Home » 2019 » May » 15

Daily Archives: May 15, 2019

ایمنسٹی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے، مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آج کابینہ نے مختلف نکات کی منظوری دی ہے، لوگ 31 جون تک اس اسکیم میں شامل ہوں گے، کابینہ نے بہت فیصلے کیے تاہم اہم فیصلہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم ہے، اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کا مقصد ریونیو نہیں بلکہ معیشت دستاویزی بنانا ہے تاکہ معاشی پہیہ چل سکے اور یہ سادہ، عام فہم اور حقیقت پر مبنی اسکیم ہے اس کا مقصد ڈرانا دھمکانا نہیں ہے بلکہ کاروبار کی حوصلہ افزائی ہے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ صرف پبلک آفس ہولڈر اسکیم حاصل نہیں کرسکیں گے جب کہ ملکی اثاثے 4 فیصد دے کر قانونی بنائے جاسکتے ہیں تاہم پیسے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا ہوں گے، بے نامی اکاؤ نٹس اور پراپرٹیز کو بھی ظاہر کیا جا سکےگا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی قیمت اگر بڑھی تو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر اثر نہیں پڑے گا، احساس پروگرام کا بجٹ 180ارب روپے کیا جا رہا ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کا آئندہ  سال کا بجٹ 800ارب روپے رکھا جائے گا۔

’زیرو‘ کی ناکامی کے بعد انوشکا نے بولی وڈ کو خیرباد کہہ دیا؟

بولی وڈ اداکارہ انوشکا شرما آخری مرتبہ گزشتہ سال فلم ’زیرو‘ میں کام کرتی نظر آئی تھیں، جس کی ناکامی کے بعد سے انہوں نے کسی نئی فلم کا اعلان نہیں کیا۔

فلم زیرو کی ناکامی کے بعد ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انوشکا شرما نے بولی وڈ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ فلم ’زیرو‘ میں شاہ رخ خان اور کترینہ کیف نے بھی انوشکا کے ساتھ کام کیا، فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی جبکہ اسے منفی ریویوز بھی ملے۔

ان افواہوں کے سامنے آنے کے باوجود اداکارہ نے طویل عرصے سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی تاہم اب انہوں نے خاموشی توڑ دی ہے۔

انوشکا شرما کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ تین سال سے میں کافی مصروف رہی، فیشن میں کام کیا، کئی ایسے کردار بھی ادا کیے جو بہت زیادہ چیلنجنگ تھے، ایک ہی سال میں پری، سوئی دھاگا اور زیرو جیسی فلموں میں کام کیا، سب ایک دوسرے سے منفرد تھے، یہ آسان نہیں ہوتا‘۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ میں اب اپنے کیریئر میں اس موڑ پر آچکی ہوں جہاں مجھے فلمیں صرف اس لیے کرنے کی ضرورت نہیں کہ مجھے اپنا وقت پورا کرنا ہو‘۔

انوشکا گزشتہ سال فلم ’سنجو‘ میں بھی معاون کردار میں نظر آئی تھیں۔

انوشکا شرما کے مطابق ’ایک پروڈیوسر ہونے کی حیثیت سے میں مصروف رہتی ہوں، میں ایک اور فلم پروڈیوس کررہی ہوں، اس کے علاوہ بھی کافی چیزوں میں مصروف ہوں جو لوگوں کے سامنے نہیں‘۔

خیال رہے کہ 31 سالہ انوشکا شرما نے 2008 میں فلم ’رب نے بنادی جوڑی‘ کے ساتھ ڈیبیو کیا تھا۔

وہ فلم ’این ایچ ٹین‘ اور ’پری‘ کی پروڈکشن بھی کرچکی ہیں۔

ان کی کامیاب فلموں میں ’سوئی دھاگا‘، ’سلطان‘، ’این ایچ ٹین‘، ’اے دل ہے مشکل‘، ’دل دھڑکنے دو‘، ’پی کے’ اور ’بینڈ باجا بارات‘ شامل ہیں۔

2017 میں اداکارہ نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی سے شادی کی تھی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ سوشل میڈیا پر کئی خوبصورت تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی رہتی ہیں۔

کابینہ نے کالا دھن سفید کرنے کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی جس کے مطابق صرف چار فیصد ٹیکس دے کر کالے دھن کو سفید کیا جاسکے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی۔

