Home » 2019 » May » 13

Daily Archives: May 13, 2019

پی سی گوادر میں آپریشن مکمل؛ 5 افراد شہید، آئی ایس پی آر

گوادر: آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے پی سی گوادر میں کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا ہے جس میں پاک بحریہ کے سپاہی سمیت 5 افراد شہید ہوئے۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پی سی گوادر پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گرد مارے گئے اوران کی لاشیں شناخت کے لئے رکھ دی گئی ہیں، آپریشن کے دوران ہوٹل کے 4 ملازمین اور پاک بحریہ کا ایک سپاہی شہید ہوا، پاک فوج کے 2 کیپٹن، بحریہ اور ہوٹل کے 2،2 ملازمین زخمی ہوئے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں نے ہوٹل میں داخلے، مہمانوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی لیکن گارڈز کے روکنے پر دہشت گرد سیڑھیوں کی طرف بھاگے اور فائر کھول دیا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے گارڈ ظہور اور 3 ملازمین فرہاد، بلاول اور اویس شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج، پاک بحریہ اور پولیس اطلاع ملتے ہی ہوٹل پہنچ گئیں، فورسز نے مہمانوں اور اسٹاف کو بحفاظت نکال کردہشت گردوں کو چوتھے فلور پر محصور کرلیا، دہشت گردوں نے سی سی ٹی وی کیمرے اتار کرچوتھے فلور کے راستوں پر بارودی سرنگیں بچھا دیں تاہم فورسز نے چوتھے فلور پر پہنچنے کیلئے خصوصی راستے بنائے اور دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور بارودی سرنگیں صاف کر دیں، فائرنگ کے تبادلے میں پاک بحریہ کے سپاہی عباس خان شہید ہوئے۔

پاک ایران گیس منصوبہ؛ وزیراعظم کی وزارت خارجہ کو ایران سے تناؤ ختم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کو گیس منصوبے پر ایران کے ساتھ تناؤ ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق وزارت پیٹرولیم نے ایران کو خط کا جواب بھجوا دیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا پابند ہے تاہم ایران پرعالمی پابندیاں ختم ہونے پرمنصوبہ مکمل کرلیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے نوٹس پر غور کے لیے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے ضروری احکامات جاری کیے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ، امریکا، یورپین کونسل سمیت دیگر فورمز کو قانونی یادداشت بھیجنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایران پرعالمی پابندیاں منصوبے پرزمہ داریاں پوری کرنے میں رکاوٹ ہیں اس سلسلے میں انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ آئی پی گیس منصوبے کیلئے مفاہمتی طریقہ اختیار جائے اور مل کر منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات تلاش کئے جائیں۔

وزیراعظم کی جانب سے وزارت خارجہ کو ایران کے ساتھ تناؤ ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی اداروں سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر واضح پوزیشن لی جائے اور ایران سے گیس کی قیمت خرید پر بھی نظرثانی کا عمل شروع کیا جائے۔

واضح رہے ایران نے 28 فروری 2019 کو گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کے لئے نوٹس بھجوایا تھا جس میں کہا گیا کہ اگر پاکستان پائپ لائن مکمل نہیں کرتا تو عالمی عدالت انصاف جائیں گے۔

