Home » 2019 » June » 04

Daily Archives: June 4, 2019

معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے وزیراعظم کی کاروباری طبقے سے ملاقاتیں

6 جون، سکھوں کا قتل عام

بھارت میں جہاں ایک طرف کشمیر کے مسلمان بھارتی ظلم اور تشدد کا شکار ہیں تو وہیں ان مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے آسام اور خالصتان کی آزادی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں ۔ تحریک خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے ۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے ۔ 1980ء کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی ۔ 1984ء میں اْس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر بھارتی پولیس سکھوں پر پل پڑی ۔ 3 سے 8 جون تک ہونے والے’’ آپریشن بلیو سٹار’’ میں بھارتی فوج کے دس ہزار سورما، سیکڑوں سیکیورٹی گارڈز، پیراشوٹ رجمنٹ، توپ خانہ یونٹس کے اہلکاروں سمیت پولیس ریزرو پولیس 175 سے 200 سکھوں پر ٹوٹ پڑی ۔ بھارتی فوج نے اس آپریشن میں بے رحمی اور سفاکی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو کچل ڈالا ۔ اس دوران ہزاروں شہری بھی بھارتی ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ سکھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے ۔ بھارت نے تقسیم کے وقت سکھوں کو سبزباغ دکھا کر اورجھوٹے وعدے کرکے اپنے ساتھ ملایا تاہم سکھوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیاہے ۔ چنانچہ سکھ رہنما ماسٹرتاراسنگھ نے 28مارچ1953ء کو کہا:’’ انگریزچلاگیالیکن ہم آزاد نہ ہوسکے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی نہیں ، صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں ۔ پہلے سفید تھے اب کالے آگئے ہیں ۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر ہمارے پنتھ، ہماری آزادی اور ہمارے مذہب کو کچلا جا رہا ہے ۔ ‘‘ دنیا جانتی ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے دور میں آپریشن بلیوسٹار کے تحت سکھوں کے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی ، اس میں 10ہزارسکھ زائرین کو ہلاک کردیاگیاتھا ۔ جبکہ31اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ نے سکھوں کی نسل کشی کی منظم مہم شروع کی گئی ۔ اس مہم میں سکھوں کو جانی نقصان کا سامنا بھی ہوا، ان کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے، ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے گئے ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے ۔ ہزاروں سکھ قتل کردئیے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں 30ہزار سے زائد سکھ قتل کئے گئے ۔ ان میں سے زیادہ تر بے بس تھے جن کو اپنے گھر والوں یا محلے والوں کے سامنے زندہ جلادیاگیا ۔ مغربی ذراءع ابلاغ بھی سکھوں پر ہونے والے ظلم وستم پرخاموش نہ رہ سکے ۔ شواہدموجود ہیں کہ سکھوں کے خلاف ڈیتھ سکواڈز کی قیادت اس وقت کے وفاقی وزیر کمل ناتھ، ارکان پارلیمان سجن کمار، جگدیش ٹیٹلر، للت میکن، دھرم داس شاستری، ایچ کے ایل بھگت، ارون نہرو، ارجن سنگھ، حتیٰ کہ بالی ووڈ سٹار امیتابھ بچن کررہے تھے ۔ اپنی ماں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے سکھوں کی نسل کشی کی ان الفاظ کے ساتھ حمایت کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتاہے تو ساری زمین پر لرزہ ضرورطاری ہوتاہے ۔ بھارت میں سکھوں کو لگائے گئے زخموں پر مرہم نہیں رکھاگیا ۔ آپریشن بلیوسٹار کو غلطی قرار دیاگیا لیکن اس غلطی کا مداوا نہیں کیاگیا ۔ اس کے بعد ہونے والے ’’فسادات‘‘ کےلئے بھی تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن انھیں اختیارات حاصل نہیں تھے ۔ اب بھارت کو زخم لگانے اور پھر ان پر نمک چھڑکنے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا ۔ خالصتان کے قیام کیلئے پنجاب کی آزادی کی مہم پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سکھ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ سکھ ایک دوسرے کو ’ریفرنڈم 2020ء ‘ کا پیغام پھیلانے کے لئے بلا رہے ہیں ۔ اس تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ حق خودارادیت جس طرح ہر انسان کا قانونی حق ہے، اسی طرح سکھوں کا بھی حق ہے ۔ سکھ قوم اس یقین کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے کہ وہ 2020ء میں بہرصورت حق خودارادیت حاصل کرے گی ۔ 80ء اور90ء کے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا ۔ وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا ۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے ۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا ۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ’ریفرنڈم2020ء ‘ کے لئے تحریک چلارہے ہیں ۔ خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے ۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے ۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1;46;8فیصد ہے ۔ جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے ۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وژن اور اہداف میں بہت واضح ہیں ۔ انھوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے ۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا ۔ ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا ۔ ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا;238; خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا ۔ سمندرکا کنارا کامیاب ریاست کی ضمانت نہیں بن سکتا اور سمندر کا کنارا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ ریاست ناکام ہوگی ۔ خالصتان کے قیام سے بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد راستہ خالصتان سے ہی گزرتا ہے ۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں موجود سکھ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ممکنہ مملکت خالصتان میں مسلمان خالصتان تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

