Home » 2019 » May (page 4)

Monthly Archives: May 2019

ہواوے اپنا آپریٹنگ سسٹم جون میں متعارف کرائے گا؟

امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے بعد ہواوے کے ‘اینڈرائیڈ’ کے متبادل آپریٹنگ سسٹم کا لوگ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

موبائل فون بنانے والے کئی کمپنیوں کی طرح ‘ہواوے’ بھی اپنے اسمارٹ فون کو چلانے کے لیے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال کرتی ہے۔

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے چینی کمپنی پر پابندی کے باعث گوگل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہواوے کا اینڈرائیڈ کا لائسنس منسوخ کر رہا ہے۔

اس کے بعد سے ہواوے کو 90 روز کا وقت دیا گیا جس کے بعد انہیں گوگل کی سروسز اور ماہانہ اینڈرائیڈ سیکیورٹی اپ ڈیٹس موصول نہیں ہوں گی۔

تاہم ہواوے ایسی صورتحال کے لیے پہلے ہی سے تیاری کر رہا تھا اور اپنا آپریٹنگ سسٹم ‘ہونگ مینگ’ تیار کر رہا تھا۔

ہواوے کی ڈیوائسز کے لیے اینڈرائیڈ کے متبادل کی اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب گوگل نے اپنی سروس سے معذرت کی۔

ٹیکنالوجی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ سی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ہواوے اپنے آپریٹنگ سسٹم پر 2012 سے کام کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے ہواوے انٹرپرائز بزنس گروپ کی سربراہ الا الشیمی کا کہنا تھا کہ ‘ہواوے جانتا تھا کہ اسے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے آپریٹنگ سسٹم جنوری 2018 میں تیار کرلیا گیا تھا اور یہ ہمارا پلان بی تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپریٹنگ سسٹم کو مارکیٹ میں متعارف کروائیں کیونکہ ہمارے گوگل اور دیگر سے گہرے تعلقات تھے اور ہم ان تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم اب کمپنی آئندہ ماہ اس کو متعارف کروا سکتی ہے’۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ اینڈرائیڈ کی تمام ایپلی کیشنز ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم پر بھی چلیں گی جس کا مطلب ہے کہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے اوپن سورس ورژن پر قائم ہے۔

اینڈرائیڈ پر ہواوے کا اپنا ایپ اسٹور ‘ہواوے ایپ گیلری’ کے نام سے موجود ہے جو نئے ایپ کا مرکز بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چین میں گوگل کے پلے اسٹور سمیت کئی معروف ایپلی کیشنز پر پہلے ہی پابندی عائد ہے جس کا مطلب ہے کہ ہواوے کو چین میں اپنی مصنوعات کے فروخت میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات کے فروخت کے لیے ہواوے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔

انٹربینک میں روپے کی قدر میں اضافہ ڈالر 78 پیسے سستا

ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے جہاں اب روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ ڈالر 78 پیسے سستا ہوگیا۔

انٹرماکیٹ میں کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر کی قیمت کم ہوکر 150 روپے 22 پیسے ہوگئی۔

دوسری جانب کاروباری روز کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 150 روپے پر مستحکم رہی۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں استحکام نظر آیا۔

تاہم ماہرین کی جانب سے توقع کی جارہی ہے کہ اگر انٹر بینک مارکیٹ اگلے دو روز مزید کم ہوتی ہے تو اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں واضح فرق نظر آئے گا۔

آج انٹر بینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں 149 روپے 70 پیسے تک نیچے جاتی ہوئی بھی دیکھی گئی۔

تاہم کاروباری روز کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 150 روپے 22 پیسے پر بند ہوئی۔

خیال رہے ڈالر کی قدر میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور انٹربینک مارکیٹ میں تاریخ کی بلند ترین سطح 154 روپے تک ہوگیا تھا۔

ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے ملکی قرضوں پر براہ راست بوجھ پڑ رہا ہے۔

دو روز قبل ڈالر کی قدر میں کمی کے معمولی رجحان پر ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ نے ڈان نیوز کو بتایا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ڈالر کی قدر میں مزید 3 سے 4 روپے کمی ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں ڈالر کی رسد میں اضافے کے ساتھ ساتھ خریداروں کی بھی ڈالر سے دلچسپی میں کمی سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ڈالر کا بہاؤ بہت زیادہ ہے جبکہ مانگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، میرا ماننا ہے کہ کرنسی ڈیلرز عید تک 50 لاکھ ڈالر تک سرپلس فی دن بینک میں جمع کروائیں گے’۔

ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ خریداروں کی دلچسپی اس وجہ سے بھی کم ہوئی کیونکہ روپے کی قدر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی، پاکستان میں اضافے کا امکان

بیجنگ: چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ کی وجہ سے چین نے اپنے پاس موجود نایاب اور کمیاب دھاتوں کا کارڈ استعمال کیا ہے جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

توقع ہے کہ اگر دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان سرد مہری جاری رہی تو خام تیل کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بدھ کے روز خام تیل کی قیمت 68.35 بیرل فی ڈالر تھی جس میں 1.76 ڈالر کی کمی دیکھی ہوئی ہے۔ دوسری جانب یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 1.53 ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ کے بعد چین نے ایک روز قبل نایاب اور قیمتی دھاتوں اور معدنیات کا کارڈ استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا جن کی بڑی مقدار اس کے پاس ہے اور اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔ دوسری جانب پاکستان میں یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

عید پر حکومت کی جانب سے عوام کو مہنگائی کا ایک اور تحفہ ملنے والا ہے اور یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ یکم جون سے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے 9 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 50 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 85 پیسے اور مٹی کا تیل بھی 12 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی سمری 30 مئی کو وزارت خزانہ کو ارسال کی جائے گی جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق وزیر اعظم کی مشاورت سے ہوگا۔

سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہے، امریکا

ابو ظہبی: امریکا کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات میں تقریباً کوئی شک نہیں رہا کہ امریکا کو تیل فراہمی پر مامور سعودی بحری جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے مشیر قومی سلامتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد ساتھی جان بولٹن نے ابوظہبی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج عمان میں سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں کو ایران کی بحری آبدوزوں نے نشانہ بنایا۔

مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے مزید کہا کہ تیل بردار سعودی بحری جہازوں پر حملہ آور ملک کے حوالے سے امریکا میں کسی کے زہن میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ یہ حملہ نیپال نے کیا ہو؟ اور اس کا جواب ہوگا ہرگز نہیں۔

خلیج عمان میں سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر نامعلوم سمت سے حملے کی تحقیقات کے لیے 5 ممالک کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں امریکا بھی شامل ہے اور اسی سلسلے میں جان بولٹن متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ امیر ابوظہبی سمیت اہم حکام سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری توانائی معاہدے کی بعض شقوں سے دستبردار ہونے اور خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی دینے کے بعد 12 مئی کو خلیج عمان میں 4 تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا جن میں سے دو سعودی جہاز تھے تاہم ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

قومی لٹیروں کاگٹھ جوڑ۔۔۔!

