Home » 2019 » May (page 3)

Monthly Archives: May 2019

پرچم کی توہین ، فوج کیخلاف بولنے والوں کو کوئی رعایت نہ دینے کا فیصلہ

وطن کیخلاف بولنے،پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے اور قومی پرچم کی توہین کرنے والے کبھی بھی محب وطن نہیں ہوسکتے، ان کے ڈانڈے کہیں اور جاکر ملتے ہیں اور وہ دشمن عناصر کی جھولی میں کھیل کر وطن عزیز کا امن و امان خاک میں ملانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں مگر ان کی کاوشیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔ پاک فوج کے ہوتے ہوئے دشمن کی یہ مجال نہیں کہ وہ پاک سرزمین کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھنے کی جراَت کرسکے ۔ دشمن چاہے جتنی مرضی ہرزہ سرائی کرلے اسے ہمیشہ منہ کی کھانا پڑے گی ۔ چیک پوسٹ پر جو حملہ کیا گیا اس کی نہ صرف وزیراعظم بلکہ وفاقی کابینہ نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ترقی کے دشمنوں نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل کر امن داءو پر لگایا ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کی فی الفور سرکوبی کرے تاکہ وہ دوبارہ اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہمت و جراَت نہ کرسکیں ۔ کچھ افراد نے قبائلیوں کو اپنی سازش کا ایندھن بنانے کی سازش کی ہے ، قبائل ہمیشہ محب وطن رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ وطن کی حفاظت کیلئے نہ صرف اہم کردارادا کیا بلکہ جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ ان محب وطن افراد کو سازشی عناصر غلط استعمال کررہے ہیں اور ان عناصر کی بیخ کنی انتہائی ضروری ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہاہے کہ قومی سلامتی کو داءو پر لگانے والوں اور پاک فوج کے خلاف بولنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں نے فوجی چیک پوسٹ پرحملہ کیا ہے ، کچھ افراد نے قبائلیوں کو اپنی سازش کا ایندھن بنانے کی کوشش کی ہے قبائلی علاقوں کی ترقی روکنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے،حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کررہی ہے، 11جون2019 کو وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ بجٹ میں غریب پربوجھ نہیں پڑناچاہیے، نریندرمودی نے سارا الیکشن پاکستان مخالف جذبات پر لڑا،جس شخص نے اینٹی پاکستان انتخابی مہم چلائی، وہ کیسے پاکستانی وزیراعظم کو حلف برداری میں بلائے گا، پاکستان نے بھی مودی کو نہیں بلایا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والا ہے اور نہ ہی جھکنے والا اپوزیشن کے ہتھکنڈوں سے کوئی لینا دینا نہیں ، بیرون ملک مفرور ملزمان کی پاکستان واپسی کے حوالے سے معاہدہ ہو چکا ہے،اب بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، چیئرمین نیب کو متنازع بنانے کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا، اپوزیشن احتساب سے بچنے کے لئے احتساب کے عمل کو متنازع بنا رہی ہے ، وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں جاکرلوگوں کوگلے لگایا اور قبائلی علاقوں کی ترقی کےلئے102ارب روپے کے فنڈزمختص کیے، تاہم شرپسندوں کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی ہوگی، یوم تکبیر پر پاکستان ایٹمی قوت بنا ،اس دن پاکستان سے یکجہتی کا پیغام جانا چاہئے، بدقسمتی سے عمران خان کے مخالف خاندان کا ایجنڈا ان سے حسد اور بغض رہا، گزشتہ روز ایک فلاپ شو کیا گیا اور اس درد کا اظہار کیا گیا کہ ہم سے لوٹ مار کا کچھ نہ پوچھو،سیاسی بونوں کا بانس پر چڑھنے اور عمران خان پر تنقید سے قد اونچا نہیں ہوگا،یوم تکبیر پر آہ و بکا کی گئی ، نیب کو جواب دیں کہ ملکی معیشت کو چونا نہیں لگایا،سمدھی اور اپوزیشن لیڈر پاکستان آئیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو، وزیراعظم نے حجاج کرام کی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت کی ہدایت کی ہے، اسلام آباد سے حج کے لئے جانے والے بیس ہزار عازمین کی امیگریشن یہیں ہوگی، کابینہ نے سگریٹ، اور غیر صحتمند مشروبات پر ٹیکس کی منظوری دیدی بچوں سے جنسی زیادتی پر سزائے موت دینے کیلئے قانون سازی کی ہدایت کر دی گئی ہے، اجلاس میں بچوں کے جنسی استحصال کے قوانین میں ترمیم پر غور کیا گیا ۔ انٹرینٹ کے غلط استعمال سے بچوں کے جنسی استحصال میں اضافہ ہوا ،اجلاس میں موبائل پر غیرضروری مواد سے نئی نسل کوبچانے کیلئے تجاویز پر غور کیا گیا ۔

