Home » 2019 » May » 14 (page 2)

Daily Archives: May 14, 2019

سری لنکا میں مسلم کش فسادات کے بعد کرفیو نافذ

کولمبو: سری لنکا کے بعض علاقوں میں مسلم کش فسادات کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے بعض اضلاع میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے جس کے دوران مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کیا گیا اور مساجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ مسلمان شہریوں نے تھانوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

مقامی انتظامیہ نے فسادات پر قابو پالینے کے لیے متاثرہ اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور افواہوں کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگادی گئی ہے۔ پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے تاہم زیر حراست افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تازہ فسادات کا آغاز چیلاو نامی قصبے کے ایک مسلمان دکاندار کی فیس بک پوسٹ کے بعد ہوا جس میں اس نے لکھا کہ بہت ہنسو مت، ایک روز تم سب لوگ رو گے۔ اس فیس بک پوسٹ کو مقامی مسیحی باشندوں نے دھمکی سمجھا اور مسلمان دکاندار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

قبل ازیں مشتعل کیتھولک عیسائی گروہ نے مسلمان رکشہ والے سے معمولی تلخ کلامی کے بعد رکشے کو آگ لگادی تھی اور مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کردیا تھا۔ ایسٹر دھماکوں کے بعد مسلمان آبادیوں پر حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

واضح رہے کہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3 چرچوں اور 3 ہوٹلوں پر خود کش دھماکے میں 250 سے زائد افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی اور خود کش بمبار مقامی شہری تھے۔

پاکستان خطے کے مسابقتی ممالک سے مسلسل پیچھے

ملکی مجموعی پیداوار میں مینوفیکچرنگ شعبے کا حصہ 2008 سے مسلسل کم ہورہا ہے اور یہ 2008 میں 14.8 فیصد سے کم ہو کر 2018 میں 12.1 فیصد کی سطح پر پہنچ چکا ہے جس سے معیشت کے اس خاص شعبے میں ہونے والی کمی اندازہ ہوتا ہے۔

اسی عرصے کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی مینوفیکچرنگ کا حصہ 12.8 فیصد سے کم ہو کر 9.7 فیصد پر پہنچ گیا ہے، مینوفیکچرنگ میں قبل از وقت کمی سے صنعتی شعبے اور ملک کے بیرونی اکاؤنٹ میں سرمایہ کاریوں میں براہِ راست اثرات مرتب ہوئے کیوں کہ اس کی برآمدات کم جبکہ درآمدات بڑھ رہی ہے۔

مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نمو 2015 سے سست روی کا شکار ہے اور یہ سالانہ 4.9 فیصد کی اوسط پر ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 10.52 فیصد اور بھارت میں 8.1 فیصد ہے، اسی طرح عالمی برآمدات میں ہمارا حصہ 0.12 فیصد ہوگیا ہے جو 2003 میں 0.16 فیصد تھا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش نے اپنی برآمدات 0.1 فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود اسے 0.2 فیصد کرلیا ہے، اسی طرح ویت نام کی برآمدات 0.17 فیصد سے 1.2 فیصد ہوچکی ہے۔

اسی طرح جی ڈی پی کی فیصد کے اعتبار سے سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی اور یہ 14فیصد تک محدود ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ 31 فیصد اور ویتنام میں 37 فیصد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مینوفیکچرنگ صنعت کے زوال میں کئی عوامل کارفرما ہیں جس میں سب سے بڑا عنصر ٹیکس فریم ورک کو کہا جاتا ہے جو خطے میں اسی طرح کا معاشی و صنعتی ڈھانچہ رکھنے والے ممالک سے مسابقت نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں صنعتی توانائی کی لاگت دنیا میں بلند ترین سطحوں میں سے ایک پر ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ جو ملکی معیشت کا 12.1 فیصد حصہ ہے ملک میں جمع ہونے والے مجموعی ٹیکس ریونیو کا 58 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

تاہم اکثریت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ صنعت کے قبل از وقت زوال کی وجہ برآمدات کی انتہائی آزادانہ پالیسی اور آزادانہ تجارتی معاہدوں کا اطلاق ہے بالخصوص چین کے ساتھ، جس سے سستا مال تیار ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے تحفظ میں ناکامی سے اسمگلنگ ہورہی ہے، یہ عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان دیگر ممالک کے لیے ملازمت کا فنانسر اور درآمدی ملک بن گیا ہے۔