6 جون، سکھوں کا قتل عام

بھارت میں جہاں ایک طرف کشمیر کے مسلمان بھارتی ظلم اور تشدد کا شکار ہیں تو وہیں ان مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے آسام اور خالصتان کی آزادی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں ۔ تحریک خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے ۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے ۔ 1980ء کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی ۔ 1984ء میں اْس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر بھارتی پولیس سکھوں پر پل پڑی ۔ 3 سے 8 جون تک ہونے والے’’ آپریشن بلیو سٹار’’ میں بھارتی فوج کے دس ہزار سورما، سیکڑوں سیکیورٹی گارڈز، پیراشوٹ رجمنٹ، توپ خانہ یونٹس کے اہلکاروں سمیت پولیس ریزرو پولیس 175 سے 200 سکھوں پر ٹوٹ پڑی ۔ بھارتی فوج نے اس آپریشن میں بے رحمی اور سفاکی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو کچل ڈالا ۔ اس دوران ہزاروں شہری بھی بھارتی ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ سکھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے ۔ بھارت نے تقسیم کے وقت سکھوں کو سبزباغ دکھا کر اورجھوٹے وعدے کرکے اپنے ساتھ ملایا تاہم سکھوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیاہے ۔ چنانچہ سکھ رہنما ماسٹرتاراسنگھ نے 28مارچ1953ء کو کہا:’’ انگریزچلاگیالیکن ہم آزاد نہ ہوسکے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی نہیں ، صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں ۔ پہلے سفید تھے اب کالے آگئے ہیں ۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر ہمارے پنتھ، ہماری آزادی اور ہمارے مذہب کو کچلا جا رہا ہے ۔ ‘‘ دنیا جانتی ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے دور میں آپریشن بلیوسٹار کے تحت سکھوں کے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی ، اس میں 10ہزارسکھ زائرین کو ہلاک کردیاگیاتھا ۔ جبکہ31اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ نے سکھوں کی نسل کشی کی منظم مہم شروع کی گئی ۔ اس مہم میں سکھوں کو جانی نقصان کا سامنا بھی ہوا، ان کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے، ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے گئے ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے ۔ ہزاروں سکھ قتل کردئیے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں 30ہزار سے زائد سکھ قتل کئے گئے ۔ ان میں سے زیادہ تر بے بس تھے جن کو اپنے گھر والوں یا محلے والوں کے سامنے زندہ جلادیاگیا ۔ مغربی ذراءع ابلاغ بھی سکھوں پر ہونے والے ظلم وستم پرخاموش نہ رہ سکے ۔ شواہدموجود ہیں کہ سکھوں کے خلاف ڈیتھ سکواڈز کی قیادت اس وقت کے وفاقی وزیر کمل ناتھ، ارکان پارلیمان سجن کمار، جگدیش ٹیٹلر، للت میکن، دھرم داس شاستری، ایچ کے ایل بھگت، ارون نہرو، ارجن سنگھ، حتیٰ کہ بالی ووڈ سٹار امیتابھ بچن کررہے تھے ۔ اپنی ماں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے سکھوں کی نسل کشی کی ان الفاظ کے ساتھ حمایت کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتاہے تو ساری زمین پر لرزہ ضرورطاری ہوتاہے ۔ بھارت میں سکھوں کو لگائے گئے زخموں پر مرہم نہیں رکھاگیا ۔ آپریشن بلیوسٹار کو غلطی قرار دیاگیا لیکن اس غلطی کا مداوا نہیں کیاگیا ۔ اس کے بعد ہونے والے ’’فسادات‘‘ کےلئے بھی تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن انھیں اختیارات حاصل نہیں تھے ۔ اب بھارت کو زخم لگانے اور پھر ان پر نمک چھڑکنے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا ۔ خالصتان کے قیام کیلئے پنجاب کی آزادی کی مہم پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سکھ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ سکھ ایک دوسرے کو ’ریفرنڈم 2020ء ‘ کا پیغام پھیلانے کے لئے بلا رہے ہیں ۔ اس تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ حق خودارادیت جس طرح ہر انسان کا قانونی حق ہے، اسی طرح سکھوں کا بھی حق ہے ۔ سکھ قوم اس یقین کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے کہ وہ 2020ء میں بہرصورت حق خودارادیت حاصل کرے گی ۔ 80ء اور90ء کے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا ۔ وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا ۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے ۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا ۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ’ریفرنڈم2020ء ‘ کے لئے تحریک چلارہے ہیں ۔ خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے ۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے ۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1;46;8فیصد ہے ۔ جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے ۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وژن اور اہداف میں بہت واضح ہیں ۔ انھوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے ۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا ۔ ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا ۔ ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا;238; خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا ۔ سمندرکا کنارا کامیاب ریاست کی ضمانت نہیں بن سکتا اور سمندر کا کنارا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ ریاست ناکام ہوگی ۔ خالصتان کے قیام سے بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد راستہ خالصتان سے ہی گزرتا ہے ۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں موجود سکھ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ممکنہ مملکت خالصتان میں مسلمان خالصتان تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

سیکولر بھارت ۔ ۔ ۔ ۔ قلعی کھُلنے کو ہے ;238;

