Home » 2019 » May » 14

Daily Archives: May 14, 2019

کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکا، 4 اہلکار شہید

کوئٹہ: منی مارکیٹ کے قریب کھڑی مدد گار پولیس موبائل کے قریب دھماکے سے 4 اہلکار شہید جب کہ 6 افراد زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ کی منی مارکیٹ میں مدد گار پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا۔ جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کی آواز دور دور تک سنائی دی جب کہ پولیس کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

دھماکے کے فوری بعد ریسکیو کی ٹیمیں اور فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جب کہ زخمی اہلکاروں اور شہریوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا گیا۔ طبی حکام نے 4 اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ زخمیوں میں سے ایک اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل بھی گوادر میں دہشت گردوں نے فائیو اسٹار ہوٹل کو نشانہ بنایا تھا، جس میں پاک بحریہ کے اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قبائلی اضلاع سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق  26ویں آئینی ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیمی بل کو  متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے، فاٹا کی قومی و صوبائی نشستیں بڑھانے کے حوالے سے ترمیمی بل کو 278 ووٹوں سے منظور کیا گیا جب کہ کسی بھی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ قومی اسمبلی سے ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد صدر مملکت کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے بعد فاٹا کے لیے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 9 اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 16 سے بڑھ کر 20 ہوجائی گی، پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی آئینی ترمیمی بل حکومت و اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، ساری جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں، فاٹا میں جتنا نقصان ہوا، کے پی اس کو پورا نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی تاہم  کسی کو احساس محرومی نہیں ہوناچاہیے کہ پاکستان ان کو حق نہیں دے رہا، جب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھانا چاہیے۔

ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کیس؛ شہباز شریف کے تحریری جوابات غیر تسلی بخش قرار

لاہور: ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کیس میں اپوزیش لیڈر شہباز شریف کا نمائندہ فیصل افضل نیب لاہور میں پیش ہو گیا۔ تحریری جوابات کو نیب نے غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آج نیب لاہور نے طلب کر رکھا تھا جس پر شہباز شریف کے نمائندے فیصل افضل نیب کے روبرو پیش ہوئے اور نیب حکام کو بتایا کہ شہباز شریف برطانیہ میں موجود ہیں جس وجہ سے پیش نہیں ہو سکے، نمائندے نے وکیل عطاء تارڑ کی جانب سے لکھا تحریری خط پیش کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی لیگل ٹیم کی جانب سے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیس کے نیب سوالات کے تحریری جوابات بھی نمائندہ کے ہاتھ بھجوائے گئے، نیب لاہور نے شہباز شریف کو 7 سوالات پر مشتمل طلبی کا سمن جاری کیا تھا۔ جس کے جواب میں شہباز شریف کی ٹیم کی جانب سے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے قیام کی سمری مبینہ طور پر محکمہ فنانس اور محکمہ قانون کی رائے لئے بغیر منظور کی حوالہ سے جواب جمع کروایا گیا، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی جانب سے پہلے سے موجود ہونے کے باوجود ایل ڈبلیوایم سی کے قیام سمیت کمپنی کے قیام کے لئے کیا قانونی تقاضے پورے کرنے کے حوالہ سے بھی نیب سوال کو تحریری جواب جمع کروایا گیا۔اس کے ساتھ ٹھیکیدار کمپنی آئی ایس ٹیک کو نیلامی کا عمل مبینہ طور پر مکمل کئے بغیر ٹھیکہ دینے کے حوالہ سے بھی تفصیلات تحریری طور پر جمع کروائیں گئیں۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب لاہور نے سالٹ ویسٹ منجمنٹ کیس میں شہباز شریف کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا اور اس حوالے سے شہباز شریف کے نماہندے کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بچی سے زیادتی انسانیت کیلئے ڈراؤنا خواب ہے، ترجمان دفتر خارجہ

سری نگر: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کی شدید مذمت کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے علاقے سمبل میں 23 سالہ سفاک درندے نے 3 سالہ بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے خلاف پوری وادی میں ہنگامہ پھوٹ پڑے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے مجرم کو قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

بھارتی پولیس احتجاجی مظاہرین پر بھی ٹوٹ پڑی اور انہیں منتشر کرنے کےلیے طاقت کا استعمال کیا، جبکہ ملزم کو بھی گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں تین سالہ بچی کے ساتھ ریپ انسانیت کے لئے ڈراؤنا خواب ہے، پر امن مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال بھارتی مظالم کے تسلسل کا عکاس ہے۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین معاہدہ طے پاگیا

