Home » 2019 » May (page 30)

Monthly Archives: May 2019

‘ایمنسٹی اسکیم میں 2 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرکے واجبات کلیئر کروائے جاسکتے ہیں’

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نئے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ صنعتی صارفین ایمنسٹی اسکیم کے تحت سیلز ٹیکس کا 2 فیصد ادا کرکے واجبات کلیئر کرواسکتے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں شامل بھی ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حوالے سے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم ہمارا مقصد کاروبار کے لیے ماحول پیدا کرنا ہے۔

اکاؤنٹ کو منجمد کرنے سے متعلق سوال کے جواب انہوں نے بتایا کہ اکاؤنٹ منجمد کرنے سے قبل صارف کو 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کی ایک شق میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق ٹیکس نادہندہ 30 جون تک سیلز ٹیکس کے 2 فیصد واجبات ادا کرکے اپنی تمام واجبات ڈکلیئر کرتے ہوئے ہمارے پاس آسکتا ہے۔

شبر زیدی نے بتایا کہ اس وقت ڈسکوز (بجلی کی ترسیلی کمپنیاں) کے پاس بجلی کے رجسٹرڈ صنعتی صارفین کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار ہے جبکہ رواں برس 7 ہزار صنعتی گیس کنکشنز فراہم کیے گئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں سیلز ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کی تعداد صرف 38 ہزار ہے جو بہت بڑا فرق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس یکم جولائی کے بعد ایف بی آر صنعتی صارفین کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی بھی کروائے گی جبکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کردیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ صنعتی صارف کو پہلے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی جبکہ اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ یہ صارف کس طرح ٹیکس کی ادائیگی کرے گا۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ ایسے بھی صارف سامنے آئیں جن پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا ہو۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم مینوفیکچررز سے مصالحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم میری ان تمام حضرات سے درخواست ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ جولائی کے بعد اس کی وہ شکل نہ رہے جو آج موجود ہے۔

شبر زیدی نے بتایا کہ ملک میں ایک لاکھ کمپنیاں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 50 ہزار کمپنیاں ٹیکس فائلر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایس ای سی پی چیئرمین کو خط لکھا ہے کہ ان 50 ہزار کمپنیوں سے متعلق پتہ لگائیں اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ایف بی آر کی جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے لیے تیار ہیں۔’

ٹک ٹاک کی ملکیت رکھنے والی کمپنی اب میسجنگ ایپ مارکیٹ کا حصہ

ٹک ٹاک وہ ایپ ہے جو اس وقت دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بہت زیادہ مقبول ہے اور اب اس کی پیرنٹ کمپنی بائیٹ ڈانس نے اپنی مقبولیت کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بائیٹ ڈانس نے ایک نئی میسجنگ اپلیکشن فلپ چیٹ متعارف کرائی ہے۔

یہ میسنجر ایپ صارفین میں ایسے گروپ چیٹ میں حصہ بننے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس میں مشترکہ دلچسپیاں رکھنے والے دیگر افراد شامل ہوں۔

بائیٹ ڈانس اس سے پہلے بھی میسجنگ ایپس کی دنیا میں قدم رکھ چکی ہے اور رواں سال ایک ویڈیو چیٹ ایپ ڈیو شان متعارف کرائی تھی۔

مگر ٹک ٹاک جیسی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی جو مسلسل 5 ویں سہ ماہی کے دوران ایپ اسٹور میں سب سے زیادہ ڈاﺅن لوڈ ہونے والی اپلیکشن رہی۔

فوٹو بشکریہ بائیٹ ڈانس
فوٹو بشکریہ بائیٹ ڈانس

فلپ چیٹ اس وقت چین میں کام کررہی ہے اور وہاں وی چیٹ کا مقابلہ کررہی ہے جس کو اس وقت چین میں غلبہ حاصل ہے مگر یہ بہت دنیا بھر میں متعارف کرائی جائے گی جو فیس بک کے لیے فکرمندی کی علامت ہوگی۔

کیونکہ ٹک ٹاک کی بین الاقوامی سطح پر مقبولیت بیشتر افراد کے لیے حیران کن ثابت ہوئی اور فلپ چیٹ کو اس کا ضرور فائدہ ہوگا اور یہ فیس بک کی میسجنگ ایپس کو ٹکر دے سکے گی۔