مودی کی سرکردگی میں 57 رکنی کابینہ حلف اٹھا چکی، ;667480; کے صدر امت شاہ کو اب بھارت کا وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے، نرملا سیتا رمن نئی وزیر خزانہ ہیں جبکہ راج ناتھ سنگھ کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان ہے ۔ وزارت خارجہ ایس جے شنکر کی صورت میں ایک ٹیکنوکریٹ کو سونپ دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ موصوف کے والد کے سبرامنیم بھارتی سیکورٹی اور سفارتکاری کے چوٹی کے ماہر سمجھے جاتے تھے، وہ بھارت کو ایٹمی قوت بنانے کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ کارگل معاملہ کے تمام پہلوءوں اور اس میں بھارتی کمزوریوں کا تجزیہ کرنے کیلئے جو کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ اس کے سربراہ بھی تھے ۔ اس بات سے بھی ہر کوئی آگاہ ہے کہ جے شنکر 2008 میں بھارت امریکہ ایٹمی تعاون کے سمجھوتہ کے خالق سمجھے جاتے ہیں ، وہ طویل عرصہ تک چین اور امریکہ میں بھارتی سفیر رہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی آئین کے مطابق کابینہ کا رکن ہونے کیلئے ایوان بالا یا ایوان زیریں کا رکن ہونا ضروری نہیں البتہ 6 ماہ کے اندر لوک سبھا یا راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کرنا لازمی ہے ۔ دوسری جانب بھارت کے اکثر علاقوں میں مسلم دشمنی شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے اور یہ عفریت ہر چیز کو نگلنے کو بے تاب نظر آتی ہے ۔ ایسے میں اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل قریب میں بھارت کی الیکٹورل ڈیموکریسی اور سیکولرازم کسی بڑے حادثے سے دوچار ہو جائیں ۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان میں جس انداز سے انتہا پسند ہندو نظریات کے تحت مذہبی دہشتگردی کو فروغ دیا گیا، اس نے اس معاملے کی دیگر جہتوں کو بھی بڑی حد تک اجاگر کر دیا ہے ۔ یوں بھارت میں محض وقت پر الیکشن کے انعقاد کو اگر جمہوریت اور سیکولرازم قرار دیا جائے تو یہ کسی ستم ظریفی سے کم نہیں کیونکہ ایک جانب مودی نے ہندو انتہا پسندی کا وہ بھیانک چہرہ پیش کیا ہے جس کا اعتراف ٹائم میگزین، گارڈین، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ سمیت دنیا بھر کے عالمی میڈیا نے کیا ہے تو دوسری جانب سیکولرازم کی دعویدار کانگرس نے بھی اپنی پوری انتخابی مہم میں سومنات، بدری ناتھ، کیدار ناتھ اور دیگر سبھی چھوٹے بڑے مندروں میں ہنومان ، درگا اور شیو کی اعلانیہ پوجا پاٹھ کی ۔ یوں اس بات کا اپنے قول و فعل سے اعتراف کر لیا کہ ان کی سیکولرازم اور جمہوری قدروں کی باتیں محض جملے ہیں یوں بھی اس دوران جس طور مقبوضہ کشمیر میں انسانی قدروں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ ، اپنے آپ میں ایسے المیے ہیں جن کا تصور بھی کوئی مہذب معاشرہ شاید ہی کر سکے ۔ اس تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش کی صوبائی راجدھانی بھوپال میں جس طور دگ وجے سنگھ 7 ہزار پنڈتوں کے جلو میں اپنی جیت کے لئے پوجا پاٹھ کرتے رہے، اسے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جا سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ وہی دگ وجے سنگھ ہیں جو ماضی قریب میں اعتراف کر چکے ہیں کہ زعفرانی دہشتگردی (سیفرن ٹیررازم) کے ذمہ دار ہندو دہشتگرد ہیں ۔ اس بابت بھارت کے سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کا سرکاری اعتراف بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ بھوپال سے دہشت گرد سادھوی پرگیہ ٹھاکر دگ وجے سنگھ کے مقابلے میں تین لاکھ سے زائد ووٹوں سے جیت گئیں ، کیونکہ انتہا پسند ہندوءوں کی اکثریت کی رائے ہے کہ اگر ووٹ ہندو انتہا پسندی کے نام پر ہی دینے ہیں تو راہل گاندھی اور مودی میں سے زیادہ ’’اہل‘‘ مودی ہیں ۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ مودی اور ;828383; کو بھی بخوبی احساس ہے کہ ہندو انتہا پسندی کیوجہ سے بھارت کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ، لہٰذا ;828383; کے سو سالہ قیام کا جشن ( 2025 ) تو مکمل انتہا پسندی کے ماحول میں منا لیا جائے، وگرنہ جانے بعد میں صورتحال کیا رخ اختیار کرے ۔ یہ بات بھی توجہ کی حامل ہے کہ سنجیدہ حلقے مصر ہیں کہ بھارت میں بڑھ رہی ہندو انتہا پسندی پر سرسری سی بھی نگاہ ڈالیں تو بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کیوں ہزاروں سال تک دوسروں کا غلام رہا ۔ اسی سلسلے میں ایک ہندو دانشور موہن گرو سوامی نے کافی عرصہ پہلے ’’ 1000 شیم فل ایئر آف انڈین ہسٹری ‘‘ میں اس امر پر افسوس جتایا تھا کہ بر صغیر کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو با آسانی کہا جا سکتا ہے کہ ہندو ہمیشہ سے بھاری اکثریت میں رہے ہیں ، مگر جانے اسے کیا نام دیا جانا چاہیے شہاب الدین غوری اور قطب الدین ایبک سے لے کر بھارت میں مختلف مسلم خاندان اور شخصیات حکمران رہیں ۔ اس دوران حکمران اور خاندان بدلتے رہے مثلاً غیاث الدین بلبن، شمس الدین التمش، رضیہ سلطانہ، ناصر الدین محمود (خاندان غلاماں )، فیروز شاہ تغلق ، خاندانِ خلجی، لودھی اور پھر 300 سال تک مغل حکمران ۔ یاد رہے کہ بھلے ہی بہادر شاہ ظفر کے پاس زیادہ اختیارات نہیں تھے مگر 1857 تک بہرحال برصغیر میں مسلم سلطنت قائم رہی ۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ بھارت کی طویل غلامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ذات پات کا بدترین نظام اور نچلی ذات کے ہندوءوں کی زبوں حال ہے ۔ یوں برطانوی حکومت کا عرصہ اقتدار 1857 سے 1947 تک محض نوے سال بنتا ہے ۔ ایسے میں یہ نتیجہ نکالنا کہ موجودہ بھارتی آزادی لا محدود عرصے تک برقرار رہے گی;238; اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے جس پر خود ہندوستان کے حکمرانوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یوں وہ اپنے طرز عمل پر نگاہ ڈالیں تو شاید وہ تاریخ سے کچھ سبق حاصل کر پائیں ۔ یہ بات بھی خصوصی طور پر پیش نظر رہے کہ جنوبی بھارتی ریاستوں تامل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش، اور یونین ٹیرٹریز پانڈی چری، لکش دیپ اور انڈیمان نکوبار برطانوی عہد اقتدار سے قبل کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہے ۔ دوسری جانب مشرقی بھارت کو دیکھیں تو مغربی و مشرقی بنگال، اڑیسہ، آسام و سیون سسٹرز کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ ایسے میں دہلی کے حکمرانوں کو زمینی حقائق بہرطور مدنظر رکھنا ہوں گے وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے ۔

