Home » 2019 » May » 11

Daily Archives: May 11, 2019

مہنگائی کی وجہ سے عوام جس مشکل میں ہیں اس کا مجھے احساس ہے، وزیراعظم

 راولپنڈی: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  مہنگائی کی وجہ سے عوام جس مشکل میں ہیں اس کا مجھے احساس ہے۔

راولپنڈی میں ماں و بچہ اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے، اس کا مجھے احاس ہے، گیس، بجلی اور مہنگائی بڑھنے کی  وجہ اداروں کا مقروض ہونا ہے،  پچھلا نظام صحیح نہیں تھا جس میں بجلی اور گیس پر قرضے چڑھے ہوئے تھے، گیس سیکٹر پر 150 ارب روپے کا قرضہ چڑھ گیا ان قرضوں کو اتارنے کے لیے تھوڑی دیر قوم کو مشکل سے گزرنا ہوگا،آمدنی کو بڑھائیں گے اور خرچے کم کریں گےمگر آمدنی بڑھنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے،قوموں کی زندگی میں اچھے برے وقت آتے جاتے رہتے ہیں ، مشکل وقت سے گزر جائیں گے اس لیے  فکر نہ کریں  یہ عظیم ملک بنے گا، جیسے جیسے نظام ٹھیک ہوتا جائے گا  عوام کو اندارہوگا  کہ  اللہ نے اس ملک کو کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات کا حل کرنا حکومت کا کام ہے، حکومت نے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں بنائیں، ان پناہ گاہوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ بے روزگار نوجوانوں کو کاروبار کے لیے قرضے دیں گے، غریب گھرانوں کو وسائل فراہم کریں گہ تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں، شہروں میں غریبوں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سستے گھروں کی اسکیم لارہے ہیں  جس سے عام آدمی کو سستا گھر ملے گا۔

 

قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مشکل فیصلے کر رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مشکل فیصلے کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی رہنما اور سینئر قانون دان بابراعوان نے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر مشاورت کی گئی۔ بابر اعوان نے کہا کہ کرپشن کے مرکزی کردار ایک ایک کرکے بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پوری قوم کرپشن اور غربت سے نجات چاہتی ہے مایوس نہیں کریں گے، مشکل فیصلے قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کر رہے ہیں، پاکستان تیزی سے معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جب کہ قومی اداروں کی تنظیم نو کا عمل ڈی ریل نہیں ہو گا۔

بغیر پیشگی اطلاع کسی کا بینک اکاؤنٹ منجمد نہ کیا جائے، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد: چیئرین ایف بی آر شبر زیدی نے حکم دیا ہے کہ ٹیکس وصولی کے لیے اطلاع کے بغیر کسی بھی شخص کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہ کیے جائیں۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ اور آر ٹی یو کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ٹیکس وصولی کے لیے پیشگی اطلاع کے بغیر کسی شہری کے بینک اکاؤنٹ منجمد نہ کیے جائیں۔

اعلامیے کے مطابق کسی بھی شہری کا بینک اکائونٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے متعلقہ فرد، ادارے یا کمپنی کو آٓگاہ کرنا ہوگا اور اکائونٹس منجمد کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر کی منظوری لازمی ہوگی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے با ت کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ایف بی آرافسران کو ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے، جب کہ کسی بھی شخص کے نام بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے قبل چیئرمین ایف بی آر کو آگاہ کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ بجٹ کےلیے ابھی کوئی تاریخ فائنل نہیں ہوئی، ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو سسٹم میں لانا ہے، ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے لیے بہتر ہوگا، ہر بندہ آئی ایم ایف کی بات کررہا ہے، پاکستان کی بات کریں۔