وفاقی کابینہ نے کالا دھن سفید کرنے کی اجازت سے متعلق ایمنسٹی اسکیم کیلئے ایسٹ ڈیکلیئریشن آرڈیننس 2019 کی منظوری دے دی۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور صدارتی آرڈیننس کےذریعے اسے کو نافذ کیا جائے گا۔

اسکیم کے مطابق پاکستان میں اثاثے ظاہر کرنے پر چار فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور بیرون ملک اثاثے 6 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر ظاہر کئے جا سکیں گے۔

اجلاس میں کابینہ کوملکی موجودہ نظام تعلیم سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی جب کہ مدارس کوقومی دھارے میں لانے سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے چین کی جانب سے انسداد منشیات کے لیے عطیہ کردہ سامان پرڈیوٹی کی چھوٹ کے معاملہ پر بھی غور کیا اور نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اورمصرکے نشینل مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ اجلاس میں اضافی حج کوٹے جبکہ کراچی اورکوئٹہ کی خصوصی عدالت برائے انسداد منشیات کے ججوں کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ کی جانب سے قومی ائیرلائین کے چارٹراورائیریل ورک لائسنس کی تجدید پرغور کیا گیا اوربیرون ملک قید پاکستانیوں کو قونصلر رسائی پالیسی کے معاملہ پر بھی گفتگو کی گئی۔

قومی اسمبلی کا تاریخی اقدام………قبائلی نشستیں بڑھانے کے بل کی منظوری

قومی اسمبلی میں تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے 26 واں آئینی ترمیمی بل متفقہ طورپر منظور کرلیا ہے، بل کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، وزیراعظم نے 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبائلی عوام کو نمائندگی ملے گی، ہم ملکی ترقی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا چاہتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی اور ان سے جو مسائل سامنے آئے قوم چاہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی آواز سنی جائے ۔ یہاں پر وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ مجھے ادراک ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ کے پی کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کرسکتا اس سلسلے میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہیے ۔ مشرقی پاکستان کے سانحے کابڑا واقعے کی بنیادی وجہ بھی احساس محرومی تھا، یہ بات وزیراعظم نے بالکل درست کہی کہ جب حقوق کی حق تلفی ہوتی ہے تو پھر لوگ اپنا حق لینے کیلئے نکلتے ہیں ، اس حق کیلئے شکست و ریخت ہوتی ہے ۔ قومی اسمبلی میں تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ممبر بل پر26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ آئینی ترمیم کے حق میں 288ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی ۔ بل کے تحت آئندہ مردم شماری تک سابقہ فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12نشستیں دوبارہ بحال کر دی گئیں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے سابقہ فاٹا کی نشستیں 16سے بڑھا کر24کر دی گئی ہیں ، بل کے تحت بل کے نفاذ کے بعد 18ماہ کے دوران الیکشن کروائے جائیں گے ۔ قومی اسمبلی سے منظور ی کے بعد 26ویں آئینی بل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ،سینیٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت عارف علوی کے دستخط سے بل آئین کا حصہ بن جائیگا ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں آزاد رکن محسن داوڑ نے26ویں آئینی ترمیم کا بل (دستور ترمیمی بل 2019)پیش کرنے کےلئے تحریک پیش کی، سپیکر نے تحریک پر رائے شماری کروائی، بل کی شق 2 کے حق میں 281 اور شق 3کے حق میں 282ارکان نے کھڑے ہو کر ووٹ دیئے، بل کی شق وار منظوری کے بعد بل کی حتمی منظوری کےلئے ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا گیا ۔ سپیکر نے ایوان میں ارکان کو بل کی حتمی رائے شماری کے طریقہ کار سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا ، بل پر رائے شماری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے آئینی ترمیم کے نتاءج کا اعلان کیا ،پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی ;200;ئینی ترمیمی بل کو حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے ۔ تمام صوبے این ایف سی میں 3 فیصد فاٹا کو دیں گے، صوبوں کو اس میں کچھ تحفظات کم ہوں گے کیونکہ مالی مسائل ہیں ،لیکن سابقہ فاٹا میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث بہت نقصان ہوا، فاٹا میں ترقیاتی منصوبے کیلئے بڑی رقم کی ضرورت ہے ۔ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈ سے فاٹاکے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہ میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ان کوحق نہیں دے رہا اورجب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھنا چاہیے ۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی دے کرمرکزی دھارے میں لایا جائے، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، فاٹا کی آوازاب ہر جگہ سنی جائے گی، فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کےلئے وہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھائی جارہی ہیں ، فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، تمام جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں ۔

