Home » 2019 » June » 03

Daily Archives: June 3, 2019

وزیراعظم عمران خان کا اوآئی سی سے خطاب اور اعلان مکہ

چودھویں دوروزہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلان مکہ کشمیریوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ،جبکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جاتا ہے،اسرائیل کوبھی آگاہ کیا گیا کہ وہ شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے مکمل طور پر نکل جائے، او آئی سی نے مشترکہ طور پررکن ممالک پر زور دیا ہے کہ ایسے ممالک کا بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے اپنے سفارتخانے بیت المقدس منتقل کیے ہیں ۔ جبکہ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے، انہوں نے او آئی سی پر بھی زور دیا کہ وہ مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف اٹھے ۔ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جہاں جامع اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی طرف پیش رفت کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں وزیراعظم عمران خان کا خطاب مغرب کے رویے کو بے نقاب کرنے اور جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے ۔ وزیراعظم نے فلسطین مقبوضہ کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے اہم ایشو پر کھل کر بات کی ۔ اسلاموفوبیا کو مذہبی تعصب قرار دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اسلاموفویبا میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا ثبوت مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے امت مسلمہ کے مشترکہ موقف کو دوہراتے ہوئے کہا کہ اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کوئی مذہب بے گناہوں کو مارنے کا نہیں کہتا،دہشت گردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہوگا ۔ مغربی ممالک اعتدال پسند مسلمانوں اور انتہاپسندوں کے درمیان فرق ضرور کریں ۔ انہوں نے او آئی سی کی ناکامی اور نا اہلی کی طرف بجا طور پر متوجہ کرتے ہوئے کہ ہم دیگر ممالک پر یہ واضح نہیں کرسکے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں ،یہ ہمارا کام ہے کہ مغربی عوام کو بتائیں کہ جب ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تومسلمانوں پر کیا گزرتی ہے،اس لیے ہ میں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین جیسے فورمز پر انہیں بتانا ہوگا کہ وہ آزادی اظہارِ رائے کے نام پر ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں اوآئی سی ممالک نے کو جاندارپیشرفت نہیں کی ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ پر ہی سار ازور رہا ہے ۔ تاہم مغربی ممالک کے دوہرے معیارکو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جنہیں ہولو کاسٹ کے خلاف اظہار خیال پر تکلیف ہوتی ہے لیکن اسلام اور اس کی مقدس ترین ہستیوں توہین کو آزادی اظہار کے پیرائے میں لیتے ہیں ،جس سے اسلام کے سوا ارب پیروکاروں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔ اسی طرح اپنے بنیادی حقوق کے لئے لڑنے والے کشمیری اور فلسطینیوں کی جدوجہد بھی دہشت گردی محسوس ہوتی ہے ۔ عمران خان نے بجاکہا کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر دہشت گردی کا لیبل درست نہیں ہے ۔ مسئلہ فلسطین پر او ;200;ئی سی کے مشترکہ اعلامیے میں بڑی تفصیل سے بات کی گئی اور اسرائیل کے ان اقدامات کی مذمت کی گئی جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور دو ریاستی حل کو مشکل بنانا ہے ۔ او ;200;ئی سی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ان ملکوں کے خلاف مناسب اقدامات کریں جنھوں نے اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر رکن ممالک ایسا کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں تواس کے کافی مثبت نتاءج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں دیرینہ اور حل طلب ایشوز ہیں جن پر عالمی برادری ;200;نکھ مچولی کھیل رہی ہے ۔ اسی لئے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ عالمی قراردادوں کے مطابق اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے،مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے، آزاد،خودمختارریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا حق ہے ۔ اجلاس میں ہرقسم کی دہشتگردی,انتہاپسندی،تعصب پسندی کی مذمت کی گئی ۔ عالمی برادری سے خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لئے کردار ادا کرنے کامطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے ایسا کوئی فارمولہ تسلیم نہیں کیا جائے گا جو فلسطینیوں کے جائز حقوق کو تسلیم نہ کرتا ہو ۔ دہشت گردی کوشہریت،مذہب،یاکسی علاقے سے نہیں جوڑا جا سکتا ، مذہب، رنگ نسل کی بنیادپرعدم برداشت،امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہیں ۔ اعلامیے میں نفرت ،امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے برداشت ،احترام،بات چیت ا ور تعاون پر زو دیاگیا ۔ او ;200;ئی سی کا یہ نمائندہ اجلاس اور اعلان مکہ اپنی نوعیت اور ٹائمنگ کے حوالے سے بڑا اہم ہے کیونکہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کا اعادہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ صدر کے مشیر جارڈ کشنر مشرق وسطیٰ کے بارے امن معاہدے جسے ڈیل ;200;ف سنچری قرار دیا جا رہا ہے،کے اقتصادی پہلووَں کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ جارڈ کشنر ان دنوں مشرق وسطیٰ میں ہیں جو امن منصوبے کا اعلان ;200;ئندہ کچھ روز میں بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کریں گے ۔ اس متوقع امن منصوبے کو فلسطینی نمائندے پہلے ہی رد کر چکے ہیں ۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کا حل او ;200;ئی سی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور جب تک فلسطینی بھائیوں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل جاتے او ;200;ئی سی کی تمام تر توجہ اس پر مرکوز رہے گی ۔