مودی کا دوبارہ حکومت میں آنا بھارتی عوام کیلیے سانحہ ہوگا، امریکی جریدہ

واشنگٹن: امریکی جریدے ٹائمز میگزین نے اپنے نئے شمارے میں وزیر اعظم نریندرا مودی کی تصویر کے ساتھ “انڈیاز ڈیوائیڈر ان چیف” کا ٹائٹل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر مودی کی حکومت بن گئی تو یہ سانحہ سے کم نہیں ہوگا۔

امریکی جریدے ٹائمز میگزین نے بھارتی وزیراعظم کی تصویر کے ساتھ “انڈیاز ڈیوائیڈر ان چیف” ( بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار) کا کیپشن دے دیا، جریدے میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا بھارت اگلے پانچ سال بھی مودی جی کی حکومت سہہ سکے گی۔

امریکی جریدے ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق مودی حکومت کے اگلے پانچ سال کا اندازہ لگانے سے پہلے گزشتہ 5 سال کے اندازِ حکومت پر غور کرنا ضروری ہے، اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ چاہے بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناگزیر ہے لیکن بھارتی عوام کے لیے یہ کسی سانحے سے کم نہ ہوگا۔

آرٹیکل میں مزید لکھا گیا کہ سیکولر بھارت کی دھجیاں اڑانے کے لیے بی جے پی 5 سال قبل اقتدار میں آئی اور انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ اور تفریق کو بڑھایا اور حالیہ انتخابی مہم کے دوران بھی مودی جی اپنے نعرے ’سب کا ساتھ سب کا ویکاس‘ کی خود دھجیاں اڑا چکے ہیں۔

کالم میں مودی سرکار کی معاشی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ مسلمانوں پر مشتعل انتہا پسندوں کے حملے آئے روز کی بات ہو گئی ہے اور ہندو اقلیت دلتوں کے لیے اپنی ہی ملک کی زمین تنگ ہو گئی ہے۔

آرٹیکل میں مزید کہا گیا کہ ابھی گزشتہ ماہ ہی بی جے پی چیف امیت شاہ نے مسلمانوں کو دیمک کے ساتھ تشبیہ دی۔ 2017 میں اترپردیش کے ریاستی انتخابات جیتنے کے بعد یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاست میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں ایک انتہا پسند یوگی ادیتھیا ناتھ کو وزیر اعلی لگا دیا تھا۔

امریکی جریدے نے بھارت میں بڑھتی نفرت و تعصب کی سیاست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ 5 سال بھارت میں تعصب کے نام پر مظالم عروج پر رہے تو اگلے 5 برسوں میں بھی بی جے پی کی وجہ سے اقلیتوں پر ان کے اپنے ملک کی زمین مزید تنگ ہو جائے گی۔

