Home » 2019 » May (page 2)

Monthly Archives: May 2019

نریندرا مودی نے دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا

نئی دہلی: بھارتی عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے نریندرا مودی نے مسلسل دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا کر تاریخ رقم کرلی ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے راشٹریہ پتی بھون (ایوان صدر) میں نئی بھارتی حکومت نے حلف اٹھالیا، نریندرا مودی سے بھارتی صدر رام ناتھ کوبند نے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں 8 ہزار مہمانوں نے شرکت کی جن میں ملک کی اہم شخصیات کے علاوہ بنگلا دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی سرکردہ شخصیات بھی شامل ہیں۔ 2014 میں نریندرا مودی نے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو بھی مدعو کیا تھا تاہم اس مرتبہ پاکستان سے کسی بھی اعلیٰ سرکاری شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا۔

بھارتی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری کے بعد نئی بھارتی سرکار کے وزرا کی حلف برداری کا سلسلہ شروع ہوا۔ مودی کی کابینہ میں راج ناتھ سنگھ، نیتن گدکڑی، امیت شاہ، ہردیپ سنگھ پوری، دیوی سدانندا گودا، نرملا سیتا رام، رام ولاس پاسوان، سمرتی ایرانی اور مختار عباس نقوی سمیت 24 وزرا شامل ہیں۔ مودی کی نئی کابینہ میں سشما سوراج اور ارون جیٹلی جیسے اہم رہنما شامل نہیں۔

2014 میں نریندرا مودی کی 45 رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا جو 2019 تک بڑھتے بڑھتے 75 رکنی ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کانگریس کے علاوہ کسی جماعت نے لگاتار دوسری مرتبہ حکومت بنائی ہے۔

 