گوادر ہوٹل حملہ،دشمن کی منصوبہ بندی ناکام،شاباش سکیورٹی فورسز

صدشکر بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ایک اہم علاقے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے تینوں دہشت گردوں کو واصل جہنم کردیا گیا ۔ اپنی نوعیت کی یہ ایک خوفناک منصوبہ بندی تھی جو سکیورٹی فورسز نے جان پر کھیل کر مکمل طور ناکام بنائی ہے، تاہم ایک سکیورٹی گارڈاولین مزاحمت پر شہید ہوئے ۔ گزشتہ روز گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو سیکیورٹی گارڈ انہیں روکاجس پردہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا ۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر اندر موجود افراد کو بحفاظت باہر نکالا،اور دہشت گردوں کو ہوٹل کی بالائی منزل پر جانے سے قبل سیڑھیوں میں گھیر لیا، یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی ۔ پولیس کے مطابق سہ پہر 4بج کر 50 منٹ پر یہ اطلاع ملی کہ 3سے 4دہشت گرد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں داخل ہوئے ہیں ۔ حملہ ;200;وروں کے داخل ہوتے ہی ہوٹل کے الارم بجا دیئے گئے تھے ، خوش قسمتی سے چینی شہریوں سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا ۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شایدحملہ ;200;ور کشتی کے ذریعے ہوٹل میں حملہ کے لیے ;200;ئے ۔ اس حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے جس کے ڈانڈے بھارت سے کس طرح ملتے ہیں اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ یہی وہ دہشت گردگروہ ہے جو بلوچستان سے مسنگ پرسن کا بہت شور مچاتا ہے ،اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس حملے میں ایک حملہ آور حمل بلوچ نامی دہشت گرد بھی مارا گیا ہے ۔ اس طرح کی اطلاعات کراچی چینی قونصلیٹ حملے کے وقت بھی سامنے آئی تھیں ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی ساکھ خراب کرنے اور سی پیک منصوبہ سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کس لیول تک کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں دہشت گردحملے کی مذمت اور سیکیورٹی فورسزکی بروقت کارروائی کی تعریف کی ہے ۔ وزیراعظم خان کا کہنا ہے کہ فورسزنے بروقت جوابی کارروائی سے قیمتی جانوں کونقصان سے بچایا ۔ ایسی دہشتگردانہ کارروائیاں پاکستان کی خوشحالی کو سبوتاژکرنےکی کوشش ہیں ،کسی صورت ایسے ایجنڈے کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی عوام اورسیکیورٹی فورسزایسے عناصرکوشکست دیں گے ۔ اُدھرچین کی جانب سے گوادر میں ہوٹل پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دلیرانہ کارروائی قابل تحسین ہے ۔ ترجمان چینی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہیں اور حملے میں شہید سیکیورٹی گارڈ کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کی طرف سے حملے کی مذمت اور سکیورٹی فورسز کی بہادری کو بجا طور پر سراہا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ دہشت گرد اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے تو بھاری جانی نقصان ہونا تھا اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی ساکھ اور مستقبل داوَ پر لگ جانا تھا ۔ گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل، مغربی خلیج کے جنوب میں فِش ہاربر روڈ پر کوہ باطل پہاڑی پر واقع ہے، جبکہ ہوٹل میں اکثر کاروباری افراد اور سیر و تفریح کے غرض سے گوادر ;200;نے والے قیام کرتے ہیں ۔ سی پیک کے بعد یہ علاقہ پاکستان مخالف لابی خصوصاً بھارت کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔ اس طرح کی کارروائیوں کی کئی بار کوشش کی گئی تاکہ سی پیک منصوبہ آگے نہ بڑھے ۔ قبل ازیں 8اپریل کو گوادر میں اورماڑہ کے قریب پاک بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ ز پر حملہ کیا گیا جس میں 14 اہلکار شہید ہوئے یہ حملہ تقریباً ایک ماہ بعد ہوا ہے ۔ اس وقت بزی ٹاپ کے علاقے میں رات 12;46;30 سے ایک بجے کے درمیان15 سے 20 مسلح افراد نے کراچی سے گوادر ;200;نے اور جانے والی متعدد بسوں کو روک کر اس میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر شہید کر دیا تھا ۔ گوادر مستقبل کا بین الاقوامی معاشی حب بننے جا رہا ہے ۔ چین روابط بڑھانے اور تجارتی مقاصد کےلئے پاکستان کے ساتھ مل کر گوادر کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے، اس مقصد کےلئے وہ 2015 میں پاک ۔ چین اقتصادی راہداری سی پیک کے نام سے سامنے ;200;نے والے میگا منصوبے کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ منصوبے کے تحت چین کے دور دراز مغربی صوبے سنکیانگ کو بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ اس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں ۔ اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر گزشتہ چند برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں امن عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کےلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے حوصلہ افزاء نتاءج سامنے آرہے ہیں ، جیسے کہ کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا اور اسکے نیٹ ورک کے ڈانڈوں کی تلاش جیسے اہم اقدامات قابل تحسین ہیں ۔ تاہم دہشت گرد عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کبھی کبھی کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں بلوچستان اور پاکستان کےلئے شہ رگ ہے پاکستان مخالف خفیہ ادارے حالات خراب کرنے کے در پے ہیں جو انشا اللہ ناکام ہوں گے ۔ ہ میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا ہے اور اس نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرناہے جو اندرون ملک دشمن کے بیانیہ کوآگے بڑھاتا ہے ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہے، ایسے مواقع پر دشمن کنفیوژن پھیلا کراپنے مقاصد کےلئے راہ ہموار کرتا ہے ۔ پوری قوم کو ہوشیار رہنا ہوگا تاکہ دشمن اپنے منصوبے میں ناکام ہو ۔ گوادر حملہ سی پیک پر حملہ ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