ڈالر کی اڑان کو روکنے کی ضرورت

ڈالر کو گزشتہ دنوں کچھ نہ کچھ کنٹرول کیا گیا تھا لیکن ایک دفعہ پھر اس نے پرواز بھرنا شروع کردی ہے ۔ سٹاک مارکیٹ پھر مندی کا شکار ہوگئی جس سے 98ارب روپے ڈوب گئے ۔ سونے کی قیمت میں بھی 300فی تولہ کے حساب سے اضافہ ہوگیا ہے جبکہ تیل اور بجلی مزید مہنگی کرنے کی سفارش کردی گئی ہے ۔ 100انڈیکس 748 پوائنٹس کی کمی سے 35000 کی نفسیاتی حد سے گزر گیا، انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید ایک روپیہ 20 پیسے ، قیمت فروخت ایک روپے 40پیسے بڑھ گئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی 50پیسے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 21;46;62فیصد زائد جبکہ 72;46;78فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ٹریڈنگ کے دوران 100انڈیکس 35703 پوائنٹس کی بلند سطح پر بھی دیکھا گیا ،فروخت کے دباءو اور پرافٹ ٹیکنگ کے سبب مقامی سرمایہ کار کو گروپ تذبذب کا شکار نظر آئے ۔ سارا دن یہی اتارچڑھاءو جاری رہا ۔ ادھر دوسری جانب سعودی ریال کی قیمت میں 20پیسے اور یو اے ای درہم کی قیمت میں بھی 20 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سعودی ریال کی قیمت خرید39;46;00 روپے سے کم ہوکر 38;46;80 روپے اور قیمت فروخت 39;46;70روپے سے کم ہوکر 39;46;50 روپے جبکہ یو اے ای درہم کی قیمت خرید 40روپے سے کم ہوکر 39;46;80روپے اور قیمت خرید40;46;70روپے سے کم ہوکر 40;46;50روپے ہوگئی ہے ۔ اگر روپے کی بے قدری اسی طرح جاری رہی تو معاشی حالات مزید کسمپرسی کا شکار ہو جائیں گے ۔ سعودی ریال کے حوالے سے بھی تشویش پائی جارہی ہے ، بجٹ بھی آمدہ آمدہ ہے اور اس پر عوام الناس گہری نظر رکھی ہوئی ہے، ڈالر یونہی مہنگا ہوتا رہا تو لامحالہ طورپر بجٹ میں بھی مہنگائی ہی ہوگی اور اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے انتہائی ضروری ہیں اب جبکہ سعودی عرب سے ادھار کی بنیاد پر پٹرول بھی مل رہا ہے اس کے باوجود مارکیٹ میں ڈالر کی اڑان کو قابو نہ رکھنا وزیراعظم کی نئی معاشی ٹیم کیلئے ایک امتحان ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، انسانی حقوق کی تنظی میں کدھر ہیں ;238;

مودی کے انتخابات جیتنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو لڑکیوں کی زیادتی اور دو نوجوانوں کو شہید کرنے پر مکمل طورپر ہڑتال کی گئی ، ان دو نوجوانوں کو اننت ناگ میں شہید کیا گیا ۔ بین الاقوامی برادری کو مودی کہ ظلم نظر نہیں آرہے ، نہتے کشمیریوں کا قتل عام آئے دن ان کا وطیرہ بن چکا ہے، پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ اس سے راہ فرار اختیار کی ، امریکہ یا یورپ نے کسی خاتون کے ساتھ کوئی نازیبا واقعہ پیش آجائے تو انسانی حقوق کی تنظی میں جاگ اٹھتی ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں آئے دن جو بنیادی اور انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے ، خواتین کی عزتیں غیر محفوظ ہیں ، ہر گلی میں قتل وغارت گری جاری ہے لیکن ان تنظیموں نے کبھی بھی باقاعدہ طورپر آواز نہیں اٹھائی اسی وجہ سے آج بھارت انتہا کو پہنچ چکا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ مودی کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا جائے اب آزادی کشمیریوں کے نصیب میں لکھی جاچکی ہے بھارت چاہے جتنی مرضی کوششیں کرلے وہ اس آزادی کی تحریک کسی صورت بھی دبا نہیں سکتا ۔

معاشی بحران سے نکلنے کیلیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر نے شرکت کی۔