ذہنی امراض اور پاگلوں کےلئے سویٹ ہوم کی ضرورت

میں جب اپنے آبائی گاءوں صوابی گھو متا پھرتا ہوں تو صوابی کے بازار میں مُجھے بُہت سارے ذہنی معذور اور پاگل لوگ نظر آتے ہیں ۔ نہ صرف صوابی بلکہ ملک کے طول وعرض میں نفسیاتی امراض کے بے تحا شا لاوارث مریض نظر آتے رہتے ہیں ۔ یہ بے دنیا مافیہا سے بے خبر اپنے دھن میں مگن ہو تے ہیں ۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ گذشتہ 20سالوں میں اس قسم کے ذہنی امراض میں بے تحا شا اضافہ ہوا ۔ دنیا میں نفسیاتی عوارض میں جو ممالک زیادہ آگے ہیں ۔ اُ ن میں چین پہلے نمبر پر ، بھارت دوسرے نمبر پر، امریکہ تیسرے نمبر پر ، برازیل چوتھے نمبر پر، روس پانچویں نمبر پر، انڈونیشیاء چھٹے نمبر پر، پاکستان ساتھویں نمبر پر، نائیجریا آٹھویں نمبر پر، بنگلہ دیش نویں نمبر پر اور میکسیکو دسویں نمبر پر شامل ہے ۔ اسکا مطلب ہے کہ وطن عزیز ذہنی امراض کے لحا ظ سے صف اول کے 10 ممالک میں شامل ہیں ۔ اِس مشینی اور جدیددور میں بُہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈیپریشن یا ذہنی امراض کا شکارہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50ملین یعنی 5 کروڑافراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈیپریشن کا شکار ہیں ۔ ڈیپریشن ، تناءو یا ذہنی امراض کے علامات میں مسلسل پریشان اور اُداس ہونا،نا اُمیدی کی باتیں کرنا،اپنے آپکو بے یار ومدد گار اور ناتوانامحسوس کرنا، پریشان رہنا،، مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا، سیکس کی طرف کم رُغبت ،تھکان، کام میں عدمِ دلچسپی اور عدم توجہی ،حافظے کا کمزور ہونا، غلط فیصلے کرنا، صبح جلدی اُٹھنا یا حد سے زیادہ سونا،وزن کا کم ہونا یا بڑھنا، خودکشی کی کوشش کرنا، موت کو ِسر پر سوار کرنا، بے چینی کی سی کیفیات اور بعض ایسے امراض جو کہ دوائیوں کی مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، مثلاسر درد، معدے اورہاضمے کے امراض وغیرہ یہ ذہنی امراض کی علامات ہیں ۔ عورتوں میں مردوں اور بچوں کی نسبت ڈپریشن یا ذہنی امراض بہت زیادہ یعنی ستر فی صد پایا جاتا ہے ۔ اسکی بُہت ساری وجوہات میں ایک وجہ معاشرتی اور سماجی بے انصافی ، بغیر محنت کے خوب سے خوب تر کی تلاش ، ذکر الٰہی اور دین سے غافل ہونا اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل ہیں جو ذہنی امراض کا سبب ببنتے ہیں ۔ آبادی کا جو زیادہ طبقہ اس سے متا ثر ہے وہ عورتیں ہیں ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ کبھی اس قسم کے مریضوں کو جا دوگروں ، ٹونے بازوں ، جعلی پیروں ، پیر بابا ، مجذوبوں ، مجنونوں اور کبھی مزارات پر لے کر اُس کو پھراتے رہتے ہیں اور انکی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہو تی ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو علاج جو کہ سُنت نبویﷺ ہے ۔ اسکے ساتھ ہ میں تاکید کی گئی ہے کہ ہم خود قُر آن مجید فُرقان حمید کو پڑھیں کیونکہ ان میں شفا ہے ۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم خود اپنے ذھنی مریضوں پر قُر آن اور قُر آنی آیات کے اور علاج کے بجائے نام نہاد پیرعوں عاملوں اور جا دو گروں کے پاس لے جاتے ہیں اور انکے مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔ اور اس قسم کے نفسیاتی مریضوں پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ پھر اُس کا علاج قطعی نہیں ہو سکتا اور وہ معاشرے کے اچھے پُرزے کے بجائے ایک ناکارہ پُر زہ بن جاتا ہے ۔ اگر ہم مزید عور کر لیں تو اس قسم کے نفسیاتی امراض میں مبتلا مریض عورتیں ہیں اور یہ اسلئے کہ یہ لوگ علاج کے بجائے فضول کامواں میں لگ جاتے ہیں ۔ ما ہر نفسیات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذہنی امراض کی مریضوں کی تعداد 50 ملین یعنی 5کروڑ ہیں اور اس میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز میں 21 کروڑ آبادی کے لئے 400 ماہر نفسیات اور 4 ہسپتال ہیں جو اونٹ کے مُنہ میں ریزے کے مترادف ہیں ۔ یا با الفاظ دیگر پاکستان میں 5لاکھ 25 ہزار مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے ۔ جبکہ ناروے ، ہالینڈ، اور بیلجیئم میں ایک لاکھ ذ ہنی امراض کے لئے 40 ڈاکٹر اور امریکہ اور کنیڈا میں ایک لاکھ کے حساب سے 15نفسیاتی ڈاکٹر دستیاب ہیں ۔ ایک طرح اگر مریض کے لوا حقین ذہنی مریضوں پر جا دو ٹونوں کے تجربے کرتے ہیں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس قابل نہیں ہو تے جو اس قسم کے مریضوں کا احسن طریقے سے علاج کر سکیں ۔ ڈاکٹروں کے لئے بھی چاہئے کہ سال میں دو دفعہ کم ازکم ریفریشر کو رس کریں اور سینر ڈاکٹروں پرفیسروں کے زیر نگرانی کام کریں تاکہ انکو اپنے فیلڈ کے بارے میں پورا پورا علم ہو ۔ علاوہ ازیں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں کو بیرون ملک بھی بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی امراض سے متعلق امراض سے متعلق نئے رُحجانات سے با خبر ہوں ۔ جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے اس قسم کے ڈاکٹروں میں سے ایک ہوگا جو اپنی فیلڈ کے ساتھ انصاف کر رہا ہوگا ۔ حکومت کو چاہئے کہ انکی استعداد کار کے لئے ڈاکٹروں کا ریفریشر کورس کریں تاکہ ڈاکٹر کی استعداد کار ٹھیک ہو ۔ دوسری میری حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا ہے کہ جو لا وارث پا گل لوگ بازا روں اور دوسرے جگہوں میں در بد ر کی ٹوکریں کھا رہے ہوتے ہیں ، اُنکے کھانے، سر چھپانے، اُنکے علاج، اور اُنکے نگہداشت کے لئے تحصیل اور ضلع سطح پر دارلکفالہ بنانا چاہئے تاکہ اس قسم کے مریض مزید بگا ڑ سے بچے رہیں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے کا ر آمد شہری بنیں ۔ آقائے نامدار و دوجہان حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تُم میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے زیادہ مفید اور اچھا ہو ۔ میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے بچے کو نفسیاتی عارضہ ہو تو اُسکو جعلی پیروں اور عاملوں کے بجائے ماہر نفسیات کے پاس لے جانا چاہئے تاکہ اُسکا مرض نہ بگڑیں ۔ جس طرح ہ میں نزلہ زکام، بخار، ملیریا اور ٹائی فائیڈ ہو سکتا ہے اس طرح ہ میں ذہنی عا رضہ بھی لا حق ہو سکتا ہے ۔ لہذاء دوسرے بیما ریوں کی طرح اسکا علاج بھی کرنا چاہئے ۔ میں اس کالم کے تو سط سے ایک دفعہ پھر حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور انکے لئے سویٹ ہوم کے طرز پر جگہیں بنائیں تاکہ یہ معاشرے کے بہترین اور صحت مند شہری بن سکیں ۔