آئی ایس پی آر کی بر وقت وضاحت

پاک فوج کے شعبہِ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے تھریٹ الرٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں آئی ایس پی آر نے کوئی تھریٹ الرٹ جاری نہیں کیا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی تھریٹ الرٹ کی تصدیق کے لیے آئی ایس پی آر کی ویب ساءٹ یا پھر سوشل میڈیا کے آفیشل اکاءونٹس سے تصدیق کریں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر آفیشل اکاءونٹس موجود ہیں ، مصدقہ اکاوَنٹس سے ہی خبریں اور عوامی پیغامات ارسال کیے جاتے ہیں ۔ آئی پی آر ایک ذمہ دار قومی ادارہ ہے ،جس کے نام پر جعلی سوشل میڈیا اکاءونٹ کی بھر مار ہے ۔ سادہ لوح عوام اکثر ایسے جعلی اکاءونٹ کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو سچ مان لیتے ہیں جس سے کنفیوژن پھیل جاتی ہے ۔ گزشتہ روز بھی آئی آیس پی آرکے نام سے ایک جعلی الرٹ نے راولپنڈی اسلام آباد میں خوف کی فضا پید اکردی تھی ۔ جس کی وضاحت بروقت کردی گئی ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اپنے طور بھی چھان پھٹک کرلیا کریں ۔ ہر سنی سنائی خبر یا سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ پر یقین نہ کرلیا کریں اور نہ ہی اِسے آگے پھیلائیں ۔ یہ عادت عوام میں خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہے اس سے اجتناب برتنا ہوگا ۔

