Home » 2019 » May » 12

Daily Archives: May 12, 2019

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کا پروگرام فائنل ہوگیا ہے، آئی ایم ایف 3 سال کے دوران پاکستان کو 6 ارب ڈالر قرض دے گا جب کہ  بیل آؤٹ پیکیج ملنے کے بعد ورلڈ بینک سمیت دیگر مالیاتی ادارے 3 ارب ڈالر کم سود پر دیں گے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام معاشی بحران کے شکار ممالک کی مالی مدد کرنا ہے، اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال اچھی نہیں، اب تک  پاکستان  25 ہزار ارب کا  قرضہ لے چکا تھا جب کہ پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ صفر تھی تاہم اب آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کے بعد معیشت میں بہتری آئے گئی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں ہر دور میں برآمدات نہیں بڑھ سکیں جب کہ بہت سے معاملات پاکستان میں درست طریقے سے نمٹائے نہیں گئے،  ہمیں امیر طبقے کیلیے سبسڈی ختم کرنا ہوگی اور کچھ شعبوں میں قیمتیں بڑھانی ہوں گی۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ 300 یونٹ سے کم والے بجلی صارفین پر اثرات نہیں پڑیں گے جوکہ صارفین کی مجموعی تعداد کا 75 فیصد ہے، 300 یونٹ سے کم والے صارفین کیلیے216 ارب روپے سبسڈی رکھی جائے گی۔

جماعت الدعوہ اور جیش محمد سے تعاون کرنیوالی تنظیموں پر بھی پابندی

 اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو مزید تیز کرتے ہوئے کالعدم جماعتوں کی معاون تنظیموں پر بھی پابندی عائد کردی۔

وزارت داخلہ نے نیشل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں سے تعاون کرنیوالی تنظیموں پر بھی پابندی عائد کردی۔

ان میں الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوۃ الارشاد، الحمد ٹرسٹ لاہور فیصل آباد، الفضل فاؤنڈیشن/ٹرسٹ لاہور، موسک اینڈ ویلفیر ٹرسٹ لاہور، المدینہ فاؤنڈیشن لاہور، معاذ بن جبل ایجوکیشن ٹرسٹ لاہور، الایثار فاؤنڈیشن لاہور، الرحمت ٹرسٹ اور گنیازیشن بہاولپور، الفرقان ٹرسٹ کراچی شامل ہیں۔

ان تنظیموں پر جماعت الدعوہ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جیش محمد سے تعلق اور معاونت کا الزام ہے۔

رواں سال فروری میں حکومت پاکستان نے جماعت الدعوة اور اس سے منسلک تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کی تھی جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں ماہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے شدید دباؤ ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

عید کے بعد وزراء کی تبدیلی کا امکان ہے، شیخ رشید

لاہور: وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ عید کے بعد وزراء کی تبدیلی کا امکان ہے اور اسد عمر جلد ہی دوبارہ کابینہ میں آ رہے ہیں۔

ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کو تباہ شدہ حال میں معیشت ملی ہے، آج ملک کے حالات آصف زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف کی وجہ سے ہیں، گینگ آف فور نے اس ملک کو نوچا ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ لندن جانا ہے، یہ فرشتوں کے ساتھ بھی ڈیل کریں گے، عمران خان کے بچوں اور نواز شریف کے بچوں میں فرق ہے، عمران خان کی بیوی ملک میں ہے۔ جو شخص 4،4 دفعہ وزیراعظم اور وزیراعلی رہا ہو اس کو جیل چھوڑنے کے لیے بس 500 یا 600 لوگ ساتھ تھے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر 15روز میں عمل درآمد کی کوشش کریں گے، ریلوے ایس پی کو تجاوزات ختم کرنے کا ہدف دیا ہے۔ سرکلر ریلوے کی زمین پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش ہوگی، اس حوالے سے حکومت سندھ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

جہانگیر ترین کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کام کا آدمی ہے لیکن وہ ضائع ہو چکا ہے، وہ عدالتی فیصلے پر ایل بی ڈبلیو ہو چکے ہیں۔ عید کے بعد وزراء کی تبدیلی کا امکان ہے اور اسد عمر جلد ہی دوبارہ کابینہ میں آ رہے ہیں۔