مثال کے طور پر مقامی ٹائروں کی صنعت مجموعی مقامی طلب کا صرف 5واں حصہ فراہم کرتی ہے اور بقیہ مارکیٹ میں 45 فیصد درآمدات جبکہ 35 فیصد اسمگلنگ کے ٹائرز ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں جنرل ٹائر ربر کمپنی کےسی ای او حسین کلی خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی موجودہ صورتحال میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتا، درآمدات میں اضافے اور اسمگل شدہ اشیا کا مطلب یہ ہے کہ مقامی سطح پر تیار کردہ مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جب تک مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیا کے لیے سرحدوں کو محفوظ رکھ کر اور درآمدات کو کم کرنے طلب میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ہمیں اس شعبے میں کوئی نئی سرمایہ کاری نہیں ملے گی۔

دوسری جانب بھارت نے مقامی مینوفیکچرنگ صنعت کو محفوظ رکھا ہے اور ٹائروں کی کچھ صنعتوں کو ملک بھر میں وسعت بھی دی ہے، بہت سے بین الاقوامی برانڈز نے بھارت میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس لگائے ہیں جس سے ہزاروں ملازمیتیں پیدا ہورہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اندازہ کیجیے کہ اگر ہم مقامی طلب کو مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ سے پورا کریں تو کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی، ٹیکس سے کتنی آمدنی اکٹھی ہوگی اور کتنا غیر ملکی زرِ مبادلہ محفوظ رہے گا‘۔

شاہ زیب قتل کیس؛ شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

 کراچی: ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں مجرمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

مدعی کے وکیل محمود عالم رضوی ایڈووکيٹ نے بتایا کہ مقتول کے والد اور مقدمہ کے مدعی کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹیاں شامل ہیں، تینوں خواتین بیرونِ ملک ہیں اور عدالت نہیں آنا چاہتیں، رجسٹرار سمیت کوئی بھی عدالتی نمائندہ انٹرنیٹ پر اسکائپ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے، برطانیہ میں بھی پاکستانی میڈیا موجود ہے لیکن خواتین اصل میں سوشل میڈیا سے خوفزدہ ہیں۔

عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرموں شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جب کہ مرتضیٰ لاشاری اور سجاد تالپور کی عمر قید برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت سنائی تھی۔  دسمبر 2012 کو معمولی تنازع پر شاہ رخ جتوئی نے ساتھیوں کے ہمراہ شاہ زیب کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس کیس میں دلچسپ اتار چڑھاؤ آئے اور ملزمان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے مقدمے پر اثر انداز ہوتے رہے۔

