Home » 2019 » June » 02

Daily Archives: June 2, 2019

قومی اسمبلی۔۔۔اراکین دست وگریباں ،اچھی روایت نہیں

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس، محسن داوڑ اورعلی وزیرکے پروڈکشن آرڈ ر کے حوالے سے سینیٹ میں حکومت کو شکست اورقومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی آپس میں دست وگریباں ہوگئے ، پی ٹی ایم کے دونوں اراکین کوایوان میں لانے کے مطالبے پرہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جبکہ سپیکراراکین کوروکتے رہے، سینیٹ میں راجہ ظفرالحق کی قرارداد پر حکومتی سینیٹر نے شورشرابہ مچایا، چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کاگھیراءو کیاگیا یہ کوئی اچھی رروایات نہیں ، قومی اسمبلی قانون سازی کرنے کی جگہ ہے نہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ دھینگامشتی کرنے کی،جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے مستردکردیاگیا، قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی جمال الدین کے علی وزیر کی گرفتاری اور پروڈکشن ;200;رڈرز کے اجرا کے حوالے سے ایوان میں خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ نعمان اسلام شیخ اور دیگر نے ایوان میں نعرے بازی شروع کردی ۔ اسی اثنا میں وہ سپیکر ڈائس کے گرد جمع ہوگئے اور اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کردی ۔ اس پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں کراچی کو پینے کے پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پوسٹر لہرائے جس پر پیپلز پارٹی کے نعمان اسلام شیخ نے پی ٹی ;200;ئی کے ایک رکن سے پوسٹر لے کر پھاڑ دیا اور دونوں ارکان کے درمیان تلخ کلامی اور نوک جھونک بھی ہوئی جس پر ڈپٹی سپیکر نے نوٹس لیتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا ۔ قبل ازیں پی پی مسلم لیگ ن اور جے یو ;200;ئی کی طرف سے علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن ;200;رڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت شہریار ;200;فریدی نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ایک نیا قانون بنایا گیا کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں بسنے والے پختون کو 1979 سے پہلے کے ملک میں موجود ہونے کے شواہد فراہم کرنے ہیں اور نادرا کو بھی حکم دیا گیا کہ جس پٹھان کی بھی مشابہت افغانی سے ہو اس کا شناختی کارڈ بلاک کردیا جائے ۔ پی ٹی ;200;ئی کی حکومت نے پختونوں کے ایک لاکھ 87 ہزار سے زائد بلاک شناختی کارڈ جاری کرائے اور نادرا سے مشابہت والی شق ختم کرائی ۔ طاہر داوڑ شہید پاکستان کا بیٹا تھا ۔ تمام اراکین توجہ مبذول نوٹس کے ذریعے یہ تفصیلات حکومت سے طلب کرے ۔ اس مسئلہ پر سیاست نہ کی جائے ۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ جو پاکستان اور اس کے جھنڈے کو نہ مانے اور جس کی وجہ سے ملک میں افراتفری اور فساد پھیلے اس کو یہاں رہنے اور اس ایوان میں بیٹھنے کا بھی کوئی حق حاصل نہیں ایسے ارکان کی رکنیت منسوخ کی جائے، علی محمد خان نے کہا کہ اس خطہ میں دو بڑی جنگیں لڑی جاچکی ہیں ۔ اس سے یہاں غیر معمولی حالات رہے ہیں ۔ ہم نے 30 سے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو رکھا ہوا ہے ۔ پاکستان نے قربانی کی مثال قائم کی ۔ افغانستان سے طاہر داوڑ کی لاش ملی ہے ۔ ہمارا سوال بنتا ہے کہ پاکستان کے بیٹے کی لاش وہاں سے کیوں ملی ہے پھر انہوں نے لاش پاکستان کے وزیر داخلہ کے حوالے کرنے کی بجائے منظور پشتین کے حوالے کرنے پر اصرار کیا ۔ یہ لوگ اپنے جلسوں میں پاکستان کا جھنڈا تک نہیں لانے دیتے جس کی وجہ سے ملک میں افراتفری اور فساد پھیلے اس کو ایوان میں بیٹھنے کا بھی حق نہیں ہے اس کی رکنیت منسوخ کی جائے ۔ جو پاکستان اور اس کے جھنڈے کو نہیں مانتا یہاں رہنے کا بھی اس کو حق نہیں ہے ۔ علی محمد خان کے خطاب کے دوران بلاول سمیت حزب اختلاف کے ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا ۔