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عمران خان کی قیادت میں معاشی حالات پرقابوپاناشروع کردیا ہے ، کپتان کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ جو بھی کام کرتاہے عزم مصمم سے کرتا ہے اور آخر کار کامیابی کی منزل اس کے قدم چوم لیتی ہے، گوکہ حکومت آنے سے قبل پی ٹی آئی نے کہاتھاکہ وہ کسی صورت بھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی لیکن جانے والی حکومت نے قومی خزانے کو اس کوبری طرح خالی کیاکہ کپتان کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ، گوکہ آئی ایم ایف نے جو سٹاف لیول پر قرضہ دینے کی شرائط عائد کی تھیں وہ جب وزیراعظم عمران خان کے پاس گئیں تو انہوں نے اس شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کو مزید مراعات دینے پررضامندکیاجائے اس کے بعد دودن مزیدمذاکرات چلتے رہے اورآخری یہ حتمی مراحل میں داخل ہوگئے اور کامیابی کے بعد آئی ایم ایف نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ۔ جس کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے ۔ اعلامیے میں کہا گیاکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئیگی ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک غریبوں پر اثر انداز مہنگائی کم کرنے پر توجہ دیگا، اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے مالی استحکام پر توجہ دینا ہوگی، مارکیٹ کی جانب سے شرح تبادلہ کے تعین سے مالی شعبہ میں بہتری آئیگی اور معیشت کیلئے بہتر وسائل مختص ہوسکیں گے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان آئندہ 3 سالوں میں پبلک فنانسگ کی صورتحال میں بہتری اور انتظامی اصلاحات سے ٹیکس پالیسی کے ذریعے قرضوں میں کمی لائیگا، حکومتی اداروں اور شعبہ توانائی میں خرچے کم کرنے سے وسائل و مالی خسارہ کم ہوگا ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہوگا ۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ حکومت غریبوں کی مدد کے پروگرام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ سبسڈی کا نظام صرف غریبوں تک محدود کرنا ہو گا ۔ اعلامیہ کے مطابق مالیاتی شعبے کی بہتری کیلئے مارکیٹ کی طرف سے تعین کردہ ایکسچینج ریٹ طریقہ کار اپنایا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق ملک میں معاشی ترقی کیلئے ایک ڈھانچاتی اصلاحات پروگرام پر اتفاق کیا گیا ہے ،پروگرام کی ترجیحات سرکاری اداروں کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے، اداروں کی گورننس بہتر بنانے، انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ کرنا اور تجارت کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہے ۔ مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے ۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے شرائط میں نرمی کرنے کے لئے کہا لیکن آئی ایم ایف نے انکار کردیا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کاسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کردیا تھا لیکن گزشتہ روز آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ میں بریک تھرو ہوا ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کچھ اضافہ کرنا پڑے گا 75فیصد صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، غریب عوام کے لئے شروع کئے گئے پروگراموں کے لئے بجٹ میں 180ارب روپے رکھے جا رہے ہیں ۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ملک کی معاشی حالت خراب ہوئی ہ میں اپنی چادر کے مطابق اخراجات کرنے کے لئے کہا ہے، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں ، گزشتہ حکومتوں کے ;200;ئی ایم ایف پروگرامز میں نقص تھا،;200;ئی ایم ایف سے اس سے قبل کے پروگراموں میں اسٹرکچرل ریفارمز نہیں کی گئی تھیں ۔ پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچر تبدیلی کرنا ہوگی ۔ گوکہ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالرملیں گے تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس مہنگائی کے دور میں وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور ایسے پیکج متعارف کرائے جن کی وجہ سے آسانی سے عوام ٹیکس نیٹ میں آسکے،مشیرخزانہ نے تو کہہ دیاہے کہ وہ ٹیکس دینے والے کی عزت کریں گے اورمزید ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے ۔