شمالی وزیرستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اچانک اضافہ

شمالی وزیرستان میں حالیہ دنوں میں چند شر پسندوں کی منفی سرگرمیوں کی وجہ سے دہشت گردوں نے حوصلہ پاتے ہوئے اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ گزشتہ روز بھی پاک فوج کی ایک پٹرولنگ گاڑی کونشانہ بنایا گیا جس میں ایک سپاہی شہیدہو گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں کیا گیا ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق حملے میں 26سالہ سپاہی امل شاہ شہید ہوگئے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی ایم کے مٹھی بھرعناصر کی سازش سے علاقے کا امن ایک بار پھر داوَ پر لگ گیا ہے اورشمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ ایک ماہ کے دوران علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 5اہلکار شہید اور 31زخمی ہوچکے ہیں ۔ مذکورہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے 26 مئی کو خرقمر چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے سے ملتے ہیں ۔ اس روز شمالی وزیرستان میں بویا سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کیا تھا، جسکے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے تھے ۔ خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد ایک روز قبل گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباوَ ڈالنا تھا ۔

بہن کی تعیناتی کے لیے نیکٹا کو لکھا گیا خط واپس لیں، وزیراعظم کا زرتاج گل کو حکم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے ماحولیات زرتاج گل کو اپنی بہن کی تقرری کے لیے نیکٹا کو لکھا گیا خط واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے ماحولیات زرتاج گل کو اپنی بہن کی تقرری کے لیے نیکٹا کو لکھا گیا خط واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ سفارش پر تقرریاں پی ٹی آئی کی روایات کے خلاف ہیں، پی ٹی آئی حکومت میں کوئی شخص اپنے عزیز و اقارب کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا، تحریک انصاف نے ہمیشہ اقربا پروری کی مخالفت کی لہذا حکومتی شخصیات عہدوں کا فائدہ اٹھا کر رشتہ داروں کو نواز نہیں سکتیں۔

پی ٹی آئی نے ملک بھر کے تمام پارٹی عہدے تحلیل کردیے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر کے تمام پارٹی عہدے تحلیل کردیے۔   

پی ٹی آئی نے ملک بھر کے تمام پارٹی عہدے تحلیل کردیے جس کے بعد چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں پارٹی کے موجودہ ڈھانچے اور ونگز ختم کردیے گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے نئے پارٹی انتخابات کے پیش نظر ملک بھر کے عہدے تحلیل کیے۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین، چیف آرگنائزر، وائس چیئرمین اور سیکرٹری جنرل سمیت پارٹی کے سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری اطلاعات اپنے عہدوں پر کام جاری رکھیں گے۔

