Home » 2019 » May (page 108)

Monthly Archives: May 2019

فلم ’مولاجٹ‘ ریلیز ہوگی یانہیں؟ ہائی کورٹ نے درخواست سنسر بورڈ کو بھجوادی

لاہور: ہائی کورٹ نے فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کی نمائش کی درخواست سنسر بورڈ کو بھجواتے ہوئے کہا ہے کہ سنسر بورڈ اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ فلم کے کرداروں کے نام اورڈائیلاگز استعمال ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں فلم’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے ٹائٹل، کرداروں کے نام  اور ڈائیلاگز استعمال کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان نے بلال لاشاری کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اوریجنل فلم ’مولاجٹ‘ کے پروڈیوسر سرور بھٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن مسعود عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت درخواستگزار کے وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا بلال لاشاری نے غیر قانونی طور پر فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بنائی ہے، جس میں ’مولاجٹ‘ کے ٹائٹل، کریکٹر اور ڈائیلاگ کو استعمال کیا گیا ہے۔

وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا بغیر اجازت ’مولا جٹ‘ فلم کا نام، مکالمے اور کردار استعمال کیے جارہے ہیں جب کہ فلم کے تمام جملہ حقوق اور ٹریڈ مارک ان کے پاس ہیں۔’مولاجٹ‘ فلم کا ٹائٹل یا اس سے ملتا جلتا ٹائٹل استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا فلم کو غیر قانونی طور پر بنانے، نمائش کرنے اور سنسر کرنے پر کارروائی کی جائے اور عدالت  اپنے فیصلے تک فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کرے۔

دوسری جانب فلم ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کے ہدایت کار بلال لاشاری کے وکیل نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا  19 مارچ کے فیصلے میں عدالت نے فلم کی نمائش پر پابندی نہیں لگائی، عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کرکے حکم امتناعی کا کہا جارہا ہے، قانون موجود ہے کہ ہم کریکٹر، نام اور ڈائیلاگ استعمال کرسکتے ہیں۔

دونوں جانب کے فریق کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست فلم کی نمائش کی اجازت دینے والے بورڈ  کو بھجوا دی اور کہا بورڈ قانون دیکھ کر فلم کے ڈائیلاگ، کریکٹر اور نام استعمال کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ کرے۔ عدالت نے مزید کہا سنسر بورڈ اس بات کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ یہ کریکٹر، نام اور ڈائیلاگ استعمال ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ 1979 میں فلم ’مولا جٹ‘ ریلیز ہوئی تھی جس نے نہ صرف کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے بلکہ فلم کو آج تک پاکستان فلم انڈسٹری کی کامیاب ترین فلم قرار دیا جاتا ہے، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے نامور ہدایت کار بلال لاشاری نے فلم کا سیکوئل ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بنانے کا فیصلہ کیا جس میں اداکارہ ماہرہ خان، فواد خان اور حمزہ علی عباسی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تاہم  کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی پر فلم کی نمائش کو چیلنج کیا گیا ہے۔

رمضان نیکیوں کی بہار کا مہینہ!