انڈونیشیا میں صدارتی الیکشن کے نتائج پر ہنگامے پھوٹ پڑے، 6 ہلاک 200 زخمی

جکارتہ: انڈونیشیا میں صدارتی انتخابات میں صدر جوکو ویدودو کی ایک بار پھر کامیابی پر ہنگامے پھوٹ پڑے اور مخالف امیدوار کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں 6 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی  خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ویدودو 55.5 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوگئے، صدر ویدودو کی کامیابی کے اعلان کے بعد مخالف امیدوار پرابوو سبنتو کے ہزاروں حامیوں نے الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

Indonesia 3

اپوزیشن امیدوار کے مشتعل حامیوں کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے،  پولیس نے مظاہرین کو اسلحہ فراہم کرنے والے خصوصی فورس کے سابق کمانڈر سمیت 20 افراد کو گرفتار کرلیا۔

احتجاج کے باعث دارالحکومت جکارتہ میں کاروباری سرگرمیاں معطل، تعلیمی ادارے بند اور ٹرین کی آمدورفت ملتوی کردی گئی ہیں، شہر بھر میں فوج کے 30 ہزار اہلکار تعینات ہیں جس کے باعث دارالحکومت جکارتہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔

Indonesia 2

واضح رہے کہ صدر جوکو ویدودو 2014 میں ملک کے ساتویں صدر منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ جکارتہ کے گورنر رہے اور قبل ازیں سوراکرتا کے میئر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔ جوکو ویدودو اپنے مخالفین کے برعکس متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور فوجی یا سیاسی گھرانے سے تعلق نہ رکھنے والے واحد صدر ہیں۔

ہوا میں ڈرون اور زمین پر کار بن جانے والا روبوٹ

تل ابیب: کچھ ماہ قبل پانی میں تیرنے اور ہوا میں پرواز کرنے والے ڈرون کا تذکرہ سننےمیں آیا تھا اور اب اسرائیلی ماہرین نے ایسا ڈرون بنایا ہے جو ایک جانب تو ہوا میں پرواز کرتا ہے تو دوسری جانب زمین پر کارکی طرح دوڑتا ہے۔

یہ کواڈکاپٹر قسم کا ڈرون ہے لیکن زمین کو چھوتے ہی اس کے پروپیلر بازو خمیدہ ہوکر پہیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اسے ایف اسٹار (فلائنگ اسپرول ٹیونڈ آٹونامس روبوٹ) کا نام دیا گیا ہے۔

اسرائیل میں واقع بین گوریو یونیورسٹی کے ماہرین نے چار پروپیلر والے کواڈ کاپٹر کو ایک کار میں تبدیل کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ اس پر چار افقی پروپیلر (پنکھڑیاں) اٹھان کی قوت فراہم کرتی ہیں اور ڈرون کسی بھی سمت باآسانی پرواز کرسکتا ہے۔

لیکن پروپیلر کے بازوؤں کے ساتھ چار گھومتے پہیے بھی نصب ہیں جس پر برش لیس موٹریں لگی ہیں جو پروپیلر کو پہیوں کی صورت میں چلاتی ہیں اور کار آٹھ فٹ سیکنڈ کی رفتار سے دوڑتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ نیچے کی ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ زمین پر ٹکتے ہی اس کے پروپیلر 55 درجے پر خمیدہ ہوکر پہیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اسطرح کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں بھی یہ آگے بڑھتی جاتی ہے اور چھوٹی موٹی رکاوٹوں کو عبور کرجاتی ہے۔

ایک مرتبہ چارج ہونے پر یہ 20 منٹ تک فعال رہتا ہے اور اسے کسی حادثے کےبعد تلاش اور بحالی (سرچ اینڈ ریسکیو) کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ملبے اور تنگ جگہوں پرباآسانی 400 کلوگرام وزنی اشیا، دوا یا خوراک لےجاسکتا ہے۔ مختلف اطلاقات کے لیے ڈرون روبوٹ کے کئی ورژن پر کام ہورہا ہے۔