بلیوبیری بھی ’سپرفوڈز‘ کی دوڑ میں شامل

گلاسگو: حال ہی میں ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر روزانہ 150 گرام بلیوبیریاں کھائی جائیں تو دل کے امراض کا خطرہ 15 فیصد تک ٹل سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ بلیوبیری کے بعض اجزا خون کی روانی کو بہتر بناتے ہیں اور شریانوں اور رگوں کی سختی دور کرتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے ماہرین نے کی ہے جس میں 138 سے زائد فربہ خواتین و حضرات کو روزانہ 150 گرام بلیوبیری کھلائی گئی تھیں۔ اس مطالعے میں شامل افراد کی عمر 50 سے 75 سال کے درمیان تھی۔ اس تمام عرصے میں لوگوں میں کارڈیو میٹابولک سنڈروم یا سی ایم ایس کو نوٹ کیا گیا جس میں ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دیگر ایسے عارضوں کو دیکھا جاتا ہے جو دل کی بیماری کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کیفیت میں سب سے پہلے خون کی رگیں متاثر ہوتی ہیں۔

چھ ماہ تک مسلسل بلیو بیری کھلانے کے بعد ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بلیوبیری رگوں کی سختی کم کرتی ہیں اور خون کے بہاؤ کو بڑھاتی ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ 12 سے 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

لیکن بلیو بیری کے فوائد یہاں ختم نہیں ہوتے۔ اس سے قبل لندن میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بلیو بیری کا باقاعدہ استعمال بچوں میں ذہانت اور دماغی صلاحیت میں 9 فیصد تک اضافہ کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے بچوں کو ذہین بنانے میں یہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں موجود خاص فلیوینوئڈز بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں۔ بلیو بیری جلد کو صحتمند رکھتی ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں، ذیابیطس میں انتہائی مفید ہےاور اس میں موجود خاص اجزا کئی اقسام کے کینسر کو روکنے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلیوبیری دماغی صحت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ماوَ نواز تحریک بھارت کی سلامتی کیلئے خطرہ

