Home » 2019 » May (page 40)

Monthly Archives: May 2019

بلوچستان کا حقائق نامہ

بلوچستان جغرافیائی اور معدنی حوالے سے پاکستان کا انتہائی اہم صوبہ ہے ۔ اس صوبہ کی آبادی کم اور رقبہ زیادہ ہے ۔ معدنی ذخائر،تیل گیس سے مالا مال یہ صوبہ عرصہ دراز سے دہشت گردی اور بے چینی کا شکار ہے ۔ کئی حکومتیں آئیں اور وعدے کر کے چلی گئیں لیکن حقیقت میں بلوچستان کے مسائل اور معاملات کو کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو صرف سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیئے استعمال کیا گیا ۔ ان جماعتوں نے بھی عوامی مسائل کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان میں مایوسی پھیلتی گئی ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ;231;کا بھر پور ساتھ بلوچستان کے عوام نے دیا ۔ یہاں کے اس وقت کے سیاسی رہنماءوں کی قیام پاکستان کے لیئے جدوجہد،قربانیوں اور قائد اعظم کے ساتھ کھڑے ہونے سے کون واقف نہیں ہے ۔ اگر ناواقف ہے تو بلوچستان کے مسائل سے پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قیادت ناواقف ہے ۔ سونے،تیل ،گیس اور معدنی ذخائر سے بھرپور اس صوبہ کے عوام انتہائی غربت اور بے روزگاری کے شکار ہیں ۔ یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ سرکاری ملازمتوں کے معاملے میں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔ عوامی مایوسی کو نفرتوں میں بدل دیا جاتا ہے ۔ دشمن عناصر بیرونی آقاءوں کے ساتھ مل کر انجام دیتے ہیں ۔ بلوچستان میں مختلف ادوار میں بڑے بڑے آپریشن کیئے گئے ۔ متعدد باغی گروہ ان آپریشنز کے دوران پہاڑوں پر چلے گئے جن کو دوسرے اور تیسرے درجے کے نام نہاد کمانڈرز لیڈ کرتے رہے ۔ جبکہ ان کے بڑے لیڈر پڑوسی ممالک میں بیٹھ کر ان کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کرتے رہے ۔ پاکستان دشمن ممالک نے ان باغیوں کو استعمال کیا اور اس طرح ایک طویل عرصے تک یہ صوبہ تخریب کاری اور افراتفری کا شکار رہا ۔ اس کے بعد جب افغانستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے ۔ طالبان اور القاعدہ وغیرہ نے بلوچستان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان کے حالات نے نیا رخ اختیار کیا ۔ یہاں دہشت گردی کا آغاز ہوا ۔ بیرونی دشمنوں نے ان باغی رہنماءوں کو استعمال کرنا شروع کیا اور بلوچستان میں ایک طرح سے گوریلا جنگ شروع کرائی ۔ پاک فوج کی کانوائز پر حملے شروع ہوئے ۔ سول مقامات پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے ہونے لگے ۔ پاک فوج ۔ ایف سی اور لیویز اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سویلین افراد شہید ہوئے ۔ جب حالات زیادہ ابتر ہونا شروع ہوئے تو پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائیاں شروع کیں ۔ اس کے بعد ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کی جگہ خود کش حملوں نے لے لی ۔ اور پاک فوج کو خاص نشانہ بناناشروع کیا ۔ پاک فوج نے بھی اپنی حکمت عملی کی اور نہ صرف بیرونی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائیاں شروع کیں بلکہ ملک اور خاص طور پر بلوچستان کے اندر ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا قلع قمع بھی شروع کیا ۔ پاک فوج کی ان بھر پور کاروائیوں کے نتیجے میں پورے ملک کی طرح بلوچستان میں بھی امن کی فضاء قائم ہوئی ۔ خود کش حملے،بم دھماکے اور اغواء کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں ۔ پاک فوج کی کارروائیاں جاری رہیں حتیٰ کہ بلوچستان میں امن و امان قائم ہوگیا ۔ کئی باغی جن کو فراری کہا جاتا ہے انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور پاک فوج کے سامنے سرنڈر کیا ۔ ان کامیابیوں میں انٹیلی جنس اداروں نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے بعد چین گوادر میں بین الاقوامی بندرگاہ اور سی پیک منصوبہ کے لیئے آمادہ ہوا ۔ بلوچستان میں تعمیر ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا اور بلوچستان کے مایوس لوگوں کو امید کی کرن نظر آئی ۔ جوں جوں ان اہم منصوبوں پر پیش رفت ہوتی رہی عوام کا اعتماد بڑھتا گیا ۔ بلاشبہ ان منصوبوں پر کام کے آغاز اور بلوچستان کے عوام کے اعتماد کی بحالی کا سہرا پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سر ہے ۔ اس تمام بیان کردہ صورت حال کے آغاز سے امن کی بحالی تک جو عجیب بات دیکھی گئی وہ بلوچستان کے سیاستدانوں کا کردار ہے ۔ گنتی کے چند سیاسی قائدین کے علاوہ باقی کسی نے بلوچستان میں قیام امن کے لیئے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا ۔ بلکہ اس تمام عرصے میں مختلف سیاسی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ انھوں نے نہ تو قیام امن کے لیئے کوئی خاص کردار ادا کیا نہ ہی بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کے لیئے کوئی اقدامات کیئے ۔ ان سیاسی حکومتوں کے اکابرین نے غریب عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے وفاق کی طرف سے دیئے گئے اربوں روپے کے فنڈز پر ڈاکے ڈالے ۔ اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جاری بھاری رقوم ہڑپ کر گئے ۔ ان کی دیکھا دیکھی بعض سرکاری افسران نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کیئے رکھا ۔ بعض سرکاری افسران کے تو گھروں سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی بھی سیاسی حکومت کرپشن میں ملوث نہیں رہی ہے تو ان حکومتوں کو دور میں سرکاری افسران کو اربوں روپے کی کرپشن کی ہمت کیسے ہوئی ۔ ایسی کوئی مثال شاید ہی موجود ہو کہ کسی بھی سیاسی حکومت کے دور میں کرپٹ افسران میں سے کسی کے بھی خلاف کوئی قانونی کاروائی ہوئی ہو ۔ ذرا غور کریں کہ ایک طرف پاک فوج صوبے میں امن کے لیئے کوشاں جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے ۔ پولیس اور لیویز اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور دوسری طرف قومی رہنمائی کے دعویدار صوبے کو لوٹنے میں مصروف ہوں ۔ ان میں مخلص اور ایماندار سیاسی رہنماء بھی موجود ہیں لیکن نقار خانے میں طوطے کی آواز کون سنتا ہے ۔ اب ایک بار پھر بلوچستان میں بعض بیرونی دشمنوں کی ایماء پر دہشت گردی کی خونی وارداتیں ہوئی ہیں جو نہایت قابل مذمت اور قابل افسوس ہیں ۔ وفاقی حکومت نے ان واقعات کی کھلم کھلا مذمت بھی نہیں کی ہے صوبائی حکومت سے تو خیر کیا امید ۔ وفاقی وزیر داخلہ کہیں نظر نہیں آرہے شاید وہ ابھی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور وزارت ملنے کی خوشیاں منا نے میں مصروف ہیں ۔ اب پھر پاک فوج ہی ہے جس سے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں اور وہی ان دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے پھر سرگرم عمل ہے ۔ قدرتی آفات،بیماریوں کے پھیلنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والی فوج ہی ہے لیکن کریڈٹ لینے کے لیئے دوسرے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بعض لوگ یہاں داعش کی موجودگی سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس بارے میں تو انٹیلی جنس ادارے بہتر جانتے ہیں ۔ آئی ایس پی آر کو اس سلسلے میں بتانا چاہیئے ۔ لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ بے بنیاد اور بلاشواہد کے بیرونی دشمنوں کے پروپیگنڈوں پر کان نہیں دھرنے چا ہئیں ۔ یہ سی پیک اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی مذموم کوششیں ہیں ۔ پاک فوج دہشت گردوں اور دشمنوں کی شرارتوں کے خاتمے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان میں امن کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔

امریکی یونیورسٹی کے اسپورٹس ڈاکٹر کی 177 طلبا کے ساتھ جنسی زیادتی

اوہائیو: امریکی یونیورسٹی کے اسپورٹس ڈاکٹر نے دوران ملازمت دو دہائیوں میں 500 سے زائد طلبا کو جنسی طور پر ہراساں کیا اور 177 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست اوہائیو میں واقع نامور کھلاڑیوں کی علمی درس گاہ میں طلبا کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات کی تحقیقات ایک نجی لاء فورم نے کی، یہ تحقیقات سابق طلبا کی شکایتوں کے بعد شروع کی گئی۔

تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسپورٹس ڈاکٹر رچرڈ اسٹراس جو طلبا کی صحت کے معائنے پر بھی مامور تھے نے دوران ملازمت 1978 سے 1998 کے دوران 177 طلبا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1979 میں ڈاکٹر کی جانب سے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے آگیا تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی، پہلی بار شکایتوں پر 1996 میں اسٹراس کو ملازمت سے سبکدوش کیا گیا تاہم فیکلٹی ممبر کی حیثیت میں وہ  اپنی ریٹائرمنٹ 1998 تک یونیورسٹی سے منسلک رہے۔

Richard Starauss

رچرڈ اسٹراس نے اپنے خلاف تحقیقات شروع ہونے کی خبروں کے بعد 2005 میں خودکشی کرلی تھی تاہم ان کے اہل خانہ نے متاثرین سے معذرت کرتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کو ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی تھی۔  520 سابق طلبا نے اپنی شکایتیں پیش کیں جن میں 177 نے براہ راست جنسی زیادتی کا شکار بننے کی تصدیق کی۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں فزیشن کی زیادتی کا نشانہ بننے والے اکثر طلبا ایتھلیٹ تھے اور ان میں زیادہ تر نے ریسلنگ میں نام بھی کمایا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تمام سابق طلبا اور ان کے والدین سے معافی مانگتے ہوئے دل خراش واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

 

رانگ نمبر 2 کا ایک اور گانا ریلیز

 2015 کی کامیاب رومانٹک کامیڈی فلم ’رانگ نمبر‘ کے سیکوئل ‘رانگ نمبر 2 ‘ کا نیا گانا جاری کردیا گیا ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ صرف کامیڈی نہیں بلکہ کسی حد تک جذباتی فلم بھی ہوگی۔

اس فلم کے پہلے گانے یاریاں کی طرح یہ گانا تو ہی ہر رنگ میں کا انداز ویسا نہیں جس کی اس فلم سے توقع کی جاسکتی ہے، کیونکہ 2015 کی فلم کامیڈی تھی۔

اس فلم میں ڈائریکٹر یاسر نواز خود بھی کام کررہے ہیں اور ان کا کردار اپنی بیٹی کے لیے فکرمند نظر آتا ہے۔

مگر اس گانے کی ویڈیو سے جو عندیہ ملتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ نیلم منیر کے والد کے کردار میں نظر آئیں۔

یہ گانا علی طارق نے گایا ہے اور عاطف اسلم کے انداز سے کچھ زیادہ متاثر نظر آتا ہے جبکہ کرداروں کے چہروں پر المیہ تاثرات نظر آتے ہیں۔

اس فلم کا پہلا ٹریلر گزشتہ ماہ کے آخر میں سامنے آیا تھا جس سے فلم کی کہانی کو سمجھنا تو مشکل ہے مگر وہ کامیڈی سے بھرپور تھا۔

فلم کی زیادہ تر شوٹنگ سندھ کے تاریخی مقامات پر کی گئی ہے، جس سے فلم کے رومانوی مناظر مزید متاثر کن دکھائی دیتے ہیں۔

فلم کی شوٹنگ کوٹ ڈیجی یا رنی کوٹ قلعے میں کرنے سمیت روہڑی کی تاریخی لئنسڈاو¿ن پل اور ’ستین جو مقام‘ پر بھی شوٹنگ کی گئی ہے۔

یاسر نواز کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کو جیو فلمز کے بینر تلے رواں برس عیدالفطر پر ریلیز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ’رانگ نمبر‘ کی پہلی فلم 2015 میں ریلیز کی گئی تھی، ہلی فلم کی کہانی دانش تیمور کے گرد گھومتی ہے، جو قصائی یعنی جاوید شیخ کے بیٹے ہوتے ہیں اور وہ اپنے آباؤ اجداد کے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

دانش تیمور کو اداکار بننے کا شوق ہوتا ہے، جب کہ ان کے والد جاوید شیخ چاہتے ہیں کہ اگر وہ کسائی نہیں بننا چاہتے تو کوئی اچھی نوکری کرلیں۔

دانش تیمور فلم میں ڈبل کرداروں میں نظر آئے تھے، جس وجہ سے فلم میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اسی کے گرد ہی فلم کی کہانی گھومتی ہے۔