گیس، بجلی کیوں مہنگی ہوگی۔۔۔وزیراعظم نے اصل بات بتادی

وزیراعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھرقوم کو آگاہی کرائی ہے کہ مشکل وقت ضرور ہے مگر قرض اتارنے کے لئے اسے گزاراناپڑے گا،گیس اوربجلی اس وجہ سے مہنگائی ہوئی کہ ادارے مقروض ہوچکے تھے ،اداروں کی تنظیم نو کاعمل اسی صورت میں ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے ہم معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں ،پچھلا نظام ٹھیک نہیں تھا اس لئے قرضے چڑھ گئے قوم کرپشن اورغربت سے نجات چاہتی ہے مجھے مہنگائی کا احساس ہے مگر مایوس نہیں کریں گے ،وزیراعظم کی یہ باتیں درست ہیں کیونکہ ماضی میں جس طرح قومی خزانے کی لوٹ مار کی گئی اس کی مثال کہیں نہیں ملتی، مگر ایک بات ہے کہ اگر کپتان ملکی معیشت کو مضبوط کرناچاہتاہے جہاں قوم سے گیس اور بجلی مہنگی کرنے کی مد میں ایک خاص رقم وصول کی جائے گی اس کے لئے ٹائم فریم ورک بھی رکھ دیاگیاہے ،ہم یہاں یہ کہیں گے کہ جو کرپشن کے الزام میں افرادپکڑے گئے ہیں یا ان پراس حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں ان کے کیسزبھی اگرقانون وآئین اجازت دیتاہے تو فیصلے ماڈل کورٹس کی طرزپرکئے جائیں اورایک خاص وقت کے اندر اندر ان سے لوٹی ہوئی رقم واپس لی جائے ،طویل مقدمات چلنے سے خزانے کو فائدہ ہونے کی بجائے محض نقصان ہی ہورہاہے ۔ وزیراعظم نے راولپنڈی میں نئے چائلڈ اینڈ مدر کیئر ہسپتال کے زیر التوا منصوبے پر تیزی سے کام شروع کرنے کیلئے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا احساس ہے، جلد حالات بہتر ہوں گے، قرضوں سے نجات اور سسٹم میں بہتری کیلئے کچھ انتظار کرنا ہو گا، قوموں پر اچھے اور برے وقت آتے رہتے ہیں لیکن ملکی وسائل کو دیانتداری سے استعمال کر کے ہی بحرانوں سے نکلا جائے گا، تحریک انصاف نے عوام سے جو انتخابی وعدے کئے ان کے مطابق ہی لوگوں کو صحت، روزگار، تعلیم کی سہولتیں ملیں گی، اس سلسلے میں منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے جن کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے، جب قرضے چڑھتے ہیں تو مہنگائی ہوتی ہے، پاکستان امیر ملک ہے، اللہ تعالی نے پاکستان کو بہت نوازا ہے، پاکستان جلد عظیم ملک بنے گا، گیس پر 150 ارب روپے کے قرضوں کی وجہ سے گیس مہنگی کرنی پڑی ہے ۔ سات لاکھ20 ہزار روپے کا صحت انصاف کارڈ غریبوں کو جاری کر رہے ہیں ، احساس پروگرام کے تحت بے گھر لوگوں کیلئے پناہ گاہیں بنائی جا رہی ہیں ، عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام سرکاری ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر رہے ہیں ،نچلے طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے، حکومت نے عام آدمی کی مشکلات ختم کرنے کے لئے خود ذمہ داری لے رکھی ہے جس کے تحت ابتدائی طور پر ملک بھر میں عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئیں جن کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی مسافر اور مزدور فٹ پاتھ پر رات نہ گزارے، یہ پناہ گاہیں تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔ اسی طرح حکومت بیروزگار نوجوانوں کے لئے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ لے کر آرہی ہے تاکہ نوجوانوں کو ذریعہ معاش کے لئے اپنے پاءوں پر کھڑا کیا جا سکے ۔ مہنگائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ماضی میں حکمران قرضے لے کر وقت گزارتے رہے، جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو ملک پر ہزار ارب کا قرضہ تھا، قوموں کی زندگی میں اچھے اور برے وقت ;200;تے رہتے ہیں ۔ کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جائے، زرعی شعبے کی صلاحیت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور جدت کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان تیزی سے معاشی کی طرف بڑھ رہا ہے، پوری قوم کرپشن اور غربت سے نجات چاہتی ہے، کرپشن کے مرکزی کردار ایک ایک کر کے بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں ، احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری ہے، لوٹ مار کرنے والے منطقی انجام کو پہنچیں گے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے غلط پالیسیاں اپنا کر خزانہ خالی کیا،مالی بحران کے باوجود عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کےلئے وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ادھردوسری جانب پاکستان اورآئی ایف کے مابین جو مذاکرات ہورہے تھے ان میں مزید دودن کی توسیع ہوگئی ہے وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ شرائط نرم کرنے کے لئے آئی ایم ایف کو راضی کیاجائے ۔ واضح رہے کہ ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا، بجلی ،گیس مرحلہ وارمہنگی کی جائے گی حکومت تین برس میں تین سوچالیس ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے پرآمادہ ہوگئی ہے ،اوگرا نیپرامعاملات میں مداخلت بھی نہیں کرے گی کئی اداروں کی نجکاری پربھی رضامندی ظاہر کردی ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریونیو کے بڑے ہدف اورشرح سود میں اضافے کے مطالبات جیسے ایشوزپر رعایت ملنی چاہیے ،وزیراعظم نے بالکل درست فیصلہ کیاہے کیونکہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کرلینے سے بھی ملک کو نقصان ہوگا تاہم پھربھی حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کو کنٹرول کرے کیونکہ اس وقت مہنگائی ہی سب سے بڑامسئلہ ہے ۔