اوآئی سی اجلاس،عمران خان کی سائیڈلائن ملاقاتیں

وزیراعظم عمران خان کی سعودی عرب میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں پاکستان افغانستان پر بات چیت ہوئی ۔ ملاقات میں افغان امن عمل سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن چاہتا ہے، افغانستان میں امن سے خطے کا امن جڑا ہوا ہے ۔ پاکستان اپنے ہمسائیہ ملک میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔ عمران خان کی مصر کے صدرعبدالفتح السیسی سے بھی ملاقات ہوئی جس میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر تفصیل غور کیا گیا، دونوں رہنماں نے مختلف شعبوں میں جامع تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ اوروفد کے ساتھ عمرہ کی ادا ئیگی کی ۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کی دعا بھی کی ۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں امن و استحکام کا قیام پاکستان کی شدید خواہش رہی ہے کیونکہ افغانستان میں امن و امان ہوگا تو اس سے پاکستان بھی مضبوط و مستحکم ہوگا ۔ افغان امن عمل کےلئے پاکستان کی سنجیدہ کوششیں اور خارجہ پالیسی لائق تحسین ہے ۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،مہنگائی کانیاطوفان

حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کیا ہے، پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 26 پیسے ،ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 50 پیسے ،مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپیہ 69 پیسے اور ایل او ڈی کی قیمت میں ایک روپیہ 68 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی فی لیٹر قیمت پٹرول 112;46;68 روپے ڈیزل 126;46;82 روپے فی لیٹر مٹی کا تیل 98-46 روپے فی لیٹر اور لاءٹ ڈیزل 88-62 روپے فی لیٹر ہوگی اوگرا کی سفارش اس سے زیادہ کی تھی ۔ ایف بی ;200;ر کے مطابق پٹرول اور ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 13 فیصد کر دی گئی ہے مٹی کے تیل اور لاءٹ ڈیزل ;200;ئل پر جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد کر دی ۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا ایک نیاطوفان آگیاہے ۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد خام تیل کی قیمتیں مزید گرگئیں ، قیمتوں میں 3 فیصد کمی ہوئی جو نومبر کے بعد سے کسی ایک مہینے کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے، برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 2;46;22 ڈالر کمی کے بعد 64;46;65 ڈالر ہوگئی، اسی طرح امریکی تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی)کی قیمت میں 1;46;86 ڈالر کمی کے بعد فی بیرل قیمت 54;46;73 ڈالر فی بیرل ہوگئی ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی ہے جس کے باعث تیل کی قیمتیں مزید گرنے کا امکان ہے ۔ مئی کے مہینے میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں 11 فیصد کمی ہوئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 14 فیصد تک گری، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی ہے جس کے باعث تیل کی قیمتیں مزید گرنے کا امکان ہے ۔ ایک بیرل خام تیل 159لیٹر کے برابر ہوتا ہے ،ا س وقت فی بیرل خام تیل کی قیمت 64;46;49ڈالر ہے ، اس طرح فی بیرل تیل کی قیمت 9ہزار 471پاکستانی روپے بنتی ہے اور اس حساب سے پاکستان میں فی لیٹر کے حساب سے خام تیل کی قیمت 59روپے 56پیسے بنتی ہے ۔ خام تیل سے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور ایل پی جی سمیت درجن سے زائد پٹرولیم مصنوعات نکلتی ہیں ۔ اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے ۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ گزشتہ پورا ماہ تیل کی قیمتیں گراوٹ کا شکار رہیں ۔