اِس سے اِنکارنہیں ہے کہ آج حکومت کےلئے اپوزیشن جماعتیں بال توڑ سے پیدا ہونے والا پھوڑابنی ہوئیں ہیں ۔ جن کا وجودوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کےلئے باعث تکلیف بنتا جا رہا ہے، وہ حضرات بال توڑ پھوڑے کی تکلیف سے اچھی طرح واقف ہوں گے جو اِس کی وجہ سے پہنچنے والی تکلیف سے گزر چکے ہیں ۔ آخر حکومت اپوزیشن کی تکلیف کو کب تک برداشت کرے گی اِسے حزب اختلاف سے پیدا ہونے والی تکلیف اورپریشانیوں سے نجات کےلئے قانونی راستہ تو اپنانا ہی پڑے گا جس کےلئے حکومت نے اپنی مکمل تیاری کرلی ہے بہت جلد حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آنے والی ہے ۔ بہرکیف، اچھی بھلی سات ، نو ماہ کی حکومت کےلئے اپوزیشن نے اپنے وجود کا احساس انتہائی تکلیف دہ سیاسی رویے کو اپنا کر باور کرانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ، جس پر مجھ جیسا ایک عام اور سادہ پاکستانی شہری یہ سوال کئے بغیر نہیں رہ سکا ہے کہ’’ کیوں اپوزیشن کی جماعتیں ( ن لیگ، پی پی پی اور دونوں جماعتوں کی لاڈلی لے پلک جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) حکومت کےلئے بال توڑ کا پھوڑابنی ہوئیں ہیں ;238; ‘‘جو حکومت کے قیام کے اول روز سے ہی اِس کی راہ میں کانٹے بچھانے ، بات بات پہ ٹانگیں اڑانے ، روڑے اٹکانے، بے جاتنقیدوں کے نشتر چلانے، لات مار کر حکومت گرانے اور حکومت کو بہت برداشت کرلیا جیسے دھمکی آمیز انارگی پھیلانے والے بیانات اور خطابات سے یہ سمجھتی ہیں کہ اِس طرح یہ جمہوریت کی اُوٹ سے مثبت سیاست کررہی ہیں ۔ تو اے !میری اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں موقع پرستوں ، مُلک اور قوم کو لوٹ کھانےوالوں مفاد پرستوں ، بہروپیوں ،ایسا نہیں ہے ۔ جو تم سمجھ رہے ہو، بات اصل میں یہ ہے کہ عوام تمہارے گھناوَنے اور مکروہ چہروں پر چڑھے نقاب کو سمجھ چکے ہیں ۔ تمہاری سیاست جمہوریت کا نام لے لے کر صرف اور صرف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتی ہے ۔ تمہیں نہ کبھی مُلک اور قوم کی بقاء اور سلامتی سے کوئی مطلب رہاہے اور نہ ہی آج تم قوم کی بہتری کے خیر خواہ ہو، تم تو بس اپنے ذاتی ، سیاسی اور کاروباری مفادات کےلئے حکمرانی کی مسند پر سوار ہوتے ہواور اِسی طرح پھر آج اپنے آپ کو کسی کڑے احتساب سے بچانے کےلئے نکل پڑے ہو ،ورنہ تمہاری نظر میں تو مُلک اپنے پرائے سے سود پر قرضے لے کر تمہارے لئے دولت پیدا کرنے کی بھٹی اور اِس کے 22کروڑعوام کی حیثیت کیڑے مکوڑے جیسی ہے ۔ پچھلے دِنوں جب سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹویٹرپر وزیر اعظم عمران خان نے امیر اور غریب کےلئے الگ الگ قانون سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے حضورﷺ کا فرمان لکھ کر یہ کیا شیئرکیا ’’ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ نا انصافیوں کی وجہ سے کئی قو میں تباہ ہوئیں ، ‘‘ گویا کہ اپوزیشن والے آگ بگولہ ہوگئے ۔ جبکہ اپنے ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے صرف یہی تو لکھا تھاکہ’’ آپ ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے کہ تباہی کی وجہ طاقتور اور کمزور کےلئے الگ الگ قانون تھا‘‘ جس کے بعد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی قومی کرپٹ سیاسی جماعتیں اپنے دردناک انجام سے خوفزدہ ہو کر اَب کھلم کھلا طور پر اپنے بچاوَ کے خاطر جمہوریت بچاوَ کا لبادہ اُوڑھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہی ہیں ،سارے قومی چور گردنیں تان کر ، سینہ پھولا کر ، آستینیں چڑھا کر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر حکومت پر دباوَ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ حکومت اِن کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور مُلکی اور قومی معیشت کا ستیاناس کرنے والے سیاہ کرتوتوں کا احتساب اداروں سے احتساب کرانے سے باز آ جائے ۔ آج بیشک اِسی بنیادپر تب ہی قومی لٹیروں کی بغل بچہ پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی پریس کانفرنس میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر یہ کہہ چکے ہیں کہ’’ ہم نے حکومت گرانے کا فیصلہ کرلیا اِنہوں نے جو کرناہے کرلیں ، جعلی مینڈیٹ اور جعلی وزیراعظم ملک و عوام کےلئے عذاب بن چکے ہیں ، نیب انتقامی ارادہ ہے ‘‘ بس ایسے حکومت مخالف اپوزیشن کے تعلق رکھنے والے چیلے چانٹوں کےلئے یہی کافی ہے کہ اِن جیسے بہت سے لوگوں کےلئے احتساب کا شکنجہ تنگ سے تنگ ہوتا جارہاہے عنقریب شکار صیاد کے جال میں ہو کر اپنے سیاہ کرتوتوں کے ساتھ اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچنے والے ہیں بس اِن سمیت قوم کی انتظار کی گھڑیاں جلد ختم ہونے والی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ واقعی مخلص ہیں تو پھر یہ حکومت مخالف تحاریک چلانے کا ارادہ کرنے کے بجائے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلئے نیب میں پیش ہوجائیں تاکہ دودہ کا دودہ پانی کا پانی ہوجائے ، آج اگر بانی مسلم لیگ (ن) نوازشریف اور اِن کے بھائی شہبازشریف ، حمزہ شہباز اور دیگر سمیت پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری ، فریال تالپور، بلاول زرداری اور اِسی طرح دوسری اپوزیشن جماعتیں اپنے احتساب سے بھاگ کر مُلک میں لاقانونیت اور انارکی کو پھیلاناچاہتی ہیں تو اِس سے عوام پر یہ واضح تاثر جائے گا کہ دال میں ضرور کچھ کالاہے کیا ;238; بلکہ پوری ہانڈی ہی کالی ہے ۔ سو ، اَب لازمی ہے کہ جن اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور اِن کے چیلے چانٹوں کے گرد نیب اور احتساب کے قومی اداروں نے شکنجہ سخت کرکے تنگ کر رکھا ہے ۔ اَب وہ بغیر کسی بیماری کی حیلہ بازی،حیلہ سازی، حیلہ گری ،حیلہ جوئی عدالتوں میں خاموشی سے پیش ہوجائیں ۔ اِن کی آئندہ کی سیاست کےلئے جو عوام کی نظر میں اچھا عمل ہوگا ۔ ورنہ سیاست دانوں کی موجودہ ہٹ دھرمی سے اچھی طرح سے واقف پاکستانی عوام یہی سمجھیں کہ یہ مُلک میں اپنے بچاوَ کےلئے اشتعال انگیزی اور انارکی کو ہوانے دینے والے سیاستدان ہی اصل میں قومی لٹیرے اور قومی چور ہیں ۔