ماہ رمضان اور ہم

رمضان المبارک کا ہو آغازہوچکا قرآن مجےد مےں اس بابرکت مہےنہ کے حوالے سے ارشاد خداوندی ہے کہ اے اےمان والو تم پر روزہ فرض کےا گےا ہے اس طرح جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کےا گےا تھا تاکہ تم متقی اور پرہےز گار بن جاءو مذکورہ آیت کی روشنی مےں روزہ رکھنے سے انسان مےں پاکےزگی پےدا ہوتی ہے اور وہ متقی بن جاتا ہے روزہ چونکہ انسان کی ذات تک محدود ہوتا ہے اس لئے اس مےں خوف خدا اور خود ضبطی کا جذبہ پےدا ہوتا ہے اور ےہی تقویٰ ہے جو انسان کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھتا ہے اس لئے روزے کو ڈھال سے تشبےہہ دی گئی ہے گوےا روزہ انسان کی رشدو ہداءت کا باعث بنتا ہے ماہ رمضان تزکےہ نفس اور روحانی اقدار کی بلندی کا مہےنہ ہے اس برکت خےز مہےنے مےں جو بھی نےکی کی جائے اس کا بے شمار اجر ہوتا ہے اس ماہ مقدس مےں امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس امر کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس مہےنے مےں مکمل طور پر اپنے فراءض کی ادائےگی کے ذرےعے اپنے دامن کو نعمات سے مالا مال کرنے کے علاوہ اپنی جسمانی اور روحانی غذا فراہم کرنے کی ہمہ تن سعی کرے گا ۔ معزز و محترم قارئےن رمضان المبارک کے حوالے سے ہمارے منفی سماجی روےوں کے متعلق راقم کا مشاہدہ انتہا درجے کی بے چےنی اور تکلےف دہ احساس کی طرف اشارہ کرتا ہے مادےت کے اس لرزہ فگن دور مےں جس طرح تمام شعبہ ہائے زندگی مادےت پرستی کی زد سے نہےں بچ سکے اس طرح اعلیٰ انسانی ،روحانی اور مذہبی اقدار بھی مادےت کی چکا چوند کے سامنے بے بس نظر آتی ہےں جہاں رمضان المبارک کی آمد اپنے جلو مےں رحمتےں ،برکتےں اور مغفرتےں لئے ہوتی ہے وہاں ان رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ ہمےں اس ماہ مقدس مےں مصنوعی مہنگائی سے بھی واسطہ پڑتا ہے تعجب خےز حقےقت ےہ ہے کہ ےہ مہنگائی کسی غےر ےا بےگانوں کی طرف سے نہےں بلکہ اپنوں کی پےدا کردہ ہوتی ہے ضروری تو ےہ تھا کہ ہم اس ماہ مقدس کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دےانتداری اور اےمانداری کا مظاہرہ کرتے لےکن ہم نے اس ماہ کو خصوصی طور پر ناجائز کمائی کا ذرےعہ بنا لےا ہے ہر سال اسی مقدس مہےنے مےں ناجائز آمدن کو ذرےعہ معاش بناےا جاتا ہے ملاوٹ ،چور بازاری اور ذخےرہ اندوزی جےسی عادات اپنا کر اپنا بےنک بےلنس بڑھاےا جاتا ہے اپنے ضمےر کو ابدی نےند سلا کر غرےب آدمی کو تڑپانے کے سامان کئے جاتے ہےں کےا اےسے بظاہر مسلمان دکھائی دےنے والے مسلمان کہلانے کے حقدار ہےں ;238; روزے کا مقصد جےسا کہ آغاز مضمون مےں بےان کےا گےا ہے پرہےز گاری اور تقویٰ اختےار کر کے اپنے کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنا ہے لےکن بدقسمتی کہ ہم الٹ چل پڑتے ہےں ہم نے روزے کی روح کو نہےں سمجھا اس کی افادےت و اصلےت سمجھنے سے قاصر رہے ماہ رمضان مےں ذخےرہ اندوزی کر کے چےزوں کی قےمتےں بڑھانا ہمارے ہاں معےوب نہےں سمجھا جاتا پورے عالم اسلام مےں عموماًاور عرب ممالک مےں خصوصاًاس بابرکت مہےنے کے احترام مےں حکومت ہی نہےں کاروباری اور تاجر طبقے کی طرف سے بھی اشےائے خوردونوش کی قےمتوں مےں خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے اور ےہ نےک عمل تمام کاروباری طبقے حصول ثواب اور ا;203; تعالیٰ کی خوشنودی کےلئے کرتے ہےں پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہونے کے باوجود واحد اسلامی ملک ہے جہا ں ماہ رمضان مےں کاروباری طبقے اور تاجر برادری سے لےکر دکانداروں تک کھانے پےنے کی تمام اشےاء مےں دوگنا اضافہ کر دےتے ہےں مغرب مےں جہاں مادر پدر آزاد لوگ بستے ہےں وہاں کرسمس ےا کوئی اور تہوار ہو تو چےزوں کی قےمتےں کم کر دی جاتی ہےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی ان خوشےوں مےں شرےک ہو سکےں اس واقعہ کا اپنی تحرےروں مےں کئی بار اعادہ کر چکا ہوں کہ برطانےہ مےں اےک شخص نے اےک شرٹ دس پونڈ مےں خرےد لی کچھ دنوں بعد اس نے دےکھا کہ اس کا دوست بھی اسی کمپنی اسی ماڈل اسی ڈےزائن اور اسی کپڑے کی بنی ہوئی شرٹ پہنے ہوئے ہے اس دوست نے فطری تجسس سے اسے پوچھا کہ ےہ تم نے کتنے