ماوَ نواز تحریک بھارت کی سلامتی کیلئے خطرہ

مہاراشتر کے ضلع گڈچرولی میں پولیس کمانڈوز کی دو گاڑیوں کو سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی ڈیوائس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔ اس دھماکے میں دونوں گاڑیاں اور ان میں سوار 16 کمانڈوز ہلاک ہوگئے ۔ یہ سکیورٹی اہلکار ریاستی اسمبلی کے لیے بی جے پی امیدوار کے قافلے کی حفاظت پر مامور تھے ۔ چھتیس گڑھ کی ریاستی اسمبلی کے بی جے پی امیدوار بھیما منداوی بھی اس قافلے میں موجود تھے جب اس پر مشتبہ ماوَ نواز باغیوں نے حملہ کیا ۔ بھیما منداوی ابھی تک لاپتہ ہیں ۔ چھتیس گڑھ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ بھارت کی ماوَ نواز تحریک جسے عرف عام میں نکسلائیٹ بھی کہا جاتا ہے بھارت کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے ۔ ماوَ نواز نکسل باڈی تحریک جس کا آغاز نکسل پارٹی سے ہوا تھا اب بھارت کی 20 ریاستوں تک پھیل گئی ہے ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بھارت کی حکومت کروڑوں لوگوں کو ان کی زندگی کی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ یہی محرومی آگے چل کر حکومت وقت کے خلاف ایک بڑی تحریک بن گئی اوران کے علاقوں میں عملاً بھارتی عملداری ناکام ہو کر رہ گئی ہے ۔ اب یہ تحریک بھارت کے 626 اضلاع میں سے ایک تہائی اضلاع میں پھیل چکی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں کی تحریک بھارت پر زیادہ سیاسی اور فوجی دباو بڑھا رہی ہے ۔ 2006ء سے اب تک ماوَ نوازوں کے حملوں میں 4 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ اس سال ماوَ نواز عناصر کے حملوں میں 990 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ بھارتی حکومت اقتصادی ترقی کے لئے توانائی‘ کوئلہ اور تیل کی ضروریات کے لئے جن علاقوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے ان میں وہ علاقے شامل ہیں جو اس وقت ماوَ باغیوں کے قبضے میں ہےں ۔ کئی غیر ملکی کمپنیاں جو بھارت میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ ماوَ نواز باغیوں کے خوف سے ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہیں ۔ علیحدگی پسند تنظیم ماوَ بھارت کو مفلوج کر کے 2050 ء تک اس پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہیں بھارت کے سابق فوجیوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں انہوں نے نکسلاءٹس بھارت تحریک کو بتدریج بڑھایا ہے ۔ ہندوستان کی حکومت مختلف ریاستوں میں سرگرم ماوَنواز باغیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر رضامند ہو گئی ہے ۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس ماوَنوازوں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ مرکزی فورسز انہیں ضروری مدد فراہم کریں گی ۔ نئی حکمت عملی کے مطابق تقریباً ستر ہزار سنٹرل پیرا ملٹری فورسز اور اعلیٰ سطح کے کمانڈوز کو ماوَنواز باغیوں کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا جائے گا ۔ ان اہلکاروں کو فوج اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹر بھی مدد فراہم کریں گے ۔ مرکزی حکومت اب مزید 14000 فوجی ان ریاستوں میں آپریشن کے لیے بھیج رہی ہے ۔ مرکزی فورسز کے علاوہ ان ریاستوں کے ہزاروں پولیس اہلکار بھی ماوَ نوازوں کے خلاف موجودہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ خفیہ اداروں کا کہنا ہے ماوَ نوازوں کے پاس تقریباً 20000 چھاپہ مار جوان ہیں جو اچھی طرح تربیت یافتہ او رمسلح ہیں ۔ کولکتہ سے تقریباً پونے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر لال گڑھ علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اور وہاں ماوَنواز باغیوں کا بول بالا ہے ۔ ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے مغربی مدنا پور ضلع کے لال گڑھ علاقے میں ماوَنواز باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے ۔ پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کے جوان علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جس کے سبب وہاں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ سینٹرل ریزرو فروس اور پولیس کی کچھ کمپنیاں لال گڑھ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور مورچہ سنبھال لیا ہے ۔ حکومت کی کارروائی کے پیش نظر ماوَ نواز باغیوں نے بھی مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور درختوں کو کاٹ کرگاؤں کے راستوں کی ناکہ بندی کردی ہے ۔ ماوَنواز باغیوں نے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور انسانی دیوار بنا رکھی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں نے سب سے آگے خواتین اور بچوں کو رکھا ہے اور دوسرے نمبر پر معمولی ہتھیاروں سے لیس گاؤں والے ہیں ۔ سب سے پیچھے مسلح ماوَنواز ہیں جنہوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے ۔ ریاستی حکومت نے کارروائی سے پہلے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ماوَنوازوں سے دور ہٹ جائیں تاکہ لڑائی کے دوران وہ نشانہ نہ بن سکیں ۔ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں ۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے کئی کارکنان ہلاک ہوگئے تھے ۔ ان ریاستوں کے رہنے والوں کا مطالبہ ہے کہ و ہ بھارت کی غلامی میں رہنے پر ہرگز آمادہ نہیں لہذا انہیں آزاد کیا جائے ۔ علاقے کے تمام عوام اس مطالبے کے حق میں ہیں ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ بھارت سے علیحدگی کا یہ مطالبہ ہرگز نیا نہیں بلکہ یہاں کے عوام پچھلے58 برس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں مگر بھارتی حکمران اپنی روایتی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بزور طاقت فی الحال اس صوبے کو اپنے ناجائز قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ماوَ باغیوں کی گوریلا کارروائیاں بھارت میں ایک معمول بن چکی ہیں ۔ بھارت تو علیحدگی پسندوں کو ختم کرنے کا دعوی کررہا ہے لیکن میڈیا کا کہنا ہے کہ وہاں گروہ بندی ہو رہی ہے ۔ ان باغیوں نے یکجہتی کانفرنس بھی منعقد کی اور کوئی حکومت کا ذمہ دار ان سوالات کا جواب نہیں دے سکا کہ اس کانفرنس میں سو وفود کس طرح شریک ہوئے جن کا تعلق سولہ مختلف ریاستوں سے تھا ۔ اس کانفرنس میں پیپلز لبریشن آرمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلے بھی کئے گئے کہ تین سو خصوصی زونوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے داخلے کی مخالفت کی جائے گی ۔ بھارتی اخبار نے سوال کیا ہے کہ کیا اس ملک کے بنانے والوں نے اسی کا خواب دیکھا تھا اور کیا ہماری سیاست یہی کہتی ہے اور ہمارا مرکز ریاستوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہا ہے ۔ اخبار نے زور دیا ہے کہ مرکزی حکومت صوبائی رہنماؤں کو اعتماد میں لے اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی استعمال کیا جائے اور دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں ۔ دنیا بھر کے فلاسفر اس پر متفق ہیں کہ جہاں کوئی حکومت ریاست کی عملداری اور بالادستی برقرار نہ رکھ سکے وہ ناکام ریاست ہی کہلاتی ہے اور بھارت مبینہ دہشت گردوں کو اتنی بڑی تعداد میں اضلاع دیکر اس راستے پر چل نکلا ہے ۔