رمضان کے دوران مشرق وسطیٰ میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ گیا، رپورٹ

رمضان المبارک کے مہینے میں دن بھر روزے رکھنے اور عبادت کرنے کا مقصد عبادت گزاروں کو خدا کے قریب لانا اور دنیاوی زندگی سے دور کرنا ہے تاہم ٹیکنالوجی نے اس کا مقصد تبدیل کردیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں رمضان المبارک کے مہینے میں 5 کروڑ 80 لاکھ اضافی گھنٹے فیس بک پر گزارے گئے جبکہ یوٹیوب پر بھی بیوٹی ٹپس، کھانے پکانے کی ترکیبوں، کھیل اور ٹی وی ڈراموں کی ویڈیوز دیکھنے میں بھی سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ اشتہاروں کے لیے سال کا پرائم ٹائم بن گیا ہے۔

فیس بک جس کی ملکیت میں انسٹاگرام بھی ہے اور گوگل جو یوٹیوب کا بھی مالک ہے نے خطے میں کاروبار میں کئی گنا اضافہ دیکھا۔

فیس بک کے منیجنگ ڈائریکٹر برائے مشرق وشطیٰ اور شمالی افریقہ رمیز شاہدی کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ویب سائٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ رمضان کے دنوں میں رات کے وقت زیادہ جاگتے ہیں اور افطار اور سحری سے قبل اوقات میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دفتروں کے اوقات بھی کم ہوجاتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘رمضان المبارک میں عام مہینوں کے مقابلے میں 20 لاکھ گھنٹے اضافی لوگ فیس بک دیکھ رہے ہیں’۔

گوگل کے مطابق خطے میں رمضان کا مہینہ انتہائی اہم ہوتا ہے اور یوٹیوب پر ٹی وی ڈراموں کو دیکھنے میں 151 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔

رمضان کے مہینے میں اشتہارات پر اتنا زیادہ خرچ کیا گیا کہ گوگل نے ‘دی لینٹرن ایوارڈ’ متعارف کرایا تاکہ سب سے منفرد اور زیادہ دیکھے جانے والے اشتہار کو اعزاز دیا جاسکے۔

گوگل نے رمضان کے مہینے میں یوٹیوب پر گزارا گیا وقت تو نہیں بتایا تاہم اس کا کہنا تھا کہ مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کھیلوں کی ویڈیوز میں 22 فیصد، سفر کی ویڈیوز میں 30 فیصد اور ویڈیو گیمز کے دیکھے جانے میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

گوگل کے مطابق عوام نے یوٹیوب پر مذہبی ویڈیوز بھی عام مہینوں سے 27 فیصد زیادہ دیکھیں۔