بین گوریون یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ڈیوڈ زروک کہتے ہیں  کہ اگلے مرحلے میں بہتر پروگرام اور الگورتھم بنا کر اس کی رفتاراور کارکردگی کومزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔

رمضان المبارک اور افطار کلچر

اس ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں مےں اےک خوش کن خبر پڑھنے کو ملی کہ وزےر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب مےں سرکاری خرچ پر افطار پارٹےوں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس پابندی کا اطلاق وزراء ،سےکرٹری اور دےگر سرکاری حکام پر ہو گا ۔ ماضی اس حقےقت پر شاہد ہے کہ ہر سال رمضان المبارک مےں سرکاری سطح پر افطار پارٹےوں کے نام پر قومی خزانے کو بے درےغ لٹاےا جاتا رہا ہے ۔ افطار پارٹےوں کےلئے سرکاری خرچ پر بڑے بڑے ہوٹل بک کئے جاتے جن کے صرف اےک روز کے بل ہی لاکھوں سے متجاوز ہو جاتے ۔ بلاشبہ سرکاری خرچ پر افطار پارٹےوں پر پابندی عائد کرنے کا فےصلہ ہر لحاظ سے قابل تحسےن و ستائش ہے اس سے قومی خزانے پر بوجھ نہےں پڑے گا اور اس سے بچت بھی ہو گی اس حوالے سے وزےر اعلیٰ پنجاب کی توصےف نہ کرنا نا انصافی کے زمرے مےں آئے گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد ےقےنی بناےا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت اےکشن لےا جائے ۔ وطن عزےز کے دوسرے صوبوں اور وفاق کو بھی اس فےصلے پر حکومت پنجاب کی تقلےد کرنے کی ضرورت ہے ۔ رمضان المبارک نےکےوں کا موسم بہار ہے ۔ جن اشےائے ضرورےہ پر بقائے حےات کا انحصار اور بقائے نوع انسانی کا دارومدار ہے ان اےام مےں انہی چےزوں سے مقررہ وقت تک رک جانے کا حکم ہے ۔ ےہی کڑا امتحان ہے جو بشری تقاضوں سے اپنے تئےں بچانے کا متقاضی ہے ۔ روزہ متبرک خواہشات کے ذرےعے ضبط نفس کا نام ہے جس سے جسم اور روح کی تطہےر کا پاکےزہ عمل انجام پاتا اور روح کی تراوت ،جسم کے سکون اور دل کی ٹھنڈک کا باعث بنتا ہے ۔ تمام مسلمان اس ماہ مقدس کی اہمےت اپنے عمل اور اخلاق کے ساتھ واضع کرتے ہےں ۔ اجتماع عبادات کے سبب باہمی اخوت اور محبت فروغ پاتی ہے ۔ جہاں اہل اسلام کےلئے ےہ مہےنہ نعمتےں اور خوشخبرےاں لے کر آتا ہے وہاں ےہ ماہ مبارک ان کےلئے اےک کڑا امتحان بھی ہے کہ ہم کہاں تک اس امتحان مےں سرخرو ہوتے ہےں ۔ اگر ہم روزہ کی اصل روح اپنے مےں بےدار نہےں کرتے تو پھر جسم کی پےاس اور بھوک کی اذےت سہنا بے سود اور ہمارا روزہ رکھنا ےا نہ رکھنا برابر ہے ۔ معاملہ نےتوں پر ہوتا ہے ۔ اگرہماری نےت مےں فتور ہے ،ہم اپنا محاسبہ نہےں کر پاتے ،ہمارے غلط دنےاوی کام جوں کے توں ہےں تو ےہ قول و فعل کے تضاد کی بدترےن شکل ،اپنے نفس سے دھوکہ اور اپنے خالق و مالک سے بھی دھوکہ دہی کا ارتکاب ہے ۔ ہماری عبادتےں ،ہماری رےاضتےں اس خالق کائنات کا شان نہ تو بڑھا سکتی ہےں اور نہ ہی گھٹا ےا کم کرنے پر قادر ہےں ۔ روزہ سے تو ہم اپنے سے نجاست و گندگی دور کر کے اپنی اصلاح کا عمل انجام دے رہے ہےں ۔ بقول شاعر