جعلی اکاؤنٹس کیس؛ نیب نے آصف زرداری کو 16 مئی کو طلب کرلیا

اسلام آباد: نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری کو 16 مئی کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو 16 مئی کو پیش ہونے کی ہدایت کردی، آصف زرداری کو 16 مئی کو نیب اولڈ ہیڈکوارٹر پیش ہونے کا کہا گیا ہے جب کہ انہیں ہریش کمپنی کیس میں طلب کیا گیا ہے۔

اس سے قبل نیب نے آصف علی زرداری کو 9 مئی کو طلب کیا تھا لیکن آصف علی زرداری نے پیش ہونے سے معذرت کرتے ہوئے 15 روز کی مہلت مانگی تھی تاہم نیب نے 15 روز کی مہلت دینے سے انکار کردیا         ۔

جب تک بیٹے قربان کرنے والی مائیں موجود ہیں اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ جب تک وطن پر بیٹے قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والی مائیں موجود ہیں اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں شہداء کی ماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ان ماؤں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی قربانی کی بدولت ہم آج اس مقام تک پہنچے ہیں، جب تک وطن پر بیٹے قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والی مائیں موجود ہیں، اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

دوحہ مذاکرات ۔ کابل انتظامیہ کی کوئی اہمیت نہیں

غیر ریاستی عناصراور کچھ غیر علاقائی عناصر جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اورافغانستان کی سرحد پر امن کے دشمن بنے کشیدگی کی شدت کوہوا دینے انسانی ماحول کوپراگندہ کرنے‘بدامنی پھیلانے اور خطہ میں نفرتیں اور دشمنیوں کے رجحانات پیدا کرنے میں اپنی حدیں پار کرنے لگے ہیں ، امریکی سرپرستی میں قائم کابل انتظامیہ کی پشت پناہی ان غیرریاستی اور غیر علاقائی عناصر کو حاصل ہے ایسا کیوں ہورہا ہے وہ اس لیئے کہ کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی سربراہ ڈاکٹراشرف غنی جو کانوں کے کچے ہی نہیں ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ اپنی اتھارٹی اور اپنا اعتماد جو پہلے ہی سے کمزور سہاروں پر لڑکھڑارہاہے اپنی کابینہ پر وہ اپنا سربراہی اختیاراب گنواتے جارہے ہیں افغانستان میں اْن کی کوئی سنتا ہی نہیں افغان سیکورٹی کا ادارہ جس کی پیشہ ورانہ اہلیت و مہارت پر پہلے سے کئی سوالات ہیں پیشہ ورانہ ڈسپلن کی اْن میں کمی ہے افغان فوج سے بلا اطلاع دئیے فرار ہوکر بدقماش عسکریت پسندوں سے جاملنا اپنے ہتھیاراْنہیں فروخت کردینا یہ افغانستان میں روز کا معمول ہے اْنہیں احکامات کہاں سے آرہے ہیں یہ کوئی نہیں بتاتا کابل انتظامیہ سے زیادہ احکامات وہ امریکی عسکری حکام کے مانتے ہیں اور افغان فوج کے کئی دستے ;39;را;39; سے پیسہ پکڑکر پاکستان کی سرحد پر فائرنگ کرنے آنکلتے ہیں مثلاً گزشتہ ماہ اپریل کی 15 تاریخ کو افغان سیکورٹی فررسنزکے ایسے ہی ایک دستہ نے پاکستانی قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب ایک تشویش ناک جارحانہ حملہ کردیا 5پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کئی پاکستانی فوجی اس حملہ میں شدید زخمی ہوئے معتبر ذراءع نے بتایا کہ افغان فورسز نے یہ حملہ کرم ایجنسی کی پاکستان سرحد پر اس وقت کیا جب پاکستانی سپاہی وہاں باڑ لگانے کے لیے ایک سروے کر رہے تھے یاد رہے