نئے چیئرمین ایف بی آر کے لئے چیلنج

ایف بی آر کے نئے چیئرمین سید شبر زیدی نے پیشگی اطلاع اور اجازت کے بغیر بنک اکاءونٹس منجمد کرنے سے روکدیا، چیئرمین ایف بی آر نے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد حکم نامے میں لارج ٹیکس پیئرز یونٹ، کارپوریٹ ریجنل ٹیکس دفاتر اور ریجنل ٹیکس دفاتر کے تمام چیف کمشنرزان لینڈ ریونیو کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ٹیکس وصولی کیلئے پیشگی اطلاع کے بغیر کسی شہری کے بینک اکاونٹ منجمد نہ کیے جائیں اورکسی بھی شہری کا بینک اکاءونٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے متعلقہ شخص، ادارے،کمپنی کے سی ای او یا مالک کو آگاہ کرنا ہوگا اور اکاءونٹس منجمد کرنے کیلئے چیئرمین ایف بی آر کی منظوری لازمی ہوگی ۔ نئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے جمعہ کی صبح ادارے کا چارج سنبھال لیا اور ایف بی آر کے افسران سے اپنے پہلے خطاب میں ٹیکس نظام میں بہتری لانے کے اپنے وژن اور ادارے کو درپیش مسائل کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مکمل آٹو میٹڈ نظام کی ضرورت ہے، ریونیو میں اضافے کی خاطر تمام ٹرانزیکشنز کو ڈاکو مینٹڈ (دستاویزی)کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے افسران کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو حل کیا جائے گا اور تمام افسران کی حمایت سے ہی وہ ادارے میں بہتری لاسکتے ہیں ۔ انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس بھاری ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرینگے ۔ نئے چیئرمین ایف بی آر کے لئے سب سے بڑا چیلنج ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانا ہے اور اس ادارے میں سالوں سے جاری کرپشن کو ختم کرنا ہے جس کےلئے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں کمی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مواصولات کی وصولی میں اضافہ ہو سکے ۔ حکومت کے آئی ایم اےف کے ساتھ معاملات طے پانے کے بعد ساڑھے7سو ارب روپے کے مزید ٹیکس لگائے جائیں گے ،مختلف شعبوں کو دی جانے والی امدادی رقوم ختم کی جائیں گی بجلی اور گیس کے مزید نرخ بڑھائے جائیں گے جبکہ ڈالر کی قیمت میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا رہے گا اگر حکومت نے ملک کے امیر طبقات پر ٹیکس نہ لگائے جس میں سب سے اہم کام براہ راست ٹیکس لگانا ہے تو بحرانی کیفیات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا امیر طبقات کی دولت اور اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہے گا جبکہ ریاست معاشی طور پر کمزور ہوگی ۔ معیشت کی پیچیدگیوں اور بدعنوان سسٹم سے نجات دلانے کےلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔

وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے معاہدے کا مسودہ مسترد نہیں کیا، حکومتی ذرائع