شہرقائد میں تجاوزات۔۔۔سپریم کورٹ کے فکرانگیزریمارکس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہر قائد میں تجاوزات کے حوالے سے سیکرٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعیدغنی کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے، واضح رہے کہ صوبائی وزیر نے کہا تھا کہ میں لوگوں کے گھر توڑ نہیں سکتا ، استعفیٰ دے دوں گا ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 70فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں اور وزیر بلدیات عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کا اعلان کررہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی یہ بات 100فیصد درست ہے کہ کراچی میں تجاوزات کی بھرمار ہے اس کو کون اور کیسے ختم کیا جائے گا یہ ایک سوال ہے ، جب ملک کی سب سے بڑی عدالت عدالت عظمیٰ نے احکامات صادر کیے تو اس پر عملدرآمد ہونا یقینی ہوتا ہے، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا جارہا تو کیا سپریم کورٹ کو بند کردیں ۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت میں آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے، عدالت نے ہدایت کی کہ دونوں افسران دفاتر، چوکیوں اور بیریئر سے متعلق رپورٹ پیش کریں ۔ نیز عدالت نے راشد منہاس روڈ پر متصل80ایکڑ زمین پر قبضے کے معاملے کا نوٹس لیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی و دیگر اداروں کو فوری تعمیرات روکنے کا حکم دیا ۔ جسٹس گلزار احمد نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ کورٹ سے جیل جائیں گے ، ہم نے حکم دیا تھا کہ کراچی سے غیر قانونی تجاوزات ختم کرائیں اس کا کیا ہوا، کارروائی کہاں تک پہنچی، عدالت نے استفسار کیا، باربی کیو ٹوناءٹ کے سامنے دو غیر قانونی بلڈنگز کا کیا ہوا جس پر ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ اس بلڈنگ کیخلاف نیب کی انکوائری چل رہی ہے ، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کیا نیب;238; کون نیب;238; کیا نیب سپریم کورٹ سے اوپر ہے;238;، غیر قانونی تجاوزات کو ختم کریں یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اس پر عمل کریں ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ اس ملک میں سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے اور اس کے احکامات پر ہر صورت عمل کرنا چاہیے ،تب ہی انصاف کا بول بالا ہوگا، کوئی بھی ادارہ سپریم کورٹ سے بالاتر نہیں ۔ تجاوزات کا مسئلہ صرف شہر قائد تک ہی محدود نہیں یہ مسئلہ ملک بھر میں درپیش ہے ، خصوصی طورپر وفاقی دارالحکومت میں بھی تجاوزات کی بھرمار ہے ، یہ تجاوزات زیادہ تر کچی آبادی کی صورت میں مشروم کی طرح پھیلتی جارہی ہیں ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ، رات کو زمین خالی ہوتی ہے صبح سویرے آئیں تو زمین پر قبضے کرکے مکان تعمیر کرلئے جاتے ہیں ، اب یہ کس کی ملی بھگت ہے، کون کراتا ہے، کس طرح قبضے ہوتے ہیں ، کونسا ایسا با اثر قبضہ مافیا ہے جس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا ، اس چیز کو پرکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہی صورتحال کراچی میں درپیش ہے اور سپریم کورٹ نے واضح طور پر احکامات جاری کردئیے ہیں تو اس میں لیت ولعل سے کام لینے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ حکومت نے ملیر ندی پر متبادل سڑک بنانے کا اعلان کیا تھا کیا ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس طرح کی سڑک نہیں ہوگی جس طرح لیاری ایکسپریس وے بنایا گیا ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے لیاری ایکسپریس بنانے میں بڑا کردارادا کیا تھا ۔ لیاری ایکسپریس وے کا بھی ٹھیک طرح سے استعمال نہیں ہورہا ۔ اب تو لیاری ایکسپریس وے کی زمین پر بھی قبضہ ہورہا ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کراچی کے مختلف علاقوں کے نام لیکر باقاعدہ تجاوزات کی نشاندہی کی اب چونکہ عملدرآمد کرانا انتظامیہ کا کام ہوتا ہے ، عدالت کا کام فیصلہ کرنا اور آرڈر دینا ہے البتہ اگر اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کرتا تو پھر عدالت کو اختیار ہے کہ وہ اس کو توہین عدالت کے کیس میں باقاعدہ سزا دے ۔ لہذا انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے ۔ سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزیر بلدیات کہتے ہیں میں عدالتی حکم پر عمل نہیں کروں گا ، میئر کراچی بھی بولتے پھر رہے ہیں کہ ہم عمارتیں نہیں گرائیں گے ۔ کیا یہ لوگ عدالت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں ، پورے شہر میں لینڈ مافیا منہ چڑھا رہا ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کراچی میں بجلی ہے نہ پانی ، نہ ہسپتال ہے ، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے گھر بنا کر دئیے ہیں ، سڑکوں کی حالت تباہ ہوچکی ہے، روڈ پر عوامی بیت الخلاء نہیں ، سائن بورڈ اور انڈر پاس تک نہیں ، نہ پارکس ہیں ، نہ کھیل کے میدان سب تباہ ہوگیا ہے، کراچی والے آفت زدہ زندگی گزاررہے ہیں ، عدالت آگاہ کررہی ہے کراچی میں کسی روز بہت بڑا فساد ہوگا ۔ جسٹس گلزار احمد کے یہ ریمارکس متعلقہ اداروں اور حکام کے لئے ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں ۔ جب شہر قائد کے عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہ ہوں گی تو پھر حکومت خود سوچ لے کہ کیا نتاءج نکلیں گے ۔ یوں بھی کراچی کاروبار کا مرکز ہے اور آنے والے وقت میں کراچی بہت اہمیت کا حامل ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر ہر صورت میں حل ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فساد برپا ہو جائے ۔