کابل میں فوجی اکیڈمی پرخودکش حملے میں 6 افراد ہلاک

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں فوجی اکیڈمی کے قریب خودکش دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور6 زخمی ہوگئے۔

افغان حکام کے مطابق کابل میں خود کش حملہ آور نے فوجی اکیڈمی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اکیڈمی کے قریب ایک فوجی اہلکارنے مشکوک شخص کو روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ کسی بھی گروپ نے فوری طور پراس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شمالی وزیرستان اور حالات کا نیا رخ

گزشتہ ماہ یعنی اپریل کی 29 تاریخ کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دی تھی ۔ اس بریفنگ میں انہوں نے دیگر معاملات پر بات کرنے کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں واضح اظہار خیال کیا تھا ۔ انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ جب تحریک لبیک کے خلاف کاروائی کی گئی تو کئی لوگوں نے پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے خلاف بھی کاروائی کرنے کی باتیں کیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے سب سے پہلے پی ٹی ایم کے مطالبات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات تین تھے ۔ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ وہاں قائم چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کی جائے ۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ اس علاقے میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کر کے علاقے کو کلیئر کیا جائے ۔ اور تیسرا مطالبہ لا پتہ افراد کی بازیابی کا تھا ۔ ان کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے اور عوام کے تحفظ کومدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج کی اڑتالیس ٹی میں تشکیل دے دی گئیں ۔ فوجی جوانوں نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 45 فیصد علاقہ سے بارودی سرنگوں کا صفایا کر دیا ۔ اس دوران پاک فوج کو 101 جوانوں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے ۔ اب صرف ڈھائی ہزار کیسز باقی رہ گئے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے ۔ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آرنے ایک دلچسپ نکتہ بھی اٹھایا ۔ انھوں نے پی ٹی ایم سے کہا کہ اس وقت کالعدم تحریک طالبان کے جو افراد افغانستان میں بیٹھے ہیں ان کی فہرست بھی مجھے دے دیں تاکہ یہ موازنہ ہو سکے کہ آپ کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کوئی بندہ ان لوگوں میں تو نہیں ہے ۔ پھر ہم باقی لاپتہ افراد کو ڈھونڈیں گے کہ وہ کہاں پر ہیں ۔ اور بھی بہت ساری تنظی میں مختلف جگہوں پر لڑ رہی ہیں ۔ آپ کے تو بہت سے وسائل ہیں ان کی فہرست بھی ہ میں دے دیں تاکہ ہم لاپتہ افراد کو ڈھونڈ سکیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ پی ٹی ایم نے ایسی فہرستیں ڈی جی آئی ایس پی آر کو فراہم کی ہیں یا نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ نہیں کی ہوں گی ۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کے بیرون ملک رابطوں کا بھی ذکر کیا ۔ اور ساتھ ہی پی ٹی ایم کو متبنہ کیا کہ اب ان کا وقت پورا ہو گیا اوران سے قانونی طریقوں سے نمٹا جائے گا ۔ ڈی جی صاحب کی اس تفصیلی بریفنگ سے ان لوگوں کو جواب مل گیا تھا جوکہتے تھے کہ پی ٹی ایم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ۔ جب تک ان کے مطالبے جائز تھے اور ان کی ملک دشمنی کا ثبوت نہیں ملا تھا ۔ تو ان کے خلاف کیونکر کارروائی کی جاتی ۔ اس لیئے توانھوں نے الیکشن میں حصہ لیا ۔ ان کے دو رہنماء قومی اسمبلی کے رکن بنے ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن قائم ہو گیا ۔ اور معاملات بہتری کی طرف جا رہے تھے کہ 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑکمر کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا ۔ جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے ۔ اور ایک نے جام شہادت نوش کیا ۔ اس حملہ آور گروہ کی قیادت ان ہی دو ارکان قومی اسمبلی نے کی ۔ باقی تفصیلات سب کو معلوم ہیں ۔ آخر ان دو ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر کیوں اکسایا ۔ جنھوں نے دھرنا دیا تھا ۔ ذراءع بتاتے ہیں کہ دھرنا دینے والوں سے بت چیت ہو گئی تھی ۔ اور معاملات طے پا گئے تھے اور دھرنا ختم ہو رہا تھا ۔ کہ محسن داوڑ نے فون پر لوگوں کو اکسایا ۔ اور علی وزیر سمیت خود وہاں پہنچ کر لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے اور فائرنگ کرنے کی ترغیب دی ۔ اس سے قبل پاک فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بھی کیں ۔ چیک پوسٹ پر فائرنگ اور حملہ کے دوران وہاں متعین جوانوں نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی ۔ اس تمام واقعے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک ماہ پہلے میڈیا بریفنگ یاد آئی اس لیئے آغاز کالم میں ذکر کیا تھا ۔ اور یہ واضح ہو گیا کہ انھوں نے درست کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے بیرون ملک کہاں کہاں رابطے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی ایم کے رہنماء پر امن اور محب وطن ہیں تو انھوں نے لوگوں کو فوج کے خلاف کیوں اکسایا ۔ علی وزیر نے اپنی تقریر میں کیوں کہا کہ جس کی وڈیو ثبوت موجود ہے کہ پاکستان کی فوج ہم تمھیں مار ڈالیں گے ۔ ہم تم سے بدلہ لیں گے ۔ اسی پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی ۔ رہنماء کا کام لوگوں کو فوجی،سرکاری یا عوامی املاک اور جانوں کے نقصان پر اکسانا نہیں ہوتا ۔ اور جو بھی ایسا کرتا ہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا تنظیم سے ہو وہ ملک دشمن ہے اس کے خلاف دہشت گردی اور ملک سے غداری کے مقدمات قائم کرکے سخت کاروائی کرنی چاہیئے ۔ اگر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی تو یہ ملک میں انار کی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہوتا ہے ۔ رہنماء کا کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو عوامی مسائل کے حل اور جائزہ و مطالبات کی منظوری کے لیئے پر امن احتجاج کی ترغیب دے ۔ کون سا قانون سے جو ملک میں پر امن احتجاج سے روکتا ہے اور اگر کوئی بھی حکومت پر امن احتجاج کرنیوالوں کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے تو یہ بھی خلاف قانون اور ظلم ہوتا ہے ۔ پاک فوج اور وزیرستان کے لوگوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیئے تاریخی قربانیاں دی ہیں ۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ۔ اور ایک تعداد فوجی جوانوں اور افسروں نے جانوں کی قربانیاں دیں ۔ کیا وہ کسی کے بیٹے،کسی کے شوہر،کسی کے والد اور کسی کے بھائی نہیں تھے ۔ وہ تو پاکستان محافظ اور اثاثہ تھے ۔ انھوں نے جانوں کا نذرانہ وہاں اس لیئے دی اکہ وہاں رہنے والے لوگ امن و چین سے زندگی بسر کر سکیں ۔ اب ان ہی پر حملے کرنا کوئی محب وطن برداشت کر سکتا ہے ۔ تعجب اس بات پر ہے کہ اتنے بڑے واقعہ پر وزیراعظم،وزیر داخلہ اور گورنر اور وزیر اعلیٰ کے پی کے کی طرف سے کوئی واضح رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ معلوم نہیں اس پر اسرار خاموشی کے پیچھے کیا راز ہے ۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ گرفتار