اجلاس میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4 فیصد مقرر کرنے، زراعت کے شعبے میں ترقی کی ساڑھے 3 فیصد، صنعت میں 2.2 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے میں ترقی کی شرح 4.8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے وفاق اور صوبوں کے 1.837 کھرب روپے کے ترقیاتی بجٹ اور بارہویں 5 سالہ منصوبے کی منظوری بھی دے دی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ میں سے فاٹا کے لیے حصہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے، جب حکومت ملی تو پاکستان ملکی تاریخ کے شدید معاشی بحران کا شکار تھا، ہماری تمام تر کوششیں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا، ہم وہ تمام کام کررہے ہیں جو پہلے کیے جانے چاہیے تھے۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے افغان مشیرِقومی سلامتی کی ملاقات

سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاوید باجوہ سے افغان مشیرِقومی سلامتی حمد اللہ محب نے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی امن و سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ پر بات چیت اور افغان مصالحتی عمل سے متعلق امور بھی زیربحث لائے گئے۔

پی ٹی ایم کی حالیہ دہشت گردی

چند دن بیشتر شمالی وزیرستان میں ہمارے جوانوں نے دہشت گردوں کے مقامی سہولت کار کو گرفتار کیا ۔ اس گرفتاری سے بہت اہم انکشافات ہوئے ۔ کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آئے جن میں پی ٹی ایم کے سرکردہ لیڈر بھی شامل تھے لہذا بویا سکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے ۔ اصل میں خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباوَ ڈالنا تھا ۔ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا ۔ حملے کے بعد علی وزیر سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ محسن جاوید داوڑ ہجوم کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ یہ دونوں افراد ہماری قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں ۔ ہمار اہلکاروں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا مگر اس صورتحال پر افغان میڈیا نے شرانگیز پراپیگنڈہ شروع کردیا اور سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور تصاویر جاری کردیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے واقعہ کے خبردار کیا کہ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو احتیاط کی ضرورت ہے ۔ چند افراد مذموم مقاصد کیلئے انہیں اکسا کر ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ پی ٹی ایم کے سپورٹرز اور ورکرز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کچھ شرپسند عناصر پاکستان کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں ۔ ایک جھتے کی جانب سے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ بڑی قربانیوں کے بعد قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوا ہے اس کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیا ۔ سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ دوگا گاءوں سے ہماری چیک پوسٹ پر دوبارہ حملہ ہوا سکیورٹی فورسز نے 25 مئی کو دو مشتبہ افراد گرفتار کئے ۔ 26 مئی کو پی ٹی ایم کے لوگوں نے دھرنا دے دیا ۔ حکام مشران سے ملاقات میں ایک مشکوک شخص کو چھوڑنے پر راضی ہو گئے تھے جس پر ایک شخص کی رہائی پر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا تھا ۔ علی وزیر اور محسن داوڑ نے دھرنا ختم ہونے کے فیصلے کے باوجود فون کر کے دھرنا جاری رکھنے کا کہا ۔ دونوں ایم این ایز دھرنے کے مقام پر پہنچے اور سیکیورٹی فورسز سے جھگڑا کیا ۔ دونوں ایم این ایز کی سربراہی میں پہلے چیک پوسٹ پر پتھراوَ اور پھر فائرنگ کی گئی جس سے پاک فوج کے 5 جوان زخمی ہوئے ۔ اس گروہ نے بعد میں چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کا جواب دینا پڑا ۔ اسی حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ جعلی خبروں اور جعلی تصاویر کا بازار بھی گرم رہا ۔ افغان نیوز ایجنسی پڑواک نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 45 افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ 45 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کس نے کی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک زخمی شخص کی تصویر پوسٹ کی ۔ کچھ دیر بعد انھوں نے یہ ٹویٹ حذف کر دی اور ایک اور تصویر کے ساتھ دوبارہ ٹویٹ کیا ۔ تاہم گوگل ریورس امیج سرچ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصویر وزیرستان کی حالیہ تصویر نہیں بلکہ 2008 میں پیش آنے والے کسی واقعے کی ہے ۔ یہ تصویر ایک تصویری سلسلے کا حصہ تھی اور ترکی کی ایک ویب ساءٹ پر سب سے پہلے شاءع کی گئی تھیں اور اس کے ساتھ لکھا تھا کہ وزیرستان میں طالبان نے دو افراد کو کسی جرم کے سزا کے طور پر سر عام گولی مار کر ہلاک کیا تھا ۔ اس کے ساتھ دیگر تصاویر میں دو افراد کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لاتے اور انھیں گولی مارتے دکھایا گیا ہے ۔ گزشتہ چند دنوں سے پاک افغان سرحدی چوکیوں پر دہشت گردوں کے پے درپے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا پسندوں نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طورپر اس کا نوٹس لیناچاہیے ۔ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ ان وارداتوں میں ملوث دہشت گرد افغانستان اور بھارت کی ایجنسیوں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کی پالیسی میں یہ شامل ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کی جائے تاکہ اْس کی توجہ ترقیاتی کاموں کی طرف سے ہٹی رہے ۔ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت اور افغانستان ملک سی پیک اور گوادر کی بندرگاہ کی ڈیویلپمنٹ پر سخت مایوسی کا شکار ہیں ۔ تاہم قوم کو یقین ہے کہ محب وطن عناصر ہمسایہ ملکوں اور ان کے ایجنٹوں کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں پاک فوج کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے ۔ یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ پاک فوج اپنا فرض بھرپور طریقے سے ادا کر رہی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کی کارروائیاں مخصوص علاقے تک محدود ہیں ۔ ایسے ہی دہشت گرد حملوں سے بچنے کےلئے جنوبی وزیرستان ضلع بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے ۔ دفعہ 144 کا نفاذ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کےلئے کیا گیا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کے تحت جنوبی وزیرستان ضلع میں قابل اعتراض تقریروں کی فراہمی، تمام تر اجتماعات، ریلیوں اور جلوسوں پر مکمل پابندی ہو گی ۔ ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان ضلع میں ہوائی فائرنگ، ہر قسم کے ہتھیار کی نمائش اور اسلحہ ساتھ لے کر چلنے پر پابندی ہو گی ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے دفعہ 144 کے تحت جنوبی وزیرستان ضلع میں 5 سے زیادہ افراد کے اجتماع اور گاڑیوں میں کالے شیشے کے استعمال پر بھی پابندی ہو گی ۔ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

