ حقےقت سے منحرف ہو گےا بلکہ کشمےر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دےا اور تا حال اس نے اپنے اےجنڈے مےں سر مو فرق نہےں آنے دےا ۔ بےن الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے فےصلے اور بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو کے وعدے کے باوجود بے گناہ کشمےرےوں کے خون سے ہولی کھےلی جا رہی ہے ۔ 1950ء کے عشرے مےں اس مسئلے کے حل کےلئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلےٹ فارم پر دوبارہ کوشش کی جموں کشمےر مےں استصواب رائے کےلئے قرار دادےں پاس کےں لےکن کوئی نتےجہ نہ نکلا ۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ اسی تنازعہ کا شاخسانہ تھی ۔ 1966ء مےں معاہدہ تاشقند ہوا جس مےں کہا گےا تھا کہ مسئلہ کشمےر دو طرفہ مذاکرات کے ذرےعے حل کےا جائے گا لےکن کوئی مثبت پےش رفت نہ ہو سکی ۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی بڑی وجہ ےہی مسئلہ تھا ۔ بھارت کی انٹےلی جنس اےجنسےوں نے مشرقی پاکستان مےں مکتی باہنی کے ذرےعے خفےہ آپرےشن پروان چڑھاےا ،بنگالےوں کے احساس علےحدگی کو تقوےت دی اور ان کے احساس محرومی کو مزےد پانی دے کر مغربی پاکستان کے خلاف بطور اےک کامےاب حربہ استعمال کےا جس کے نتےجے مےں پاکستان دو لخت ہو گےا پاکستان کو شملہ معاہدے پر دستخط کرنا پڑے اس کے بعد عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دےا کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمےرمذاکرات کے ذرےعے حل کرےں ۔ ہر بار ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور مےں نہ مانوں کی پالےسی آڑے آئی ۔ 1988ء مےں مجاہدےن کشمےر نے اپنی آزادی کے حصول کےلئے مسلح جدوجہد شروع کی ۔ اس جدوجہد نے ہندوستان کی سات لاکھ فوج کو کشمےر مےں بے بس کر کے رکھ دےا ۔ ہندوستان کی سےاسی و عسکری طاقت مجاہدےن کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے کر پاکستان پر عالمی دباءو ڈالنے کی کوشش کرتی ہے ۔ معزز قارئےن آج کشمےر کے ہر مجاہد اور اس کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہےں ۔ اسلام کی بےٹےاں ہندو لٹےروں کے ہاتھوں لٹ رہی ہےں ،والدےن کے سامنے ان کی عزت برباد کی جارہی ہے ۔ ٹارچر سےلوں مےں بے گناہ کشمےرےوں کو اذےت ناک اور ناقابل فراموش سزائےں دی جا رہی ہےں ۔ ہندو درندوں کی بر برےت اور ظلم کے ہاتھوں کوئی گھر محفوظ نہےں ۔ مسلمانوں کے گھر جلا دیے گئے ،پےلٹ گنوں کے استعمال سے سےنکڑوں مظلوم کشمےرےوں کو بےنائی سے محروم کر دےا گےا ، مساجد کو مندروں مےں تبدےل کر دےا گےا دمظلوم کشمےرےوں پر ظلم کی ےہ تارےک رات ختم ہو جائے گی اور ظلمتوں کی اس تارےک رات سے اےک دن ضرور سپےدہ سحر نمودار ہوگا ۔ مسلمانوں پر بھارتی ظلم و ستم کی ےہ صورت حال بھی پاکستان کے کشمےر پر موقف کی حقانےت کا واضح ثبوت ہے اور ساتھ اس حقےقت کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کشمےری عوام پاکستان کے کشمےر پر اصولی اور درست موقف کے پر جوش حامی ہےں ۔ بھارت پاکستان سے کشےدگی بڑھانے کی کوئی نہ کوئی مہم شروع رکھتا ہے ۔ مسئلہ کشمےر سمےت باہمی تنازعات بات چےت کے ذرےعے حل کرنے کی پاکستانی پےشکش کے جواب مےں بھارتی حکومت نے اپنی رواےت کو برقرار رکھتے اور حسب عادت پاکستان پر الزام تراشی کا ڈھول پےٹتے ہوئے مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کے اگلے روزہی راہ فرار اختےار کرلی ۔ بھارتی آرمی چےف جنرل بپن راوت نے بڑھک لگاتے ہوئے کہاتھا کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لےنے کا وقت آگےا ،اس کو ان کی زبان مےں جواب دےا جائے گا ، ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصےل نہےں بتا سکتے ،پاکستان کو سرپرائز دےں گے ۔ پاک فوج کی جانب سے اس بد زبانی کا جواب موثر، معقول اور نپی تلی زبان مےں دے دےا گےا ۔ جب خطے مےں پاک چےن بڑھتی ہوئی قربت ،بھارت کو الگ تھلگ اکائی بنا دےنے کی پوزےشن مےں ہو اور بھارتی دفاعی اسٹےبلشمنٹ اور حکومت کے دفاعی سودوں مےں بد عنوانی کے سکےنڈل طشت از بام ہو رہے ہوں ، مخالف سےاسی جماعتےں اور مفلوک الحال عوام اس پر انگشت بدنداں ہوں تو پھر اےسے مخالفانہ بےانیے جاری کرنا مودی حکومت کی مجبوری ہے ۔ اس قسم کا اےک تازہ سکےنڈل 2016ء مےں فرانس سے 36رافےل طےاروں کی خرےداری مےں بدعنوانی کا ہے ۔ پاکستان مخالف بےانیے کو ہوا دےنا بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت بچاءو مہم کا حصہ ہے ۔ بھارت نے خطے مےں ہتھےاروں کی دوڑ شروع کر رکھی ہے ہر دوسرے دن مےزائلوں کے نئے نئے تجربات کر رہا ہے ۔ آج عالمی برادری اور سپر طاقتوں کو جنوبی اےشےاء مےں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا جو بھارت کی ہٹ دھرمی، مذاکرات سے پہلو تہی اور اسلحہ کے ڈھےر لگانے سے پےدا ہوئے ہےں نوٹس لےنا چاہیے اور بھارت کو مجبور کےا جائے کہ وہ پر امن حالات پےدا کرے اور تمام مسائل کے حل کےلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرانہ طرز عمل اختےار کرے ۔ ہمارے حکمرانوں کی ہمےشہ ےہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمےر سمےت تمام اختلافی امور خوشگوار ماحول اور پر امن مذاکرات کے ذرےعے طے پا جائےں اور دونوں ملک اپنے بجٹ کا کثےر حصہ دفاع پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کرےں لےکن افسوس کہ بھارت نے پاکستان کو نہ ہی دل سے قبول کےا ہے اور نہ ہی تسلےم اور ابھی تک اس نے حق خود ارادی کے وعدے پورے کرنے کی بجائے ڈھٹائی کے ساتھ اسے اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ لگا رکھی ہے ۔ ےہ سب باتےں دنےا پر بھارت کی اصلےت کو اچھی طرح بے نقاب کر چکی ہےں ۔ مسئلہ کشمےر کا قطعی اور سر بسر منصفانہ حل ساری دنےا کے سامنے موجود ہے ۔ ےو اےن او اس حل پر مہر توثےق ثبت کر چکی ہے خود کشمےر کے عوام اور اس کی نمائندہ جماعتےں اس حل کے سوا کوئی حل قبول کرنے کےلئے تےار نہےں اور جب مسئلہ کشمےر کے منصفانہ حل کےلئے متفق علےہ اور طے شدہ بنےاد موجود ہے اور ساری دنےا اس کی گواہ ہے تو آج بھارت اپنی تازہ مصلحتوں کی بنا پر استصواب رائے سے رو گردانی کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہر گز نہےں کہ اےسے نئے اور متبادل حل تلاش کئے جائےں جو بھارت کے مفاد مےں ہوں ۔ اگر عالمی برادری کو امن عزےز ہے تو کشمےر کا مسئلہ حق وانصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرانے کےلئے اپنا کردار ادا کرے ۔

Google Analytics Alternative