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو شمالی وزیرستان سے گرفتار کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسزنے کارروائی کرتے ہوئے  شمالی وزیرستان سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑکو  گرفتارکرلیا ہے جبکہ محسن داوڑکے ساتھی علی وزیرکو پہلے ہی سیکیورٹی فورسز اپنی حراست میں لے چکی ہیں۔

اتوار کے روز شمالی وزیرستان میں خارقمر چیک پوسٹ پر ایک مسلح گروہ اور سیکورٹی فورسز میں جھڑپ میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے تھے جب کہ جوابی فائرنگ سے 3 مبینہ حملہ آور ہلاک اور 10زخمی ہوئے، جس کے بعد مزید 5 لاشیں بھی نالے سے برآمد ہوئیں۔

اس حملے کے الزام میں پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ہنگری میں کشتی ڈوبنے سے جنوبی کوریا کے 7 سیاح ہلاک

بڈاپسٹ: وسطی یورپی ملک ہنگری میں کوریائی سیاحوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 21 لاپتہ ہوگئے۔

ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں دریائے ڈینوب میں جنوبی کوریائی سیاحوں کی کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک جب کہ 21 لاپتہ ہیں۔  حکام نے سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہلاک 7 افراد کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔

ہنگری کی قومی ایمبولینس سروس کے مطابق کشتی پر جنوبی کوریا کے 33 سیاح اور عملے کے 2 مقامی افراد سوار تھے۔ اب تک ڈوبنے والے سات افراد کو بچایا جاچکا ہے۔  جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس امدادی کارروائی میں ہنگری کی مدد کے لیے تمام ممکنہ وسائل مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عمران خان ریاست کو اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کر رہے ہیں، بلاول بھٹو

 اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ریاست کو اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔

زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے نیب میں پیشی کے موقع پر پی پی پی کارکنوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے، اعجاز شاہ کا پرانہ طریقہ کار ہمیں نظر آرہا ہے۔

سلیکٹڈ حکومت منظور نہیں

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے ہر ادارے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، وہ کسی قسم کی تنقید برداشت نہیں کر رہے، یہ نااہل اور نالائق وزیراعظم ہے جس سے حکومت نہیں چل رہی، اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے سازشیں کی جا رہی ہیں، حکومت نیب سے شروع ہوکر نیب پر ختم ہوتی ہے، نیب اور ایف آئی اے کے سیاسی استعمال سے خوف پھیلتا ہے، عمران خان اپنے مخالفین کے خلاف ریاست کو استعمال کر رہا ہے، ہمیں سلیکٹڈ حکومت نامنظور ہے۔

چیرمین نیب ویڈیو اسکینڈل، دال میں کچھ کالا ہے

پی پی پی رہنما نے کہا کہ نیب کو مشرف نے بنایا، یہ کالا قانون ہے جسے سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا، چیرمین نیب ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ دال میں کچھ کالا ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی کے چینلز سے یہ خبر نشر ہوئی ہے۔