من نکردم پاک از تسبےح شاں

پاک ہم اےشاں شود دور فشاں

ترجمہ : مےں تےری عبادت کر کے ،تےری حمد و تسبےح بےان کر کے تجھے پاک نہےں کر رہا بلکہ اس عمل سے تو اپنی (نجات) اور اپنے سے گندگی دور کرنے کا اصلاحی عمل انجام دے رہا ہوں ۔ ماہ رمضان کے اےام مےں اےک تکلےف دہ حقےقت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان دنوں مےں نمود و نمائش کے افطار کلچر کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ اےک طرف وطن عزےز مےں غربت ،بھوک اور بے روز گاری کے کارن خود کشےاں ہو رہی ہےں دوسری طرف فائےو سٹار ہوٹلوں اور اپنے محل نما مکانوں مےں افطارےوں کے انتظامات پر دولت کو بے درےغ لٹاےا جانا ہمارے ضمےر پر اےک سوالےہ نشان ہے ۔ بڑے ہوٹلوں کے باہر افطاری کےلئے کثےر آءٹمز کے بورڈ آوےزاں ہےں ۔ افطاری کا رےٹ سن کر غربت و افلاس کے مارے انسان کا ہذےان و ہےجان زدہ ہو جانا ےقےنی ہے ۔ طبقہ امراء کی ےہ ترتےب دی ہوئی افطار پارٹےاں ان کی دولت کی نمود و نمائش اورذاتی تشہےر کے ذرےعے ہےں ۔ دراصل وہ اپنی انفرادےت و برتری دکھانے اور دوسروں کے مقابلے مےں اپنے آپ کو نماےاں کرنے کی خواہش کے اسےر ہےں ۔ اےسے لوگ ان افطار پارٹےوں کے مواقع کو اپنے ہاتھ سے نہےں جانے دےتے جن مےں ان کی تشہےر کی صورت نکل رہی ہو ۔ اسلام طبقاتی فرق کی نفی کرتا ہے لےکن ےہاں تو اس کی آبےاری کے ہی سامان کئے جا رہے ہےں ۔ اےسی پارٹےوں مےں شمولےت اےک سٹےٹس سمبل بن چکا ہے ۔ شہر تو درکنار دےہات مےں بھی افطار پر بے حد اسراف کےا جاتا ہے ۔ انواع و اقسام کے پھل اور مختلف قسم کی ڈشےں دستر خوان کی زےنت بنتی ہےں ۔ اےک اندازے کے مطابق اس اےک ماہ کا گھرےلو بجٹ اےک سال کے اخراجات پر بھاری ہے ۔ جس ہادی برحق نے نمک پانی اور کھجور پر روزہ افطار کر کے اپنے دستر خوان کی شکل دنےا کے سامنے پےش کی ہم نے برعکس عمل کر کے انواع و اقسام کی ڈشےں اپنے دستر خوان پر سجنے کا اہتمام کےا ۔ اس ماہ مبارک کو ہم بسےار خوری کی نظر کر رہے ہےں لےکن افسوس کہ اس پر پشےمان بھی نہےں ۔ ضرورت ہے اپنے اندر کے مسلمان کو بےدار کرنے کی جسے معلوم ہو سکے کہ سحری و افطاری کے وقت کوئی گھر فاقہ کشی کا شکار تو نہےں ۔ روزہ تزکےہ نفس ہے ۔ ےہ تقسےم رزق اور مساوات کا درس دےتا ہے ۔ رمضان المبارک کے مہےنہ مےں ہر عاقل و بالغ مسلمان کےلئے چند سوالات اپنے ضمےر سے پوچھنے کے ہےں ۔ کےا ہم نے اس ماہ مےں ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا سےکھا;238; کےا ہم نے حقوق العباد کا خےال رکھا ;238;کہےں ہم نے غرےبوں کی غربت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش تو نہےں کی ;238;ہماری زبان ،ہاتھ پاءوں اور آنکھ سے کوئی غلط حرکت سرزد تو نہےں ہوئی ;238;کےا ہم نے اپنے سےنوں مےں ہوس کے تراشےدہ بتوں کو چکنا چور کےا ;238; کےا زےادہ منافع کی خاطر اس ماہ مکرم مےں ملاوٹ کے مرتکب تو نہےں ہو رہے ;238;کےا اپنے مال سے زکواۃ ادا کر کے مخلوق خدا کی مدد کی;238; کےا ہم لوٹے ہوئے اور چھےنے ہوئے مال پر افطاری تو نہےں کر رہے;238; کےا ہم نے اپنے عمل مےں روادار ہونا اور تحمل و برداشت سےکھی ;238; کہےں ہم نے انصاف کی قدرت رکھ کر ذاتی اغراض و طمع مےں عدل کو پامال تو نہےں کےا;238; کہےں ہم سے اپنے فراءض منصبی ادا کرنے مےں کوتاہی تو سرزد نہےں ہوئی;238; اگر ہم نے اس مقدس مہےنہ مےں خود کو غفلت کا شکار رکھا اور اپنے مردہ ضمےر کو زندہ نہ کےا تو اس ماہ مےں بھی ہم نے سب کچھ کھوےا پاےا کچھ بھی نہےں ۔ ہم روزے کے عملی مظاہرے سے بے اعتنائی برت کر اس کے فےوض و برکات اور شےرےں ثمرات سے محروم ہی رہے ۔ ہم نے روشنےوں اور اجالوں کی بجائے اپنے پہ تارےکےاں مسلط کرنے کا ہی اپنے ہاتھوں اہتمام کےا ۔ اس ماہ مبارک کا تقاضا ہے کہ خےر کا آغاز کےا جائے ۔ جذبہ خدمت سے کام لےا جائے ۔ ےہ مہےنہ بھی اےسا ہے اےک نےکی کا بدلہ ستر کی شکل مےں ملتا ہے ۔ آج ہی ابتدا کرےں اپنے محلہ سے،اپنے شہر سے ،پر تعےش افطار پارٹےوں پر بے درےغ سرماےہ خرچ کرنے کی بجائے ےہی سرماےہ غربت کے خاتمہ پر صرف کرےں ۔ اگر ہم نے اےسا کےا تو ہمارے روزے بھی قبول ہےں اور ہم اس امتحان مےں سرخرو ہےں وگرنہ ہم نے اپنے اوپر تارےکےاں مسلط کرنے کا ہی خود اپنے ہاتھوں اہتمام کےا ۔