دہشتگردوں کے مذموم عزائم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے

وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پاکستانی قوم اور اس کی سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریں گی، بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا مقصد ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، ملک میں اس طرح کے ایجنڈے کی تکمیل کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسی کارروائیاں پاکستان کی خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں ۔ کسی صورت ایسے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیاجا ئے گا ۔ پاکستان کے امن و ترقی کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام اور نامراد رہیں گے ۔ دوسری جانب ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ماءوں کے عالمی دن پر شہدا کی ما ءو ں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وطن پر بیٹے قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والی مائیں موجود ہیں ، اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ان ماءوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنکی قربانی کی بدولت ہم ;200;ج اس مقام تک پہنچے ہیں ۔ جب تک بہادر سپوتوں کی مائیں موجود ہیں ، کوئی ہ میں شکست نہیں دے سکتا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ماءوں کے نام سوشل میڈیا پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے تمام ماءوں خصوصا شہدا کی ماءوں کو سلام پیش کیا ہے ۔ ماں پیار، خیال، حفاظت اور بے لوث ہونے جیسے لافانی احساسات کا نام ہے ۔ ماں صرف رشتے کا نام نہیں ، ایسا ہوتا تو ان کے جانے سے یہ رشتہ ختم ہو جاتا ۔ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے، کچھ منفی عناصر بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے پر عمل پیرا ہیں ، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ گوادر کے ہوٹل پر حملے کا مقصد سی پیک منصوبے کو ناکام بنا نا ہے، مگر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی را اور افغان این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ ہے ۔ بھارتی ایجنسی را ہمیشہ بی ایل اے کا ماسٹر مائنڈ رہی ہے ۔ وزیراعظم مودی پہلے ہی بلوچستان میں دہشت گردوں کی معاونت کا سرعام اقرار کر چکا ہے ۔ بھارت ہمسایہ ممالک میں امن خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی این ڈی ایس بھی پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہوجاتی ہے جبکہ پاکستان نے اعادہ کیاہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا ۔

فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہمیں ماضی کی غلطیوں سےسبق سیکھنا چاہیے، کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ان کوحق نہیں دے رہا اورجب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھنا چاہیے۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لایا جائے، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کےعوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے،  فاٹا کی آوازاب ہر جگہ سنی جائے گی، فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے وہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھائی جارہی ہیں، فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، تمام جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں، فاٹا میں جتنا نقصان ہوا اسے صرف خیبرپختونخوا پورا نہیں کرسکتا۔ فاٹا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے تمام صوبوں کو مالی طورپرمدد کرنا ہوگی، ہرصوبہ فاٹا کو 10 سال کے لئے این ایف سی ایوارڈ سے 3 فیصد دے گا۔