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ’’اے ایمان والو،تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کی تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی‘‘(ابقرۃ:۳۸۱) اس سے معلوم ہوا کہ روزے ایمان لانے والو، یعنی مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں ۔ جس طرح اس سے پہلے کے انبیاء کے امتوں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کی تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی یعنی تم پکے مسلمان بن جاءو گے تقویٰ کا مفہوم ایک صحابی نے معلوم کیا تو کہا گیا کہ تم کبھی کھیتوں کے درمیان پکڈنڈی سے گزرے ہو ۔ تم اپنا پلو سمیٹ کر جھاڑیوں سے گزرتے ہو ۔ نا ۔ یہی بات ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر زندگی گزارنے کا نام تقویٰ ہے ۔ اسلام میں ساری تعلیمات بتدریج نافذ کی گئی ہیں اس طرح روزے بھی مکہ سے مدینہ میں ہجرت کے اٹھارہ مہینے بعد فرض کیے گئے ۔ رسول;248;اللہ نے ابتداء میں مسلمانوں کو صرف تین روزے ہر مہینے میں رکھنے کی ہدیات فرمائی تھی ۔ پھر جب ۲ ہجری میں رمضان کے روزوں کا حکم جب قرآن میں نازل ہوا تو اتنی رعایت رکھی گئی کہہ جو لوگ روزے کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور پھر بھی روزہ نہ رکھیں تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں ۔ بعد میں دوسرا حکم نازل ہوا اور عام رعایت منسوخ کر دی گئی صرف مریض، مسافر اور حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت اور ایسے بوڑھے لوگوں کے لیے جن میں روزے کی طاقت نہ ہو ان کے لیے اس رعایت کو برقرار رکھا گیا ۔ تقویٰ کی صفت کے علاوہ قرآن میں ایک مقصد یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ’’ اور جس ہدایت سے اللہ نے ت میں سرفراز فرمایا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘ (البقرۃ:۵۸۱ ) اس سے معلوم ہوا کہ انسان اس دنیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن کر رہے اور دوسروں کو بھی شکر گزار بننے میں مدد گار ہو ۔ اس کاکام اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کا کام ہے اور اس کا بہترین ذریعہ روزہ ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ;230; کی حدیث ہے کہ رسول;248; اللہ فرمایا کہ ’’رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ‘‘ مطلب کہ جتنی نیکیاں کر سکتے ہو کرتے چلے جاءو جنت کے دروازے تمہارے لے کھلے ہوئے ہیں ۔ اگر صدقہ کے دروازے سے جنت میں داخل ہو سکتے ہو تو صدقہ و خیرات کرو، اگر روزے کے دروازے ،تلاوت کے دروازے سے، اگر برائیوں سے اجتناب کے دروازے سے پہنچ سکتے ہو تو پہنچو ۔ فرمایا کہ’’ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں انسان برائیوں سے بچتا ہے اور زیادہ سے زےادہ نیکیوں کی طرف مائل ہوتا ہے اس لیے جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں فرمایاکہ’’ شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں ‘‘ کیونکہ رمضان کے مہینے میں نیکیاں فروغ پاتی ہیں ہر طرف نیکیوں کی بہار ہوتی ہے اس لیے شیطان کی کارفرمائی رک جاتی ہے تمام مسلمان روزے میں ہوتے ہیں اللہ کی طرف رجوع کا ایک ماحول پیدا ہوتا ہے اس لیے شیطان کا حملہ ناممکن ہو جاتا ہے اس لیے کہ شیطان بندھ جاتے ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’ رسول;248; اللہ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروزوں میں ایک دروازہ ریان ہے‘‘ مراد کہ وہ دروزہ جو سیراب کرنے والا ہے ۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی پوری طرح اللہ کے احکاما ت پر عمل کرتا ہے لہٰذا اس کو اللہ پورا اجر دے گامگر ساتھ ساتھ وہ آدمی فیاضی، سخاوت،انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ میں بھی مصروف رہتا ہے لہٰذا وہ ان نیکیوں کی وجہ سے بھی ریان دروازے سے جنت میں داخل ہو گا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’ رسول;248;اللہ نے فرمایا جن آدمیوں نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘ بندہ اگر بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کا وفادار ہے اور جان بوجھ کر اس کے مقابلے میں استکبار اور سرکشی والا نہیں تو اگر اس سے کسی وقت کوئی قصور سرزد ہو جاتا ہے اور اس قصور کے بعد وہ پھر خدا کے دربار میں نماز کے لیے حاضرہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی مغفرت سے محروم نہیں کرے گا کیونکہ وہ ٹھوکر تو کھا گیا مگر اپنے رب سے بھاگا نہیں ۔ اس بنا پر کہا گیا ہے کہ جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ حضرت ابو ہریرہ ;230; سے روایت ہے کہ’’ رسول;248; اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘کیونکہ باقی ساری عبادات ظاہری فعل ہے جو نظر آتے ہیں لیکن روزہ ایک مخفی فعل ہے جو نظر نہیں آتا جو فقط آدمی اور اس کے رب کے درمیان ہوتا ہے اس لیے اللہ روزے دار کو بے حساب اجر دے گا ۔ حضرت ابوہریرہ;230; سے روایت کرتے ہیں کہ’’ رسول;248;اللہ نے فرمایا رمضان میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا‘‘اس سے مراد لیلۃ القدر ہے یعنی وہ رات کس میں قرآن نازل ہوا جیسا کی قرآن میں ہے کہ’’ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ اور تم کیا جانو کی شب قدر کیا ہے ۔ شب قدرہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘(القدر: ۱تا۳)ہزار سے مراد بڑی کثرت ہے وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ انسان کی بھلائی کے لیے صرف اس ایک رات میں جو بھلائی کا کام ہوا وہ ہزار مہینوں میں بھی نہیں ہوا ۔ جس نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ جس نے عبادت نہیں کی وہ محروم رہ گیا ۔ گو کہ حکومت وقت رمضان آڈر کے ذریعے رمضان کے احترام کا انتظام کرتی رہتی ہے ۔ پھر بھی اگر مسلمانوں کی بستیوں میں روزے کے اثرات کا امتحان لیناہوہے تو اس کو مثا ل سے اس طرح سمجھنا چاہے کہ سکتہ کے مریض کا آخری اِ متحا ن اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کی ناک کے پاس آئینہ رکھتے ہیں ۔ اگر آئینہ پر کچھ دُھندلاہٹ پیدا ہو تو سمجھتے ہیں ;8; کہ ابھی جان باقی ہے،ورنہ اس کی زندگی کی آخری اُمید بھی منقطع ہو جاتی ہے ۔ اِ سی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہو تو اسے مضان کے مہینے میں دیکھو ۔ اگر اس مہینے میں اس کے اندر کچھ تقویٰ،کچھ خوفِ خدا، کچھ نیکی کا اُبھارکا جذبہ نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے اور اگر اس مہینے میں نیکی کا بازار سرد ہو، فسق و فجور کے آثار نمایاں ہو، اور اسلامی حس مردہ نظر آئے تو انًاللہِ وَ اِنًا اِلیہ راجعون پڑھ لو ۔ اس کے بعد زندگی کا کوئی سانس مسلمان لے مقدر نہیں ہے ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی;231; ۔ اللہ سے دعاء ہے کہ اللہ مسلمانوں کو رمضان سمیت ساری عبادات پر سچے دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ دنیا اور آخرت میں سرخ رو کرے ۔ مسلمان ملکوں میں اسلامی نظام زندگی کا نفاذ ہو ۔ امن و امان ہو دہشت گردی ختم ہو ۔ ایک دوسرے کا احترام ہو ۔ دکھوں کی ماری امت مسلمہ کو سکون نصیب ہو ۔ آمین ۔