افغانستان کی جانب سے جارحیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا مسلسل جارحیت کا یہ ایک بہت ہی افسوس ناک تسلسل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے پاک افغان دوطرفہ مسائل ہر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کا یہ ماحول اس وقت تک نہیں رکے گا بلکہ چلتا رہے گا جب تک خطے کی ریاستیں اور تمام ’اسٹیک ہولڈرز‘ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے جس میں اْن کا اشارہ خاص کر افغانستان;39; اور بھارت کی طرف ہے اور افغانستان میں گزشتہ17 برسوں سے اب تک وہاں موجود امریکا بھی اب ایک ;39;اسٹیک ہولڈر ;39;بن چکا ہے کہاں امریکا اور کہاں افغانستان کوئی تو بتلائے کہ یہ کیونکر ممکن ہوا اورکیسے ہوا ہے چاہے امریکا ہو یا بھارت پہلی فرصت میں علاقہ کوکسی اور نئی تباہی اور ممکنہ بربادی جیسے حالات پیدا کرنے سے پْرامن دوستانہ خیرسگالی کی پالیسیوں کی سمت امریکا کو اب آنا ہی پڑے گا تبھی پاکستان سمیت افغانستان میں حقیقی اور مستقل امن کی فضا قائم ہوگی اور اسی طرح سے افغان صدر غنی اور امریکی صدر ٹرمپ کو پاکستان پر لغوالزامات لگانے سے قبل اپنے گریبانوں میں جھانکنا لینا چاہیئے پاکستان پردہشت گردوں کی پشت پناہی کا یہ کتنا بیہودہ اور بے سروپا الزام ہے یہ اْنہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ دہشت گردی کو اْس کی جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنے اور دہشت گردوں کو عبرتناک سزائیں دینے میں پاکستان نے کتنی قیمتی قربانیاں دی ہیں ایک دنیا ان قربانیوں کی معترف ہے اسلام آباد کی یہ بات کہاں سنی جارہی ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کو افغانستان میں پناہ مل رہی ہے جو وہاں سے پاکستانی علاقے میں حملے کرتے ہیں بنیادی طور پر یہی غیر ریاستی عناصر ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن تھوڑا بہت نہیں بلکہ زیادہ ہاتھ امریکا اور دوسرے چند مسلم دشمن مغربی ممالک کا بھی ہے امریکا خطے میں بھارت کو زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہے اور اسے افغانستان میں کوئی کردار سونپنے کا بھی خواہاں ہے جب تک یہ امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی اور غیر ریاستی عناصر کو لگام نہیں ڈالی جائے گی دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے سرحدی تعلقات میں بہتری اور خطے میں دیرپا امن دونوں مشکل نظرآتے ہیں صدر غنی نجانے کن بدخواہوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ایک ہی ضد پراڑے افغان مزاحمتی طاقت کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں جو افغانستان کے محفوظ مستقبل کی حقیقی ضامن قوت ہے، دوحہ مذاکرات اچھے خاصے چل رہے تھے، امریکا بھی کسی حد تک راضی معلوم دے رہاتھا افغان طالبان مزاحمتی قائدین کا کابل انتظامیہ کی بجائے براہ راست امریکا سے مذاکرات کرنے پراپنی آمادگی کا اظہار اس روشن امر کی شہادت دیتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے امریکا جو غیر ملکی قابض قوت ہے وہ افغان سرزمین چھوڑ دے بعد میں کابل کی انتظامیہ سے افغان طالبان باہمی گفت وشنید کرلیں گے دنیا اب بہت بدل چکی ، ہے پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے اور حالات تبدیل ہوچکے ہیں ، دوحہ میں