Home » 2019 » May (page 7)

Monthly Archives: May 2019

یتیموں کی کفالت ہمارا اخلاقی و مذہبی فریضہ

پوری دنیا میں اس وقت چھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں لیکن ان میں سے 15 کروڑ30 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں ۔ پاکستان میں 45 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں ۔ یہاں یتیم خانوں کی تعداد خاصی محدود ہے ۔ زیادہ تر سرکاری یتیم خانے ہیں جہاں یتیم بچے کسمپرسی کی حالت میں رہتے ہیں ۔ تاہم ہمارے ہاں نجی سطح پر این جی اوز، رفاہی فلاحی تنظی میں یا مخیر حضرات یتیم بچوں کی مالی امداد اور سرپرستی کرتے ہیں جو کہ ایک کارخیر ہے ۔ غریب یتیم بچوں کی کفالت کرنا بہت بڑی سعادت ہے ۔ ہر مسلمان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ یتیم اور غریب بچوں کی کفالت کرے ۔ ایسے ادارے اور افراد نہایت خوش قسمت ہیں جو غریب یتیم بچوں کی کفالت کررہے ہیں ۔ ہمارے ہاں بہت سے نجی تنظی میں یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ۔ لیکن ان میں صرف 35سے 40ہزار یتیم بچوں کی کفالت ممکن ہے جو کہ آٹے میں نمک کے برابرہے ۔ ہ میں ایمان ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ حقوق العباد کی معافی نہیں ہے ۔ یہاں یہ بات قابل قدر ہے کہ الخدمت فاوَنڈیشن نے پاکستان بھر میں ان تمام این جی اوز کو اکٹھا کیا جو یتیموں کےلئے کام کر رہی ہیں اور ایک فورم ’’پاکستان آرفن کئیر فورم ‘‘ تشکیل دیا جس میں 17ادارے شامل ہیں جو سب مل کر یتیم بچوں کی فلاح وبہبود کےلئے کام کررہے ہیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ محبت اور شفقت بھرا رشتہ صرف والدین کا ہی ہوتا ہے ۔ ان کی قدر تو ان سے پوچھیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ۔ اسی لئے اسلام نے بھی یتیم کی کفالت اور پرورش کا بہت بڑا اجر رکھا ہے ۔ ایک مسلم معاشرے میں بھی یتیم بچوں کی پرورش اور کفالت کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ چند صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے طور پر یتیم بچوں کو گود لیا ہوا ہے لیکن زیادہ تر یتیم بچے سرکاری اور نجی طورپر بنائے گئے اداروں میں ہی پل رہے ہیں ۔ نجی اداروں میں ایدھی کی طرح الخدمت فاوَنڈیشن کا بھی ایک نام ہے ۔ ایس اے شمسی الخدمت فاوَنڈیشن میں مرکزی کوآرڈینیٹر ہیں ۔ چند روز قبل ان سے بات ہوئی تو الخدمت نے اس سال ملک بھرسے 10,300 یتیم بچوں کی کفالت کا تہیہ کیا ہے اورعوام کے تعاون سے بہت امید ہے کہ یہ ٹارگٹ پورا ہو جائےگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آٹھ ریجنز میں ایک پروگرام چلا رہی ہے ۔ ان آٹھ ریجنز میں چار صوبوں کے ساتھ ساتھ کراچی ، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر شامل ہیں ۔ یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کیلئے ;34;کفالت یتامیٰ پروگرام ;34;کا آغاز کیا ہے جس میں 7,200 یتیم بچوں کی کفالت کا کام شروع ہے ۔ اس پروگرام کے دو حصے ہیں جن میں ایک آرفن فیملی سپورٹ پروگرام ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 6,500سے زائد یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں میں کی جا رہی ہے ۔ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام کے ذریعے فی بچہ 3,500 روپے ماہانہ یا 42,000 روپے سالانہ دے کر ایک یا زیادہ بچوں کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ اس میں بیوہ الاوَنس ، سکول فیس، تعلیم وتربیت اور غیر نصابی سرگرمیاں شامل ہیں ۔ پروگرام کا دوسرا حصہ آغوش ہومز پر مشتمل ہے جس میں 700 سے زائد یتیم بچے زیرکفالت ہیں ۔ یہ تنظیم یتیم بچوں کی مکمل ذہنی، فکری، ادبی اور اصلاحی تربیت کےساتھ ساتھ معیا ری خوراک، بہترین رہائش، لباس، تعلیم اوردوسری صحت مندانہ سرگرمیاں کےلئے دن رات کوشاں ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر مختلف مقامات پر موسم کی مناسبت سے;34; آغوش ہومز ;34;بنائے ہیں ۔ جہاں ان بچوں کو ;34; آغوش ;34; میں لے کر ایک اچھا شہری بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے ۔ آغوش شیخوپورہ، اٹک ، راولپنڈی، پشاور، مانسہرہ، باغ اور راولاکوٹ شامل ہیں جبکہ مری، گجرانوالہ اور مٹھی سمیت دیگر شہروں میں منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔ اس کے علاوہ لاہور شہر بھر میں 1431 یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے جس میں ان کی تعلیم و تربیت ، کھانا ، رہائش اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے اور یہ سب شہر کے مخیر اور معاشرے کے اہل خیر جذبہ ایثار رکھنے والے افراد کے تعاون سے ممکن ہو رہا ہے ۔ یہ تنظیم ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے ۔ خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا ۔ بے سہارا اور غریب یتیم بچوں کی مدد دینی اور اخلاقی فرض سمجھ کر کرتے رہیں گے اور ہر فردکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو دینی اور اخلاقی فرض سمجھ کر ادا کرے ۔ معاشرے اور سوساءٹی اسی صورت میں قائم اور آگے بڑھتے ہیں جب وہ مستحق لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور عملاً کرتے ہیں ۔ معاشرے میں موجود یتیم اور مستحق بچوں کی کفالت بحیثیت مسلمان ہمارے اوپر فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔ دونوں جہان میں اللہ اور رسول;248; کی خوشنودی و قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ معاشرے میں محروم طبقات کی مدد کرنا ہے ۔ صرف تصور کریں کہ خدا نہ کرے کل ہمارے بچوں کے ساتھ ایسا ہو جائے تو کیا کیفیت ہو گی ۔ کون کرے گا ہمارے بچوں کی کفالت ۔ اس لئے آگے بڑھیں اور اس مشن کو اپنا مشن سمجھیں ۔ یتیم بچوں کا سہارا بننے والی تنظیموں کے ہاتھ مضبوط کریں ۔

قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں نے فوجی چیک پوسٹ پرحملہ کیا، قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والوں اور پاک فوج کے خلاف بولنے والوں سے کوئی ریاعت نہیں ہوگی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائےاطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جن شرپسندوں کو قبائلی علاقوں میں امن اور اسں کی ترقی نہیں بھاتی انہوں نےدوبارہ شرپسندی شروع کردی ہے، قبائلی علاقوں کی ترقی روکنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، فوجی چوکیوں پر حملوں جیسے واقعات علاقے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ریاست پاکستان کی رٹ چیلنج کرنے والوں نے شمالی وزیرستان میں واقع فوجی چوکی پرحملہ کیا، جس کی کابینہ نے مذمت کی ہے، چند افراد قبائلیوں کو اپنی سازش کا ایندھن بنانےکی کوشش کررہے ہیں، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں نے چیک پوسٹ پرحملہ کیا،  پاک فوج کےخلاف بولنے والوں اور قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والوں سے رعایت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام نےامن کےلیےبہت قربانیاں دیں، وزیراعظم نےقبائلی علاقوں میں جاکرلوگوں کوگلےلگایا اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے102ارب روپےکےفنڈزمختص کیے، تاہم شرپسندوں کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی ہوگی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 11 جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ بجٹ میں غریب پربوجھ نہیں پڑناچاہیے، کابینہ میں بجٹ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ اور صحافیوں کے لیے کھانے کی سمری پیش ہوئی ، مجھے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم حکومتی پیسے سے کھانا نہیں لیں گے، صحافیوں کی تجویز میں نے وزیراعظم کے سامنے رکھی، جس تمام کابینہ ارکان نے ارکان پارلیمنٹ کو بھی کھانا نہ دینے کی حمایت کی ہے اور فیصلہ ہوا ہے کہ آئندہ سال کے بجٹ سیشن میں وزرااور افسروں کوکھانانہیں فراہم کیاجائےگا۔

الہ دین ایک افسانوی کردار یا حقیقی شخصیت ؟

ڈزنی نے اپنی انیمیٹڈ فلم الہ دین کو حال ہی میں لائیو ایکشن فلم کے طور پر دنیا بھر میں ریلیز کیا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ گلی کوچوں میں آوارہ پھرنے سے لے کر جادوئی چراغ کے مالک بن جانے والے الہ دین درحقیقت ایک حقیقی شخصیت سے متاثر ہے؟

اس کہانی کی تاریخ کافی دلچسپ ہے اور مختلف ماہرین نے الہ دین کہانی کی تاریخ پر تحقیق کی۔

الہ دین کی اصل کہانی کتنی پرانی ہے؟

انتونی گالانڈ — فوٹو بشکریہ وکیپیڈیا
انتونی گالانڈ — فوٹو بشکریہ وکیپیڈیا

گزشتہ صدی میں الہ دین کی کہانی کا کریڈٹ اکثر انتونی گالانڈ کو دیا جاتا تھا جو کہ 17 صدی میں قسطنطنیہ میں فرانسیسی سفیر کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔

انہوں نے فرنچ زبان میں ایک انسائیکلوپیڈیا Bibliothèque Orientale پر کام کیا تھا اور وہ پہلے یورپی مترجم تھے جنہوں نے الف لیلیٰ کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کیا، جس کے بعد اس کے دوسری زبانوں میں تراجم ہوئے اور اردو میں یہ کتاب انگریزی سے ترجمہ ہوئی۔

کولمبیا یونیورسٹی سے تعقل رکھنے والے عربی و تقابلی اسٹڈیز کے پروفیسر محسن جے الموسوی کے مطابق الف لیلیٰ 14 ویں صدی کے آخر کے عرب کہانیوں کے نامکمل مجموعے کا نام تھا جس میں بعد ازاں مختلف تراجم میں متعدد کہانیوں کا اضافہ ہوا۔

1704 سے 1706 کے درمیان انتونی گلانڈ نے ہزار داستان کی 7 کتابیں شائع کیں جس میں 282 راتوں کی 40 کہانیاں کا احاطہ کیا گیا۔

مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو قرون وسطیٰ سے تعلق رکھتی تھیں، حقیقت تو یہ ہے کہ الہ دین کی داستان اتنی زیادہ پرانی نہیں کیونکہ 1712 میں انتونی گالانڈ کی جانب سے اس کی اشاعت کے بعد محققین اس کہانی کا قدیم قلمی نسخہ دریافت نہیں کرسکے۔

انتونی گالانڈ نے یہ داستان اپنی ڈائری میں اس وقت لکھی جب انہوں نے 8 مئی 1709 کو حلب میں ایک شامی داستان گو آنطون یوسف حنا دیاب سے اسے سنا تھا۔

1709 تک انتونی گالانڈ نے الف لیلیٰ کے اصل مگر نامکمل قلمی نسخے کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کرلیا تھا اور وہ باقی کی تلاش کررہے تھے۔

2018 میں شائع ہونے والی مارولیس تھیویز : سیکرٹ آتھرز آف دی عربین نائٹس کے لکھاری پاﺅلو لیموس ہورتا کے مطابق ‘جب گالانڈ عربی قلمی نسخے سے تمام کہانیوں کا ترجمہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کے پبلشر نے 8 ویں کتاب (1709) میں ایک ترک مجموعے کو شامل کیا تاکہ مزید کہانیوں کے لیے عوامی طلب کو پورا کیا جاسکے، اس بات نے گالانڈ کو مشتعل کردیا اور انہوں نے مزید کتابوں کے لیے داستانوں کو جمع کرنے کا کام تیز کردیا’۔

مزید سراغ کی تلاش میں انتونی گالانڈ نے اپنے دوست پال لوکاس کے اپارٹمنٹ پہنچے جو پیرس اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سفر کرکے ہیرے جواہرات اور دیگر نوادرات لاتے رہتے تھے۔

وہاں انتونی کی ملاقات پہلی بات حنا ذیاب سے 25 مارچ 1709 میں ہوئی۔

جب انتونی گالانڈ نے اس شامی شخص سے پوچھا کہ وہ الف لیلیٰ کی کہانیوں کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو دیاب نے جواب دیا ہے کہ ہاں وہ جانتے ہیں۔

اس کے بعد کئی ملاقاتوں میں حنا دیاب نے گالانڈ کو الہ دین کی کہانی سنائی جبکہ مزید دیگر مشہور داستانیں جیسے علی بابا اور چالیس چور بھی سنائی۔

یہ سب داستانیں 9 ویں کتاب میں شائع ہوئیں، مجموعی طور پر انتونی گالانڈ نے الف لیلی پر 12 کتابیں شائع کیں اور یہ کام 1717 میں مکمل ہوا۔

ماہرین عرصے سے جانتے ہیں کہ حنا دیاب نے ہی الہ دین کی کہانی انتونی گالانڈ کے حوالے کی مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ خود حنا دیاب نے یہ کہانی کب پہلی بار سنی تھی۔

پاﺅلو لیموس ہورتا کے مطابق ‘ہم نہیں جانتے کہ دیاب نے اس کہانی کو حلب یا پیرس تک اپنے سفر کے دوران دیگر داستان گو افراد سے سن کر اس کہانی کو مزید کس طرح بہتر بنایا یا انہوں نے کسی سے یہ پوری کہانی اسی شکل میں سنی اور کسی قلمی نسخے میں محفوظ کرلی یا انہوں نے اس کہانی کا گمشدہ نسخہ ڈھونڈا اور پھر گالانڈ کے حوالے کردیا’۔

الہ دین کی کہانی کیسے وجود میں آئی؟

فوٹو بشکریہ ڈزنی اسٹوڈیوز
فوٹو بشکریہ ڈزنی اسٹوڈیوز
الف لیلیٰ میں سند باد کے سات سفر کا قدیم عربی نسخہ — فوٹو بشکریہ ایچ ایم ایم ایل
الف لیلیٰ میں سند باد کے سات سفر کا قدیم عربی نسخہ — فوٹو بشکریہ ایچ ایم ایم ایل

محققین الہ دین کی کہانی مختلف مقامات کا مکسچر دیکھتے ہیں جیسے ڈزنی کی نئی فلم میں سلطان کا محل برمی مندر سے متاثر ہے، گالانڈ کی الہ دین کی کہانی چین کی تھی مگر اس میں جو کردار اور دنیا دکھائی گئی وہ چین سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

پاﺅلو ہورتا کے مطابق ‘یہ کردار ایک مسلم معاشرے میں رہتے ہیں، پھر جس طرح ایک جن چراغ سے باہر آتا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ کہانی عربی کی ہے’۔

کیمبرج یونیورسٹی کے اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے ریسرچ ایسوسی ایٹ عرفات اے رزاق یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ قدیم عربی وضاحتوں میں چین کو ایک دور دراز کے ملک طور پر پیش کیا جاتا تھا، الہ دین کی کہانی کی ابتدائی برطانوی داستان میں بھی چینی عناصر موجود ہیں، جس سے اس خطے کی کشش سے برطانیہ کے متاثر ہونے کی عکاسی ہوتی ہے، یہ وہ وقت تھا جب برطانوی وہاں افیون کے خلاف جنگیں لڑ رہے تھے۔

ڈزنی کی 1992 کی انیمیٹڈ فلم میں الہ دین کی کہانی کو پہلے عراق کے دارالحکومت بغداد میں بیان کیا جانا تھا مگر پھر فلم سازوں نے مقام بدل دیا، فلم کے ڈائریکٹرز میں سے ایک جان مسکر کے مطابق ‘ہم نے پہلے بغداد کے بارے میں ہی سوچا تھا اور پھر وہاں پہلی گلف وار ہوئی، جس کے بعد روئے ڈزنی نے کہا کہ یہ بغداد نہیں ہوسکتا، تو ہم نے اگربا (Agrabah) کو چن لیا’۔

کیا الہ دین کا کردار حقیقی شخصیت سے متاثر ہے؟

فوٹو بشکریہ ڈزنی اسٹوڈیوز
فوٹو بشکریہ ڈزنی اسٹوڈیوز

اس کہانی کے تمام تر افسانوی پہلوﺅں سے قطع نظر ماہرین کا اب ماننا ہے کہ اس کا مرکزی کردار درحقیقت ایک حقیقی شخص کے حقیقی تجربات پر مبنی ہے۔

عرفات اے رزاق کہتے ہیں ‘اب الہ دین کے پیچھے موجود شخص کے بارے میں کافی تحقیق ہورہی ہے’۔

بیشتر ماہین کے مطابق یہ حقیقی شخصیت کوئی اور نہیں خود حنا دیاب کی ہے۔

اگرچہ انتونی گالانڈ نے الف لیلی کے اپنے تراجم میں حنا دیاب کو کوئی کریڈٹ نہیں دیا، مگر دیاب نے خود بہت کچھ لکھا جیسے 18 ویں صدی کے وسط میں ایک سفرنامے میں انہوں نے الہ دین کی کہانی گالانڈ کو سنانے کا ذکر کیا۔

تاریخ دان جیروم لینٹین نے 1993 میں ویٹیکن کی لائبریری میں اس دستاویز (حنا دیاب کا سفرنامہ) ڈھونڈا تھا مگر اب حالیہ عرصے میں اسے زیادہ مقبولیت اس وقت ملی جب جیروم لینٹین اور ان کے ساتھی برنارڈ ہے برجر نے 2015 میں اس کا فرانسیسی ترجمہ کیا جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ 2020 تک شائع ہونے کا امکان ہے۔

اپنی اس سوانح میں حنا دیاب نے اپنی مشکلات میں گزرنے والے بچن کا ذکر کیا اور یہ بتایا کس طرح وہ فرانسیسی بادشاہ کے محل تک پہنچے، جو وضاحت انہوں نے اس سفرنامے میں کی ہے وہ اس پرتعیش محل سے کافی ملتی جلتی ہے جو گالانڈ کی الہ دین کہانی کے ورژن میں موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محققین کا ماننا ہے ‘الہ دین ممکنہ طور پر ایک حلب سے تعلق رکھنے والے نوجوان عرب ہوسکتا ہے جو جوہرات سے کھیلنے کے ساتھ شاہی محلوں تک پہنچا’۔

اور یہ اس کہانی کی تاریخ میں نمایاں تبدیلی ہے کیونکہ 300 برس سے ماہرین کا خیال تھا کہ الہ دین ممکنہ طور پر فرانسیسی پریوں کی داستان سے متاثر ہوسکتا ہے جو اسی زمانے میں سامنے آئی تھی یا یہ کہانی 18 ویں صدی کے فرانس کی مشرق کی کشش کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

مگر یہ خیال کہ حنا دیاب کی زندگی پر الہ دین کی کہانی کو لکھا گیا، جس میں ایک مشرق وسطیٰ کے رہائشی کا سامان فرنچ سے ہوا، نے تاریخ کو بدل دیا ہے۔

پاﺅلو ہورتا کے مطابق ‘یہ ذہن گھما دینے والی تبدیلی ہے کہ الہ دین کی کہانی ایک 60 سالہ فرانسیسی معلم اور مترجم کے ذہن کا خیال نہیں بلکہ اس کا جنم حلب کے 20 سالہ مسافر کی داستان گوئی اور زندگی کے تجربات سے ہوا، دیاب نے مشرق اور مغرب کو اس کہانی میں ملادیا، یعنی اپنے آبائی وطن کی داستان گوئی کی روایات کا امتزاج 18 ویں صدی کے فرانس میں ہونے والے مشاہدات سے کیا’۔

انہوں نے مزید کہا ‘حنا دیاب خود ایک متوسط پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اور زندگی میں اسی طرح آگے بڑھنا چاہتے تھے جیسا الہ دین کی کہانی میں بیان ہوا، وہ ایک مارکیٹ اسٹال چاہتے تھے اور الہ دین کی کہانی میں بھی اس کے انکل اسے ایک دکان لگا کر دینے کا وعدہ کرتے ہیں تاکہ اچھی زندگی گزار سکے۔ لڑکپن میں دیاب نے ایک بڑی تاجر کمپنی کے معاون کے طور پر کام کیا مگر اسے برطرف کردیا گیا، جس سے اس کی حلب میں کپڑے کی منافع بخش تجارت میں کامیابی کے خواب سے دستبردار ہونا پڑا’۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کر چلے گئے اور کہیں ان کی ملاقات پال لوکاس سے ہوئی، دیاب اس وقت حلب واپس آئے جب دیاب نے انہیں فرانسیسی بادشاہ کی لائبریری میں عربی نسخوں کی دیکھ بھال کی پوزیشن دینے کا وعدہ پورا نہیں۔

حلب میں دیاب کی زندگی ادھیڑ عمری کی زندگی کامیاب گزری کیونکہ وہ اس شہر میں ایک بڑا گھر لینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

آصف زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

 اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

آصف زرداری نے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مقدمہ بنکنگ کورٹ سے احتساب عدالت اسلام آباد منتقل کرنے کے خلاف اپیل دائر کردی جس میں چیئرمین نیب اور بینکنگ کورٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ آصف زرداری کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، وہ سیاسی انتقام کے مقدمات میں جیل بھی رہے لیکن من گھڑت اور جھوٹے مقدمات سے بری ہوئے، ایف آئی اے نے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تو آصف زرداری کو عبوری چالان میں ملزم نہیں بنایا۔

آصف زرداری نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس معاملہ کی جے آئی ٹی سے تحقیقات کرائیں اور کیس بنکنگ کورٹ سے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں دیا، بلکہ صرف نیب کو معاملہ کی انکوائری و تحقیقات کا حکم دیا، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی اور کیس بنکنگ کورٹ سے احتساب عدالت منتقل کردیا گیا۔

سابق صدر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ بینکنگ کورٹ کے دائرہ کارمیں آتا ہے، اسے احتساب عدالت کومنتقل کرنے کا کوئی قانونی جوازنہیں، لہذا کیس کی منتقلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

تمباکو نوشی سے صحت کے مسائل، پاکستان دنیا کے سر فہرست 15 ممالک شامل

وزارت قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان، دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو کی وجہ سے سب سے زیادہ صحت کے مسائل اور ان کا علاج بوجھ ہے۔

سوسائٹی برائے حفاظت حقوق اطفال (اسپارک) کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے این ایچ ایس نمائندے نے گلوبل اڈلٹ ٹوباکو سروے کی 2015 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یومیہ ایک ہزار سے 12 سو افراد جن کی عمریں تقریباً 6 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں، وہ سگریٹ پینے کا آغاز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں تقریباً 25 سال سے کم ہیں جبکہ نوجوان ایک خطرناک حد تک تمباکو نوشی کا شکار ہورہے ہیں جس کی وجہ سے سخت ٹیکس ریفارمز اور سگریٹ کی کم عمر افراد کو فروخت کی نگرانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام تر صورتحال کا خطرناک ترین پہلو ملک پر پڑنے والا صحت کے مسائل کا بوجھ ہے جو ایک سو 43 ارب روپے ہے جبکہ ان مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی 83 ارب روپے ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ قومی خزانے کو نقصان کا سامنا ہے۔

اسپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد چیمہ کا کہنا تھا کہ تمباکو بیچنے والی کمپنیاں مستقبل میں اپنی مارکیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اس وقت کم عمر افراد اور خواتین کو اپنا ہدف بنارہی ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی عادت منشیات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جبکہ اسکولوں اور کالجز میں صحت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے انسداد تمباکو نوشی مہمات کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

سجاد احمد چیمہ کا کہنا تھا ہم حکومت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر سگریٹ اور تمباکو سے متعلق اشیا پر ٹیکس بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کم عمر افراد میں صحت مند زندگی کے فروغ اور تمباکو کی فروخت کو روکنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

ہیومن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے سی ای او کرنل (ر) اظہر سلیم کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی سے روکنے سے متعلق آرڈیننس لوگوں کو عوامی مقامات پر سگریٹ پینے، تعلیمی مراکز کے قریبی تمباکو یا سگریٹ فروخت اور 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی کے اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان ہارٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے چوہدری ثنااللہ گھمن نے اس موقع پر کہا کہ ایک نوجوان کا شوقیہ سگریٹ پینا بھی ان کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا عام تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے لیے ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق 14 سال تک کے 40 فیصد بچے شوقیہ طور تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے دنیا بھر میں سالانہ 6 لاکھ اموات بھی ہوجاتی ہیں۔

پی سی بی کا سزا یافتہ شرجیل خان کو کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار

 لاہور: پی سی بی نے اسپاٹ فکسنگ معاملے میں سزا یافتہ شرجیل خان کو سزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

شرجیل خان کو پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ڈھائی سال کی پابندی عائد کی گئی تھی، یہ سزا رواں برس اگست میں ختم ہونے جارہی ہے، کرکٹر سزا ختم ہونے سے پہلے خود کو کرکٹ کے لیے تیار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ذرائع کے مطابق جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز نے پی سی بی حکام کو درخواست کی تھی کہ انہیں پابندی ختم ہونے سے پہلے کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت دی جائے تاہم پی سی بی نے اسے مسترد کردیا ہے۔

پی سی بی حکام کا موقف ہے کہ شرجیل خان نے بحالی پروگرام میں شرکت کے لیے وضع کردہ قواعد کو فالو نہیں کیا، جس کے تحت مکمل جرم کا اعتراف کرنا ضروری ہے، شرجیل خان نے صرف رپورٹ نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے، انہوں نے فکسنگ کے تحقیقاتی عمل میں بھی تعاون نہیں کیا۔ کھلے عام جرم کا اعتراف کرنے کے ساتھ معافی مانگنا بھی لازمی فعل ہے۔ کرکٹر کو فکسنگ سے بچنے کے لیے پیغامات میں حصہ لینا بھی ضروری تھا تاہم شرجیل خان نے ان میں کسی چیز کو پورا نہیں کیا۔

2017 کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کرنے کے جرم میں اوپنر کو پانچ سال کی سزاسنائی گئی تھی، جس میں اڑھائی برس کی معطلی شامل تھی، اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے اوپنر کو پی سی بی اینٹی کرپشن قوانین کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد مزید 3 نوجوان شہید

سری نگر: قابض بھارتی فوج کی جارحیت میں حریت پسند ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد آج مزید 3 نوجوان شہید ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند ذاکر موسیٰ کی شہادت کے چوتھے روز مزید 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔ شہادت کا پہلا واقعہ ضلع باندی پورہ میں ہوا جہاں کرکٹ کھیلنے والے نوجوان مارٹر شیل دھماکے کا شکار ہوگئے جس کے نتیجے میں 16 سالہ نوجوان شہید اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بچے میدان میں کھیل رہے تھے کہ وہاں زیر زمین دبا بھارتی فوج کا مارٹر شیل زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، لڑکوں کو قریبی اسپتال لے جایا گیا تاہم 16 سالہ امجد جانبر نہ ہوسکا جب ایک اور زخمی نوجوان کو سری نگر کے بڑے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور 2 نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ پولیس نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضلع اسلام آباد کے جنگلات میں ایک کارروائی کے دوران دو کشمیری نوجوان کی شہادت کی تصدیق کی۔

ادھر مقبوضہ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں ذاکر موسیٰ کی شہادت پر آج مسلسل چوتھے روز بھی شٹر ڈاؤں ہڑتال ہے، شوپیاں، پلوامہ، کلگام، ترال اور اسلام آباد میں تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ذرائع آمد ورفت بند ہیں۔

 

ادائیگیوں کے توازن کا مشکل وقت ۔ قیادت پرمکمل بھروسہ

لمحہ موجود;39; پاکستان کےلئے ایک اہم وقت ہے سازگار لمحہ بھی ہے ہمارا ملک جو ناخوشگوار‘ مشکل اور پیچیدہ مالیاتی مراحل طے کرنے کے بعد اپنی معاشی ہیءت ِ قلبی کے عمل سے گزر کر قدم بہ قدم اپنی ترقی یافتہ منزل کو بس پہنچا ہی چاہتا ہے ایسا لمحہ پْرعزم ہے جو پاکستان کوابھرتی ہوئی معیشتوں کی صف میں کھڑاکرسکتا ہے حیران اور متعجب ہونے کی کیا ضرورت‘ کئی ترقی پذیر ایسی اقوام ہیں جو اُبھریں ، گریں اور اتھاہ گہرائیوں میں گرکر دوبارہ اُبھری ہیں ،فیصلہ کن قیادت کے مالیاتی فیصلوں کا جتنا تمسخر اُڑانا تھا ہم یہ سب نازبیا تماشا کرچکے لیکن کیا ہ میں ہم پاکستانیوں کو اس طرح سے سوچنے کا بھی کوئی حق نہیں یہی حقیقت نہیں ہے دنیا جسے اب ماننے لگی ہے عالمی مالیاتی اداروں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کو گزشتہ برسوں میں جو اربوں کھربوں کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے قرضے دئیے تھے کیا وہ قرضے واقعی پاکستان میں انسانی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر لگائے گئے یا اُن قرضوں کا بڑاحصہ ’کک بیکس‘ کی صورت میں پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کے غیر ملکی اکاونٹس میں منتقل ہواجبھی تو آج کی سنجیدہ ملکی قیادت سخت امتحان کی گھڑی میں کھڑی ہے پاکستانی قوم کے سامنے یہی سلگتے سوالات اُن کمروں کو دہراکئے جارہے ہیں کیا قوم ہاتھوں پر ہاتھ دہرکر کسی غیبی امداد کی منتظر ہوجائے جو ناممکن ہے تحریک انصاف کے قائد اورملکی وزیر اعظم عمران خان کے ان سوالوں کا جواب اُن کے سیاسی مخالفین کے پاس تو نہیں ہے اُ ن کے ذاتی مخالف میڈیا مینیجر اپنی ’معاندانہ پُرزورلہجوں ‘ میں عوام کے ذہنوں میں ڈھونس رہے ہیں مگر عوامی طبقات میں یہ رائے مضبوط ہے کہ قوم کی واضح اکثریت نے تحریک انصاف کی اعلیٰ حکومتی قیادت کے حالیہ کٹھن اور مشکل فیصلوں کو قبول کرکے قومی محنت کے نتاءج کے اور معاشی اصلاحات کے سنگ میل تک پہنچنے کا عزم و ارادہ کرلیاہے کئی معاشی چینلجز کے لڑکھڑاتے ہوئے پل عبورکرنے کے بعد عالمی معیشت کے میدان میں اقتصادی حرکیات کی بتدریج تبدیلی کوپاکستان میں عمیق اور تجزیاتی تحقیق کی نظر سے دیکھنے کے عمل کے بعد پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اگر یونہی نئے سرے سے اپنے معاشی ترقی کے میدان میں محوسفر رہا تو پھر یہ کہنا بے جانہ نہ ہوگا کہ پاکستان عالمی معیشتی منظرنامہ میں اگلے دس پندرہ برسوں میں اپنا نمایاں اور اہم مقام بنانے میں ضرور کامیاب رہے گا، آج اگر پاکستان میں معاشی ترقی کے امتحانات درپیش ہیں توہم بحیثیت قوم یہ کیوں فراموش کردیں کہ’ہ میں ترقی کرنے کے مواقع کیا کبھی میسر نہیں آئیں گے;23839;عالمی بنک کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ گروپ ایم ایس سی آئی نے ایک حالیہ سروے میں ان ہی خطوط پر واضح نشاندہی کردی ہے کہ پاکستان میں چندبرس پیشتر ہر سال دو ملین سے زائد نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں یہ نمو معاشی ترقی کے لئے زبردست مواقع کی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کی وجہ سے چیلنجز اپنی جگہ ضرورآئیں گے، عالمی معیشت اتنی سست رفتار ہو تو نئے روزگار کے متلاشی لوگوں کو کہاں کھپایا جاسکتا ہے;238; ظاہر ہے اِس ابھرتے ہوئے ماحول میں پاکستان کو مزید نمو اور روزگار پیدا کرنے اور متحرک ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ میں شامل ہونے کےلئے اپنی مالیاتی پالیسیوں کی مضبوطی پر انحصار کرنا ہوگا یہاں سے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے فیصلوں پر انحصار کرنا ہوگا جس کے حوصلہ افزاء اشارے عالمی مالیاتی کی جانب سے آرہے ہیں کوئی اورنہیں یہ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگلے 28 سالوں میں پاکستان کو 2 کروڑ ڈالر ٹراوَن کی معیشت کی بنیادوں پر لاکھڑا کیا جاسکتا ہے اگر ملک اپنے معاشی اصلاحات میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کی آبادی کی شرح میں 1;46;2 تک کم کرنے کا تشفی انتظام ہوجاتا ہے ورلڈ بینک کے ڈائریکٹرکاماننا ہے کہ ;34;مسلسل اصلاحات کے ساتھ پاکستان اگلے 28 سالوں میں 100 سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی معیشت بن کر عالمی مالیاتی صفوں میں اپنا منفرد مقام بنالے گا اس نکتہ نظر سے پاکستان کی معاشی ترقی کے گراف کی جانچ پڑتال کرنے والوں کی اس ٹھوس دلیل سے مفر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی والا ملک ہے ،جہاں 20;245;35 سال عمر رکھنے والے افراد 60 فی صد سے زیادہ ہیں اس پر غوروخوض کیئے بناء فی کس آمدنی کے اعداد وشمار کے صحیح اندازے سامنے نہیں آسکتے ساتھ ہی یہ نکتہ بھی یکسر نہیں بھلایا جاسکتا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور پاکستان فی الحال اقتصادی لبرلائزیشن کے عمل سے بھی گزر رہا ہے ،جس میں نجکاری بھی شامل ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا بجٹ کے خسارہ کو یوں کم بھی کیا جاسکتا ہے’چین پاکستان اقتصادی کوریڈور‘ ایک بہت اہم معیشتی ترقی کا سنہری موقع پاکستان کے پاس ہے یہ منصوبہ $ 62 بلین ڈالرکا ہے سعودی عرب نے اسی منصوبے میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے تمام تر امیدافزاء اشارے پاکستانی اقتصادی استحکام کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں دیگر ممالک میں اگر چین اور بھارت کی شرح فی صد کی ترقی کو دیکھیں توہ میں علم ہوگا کہ چین اور بھارت7;245;6 فیصد کی شرح سے ترقی ہورہی ہے جبکہ برازیل اور روس میں شدید کساد بازاری کی ایک مدت کے بعد وہاں بہترین علامات دکھائی دے رہی ہیں اشیاء خصوصا تیل کی کم قیمتوں نے اشیاء کے برآمد کنندہ ممالک پر شدید ضرب لگائی ہے اور مشرق وسطی کے ممالک جاری تنازعات اور دہشت گردی سے مسلسل نبردآزما ہیں ایسی صورتحال میں ہم کیوں نہ تسلیم کریں کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے ہاں بھی عبوری تبدیلی سے گذر رہی ہیں یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو چیلنجز پیدا کررہی ہیں لیکن مواقعوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ان میں سے دو ممالک میں سے ایک کا تعلق خاص طورپر پاکستان سے بنتا ہے زیرنظر کالم کے اعداد وشمار اور پاکستان کی معاشی پیش بندیوں کے اشارے ہم نے عالمی بنک کی جاری کردہ جامع رپورٹ کی مدد سے پیش کیئے ہیں عالمی بینک نے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کے بارے میں ڈیڑھ برس قبل ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کی سوویں سالگرہ تک یعنی آئندہ28 سال میں اوپر کی سطح کے متوسط آمدنی والے خوشحال ملکوں میں شامل ہونے کے لئے ابھی مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، یاد رہے کہ عالمی بنک کی یہ رپورٹ پاکستان کے لئے ایک معاشی روڈ میپ ہے ‘جو اسلام آباد میں ہونے والی انسانی سرمایہ کاری کانفرنس میں جاری کی گئی تھی اس میں کئی مفید اور قابل عمل مشورے شامل ہیں جن پر عمل کرکے پاکستان نہ صرف موجودہ مالی بحران پر قابو پا سکتا ہے، بلکہ ایک قابل لحاظ اقتصادی قوت بھی بن سکتا ہے رپورٹ میں اعداد وشماردے کر بتایا گیا ہے کہ اپنے قیام کے ابتدائی تیس برسوں میں پاکستان میں ترقی کی رفتار موجودہ سست اور غیر متوازن رفتار سے کہیں زیادہ تھی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا تھا مگر بعد کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دستیاب وسائل کا موثر استعمال نہیں کیا گیا اور بہانہ بازی کی پالیسیاں چلتی رہیں اور اس وقت کے کمزور اور کرپٹ ریونیو نظام کی وجہ سے ملک کے نا اہل معاشی مینیجرز معاشی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ ہوسکے عالمی بینک کی رائے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ عشرے میں کئے جانے والے مالیاتی پالیسی فیصلے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بینک کی سفارشات 8نکاتی ایجنڈے پر مبنی ہیں جس کے مطابق خوشحال ملک بننے کےلئے پاکستان کو پہلے مرحلے میں آبادی پر کنٹرول کرنا، ٹیکس اصلاحات لانا اور تعلیم و صحت کا بجٹ بڑھانا ہوگا آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح 2;46;4فیصد سے کم کرکے2047تک اسے 1;46;2 فیصد تک لانا ہوگا ٹیکس ریونیو کی شرح جی ڈی پی کے 13فیصد سے بڑھا کر 20فیصد کرنا ہوگی علاقائی تجارت کا حجم ساڑھے 18ارب سے بڑھا کر 58ارب ڈالر تک پہنچانا ہوگا کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے اس وقت پاکستان دنیا کے ملکوں میں 136ویں نمبر پر ہے ملک کو50ویں نمبر تک لانا ہوگا پاکستان کے معاشی بحران کی بڑی وجہ ڈھانچہ جاتی چیلنجز ہیں ترقیاتی اخراجات کےلئے بیرونی قرضوں ، غیر ملکی امداد اور ترسیلات زر پر انحصار کیا گیا ہے زرعی شعبے کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 20فیصد ہے عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ موجودہ صورت حال پر قابو پانے کےلئے کاروباری ماحول بہتر بنایا جائے وفاقی اور صوبائی سطح پر شفافیت کو یقینی بنائی جائے علاقائی روابط بڑھانے کےلئے سی پیک میں توسیع کی جائے شفافیت اور احتساب کے متواتر عمل سے گورننس اور اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے، یہ سب ممکن کیوں نہیں ہوسکتاعوام نے اپنے آپ کو قومی یکجہتی کے ترقی پذیر اس دھارے میں یونہی منسلک کئے رکھا اور دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج کے ہم قدم رہے مذ ہبی فرقہ ورانہ تعصبات کےخلاف سینہ سپر رہے تو پھرکوئی وجہ نہیں ہے کہ ابھرتی ہوئی علاقائی معیشتوں میں پاکستان شامل ہونے سے پیچھے رہ جائے ہے ’ہمت ِ مرداں مدد ِ خدا‘ ۔

Google Analytics Alternative