دہشت گردی میں بھارت ملوث

گزشتہ ماہ سری لنکن شہر کولمبواور دیگر تین شہروں کے تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں میں بم دھماکے ہوئے ۔ اتوار کو خاص طورپرمسیحی برادری ایسٹر کا تہوار منانے کےلئے جمع تھے ۔ ان دھماکوں میں 350 کے قریب افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ۔ ان حملوں کے بعد کم از کم 24 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ۔ پاکستان دفتر خارجہ نے سری لنکا میں دھماکوں اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کی امداد کی پیش کش کی ۔ پاکستان نے عشروں تک دہشت گردی جھیلی ہے لہذا ا س کا دکھ اور تکلیف جتنی پاکستان محسوس کر سکتا ہے کوئی اور نہیں ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کےلئے سری لنکن حکومت نے پاکستان حکومت سے دھماکوں کے فارنزک کے لیے مدد مانگی جس پر محکمہ صحت پنجاب کی ٹیم دھماکوں میں ہلاک افراد کی شناخت کے لیے فوری طورپرسری لنکاپہنچ گئی ۔ سری لنکن وزیر دفاع روان وجےوردھنے کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ کا ہاتھ لگتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم ;39;ہر اس انتہاپسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے ۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہوں ۔ ;39; ;39;ہ میں یقین ہے کہ جو بھی مجرم اس بدقسمت دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہیں ہم انھیں جتنا جلد ممکن ہو گرفتار کر لیں گے ۔ ;39;ایسٹر دھماکے کرنے والے دہشت گردوں تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ تھا ۔ بم دھماکوں کے ایک دن بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک مقامی بنیاد پرست تنظیم ’نیشنل توحید جماعت‘ ان دھماکوں میں ملوث ہوسکتی ہے ۔ اس تنظیم کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اس کو سری لنکا میں موجود ایک اور تنظیم کا دھڑا سمجھا جارہا ہے ۔ اس تنظیم نے بدھ بھکشووں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف فسادات ہونے پر ضلع کیگالہ میں بدھا کے مجسموں کو نشانہ بنایا تھا ۔ لیکن پھر سری لنکن آرمی چیف نے آخر سراغ لگا ہی لیا کہ ان کی دھماکوں کے پس پشت کون ہے ۔ سری لنکن آرمی چیف نے بتایا کہ حملے کے طریقے کار اور نشانہ بنائی جانے والی جگہوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا ثبوت ملا کہ حملہ میں بھارت ملوث ہے ۔ ثابت ہوا کہ اس میں بیرونی عناصر ملوث تھے یا انہیں ہدایات موصول ہو رہی تھیں ۔ حملے میں ملوث ملزمان بھارت کا دورہ کرچکے تھے ۔ وہ بھارت کے زیرتسلط کشمیر، بنگلور اور ریاست کیرالا بھی گئے تھے ۔ سری لنکن آرمی چیف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران بہت زیادہ آزادی اور امن تھا اور لوگ یہ بھول گئے کہ پچھلے 30 برسوں میں کیا ہوا تھا ۔ اسی طرح لوگ امن سے مستفید ہو رہے تھے اور سلامتی کو نظرانداز کر بیٹھے تھے اور دہشت گرد اپنا داوَ چل گئے ۔ سری لنکن پولیس حکام کے مطابق ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 359 ہوگئی ہے ۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ زہران ہاشم نے بھارت میں ٹریننگ لی اور کافی عرصہ بھارت میں گزارا ۔ دیگر نوجوانوں نے تامل ناڈو سے دہشت گردی کی تربیت لی ۔ زہران ہاشم کے فیس بک سے بھارتی رابطوں کا سراغ ملا ۔ اس کے فیس بک فالورز میں بھارتی شہری بھی ہیں ۔ اس سے قبل مودی سرکار نے سری لنکن دھماکوں کا الزام حسب معمول پاکستان پر بھی عائد کیا تھا مگر اب وہ ثبوت ملنے پر خاموش ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھارت نے نہ صرف سری لنکا کی حکومت کو تامل ٹائیگر باغیوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کےلئے ہتھیار فراہم کئے بلکہ ہندوستان نے تامل ٹائیگر کو بھی حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں کی خاطر اسلحہ و بارود دیے ۔ بھارت کا یہ سیاہ چہرہ کئی مواقع پر بے نقاب ہوا جب سری لنکا کی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارت کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ کی کھیپ کئی بار پکڑی ۔ سری لنکا کو اسلحہ کی سمگلنگ کا انکشاف اس وقت ہوا جب گولہ بارود سے لدا ہوا ایک ٹرک ضلع سیوا گنگا کے مقام مانامادھورائے کے قریب حادثے کا شکار ہوا ۔ پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا کہ تامل باغیوں کو یہ اسلحہ فراہم کرنے والا شخص کیرالہ کا رہائشی ہے ۔ چنانچہ تامل ناڈو کی پولیس نے اس بارے میں سراغ لگانے کےلئے اندھرا پردیش اور کیرالہ کی پولیس سے رابطہ کیا توپولیس کو پتہ چلا کہ یہ گروہ تامل ناڈو کے بعض دوسرے گروہوں کے ذریعے تامل باغیوں کو رامیش ورام کے ذریعے اسلحہ فراہم کرتا ہے ۔ اسی اثنا میں ماہی گیروں کو دو بار سمندر میں لکڑی کے ایسے بکس ملے جن میں راکٹ بھرے ہوئے تھے ۔ سری لنکا اور بھارت کے درمیان بحری سرحد کے قریب ایک ماہی گیر کے جال میں لکڑی کا ایک بکس پھنس گیا جس میں راکٹ لدے ہوئے تھے ۔ اس بکس میں سترہ کلو کا راکٹ اور گولیوں کے چھ پیکٹ تھے ۔ ہندوستانی بحریہ نے اس راکٹ پر قبضہ کر کے اسے وشاکاپتم کے بحری ڈپو کو بھیج دیا ۔ اسی طرح سری لنکا کے ایک جزیرے میں بھی اسلحہ سے بھرے ہوئے لکڑی کے دو بکس پائے گئے جن میں راکٹ تھے ۔ سری لنکا میں جاری اس خانہ جنگی میں آخر کا ایسا مقام بھی آیا جب سری لنکا کی فوج کے پاس اسلحہ تک ختم ہوگیا ۔ تب سری لنکن حکومت نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی ۔ پاکستان نے مثبت میں جواب دیتے ہوئے صرف ایک سال کے اندر سری لنکا کو ان دہشت گردوں سے چھٹکارا پانے کے لیے 190 ملین ڈالرز مالیت کا اسلحہ دیا ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے الخالد ٹینک اور پاک فضائیہ کے فاءٹر پائلٹس نے بھی بھرپور انداز میں ان دہشت گردوں پر ہلا بولا ۔ پاک فوج کے مایہ ناز افسروں کو سری لنکن فوج کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ۔ یہاں تک کے 2009 میں ان تامل ٹائیگرز کی کمر ٹوٹ گی، اور ان کا خاتمہ ہوگیا ۔ سری لنکا کی اس جیت میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ۔ بھارت کو پرامن سری لنکا پسند نہیں آیا لہذا اس نے دوبارہ اسے اپنے زیر اثر لانے کےلئے ریشہ دوانیاں شروع کر دیں ۔ مودی سرکار نے درحقیقت بھارت کو ہندو انتہاپسند ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی کی ۔ تمام ہمسایوں میں اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری گھناءونی وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا ۔ سری لنکن بم دھماکے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے ۔ مودی سرکارعلاقائی امن و سلامتی تاراج کرنے پر تلی بیٹھی ہے ۔ بہر حال جنونی بھارت کو یہیں روکنے کی ضرورت ہے ورنہ وہ جنون میں کچھ بھی کر جائے گا اور یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں بھی آسکتا ہے ۔