کانز 2019: ریڈ کارپٹ پر حسیناؤں کے جلوے

دنیائے فلم کا سب سے بڑا فیسٹیول کانز اس سال بھی ہر سال کی طرح نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوا۔

اس فسٹیول میں دنیا بھر سے بھیجی جانے والی فلموں کی نمائش ہوتی ہے، تاہم فلموں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والے اسٹارز کے انداز بھی خوب توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔

دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات اس فیسٹیول میں شریک ہوئیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ریڈ کارپٹ پر موجود حسیناؤں کے انداز کو بھی خوب سراہا گیا۔

بولی وڈ سے تعلق رکھنے والی کئی اداکارائیں بھی اس سال ریڈ کارپٹ پر چلیں۔

دپیکا پڈوکون

اداکارہ نے اپنے ریڈ کارپٹ کے دوسرے روز سبز رنگ کا گاؤن زیب تن کیا
اداکارہ نے اپنے ریڈ کارپٹ کے دوسرے روز سبز رنگ کا گاؤن زیب تن کیا

سونم کپور

سونم کپور نے اپنے ریڈ کارپٹ کے موقع پر سفید رنگ کا گاؤن سوٹ پہنا
سونم کپور نے اپنے ریڈ کارپٹ کے موقع پر سفید رنگ کا گاؤن سوٹ پہنا

سلینا گومز

امریکی گلوکارہ سلینا گومز نے بھی کانز ریڈ کارپٹ پر سب کو متاثر کیا
امریکی گلوکارہ سلینا گومز نے بھی کانز ریڈ کارپٹ پر سب کو متاثر کیا

پریانکا چوپڑا

پریانکا چوپڑا نے بھی کانز فیسٹیول میں متاثر کن ڈیبیو کیا
پریانکا چوپڑا نے بھی کانز فیسٹیول میں متاثر کن ڈیبیو کیا