پہلے بنگلہ دیش بنا اب نہ جانے کتنے دیش بنیں گے

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیرستان واقعے میں دوسرے فریق کا موقف سامنے نہیں آرہا، رکن قومی اسمبلی علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر فی الفور جاری کیا جائے تاکہ وہ اپنا موقف بیان کرسکیں، لوگوں کو پتہ چلے کہ جنوبی وزیرستان میں کیا ہورہا ہے، اس واقعے پر وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور وزیر دفاع کیوں غائب ہیں، جب ہم نے ون یونٹ پر سمجھوتہ کیا تو ملک ٹوٹا اور بنگلہ دیش بنا، آج عوام سوچ رہے ہیں کہ پہلے بنگلہ دیش بنا تھا اب نہ جانے کتنے دیش بنیں گے۔

عید کے بعد سڑکوں پر

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی عید کے بعد سڑکوں پر نکلے گی اور احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جمہوری سیاستدان اور جمہوری سیاسی جماعت پر فرض ہے کہ باہر نکلیں، حکومت کو گرانے کیلئے نہیں نکل رہے کیونکہ وہ تو خود گر رہی ہے۔

جوقانون توڑے گا وہ بھگتےگا اورکسی کو رعایت نہیں ملےگی، شوکت یوسفزئی

پشاور: وزیراطلاعات خیبرپختون خوا شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ فوج کی کردارکشی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو قانون توڑے گا وہ بھگتے گا، کسی کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

وزیرزراعت محب اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ 6 مئی کو فوجی کانوائے پرفائرنگ ہوئی، ﮈوگا گاؤں میں 2 افراد کو پکڑنے کے لیے کارروائی ہوئی تو ایک بار پھر حملہ ہوا، 25 مئی کو یہ سلسلہ ایک شخص کو حوالے کرنے پرختم ہوا تو 2 اراکین پارلیمان مسلح ہو کر اپنی فوج کی چیک پوسٹ زبردستی پار کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور اس کارروائی میں معصوم لوگ مرگئے۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ممبر پارلیمان کا مطلب یہ تو نہیں کہ مادر پدرآزادی ہو، رکن اسمبلی کا کوئی حق نہیں کہ اسلحہ لے کر فوجی چوکی پر کھڑا ہوجائے، کسی کو اتنی اجازت نہیں ملے گی کہ وہ فوج پر حملہ آور ہو، پی ٹی ایم ارکان اسمبلی فوج کو للکارنے کی بجائے پارلیمنٹ میں بات کریں، فوج کی کردارکشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ٹی ایم سیاست کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے،  ہم تو ان چند افراد کی بات کرتے ہیں جو پختونوں کے نام پرسیاست کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی ایم کاعام لوگوں کے مظاہرے سے کیا کام کہ وہ مسلح ہو کر احتجاج کرے، یہ مخصوص ٹولہ کسی کے اشاروں پرکام کررہا ہے، چند عناصر تاثر دے رہے ہیں کہ پختونوں سے زیادتی ہورہی اور پختون قوم فوج کے خلاف ہے،  یہ ہماری اپنی فوج ہے کہیں باہرسے نہیں آئی، پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی واپسی کا فیصلہ پارلیمان کرے گا، محسن داوڑ کون ہے جو یہ بات کرے، پختونوں کے رہنما ہم ہیں، محسن داوڈ نہیں،  محسن داوڑ اورعلی وزیرکے حوالے سے تحقیقات میں خطرناک باتیں سامنے آئی ہیں کہ انھیں باہرسے فنڈنگ ہوتی ہے، یہ لوگ فوج کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا مطلب بدامنی چاہتے ہیں، ان لوگوں نے کبھی امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ فاٹا میں امن کا قیام بڑی قربانیوں کے بعد ممکن ہوا، وہاں کے لوگوں کو بحالی کی ضرورت ہے، حکومت وہاں معاملات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے لیکن یہ لوگ نہیں چاہتے، سوارب سالانہ ترقی کے لیے دئیے جارہے ہیں، کسی کو دہشت گردی واپس لانے کی اجازت نہیں دے سکتے جو قانون توڑے گا وہ بھگتے گا اور اس سے سختی سے نمٹا جائے گا کسی کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

Google Analytics Alternative