روزانہ 3 کھجوریں کھانے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

ماہ رمضان میں ایک پھل ایسا ہوتا ہے جس کے بغیر افطار کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا اور وہ ہے کھجور۔

ویسے تو کھجوروں کو سپرفوڈ نہیں سمجھا جاتا مگر یہ صحت کے لیے کسی سے کم نہیں۔

یہ صحت کو بہت زیادہ فوائد پہنچانے والا پھل ہے جسے ہر ایک کو ضرور کھانا چاہیے۔

کھجور کھانا سنت نبوی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ افطار یا عام دنوں میں بھی روزانہ صرف 3 کھجوروں کو کھانا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

اگر نہیں تو جان لیں۔

خون کی کمی دور کرنے میں مددگار

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

ہڈیاں کی صحت بہتر ہوتی ہے

طبی ماہرین کے مطابق کھجوروں میں کاربن موجود ہے جو ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، ایک اور تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ کھجور میں موجود منرلز جیسے فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیئم اور میگنیشم ہڈیوں کو مضبوط بناکر ہڈیوں کے بھربھرے پن جیسے امراض کے خلاف لڑتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

ہڈیوں میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کے مناسب افعال کے لیے بہت ضروری جز ہے۔ فائبر کے استعمال سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ روزانہ کھجور کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا نظام ہاضمہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

تناﺅ اور ڈپریشن سے لڑنے میں مددگار

کھجوروں میں وٹامن بی سکس بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں سیروٹونین اور norepinephrine بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ سیروٹونین مزاج کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ norepinephrine تناﺅ سے لڑتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن بی سکس کی جسم میں کم مقدار اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، وٹامن بی سکس کا زیادہ استعمال صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن کو بھی تیز کرتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھتی ہے

فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی کھجور کو بہترین پھل بناتی ہے، جبکہ اس میں موجود شکر اور گلوکوز جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھجور صرف جسمانی توانائی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ یہ پھل اسے برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

امراض قلب سے تحفظ

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں ٹرائی گلیسڈر کی سطح اور تکسیدی تناﺅ کو کم کرتی ہیں، یہ دونوں امراض قلب کا باعث بننے والے مرکزی عوامل ہیں، کھجوروں میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دل کے مسائل سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے

کھجوروں کو کھانے کی عادت ہاضمے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار کم کرتی ہے جن کا آنتوں میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جو لوگ کھجوروں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو آنتوں میں کینسر زدہ خلیات کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔

موسمی الرجی سے تحفظ

دنیا بھر میں کروڑوں افراد موسموں میں تبدیلی سے لاحق ہونے والی الرجی کا شکار ہوتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ کھجوریں اس سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں موسمی الرجی سے متاثر ہونے والے افراد میں ورم کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی

کھجور کھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، ان میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جبکہ بلڈگلوکوز کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھجوروں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرکے ہاضمہ تیز کرتے ہیں جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔

Google Analytics Alternative