حنا خان

بھارتی اداکارہ حنا خان نے اس سال کانز ریڈ کارپٹ پر ڈیبیو کیا
بھارتی اداکارہ حنا خان نے اس سال کانز ریڈ کارپٹ پر ڈیبیو کیا

میڈیسن بیئر

امریکی گلوکارہ نے اپنے انداز سے سب کو حیران کردیا
امریکی گلوکارہ نے اپنے انداز سے سب کو حیران کردیا

ایشوریا رائے بچن

بولی وڈ اداکارہ 2002 سے کانز فیسٹیول کا حصہ بن رہی ہیں
بولی وڈ اداکارہ 2002 سے کانز فیسٹیول کا حصہ بن رہی ہیں

کنگنا رناوٹ

بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ دوسری مرتبہ کانز فیسٹیول کا حصہ بنی اور سب کو خوب متاثر کیا
بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ دوسری مرتبہ کانز فیسٹیول کا حصہ بنی اور سب کو خوب متاثر کیا

ایلی فیننگ

امریکی اداکارہ کانز کے ریڈ کارپٹ پر نہایت خوبصورت نظر آئیں
امریکی اداکارہ کانز کے ریڈ کارپٹ پر نہایت خوبصورت نظر آئیں

امبر ہرڈ

اداکارہ امبر ہرڈ بھی نہایت منفرد انداز میں ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئیں
اداکارہ امبر ہرڈ بھی نہایت منفرد انداز میں ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئیں

روزمرہ کی اشیا میں موجود کیمیکلز جگر کے امراض کا خطرہ بڑھائے

شیمپو اور کھلونوں میں موجود کیمیکلز سے موٹاپے، ذیابیطس، امراض قلب اور جگر کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ بات روس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سائبریا کی نووی ساڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن لوگوں کے پیشاب کے نمونوں میں ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے ان میں موٹاپے یا ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح ان لوگوں کے دوران خون میں چربی کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے جس سے جگر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے اور میٹابولک امراض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔

ان مصنوعات میں موجود کیمیکلز Phthalates کا استعمال متعدد روزمرہ کی مصنوعات میں ہوتا ہے جیسے پانی کی بوتل اور پرفیوم وغیرہ۔

ان کیمیکلز کو پہلے ہی مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بانجھ پن، موٹاپے اور نشوونما میں رکاوٹ کا باعث قرار دیا گیا ہے، تاہم اب تک انسانوں کی بجائے یہ تحقیقاتی مطالعہ جات چوہوں پر ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سائبریا کی یونیورسٹی نے انسانوں پر ان کیمیکلز کے اثرات کو جانچنے کا فیصلہ کیا اور 3305 افراد کے پیشاب کے نمونے جمع کیے۔

ان کیمیکلز کی مقدار کا موازنہ جسمانی وزن، ذیابیطس ٹائپ کی تشخیص اور جگر کے ناقص افعال سے کیا گیا۔

نتائج سے معلولم ہوا کہ 66 افراد کے نمونوں میں مونوایتھل Phthalate جبکہ 72 افراد کے نمونوں میں مونو ٹو ایتھل Phthalate کی مقدار کافی زیادہ تھی۔

موٹاپے کے شکار افراد میں مونوایتھل Phthalate کی مقدار زیادہ پائی گئی جبکہ ایسے انزائمے بھی دریافت کیے گئے جو جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

نتائج میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جو لوگ صحت مند وزن کے حامل تھے، ان کے نمونوں میں ان کیمیکلز کی سطح بہت کم تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگرچہ جمع کیے گئے نمونوں کی تعداد بہت کم تھی مگر نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ کیمیکلز جگر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ میٹابولزم پر ایسے اثرات مرتب کرتے ہیں جس سے موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپی سوسائٹی آف Endocrinology کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پیش کیے گئے۔

آمدن میں اضافہ نہ ہوسکا، مالی خسارہ 5 فیصد، معیشت شدید مشکلات کا شکار

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی سال جہاں ملک کا مالی خسارہ اخراجات کے گزشتہ ریکارڈ ٹوٹنے پر ابتدائی 3 سہ ماہی (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک جاپہنچا ہے وہیں آمدنی (ریونیو) کی کارکرددگی تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ خسارے کی تفصیلات کے مطابق 9 ماہ کے عرصے میں ملک کا مجموعی خسارہ 19 کھرب 22 روپے تک پہنچ چکا ہے جو ایک دہائی جے عرصے میں تین سہہ ماہیوں کا بلند ترین خسارہ ہے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کیا گیا خسارہ 14 کھرب 80 ارب روپے تھا۔

