Home » 2019 » May (page 5)

Monthly Archives: May 2019

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی؛ ڈالر اپنی قدر کھونے لگا

کراچی: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کے باعث ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بھی مستحکم ہونے لگا۔

بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا تو ہنڈرڈ انڈیکس 34 ہزار 949 پوائنٹس پر موجود تھا تاہم دن کی شروعات سے ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا رجحان دیکھا گیا اور دن کے اختتام پر انڈیکس ایک ہزار 10 پوائنٹس اضافے کے بعد 35 ہزار 959 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ کی طرح ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی استحکام دیکھا گیا، انٹربینک میں ڈالر 59 پیسے گھٹ کر 149 روپے 63 پیسے پر بند ہوا جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر اپنی گزشتہ روز کی سطح پر برقرار رہا۔ کاروباری دن کے دوران 15 کروڑ 14 لاکھ 79 ہزار حصص کا لین دین ہوا۔ جس کا حجم 7 ارب 19 کروڑ 17 لاکھ سے زائد رہا۔

ورلڈکپ کے بعد انضمام اور آرتھر کو ہٹانے کی خبریں بے بنیاد قرار

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیف سلیکٹر انضمام الحق اور کوچ مکی آرتھر کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بورڈ ان تمام خبروں کی تردید کرتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو فارغ کردیا جائے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پی سی بی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پہلے ہی باور کروادیا تھا کہ چیف سلیکٹر، کوچ اور معاون اسٹاف کے مستقبل کا فیصلہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد کیا جائے گا، تاہم اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

پی سی بی نے بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی خبر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی میڈیا نے بھی حقائق جانے بغیر یہ خبر شائع کردی۔

پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کے مداح ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن ایسے میں اس طرح کی خبریں آنا پاکستان ٹیم کی ایونٹ میں مہم کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت ٹیم کے تمام معاون اسٹاف پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

پی سی بی کی جانب سے کہا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے اہم عہدوں میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ مقامی میڈیا میں بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پی سی بی نے کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے اختتام کے بعد چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے معاہدوں کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سابق کپتان عامر سہیل انضمام الحق کی جگہ پاکستان کے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

پی سی بی ذرائع نے بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ عامر سہیل چیف سلیکٹر کے عہدے کے مضبوط امیدوار ہیں، تاہم پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ عامر سہیل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2002 سے 2004 تک بطور چیف سلیکٹر کام کر چکے ہیں۔

آسٹریلوی سینیٹر کو انڈا مارنے والے نوجوان نے 1 لاکھ ڈالر کرائسٹ چرچ متاثرین کو دے دیے

کرائسٹ چرچ: مسلم مخالف شر پسندانہ بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر کو احتجاجاً انڈا مارنے والے نوجوان نے اپنے لیے جمع ہونے والی امدادی رقم ایک لاکھ ڈالر کرائسٹ چرچ حملے میں شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین کو دے دیئے۔

آسٹریلوی نوجوان ول کونولے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پوسٹ میں لکھا کہ 99 ہزار 922 ڈالر کرائسٹ چرچ میں مساجد حملوں میں شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین کی بہبود کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیئے ہیں۔

رواں برس مارچ میں آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ کو مسلم مخالف بیان دینے پر انڈا مارنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر ان کے دوستوں نے قانونی معاونت کے لیے فیس بک پر فنڈ ریزنگ پیج بنایا تھا جس میں ایک لاکھ ڈالر رقم جمع ہوگئی تاہم کیس ختم ہونے پر یہ رقم بچ گئی۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی نوجوان کی قانونی معاونت کے لیے بنائے گئے فنڈ ریزنگ پیج میں پہلے ماہ ہی 44 ہزار ڈالر رقم جمع ہونے پر یہ رقم کرائسٹ چرچ مساجد حملے میں شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین کو دینے کا اعلان کیا تھا تاہم اب 1 لاکھ ڈالر جمع ہونے پر ساری رقم منتقل کردی گئی ہے۔