مذاکرات کا چھٹا دور چل چکا ہے ایسے میں اشرف غنی کی جانب سے ;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; بنانے کی بات کرنا امن مذاکرات کو یوں سمجھیں کہ وقت ضائع کرنا ہے اور کیا کہیں ;238;افغان طالبان کو پاکستان;39;روس اور چین نے کتنی تگ ودو کے بعد امریکا سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کیا تھا یوں جنگ بندی کا مرحلہ بھی طے ہوجاتا امریکا بھی افغانستان سے جلد ازجلد اپنی باقی ماندہ فوج کو نکالنے کی کوئی قریبی حتمی تاریخ کا اعلان کرتا مگر اقتدار کی لالچ اور ہوس میں مبتلا اشرف غنی انتظامیہ ;39;را;39; کے ہاتھوں بنی بنائی گیم کا ستیاناس کرنے پر تلے دکھائی دیتے ہیں ایک اطلاع یہ بھی عالمی میڈیا میں گردش کررہی ہے کہ امریکا افغانستان میں ایک طرف طالبان کو مذاکرات میں مشغول کیئے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف بالا ہی بالا بھارتی اثررسوخ کو استعمال کرکے امریکا نے پرائیویٹ ملٹری ٹھیکیدارفورس ;39;بلیک واٹر;39; کے کچھ دستے افغانستان میں اتاردئیے ہیں مصدقہ ذراءع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن امریکیوں سے کچھ بھی بعید نہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ نئی دہلی امریکا کی ;39;حاضرسروس;39; کے بغیر ایک ہفتہ بھی غیور بہادر اور جرات مند افغان طالبان کا دوبدو مقابلہ نہیں کرسکتی یہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; کے شوشہ کے پیچھے ;39;سی آئی اے;39; کی ڈوریاں بھی ہل رہی ہیں یادرہے کہ افغان طالبان نے;39;نیشنل یونٹی حکومت;39; کے کابل انتظامیہ کے جھانسے میں آنے سے یکسر انکار کردیا ہے کیونکہ کابل انتظامیہ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں ہے افغان طالبان تو افغانستان کے تقریباً 60 ۔ 70 فیصد رقبے پر اپنی حکومت چلا رہے ہیں ، لہٰذاء پاکستان چونکہ افغانستان کا انتہائی قریبی پڑوسی ملک ہے صدیوں پر محیط دونوں مسلم ممالک کے عوام گہرے ملی;39;ثقافتی اور کئی مقامات پر قبائلی خونی رشتوں میں باہم پیوست ہیں ہمارے نزدیک طالبان لائق احترام اور واجب احترام ‘ لہٰذا ہ میں بحیثیت پاکستانی قوم کسی اور کی باتیں کیا سنیں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی اس بات میں کافی منطقی وزن ہے جیسا اْنہوں نے ترک نیوز چینل;39;ٹی آر ٹی ورلڈ;39;سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اپنے مخالف افغانوں سے اس وقت بات کریں گے جب امریکہ کے ساتھ ہمارا کوئی اْصولی معاہدہ طے پا جا ئے گا اْنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ’’طالبان نام نہاد افغان حکومت سے بات نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بقول وہ ایسی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے جسے امریکہ نے قائم کیا ہے اور جس پر امریکی اثرورسوخ ہے;3939; اب وقت بدل رہا ہے جتنی جلد ہوسکے امریکا کو افغانستان کی سرزمین چھوڑ دینی چاہئیے یہاں ہم بھارت پر بھی یہ واضح کردیں کہ وہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے تجارتی کنٹریکٹ پر زیادہ ’اُوچھا‘ بننے کی کوشش نہ کرئے امریکی جونہی افغانستان سے نکلنا شروع ہونگے ایرانی بندرگاہ بھی نئی دہلی کے ہاتھوں سے پھسل جائے گی جناب والہ! ایران نے سی پیک میں بھی شامل توہرصورت ہونا ہے ۔