ایوان کاتقدس ملحوظ خاطررکھاجائے

قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کے بعدمسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کو تقریر کی اجازت نہ ملنے پرشدیدہنگامہ کھڑاہواگیا،بلاو ل بھٹو کے بعدوزیرمواصلات مرادسعیدکومائیک دینے پراپوزیشن ارکا ان نے اپنی نشستوں پرکھڑے ہوکراحتجاج کیا ،نعرے بازی کی اورپھر سپیکرکے ڈائس کا گھیراءو کیا، قومی اسمبلی کے اجلاس پرقومی خزانے سے عوام کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں یہ پلیٹ فارم قانون سازی اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے مختص ہے لیکن جب بھی اجلاس ہوتا ہے تو یہاں پر ہنگامہ آرائی، نعرے بازی ،گھیراءو اور واک آءوٹ ہی دیکھاجاتاہے جبکہ ہونایہ چاہیے کہ اس وقت جو ملک کو حالات درپیش ہیں ان کو زیربحث لایاجائے سوائے دھمکیو ں اورسڑکوں پرآنے کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں ہوتی، ایک یہ روایت بھی غلط ہے یہاں پر ہم کسی ایک پارٹی یاکسی ایک حکومت کو موردالزام نہیں ٹھہراتے، ماضی سے لیکرآج تک جب بھی منتخب وزیراعظم ایوان میں آتا ہے تو اپوزیشن اتناہنگامہ مچاتی ہے کہ وزیراعظم کاوہاں پربیٹھنامحال ہوجاتاہے ، اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے کہ جب بھی ایوان کاقائدایوان میں تشریف لے کرآئے تو اجلاس میں سکون اوربامعنی گفتگو اوربحث ہونی چاہیے نہ کہ وزیراعظم کوٹارگٹ بناکراسے اتنازچ کیاجائے کہ وہ وقت سے قبل ہی ایوان سے اٹھ کرچلاجائے، ماضی میں بھی اس کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں اوراب حال میں بھی اس طرح کے حالات چل رہے ہیں یہ ایک مہذب ایوان ہے اس کا احترام ہرصورت برقرار رہناچاہیے ۔

داتا دربار دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

لاہور: داتا دربار دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

حساس اداروں کی رات گئے لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں بڑی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، امکان ہے کہ ان افراد نے داتا دربار حملہ کرنے والے کی سہولت کاری کی، جب کہ حراست میں لئے جانے والوں میں ایک رکشہ ڈرائیور بھی ہے جس نے حملہ آور کو داتا دربار کے پاس چھوڑا۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے مزید شواہد حاصل کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی چین بنائی گئی ہے، حساس اداروں نے 3 ماہ قبل کھولے گئے ٹی اسٹال پر کارروائی کی، حملہ آور گڑھی شاہو کے اس ٹی سٹال پر دکھائی دیا اور پھر گڑھی شاہو سے ریلوے اسٹیشن کے راستے داتا دربار کے باہر پہنچا، دربار کے قریب دو نوجوان پاس سے گزرتے اور فون پر مسلسل باتیں کرتے بھی دکھائی دئیے ہیں، ان دونوں افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

واضح رہے لاہور میں داتا دربار کے قریب دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