مےں اور کہاں سے خرےدی ہے جواب ملا کہ فلاں دکان سے اور پانچ پونڈ مےں ےہ وہی دکان تھی جہاں سے پہلے شخص نے شرٹ خرےدی تھی ےہ شخص بڑا حےران ہوا کہ مجھے تو ےہ شرٹ دس پونڈ کی ملی تھی اس نے متعلقہ دکان سے رابطہ کےا اور اپنی شکاءت رےکارڈ کروائی دکاندار نے اپنا لےجر چےک کےا تو کہا حضور آپ بھی درست کہتے ہےں اور آپ کا ےہ دوست بھی بجا کہتا ہے وجہ ےہ ہے کہ جب آپ نے ےہ شرٹ خرےدی تھی اس وقت بھی اور اب بھی اس کی قےمت دس پونڈ ہے لےکن جب آپ کے دوست نے ےہ شرٹ خرےدی تو کرسمس کی وجہ سے ہماری کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قےمتےں کم کر دی تھےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی کرسمس کی خوشےاں انجوائے کر سکےں ےہ حالت ان لوگوں کی ہے جہاں اسلام کے پےروکاروں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جاتا ہے جہاں کی قدرےں جدا ،جہاں کا رہن سہن الگ لےکن وہ لوگ انسانےت کے ناطے خصوصی تہواروں کے مواقع پر دوسرے لوگوں کا خےال رکھتے ہےں ہمارے ہاں حالت ےہ ہے کہ چند روز قبل رمضان المبارک کے بابرکت مہےنے کی آمد آمد کی بابرکت خبروں سے ذہن کے درےچوں مےں اےک روح پرور سماں کا آغاز ہو ہی رہا تھا کہ سبزی پھل گوشت سمےت ہر چےز کو دوگنی قےمت پر کر دےا گےا ذہن حےرت کی اتھاہ گہرائےوں مےں گم ہے اور سوچنے پر مجبور کہ آےا ہم لوگوں کو ا;203; کی رحمتےں اور خوشنودی حاصل کرنے سے کوئی غرض نہےں رہی کےا ہم سب کےلئے دولت ہی سب کچھ بن کر رہ گئی ہے کےا چند پےسوں کے عوض ہم اپنی عاقبت کا سودا کرنے پر تےار ہو گئے ہےں ابھی بجٹ مےں مہنگائی کےلئے عوام چےخ وپکار کر رہے تھے کہ اب رمضان کی آمد آمد کے ساتھ ہی قےمتےں آسمان سے بھی اوپر جا پہنچی ہےں مہنگائی پر قابو پانا جہاں حکومت کا کام ہے وہاں اس کےلئے کاروباری اور تاجر طبقے کو بھی کچھ سوچنا چاہیے ناجائز منافع خوری سے ےہ لوگ جہنم کا اےندھن اکٹھا کر رہے ہےں اس دنےا کے بعد جو ہمےشہ رہنے والی ابدی زندگی ہے کچھ اس کےلئے بھی جمع کرنا چاہیے ۔ کسی بزرگ کا قول ہے کہ ہم مرنے کے بعد اپنے ساتھ اپنا پےسہ اور دولت بھی لے جا سکتے ہےں لےکن وہ دولت جو ہم ا;203; کی راہ مےں خرچ کرتے ہےں ۔ اس سال وفاقی حکومت کی جانب سے 2 ارب روپے کے رمضان پےکج کا اعلان کےا گےا ہے لےکن رمضان پےکج سبسڈی والی اشےاء ےوٹےلٹی سٹور کے ذرےعے فروخت کرنے کے فےصلے سے پورے ملک کے صارفےن استفادہ حاصل نہےں کر سکےں گے ۔ ےہ بھی ہمارے ہاں وطےرہ رہا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے ےوٹےلٹی سٹور کے ملازمےن سبسڈی والی اشےاء صارفےن کو فروخت کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے مافےا کے ساتھ ساز باز کر کے کروڑوں روپے کما لےتے ہےں ۔ اگر جائزہ لےں تو ےہ حقےقت منکشف ہوتی ہے کہ ملک کی آبادی 21کروڑ ہے اور ملک بھر مےں ےوٹےلٹی اسٹورز کی تعداد5491ہے ۔ اب ذرا غور کرےں کس طرح ملک کے کروڑوں لوگوں کو سبسڈی سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کےا ہی بہتر ہوتا کہ حکومت رمضان مےں اوپن مارکےٹ مےں فروخت ہونے والی اشےائے صرف کی قےمتوں مےں سبسڈی کا اعلان کرتی تاکہ عام صارف اپنے ہی محلے کی دکانوں پر کم قےمت مےں اشےاء دستےاب ہوتےں اور صارفےن ےوٹےلٹی اسٹوروں پر لمبی لمبی قطارےں بنانے اور اس مےں حائل مشقت سے بچے رہتے ۔ بہر حال ہمارے فےصلہ سازوں ،تاجروں ،دکانداروں سب کو ہی بحیثےت مسلمان سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہر عمل کےلئے ا;203; تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہےں اور رمضان المبارک کا مہےنہ انہےں ےہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ صحےح فےصلے کرےں لوگوں کے مفاد مےں درست فےصلے کرنا اور ان سے مناسب روےہ رکھنا بھی اےک صدقہ ہے اور ماہ رمضان المبارک مےں اس کا اجر بے حساب ہے ۔ حضرت امام حسےن علےہ السلام کا فرمان ہے کہ لوگوں کی ضرورتوں کا تم سے وابستہ ہونا ا;203; کی تم پر خاص عنایت ہے ۔ ےہ انسانی بس مےں ہے کہ اس ماہ مقدس مےں خود اختسابی پر عمل کرتے ہوئے خواہشات ناجائز کی غلامی سے ہمےشہ کےلئے پےچھا چھڑائےں ،ےہی انسانےت کا، ےہی دےن کا اور ےہی اسلام کا سبق ہے ۔