کوءٹہ دھماکہ، دہشتگرد مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے

کوءٹہ میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے، خصوصی طورپریہاں پولیس کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، گوادر پر حملہ، لاہور میں داتا دربار کے باہر حملہ اور اب پھر کوءٹہ میں ہونے والا حملہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نظر آتی ہیں اور اس کے پیچھے یقینی طورپر’’را‘‘ ملوث ہوگی، کیونکہ لاہور کے خودکش بمبار کا جوتا بھی بھارتی برانڈ کا تھا، یہ بات خصوصی طورپر دیکھنے میں آئی ہے کہ جیسے ہی ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ شروع ہوتا ہے تو بھارت اپنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے لیکن پاکستان اور اس کی قوم بھارتی عزائم کو کسی صورت بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دے گی ۔ کوءٹہ میں ہونے والے دھماکے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 11 افراد زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو ذراءع کے مطابق کوءٹہ کے علاقے منی مارکیٹ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا ۔ ڈی ;200;ئی جی نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر نصب تھا، دہشت گردوں کا نشانہ پولیس اہلکار ہی تھے ،کرائم سین کو محفوظ کرلیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیٹلاءٹ ٹاءون میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ گھناءونی سازش کے تحت امن کی صورتحال خراب کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، عدم استحکام پیدا کرنے والوں کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا جائےگا ۔ سیکیورٹی انتظامات کا از سر نو جائزہ لے کر مزید بہتر بنایا جائے گا ۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز بلوچستان کے ضلع گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل پر 3 دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ایک نیوی اہلکار سمیت 5 افراد شہید اور 6 زخمی ہوگئے تھے ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک ہم آئی ایم ایف کی طرف دیکھتے رہیں گے تومجبوری اورلاچاری بڑھتی رہے گی،ہ میں اپنے اداروں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہ میں اپنے ملک کے اندر وسائل کو بروے کار لانا ہوگا،آئی ایم ایف سے ڈیل میں دیر نہیں ہونی چاہیے تھی یہ کام پہلے ہوجانا چاہیے تھا،وزیراعظم اسد عمر کے ہوتے ہوئے بھی آئی ایم ایف سے ملے ہیں ،اسد عمر ایک ایماندار آدمی ہے اورپی ٹی آئی کا اثاثہ ہے، اپوزیشن کو آئی ایم ایف کی ٹرم اینڈ کنڈیشن پر اعتراض ہے،جو ٹیکس دے رہے ہیں ان کو تنگ نہ کریں بلکہ ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائے،حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس بیس کو بڑھانا چاہیے، مجھے تو شبر زیدی کی باتوں سے کوئی ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات کررہے ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ اپنے محکمے ٹھیک کرے ،ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائیں ،حکومت کو چاہیے کہ کاروباری لوگوں کو سہولتیں دے،اوگرا اورنیپرا کے اپنے محکمے ان کی مانتے ہی نہیں ۔

سعودی عرب میں تیل کی پائپ لائنوں پر دہشت گردوں کا حملہ

ریاض: سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر دہشت گردوں نے بارود بردار ڈرون سے حملہ کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع بندرگاہ ينبع البحر میں تیل کے دو پمپنگ اسٹیشن کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے، ان پمپنگ اسٹیشن سے تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ پمپنگ اسٹیشن کے ایک حصے میں معمولی سی آگ بھڑک اُٹھی تھی۔

پمپنگ اسٹیشن میں لگی آگ کو جلد ہی بجھا دیا گیا جب کہ پلانٹ کو تاحکم ثانی بند کردیا گیا ہے، ماہرین پمپنگ اسٹیشن کے تمام حصوں کے معائنے کے بعد کلیرنس دیں گے جس کے بعد پمپنگ اسٹیشن کو کھول دیا جائے گا۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے میڈیا کو بتایا کہ تیل کی تنصیبات کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے لیے ڈرون میں بارود بھرا گیا تھا۔ ڈرون کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب دو روز قبل خلیج عمان میں سعودی عرب کے دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا، ان میں سے ایک جہاز سعودی عرب سے امریکا کو تیل فراہم کرنے پر مامور تھا۔ جس پر امریکا اور سعودیہ نے ایران پر شک کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

 