ایپل کا 4 برس میں پہلا آئی پوڈ متعارف

ایپل نے 4 برس بعد پہلی بار ایک نیا آئی پوڈ متعارف کرایا ہے۔

منگل کو ایپل کی جانب سے نیا آئی پوڈ ٹچ متعارف کرایا گیا جو کہ درحقیقت ایک آئی فون ہی ہے بس اس سے فون کالز نہیں ہوسکتیں۔

ایپل کے پراڈکٹ مارکیٹنگ کے نائب صدر گریگ جوسویاک نے اس بارے میں بتایا کہ ہم نے سب سے سستی آئی او ایس ڈیوائس کو پہلے سے زیادہ بہتر بنایا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں دوگنا تیز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی پتلا اور ہلکے وزن والا آئی پوڈ ٹچ گیمز، میوزک، ملٹی میڈیا اور ایسے ہی متعدد چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہترین ڈیوائس ہے۔

خیال رہے کہ ایپل نے پہلا آئی پوڈ ڈیجیٹل میوزک پلیئر کے طور پر 2001 میں متعارف کرایا تھا۔

آئی پوڈ بہت جلد لوگوں میں مقبول ہوگیا خصوصاً انٹرنیٹ کے شوقین نوجوانوں میں، جو ایسی موبائل ڈیوائسز چاہتے تھے جس کے لیے ٹیلی کمیونیکشنز سروسز کی ضرورت نہ ہو مگر وہ وائی فائی کی مدد سے انٹرنیٹ کنکٹ ہوجائے۔

ایپل نے رواں سال اپنی اسٹریمنگ ویڈیو سروس کو متعارف کرایا تھا جس کے ساتھ نیوز اور گیمز سبسکرائپشن بھی صارفین کے لیے پیش کی گئیں جس کا مقصد آئی فونز کی فروخت پر انحصار ختم کرکے ڈیجیٹل مواد اور سروسز پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

یہ نیا آئی پوڈ اس مقصد کے لیے ہی ممکنہ طور پر پیش کیا گیا ہے کیونکہ اس میں میوزک اور گیمز سمیت دیگر ملٹی میڈیا سروسز کا استعمال ممکن ہے۔

ایپل کے مطابق نیا آئی پوڈ ٹچ متعدد ممالک میں کمپنی کے آن لائن اسٹور سے 199 ڈالرز (لگ بھگ 30 ہزار پاکستانی روپے) میں دستیاب ہوگا۔

ایشیا کرکٹ کپ 2020ء کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

لاہور: اگلے سال ہونے والے ایشیا کرکٹ کپ کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

سنگاپور میں ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ سال ستمبر میں ہونے والا ایشیا کپ پاکستان میں ہوگا اور ایشیاء کپ کا فارمیٹ ’ٹی 20‘ ہو گا، اگلے سال اکتوبر میں ٹی 20 کپ کی وجہ سے ایشیاء کپ ٹی 20 فارمیٹ میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی ورلڈ کپ کے بعد ایشیا کپ کی تیاریوں کا آغاز کرے گا۔ اجلاس میں 2022ء کی ایشئین گیمز میں کرکٹ کی شمولیت کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، ایشین گیمز 2018ء میں کرکٹ شامل نہیں تھی۔

دوسری جانب ایشین کرکٹ کونسل کی سائیڈ لائن پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور سری لنکن کرکٹ حکام کی ملاقات ہوئی ہے جس میں پی سی بی نے پاکستان میں سری لنکن ٹیم کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور دعوت دی ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ  اپنا سیکیورٹی وفد پاکستان بھیجے جو حالات اور انتظامات کا جائزہ لے۔