مودی کی دوبارہ آمد سے بھارتی مسلمان پریشان

بھارتی عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے سربراہ نریندر مودی نے مسلسل دوسری مرتبہ حلف اٹھالیا ۔ بھارت میں کانگریس کے بعد بی جے پی نے لگاتار دوسری مرتبہ حکومت بنائی ہے ۔ حلف برداری تقریب میں بھارت کی اہم شخصیات کے علاوہ بنگلہ دیش، نیپال ، بھوٹان، سری لنکا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ گزشتہ حلف برداری کی تقریب کے برعکس اس مرتبہ کسی پاکستانی سرکاری شخصیت کو دعوت نہیں دی گئی ۔ 2014 میں مودی کی 45 رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا مگر2019 میں اس کی تعداد 75 تک ہوگئی تھی ۔ مودی کے دوسری مرتبہ انتخابات جیتنے پر ملک میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کو خدشہ ہے کہ مودی کے دور اقتدار میں ہندو قوم پرست سیاست دان مسلمان شہریوں کے سیاسی ، سماجی اور معاشرتی مفادات کا نہ صرف استحصال جاری رکھیں گے بلکہ اس میں کئی گنا اضافہ بھی ہوگا ۔ بھارت میں وزیر اعظم نریندرا مودی کے گزشتہ دور حکومت میں مسلم مخالف مہم اور مسلمان شہریوں پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ۔ ہندو انتہا پسند بھارت میں سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آئے ۔ ان پر مسلمانوں کو ہراساں اور بدنام کرنے کا بھوت سوارتھا حتیٰ کہ وہ مسلمانوں سے اپنی نفرت کی وجہ سے تاج محل جیسے تاریخی ورثے کی اہمیت کو بھی محض اس وجہ سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہ ایک مسلم حکمران نے تعمیر کروایا تھا ۔ مغل بادشاہ شاہجہان کی طرف سے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا گیا یہ مقبرہ عجائبات عالم میں شامل ہے اور لازوال محبت کا استعارہ ہے ۔ یہ شاید بھارت کا سب سے قیمتی تاریخی ورثہ اورسیاحوں کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔ سنگ مرمر سے بنی اس عمارت جس پر قرآنی آیات تحریر ہیں کو ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد دیکھنے آتے ہیں ۔ اس حقیقت کے باوجود بھارتی حکام نے ریاست اتر پردیش جس کے شہر آگرہ میں تاج محل واقع ہے، کے سیاحتی بروشر سے اس کا تذکرہ مٹادیاتھا ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ انتہا پسند ہندو رہنما ادتیا ناتھ یوگی کا تعلق مرکز میں حکمران جماعت بی جے پی سے تھا ۔ اس جماعت کے ایک اور انتہا پسند رہنما سنگیت سوم نے ایک بیان میں کہا کہ تاج محل غداروں کا تعمیر کردہ اور بھارتی ثقافت پر دھبہ ہے ۔ بی جے پی کے انتہا پسند رہنما اب کھلم کھلا یہ کہنے لگے تھے کہ بھارت میں مسلمانوں کو قابل نفرت دشمن نہیں تو اس حیثیت سے رہنا ہوگا کہ وہ ہندووَں کے رحم و کرم پر رہیں ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے فسادات میں دو ہزار سے زیادہ افراد کا قتل اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہندو انتہا پسند مسلم دشمنی میں کس حد تک جاسکتے ہیں ۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی اور ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والی ہندو اکثریتی ریاست میں مسلمان سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی سترہ کروڑ کے قریب ہے ۔ بھارت کے یہی مسلمان اس بارے میں ابھی سے خوف کا شکار ہیں کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی ایک بار پھر ملکی وزیر اعظم بن گئے ہیں تو اب انہیں کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شمالی بھارتی شہر اعظم گڑھ روایتی طور پر مسلمان علماء اور شاعروں ادیبوں کا شہر رہا ہے ۔ اسی شہر میں ابھی حال ہی میں جب چھ سرکردہ ریٹائرڈ مسلم ماہرین تعلیم آپس میں ملاقات کے لیے مل بیٹھے تو ان میں سے ہر ایک دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ان خدشات کا اظہار کر رہا تھا کہ مودی کا پھر سربراہ حکومت بن جانا بھارتی مسلمانوں کے لیے اپنے اندر کیا کیا اندیشے اور خطرات لیے ہوئے ہو گا ۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارت کے کئی شہروں کے مسلمانوں سے منسوب نام صرف اس لیے بدلے جا چکے ہیں کہ اس ملک کے مغل مسلم حکمرانوں کے دور سے جڑے ماضی پر پردہ ڈالا جا سکے ۔ اس کے علاوہ کئی نصابی کتب کو بھی اس لیے تبدیل کر دیا گیا کہ بھارت کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار کو کم کر کے دکھایا جا سکے، جو تاریخی حقائق کو جھٹلانے کی سیاسی کوشش ہے ۔ اس کے علاوہ گائے کو ذبح کرنے کے بعد میں غلط ثابت ہونے والے شبہات کے نتیجے میں درجنوں مختلف واقعات میں مشتعل ہندو حملہ آور بہت سے مسلمانوں کو ہلاک بھی کر چکے ہیں ۔ ایسے میں بھارتی مسلمانوں میں مودی کے ممکنہ طور پر دوسرے دور اقتدار سے پہلے پایا جانے والا خوف قابل فہم بھی ہے اور فی الحال مستقبل میں اس سے نکلنے کا کوئی یقینی راستہ نظر بھی نہیں آتا ۔

آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات کومجروح نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم

مکہ المکرمہ: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جب کہ مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں

او آئی سی کے 14 ویں سربراہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کوئی مذہب معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردی کواسلام سے الگ سمجھنا ہوگا، اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے، نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پردہشتگردی کا لیبل درست نہیں، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے جب کہ دنیا کواسلامو فوبیا سے نکلنا ہوگا۔

بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں اورفلسطینیوں پرمظالم ڈھائے گئے، نائن الیون سے پہلے زیادہ ترخودکش حملے تامل ٹائیگرزکرتے تھے، تامل ٹائیگرزکے حملوں کا تعلق کسی نے مذہب سے نہیں جوڑا، اسرائیل نے دہشتگردی کومعصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، جولان کی پہاڑیاں فلسطین کا حصہ رہنی چاہئیں، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔

کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے

عمران خان نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کیلیے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں، مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نا گزیرہے، کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہیے، ہمیں معیاری تعلیم پرخصوصی توجہ دینا ہوگی، اسلامی دنیا کوسائنس وٹیکنالوجی پرتوجہ دینا ہوگی جب کہ اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے سائنس وٹیکنالوجی کیلیے کام کرنا ہوگا۔

ٹوائلائٹ کے ہیرو رابرٹ پیٹنسن ’بیٹمین‘ کا کردار نبھائیں گے

ہالی وڈ کی فلم ٹوائلائٹ سے مشہور ہونے والے اداکار رابرٹ پیٹنسن اب بیٹمین کا کردار ادا کریں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وارنر بروز اسٹوڈیو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بیٹمین کی آنے والی نئی فرنچائز میں بیٹمین کا کردار اداکار رابرٹ پیٹنسن ادا کریں گے جنہوں نے فلم سائن کرلی ہے۔

بیٹمین کے کردار کے لیے اداکار نیکولس ہالٹ کا نام بھی لیا جارہا تھا تھا لیکن ان کے بجائے رابرٹ پیٹنسن کو انتخاب کیا گیا ہے۔

فلم ’دی بیٹمین‘ میٹ ریوس کی ہدایت کاری میں بنائی جائے گی جو دو برس بعد 2021 میں جون تک ریلیز کی جائے گی۔

امریکا کی بھارت کو ہری جھنڈی، ترجیحی تجارتی ملک کا درجہ ختم کردیا

واشنگٹن: امریکا نے بھارت کو حاصل ترجیحی تجارتی فائدہ اٹھانے والے ترقی پذیر ملک کا درجہ ختم کر دیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوسری بار وزیراعظم بنتے ہی ایک اور محاذ پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے، امریکا نے منڈیوں تک مناسب رسائی فراہم کرنے میں ناکامی پر بھارت کے ساتھ ترجیحی تجارتی پروگرام کو ختم کردیا۔ بھارت کےجی ایس پی درجے کو ختم کرنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کیا جس کا اطلاق 5 جون سے ہوگا۔