میشا شفیع جھوٹی ہیں، گلوکارہ کنزہ منیر کا عدالت میں بیان قلمبند

لاہور : گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر ہرجانے کے مقدمے میں گلوکارہ کنزہ منیر نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کرادیا اور کہا کہ میشا شفیع جھوٹی ہیں۔

ایڈیشنل سیشن جج لاہور امجد علی شاہ کی عدالت میں گلوکار اور اداکار علی ظفر کے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران میشا شفیع کے وکلا نے استدعاکی کہ گواہان کے بیانات قلم بند کرانے کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے لہٰذا سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے، اس پر علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ سیشن جج نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کا حکم دے رکھا ہے

عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی گواہوں کے بیانات قلم بند نہ کرنے کی استدعا مسترد کی اور گواہوں کو بیان قلمبند کرانے کا حکم دیا۔

علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ کنزہ منیر نے شہادت قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اس نجی اسٹوڈیو میں موجود تھیں جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی جس میں 10 سے 11 لوگ موجود تھے، 45 منٹ تک ریہرسل چلتی رہی، جب میشا شفیع اسٹوڈیو پہنچیں تو انہوں نے علی ظفر کو گلے لگا کر سلام کیا تھا

کنزہ منیز کے مطابق ریہرسل مکمل ہونے کے بعد بھی میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اسی انداز میں کیا، ریہرسل کے دوران ویڈیو بھی بن رہی تھی اور دونوں گانے کے دوران 4 سے 5 فٹ دور کھڑے رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے، یہ الزامات جھوٹ ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہان کو بھی طلب کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچا جہاں گلوکارہ میشا شفیع نے گواہوں کے بیان ریکارڈ کرانے کے عمل کو چیلنج کیا تھا جس پر سماعت کے دوران اعلیٰ عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی سخت سرزنش کی تھی۔

حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس ملکی خود مختاری کوگروی رکھ دیا، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نوازکا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس ملکی خودمختاری کوگروی رکھ دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نوازنے آئی ایم ایف کے ساتھ حکومتی معاہدہ مکمل ہونے پرکہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں، نا اہل حکمران اسی شش وپنج میں رہے، حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس ملکی خود مختاری کو گروی رکھ دیا ہے جب کہ 9 ماہ کی حکومتی نااہلی سے ملک معاشی تباہی دہانے پرپہنچ چکا۔

مریم نوازنے کہا کہ معیشت کے تمام شعبہ جات تباہی کے دہانے پرپہنچ چکے ہیں، عوام حکومتی نااہلی کی وجہ سے بھگت رہے ہیں لیکن حکمران مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں جب کہ اب تک تمام حکومتی تجربات بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