بھارت کی ماوَ نواز تحریک جسے عرف عام میں نکسلائیٹ بھی کہا جاتا ہے بھارت کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے ۔ ماوَ نواز نکسل باڈی تحریک جس کا آغاز نکسل پارٹی سے ہوا تھا اب بھارت کی 20 ریاستوں تک پھیل گئی ہے ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بھارت کی حکومت کروڑوں لوگوں کو ان کی زندگی کی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ یہی محرومی آگے چل کر حکومت وقت کے خلاف ایک بڑی تحریک بن گئی اوران کے علاقوں میں عملاً بھارتی عملداری ناکام ہو کر رہ گئی ہے ۔ اب یہ تحریک بھارت کے 626 اضلاع میں سے ایک تہائی اضلاع میں پھیل چکی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں کی تحریک بھارت پر زیادہ سیاسی اور فوجی دباو بڑھا رہی ہے ۔ 2006ء سے اب تک ماوَ نوازوں کے حملوں میں 4 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ اس سال ماوَ نواز عناصر کے حملوں میں 990 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ بھارتی حکومت اقتصادی ترقی کے لئے توانائی‘ کوئلہ اور تیل کی ضروریات کے لئے جن علاقوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے ان میں وہ علاقے شامل ہیں جو اس وقت ماوَ باغیوں کے قبضے میں ہےں ۔ کئی غیر ملکی کمپنیاں جو بھارت میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ ماوَ نواز باغیوں کے خوف سے ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہیں ۔ علیحدگی پسند تنظیم ماوَ بھارت کو مفلوج کر کے 2050 ء تک اس پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہیں بھارت کے سابق فوجیوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں انہوں نے نکسلاءٹس بھارت تحریک کو بتدریج بڑھایا ہے ۔ ہندوستان کی حکومت مختلف ریاستوں میں سرگرم ماوَنواز باغیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر رضامند ہو گئی ہے ۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس ماوَنوازوں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ مرکزی فورسز انہیں ضروری مدد فراہم کریں گی ۔ نئی حکمت عملی کے مطابق تقریباً ستر ہزار سنٹرل پیرا ملٹری فورسز اور اعلیٰ سطح کے کمانڈوز کو ماوَنواز باغیوں کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا جائے گا ۔ ان اہلکاروں کو فوج اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹر بھی مدد فراہم کریں گے ۔ مرکزی حکومت اب مزید 14000 فوجی ان ریاستوں میں آپریشن کے لیے بھیج رہی ہے ۔ مرکزی فورسز کے علاوہ ان ریاستوں کے ہزاروں پولیس اہلکار بھی ماوَ نوازوں کے خلاف موجودہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ خفیہ اداروں کا کہنا ہے ماوَ نوازوں کے پاس تقریباً 20000 چھاپہ مار جوان ہیں جو اچھی طرح تربیت یافتہ او رمسلح ہیں ۔ کولکتہ سے تقریباً پونے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر لال گڑھ علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اور وہاں ماوَنواز باغیوں کا بول بالا ہے ۔ ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے مغربی مدنا پور ضلع کے لال گڑھ علاقے میں ماوَنواز باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے ۔ پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کے جوان علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جس کے سبب وہاں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ سینٹرل ریزرو فروس اور پولیس کی کچھ کمپنیاں لال گڑھ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور مورچہ سنبھال لیا ہے ۔ حکومت کی کارروائی کے پیش نظر ماوَ نواز باغیوں نے بھی مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور درختوں کو کاٹ کرگاؤں کے راستوں کی ناکہ بندی کردی ہے ۔ ماوَنواز باغیوں نے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور انسانی دیوار بنا رکھی ہے ۔ ماوَ نواز باغیوں نے سب سے آگے خواتین اور بچوں کو رکھا ہے اور دوسرے نمبر پر معمولی ہتھیاروں سے لیس گاؤں والے ہیں ۔ سب سے پیچھے مسلح ماوَنواز ہیں جنہوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے ۔ ریاستی حکومت نے کارروائی سے پہلے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ماوَنوازوں سے دور ہٹ جائیں تاکہ لڑائی کے دوران وہ نشانہ نہ بن سکیں ۔ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں ۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے کئی کارکنان ہلاک ہوگئے تھے ۔ ان ریاستوں کے رہنے والوں کا مطالبہ ہے کہ و ہ بھارت کی غلامی میں رہنے پر ہرگز آمادہ نہیں لہٰذا انہیں آزاد کیا جائے ۔ علاقے کے تمام عوام اس مطالبے کے حق میں ہیں ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ بھارت سے علیحدگی کا یہ مطالبہ ہرگز نیا نہیں بلکہ یہاں کے عوام پچھلے58 برس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں مگر بھارتی حکمران اپنی روایتی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بزور طاقت فی الحال اس صوبے کو اپنے ناجائز قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ماوَ باغیوں کی گوریلا کارروائیاں بھارت میں ایک معمول بن چکی ہیں ۔ بھارت تو علیحدگی پسندوں کو ختم کرنے کا دعوی کررہا ہے لیکن میڈیا کا کہنا ہے کہ وہاں گروہ بندی ہو رہی ہے ۔ ان باغیوں نے یکجہتی کانفرنس بھی منعقد کی اور کوئی حکومت کا ذمہ دار ان سوالات کا جواب نہیں دے سکا کہ اس کانفرنس میں سو وفود کس طرح شریک ہوئے جن کا تعلق سولہ مختلف ریاستوں سے تھا ۔ اس کانفرنس میں پیپلز لبریشن آرمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلے بھی کئے گئے کہ تین سو خصوصی زونوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے داخلے کی مخالفت کی جائے گی ۔ بھارتی اخبار نے سوال کیا ہے کہ کیا اس ملک کے بنانے والوں نے اسی کا خواب دیکھا تھا اور کیا ہماری سیاست یہی کہتی ہے اور ہمارا مرکز ریاستوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہا ہے ۔ اخبار نے زور دیا ہے کہ مرکزی حکومت صوبائی رہنماؤں کو اعتماد میں لے اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی استعمال کیا جائے اور دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں ۔ دنیا بھر کے فلاسفر اس پر متفق ہیں کہ جہاں کوئی حکومت ریاست کی عملداری اور بالادستی برقرار نہ رکھ سکے وہ ناکام ریاست ہی کہلاتی ہے اور بھارت مبینہ دہشت گردوں کو اتنی بڑی تعداد میں اضلاع دیکر اس راستے پر چل نکلا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں ایک ہفتے کے دوران بھارتی فوج کے کرنل سمیت 3 اہلکاروں کی خود کشی

 سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ایک اور اہلکار نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی اس طرح ایک ہفتے کے دوران اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے بھارتی فوج کے اہلکاروں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔ 

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں کے علاقے نگروٹا ایریا میں بھارتی فوج کے 16 ویں دستے میں تعینات 27 سالہ یوگیش سنگھ نے درخت سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ خودکشی کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔

جموں پولیس نے بھارتی فوج کے اہلکار کی لاش کو درخت سے اتار کر اسپتال منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش فوج کے حوالے کردی گئی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

2 روز قبل بھارتی فوج کے ایک کرنل روہت شرما نے لیہ ضلع میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی، اسی طرح 26 مئی کو بھی ضلع بارہ مولا میں انجینیئرنگ ریجمنٹ-22  کے سپاہی تیروپتی راؤ نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی پست ہمتی اور ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی اور معمولی جھگڑے پر ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، 2017 سے تاحال 428 اہلکار خودکشی اور آپس کے جھگڑے میں ہلاک ہوئے۔

 

دوران حمل خواتین کو ڈپریشن کی شکایت ہوسکتی ہے: تحقیق

دوران حمل خواتین متعدد جسمانی و جذباتی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس دوران جسمانی تبدیلیوں کی جانب ان کا منفی رویہ بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔

سائیکولوجیکل اسسمنٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے حاملہ خواتین کے احساسات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے شکم میں موجود بچے کے ساتھ تعلق کس حد تک بہتر ہوسکتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد جذباتی صحت کیسی ہوسکتی ہے۔

انگلینڈ کی یونیورسٹی آف یارک سے منسلک جسمانی ساخت کی ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ، ’خواتین بچے کی پیدائش کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔‘

اسی لیے اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ حمل کے دوران صرف ماں اور بچے کی جسمانی صحت کا ہی خیال نہ رکھا جائے بلکہ خواتین کی جذباتی صحت کا بھی خاص خیال رکھا جائے، جذباتی صحت ہی ہمیں یہ اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے کہ بطور ایک ماں عورت طویل مدتی تناظر میں کس طرح کا ردِ عمل کا اظہار کرسکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حمل کے دوران جن خواتین نے اپنی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مثبت انداز میں محسوس کیا، ان کے اپنے جیون ساتھی کے تعلقات بڑی حد تک بہتر پائے گئے، ان میں ڈپریشن اور اینزائٹی کی شرح کافی حد تک کم پائی گئی۔

جبکہ وہ اندرونی یا بیرونی جسمانی حالات میں کسی قسم کی تبدیلی پر جسمانی طور پر ملنے والے اشاروں کو سمجھنے میں کافی بہتر رہیں۔ اس کے علاوہ ان کا اپنے شکم میں موجود بچے کے ساتھ زیادہ مثبت تعلق بھی پایا گیا۔

دوسری طرف وہ خواتین جو حمل کے دوران اپنی ظاہری جسمانی ساخت کو لے کر منفی احساسات رکھتی تھیں، انہیں حمل کے دوران اضافی جذباتی سہارے کی ضرورت لاحق ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ نیٹل ڈپریشن (یہ ایک قسم کا ڈپریشن ہے جس کا سامنا والدین کو بچے کی پیدائش کے بعد ہوتا ہے) کی علامات کے لیے مانیٹرینگ مطلوب ہوتی ہے۔

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ، ’بڑی حد تک یہ پایا گیا ہے کہ حمل کے دوران خواتین کا اپنی جسمانی تبدیلی کا تجربہ ماں اور بچے کی صحت پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے. لہٰذا خواتین کو زیادہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے نظام صحت میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان کا او ئی سی سے خطاب