کیا صحافیوں کےلئے تعلیم وتجربے کی ضرورت ہے

ما ئیکرو سافٹ کمپنی کے بانی، مالک اور مشہور زمانہ بزنس میں بِل گیٹس کہتے ہیں کہ کامیابی ، محنت ، مستقل مزاجی ، سیکھنے، پڑھنے، قُربانی اور سب سے بڑھ کہ جو کام تم کر رہے ہو، اس سے پیار کرنے کا نام ہے ۔ اگر ہم موجودہ دور میں تجزیہ کریں تو ہر انسان راتوں رات مالدار، کروڑ پتی اور ارب پتی بننا چاہتا ہے ۔ وہ سو چتا ہے کہ وہ محنت بھی نہ کریں اور انکو تکلیف بھی نہ ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ دولت سوکے کمائیں ۔ فی زمانہ صحت ، تعلیم ایسے شعبے ہیں جس میں زیادہ تر سرمایہ دار، سرمایہ کاری کرکے زیادہ سے زیادہ مال کمارہے ہیں ۔ اس مقصد کےلئے انہوں نے پرائیویٹ میڈیکل سنٹر ، کالجز اور سکولز قائم کئے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر سکول سرکاری قوانین پر بھی پو را نہیں اُترتے مگر جسکی لاٹھی اُسکی بھینس ۔ کسی سے کوئی پو چھنے والا نہیں ۔ اسطرح آج کل ایک شعبہ جس کو عام زبان میں صحافت کہتے ہیں اور جو عدلیہ ، مقننہ، ، انتظامیہ کے بعد کسی بھی ریاست کاچو تھا سکون کہلایا جاتا ہے پرائیویٹ نر سنگ ھومز، پرائیویٹ سکولز اور کالجز کمائی کے اچھے ذراءع ہیں ۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا فی زمانہ ایسے شعبے فروع پا رہے ہیں جو کمائی کے ذراءع بن رہے ہیں اور لوگ جائز اور ناجائز اس سے کمائی کر رہے ہیں ۔ اکثر و بیشتر لوگوں نے ویب پیج کھولے ہوئے ہیں ، ہاتھ میں فو ٹو گرافی یا ویڈیو کیمرہ یا مائیک پکڑ کے دکانوں ، سکولوں ، کالجوں ، یونیور سٹیوں ، شاعروں ادیبوں اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگوں کے پاس انکے کام کی تشہیر اور پبلسٹی کےلئے جاتے ہیں ۔ مختلف سرکاری، نیم سرکاری، مذہبی، سماجی فنکشن میں شرکت فرماتے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبہ ہائے کے لوگوں سے انٹر ویو کرتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ نہ تو بزنس مین، نہ کالج سکول کے پرنسپل اور مالک اس سے کبھی نہیں پو چھتے ہیں کہ تم میرا جو انٹر ویو لے رہے ہو اسکو کس اخبار، ویب ساءٹس، میگزین یا الیکٹرانک چینل پر براڈ اکا سٹ یا ٹیلی کا سٹ کرو گے ۔ ان جعلی صحافیوں ،جن کا مطمع نظر لوگوں کو لو ٹنا ہوتا ہے انکا کسی اخبار، ویب ساءٹس، ریڈیو ٹی وی اور اخبار سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور نہ وہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں ۔ اگر کسی کوشک ہے تو ان صحافی حضرات کا ٹیسٹ لیں ۔ اُن سے انگریزی اور اُردو میں چند فقرے لکھوائیں آپکو کود بخود پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔ جو جر نلسٹ یا صحافی اُر دو ، انگریزی یا اپنی ما دری زبان میں کچھ نہیں لکھ سکتا اُس سے آپ کیسے تو قع کر سکتے ہیں کہ وہ صحافی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ایسے صحافی تھے جنکی تعلیم اتنی زیادہ نہیں ہوتی مگر وہ اخباروں ، ریڈیو ، ٹی وی اور ابلا غ عامہ کے دوسرے ذراءع میں کام کرکے کُندن بن جاتے تھے ۔ اور انکا ہر لفظ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہوا کرتا تھا ۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی صحافیوں کےلئے نر سری کا کام کرتے تھے اُن میں جو سینئر حضرات ہوتے تھے اُس سے جو نیئر استفادہ کرتے تھے مگر بد قسمتی سے وہاں پر بھی اس قسم کے لوگوں کا فُقدان ہے ۔ نہ تو اس قسم کے ادارے تمام شہروں اور قصبوں میں ہیں اور نہ کوئی سیکھنے کی کو شش کرتا ہے ۔ لہذاء کمپیوٹرز، خوبصورت ویڈیو اور سٹل فو ٹو گرافی کے کیمرے ، موبائیل فون،لیپ ٹاپ اس میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ جب کسی انسان کی تعلیم اور تربیت نہیں ہوتی تو ان اوزاروں سے کیا کرے گا ۔ لہٰذا افسوس کی بات ہے کہ ان جیسے دو نمبر اور ڈمی صحافیوں سے اُن جرنلسٹ صحافیوں کی بھی بے عزتی ہوتی ہے جس نے با قاعدہ اس شعبے میں تعلیم اور تریت حا صل کی ہو ۔ صحا فت میں کشش کی وجہ سے ہر جوان لڑکا لڑکی اس شعبے کو اپنانے کی کو شش کرتا ہے ۔ مگر بد قسمتی سے نہ صحافت کا تعلیم حا صل کرتے ہیں اور نہ تربیت ۔ لہٰذا اس قسم کے ان پڑھ صحافیوں کی وجہ پڑھے لکھے صحافیوں کی بھی بے عزتی ہو تی ہے ۔ ما ہر سماجیات مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیتے ہیں اور صحافت کو مہذب اور ترقی یا فتہ ممالک واچ ڈاگ کہتے یعنی انکی ذمہ داری ریاستی معاملات پر نگرانی کرنا اور ریاست کے غلط اُمور کی نشاندہی کرنا اور حق اور سچ کا سا تھ دینا اور معاشرے میں منفی رُحجانات کو ختم کرنا ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے ملک میں صحافت کا کام بلیک میلنگ کرنا اور حالات کو مزید بگا ڑنا ہوتا ہے اور اصلاح کے بجائے منفی رحجانات کو ہوا دینا ہوتا ہے ۔ ہاتھ کی ساری انگلیاں ایک جیسی نہیں مگر زیادہ تر صحافی اس قسم کے منفی کاموں میں ملوث ہوتے ہیں ۔ میں اس کالم کی تو سط سے چا روں صوبوں کے وزرائے اطلاعات اور نشریات کے بڑے اہل کا روں کو استد عا کرتا ہوں کہ وہ وطن عزیز میں اس منفی رُحجان اور صحافت کو بد نام والے جعلی صحافیوں کے خلاف کریک ڈاءون کریں صحافی تعلیمی استعداد اور لیڈنگ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کم ازکم تین سال تربیت کو قانون بنائیں اور اسکے علاوہ ضلع کی سطح پر اکیڈمی قائم کریں تاکہ ایف اے ایف ایس سی یا بی اے مکمل کرنے کے بعد دوسال کا کو رس مکمل کریں اور جو صحافی حضرات جو کسی مستند ادارے سے تعلیم یافتہ اورتربیت یافتہ نہ ہوں ان پر پابندی لگائی جائے ۔ مُجھے اس بات کا اچھے طریقے سے ادراک ہے کہ مہذب معاشرے میں اساتذہ کرام اور صحافی حضرات انتہائی عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میں دو نمبر صحافیوں کی وجہ سے یہ مقدس اور معزز شعبہ بُری طرح بدنام ہو گیا ہے سوشل میڈیا پر بعض اناڑی حضرات اپنی کم علمی اور نا ڑی پن کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایسی ایسی خبریں دیتے ہیں جس سے سوساءٹی میں بڑا بگاڑ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے ۔ سوشل میڈیا ایک اچھی چیز ہے ایک زمانہ تھا جب ہ میں شاز و نا ظر کسی واقعے کے بارے میں خبر ملتی ہے مگر اب تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ہ میں تیزی سے خبر پہنچ جاتی ہے ۔ جہاں تک سائبر کرائم کا ادارہ ہے اُنکی بھی کا ر کر دگی کچھ نہیں ۔