گوگل کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ہیڈ آف کمیونکیشن جوئس باز نے کہا کہ ‘ہمارے لیے، یوٹیوب لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ گوگل کی مصنوعات جیسے اس کا سرچ انجن لوگوں کی زندگیاں آسان کرنے کے لیے ہے جیسے گوگل کی قبلہ تلاش کرنے والی ایپلی کیشن مسلمانوں کو مکہ کی سمت بتاتی ہے تاکہ وہ جہاں بھی ہیں، اس سمت میں اپنی عبادت کرسکیں۔

گوگل کا کہنا تھا کہ رواں سال رمضان کے پہلے ہفتے میں مصر، عراق اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ، گیم آف تھرونز، نماز کے اوقات، رمضان کے ٹی وی شوز، فلم کے اوقات اور انگلش پریمیئر لیگ کے نتائج سرچ کیے گئے۔

اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں رمضان کے مہینے میں گوگل کے پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ ہونے والی سب سے مشہور ایپلی کیشنز میں اسٹیک بال گیم، اسٹیمنگ ایپ وو اور شاہد اور آن لائن ریٹیلر نون اور جولی شامل ہیں۔

رمضان کے دوران لوگوں کی توجہ گوگل پر افطار کی جانب بھی رہی جہاں انہوں نے گھریلو پکوان سمیت فائیو اسٹار ہوٹل کے بوفے بھی سرچ کیے، یوٹیوب پر بیوٹی مصنوعات کی تلاش میں 16 فیصد اضافہ بیٹی ٹپس میں 18 فیصد اضافہ سامنے آئے اور گوگل میپ پر مال کی جانب جانے کا 20 فیصد زیادہ رجحان پایا گیا۔

فیس بک اور انسٹاگرام نے مشرق وسطیٰ میں 18 کروڑ صارفین کے لیے خصوصی رمضان آئیکنز بھی جاری کیے۔

انسٹاگرام پر رمضان المبارک کے دوران فلاحی کاموں کے فروغ کے لیے مہم بھی جاری ہے۔

میشا شفیع کو جنسی ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، گواہان کا عدالت میں بیان

گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات لگانے کے کیس میں عدالت میں پیش ہونے والے گواہوں نے گلوکارہ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سامنے میشا شفیع کو ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

میشا شفیع کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکار و اداکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت سیشن کورٹ لاہور میں ہوئی۔

سیشن جج امجد علی شاہ کی جانب سے کی جانے والی سماعت کے دوران علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے 5 گواہان پر جرح مکمل کرلی گئی۔

جن گواہوں پر جرح مکمل کی گئی انہوں نے گزشتہ سماعت کے دوران 21 مئی کو عدالت میں بیان حلفی جمع کرائے تھے جن میں انہوں نے میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

بیان حلفی جمع کرانے والے 8 میں سے 5 گواہان پر جرح مکمل کرلی گئی جب کہ مزید تین گواہان کو 30 مئی کو جرح کےلیے طلب کرلیا گیا۔

جرح کے دوران پانچوں گواہوں نے میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کے سامنے گلوکارہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

جرح کے دوران خاتون گواہ کنیزہ منیر نے عدالت کو بتایا کہ جس دن جنسی ہراساں کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے اس دن ریہرسل کے دوران گلوکار علی ظفر کی اہلیہ بھی وہاں موجود تھی۔

کنیزہ منیر کے مطابق جس دن جنسی ہراساں کیے جانے کا ذکر کیا جا رہا ہے اس دن وہ علی ظفر اور میشا شفیع سے محض 5 فٹ کی دوری پر موجود تھیں اور ان کے سامنے کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شروع ہونے والی سوشل میڈیا کی مہم ’می ٹو‘ پر یقین رکھتی ہیں۔

کنیزہ منیر کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی رپورٹس کم کرواتی ہیں۔

عدالت نے 5 گواہان پر جرح مکمل ہونے کے بعد مزید تین گواہوں کو 30 مئی کو طلب کرتے ہوئے دونوں فریقین کے وکلاء کو بھی طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 21 مئی کو ہونے والی سماعت کے دوران گواہان کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں بھی کہا گیا تھا کہ جیمنگ سیشن کے دوران جنسی ہراساں کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

بیان حلفی جمع کروانے والوں میں گٹارسٹ اسد احمد، موسیقار کاشف چمن، کی بورڈ پلیئرجوشوا کیتھ، بیس پلئیر محمد علی، ڈرمر قیصر زین، گلوکارہ اقصیٰ علی اور موسیقار محمد تقی شامل تھے۔