اس حوالے سے پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ حکام سے بات چیت اچھی رہی، سری لنکا کو کراچی اور لاہور میں میچز کھیلنے کی پیشکش کی ہے، امید ہے کہ مثبت جواب ملے گا۔

خواجہ سرا اور خواتین کے کردار ادا کرنے والے پاکستانی مرد فنکار

کراچی: پاکستان کے باصلاحیت اداکار زاہد احمد کے نئے ڈرامے’’عشق زہے نصیب‘‘ میں ان کے کردار سمیر کی تصاویر سوشل میڈیا پر آتے ہی وائرل ہوگئیں  ڈرامے میں زاہد احمد پہلی بار دوہری شخصیت کا کردار اداکرتے نظر آئیں گے۔

’’عشق زہے نصیب‘‘ میں زاہد احمد کا  کردار سوشل میڈیا پر موضوع بحث بناہوا ہے اور لوگ نہ صرف یہ کردار اداکرنے پر زاہد احمد کو سراہ رہے ہیں بلکہ دوسری طرف یہ بھی کہاجارہا ہے کہ پاکستان شوبز کے مرد فنکار روایتی کرداروں سے ہٹ کر ورسٹائل کرداروں کی طرف جارہے ہیں اور ایک نیاٹرینڈ سیٹ کررہے ہیں۔ تاہم زاہد احمد سے قبل بھی کئی مرد اداکار خواتین کا روپ دھار کر بہترین کرداراداکرچکے ہیں جنہیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

معین اختر(روزی)

پاکستان کے باصلاحیت اداکار معین اختر کی فنکارانہ صلاحیتوں سے کون واقف نہیں، وہ جو بھی کردار اداکرتے تھے اس میں جان ڈال دیتے تھے۔ پاکستانی ڈرامے کی تاریخ میں معین اختر وہ پہلا نام ہیں جنہوں نے 90 کی دہائی میں ڈراما سیریل’’روزی‘‘میں خاتون کا کردار نبھایاتھا۔ کامیڈی سے بھرپور اس کردار کو معین اختر نے اپنی جاندار اداکاری کے باعث امر کردیا۔ ڈراما سیریل ’’روزی‘‘ اپنے وقت کا بہترین ڈراما تھا۔ برسوں گزرجانے کے باوجود آج بھی یہ ڈراما شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتاہے۔

فہد مصطفیٰ(وینا)

پاکستان شوبز انڈسٹری کے سپر اسٹار فہد مصطفیٰ اپنی ورسٹائل اداکاری کے باعث جانے جاتے ہیں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ٹی وی میں تو منوایاہی ہے تاہم فلم انڈسٹری میں بھی ان جیسا باصلاحیت اداکار کوئی نہیں، جب کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقبول ترین گیم شو کی میزبانی بڑی کامیابی سے کرتے آرہے ہیں۔ فہد مصطفیٰ نے اپنے کیریئر کی ابتدا میں کئی کردار اداکیے جن میں ایک خواجہ سراکاکردار بھی شامل تھا۔ 2009میں نشر ہونے والے ڈرامے’’وینا‘‘میں فہد مصطفیٰ نے وینا نامی خواجہ سرا کا کردار اس خوبی سے اداکیا تھا کہ لوگ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔

عمران اشرف(شمو)

موجودہ دور میں جس اداکار نے اپنی بہترین اداکاری سے لوگوں کو دیوانہ بنایاہواہے وہ پاکستان کے ورسٹائل اداکار عمران اشرف ہیں۔ حال ہی میں ڈراما سیریل ’’رانجھا رانجھا کردی‘‘میں بھولے کے کردار نے عمران اشرف کو جہاں شہرت کے آسمان پر پہنچادیا وہیں ڈراماسیریل’’الف اللہ اور انسان‘‘میں شمو کے کردار میں انہوں نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

احمد علی بٹ(مینا)

اداکار احمد علی بٹ نے فلم’’جوانی پھر نہیں آنی2‘‘میں اس خوبی سے خاتون کا کردار نبھایاتھا کہ سب کو حیران کردیاتھا۔ ایک انٹرویو کے دوران احمد علی بٹ کا کہنا تھا کہ وہ لیجنڈ اداکار معین اختر کے کردار’’روزی‘‘سے متاثر تھے اور ان کے مطابق ایک مرد کے لیے خاتون کا کردار نبھانا کافی مشکل ہوتا ہے۔ ’’جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘میں احمد علی بٹ کےکردار مینا کو لوگوں کی جانب سے کافی پزیرائی ملی تھی۔

یاسر حسین(دردانہ)