پہلی فلم میں مرکزی کردار سوہائے علی ابڑو نے کیا تھا، تاہم اب ان کی جگہ نیلم منیر جلوے بکھیرتی نظر آئیں گی جبکہ دانش تیمور کی جگہ سمیع خان لیں گے۔

بلاول اور مریم کے ملنے پر حیرت نہیں، یہ کرپٹ ٹولہ اکھٹا ہو رہا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے ملنے پر حیرت نہیں، یہ کرپٹ ٹولہ اکھٹا ہو رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے افطار ڈنر پر وزیر اعظم عمران خان نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز افطاری پر ملنے جا رہے ہیں، ان دونوں نے ایک دوسرے کو کرپٹ کرپٹ کہا اور اب یہ کرپٹ ٹولہ اکھٹا ہو رہا ہے، سارے چور اکٹھے ہونا چاہتے ہیں تاہم عوام کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔

جوانی میں بالوں کی سفیدی کی وجہ یہ تو نہیں؟

بالوں کا سفید ہونا یا بالوں کا قدرتی رنگ ختم ہوکر سفید ہوجانا ایک قدرتی عمل ہے جس کا سامنا عمر بڑھنے کے ساتھ ہر ایک کو ہوتا ہے۔

تاہم اگر بالوں کی رنگت جوانی میں سفید ہوجائے تو یہ جسم میں کسی قسم کی غذائی کمی کی علامت ہوسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر وٹامن بی 12 ہمارے جسم کے لیے ایک بہت ضروری وٹامن ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کو بنانے میں مدد دیتا ہے، ڈی این اے بناتا ہے اور اعصابی نظام کو صحت مند رکھتا ہے۔

اور بالوں میں اچانک نمودار ہونے والی سفیدی جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

اگر بالوں کی سفیدی کے ساتھ اکثر شدید سردرد، کھانے کی خواہش ختم ہوجانے یا ہر وقت تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے تو یہ وٹامن بی 12 کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

عمر کے ساتھ بالوں میں سفیدی بالوں کی جڑوں سے میلانن نامی پروٹین کی بتدریج کمی کا نتجہ ہوتا ہے۔

ویسے 30 سال کی عمر کے بعد بالوں کی سفیدی آنے کا امکان ہر دہائی کے بعد 10 سے 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دیگر وجوہات میں ہارمونز، مختلف کیمیکلز کا استعمال، ماحولیاتی آلودگی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

وٹامن بی 12 کی کمی نہ صرف بالوں کو سفید ہی نہیں کرتی بلکہ ان کا گھنا پن بھی کم کرتی ہے۔

اگر بالوں کی رنگت میں عمر کی تیسری دہائی میں تبدیلی آنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بی 12 کی کمی دنیا بھر میں بہت عام ہے مگر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے۔

اس وٹامن کی کمی کی چند علامات تو اوپر درج ہوچکی ہیں جبکہ دیگر علامات میں خون کی کمی، ذہنی مسائل جیسے دماغی دھند، دائمی درد قابل ذکر ہیں جبکہ الزائمر امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

ویسے وٹامن بی 12 کے ساتھ ساتھ وٹامن بی سکس، وٹامن ڈی یا وٹامن ای کی کمی بھی بالوں میں سفیدی کا باعث بن سکتی ہے۔

بالوں کی سفیدی روکنے میں مددگار ٹوٹکا

یقیناً بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے ہیئر کلر کو استعمال کیا جاسکتا ہے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر یہ بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جو روکھے پن اور بے جان کرسکتے ہیں۔

یہاں آپ لیموں کے عرق اور ناریل کے تیل کا ایک گھریلو ٹوٹکا جان سکیں گے جو بالوں پر جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ نہ صرف بالوں کو چمکدار اور نرم کرتا ہے بلکہ قبل از وقت سفیدی کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

جیسا آپ کو معلوم ہوگا کہ ناریل کا تیل طاقتور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جس میں موجود دیگر اجزاءبالوں کی نشوونما اور مضبوطی میں مدد دیتے ہیں جبکہ اینٹی آکسائیڈنٹس پروٹین کی کمی کرکے بالوں کی سفیدی کو ریورس کرتے ہیں۔

اسی طرح لیموں وٹامن بی، سی اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو بالوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کہ طویل عرصے تک بالوں میں سفیدی کی روک تھام کرتا ہے۔

اجزا

تین چائے کے چمچ لیموں کا عرق

50 ملی لیٹر ناریل کا تیل

طریقہ کار

ان دونوں اجزاءکو اچھی طرح مکس کریں اور بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔

اس کے بعد دو سے تین منٹ تک سر کی مالش کریں اور اس مکسچر کو ایک گھنٹے کے لیے لگا رہنے دیں۔

اس کے بعد سر کو معمول کے مطابق شیمپو سے دھولیں۔

ہفتے میں ایک بار اس کو آزمائیں، اس کا نتیجہ آپ کو حیران کردے گا۔

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ عمران خان جیسا شخص ملک کا وزیراعظم بنا، حمزہ شہباز

 لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ عمران خان جیسا شخص ملک کا وزیراعظم بنا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ملک کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، کھانے پینے کی اشیا میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، دواؤں کی قیمتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ گالیوں سے 22 کروڑ لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا، عمران خان کو کارکردگی بہترکرنا ہوگی یا معافی مانگ کر گھر جانا ہوگا، پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ عمران خان جیسا شخص ملک کا وزیراعظم بنا۔ سیاسی جماعتوں کومل کر بیٹھنا چاہیے ورنہ قوم معاف نہیں کرے گی، آج اپوزیشن جماعتیں اکٹھیں ہورہی ہیں جہاں ملکی معاملات پربات چیت ہوگی۔ آج جن چیزوں پر بات چیت ہوگی اس سے نواز شریف اور شہباز شریف کو آگاہ کریں گے۔

10 ناکامیوں کا منفی ریکارڈ دہرائے جانے کا خدشہ

لاہور: ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی مسلسل ناکامیوں کی تاریخ31 سال بعد دہرائے جانے کا خدشہ سامنے آگیا جب کہ اس سے قبل عمران خان کی قیادت میں1987-88میں گرین شرٹس کو مسلسل 10 ون ڈے میچز میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی مسلسل ناکامیوں کی تاریخ31 سال بعد ایک بار پھر خود کو دہرانے جا رہی ہے، گرین شرٹس نے آخری میچ دورئہ جنوبی افریقہ میں جیتا تھا، اس کے بعد کینگروز اور انگلینڈ کیخلاف شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، اس سے قبل عمران خان کی قیادت میں1987-88میں گرین شرٹس کو مسلسل 10 ون ڈے میچز میں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

گزشتہ میچز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی 9سنچریاں بے کار گئیں، کسی ایک میچ میں بھی فتح ہاتھ نہیں آئی، فروری 2019 کے بعد پاکستان نے کسی بھی فارمیٹ کا کوئی میچ نہیں جیتا، مجموعی طور پر 22 مقابلوں میں سے 18 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، 3 میں فتح حاصل ہوئی، ایک میچ بے نتیجہ رہا۔

ون ڈے کرکٹ میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود پاکستان نے ایک مثبت ریکارڈ بھی اپنے نام کیا،ابھی تک پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے آخری تین میچز میں361، 358 اور 340رنز بنائے ہیں، کسی اور ٹیم نے مسلسل 3بار یہاں 340سے زائد رنز نہیں اسکور کیے۔

 

لیجنڈ اداکار آرنلڈ شوازنیگر پر جنوبی افریقا میں حملہ

جوہانس برگ: ہالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار آرنلڈ شوازنیگر پر نوجوان نے حملہ کردیا تاہم وہ محفوظ رہے۔

دی ٹرمینیٹر سیریز سے شہرت حاصل کرنے والے ہالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار جنوبی افریقا میں اپنے مداحوں کے ساتھ اسنیپ چیٹ ویڈیو ریکارڈ کررہے تھے جکہ ایک نامعلوم نوجوان نے انہیں پیچھے سے فلائنگ کک ماری تاہم اسی وقت سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے اس لڑکے کو پکڑ لیا۔

آرنلڈ شواز نیگر اس حملے میں محفوظ رہے بعد ازاں انہوں نے ٹوئٹر پراس حملے کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کرکے سب کو حیران کردیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس وقت احساس ہوا جب میں نے بھی آپ لوگوں کی طرح ویڈیو دیکھی جس میں مجھے ایک نوجوان لڑکا پیچھے سے کک مارتا ہے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس بیوقوف لڑکے کی وجہ سے میری اسنیپ چیٹ ویڈیو خراب نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ آرنلڈ شوازنیگرسالانہ آرنلڈ کلاسک افریقا ایونٹ کے لیے جنوبی افریقا میں موجود ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

Google Analytics Alternative