اخراجات اور آمدنی کے بارے میں خسارے کے اشاریے خرابی کی نشاندہی کررہے ہیں جس کے مطابق ایک جانب اخراجات قابو میں نہیں تو دوسری جانب ریونیو اکٹھا کرنے کی شرح کم ہوئی۔

ان اعداد و شمار کی مایوس کن صورتحال سے حکومت پر ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا اس کے ساتھ ساتھ جون میں آنے والے بجٹ میں اخراجات کو روکنے کا پختہ عزم بھی درکار ہوگا۔

مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2019 سے مارچ 2019 پر مشتمل تیسری سہ ماہی کے دوران خسارے میں زیادہ اضافہ ہوا اور یہ 9کھرب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.3 فیصد رہا۔

یہ رقم ابتدائی 2 سہ ماہیوں، جولائی سے جنوری، کے مجموعی خسارے سے ذرا سی ہی کم ہے جب مجموعی خسارہ 10 کھرب 2 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کا 2.7 فیصد تھا اور ترقیاتی اخراجات میں 34 فیصد کمی کے باوجود اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

خیال رہے کہ سال 2000 کے بعد اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ خسارہ مالی سال 13-2012 کے دوران 8 فیصد تھا لیکن اُس سال بھی 9 ماہ کے دوران ریونیو اور اخراجات کا فرق جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تھا۔

9 ماہ کے عرصے میں مارک اپ ادائیگیاں جی ڈی پی کی 3.8 فیصد رہیں جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہیں جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران یہ 3.4 فیصد تھیں، یوں اس برس مارک اپ ادائیگیوں کے لیے 14 کھرب 59 ارب روپے خرچ ہوئے جو گزشتہ برس 11 کھرب 72 ارب روپے تھی۔

دوسری جانب شرح سود تقریباً دگنی ہوچکی اور روپے کی قدر میں خاصی کمی آچکی ہے اس صورتحال کے باعث حکومت کے لیے تازہ قرضوں میں مارک اپ کی لاگت بڑھے گی۔

اسی طرح تیسری سہ ماہی کے دوران دفاعی اخراجات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 9 ماہ کے عرصے میں جی ڈی پی کے 2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 11 سال کے عرصے میں کبھی پورے سال کے لیے بھی 1.9 فیصد سے آگے نہیں بڑھا تھا۔

یوں جولائی سے مارچ کے عرصے میں گزشتہ برس سے اب تک دفاعی اخراجات 24.1 فیصد بڑھ کر 7 کھرب 74 ارب 80 کروڑ روپے ہوچکے ہیں جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 6 کھرب 23 ارب 80 کروڑ روپے تھے۔

اس طرح ریونیو کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا جو حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے جو مارچ 2019 تک 30 کھرب 58 ارب 30 کروڑ روپے رہی جو گزشتہ برس بھی 30 کھرب 58 ارب 2 کروڑ روپے تھی لیکن رواں برس یہ جی ڈی پی کا 9.3 فیصد رہا جبکہ گزشتہ برس 10.4 فیصد تھا۔

ٹیکس کے علاوہ ہونے والی آمدنی کا حجم گزشتہ برس کے 5 کھرب 6 ارب روپے کے مقابلے اس برس کافی کام یعنی 4 کھرب 21 ارب 60 کروڑ روپے رہا، یوں اس آمدنی کی شرح 09-2008 کے بعد سے کم ترین آگئی اور یہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد حصہ رہا جو گزشتہ عرصے 1.5 فیصد تھا۔

دوسری جانب موجودہ اخراجات 09-2008 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ اور جی ڈی پی کا 12.5 فیصد ہیں جو گزشتہ برس 40 کھرب 7 ارب 50 کروڑ کے مقابلے میں اس سال 40 کھرب 79 ارب 90 کروڑ روپے ہیں۔

Google Analytics Alternative