اپوزیشن کا ایکا،احتساب سے بچنے کی حکمت عملی ہے;238;

قیامت کی نشانیاں ہیں یا کچھ اور کہ عدلیہ کی عزت اور وقار کی بحالی کےلئے اب مسلم لیگ نواز کو بھی دورے پڑنے لگے ہیں ۔ وہی مسلم لیگ نواز جو اپنے دامن پر سپریم کورٹ حملے کا بدنما داغ تو رکھتی ہی تھی پانامہ کیس میں سزا کے بعد ججز کو جن القابات سے نوازتی رہی اسکے کرپشن کیس میں سزا کاٹنے والے’’ عظیم‘‘ لیڈر نواز شریف نے پارٹی کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو عدلیہ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ اس سے بھی بڑا پیغام یہ جاری فرمایا ہے کہ جو اس عدلیہ بچا وَتحریک میں شامل نہیں ہوا قوم اسے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل اور درد بھرے اس پیغام کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند ماہ قبل مریم بی بی سمیت نون لیگ کے ان رہنماؤں کے بیانات کو یاد کریں جن کی وجہ سے درجن بھر نونی رہنماؤں کو توہین عدالت کی سزائیں ہوئی تھیں ۔ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے یا خواجہ ;200;صف کے زریں جملے کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے یاد ;200;تے ہیں ۔ مسلم لیگ نواز ہی بتائے دانیال،طلال،نہال ان لیگی رہنماؤں کو کن اقوال زریں پر توہین عدالت کا تمغہ امتیاز ملا تھا ۔ شاہدخاقان عباسی ،پروفیسر جی احسن اقبال اور بھانجے میاں عابد شیر علی کیا کیا فرماتے رہے ۔ مریم بی بی اور خود نواز شریف کے بیانات کیا قوم بھول گئی ہے، قطعا ًنہیں ۔ کم از کم مسلم لیگ نواز کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عدلیہ کی ;200;زادی اور احترام کے بھاشن قوم کو نہ سنائے ۔ ویسے بھی ہمارے ہاں احتساب کے حوالے ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ across the board احتساب کیا جائے ۔ صرف سیاست دانوں کی acountibilty نہ کی جائے ۔ اس مطالبے یا خواہش کے پیچھے یہ شکایت چھپی ہوتی ہے کہ ججز اور جرنیل جوابدہ کیوں نہیں ٹھہرائے جاتے ۔ خدا خدا کر کے ملکی تاریخ میں یہ پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ احتساب کا دھارا عین عوامی خواہشات کی سمیت چلتا دکھائی دے رہا ہے ۔ سیاستدانوں سے ہٹ کر اب احتساب نے اُدھر کا بھی رخ کرلیا ہے جس کا طعنہ سیاسی اشرافیہ پچھلی کئی دہائیوں سے دیتے نہیں تھکتی ۔ کیا یہ خوش ;200;ئند امر نہیں کہ عدلیہ بھی اپنے احتسابی عمل سے گزر رہی ہے تو پاک فوج جیسے ادارے نے بھی اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کی گردن زنی شروع کر دی ہے ۔ عسکری قیادت نے جاسوسی کے الزام میں 2 فوجی اور ایک سول افسر کی سزاؤں کی توثیق کرتے ہوئے، قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ملکی مفاد کے سامنے کوئی مقدس گائے نہیں اور ہر کوئی جوابدہ ہے ۔ تینوں افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کیا گیا ۔ پاک فوج میں جانچ پڑتال اور اکاونٹیبلٹی کا عمل ہمہ وقت چلتا رہتا ہے اور سخت سزائیں بھی دی جاتی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ اس احتساب کے عمل کو کبھی پبلک نہیں کیا جاتا ۔ اس موقع پر ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے کہا کہ غلط طریقے سے کمائی گئی رقم کرپشن ہی ہوگی، جاسوسی یا منی لانڈرنگ سے کمایا گیا پیسہ بدعنوانی ہی ہے، فوج کے اندر احتساب کا نظام انتہائی مضبوط ہے ۔ پاک فوج کے اس اقدام کو تحسین کی نظروں سے دیکھاجا رہا ہے ۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتساب وہ جو نظرآئے، جو کہا گیا وہ کر دکھایا ہے، اسد درانی کا احتساب بھی اسی پالیسی کے تحت عمل میں آیا، آئندہ بھی یکساں احتساب کی پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا ۔ اب رہ گئی بات معزز جج کے ریفرنس کی تو وہ معاملہ جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے ہ میں قوی امید ہے کہ کمیشن معاملے کو کسی کی خواہشات کی عینک سے نہیں بلکہ میرٹ پر دیکھے گا اور عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے ۔ اس معاملے کو اپوزیشن حلقے جس طرحpoliticize کر رہے ہیں اس سے عدلیہ کے وقار پر منفی اثر پڑے گا ۔ ایک طویل عرصہ بعد ملک میں ’رول ;200;ف لاء‘ کی بالادستی اور حقیقی احتساب کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اس مطالبےacross the board احتساب کو تقویت مل رہی ۔ معزز عدالتوں کو احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے دباوَ میں لانے والے معزز عدلیہ کے وقار کی بحالی نہیں کسی جماعت کے پولٹیکل ایجنڈے کو تقویت کا باعث بنیں گے ۔ میاں نواز شریف نے جیل سے اپنے بیان میں یہ بھی فرمایا کہ عمران خان ایک ایک ڈالر کے لیے دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں ۔ حکومت نے قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے معیشت کا برا حال کر دیا ہے ۔ میاں صاحب کا شاید حافظہ کمزور ہو گیا یا وہ قوم کی ;200;نکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے معیشت کابرا حال کر دیا ۔ میاں صاحب کو یاد ہونا چاہیے کہ ملک پر اس وقت 96ارب ڈالر کے بیرونی قرضے چڑھ چکے ہیں اور یہ سب کچھ ;200;پ دو فطری اتحادی جماعتوں کی مہربانی کا نتیجہ ہے ۔ 2008سے 2013تک پیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالر سے 59 ارب ڈالر تک جا پہنچا ۔ پیپلز پارٹی نے پاکستان کو 25 ارب ڈالر کا مقروض کیا ۔ اس کے بعد 2013 میں ن لیگ کا سنہرا دور شروع ہوا جس میں بیرونی قرضہ 59 ارب ڈالر سے 96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ صرف جولائی 2016سے جنوری 2017کے سات ماہ میں 4 ۔ 6ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے ۔ ان میں سے ایک ارب ڈالر سکوک بانڈ کی فروخت سے حاصل کیے گئے ۔ بانڈز فروخت کرنے کے لیے لاہور اسلام ;200;باد موٹر وے کو ضمانت کے طور پر گروی رکھوایا گیا ۔ یوں ن لیگ نے پانچ سال کے دوران پاکستان کو34 ارب ڈالر سے زائد کا مقروض کیا ۔ ان دونوں جماعتوں نے ملکر صرف 10 سال کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو 59 ارب ڈالر کا مقروض کیا جبکہ اس سے پہلے کے 60 سالوں میں پاکستان کل 34 ارب ڈالر کا مقروض تھا ۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958 میں ;200;ئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا، پہلا غیر ملکی قرضہ1950 میں 145ملین ڈالرز کا پانچ سال کے لیے لیا تھا ۔ 1960 میں یہ قرضے بڑھ کر 585ملین ڈالرز ہوگئے ۔ بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت نے 1984 تک 1 ۔ 6 ارب ڈالر سالانہ بیرونی قرضے حاصل کیے ۔ جون 1998 تک پاکستان نے مجموعی 40 بلین ڈالرز کے غیرملکی قرضے لیئے ۔ پاکستان پراس وقت بیرونی قرضے 96ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ملک پر قرضہ جی ڈی پی کا86فیصد ہے ۔ قانون کے تحت حکومت جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی اور پاکستان پر قرضے جی ڈی پی کی حد سے تجاوز کر گئے ہیں ۔ یہ سارا کیا دھرا نواز زرداری حکومتوں کا ہے جو ;200;ج عوام بھگت رہی ہے ۔ بلاشبہ حکومت کو ایک مشکل ترین صورتحال کا سامنا ہے اور اسے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جس سے اس کی مقبولیت کو دھچکا لگا ہے تاہم وہ پر عزم ہے کہ لوٹی ہو رقم واپس لی جائے گی اور احتساب کا عمل بلا روک ٹوک جاری رہے گا ۔ اسی عزم کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کی ان دونوں جماعتوں نے عید کے بعد حکومت کو دباوَ میں لانے اور احتساب کے عمل میں روڑے ڈالنے کے لیے تحریک چلانے اور ;200;ل پارٹی کانفرنس کا عندیہ دیا ہے ۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اپوزیشن ابھی کسی قسم کی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ہاں شاید وہ اے پی سی بلا کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرے گی اور اس طاقت کے مظاہرے کا واحد مقصد احتسابی شکنجے سے بچنا ہو گا ۔