آئی اےم اےف کے ساتھ ڈیل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

پاکستان پیپلز پارٹی کے چےئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ;34; اگر بےن الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی اےم اےف) کے ساتھ ڈےل کو پارلیمنٹ سے منظور نہ کراےا گےا تو اسے قبول نہیں کرےں گے ۔ پٹرول ، بجلی اور گےس کی قےمتوں سے مہنگائی ہوئی ۔ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہےں ۔ مزدور، کسان اور بزرگ پنشنرز کا معاشی قتل ہورہا ہے ۔ پاکستانی عوام مہنگائی سے پرےشان ہیں ۔ ;34;ہمارے سےاستدان جمہورےت اور پارلیمنٹ کا گردان دھراتے رہتے ہیں ۔ جمہورےت اور پارلیمنٹ کی کامرانی کےلئے ہر شہری دعاگو ہے لیکن ےہ جمہورےت اور پارلیمنٹ عوام کے حقوق اور مفادات کےلئے ہونا چاہیے ۔ بلاول زرداری کی بات میں وزن ہے کہ آئی اےم اےف کے ساتھ ڈےل کو پارلیمنٹ سے منظور کروانا چاہیے ورنہ قبول نہیں کرےں گے ۔ حقےقت میں ہونا یہ چاہیے کہ اب تک جتنے بھی قرضےلیے گئے ہیں ،اگر وہ پارلیمنٹ سے منظور نہیں کیے گئے ہیں تو جس حکومت نےلیے ہیں ان حکمرانوں کے جائےداووں کو نےلام کرکے قرضے واپس کرنے چاہئیں ۔ ےہ بھی حقےقت ہے کہ کھربوں روپے قرضےلیے گئے لیکن عوام کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ لوگ دو وقت کے کھانے کےلئے ترس رہے ہیں ۔ حکمرانوں نے ہمیشہ ملک اور عوام کا نام استعمال کرکے قرضےلیے ہیں لیکن ان قرضوں سے ملک اورملت کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ حکمرانوں کے اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ۔ آئی اےم اےف کے شرائط بھی قابل غور ہیں ۔ آئی اےم اےف توانائی کے ذراءع بجلی ، گےس اور پٹرولیم مصنوعات کی قےمتوں میں اضافے کے شرائط پر زور دےتے ہیں لیکن حقےقی بچت ےعنی آئی اےم اےف ےہ شرط کیوں پیش نہیں کرتا کہ وزےراعظم ، وزےراعلیٰ، چےئرمین اور دےگر بالا تفرےق سب عہدہداران اپنی تنخواہ کے علاوہ کوئی مراعات نہ لےں ۔ دراصل آئی اےم اےف اےسی شرائط پرزور دےتا ہے جس سے غرےب عوام مزےد غرےب ہو ۔ مہنگائی کا اثر صرف اور صرف غرےب عوام پر پڑتا ہے ۔ غربت میں اضافے سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کا سکون برباد ہوجاتا ہے ۔ عوام مہنگائی سے بے حد پرےشان ہے ۔ بلاشبہ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہےں لیکن عمران خان طفل تسلیاں دے رہا ہے ۔ ;34;اےک لطےفہ ہے کہ کسی نے اےک پٹھان سے پوچھا کہ کتنی عمر ہے;238; تو اس نے جواب دےا کہ پچاس سال ۔ اس شخص نے دس سال بعد دوبارہ پٹھان سے پوچھا کہ کتنی عمر ہے;238; پٹھان نے پھر وہی جواب دےا کہ پچاس سال ۔ اس شخص نے پوچھا کہ خان صاحب ! دس سال پہلے بھی پچاس سال اور اب دس سال کے بعد بھی پچاس سال ۔ ۔ ۔ ;238; پٹھان نے جواب دےا کہ دراصل خان کی اےک بات ہوتی ہے ۔ ;34; پٹھان اپنی بات اور الفاظ پر قائم رہتے ہیں ۔ ہمارے محترم وزےراعظم عمران خان صاحب اپنی حکومت سے پہلے فرماتے تھے کہ خودکشی کرلوں گا لیکن آئی ایم اےف سے قرض نہیں لوں گا ،ملکوں سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اس کے علاوہ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ۔ خودکشی حرام ہے ،اس لئے اب عمران خان صاحب خودکشی نہ کرےں لیکن اپنے نام کے ساتھ خان کا لاحقہ نہ لگائےں کیونکہ خان کی بات اےک ہوتی ہے اور پٹھان ےو ٹرن نہیں لیتا ۔ وزےراعظم عمران خان صاحب ! لوگوں کو آپ پر اعتماد اور بھروسہ ہے لیکن آپ کی ٹےم میں زےادہ تر وہ صاحبان ہیں جو پچھلی حکومتوں میں رہ چکے ہیں ۔ اگر ےہ اتنے محنتی اور قابل ہوتے تو پھر ان لوگوں نے مشرف اور زرداری دور میں ملک کےلئے بڑے بڑے کارنامے سرانجام کیوں نہیں دیے;238;عمران خان صاحب پی ٹی آئی کے پرانے اور منتخب ورکرز پر مشتمل ٹےم بناتے تو شاےد ان کو ےوٹرن نہ لےنے پڑتے اورقرضوں کی بھیک نہ مانگنی پڑتی ۔ پہلے قرضوں سے مسائل حل نہیں ہوئے اور اب مزےد قرضوں سے کونسے مسائل حل ہونگے;238; قرضوں سے مسائل پےدا ہوتے ہیں ، قرضوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ قرضے مسائل کا حل نہیں ہےں ۔ آپ کی ٹےم تگڑی ہوتی تو وہ کھبی بھی آپ کو آئی اےم اےف وغےرہ سے قرضوں کےلئے محتاج نہ کرتے ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور انسانی وسائل بہت زےادہ ہیں ۔ پاکستان کے پاس جو کچھ ہے ،وہ بہت سے دےگر ممالک کے پاس نہیں ہے ۔ پاکستان میں مسئلہ صرف ےہ ہے کہ ےہاں پر انصاف کا فقدان ہے ۔ کرتا کوئی ہے لیکن بھگتا کوئی اور ہے ۔ غرےب عوام نے ہمیشہ سے قربانےاں دےں لیکن اےلےٹ طبقے نے ہمےشہ مفادات حاصل کیے ہیں ۔ چونکہ فےصلہ سازی کا اختےار اےلےٹ طبقے کے پاس ہے ،وہ کھبی قربانی دےنے کی طرف نہیں جاتے بلکہ غرےب طبقے سے قربانی مانگتے رہتے ہیں ۔ بہرحال اب بھی وقت ہے ،سب کو سنوارنے اور بہتری کی طرف جانا چاہیے ۔ بہترےن منصوبوں سے ملک اور ملت کی پوزےشن بہتر ہوسکتی ہے ۔ گاڑےوں اور بھینسوں کے بےچنے پر اکتفا نہیں کرناچاہیے بلکہ ملک و ملت کی خاطرسب کو بالاتفرےق تنخواہ کے علاوہ سب مراعات کو نہیں لینا چاہیے ۔ وطن عزےز کے خاطر صدر اور وزےراعظم سے لیکر سب کو مفت پٹرول ، بجلی ،گےس ، ٹےلی فون سمےت تمام مراعات کو نہیں لینا چاہیے ۔ سب کو ملک کےلئے چھوٹی سی قربانی دےنی چاہیے کیونکہ پاکستان ہماری جان اور پہچان ہے ۔