آئی ایم ایف پروگرام، امیدیں اور پریشانیاں دونوں ایک ساتھ؟

کراچی: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا حالیہ پروگرام جہاں ایک طرف صنعتی حلقوں کے اہم حصوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے وہیں بڑے کاروباری افراد اسے طویل عرصے میں ایک امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ یہ پروگرام معیشت میں طویل عدم توازن کو کچھ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اُس ایڈجسٹمنٹ کے پیمانے جو حکومت نے طے کیے ہیں، تفصیلات ان سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والا اعلامیہ ایسی زبان پر مشتمل ہے، جس کے بہت سے معنیٰ نکل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ آئی ایم ایف اعلامیہ اس تمام معاملے پر جاری ہونا والا واحد باضابطہ بیان ہے۔

اس حوالے سے جب سابق وزیر خزانہ اور واشنگٹن میں اسد عمر کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے آخری راؤنڈ کے مذاکرات کرنے والے وفد میں شامل ڈاکٹر حفیظ پاشا سے پوچھا گیا کہ ’اس کا کیا مطلب ہے کہ جب فنڈ کہے گا تو پروگرام پر عملدرآمد صرف بین الاقوامی شراکت داروں کے ’مالی وعدوں‘ کی تصدیق کے بعد ہوگا‘۔

جس پر وہ کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی پریشان کن ہے‘، ’کیا وہ یہ کہہ رہے کہ ادائیگیوں کے توازن کی حمایت کے لیے دیگر ممالک کی جانب سے جمع ذخائر کو پروگرام کی شرط کے حصے کے طور پر لازمی طور پر ختم کرنا چاہیے؟

انہوں نے کہا کہ فنڈ پروگرامز ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کے توازن کے تحفظ کے لیے سمجھا جاتا ہے نا کہ بین الاقوامی قرض دہندگان کے لیے شرائط پر اصرار کرنے کے طور پر۔

انہوں نے اس بیان کے علاوہ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کیا فنڈ پروگرام اب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے کلیئرنس کے تابع ہونے جارہا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی منتقلیوں پر استعمال کی گئی زبان تشویش کا باعث ہے، آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق ’آنے والے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تناظر میں حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ موجودہ معاملات کے توازن کی کوشش کرے گی‘۔

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ ’یہ ایک آئینی معاملہ ہے‘، ’18 ویں ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ کم نہیں ہوسکتا، لہٰذا حکومت کو اس پر اتفاق نہیں کرنا چاہیے‘۔

اسی طرح ایک اور جگہ جہاں اس طرح کی زبان استعمال ہوتی نظر آئی وہ تجارت تھی، انہوں نے نقطہ اٹھایا کہ ’بیان میں تجارتی سہولیات سے متعلق متعلق بات کی گئی‘،’اس کا مطلب یہ لگتا ہے کہ حکومت کو درآمدات کو کم کرنے سمیت برآمدات میں مراعات کے لیے اعلان کیے گئے مختلف اقدامات سے پیچھے ہٹنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر یہ پروگرام حکومت کو صرف ایک آلے کے ساتھ چھوڑ دے گا، جس سے وہ بین الاقوامی تجارت کو فروغ دے گی اور وہ ایکسچینج ریٹ ہوگا۔

ان تمام خدشات کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ’بنیادی خسارے کی مد میں جی ڈی پی میں 1.6 فیصد کی کمی کا تخمینے کا ہدف بہت چیلنجنگ ہوگا لیکن مجھے خاص طور پر اس حوالے سے تشویش ہے کہ اس سب کے باعث دفاعی اخراجات پر بھی دباؤ موجود ہے‘۔

دوسری جانب فیصل آباد ایوان صنعت و تجارت کے صدر ضیا علمدار کہتے ہیں کہ پنجاب میں برآمدی صنعت اس سمت سے متعلق بہت فکرمند نظر آتی ہے، ’ہمارے 2 تحفظات ہیں جو آگے بڑھانے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیلز ٹیکس پر زیرو ریٹنگ کو واپس نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے معیشت کا برآمدی شعبہ فائدہ حاصل کر رہا ‘ جبکہ ’گیس اور بجلی کی قیمتوں پر دی گئی مراعات کو بھی واپس نہیں لینا چاہیے‘۔

ادھر پاکستان کے تمام بڑے بزنس ہاؤسز کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ پاکستان بزنس کونسل کے احسان ملک کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ فوری طور پر نگلنے کے لیے ایک کڑوی گولی ہوگی لیکن یہ پروگرام ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ وہ چیز تھی جسے فوری طور پر کرنا چاہیے‘ کیونکہ وقت سے کھیلنے کی حکومتی حکمت عملی کا فائدہ نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام ایک ’مذاق‘ ہے کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی پروڈکٹ ہے جس میں حکومت نے بطور تماشائی آئی ایم ایف سے بات کی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’کیوں حفیظ شیخ اور ان کے ساتھیوں نے اس طرح کے کوئی اقدام اپنے سابقہ دور میں کیوں نہیں اٹھائے‘۔

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ بہرحال ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹیم یہاں صرف ایک مقصد کے لیے ہے اور وہ ریاست کی کمپنیوں کو پرائیویٹائز کرنا ہے‘۔

امریکہ و افغانستان ، داعش کے مددگار

عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر غلبہ پانے کے بعد شدت پسند تنظیم داعش نے افغانستان کا رخ کر لیا ہے اور اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اب افغانستان کے 34 میں سے 25 صوبوں میں داعش کے ہمدرد پائے جاتے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان کے سابق عناصر اب افغانستان کی سرحد کی جانب داعش کے سیاہ جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں ۔ یہ ایک نیا ابھرتا ہوا خطرہ ہے ۔ افغانستان میں وہ گروپ یا جنگجو جنہوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا اْن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ افغان طالبان میں سے تقریباً 10 فیصد داعش کے حمایتی بن چکے اور اور اس حمایت میں وقت گزرنے کا ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ داعش کے حامی گروپ اکثر علاقوں میں سرکاری افواج پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ننگر ہار صوبے میں منشیات کے دھندے پر کنٹرول کے لئے ان کی لڑائی طالبان کے ساتھ بھی ہو رہی ہے ۔ داعش کے حامی مشرقی صوبہ ننگر ہار میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور کافی مضبوط ہوگئے ہیں ۔ اب یہ طالبان کے علاوہ حکومتی فوجوں پر بھی حملے کر رہے ہیں ۔ افغان حکومت کے لئے چیلنج وہی ہے کیونکہ یہ طالبان ہیں ۔ انکاصرف پلیٹ فارم تبدیل ہوا ۔ ابھی تک کوئی بڑا کمانڈر داعش میں شامل نہ ہوا ہے ۔ سٹنگہار پہاڑ کے ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری طرف مشرقی صوبہ ننگر ہار ہے ۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ طالبان کے سابق امیر ملا امیر کے سابق مشیر عبد الروَف خادم اب افغانستان میں داعش کے سرکردہ رہنما بن چکے ہیں ۔ وہ 2014 میں عراق گئے اور اب افغانستان کے ہلمند اور فرح صوبہ میں اپنا علیحدٰہ گروپ قائم کر چکے ہیں اور ہلمند اور فرح صوبے میں متحرک ہیں ۔ عبد الروَف خادم کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ بھاری رقوم ادا کر کے لوگوں کو داعش میں بھرتی کر رہے ہیں اور افغانستان میں داعش کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا رہے ہیں ۔ داعش کے افغانستان میں قدم جمانے سے پاکستان کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے اور اگر داعش کو پاکستان میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑہانے کا موقع دیا گیا تو پاکستانی فوج کی ملک کو طالبان سے پاک کرنے کی کوششوں کے ملیا میٹ ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ یہ ایک دہشتگردوں کا نیا برانڈ ہے ۔ داعش کے لوگ وہی ہیں اور یہ لوگ طالبان کو چھوڑ کر داعش میں شامل ہوئے ہیں ۔ اگر داعش ، افغانستان میں طالبان کی جگہ لے لیتی ہے تو یقینا ،اگلی باری پاکستان کی ہو گی اور یہ پاکستان کےلئے بہت بڑا خطرہ ہو گا ۔ ابھی بھی پاکستان پر حملہ آور دہشت گرد داعش کے تربیت یافتہ نکلتے ہیں ۔ ابھی تک پاک فوج اور عسکری اداروں کی بہتر حکمت عملی اور آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے داعش پاکستان میں اپنے قدم نہ جما سکی مگر ہ میں مستقبل میں داعش کا راستی روکنے کے لئے ایسی ہی مستعدی دکھانا ہو گی ۔ پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ داعش کا ملک میں کوئی وجود نہیں البتہ متعلقہ ادارے اس شدت پسند گروپ کے خطرے سے آگاہ ہیں ۔ داعش افغانستان کی سیاسی حکومت اور پاکستان کے لئے مشترکہ دشمن کے طور پر سامنے آ رہی ہے ۔ دونوں کو مل کر اس برائی کو ابتدا سے ہی روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔ داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اْسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے ۔ افغان سفیرکا کہنا ہے کہ داعش سے وابستہ جنگجو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن ان کے بقول ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ۔ داعش اپنا پروپیگنڈہ اور اپنا نکتہ نظر اس خطے بشمول پاکستان میں پھیلا رہا ہے ۔ دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر کی کارروائیوں کے باعث یہ علاقہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران بہت متاثر رہا ہے اور ان کے بقول اگر ہم مزید ایک دہائی تک ان عناصر سے نہیں لڑنا چاہتے تو ہ میں فورا فیصلہ کرنا ہو گا ۔ شدت پسند گروپ داعش عراق اور شام میں سرگرم ہے، جہاں اس نے وسیع علاقے میں قبضہ کر رکھا ہے ۔ امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے داعش کے خلاف شام اور عراق میں کارروائیاں جاری ہیں ۔ داعش نے کئی افغان جنگجوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے اور افغانستان میں اپنی جگہ بنائی ہے، جس سے افغان طالبان کے اثرورسوخ میں بظاہر کمی آئی ہے ۔ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں موجود داعش کے جنگجوں اور طالبان کے درمیان لڑائی کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں ۔ داعش سے تعلق رکھنے والے کئی مشتبہ جنگجو افغانستان میں ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بھی کئی شدت پسندوں کی طرف سے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا گیا تھا ۔ روس نے کہا ہے کہ اس کے اندازے کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کے لگ بھگ دس ہزار عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں اور کیونکہ شام اور عراق سے فرار ہونے والے جنگجو بھی جنگ سے تباہ حال اس ملک کا رخ کر رہے ہیں تو یہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ماسکو خاص طور پر تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ واقع شمالی افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی آماجگاہوں پر فکر مند ہے ۔ روس ان اولین آوزوں میں شامل ہے جس نے افغانستان میں داعش سے متعلق خطرے پر آواز اٹھائی داعش نے حال ہی میں اس ملک میں اپنی قوت خاطر خواہ طور پر بڑھائی ۔ روسی نمائندہ خصوصی نے الزام عائد کیا کہ بغیر کسی شناخت والے;34; ہیلی کاپٹر ان جنگجووں کو منتقل کر رہے ہیں اور اس شدت پسند تنظیم کی افغان شاخ کو مغربی آلات فراہم کر رہے ہیں ۔ داعش خوارج قاتلوں ، ٹھگوں اور گمراہوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے اور اسلام کے نام پر امت مسلمہ کو تباہ کر رہا ہے ۔ داعش طالبان سے کہیں زیادہ ظالم ہیں اور مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ان کی سفاکی سے محفوظ نہ ہے جیسا کہ ان لوگوں سے شام اور عراق میں کیا ہے ۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں ۔

ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حرام اور عمران خان کی حلال ہے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حرام اور عمران خان کی حلال ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کابینہ سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بناتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حرام اور عمران خان کی حلال ہے، عمران خان کی کرپشن حلال جب کہ کسی اور کا کام ٹھیک نہ ہونا حرام ہے، ایک سال پہلے مسلم لیگ (ن) کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بری اور آج عمران خان کی ٹھیک ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ہم ایمنسٹی اسکیم لائے تو عمران خان اور اسد عمر نے لعنتیں بھیجیں،  ہماری ایمنسٹی اسکیم اصلاحاتی پیکیج تھا، ہر سال ایمنسٹی اسکیم نہیں لائی جاتی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی انتقام میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے، پہلے نیب تھی اب ایف آئی اے بھی سامنے آئی ہے، حکومتی ادارے سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہورہے ہیں، حکومت سے مل جائیں تو چوری معاف ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر مقام کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جب کہ این ایچ اے کی طرف سے غیر معیاری کام کی کوئی شکایت نہیں آئی، امیر مقام کے بیٹے کی کمپنی پر جو الزام لگا وہ 3 کروڑ سے کم ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو ادارے کرپشن کے خلاف کام کرتے ہیں ان کو آپ سیاسی انتقام کے لیے استعمال کررہے ہیں، کرپشن اگر ہے تو بی آر ٹی منصوبے میں ہے جو نظر آتی ہے۔

Google Analytics Alternative