فیفا اور اے ایف سی وفد کو حقائق بتائیں گے، پی ایف ایف چیف

لاہور: پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید اشفاق حسین شاہ کا کہنا ہے کہ 28 مئی کو پاکستان آنے والے فیفا اور اے ایف سی وفدکوحقائق سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور تیاری کرلی، ثابت کریں گے کہ ہم ہی فٹبال کے حقیقی وارث ہیں۔

صدر پی ایف ایف سید اشفاق حسین شاہ کا دیگرعہدیداروں کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ فیفا وفد کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی طرف سے بھرپور تیاری کی ، ہم وفد کو بتائیں گے کہ گزشتہ16برسوں میں پاکستانی فٹبال تباہی کے دہانے پرکیوں پہنچا، امید ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب رہیں گے۔

صدر فیڈریشن نے واضح کیا کہ ہم نے ورلڈکپ کوالیفائرکے لیے کیمپ لگایا ہے،جو کھلاڑی کیمپ میں شریک نہیں ہوئے ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگا، فیڈریشن نائب صدرسردارنوید حیدر خان بولے کہ ہم الیکشن جیت کر پاکستان فٹبال فیڈریشن کا حصہ بنے، ہم فٹبال فیڈریشن کونہیں چھوڑیں گے، فیفا کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم ماننا پڑیگا۔

نائب صدرعامرڈوگر نے کہا کہ ہمیں فٹبال کے تمام کھلاڑیوں کا احساس ہے لیکن سابقہ باڈی اپنی فرعونیت دکھارہی ہے۔

Google Analytics Alternative