وزیراعظم عمران خان کا اوآئی سی سے خطاب اور اعلان مکہ

چودھویں دوروزہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلان مکہ کشمیریوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ،جبکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جاتا ہے،اسرائیل کوبھی آگاہ کیا گیا کہ وہ شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے مکمل طور پر نکل جائے، او آئی سی نے مشترکہ طور پررکن ممالک پر زور دیا ہے کہ ایسے ممالک کا بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے اپنے سفارتخانے بیت المقدس منتقل کیے ہیں ۔ جبکہ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے، انہوں نے او آئی سی پر بھی زور دیا کہ وہ مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف اٹھے ۔ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جہاں جامع اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی طرف پیش رفت کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں وزیراعظم عمران خان کا خطاب مغرب کے رویے کو بے نقاب کرنے اور جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے ۔ وزیراعظم نے فلسطین مقبوضہ کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے اہم ایشو پر کھل کر بات کی ۔ اسلاموفوبیا کو مذہبی تعصب قرار دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اسلاموفویبا میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا ثبوت مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے امت مسلمہ کے مشترکہ موقف کو دوہراتے ہوئے کہا کہ اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کوئی مذہب بے گناہوں کو مارنے کا نہیں کہتا،دہشت گردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہوگا ۔ مغربی ممالک اعتدال پسند مسلمانوں اور انتہاپسندوں کے درمیان فرق ضرور کریں ۔ انہوں نے او آئی سی کی ناکامی اور نا اہلی کی طرف بجا طور پر متوجہ کرتے ہوئے کہ ہم دیگر ممالک پر یہ واضح نہیں کرسکے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں ،یہ ہمارا کام ہے کہ مغربی عوام کو بتائیں کہ جب ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے تومسلمانوں پر کیا گزرتی ہے،اس لیے ہ میں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین جیسے فورمز پر انہیں بتانا ہوگا کہ وہ آزادی اظہارِ رائے کے نام پر ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں اوآئی سی ممالک نے کو جاندارپیشرفت نہیں کی ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ پر ہی سار ازور رہا ہے ۔ تاہم مغربی ممالک کے دوہرے معیارکو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جنہیں ہولو کاسٹ کے خلاف اظہار خیال پر تکلیف ہوتی ہے لیکن اسلام اور اس کی مقدس ترین ہستیوں توہین کو آزادی اظہار کے پیرائے میں لیتے ہیں ،جس سے اسلام کے سوا ارب پیروکاروں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔ اسی طرح اپنے بنیادی حقوق کے لئے لڑنے والے کشمیری اور فلسطینیوں کی جدوجہد بھی دہشت گردی محسوس ہوتی ہے ۔ عمران خان نے بجاکہا کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر دہشت گردی کا لیبل درست نہیں ہے ۔ مسئلہ فلسطین پر او ;200;ئی سی کے مشترکہ اعلامیے میں بڑی تفصیل سے بات کی گئی اور اسرائیل کے ان اقدامات کی مذمت کی گئی جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور دو ریاستی حل کو مشکل بنانا ہے ۔ او ;200;ئی سی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ان ملکوں کے خلاف مناسب اقدامات کریں جنھوں نے اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر رکن ممالک ایسا کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں تواس کے کافی مثبت نتاءج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں دیرینہ اور حل طلب ایشوز ہیں جن پر عالمی برادری ;200;نکھ مچولی کھیل رہی ہے ۔ اسی لئے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ عالمی قراردادوں کے مطابق اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے،مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے، آزاد،خودمختارریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا حق ہے ۔ اجلاس میں ہرقسم کی دہشتگردی,انتہاپسندی،تعصب پسندی کی مذمت کی گئی ۔ عالمی برادری سے خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لئے کردار ادا کرنے کامطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے ایسا کوئی فارمولہ تسلیم نہیں کیا جائے گا جو فلسطینیوں کے جائز حقوق کو تسلیم نہ کرتا ہو ۔ دہشت گردی کوشہریت،مذہب،یاکسی علاقے سے نہیں جوڑا جا سکتا ، مذہب، رنگ نسل کی بنیادپرعدم برداشت،امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہیں ۔ اعلامیے میں نفرت ،امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے برداشت ،احترام،بات چیت ا ور تعاون پر زو دیاگیا ۔ او ;200;ئی سی کا یہ نمائندہ اجلاس اور اعلان مکہ اپنی نوعیت اور ٹائمنگ کے حوالے سے بڑا اہم ہے کیونکہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کا اعادہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ صدر کے مشیر جارڈ کشنر مشرق وسطیٰ کے بارے امن معاہدے جسے ڈیل ;200;ف سنچری قرار دیا جا رہا ہے،کے اقتصادی پہلووَں کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ جارڈ کشنر ان دنوں مشرق وسطیٰ میں ہیں جو امن منصوبے کا اعلان ;200;ئندہ کچھ روز میں بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کریں گے ۔ اس متوقع امن منصوبے کو فلسطینی نمائندے پہلے ہی رد کر چکے ہیں ۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کا حل او ;200;ئی سی کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور جب تک فلسطینی بھائیوں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل جاتے او ;200;ئی سی کی تمام تر توجہ اس پر مرکوز رہے گی ۔

شمالی وزیرستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اچانک اضافہ

شمالی وزیرستان میں حالیہ دنوں میں چند شر پسندوں کی منفی سرگرمیوں کی وجہ سے دہشت گردوں نے حوصلہ پاتے ہوئے اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ گزشتہ روز بھی پاک فوج کی ایک پٹرولنگ گاڑی کونشانہ بنایا گیا جس میں ایک سپاہی شہیدہو گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں کیا گیا ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق حملے میں 26سالہ سپاہی امل شاہ شہید ہوگئے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی ایم کے مٹھی بھرعناصر کی سازش سے علاقے کا امن ایک بار پھر داوَ پر لگ گیا ہے اورشمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ ایک ماہ کے دوران علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 5اہلکار شہید اور 31زخمی ہوچکے ہیں ۔ مذکورہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے 26 مئی کو خرقمر چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے سے ملتے ہیں ۔ اس روز شمالی وزیرستان میں بویا سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کیا تھا، جسکے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے تھے ۔ خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد ایک روز قبل گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباوَ ڈالنا تھا ۔

Google Analytics Alternative