پاکستانی اداکار یاسر حسین بھی ان مرداداکاروں کی فہرست شامل ہیں جنہوں نے خواتین کا کردار نبھایاہے۔ یاسر حسین نے ٹیلی فلم ’’ہیلپ می دردانہ‘‘ میں دردانہ نامی خاتون کا کردار نبھایاہے، تاہم گزشتہ دنوں خواتین کے روپ میں گردش کرنے والی تصاویر کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا۔ یاسر حسین کی  ٹیلی فلم عید کے موقع پر پیش کی جائے گی۔

زاہد احمد(سمیرا)

ان دنوں سوشل میڈیا پر جس اداکار کے چرچے ہورہے ہیں وہ پاکستان کے باصلاحیت اداکار زاہد احمد ہیں۔ ان  کا نیا ڈراما’’عشق زہے نصیب‘‘کا پرومو سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے جس میں وہ دوہری شخصیت رکھنے والے نوجوان سمیر کا کرداراداکرتے نظر آئیں گے۔تاہم یہ نوجوان ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے جو دورہ پڑنے کے بعد خود کو لڑکی سمجھنے لگتا ہے اوراپنانام سمیر کے بجائےسمیرا بتاتاہے۔ زاہد احمد کے اس کردار کی نہ صرف تعریف کی جارہی ہے بلکہ لوگ انہیں یہ چیلنجنگ کردار اداکرنے کے لیے بہت زیادہ سراہ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اےک اور امرےکی جنگ کے دہانے پر