اسلام آباد: حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے مسودے کو مسترد نہیں کیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے پروگرام پر اتفاق ہوگیا ہے اور اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے مسودے کو مسترد نہیں کیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ باہمی طے شدہ نکات واشنگٹن آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر بھجوائے جا چکے ہیں اور منظوری آتے ہی باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

واضح رہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے فائنل راؤنڈ میں قرضہ پروگرام کی تمام جزئیات طے کرلی گئیں، آئی ایم ایف 3 سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 8 ارب ڈالر تک کا قرضہ دے گا۔

جعلی شادیاں، چین سے 20 متاثرہ لڑکیوں کو وطن واپس بھجوا دیا گیا، پاکستانی سفارت خانہ

اسلام آباد: بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شکایات پراب تک تقریباً 20 متاثرہ لڑکیوں کوپاکستان واپس بھجوایا جا چکا ہے۔

چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کے معاملے سے متعلق بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شکایات پر اب تک تقریباً 20 متاثرہ لڑکیوں کو پاکستان واپس بھجوایا جاچکا ہے۔

غریب والدین نے سہانے دنوں کے خواب دیکھ کرجگرکے ٹکڑوں کوہزاروں میل دوربھیج دیا لیکن وہاں پہنچ کرجب ان لڑکیوں کوپتا چلا کہ ان کے ساتھ کی گئِیں شادیاں فراڈ سے زیادہ کچھ نہیں توجیسے انکے سارے خواب بکھر کررہ گئے۔

پاکستان سے شادی کرکے لائی گئی لڑکیوں کوچین میں غلط کاموں پر مجبورکیا جاتا اور جو اس کے لیے راضی نہ ہوتی اسے اعضاء نکالنے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ معاملہ درجنوں شکایات کی صورت متعلقہ اداروں تک پہنچا تو ایف آئی اے بھی حرکت میں آگئی۔ لاہورمیں ایف آئی اے نے کارروائی کرکے جوہرٹاؤن سے دوپاکستانی سہولت کارسمیت 11 چینیوں کو حراست میں لیا۔

گزشتہ روزبھی اسلام آباد ایئرپورٹ پرلاہورکی سمرن اس کے چینی شوہر، راولپنڈی کی ربیعہ اوراسکے چینی شوہرکے علاوہ ایک اورلڑکی معصومہ کوچین جانے سے روک لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزبھی چینی سفارتخانے نے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادی اسکینڈل میں گرفتار چینی  نوجوانوں سے متعلق کہا تھا کہ پاکستان اپنے قانون کے مطابق ایسے جرائم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔

امریکا نے شمالی کوریا کے بحری جہاز کو اغوا کر کے عملے کو یرغمال بنالیا

واشنگٹن: امریکا نے شمالی کوریا کے بحری جہاز کو قبضے میں لیکر عملے کے 24 ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے شمالی کوریا کے لیے کوئلے کی مال برداری کے لیے استعمال ہونے والا بحری جہاز Wise Honest کو اغوا کرکے عملے کے 24 ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے، تاہم جہاز اور عملے کو حراست میں لینے کے مقام اور تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے بحری جہاز Wise Honest کو عالمی برادری کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے، اس جہاز کے ذریعے عالمی پابندیوں کے برخلاف شمالی کوریا کے لیے کوئلے کی مال برداری کی جا رہی تھی۔

ادھر امریکی محکمہ انصاف کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدا میں شمالی کوریا کے کارگو شپ Wise Honest کو انڈونیشیا کے حکام نے گزشتہ ماہ اپریل میں روکا تھا، اس وقت بھی جہاز کے عملے کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے حکام نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انڈونیشیا حکام کی تحویل میں بحری جہاز کی مرمت اور تکنیکی ساز و سامان کی خریداری کے لیے ادائیگی امریکی بینک سے اور امریکی کرنسی میں کی گئی اور ایسا غلطی سے ہوا۔

شمالی کوریا نے اپنے بحری جہاز کے زیر حراست ہونے کے معاملے پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکا پر واضح کیا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ اُٹھائے جس سے عالمی امن خطرے میں پڑ جائے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔

مغربی سرحد محفوظ بنانے کےلئے باڑ بہت ضروری

پاکستان نے تنبیہ کی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشنوں کے خوف سے افغانستان بھاگ جانیوالے شدت پسند د اب بھی باہر بیٹھ کر ملک کے اندر دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں جلد ہی ا ن دہشت گردوں کا بھی قلع قمع کر دیا جائیگا ۔ ان کو ان کے ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ پاک آرمی نے عوام کی مددسے دہشت گردوں کو شکست دیکر جنوبی وزیرستان ایجنسی سمیت فاٹا میں امن قائم کر دیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار اور قربانیاں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے ملکوں نے بھی ان قربانیوں کو متعدد دفعہ تسلیم کیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ہزاروں شہری شہید ہوئے اور ہ میں 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کی بدولت پاکستان میں سکیورٹی اور معیشت کی صورتحال بہتر ہوئی ۔ خاص طور پر پاک افغان سرحد کے قریب امن و امان کی صورتحال بہتر ہو چکی ۔ ہمارے ملٹری آپریشنز کی وجہ سے آج پاکستان افغان سرحد پر امن و استحکام نظر آ رہا ہے ۔ امریکی ارکان پارلیمنٹ اور کمانڈرز نے فاٹا کے علاقوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کیا ۔ کچھ بیرونی عناصر صورتحال کو خراب کررہے ہیں اور خطے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں ۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے پْرعزم ہے کیونکہ یہ نا صرف پورے خطے بلکہ پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے ۔ بدقسمتی سے افغانستان میں استحکام کے لئے ہماری مخلصانہ کوششوں کو بدنام کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے ۔ ہم بارڈر مینجمنٹ میں مصروف ہیں جو دہشت گردی کے موثر خاتمے کے لئے ضروری ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی پالیسی کو جاری رکھے گا ۔ ہم الزامات کے کھیل میں نہیں پڑیں گے اور دوسروں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں ۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ پاک فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں دیرپا امن قائم ہو چکا ہے ۔ فاٹا اور خصوصا جنوبی وزیرستان ایجنسی میں دہشت گردی کے خاتمہ کے بعد جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا دیا گیا ہے ۔ تعلیم ،صحت ،سیاحت اور دیگر شعبوں کے مختلف منصوبوں پر بہترین کام ہو چکے ہیں ۔ فاٹا یوتھ کے احساس محرمیوں کے خاتمہ کے لئے جنوبی وزیرستان میں بہترین تعلیمی درسگاہیں کام کر رہی ہیں ۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں قائم ہونے والے دو کیڈ ٹ کالج فاٹا کے طلباء کو اچھی اور معیار ی تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آج فاٹا کے نوجوان پاک فوج سمیت ملک کے دیگر اداروں میں جا کر خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ وانا میں گومل یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور جونہی جگہ کا انتخاب ہو گا کیمپس پر کام شروع کر دیا جائیگا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر صرف پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کا ناسور اس خطہ میں جڑ سے اکھاڑنے کی مشترکہ حکمت عملی طے کرلیں اور اس پر عملدرآمد شروع کردیں تو دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کا ٹھکانہ نہیں ملے گا اور کسی بیرونی مدد کے بغیر ہی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ جیت لی جائیگی مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں ہ میں افغانستان کی جانب سے ہمیشہ سردمہری اور بھارتی لب و لہجے میں الزامات کی بوچھاڑ کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پاکستان نے اپنے طور پر پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کے اقدامات کا آغاز کیا جس کے تحت طورخم بارڈر پر پاکستان نے اپنے علاقے میں گیٹ کی تنصیب شروع کی تو کابل انتظامیہ نے اسکی سخت مزاحمت کی اور سرحدی فورسز کی باہمی جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں ہمارے درجن بھر سکیورٹی اہلکار شہید بھی ہوگئے ۔ افغانستان اب بھی سرحد پر پاکستان کے سیکورٹی انتظامات کی مزاحمت کررہا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے پاکستان میں داخلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دینا چاہتا ۔ اس وجہ سے ہی دہشت گردوں کو کوءٹہ میں کھل کھیلنے کا موقع ملا جبکہ اس سانحہ کے باعث قوم آج بھی سوگ کی کیفیت میں ہے ۔ اس سانحہ کے بعد سول اور عسکری قیادتوں نے نئے عزم کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کا آغاز کرکے دہشت گردوں کو کیفر کردار کو پہنچانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کے تحت بیسیوں دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے ہیں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کیا جا چکا ہے ۔

Google Analytics Alternative