تیزرفتار انصاف کی ضرورت

پاکستان طویل عرصہ تک دہشت گردی سے شدید ترین طور پر متاثر رہا اگرچہ اس کا مکمل خاتمہ ابھی بھی نہیں ہوا لیکن اس میں نمایاں کمی ضرور آئی ہے اور ایسا تب ہو اجب 2014 میں پشاور اے پی ایس پر حملے کے بعد سیاسی جماعتوں نے مکمل اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کیے ۔ دراصل یہ حادثہ اتنا بڑا اور اندوہناک تھا اورقوم کی کمر پر ایسا وار کیا گیا تھا کہ سخت ترین اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ ِکار نہیں تھا اس لیے جواباََدہشت گردوں پر کاری وار کیے گئے اور حقیقتاََ پہلی بار اِن کی کمر توڑ دی گئی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ دہشت گردی میں ریکارڈ کمی آئی ۔ عوام پاکستان نے سالوں بعدسکون کا سانس لیا اگرچہ اس سکون کی بہت بڑی قیمت ادا کی گئی ۔ سانحہء اے پی ایس کے147 شہداسے پہلے بھی ہزاروں شہری اور فوجی اس پرائی جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے فوج اِن دشمنوں سے مسلسل برسرپیکار تھی قربانی پر قربانی دی جارہی تھی اور ہر بار ہر شہادت پر یہ کہہ کر قوم کو بہلا دیا جاتا تھا کہ ہ میں شہادتوں پر فخر ہے اور یہ کہ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ اس کی زخمی سانسوں کی آخری کاروائی ہے ۔ سالہاسال سے قوم یہی سن رہی تھی اور آخر وہ ہوا جس کی کسی کو اُمید نہیں تھی،قوم کی اُمیدوں اور اس کے مستقبل پر حملہ کردیا گیا اورقوم تو چیخ ہی اُٹھی لیکن ہماری قومی قیادت نے بھی آخر کار دہشت گردی سے نمٹنے کا فیصلہ کر ہی لیا اور جنوری 2015 میں نیشنل ایکشن پلان منظور کر لیا گیاجس میں شامل کیے گیے تمام نکات نے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہی میں سے اہم ترین فوجی عدالتوں کا قیام اور پھانسی کی سزا پر سات سالہ غیر اعلانیہ عائد پابندی کا خاتمہ بھی تھا ۔ اِن عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات کا تیزی سے فیصلہ تھا اور ایسا ہوا بھی اِن عدالتوں نے دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں سنائیں اور چیف آف آرمی سٹاف نے اُن کی توثیق بھی کی لیکن اِن میں بہت کم سزاءوں پر عمل ہوالیکن اِن کم سزاءوں نے بھی عوام کو تحفظ کا احساس ضرور دلایا ۔ ایک جائزے کے مطابق اپنے اختتام سے پہلے تک پیش کیے گئے مقدمات میں سے جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ان میں عمل درآمد بہت کم پر ہوا ۔ تقریباََ نصف تعداد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ایک کم تعداد لیکن بَری بھی کیا گیا یعنی مقدمات کا فیصلہ اِن کی نوعیت کے مطابق میرٹ پر ہوا لیکن پھر بھی اعتراضات اُٹھائے گئے اگرچہ یہاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی تعصب،نفرت،فرقہ پرستی و منافرت اور ایسے ہی دوسرے مقدمات بھی بھیجے گئے تاہم پھر بھی انہیں متنازعہ بنا دیا گیا اور انہیں ایک مدت کی توسیع دینے کے بعدختم کر دیا گیا ۔ ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردی میں کمی صرف فوجی عدالتوں کے قیام کی وجہ سے آئی بلکہ ایسا اِن تمام اقدامات کی وجہ سے ہوا جو نیشنل ایکشن پلان کے تحت اُٹھائے گئے مثلاََ بڑی تعداد میں یعنی تقریباََ پچپن ہزار افغان مہاجرین کی فوری واپسی جن میں کئی دہشت گرد چھپے بیٹھے تھے، موبائل سموں پر سخت ترین چیک، نفرت انگیز مواد اور تقاریر پر پابندی، کالعدم تنظیموں پر کسی بھی نام سے کام کرنے پر مکمل پابندی، بلوچستان میں خاص اقدمات ،پنجاب میں بھی دہشت گردوں کی کسی بھی طرح کے نقل و حمل پر مکمل پابندی وغیرہ اور اسی طرح کے دیگر اقدامات شامل تھے،لیکن سزا و جزا کے عمل کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اور اسی وجہ سے اینٹی ٹیررسٹ کورٹس اور فوجی عدالتوں کے قیام اور کردار کا حصہ دہشت گردی میں کمی لانے میں سب سے اہم رہا جس کا اندازہ اِس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ مارچ 2019 میں فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشت گردی کے کئی واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوئے ۔ جن میں عام شہری علاقوں سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سب پر حملے شامل ہیں ۔ مکرا ن کوسٹل ہائی وے پر بس سے اُتار کر چودہ افراد کو اُن کے قومی شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد شہید کر دیا گیا اِن میں سیکیورٹی اداروں کے اہل کار اور عام شہری شامل تھے اس واقعے کے ڈانڈے جہاں سے بھی ملتے ہیں لیکن اِن بیرونی عناصرکے سہولت کار تو ہمیشہ مقامی ہی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح گوادر پی سی ہوٹل پر حملہ تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا جائے ۔ داتا دربار میں زائرین پر دہشت گرد حملہ ،کوءٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر حملہ، پشاور میں حیات آباد میں ایک گھر میں دہشت گردوں کی پناہ اور کاروائی یعنی ملک کے ہر حصے میں دہشت گردوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایاکہ ابھی بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور دوبارہ سے زور پکڑ سکتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ دوبارہ اِن کے زور پکڑنے سے پہلے ہی اپنے آپ کو مضبوط اور محفوظ کر لیا جائے ۔ ہمارے سیاستدان فوجی عدالتوں پر اعتراض تو کرتے ہیں لیکن اُن کے پاس اس کا کوئی نعم البدل منصوبہ یا طریقہ کار بھی نہیں ۔ اسی طرح اِن عدالتوں کے بڑے مخالفین میں انسانی حقوق کی تنظی میں بھی شامل ہیں جو مجرموں کی سرپرستی اور پشت پناہی کے لیے تو اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں لیکن کسی سکول یا دربار پر دھماکوں میں مرنے والوں اور اِن کے خاندانوں کے حقوق انہیں یاد نہیں رہتے ۔ ایسے معاملات میں بین الاقوامی اداروں کے پاکستانی تنخواہ دارمیڈیا پر بیٹھ کر لمبے لمبے تبصرے نما تقاریر تو کرتے ہیں اور یوں قومی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں کیونکہ انہیں تو اپنی تنخواہ لینی ہوتی ہے لہٰذا انہیں بے گناہ مرنے والوں سے زیادہ ملک کے اِن مجرموں کا خیال رہتا ہے ۔ ایک خاص نکتہء نظر پھیلانے میں بیرونی این جی اوز کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے جن کا کاروبار ہی تباہ حال ملکوں میں کام کرنے سے چلتا ہے یعنی نہ تباہ حالی ہو گی نہ اِن کے مشن ہوں گے نہ فنڈ ہوں گے نہ شہرت ہو گی نہ تنخواہیں اور مراعات اور بنگلے ہوں گے اِن تمام مخالفین سے اگر پوچھا جائے کہ مقدمات کی تیز تر سماعت کیسے ہو اور جن خاندانوں اور جس معاشرے کے نقصان کا ازالہ تو ممکن نہیں لیکن کم از کم اِن نقصان پہنچانے والوں کو سزا کیسے دی جائے تو اِن کے پاس کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں ہوتالیکن مسئلہ اِن کا نہیں مسئلہ پاکستان اور پاکستانیوں کا ہے جن کے بچے، ماں ، باپ اور بہن بھائی شہید ہوتے ہیں جن کی املاک تباہ ہوتی ہیں جن کے گھر اجڑے ہیں کیا اُن کے حق میں بولنے والا اور کچھ کرنے والا کوئی ہے ۔ ضروری نہیں کہ فوجی عدالتیں یہ کام کرے کیونکہ مقدمہ ، انصاف اور فیصلہ عدالتوں کا کام ہے فوج کا نہیں لیکن کیا ہماری عدالتوں میں سالہا سال تک چلنے والے مقدمے اور فیصلے اور نظام تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے ۔ کیا ایسا بھی نہیں ہوا کہ ثابت شدہ دہشت گرد بلکہ ٹیلی وژن کی سکرین پر اعتراف جرم کرتا یا جرم کرتے ہوئے نظر آنے والا مجرم بھی بَری نہیں ہوا اس کے جرم کی گواہ پوری قوم تھی لیکن ثبوت ناکافی تھے ۔ عدالت فوجی ہو یا سول فیصلہ اُسی رفتار سے چاہیے جس رفتار سے فوجی عدالت کرتی ہے ۔ وہ مقدمے جو صرف ضابطے کی ایک کاروائی ہوتے ہیں وہ بھی لٹکا دیے جاتے ہیں اور اِس دوران یا ڈی آئی خان کی جیل ٹوٹ جاتی ہے اور یا شکیل آفریدی کی جیل توڑنے کی کوشش کر لی جاتی ہے لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں کہ رفتارہی اتنی ہو کہ ایسا موقع ہی نہ آئے اِس سے یہ بھی ہر گز غرض نہیں کہ فیصلہ آنکھ بند کر کے ہو لیکن تاریخ پہ تاریخ اور پھراور پھر تاریخ ۔ اگر کاروائی ہی اتنی تیز ہو کہ جرم کو پنپنے کا موقع ہی نہ ملے چاہے عدالت فوجی ہو یا دہشت گردی کے خلاف خصوصی عدالتیں ےا عام عدالت عوام کو تیزرفتار انصاف بہر حال چاہیے ۔

مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے نوجوان شہید

سری نگر: ضلع کلگام میں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے ایک اورنوجوان شہید ہوگیا۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے ضلع کلگام میں آج پھربھارتی فورسز نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اورنوجوان کو شہید کردیا۔ قابض بھارتی فورسزنے نوجوان کو آپریشن کی آڑمیں فائرنگ سے شہید کیا۔

شہادت کے باوجود ضلع میں بھارتی فورسزکا سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

گزشتہ روزبھی مقبوضہ کشمیرمیں 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا تھا۔

جمہوریت کے نقاب میں چوروں کا ٹولہ سڑکوں پر تماشے لگارہا ہے، مراد سعید

اسلام آباد:وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے نقاب میں چوروں کا ٹولہ سڑکوں پر تماشے لگانے کی کوششیں کررہا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر مراد سعید کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے نقاب میں چوروں کا ٹولہ سڑکوں پر تماشے لگانے کی کوششیں کررہا ہے، مجرم جمہوریت کی آڑ میں چھپ کر احتساب سے بچنے اور قوم کو بیوقوف بنانے کے خواہشمند ہیں، جاتی امراء کے ٹھگوں کا احتساب کیا گیا تو انہیں ووٹ کی حرمت یاد آگئی تاہم اپنی سیاہ کاریوں کا کوئی جواب ان کے پاس تھا نہ ہی ان کے پاس ہے۔

مراد سعید کا کہناتھا کہ چوری بچانے کے لیے جمہوریت کو ڈھال بنانا شرمناک، قابلِ مذمت اور جمہوریت کی ساکھ تباہ کرنے کی کوشش ہے، بلاول زرداری کو کسی سیاسی مقدمے کی پیروی کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً چوری اور لوٹ مار کی واردات میں تفتیش کیلئے طلب کیا گیا، کرپشن جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ مشتعل جتھوں کے ساتھ پیشیوں پر آئیں۔

مراد سعید نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر یقین دہانی کروارہے ہیں کہ جتنے مرضی تماشے کرلیں حکومت کو کسی دباؤ میں نہیں لاسکتے، قوم کی نگلی گئی دولت اگلنے کے علاوہ ان کے پاس نجات کی کوئی راہ نہیں۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کا مالی بحران سے دوچار ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: وزارت آبی وسائل کی جانب سے بھجوائی جانیوالی سمری فیڈرل بورڈ ریونیو کی طرف سے کمنٹس نہ بھجوانے کے باعث نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے 55 ارب روپے کی کمرشل فنانسنگ کی اجازت میں تاخیر کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت آبی وسائل نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو یاددہانی کیلیے خط لکھ دیا ہے، وزارت آبی وسائل کی جانب سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو لکھے جانیوالے یاددہانی خط میں وزارت آبی وسائل کی جانب سے پندرہ اپریل 2019کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیا گیا ہے۔

خط میں کہا ہے کہ مذکورہ سمری بارے ابھی تک ایف بی آرکی طرف سے آرا و کمنٹس نہیں بھجوائے گئے ہیں جس کی وجہ سے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے 55 ارب روپے کی کمرشل فنانسنگ کی اجازت دینے کی سمری ای سی سی میں پیش نہیں ہوسکی ہے، لہٰذا ایک بار پھر درخواست کی جاتی ہے کہ مذکورہ سمری پر جلد کمنٹس بھجوائے جائیں ۔

جنون بینڈ نے 15 سال بعد اپنا نیا گیت ’چھولے آسمان‘ ریلیز کردیا

کراچی: معروف صوفی راک بینڈ جنون نے 15 سال بعد یکجا ہونے کے بعد پہلا گیت ’چھولے آسمان‘ ریلیز کردیا۔

90 کی دہائی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ بینڈ جنون نے کچھ روز قبل ایک بار پھر مل کر تہلکہ مچانے کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اُن کا یہ گانا کرکٹ کی مناسبت سے بنایا جائے گا جس طرح 23 سال قبل ورلڈ کپ کے لیے مشہور زمانہ گیت ’ہے جذبہ جنون‘ بنایا تھا۔

ماضی کے اس مشہور بینڈ کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کو علی عظمت، سلمان احمد اور برائن کو ایک ساتھ دیکھنے کا بے صبری سے انتظار تھا اور اب یہ انتظار بھی اختتام کو پہنچ گیا۔

ریلیز کردہ گیت ’چھولے آسمان‘ میں تینوں فنکاروں کو اپنے روایتی انداز میں دیکھا جاسکتا ہے جب کہ اس گیت کو پاکستان کے انتہائی خوبصورت مقام پر نہ صرف فلمایا گیا ہے بلکہ اس میں پاکستان میں بسنے والی تمام قوموں کو بھی دکھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے اور ساتھ ہی اقلیتوں کے بھی دکھایا گیا ہے۔

دو منٹ 59 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں بچوں اور بزرگوں سمیت کرکٹ کے دیگر متوالوں کو بھی پاکستان کرکٹ ٹیم سے محبت کرتے دیکھا جاسکتا ہے اس گیت میں خصوصی طور پر خواجہ سراؤں کو بھی اپنی ٹیم کے لیے جذبات کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative