Home » 2019 » June

Monthly Archives: June 2019

سلیکٹڈ کی بات وہ کر رہے ہیں جنہوں نےامریکا کو این آر او کیلئے کہا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ کی بات وہ کر رہے ہیں جنہوں نےامریکا کو این آر او کیلئے کہا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شہبازشریف نے دکھ بھری تقریر کی اور الزام ہمارے اوپر ڈال دیا، شہباز شریف نے کہا روپیہ گر گیا ہے  وہ یہ بھی بتا دیتے کہ قیمتیں کیوں گریں؟ روپے کی قیمت گرنے کی وجوہات بھی بتا دیتے۔

عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ جس کو مجرم کہے وہ پارٹی کا سربراہ کیسےبن سکتا ہے وہ جن پر عوام کے پیسے چوری کرنے کا الزام ہے وہ اسمبلی میں تقریر کیسے کرسکتے ہیں، اسپیکر صاحب آپ نے بھی انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہاں کے پاکستانیوں کا 10 ارب ڈالر باہر پڑا ہوا ہے، یہاں سے پیسا باہر لے جانے کے ذمےدارتو یہ لوگ ہیں جب کہ  یہ لوگ تاریخی خسارہ چھوڑ کرگئے اور ہم سنبھال رہے ہیں تو اس پر سوال کررہےہیں؟

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اور لعنت منی لانڈرنگ ہے، منی لانڈرنگ پر پورا کریک ڈاؤن کریں گے اور کوشش ہے نچلے طبقے پر کم سے کم بوجھ پڑے، 70 فیصد بجلی صارفین کے لئے 270 ارب کی سبسڈی رکھی ہے جب کہ کسانوں کے لیے ایک جامع پیکیج لے کر آ رہے ہیں۔

معیشت کو لگی بیماری کا علاج ان ہاؤس تبدیلی نہیں نئے انتخابات ہیں، شہباز شریف

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معیشت کو لگی بیماری کا علاج ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں، وزیر اعظم اور ٹیم ناکام ہو چکی ہے اور واپس بھیجی جا چکی ہے اب سلیکٹڈ لوگ آ گئے ہیں ، معاشی ٹیم وہی چلا رہے ہیں۔ غریب آدمی علاج کے بغیر مر رہا ہے جب کہ ہمارے دور میں مفت معیاری دوائیاں فراہم کی جارہی تھیں، ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی آواز بنیں گے،بجٹ میں ہمارا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان 71 سالہ ملکی تاریخ کا جھوٹا ترین اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہے، لفظ سلیکٹڈ نہ گالی ہے، نہ دشنام طرازی اور نہ ہی اخلاق سے گرا لفظ ہے بلکہ ڈکشنری کا مہذب لفظ ہے، وزیراعظم نے اتنی بڑی فاش غلطی کی ہے کہ لفظ سلیکٹڈ ان کی چڑ بن گیا ہے اور یہ چڑ قیامت تک ان کے ساتھ جائے گی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ رانا تنویر کا نام چیئرمین پی اے سی کے لئے پارٹی نے دے دیا ہے، اسی وجہ سے پی اے سی میں نہیں جا رہا، پارٹی یہ بھی فیصلہ کرچکی ہے کہ خواجہ آصف پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔ میں پارٹی کے فیصلے کا پابند ہوں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے تاہم یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے، معیشت کو لگی بیماری کا علاج ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات ہیں، ان ہاؤس تبدیلی کے بجائے نئے مینڈیٹ کو ترجیح دیں گے، آئین میں مڈٹرم الیکشن کی گنجائش ہے۔

تجارتی محاذ پر امریکا اور چین ’جنگ بندی‘ پر متفق

اوساکا: امریکا اور چین نے گزشتہ ایک برس سے ایک دوسرے پر ٹیکسوں کی گولہ باری کو روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’تجارتی جنگ بندی‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق  جاپان میں ہونے والی جی-20 سمٹ کے دوران چین اور امریکا کے صدور کے درمیان سائیڈ لائن ملاقات میں اختلافات دور ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک نے ’تجارتی جنگ بندی‘ کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد نہیں کریں گے۔

تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ماحول کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک اہم ڈیل طے پا گئی ہے۔ تجارتی جنگ کے بادل چھٹ جانے کے عالمی تجارت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور خطے میں امن و استحکام کو دوام حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے عہدہ سنبھالتے ہی ملکی معاشی پالیسیوں کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے چین کے ساتھ تجارتی محاذ کھڑا دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کیے تھے اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا جس کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔

وسط مدتی انتخاب کا دعویٰ شہبازشریف کےذہنی دیوالیہ پن کا اظہار ہے، نعیم الحق

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے مطالبے کو سنجیدگی سے لینا ممکن نہیں، وسط مدتی انتخاب کا دعویٰ ان کے ذہنی دیوالیہ پن کا واضح اظہار ہے۔

ملک میں وسط مدتی انتخاب سے متعلق شہباز شریف کے بیان پر نعیم الحق نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے مطالبے کو سنجیدگی سے لینا ممکن نہیں، وسط مدتی انتخاب کا دعویٰ ان کے ذہنی دیوالیہ پن کا واضح اظہار ہے، عام انتخابات میں شکست کے زخم چاٹنے والے کسی نئے انتخاب کے متحمل نہیں ہوسکتے، یہ جانتے ہیں کہ انتخابات ہوئے تو عمران خان دوتہائی سے زیادہ کی اکثریت لے جائیں گے۔

شہباز شریف کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی چھوڑنے سے متعلق نعیم الحق نے کہا کہ حزب مخالف کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس عہدے کے لئے ہفتوں پارلیمان کو یرغمال بنائے رکھا، شہباز شریف کی جانب سے پی اے سی کی سربراہی چھوڑنے کا اعلان بھی انتشار کے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

نعیم الحق نے کہا کہ قوم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ حزب مخالف کا ایجنڈا انتشار اور فساد سے زیادہ کچھ نہیں،حزب مخالف کے اسلام آباد میں ہونے والی نشست سے بھی انتشار کے علاوہ کچھ برآمد نہ ہوا، اس کے ساتھ یہ ٹولہ ایوان بالا کے چیئرمین کیخلاف محاذ برپا کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جو مرضی سازش کرلیں، قومی اداروں کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی جماعت سمیت حزب اختلاف بجٹ منظور نہ ہونے دینے کی کھلی دھمکیاں دیتی رہی، حکومت نے پارلیمان کی پوری کارروائی براہ راست نشر کی اور قوم نے دیکھا کہ کس طرح پارلیمان کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی، حزب اختلاف کی تمام تر چیرہ دستیوں اور سازشوں کے باوجود بجٹ کی منظوری وزیراعظم اور ان کی حکومت کا کارنامہ ہے، سیر حاصل بحث کے بعد پارلیمان سے بجٹ کی منظوری پر وزیراعظم، تحریک انصاف اور اتحادی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

آرمی چیف کامستقبل کی راہیں متعین کرنے کے حوالے سے کلیدی خطاب

ملک کے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے انتہائی کلیدی بیان دیاہے، کیونکہ ان حالات کے پیش نظریقینی طورپرحکومت مشکل فیصلے کررہی ہے اور یہ بات وزیراعظم متعدد بار اپنے بیانات اورقوم سے خطاب میں باور کراچکے ہیں کہ ہ میں مشکل فیصلے کرناپڑیں گے، ساتھ ہی انہوں نے ان مشکل فیصلوں کی وجوہات بھی بتائیں ، کہ ماضی میں کئے گئے غلط اقدامات کی وجہ سے آج ملک معاشی بحران کا شکار ہے ، ان ہی حالات کو پیش نظررکھتے ہوئے آرمی چیف نے بھی کہاکہ مشکل حکومتی فیصلوں کو کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے ،یقینی طورپر جب تک اس حوالے سے سارے ساتھ نہیں دیں گے اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار ہونا مشکل بات ہے ، پھرجنرل قمرجاویدباجوہ نے ایک اورانتہائی بات کہی کہ وقت آگیاہے ہم سب ایک قوم بن کرسوچیں ،یہ بات بھی درست ہے کیونکہ جب تک ہم من حیث القوم مل کرکوئی فیصلہ نہیں کریں گے اس وقت تک منزل کوحاصل نہیں کرپائیں گے، کسی بھی ملک اور قوموں کی ترقی میں معیشت کاکردار ریڑھ کی ہڈی جیسا ہوتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت آئی ہے جو کرپشن کے خلاف انتہائی اہم اقدامات کررہی ہے ،پھر یہ بات بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں جبکہ ماضی میں ایسا کہیں خال خال ہی نظرآتاہے ،جمہوری سیاستدانوں اور فوج میں تقریباً زیادہ تر چپقلش رہی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں یہ بات کہیں نظرنہیں آرہی ،آج حکومت اور فوج ملکر ملک کو درپیش ہرقسم کے بحران سے نکالنے کےلئے کوشاں ہے، ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اگر دنیا میں سراٹھاکرجیناچاہتے ہیں ،ملک کو ترقی یافتہ دیکھناچاہتے ہیں ،کرپشن کاخاتمہ چاہتے ہیں ، انصاف کابول بالاچاہتے ہیں ، معیشت کومضبوط چاہتے ہیں ،ملک میں امن وامان چاہتے ہیں ،مہنگائی کو کنٹرول کرناچاہتے ہیں ، دن دگنی رات چوگنی ترقی چاہتے ہیں ، صنعتی وزرعی ترقی چاہتے ہیں ، دنیا کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کربات کرناچاہتے ہیں ،سرحدوں کو محفوظ بناناچاہتے ہیں ، ایک باوقارقوم کی طرح خودمختارحیثیت سے جیناچاہتے ہیں ، پارلیمانی نظام کوپھلتاپھولتادیکھناچاہتے ہیں ، ملک میں آئین وقانون کابول بالا دیکھنا چاہتے ہیں ، ایوانوں میں قانون سازی چاہتے ہیں اوراداروں کی آزادی چاہتے ہیں تو ہ میں حکومت کے مشکل فیصلوں کوکامیاب بنانے میں حکومت کاساتھ دینا ہوگا، تب ہی ہم تمام تروسائل سے سرخرو ہوکرنکل سکیں گے، انہی حالات کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی معیشت کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل حکومتی فیصلے کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے، ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے،کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ،یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے، حکومت نے طویل مدتی فوائد کے حصول کیلئے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کئے،معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی کا کوئی تصور نہیں ، مشکل فیصلے نہ کرنے سے مسائل بڑھے، قومی اہمیت کے امور پر کھل کر بات چیت ضروری ہے، حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی قومی اہمیت کے معا ملا ت پر بات چیت ضروری ہے، خطہ کی ترقی کےلئے علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہو گا، ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں ، مشکل فیصلے کرنے سے مختلف ملک معاشی بحران سے کامیابی سے نمٹے، ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب مختلف ممالک کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا، معاشی کاوشوں کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو ذمہ داری پوری کرنا ہو گی، انشا اللہ ہم ان مشکل حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے، ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، معاشی استحکام کے بغیر خود مختاری کا تصور بے معنی ہے، مسلح افواج نے سالانہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لے کر ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ حکومتی اقدامات کی کامیابی کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، ہم تمام تر مشکلات کے باوجود موجودہ معاشی حالات سے نکلنے کیلئے پرامید ہیں ۔ سابقہ ادوار میں مستقل سکیورٹی خطرات، معاشی پالیسیوں اور مالیاتی نظم و ضبط میں عدم تسلسل اور مشکل فیصلہ نہ لینے کے باعث موجودہ معاشی صورتحال کا سامنا ہے ۔ آرمی چیف کا بیان حوصلہ افزاء ہے ،قوموں پرمشکل وقت آتا رہتا ہے تاہم اس کاڈٹ کرمقابلہ کیاجاسکتاہے ،اب بھی ضرورت اس مر کی ہے کہ پوری قوم ایک ہو اورملکرمشکلات کامقابلہ کرے، جب تک ملک پربھاری قرضے کابوجھ نہیں اترے گا اس وقت تک بحران جنم لیتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی بار سویلین اور ملٹری لیڈرشپ قوم کی بقا اور ترقی کےلئے ایک پیچ پر ہیں ، پاکستان موجودہ حالات سے ضرور نکلے گا، لیڈرشپ مشکل حالات میں فیصلے کرتی ہے تو مثبت اثرات نظر ;200;تے ہیں ۔ حکومت معیشت کو صحیح کرنے کےلئے پُرعزم ہے ۔ قوموں کے نصیب میں ایسے کلیدی دن کبھی کبھی ہی آتے ہیں جب وژن والے لیڈراُن کے حکمران ہوں ،آرمی چیف کے بیان دیتے ہی وہ ڈالرجوکسی طرح قابونہیں آرہاتھا،مشیرخزانہ بھی کہہ چکے تھے کہ ڈالر کی اڑان روکناہمارے قابو میں نہیں ،لیکن آرمی چیف کے صرف ایک بیان سے ڈالرتقریباً چار روپے نیچے آگیا، اوراگرجنرل باجوہ کے سنہر ے اقوال پرہم سب ملکرعمل کریں تو پھرملک اورقوم کیوں نہیں تمام مسائل سے نکل کرفخرسے جی سکتے ہیں ۔

قومی اسمبلی سے بجٹ2019-20منظور

عمران خان نے کہاتھا کہ فکرمندنہ ہوں بجٹ پاس کرالیں گے بس یہی کپتان کا خاصاہے کہ جو وہ کہتاہے وہ کرتاہے ،قومی اسمبلی میں بجٹ پاس ہوگیا،اب یہ صدرمملکت کی منظوری کے بعدتیس جون کو ملک بھر میں نافذالعمل ہوجائے گا ۔ قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2019-20کا 7036 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا،فنانس بل پر حکومتی ترامیم کثرت رائے سے منظور جبکہ اپوزیشن کی تمام 34ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں ، فنانس بل کوشق وار منظوری کےلئے زیرغور لانے کی تحریک کی حمایت میں 176حکومتی و اتحادی ارکان اور مخالفت میں اپوزیشن نے 146ووٹ دیئے فنانس بل کی منظوری پر حکومتی ارکان نے وکٹری کے نشان بنائے اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے فنانس بل کی منظوری پر نو نو کے نعرے لگائے گئے اپوزیشن جماعتوں نے فنانس بل میں 2شقوں کے اضافے پر شدید احتجاج کیا ، حکومت پر تنقیدکرتے ہوئے ن لیگ کے احسن اقبال نے کہاکہ یہ بجٹ عوام کیلئے زہر قاتل ہے ،پرویزاشرف نے کہاکہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرے، مسلم لیگ(ن)کے رہنما اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئی ایم ایف کا بجٹ مستردکرتے ہیں ، یہاں وزرا جھوٹ بولتے ہیں کوئی شرم حیا نہیں رہ گئی جس پر وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو یہ لاعلم ہیں ، انہوں نے بجٹ پڑھا ہی نہیں ،یہ بجٹ کسی اقامہ والوں نے نہیں بنایا،پی پی پی کے دور میں 24فیصد مہنگائی تھی، (ن)لیگ کے دور میں ایک لاکھ تنخواہ پر 5ہزار ٹیکس تھا، ہم نے 2500کیا ہے، سرکاری قرضوں پر اعداد شمار کا ان کو پتا نہیں ہے ۔

پانی کی فی کس دستیابی میں کمی، لمحہ فکریہ

پاکستان میں سطح زمین پر پائے جانے والے پانی کی فی کس دستیابی بتدریج کم ہورہی ہے ۔ جو 1951 ء میں 5300 کیوبک فٹ تھی اور 2002 ء تک کم ہو کر 1300 کیوبک فٹ رہ گئی تھی اور اب مزید کم ہو رہی ہے جو ’’پانی کی کمی والے ملک‘‘ کی نشاندہی کرتی ہے ۔ پاکستان کی معیشت کا دارومدار بنیادی طور پر زراعت پر ہے ۔ یہ سب سے بڑا شعبہ ہے جس سے جی ڈی پی کا بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے اور جس کا برسرروزگار افرادی قوت میں 48;46;4 فیصہ حصہ ہوتا ہے ۔ ملک کی آبادی کا تقریباً 68 فیصد دیہات میں رہائش پذیر ہے جن کا روزگار بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ہماری 70فیصد برآمدات ایسی اشیاء پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ جن کی پیداوار زراعت پر ہے ۔ پانی زراعت میں مرکزی کردار اداکرتا ہے ۔ ہماری 90 فیصد غذائی ضروریات آبپاشی کے ذریعے زراعت کی مرہون منت ہیں جو سوا چار کروڑ ایکڑ اراضی پر محیط ہے اور جو زیر کاشت رقبے کا 80فیصد بنتا ہے جبکہ باقی ماندہ ضروریات ایک کروڑ ایکڑ بارانی زمینوں سے پوری کی جاتی ہیں ۔ پاکستان کا کل رقبہ 19 کروڑ 60لاکھ ایکڑ ہے جس میں سے7 کروڑ 71لاکھ ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہے ۔ قابل کاشت رقبے کا 71فیصد جو 5کروڑ 45لاکھ ایکڑ پر محیط ہے، آبپاشی یا بارشوں کی مدد سے پہلے ہی زیر کاشت ہے ۔ باقی 29فیصد قابل کاشت اراضی جو 2کروڑ 26 لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہے اسی صورت میں پیداوار دینے کے قابل بنائی جا سکتی ہے اگر اس کو آبپاشی کےلئے پانی فراہم کیا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی زرعی صلاحیت کا ایک تہائی سے کچھ کم حصہ استعمال میں نہیں لایا جارہا کیونکہ اس کےلئے پانی اور دیگر متعلقہ ڈھانچہ دستیاب نہیں ہے ۔ پاکستان میں پانی کے استعمال پر آبادی میں اضافے، دیہات سے شہروں کی طرف منتقلی اور صنعتوں کے قیام کی وجہ سے پانی کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ طلب و رسد میں بڑھتے ہوئے تفاوت سے کمی اور غیر صحت مندانہ مقابلے کا رجحان پیدا ہورہا ہے جس سے بین الصوبائی کشیدگی پیدا ہورہی ہے اور بعض علاقوں میں مسلسل سیم، جب کہ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی بہت حد تک گر جانے کی وجہ سے ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہورہاہے ۔ زیر زمین پانی کے بہت زیادہ اور غیر متوازن اخراج سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر میں کڑوا پانی مل رہا ہے، جو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ خشک سالی کے دوران پانی کی روز افزوں کمی کا تقاضا ہے کہ پانی کو محفوظ کیاجائے ۔ پانی کے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے اور آبپاشی کے زیادہ بہتر طریقے اپنانے کےلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، غذائی خود کفالت، سماجی اور معاشی خوشحالی، غربت کا انسداد اورماحول کا تحفظ ممکن نہیں ہو سکے گا اور انجام کا غذائی کمی بلکہ ملک میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ پاکستان میں آبپاشی کی ضروریات زیادہ تر دریائے سندھ سے پوری کی جاتی ہیں ۔ جس کا اوسط سالانہ بہاؤ 138سے 145ایم اے ایف ہے ۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ مقدار 123;46;5ایم اے ایف ہے ۔ کوٹری سے نیچے جانے والے پانی کا اوسط سالانہ بہاؤ1977 ء میں 35ایم اے ایف رہا ہے جبکہ سندھ کے اندازے کے مطابق سمندر میں دس ایم اے ایف جانا ضروری ہے ۔ سمندر کو جانے والے 10ایم اے ایف اور منبع پر استعمال کےلئے 5ایم اے ایف کو نکال کر دریائے سندھ کے پانی کی 20ایم اے ایف مقدار ایسی بچتی ہے جو وفاقی حکومت اور بعض ماہرین کی رائے کے مطابق سیلابوں کے موسم میں ذخیرہ کر کے کمی والے عرصہ کے دوران استعمال کی جا سکتی ہے ۔ اس لئے ان کا استدلال ہے کہ نئے ذخائر کی تعمیر از بس ضروری اور قابل عمل حل ہے ۔ بالخصوص ان حالات میں جبکہ موجودہ بڑے ذخائر (چشمہ، منگلا اور تربیلا) میں ریت بھر رہی ہے اور وہ اپنی گنجائش کا 25فیصد پہلے ہی کھو چکے ہیں ۔ کالا باغ کا ڈیزائن بالکل تیار ہے ۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت محسوس کرتی ہیں کہ ان منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں آبی وسائل کی دستیابی اور ان کی ترقی بتدریج ایک بحران کی شکل اختیار کرتی رہی ہے اور اب اس نے ایک ایسے گھمبیر بین الصوبائی تنازع کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے ۔ اس کا حل پانی سے متعلق وعدوں کی پابندی کے لئے سیاسی عزم پیدا کرنے میں پنہاں ہے ۔ پانی سے تعلق رکھنے والے پیشہ وارانہ ماہرین کو وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی تناظر کے بہتر فہم کی ضرورت ہے اور سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ آبی وسائل کے معاملات کے ہر پہلو سے مکمل آگہی رکھیں ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اور بالخصوص اراکین پارلیمنٹ کو اب ان مسائل پر کام کرنا چاہیے ۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے معاہدہ، کوٹری سے نیچے سمندر کو جانے والے پانی کی حد کے تعین کے لئے کی جانے والی سٹڈی کی ٹرم آف ریفرنس، ترقی یافتہ ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب، پانی کا تحفظ، آبپاشی کی جدید تکنیکوں اور ٹیکنالوجیز کا استعمال، سیلابوں اور خشک سالی کی پیشگی اطلاع دینے والی جدید ٹیکنالوجی کا حصول، پانی کے معیار کی اصلاح جو اس وقت صحت عامہ کے لئے مضر ہے زمینی پانی نکالنے کی جدید تکینکوں کا اپنانا، پہاڑی ریلوں سے بہاؤ کے ذریعے آنے والے پانی کو جمع کرنا، پانی کی آلودگی کا انسداد، پانی کے شعبے میں ادارتی ڈھانچے کی اصلاح،پانی سے متعلق جامع قانون کی تیاری اور سطح زمین پرپانی کا انتظام بہتر بنانا ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو تنازعات کے حل کےلئے مشترکہ مفادات کی کونسل جیسے آئینی میکانزم کو فعال بنانا چاہیے ۔

بھارتی پولیس مسلمان دشمنی میں اندھی، مقتول کو ہی قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

جے پور: بھارتی پولیس نے انتہا پسند ہندو جنونیوں کے ہاتھوں بے دری سے قتل ہونے والے پہلو خان اور ان کے بیٹوں پر ہی گائے کی اسمگلنگ کی دفعات لگا کر چارج شیٹ دائر کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجھستان پولیس نے 2017ء میں شدت پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کے باعث ہلاک ہونے والے پہلو خان اور اس کے دو بیٹوں کے خلاف گائے کی اسمگلنگ کی دفعات لگا کر چارج شیٹ عدالت میں جمع کرادی۔

راجستھان پولیس نے جنونی ہندو قاتلوں کو بچانے کے لیے مسلمان تاجر پہلو خان کے بیٹوں 25 سالہ ارشاد اور 22 سالہ عارف پر جانوروں کے تحفظ کے قانون کے سیکشن 5، 8 اور 9 کی دفعات لگائیں جب کہ مقتول پہلو خان پر بھی سیکشن 6 لگا کر تعصب کی نئی مثال قائم کردی۔

واضح رہے کہ پہلو خان کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل پر دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں جن میں سے ایک ہجوم کے خلاف قتل پر جب کہ قتل کے کیس کو کمزور کرنے کے لیے دوسری ایف آئی آر پہلو خان کے خاندان کے خلاف گائے کی اسمگلنگ پر درج کرائی گئی تھی۔

ایل جی کے نئے بجٹ اسمارٹ فونز کی سیریز متعارف

ایل جی نے اپنی نئی بجٹ اسمارٹ فونز ڈبلیو سیریز کی ڈیوائسز متعارف کرادی ہیں تاکہ شیاﺅمی اور سام سنگ جیسی کمپنیوں کا مقابلہ کرسکے۔

ایل جی ڈبلیو 10، ڈبلیو 30 اور ڈبلیو 30 پرو اسمارٹ فونز کو بھارت میں متعارف کرایا گیا ہے۔

ایل جی ڈبلیو 10 اس سیریز کا سب سے سستا فون ہے جس میں 6.19 انچ ایچ ڈی پلس فل ویژن ڈسپلے دیا گیا ہے جس کے ٹاپ پر آئی فون ایکس جیسا نوچ موجود ہے۔

اس فون میں میڈیا ٹیک ہیلیو پی 22 پراسیسر دیا گیا ہے جبکہ 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

اس کے بیک پر 13 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل پر مشتمل دوئل کیمرا سیٹ اپ ہے جبکہ 8 میگا پکسل فرنٹ کیمرا ہے۔

اس میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے اور اس کی قیمت 130 ڈالرز (20 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

ایل جی ڈبلیو 30 میں 6.26 انچ کا واٹر ڈراپ نوچ والا ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 12 میگاپکسل، 13 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ ہے اور فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا موجود ہے۔

اس کی قیمت 145 ڈالرز (23 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے جو آئندہ ماہ سے فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔

ڈبلیو 30 پرو میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 632 پراسیسر، 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج موجود ہے۔

اس کے علاوہ بیک پر 13 میگاپکسل، 8 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ ہے۔

اس کی قیمت کا فی الحال اعلان نہیں کیا گیا۔

ان تینوں فونز میں ایک خاص فیچر اسٹیرو پلس ساﺅنڈ ہے جبکہ اینڈرائیڈ پائی اسٹاک آپریٹنگ سسٹم موجود ہے۔

Google Analytics Alternative