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی پانچ سال بعد منظرعام پر

بغداد: شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی پانچ سال بعد ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ شام و عراق میں داعش کی حکومت کے خاتمے کا بدلہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ابوبکر البغدادی کو آخری بار عراق کے شہر موصل میں 2014 میں دیکھا گیا تھا جب انھوں نے شام اور عراق میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ نئی ویڈیو میں وہ شام میں اپنے آخری گڑھ باغوز میں شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ داعش کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اپریل کی ہے جو الفرقان میڈیا گروپ پر شائع کی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق بغدادی نے کہا کہ سری لنکا میں ایسٹر حملے باغوز میں شکست کا بدلہ ہیں، اب داعش کا دو افریقی ممالک برکینا فاسو اور مالی کی شدت پسند تنظیموں سے اتحاد ہو چکا ہے۔

البغدادی نے سوڈان اور الجزائر میں ہونے والے مظاہروں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ظالموں‘ کا ایک ہی حل ہے جہاد۔ 18 منٹ کی ویڈیو میں انھوں نے شام میں شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ’باغوز کی جنگ ختم ہوچکی لیکن اس جنگ کے بعد بہت سے جنگیں آئی گی۔

علی بابا کا اپنے خلاف امریکی مقدمے کو ختم کرانے کیلئے 25 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا اعلان

نیویارک: علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف امریکی مقدمے کو ختم کرانے کے لیے 25 کروڑ ڈالر ادا کرے گا۔

چینی ای کامرس کمپنی کی جانب سے جعل سازی کو روکنے کے لیے اپنی صلاحیت سے متعلق 2014 میں جاری ریگولیٹری انتباہ کو چھپانے کی غلطی پر یہ مقدمہ سامنے آیا تھا۔

اس مقدمے میں علی بابا سیکیورٹیز پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا تھا کہ وہ 16 جولائی 2014 کو چین کے اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن برائے صنعت و تجارت (ایس اے آئی سی) سے ملاقات کو سامنے لانے میں ناکام رہے، جبکہ یہ ملاقات امریکا میں کمپنی کے 25 ارب ڈالر کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) سے 2 ماہ قبل ہوئی تھی۔

بعد ازاں ایس اے آئی سی نے ملاقات میں اٹھائے گئے خدشات پر مبنی ایک وائٹ پیپر جاری کیا تھا، جس کے بعد 28 اور 29 جنوری 2015 کو علی بابا کے امریکی ڈیپوزٹری شیئرز 12.8 فیصد تک پہنچ گئے تھے۔

اس وائٹ پیپر میں کہا گیا تھا کہ علی بابا کی ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی زیادہ تر مصنوعات جعلی تھیں جبکہ ساتھ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایس اے آئی سی نے اپنی تحقیقات دیر سے جاری کیں تاکہ آئی پی او پر اثر نہ پڑے۔

دوسری جانب علی بابا نے غلطی سے انکار کیا اور کہا کہ یہ تصفیہ کمپنی، اس کے ایگزیکٹو آفیسرز اور ڈائریکٹرز کے خلاف تمام زیر التوا سیکیورٹی سے متعلق قانونی چارہ جوئی کو ختم کردے گا۔

عدالتی پیپرز میں مدعی وکلا کی جانب سے معاہدے کو ’موروثی طور پر منصفانہ، معقول اور کافی‘ قرار دیا جبکہ ممکنہ رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علی بابا نے جعلی اسٹیٹمنٹ بنائی اور جان بوجھ کر دھوکا دہی کا مرتکب ہوا۔

پیپرز میں ظاہر ہوتا ہے کہ وکلا کی جانب سے قانونی فیس کے لیے تصفیہ فنڈز کا 25 فیصد تک مانگا جاسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کوئی اضافی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ چینی کمپنی ایک طویل عرصے سے یہ الزامات کا سامنا کرتے آرہی ہے کہ اس کا آن لائن پلیٹ فارم جعل سازوں کے لیے جنت ہے جبکہ اس کے خلاف مقدمات میں لگژری برانڈ شامل ہیں۔

Google Analytics Alternative