’ایوینجرز نے میری ٹائیٹینک ڈبو دی‘

مارول اسٹوڈیوز کی فلم ’ایوینجرز: دی اینڈ گیم‘ نے دنیا بھر میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہولی وڈ کی سب سے کامیاب فلم ’ٹائیٹینک‘ کو بھی پیچھے چھوڑ کر صرف مداحوں کو نہیں بلکہ ٹائیٹینک کے ہدایت کار جیمز کیمرون کو بھی حیران کردیا۔

فلم ساز جیمز کیمرون کی فلم ٹائیٹینک کا ورلڈ وائڈ بزنس توڑنے کے ساتھ ساتھ ایوینجرز نے اس فلم کو سب سے کامیاب فلموں کی فہرست میں تیسری پوزیشن پر پہنچادیا جبکہ خود دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔

اس کے باوجود بھی جیمز کیمرون نے ایوینجرز کی ٹیم کو ہدایت کار کو ان کی فلم کا ریکارڈ توڑنے پر نہایت منفرد انداز میں مبارکباد دی۔

اپنی ایک ٹویٹ میں جیمز کیمرون نے لکھا کہ ’مارول کی پوری ٹیم اور کیون فیج (ہدایت کار) نے دنیا کو دکھادیا کہ فلم انڈسٹری پہلے سے کتنی بڑی ہوچکی ہے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’ایک برف کی چٹان نے ٹائیٹینک کو ڈبویا، لیکن میری ٹائیٹینک کو صرف ایوینجرز ڈبو سکے‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے کامیاب فلموں کی فہرست میں پہلے نمبر پر بھی جیمز کیمرون کی فلم ’اواتار‘ موجود ہے جس نے 2 ارب 80 کروڑ ڈالرز کمانے کا ریکارڈ بنایا تھا جو لگ بھگ 10 برسوں سے ناقابل شکست ثابت ہورہا تھا۔

فلم ’ایوینجرز: دی اینڈ گیم‘ اب تک 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کما چکی ہے۔

قبائلی نشستوں میں اضافے کیلئے 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قبائلی نشستوں میں اضافے کیلئے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کردیا گیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور شمالی وزیرستان سے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے سابقہ فاٹا کے علاقے میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیمی بل بحث کیلئے ایوان زیریں میں پیش کردیا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اس بل کی حمایت کی۔

26 ویں آئینی ترمیم بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے مکمل ہونے تک خصوصی مراعات دی جائیں، جب تک امن قائم نہیں ہوتا وہاں کے عوام کوخصوصی سہولیات دی جائیں، میں اس ایوان کی طرف سے آئینی ترمیم پر قوم کو مبارک باد دیتا ہوں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ جن علاقوں کو علاقہ غیرکہا جاتا تھا اب وہ اپنا علاقہ بن گیا ہے، کاش ستر سال پہلے ہم ایسا فیصلہ کر لیتے، ہم کوشش کررہے ہیں کہ فاٹا میں بنیادی سہولیات اور روزگار کا بندوبست کیا جائے۔

نورالحق قادری نے کہا کہ آئین میں ترمیم و اصلاح کے پیچھے عوامی مفاد کارفرما ہوتا ہے، آج فاٹا کی 12 نشستیں بحال کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں۔

عبدالقادر پٹیل نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے بھارتی جیل میں قید ایک پاکستانی ماہی گیر کی لاش واپس آئی، میں اس کے جنازے میں گیا تو اسکی انکھیں نکالی ہوئی تھیں، کیا ہم نے صرف یکطرفہ خیر سگالی دکھانی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرامن طریقے سے بھارت سے معاملات حل کرنا چاہتا ہے، ہم نے بھارت پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے بھارتی قیدی رہا کیے، بھارت اشتعال انگیزی چاہتا ہے اور ہم کشیدگی ختم کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے اپریل میں 360 بھارتی ماہی گیر رہا کئے، ہم نے بھارتی حکومت سے متعلقہ فورمز پر معاملہ اٹھایا ہے، عبدالقادر پٹیل سے اتفاق کرتا ہوں، آپ آئیں، ہم ماہی گیروں کی واپسی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔

Google Analytics Alternative