آبنائے ہرمز کے نزدیک سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ

ریاض: خلیجی ممالک سے دنیا بھر کو تیل کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والی واحد گذر گاہ آبنائے ہرمز کے نزدیک سعودی عرب کے 2 تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کے نزدیک متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ الفجیرہ میں 2 سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہازوں کو نقصان پہنچا تاہم تمام عملہ محفوظ ہے، دونوں جہاز تیل کی ترسیل پر مامور تھے اور ان میں سے ایک بحری جہاز امریکا کو تیل کی فراہمی کے لیے اپنے روٹ پر تھا۔

متحدہ عرب امارات اور ایران کی جانب سے سعودی بحری جہازوں پر حملے کے واقعے کی تفصیلات جاری کی تھیں تاہم اب تک حملہ آوروں اور حملے کی نوعیت سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے، سعودی وزیر تیل خالد الفالح نے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کو تیل کی بین الاقوامی ترسیل کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش قرار دیا۔

متحدہ عرب امارات نے الفجیرہ بندرگاہ پر سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم ابتدائی طور پر حملہ آوروں سے متعلق کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ سعودی بحری جہازوں پر حملے وقت الفجیرہ بندرگاہ پر دھماکوں کی بھی آوازیں سنی گئی تھیں اور کہا جا رہا ہے کہ 4 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران سے کشیدگی کے بعد امریکا نے طیارے بردار بحری بیڑا اور بی-52 فائٹر جیٹ طیاروں کو قطر میں اپنی فوجی کیمپ میں پہنچانے کے بعد خلیج فارس میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

Google Analytics Alternative