س جیمنگ سیشن کے حوالے سے میشا شفیع نے علی ظفر ہر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا یہ تمام افراد بھی اس وقت وہاں موجود تھے، جیمنگ سیشن 22 فروری 2017 کو ہوا تھا۔

میشا شفیع- علی ظفر کیس

دونوں فنکاروں کے درمیان تنازع اپریل 2018 میں اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ایک ٹوئٹ میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکار بھی بن چکی تھیں۔

تاہم علی ظفر نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

بعد ازاں میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کی محتسب اعلیٰ میں درخواست بھی دائر کی تھی اور اس کے جواب میں علی ظفر نے بھی گلوکارہ کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اور دونوں کا یہی کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو تین ماہ کے اندر گواہوں پر جرح کے بعد فیصلہ سنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

چند دن قبل سماعت میں پیش ہونے کے بعد علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ میشا شفیع نے انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا۔

علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر منظم منصوبہ بندی کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکارہ نے علی ظفر کو 200 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا اور ان سے 15 دن کے اندر معافی مانگنےکا مطالبہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں میشا شفیع نے گواہوں سے جرح کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ الگ درخواست دائر کی تھی جس میں گواہوں سے جرح کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے 9 مئی کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے میشا شفیع کے وکلاء کو گواہوں سے جرح کرنے کے لیے 7 دن کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کوشش کرکے گواہوں سے جرح ایک دن میں مکمل کی جائے اور اس کیس میں مزید متفرق درخواستیں دائر نہ کی جائیں۔

علاوہ ازیں میشا شفیع نے سیشن کورٹ میں سماعتیں کرنے والے پہلے جج پر جانبدار ہونے کا الزام لگایا تھااور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جج تبدیل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

پہلے اس کیس کی سماعت سیشن جج شکیل احمد کرتے تھے جسے گلوکارہ کی درخوست پر تبدیل کیا گیا۔

ماضی میں میشا اور علی ظفر بہترین دوست تھے—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ماضی میں میشا اور علی ظفر بہترین دوست تھے—فائل فوٹو: انسٹاگرام

انگوروں اور مونگ پھلی کا جادوئی شفائی مرکب:ریزویریٹرول

 لندن: طبی ماہرین کی برادری نے کئی شواہد کے بعد ریزویریٹرول نامی مرکب کو حیرت اور رشک سے دیکھنا شروع کردیا ہے۔ مونگ پھلی، سبزوسرخ انگوروں اور بلیوبیری میں پایا جانے والا یہ مرکب دل کو توانا، بلڈ پریشرکو قابو اور کینسر کو دور رکھتا ہے۔

ایک تحقیق میں چوہوں پر اس کے مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں جس میں ریزویریٹرول کو بلڈ پریشر کے مرض میں مفید پایا گیا ہے جبکہ ریزویریٹرول کا استعمال دماغی اعصاب (نیورون) کو عمررسیدگی سے بچاتا ہے۔ یہ کیمیکل فالج اور دل کے دیگر امراض کو بھی روکتا ہے۔ لیکن اس کی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آسکی ہے تاہم بعض ماہرین اس کے اینٹی آکسیڈنٹس خواص کو اس کی وجہ بتاتے ہیں۔

کنگزکالج لندن کے ماہرین نے پہلے چوہوں کو بلڈ پریشر کا مریض بنایا اور ریزویریٹرول سے ان کا علاج کیا۔ 15 روز تک چوہوں کو بلڈ پریشر کی حالت میں ریزویریٹرول دی گئی تو بلڈ پریشر میں 20 ملی میٹر کمی واقع ہوئی۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ اس مرکب نے چوہوں کی خون کی رگوں پر بھی بہت اچھے اثرات مرتب کئے اور اس میں پی کی جی ون اے نامی پروٹین کی آکسیڈائزیشن کا عمل ہوا۔

اچھی بات یہ ہے کہ جب ماہرین نے تجربہ گاہ میں اسے  انسانی خون کی نالیوں کے خلیات پر آزمایا تو عین یہی اثرات مرتب ہوئے۔ لیکن ریزویریٹرول کی مطلوبہ حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ انگوروں اور دیگر پودوں میں اس کی خفیف مقدار پائی جاتی ہے۔

اگلے مرحلے میں ماہرین ریزویریٹرول کے سپلیمنٹ تیار کرنے پر غور کریں گے تاکہ اس کی مطلوبہ مقدار کو بطور خوراک تیار کیا جاسکے۔

Google Analytics Alternative