مسلمان ممالک کی تنظیم او ;200;ئی سی کے اجلاس سے وزیراعظم نے پاکستان اور مسلمہ امہ کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے کوئی دس منٹ تک کا خطاب کیا ہے ایسے فورموں پر وہی باتیں کی جاتی ہیں جو وزیراعظم نے کی ہیں ہر فورم کا ایک اپنا ڈیکٹورم ہوتا ہے اور او ;200;ئی سی مسلمان ممالک کی تنظیم ہے وزیراعظم نے مسلم امہ کے ایک لیڈر کے طور پر کہا ہے کہ ;200;قا علیہ الصلوۃ والسلام نبی ;200;خر الزماں کی محبت کے تقاضے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنی جان و مال پر مقدم رکھیں اور مغربی دنیا میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں جانے انجانے میں جو منفی خبریں شاءع ہوتی ہیں مغرب کو بتائیں کہ وہ اس کی روک تھام کےلئے اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ نبی کریم کی ناموس کا تحفظ کریں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہم مسلمانوں کے لئے سب کچھ ہے اور ہم توہین رسالت کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ وزیراعظم نے مغرب میں اسلام کے خلاف مغربی میڈیا میں منفی رحجانات پر مبنی خبروں کے شاءع ہونے اور اسلامو فوبیا کے خلاف مسلمان ممالک کے لیڈروں کو سخت اقدامات اٹھانے اور اس ایشو کو یورپین یونین کے ساتھ اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارموں پر اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 9;47;11 کے بعد اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح استعمال ہوئی اور اسی کو عام کیا گیا جبکہ ہم دنیا کو سمجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے سب سے زیادہ 80 فیصد خوکش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے اور کسی نے اسے ہندو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا جبکہ جاپان کے پائلٹوں نے امریکن بحری بیڑون پر خود کش حملے کیے تھے کسی نے جاپان کے مذہب کو ان حملوں کا تعلق نہیں جوڑا جبکہ مغرب کو ;200;زادی اظہار رائے کی ;200;ڑ میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ 9;47;11 کے بعد فلسطین اور کشمیر کی جائز سیاسی تسلیم شدہ جدوجہد کو بھی اسلامی دہشت گردی کا رنگ دے دیا گیا اور فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم بڑھا دئیے گئے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا 1948 کی اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں حق خودارادیت کی قرار دوں پر عملدر;200;مد کیا جائے اور او سی سی ممالک کو اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وزیراعظم نے مقبوضہ بیت المقدس فلسطین اور مشرقی یروشلم فلسطین کا دارالخلافہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا اور گولان ہاءٹس کو 1967 کی اصلی حالت میں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق شام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وزیراعظم نے مسلمان ممالک کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے وسائل یونیورسٹیوں کی سطح پر معیاری تعلیم پر خرچ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجیز میں مسلم دنیا اپنا مقام پیدا کرے ۔ وزیراعظم نے تمام تر مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کا ذکر کیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے اور ان دونوں کو اپنے اختلافات ختم کرنے کے لئے بھی اس فورم پر ;200;واز اٹھاتے اور یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے اور غریب مسلمانوں کی نسل کشی کی روک تھام کیلئے بھی مسلمان ممالک کو ;200;ئینہ دکھاتے عمران خان اس حد تک تو کامیاب ہوئے کہ او ;200;ئی سی ممالک اب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے ;200;واز ;200;ٹھانے لگے اس سے پہلے تو عرب کشمیریوں کے لئے ;200;واز نہیں اٹھاتے تھے پاکستان کی دفتر خارجہ کو چاہیئے کہ کشمیریوں کی نمائندگی کے لئے ;200;زادکشمیر کو بطور مبصر او ;200;ئی سی کی مستقل رکنیت کی راہ ہموار کرے تاکہ کشمیری بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف براہ راست ;200;واز ;200;ٹھا سکیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈیڑھ عرب مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی کی لیکن پاکستان میں شاید کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب جاکر عمران خان کو توری، ٹماٹر اور بھنڈیوں کی قیمتوں کی بات کرنی چاہیے تھی ایسے لوگ پیٹ سے سوچتے ہیں جبکہ آج ہ میں فخر کرنا چاہیے کہ ہمارا وزیر اعظم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھلائی کی بات کر رہا ہے ۔ وہ مغرب میں زیر عتاب مسلمانوں اور اسلام کی بات کر رہا ہے اور اسی زبان میں ردیف، قافیے اور ہجوں کے ساتھ سمجھا رہا ہے جو مغربی دنیا سمجھتی ہے اسکو پوری مسلم دنیا میں سراہا جا رہا ہے ۔ لیکن کچھ میرے جیسے چھوٹے موٹے لوگ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر عمران خان کی مخالفت میں دن رات پراپیگنڈہ کرنے اور اپنا اپنا منجن بیجنے میں مصروف عمل ہیں سوشل میڈیا پر جھوٹ کی فیکٹریاں چلا ئی جارہی ہیں جن کا کام عمران خان کو ناکام دیکھنا ہے یہ سراسر جہالت ہے قابل شرم بات یہ ہے کہ وہ کوئی متبادل بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔

Google Analytics Alternative