قبل ازیں 5 مارچ 2019 کو بھارت کو لکھے گئے ایک خط میں امریکی صدر ٹرمپ نے موقف اپنایا تھا کہ بھارت اپنی منڈیوں تک امریکا کو رسائی دینے کی یقین دہانیاں کرانے میں ناکام رہا ہے جس کے باعث امریکا نے بھارت کو دیئے گئے جی ایس پی کا درجہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مارچ میں لکھے گئے خط پر بھارت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا تھا اور جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار کی ساری توجہ لائن آف کنٹرول پر بلاجواز فائرنگ اور اشتعال انگیزی کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلانے میں رہی جس کا خمیازہ غربت کی چکی میں پستی عوام کو اُٹھانا پڑے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کے جی ایس پی پروگرام کے تحت بعض ممالک کو 3 ہزار سے زائد اشیاء پر ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی نمو کے لیے پروگرام پر یکم جنوری 1976 سے عمل کیا جارہا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے جی ایس پی کا درجہ تجارتی ایکٹ 1974 کے تحت دیا جاتا ہے۔

لیلتہ القدر کو تلاش کرو ،رمضان کی طاق راتوں میں

بیشک رمضان المبارک بڑی بزرگی والا اوراللہ تعالی کی بیشمار رحمتوں ، برکتوں ،عظمتوں اور تلاوت قرآن پاک والامہینہ ہے جس کے اول تا آخر ایام میں ربِ ذالجلال نے بڑی حکمتیں رکھی ہیں جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور اِس ماہِ مبارکہ کے تیسرے اور سب سے آخری عشرے میں جہنم سے آزادی کی نوید سُنائی گئی ہے یوں اِن تمام خصوصیات کے حامل رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہی خیر و برکت سے لبریز ہے اور اِس کے شام و سحر میں رب کائنات اللہ رب العزت اپنی بےشمار انوار و تجلیات آسمان سے زمین کی جانب نزول فرماتاہے ویسے تو اِس ماہِ مبارکہ کی ہر گھڑی اور ہر ساعت اپنے اندر اہل ایمان کے لئے بےشماربرکتیں لیئے ہوئے ہوتی ہیں مگر اِس ماہِ مبارکہ کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تو اہل ایمان پر رحمتوں برکتوں اور عظمتوں کا نزول اپنے عروج کو پہنچ چکا ہوتاہے اِس لئے کہ اِس ماہِ مبارکہ آخری عشرے کی اِن پاک پانچ ۱۲،۳۲،۵۲،۷۲ اور ۹۲ طاق راتوں میں سے ایک عظیم رات جوشبِ قدر کہلاتی ہے اِن تاریخوں میں آتی ہے ۔ اور اِسی رات میں قرآن کریم لوحِ محفوظ سے بیت المعمور پر اتاراگیاجس کی تعریف میں اللہ تعالی نے خود ہی قرآن کریم فرقانِ حمید میں پوری ایک سورت القدر نازل فرمائی اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمادیاہے کہ’’بے شک ! ہم نے قرآن کریم کو شبِ قدر میں اتاراہے،اور تم نے کیاجاناہے کہ شبِ قدر کیاہے;238;لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہترہے،اِس شب میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کے حکم سے ہر کام کے لئے زمین پر اترتے ہیں ،شبِ قدر کی شب سلامتی ہی سلامتی ہے صبح چمکنے تک‘‘قرآن کریم کی اِس سورت میں اللہ تعالی نے فرمایاہے کہ ہم نے قرآن کریم کو ایک رات میں اُتاراہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایاہے کہ ’’ہم نے اِسے رمضان کے مہینے میں اُتاراہے‘‘ اور تاریخ اور واقعات یہ بتاتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام 23سال کی مدت میں اِسے لاتے رہے اِس میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ لیلتہ القدر کو جو ماہِ رمضان المبارک میں ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم فرقان حمید کو لوحِ محفوظ سے بیت المعمور( آسمان دنیا پر ایک جگہ ہے) میں اُتارا اورپھر وہاں سے ہی حضرت جبریل علیہ السلام حضور پرنور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں 23سال تک لاتے رہے ۔ کیوں کہ قرآن کریم اِسی ماہِ رمضان المبارک میں ہی اُتاراگیا ہے اِسی لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اِس بابرکت مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کی جائے اور وہ اِس لئے بھی کہ اِس کلام ِ الہی کی تلاوت سے ہی قلب کو سکون حاصل ہوتاہے اور روح کو تسلی نصیب ہوتی ہے ۔ جس کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے : ’’ دلوں کو اطمینان اللہ کے ذکر سے ہی ہوتاہے‘‘حضرت نعمان ;230; سے روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’میری اُمت کی سب سے بڑی عبادت قرآن کریم کی تلاوت ہے‘‘اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’ یہ مقدس رات اللہ تعالی نے فقط میری اُمت کو عطافرمائی ہے سابقہ اُمتوں میں سے یہ شرف کسی کو نہیں ملا‘‘جس سے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ;230; سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘ حضر ت عائشہ صدیقہ;230; سے ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اِس مبارک رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں 21رمضان المبارک سے 29رمضان المبارک تک کے درمیان تلاش کرو کیوں کہ اِس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے‘‘اِس شب سے ہی متعلق حضور نبی کریم ﷺ کا ایک اور ارشاد گرامی ہے کہ ’’ جس شخص نے شب ِ قدر میں اَجروثواب کی اُمید سے عبادت کی ،اِس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ‘‘ اِسی طرح حضرت ابوہریرہ;230; سے ایک روایت ہے کہ رسول عربیﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شبِ قدر میں عبادت کے لئے کھڑا رہا اِس کے تمام گناہ معاف ہوگئے‘‘ ۔ امام زہری ;231; فرماتے ہیں کہ قدر کے معنی مرتبے کے ہیں چوں کہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف اور مرتبے کے لحاظ سے بلند ترہے اِس لئے اِسے ’’ لیلتہ القدر‘‘ کہا جاتا ہے ۔ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے جمہور اِس پر متفق ہیں کہ رمضان المبارک کی 27ویں شب ہی شبِ قدر ہے جو کہ شرف وبرکت والی رات ہے اور اِس شب میں اعمالِ صالحہ مقبول ہوتے ہیں اور بارگاہِ رب ذوالجلال میں اِس کی بڑی قدر ہے اِس لئے اِسے شب قدر کہتے ہیں ۔ یہ اُمت محمدی ﷺ پر اللہ تعالی کا کرمِ خاص ہے کہ اِس نے اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی اُمت کو ایک ایسی رات شبِ قدر عطا فرمائی ہے کہ جس کی ایک رات کی عبادت83سال چار ماہ سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ;230; سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’ جس نے لیلتہ القدر کو شب بیداری کی،اِس رات میں دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑا کراپنی بخشش کی دعاکی تو اللہ تبارک تعالی اِس کے گناہ معاف فرمادے گا، گویا کہ اِس شخص نے اللہ تعالی کے دریائے رحمت میں غوطہ لگالیا ۔ جبرئیل علیہ السلام اِسے اپنا پر لگائیں گے اور وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا ۔ ‘‘مفسرین تحریر کرتے ہیں کہ شب قدر کی اہمیت کا اندازہ اِس سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ اِس شب میں عبادت کرنے والے انسان کو جس وقت روح الامین آکر سلام کرتے اور اِس سے مصافحہ کرتے ہیں تو اِس پر خشیت الہی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اوراِس کے بدن کا رواں رواں کھڑاہوجاتاہے اور اِس کی آنکھیں ڈبڈباجاتی ہیں ۔ بس تو پھرآج یہاں ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُمت مسلمہ اِس رات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اِس کے تمام تقاضوں کو پوراکرے اور اِس شب میں چوں کہ قرآن مجید فرقان حمید کا نزول ہوا ہے اِس لئے بغیر کسی حیل و حجت کے اِس رات میں دنیاوی خرافات اور شیطانی وسوسوں اورچکروں میں پڑنے کے بجائے اِس مقدس شب کوکثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کی جائے کیوں کہ ویسے تو پورے رمضان ہی قرآن کی تلاوت کا اپنا اَجر وثواب ہے مگر اِس شب کو خصوصیت کے ساتھ تلاوت قرآن کرنا،قرآن سننا اور اِس کا اہتمام کرنے کا بھی اپنا علیحدہ ہی اَجر وثواب ہے اور اِس شب میں نوافل، استغفار اور درود و سلام کی کثرت بھی اِس شب کی عبادات میں شامل ہیں یہ بھی خصوصی درجہ رکھتی ہیں ۔ یوں تو یہ خوش نصیبی صرف امت محمدیﷺ کو ہی حاصل ہے کہ آج کی اِس شب ، شب قدر کی عبادت میں کھڑے انسان پر ربِ ذوالجلال کی خاص عنایتوں کا نزول ہورہاہوتاہے اور وہ اِن ہی رحمتوں ، برکتوں اور عنایتوں کواپنے دامن میں سمیٹنے کے لئے اِس شب کا پورے سال بھربڑی بے چینی اور بیتابی سے انتظار کررہاہوتاہے ۔ تاکہ اپنے رب ذوالجلال کی اِس شب، شبِ قدر کی بابرکت ساعتوں سے فیضاب ہوسکے جو آج کی شب اللہ تعالی اپنے بندوں پر آسمان سے جھم جھم برسارہاہے ۔

مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران محصولات میں ریکارڈ کمی کے ساتھ صرف 447 ارب روپے وصول کرسکی۔

جولائی اور مئی کے درمیانی عرصے میں کی گئی وصولی میں غیر معمولی کمی کے باعث بجٹ خسارہ توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔

ایف بی آر ریونیو میں کمی کے نتیجے میں بجٹ خسارہ بڑھے گا بلکہ رواں مالی سال میں صوبوں کو منتقل ہونے والے شیئرز میں بھی غیر معمولی کمی آئے گی۔

اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران صرف 33 کھرب 3 ارب روپے وصول کیے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 37 کھرب 51 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ حکومت نے مالی سال 19-2018 کے لیے ریونیو وصولی کا ہدف 43 کھرب 97 ارب روپے طے کیا تھا۔

اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ تمام ٹیکس ادائیگیوں میں ہدف کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آئی۔

کم وصولی آئندہ مالی سال کے لیے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج کے لیے اٹھائے گئے ایف بی آر کے اصلاحاتی اور آمدنی کے اقدامات کو عیاں کرتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ 20-2019 میں 600 ارب روپے مالیت کے آمدنی اقدامات نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

کسٹم کلیکشن میں کمی کی بڑی وجہ فرنس آئل کی درآمدات پر پابندی، استعمال شدہ گاڑیوں اور غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے۔

کسٹم حکام کے مطابق ڈالر کی قدر میں تنزلی اور کھانے پینے کی چیزوں کی درآمد میں 20 فیصد کمی کے باعث ریونیو وصولی میں 15 فیصد اور ہوئی۔

اس سے قبل رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ایف بی آر کی وصولی میں 3 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جبکہ جولائی سے اپریل کے دوران شارٹ فال 356 ارب روپے سے زائد رہا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ 34 افراد شہید، 5 خواتین کی عصمت دری

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے گزشتہ ماہ 34 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جن میں سے 3 کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور 5 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

کشمیر میڈیا سیل کے مطابق جنت نظیر وادی میں گزشتہ ماہ مئی میں رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی قابض بھارتی فوج نے بنیادی انسانی اور  مذہبی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری رکھا۔

مئی کے 31 دنوں میں 34 کشمیری نوجوانوں کو بیدری سے شہید کیا گیا جن میں 3 نوجوان دوران حراست غیر انسانی تشدد کے باعث ہلاک ہوئے جب کہ 156 معصوم شہریوں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا۔

قابض بھارتی فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ تمام اخلاقی حدوں کو پار کرتے ہوئے گزشتہ ماہ 5 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ 601 شہری براہ راست فائرنگ، پیلٹ گن کی گولیوں اور آنسو گیس شیلنگ سے زخمی ہوئے۔

نوجوانوں کو شہید، بزرگوں اور بچوں کو زخمی اور خواتین کی عصمت دری سے قابض بھارتی فوج کا دل نہ بھرا تو 39 مکانوں کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بتا کر تباہ کردیا گیا جب کہ ان گھروں میں معصوم خاندان آباد تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جدوجہد آزادی کشمیر کے علمبردار اور مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندی کا استعارہ بننے والے نوجوان شہید برہان وانی کے قریبی ساتھی ذاکرموسیٰ کو بھارتی فوج نے شہید کردیا تھا جس کے بعد سے کشمیریوں پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

Google Analytics Alternative