امرےکہ اور اےران کی کشےدگی ان دنوں عروج پر ہے ۔ اےران پر بے پناہ پابندےاں تو تھےں ہی اب امرےکی بحری بےڑے بھی خلےج فارس مےں آن کھڑے ہوئے ہےں ۔ امرےکہ نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ مےں ممکنہ اےرانی خطرے کے پےش نظر 1500اضافی فوجی دستے روانہ کر رہا ہے ۔ امرےکہ کی طرف سے الزام ہے کہ امرےکہ کے مفادات کو اےران سے خطرہ ہے اور اےران اپنا اےٹمی پروگرام آگے بڑھا رہا ہے جو دنےائے عالم کےلئے خطرہ ہے ۔ ےہ اےک حقےقت ہے کہ جوہری ہتھےاروں کے پھےلاءو کو روکنا اس کرہ ارض پر نوع انسان اور ہر طرح کی زندگی کی بقا اور بہبود کےلئے اےک اےسی ناگزےر ضرورت ہے کہ کوئی ادنیٰ سی بصےرت رکھنے والا شخص بھی اےٹمی ہتھےاروں کے پھےلاءو کی حماےت نہےں کر سکتا تاہم ےہ بھی اےک حقےقت ہے کہ اس وقت امرےکہ سمےت جو ممالک اےٹمی پھےلاءو کو روکنے کی جدوجہد مےں پےش پےش ہےں ان سب کے پاس جدےد ترےن اےٹمی ہتھےاروں کے اتنے زےادہ ذخائر موجود ہےں کہ ان سے پوری دنےا کو اےک نہےں کئی مرتبہ اس طرح تباہ کےا جا سکتا ہے کہ اس پر روئےدگی کی اےک کونپل باقی نہ رہے ۔ امرےکہ درحقےقت اےٹمی ٹےکنالوجی پر اپنی بالا دستی قائم رکھنا اور تسلےم کرانا چاہتا ہے چنانچہ وہ اپنی من مرضی کے اےٹمی تخفےف اسلحہ اور اےٹمی عدم پھےلاءو کے معاہدے تےارکر کے دوسرے ممالک کو ان کی پاسداری پر مجبور کرتا ہے اور خود اےسے معاہدوں پر دستخط کرنا بھی ضروری نہےں سمجھتا ۔ اےران نے تو اےٹمی عدم پھےلاءو کے معاہدے سی ٹی بی ٹی پر دستخط بھی کر دیے تھے اس کے باوجود امرےکہ اس کے در پے آزار رہا چنانچہ اےران نے مجبور ہو کر اس معاہدے سے باہر نکلنے اور اپنی دفاعی ضرورےات کے تحت اےٹمی افزودگی کا پروگرام شروع کرنے کا فےصلہ کےا ۔ دراصل اےٹمی ممالک اپنی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر کمزور اقوام کو سےاسی، اقتصادی اور عسکری طور پر اپنا زےردست بنانے کےلئے استعمال کر رہے ہےں ۔ ےہ ان کے ساتھ صدےوں سے کی جانے والی نا انصافےاں اور محرومےاں ہی ہےں جو انہےں ہر قےمت پر جوہری صلاحےت کے حصول پر آمادہ کر رہی ہےں ۔ ےہی بات غور طلب ہے کہ اےرانی جوہری پروگرام کا عامل کےا ہے;238; کےا اےرانی خود کو غےر محفوظ اور خطرات مےں گھرا ہوا سمجھ کر جوہری ہتھےار حاصل کرنا چاہتے ہےں ;238; اگر وہ خود کو غےر محفوظ سمجھتے ہےں تو اس احساس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ کےا امرےکہ کا موجودہ روےہ اےران کے جوہری اسلحے کی ضرورت کے احساس کو ختم کرنے والا ہے ےا بڑھاوا دےنے والا;238;سرد جنگ کے ختم ہوتے ہی ےہ احساس پےدا ہونا شروع ہو گےا تھا کہ اب دنےا اتنی خطرناک نہےں رہے گی جتنی پہلے تھی اور ےہ کہ امن و سلامتی کے امکانات مےں اضافہ ہوتا رہے گا لےکن ےہ سب وہم و گمان ثابت ہوا ۔ روس کی کےمونسٹ اےمپائر کے خاتمے کے ساتھ ہی کےمونزم پھےلنے کا خطرہ تو کم ہو گےا لےکن امرےکہ کی پالےسی مےں جارحانہ روش نے جگہ پا لی ۔ امرےکہ خود بخود واحد سپر پاور کی حےثےت اختےار کر گےا اور اس کے حکمرانوں نے ےہ سمجھ لےا کہ اب وہ دنےا مےں سےاہ سفےد کے مالک بن گئے ہےں چنانچہ وہ اےک اےسے راستے پر چل پڑے جس سے تصادم اور جنگ کا ماحول پےدا ہو گےا ۔ امرےکہ نے افغانستان مےں جو کھےل کھےلا وہ افغانستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود کےلئے نہےں بلکہ اس کے پےچھے اس کے اپنے ہی مفادات تھے ۔ امرےکہ نے افغانستان مےں موجود روس مخالف قوتوں کو مضبوط کےا ،انہےں اسلحہ دےا اور پاکستان کو بھی روس کے خلاف استعمال کےا ۔ جب روسی کےمونزم کو زوال آ گےا ،روس منتشر ہو گےا تو ہونا تو ےہ چاہیے تھا کہ امرےکی حکومت اپنی سےاسی روش تبدےل کر لےتی لےکن حالات نے ےہ ثابت کےا کہ امرےکہ اپنے نظرےات کی تروےج کےلئے وہی جار حانہ روش اختےار کرتا جا رہا ہے جو سرد جنگ سے پہلے روس کی تھی ۔ امرےکہ دنےا کا طاقت ور ترےن ملک تو ہے شائد اسیلیے اسے وہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ دنےا کا کوئی بھی بر اعظم ےا اہم علاقہ ہو وہاں اس کی موجودگی اور قوت کو محسوس کےا جائے اور وہاں اس کے مفادات و نظرےات کے مطابق کام ہو ۔ گزشتہ تےن دہائےوں سے زائد عرصہ گزر چکا اےران مےں امرےکی سفارت کاری کا وجود نہےں ،زےادہ تر معلومات کا ذرےعہ جاسوسی کا نظام ہے ۔ عراق کے معاملے مےں ہم اس ذرےعے کا حال دےکھ چکے ہےں ۔ اب پھر امرےکی سےکورٹی کو اےک بڑا خطرہ دکھائی دےا کہ اےران نے اےک بحری جہاز پر اےرانی مےزائل نصب کئے ہےں جو امرےکی مفادات کےلئے خطرہ بن سکتے ہےں ۔ امرےکی اداروں اور جاسوسی نظام کی اثابت پر اب کس طرح تکےہ کےا جا سکتا ہے کہ 2003ء مےں عراق پر امرےکی حملے کی جتنی بھی وجوہات بےان کی گئی تھےں بالکل غلط نکلےں ۔ ٹرمپ خفےہ اطلاعات کو جواز بنا کر ےہ دعویٰ کر رہے ہےں کہ اےران خطہ مےں امرےکہ اور اس کے اتحادےوں کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اےران کے ساتھ جنگ نہےں چاہتے تو پھر بی ۔ 52بمباروں سمےت دےگر لڑاکا طےاروں سے لےس نےول جہاز ابراہم لنکن کی خلےج مےں اےرانی ساحل کے قرےب صف آرائی اور قطر مےں بمبار طےاروں کے بھاری کھےپ کا پوزےشنےں سنبھالنا کس امر کی غمازی کرتا ہے ۔ امرےکہ اےران سے کوئی بڑی کھلی جنگ نہےں چاہتا لےکن وہ ےہ بھی نہےں چاہتا کہ اےران مےں اےک مخصوص سوچ رکھنے والی مذہبی حکومت قائم رہے اور وہ کچھ عرصہ بعد جوہری طاقت بن کر عربوں اور تےل کےلئے خطرہ نہ بن جائے امرےکہ نے اےران کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے وہ ےہ چاہتا ہے کہ اےران کے اندر اےسے حالات پےدا ہو جائےں کہ اےران کے عوام اپنی مذہبی حکومت تبدےل کرنے کےلئے اٹھ کھڑے ہوں لےکن اسے ےہ معلوم نہےں کہ اےرانی عوام جنگ کے معاملے کو اور عائد کی جانے والی پابندےوں کو کس نظر سے دےکھتے ہےں ۔ کےا اس طرح اےرانی عوام کا دل جےتا جا سکتا ہے;238;ہر گز نہےں ۔ ےہی وجہ ہے کہ بد ترےن معاشی پابندےوں کے باوجود عوام حکومت کے ساتھ کھڑے ہےں اور امرےکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تےار نہےں ہےں ۔ اےک جانب تو اسرائےل سمےت بہت سے’’ ہاک‘‘ اور جنگوں سے منفعت بٹورنے والے ہےں ۔ وہ چاہتے ہےں کہ نہ صرف ےہ کہ جنگ بھی چھڑ جائے بلکہ جنگےں ہوتی ہی رہےں لےکن ہمارے جےسے ممالک جو جنگوں کو کسی بھی طور کسی کےلئے فائدہ مند نہےں سمجھتے ان کا لامحالہ رجحان باہمی گفتگو اور مذاکرات کی جانب ہوا کرتا ہے لےکن کےا امرےکہ اس کےلئے تےار ہو گا اس نے تو ہمےشہ اقوام عالم کو حکم دےنے کی کوشش کی ہے ۔ امرےکہ نے مذاکرات کے حوالے سے کبھی سنجےدگی نہےں دکھائی کےونکہ مذاکرات کے نتےجہ خےز ہونے کی صورت مےں امرےکہ اور اقوام متحدہ کو تمام پابندےاں ختم کرنا ہوں گی ۔ اےران کو کمزور کرنے اور حکومت تبدےل کرنے کی کوششوں کو تج دےنا ہو گا ۔ تعلقات معمول پر لانے ہوں گے کےا امرےکہ اس سب کےلئے تےار ہو سکتا ہے ۔ امرےکہ نے افغانستان ،عراق،شام اور لےبےا مےں جن رواےات کی بنےاد رکھی ان رواےات کا رد عمل بد امنی اور مسلح کاروائےوں کی صورت مےں سامنے آ رہا ہے ۔ ےونانی فلاسفر ارسطو کے مطابق المیے ےعنی ٹرےجڈی کی خصوصےت ےہ ہے کہ اےک بار انسان اپنے ارادے(;70;ree will)کی بنےاد پر کوئی قدم اٹھا لےتا ہے ۔ قوت ارادی کے اس آزادانہ استعمال کی وجہ سے جس عمل کا آغاز ہوتا ہے وہ عمل پھر اس کے اختےار مےں نہےں رہ جاتا ۔ بالکل اےسا ہی معاملہ امرےکہ کے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے لےکن پھر معاملات اس کے اختےار مےں نہےں رہے ۔ آج وہ افغانستان سے جان چھڑانا چاہتا ہے لےکن کمبل اسے نہےں چھوڑ رہا ۔ آج جو مسلم دنےا کے حکمران امرےکہ کے دوست کہلانے مےں فخر محسوس کرتے ہےں وہ سوچےں کہ ان کے اس فخر کی بنےاد کن عوامل پر کھڑی ہے ۔ جنگ مےں جو دو باتےں سب سے اہم ثابت ہوئی ہےں وہ ےہی ہےں کہ انسانی جذبے اور موت کی خواہش کے بغےر جدےد ترےن اسلحہ اور جنگی مشےنری بے کار ہوتی ہے ۔ اےران طوےل عرصہ سے نہ صرف معاشی پابندےاں برداشت کرتا آ رہا ہے بلکہ اےران نے اپنی رواےتی فوج نہ رکھنے کی کمی اپنی پراکسی تےار کر کے اےران کی جنگ اےران کی سرحدوں سے دور لڑنے کی دفاعی پالےسی مرتب کر رکھی ہے ۔ اگر حملہ ہو تا ہے تو ہمساےہ ممالک کی پراکسےز متحرک ہو کر مخالفےن پر حملے شروع کر دےں گی ۔ امرےکی محکمہ دفاع اس بات کو تو تسلےم کرتا ہے کہ اےران کی فوجی صلاحےت جارحانہ ہے اور اس کے مےزائل کئی ٹھکانوں پر اےک ہی وقت مےں حملہ کر سکتے ہےں وہ راڈار مےں آئے بغےر نشانہ لگا سکتے ہےں دوسری بات جسے نظر انداز نہےں کےا جا سکتا کہ اےران عراق ہے نہ لےبےا ۔

Google Analytics Alternative