Home » 2019 » June » 09

Daily Archives: June 9, 2019

وزیرستان اور ہرنائی میں دہشت گردی;224224; قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے امن پر حملہ کرکے اس کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے لیکن پوری قوم فوج کے ساتھ متحد کھڑی ہے اور وہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کے حملے کرکے پاکستان میں بدامنی اور بے چینی پھیلانے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن ایسا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے ۔ پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ اس وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیاں کبھی بھی رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ گو کہ یہ ایک قیمتی نقصان تھا جس میں لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن، لانس حوالدار اور ایف سی کے دو اہلکار شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے کچھ دنوں پہلے چند دہشت گردوں نے پاک فوج کی چوکی پر حملہ بھی کیا تھا اور پھر وہاں سے گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں ۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں قابل ستائش ہیں ، جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے ۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہاکہ دشمن عناصر کو امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صدر مملکت اور مشیر اطلاعات و دیگر حکومتی رہنماءوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور زخمی جوانوں کی صحت یابی کیلئے دعا، شہداء کے اہلخانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ شمالی وزیرستان کے علاقہ خار کمر میں دہشتگردوں کے فوجی گاڑی پرحملے میں 3 افسران اور ایک فوجی اہلکارشہید جبکہ 4 فوجی اہلکار زخمی ہو گئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقہ خار کمر میں دہشتگردوں نے سڑک پر نصب آئی ای ڈی کے ذریعے فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا ۔ شہداء میں کریم آباد ہنزہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، کراچی کے میجر معیز مقصود بیگ ، لکی مروت سے تعلق رکھنے والے کیپٹن عارف اللہ اور چکوال سے تعلق رکھنے والے لانس حوالدار ظہیر شامل ہیں ۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کرکے چند سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا ۔ گزشتہ ایک مہینے کے دوران دس سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ جمعہ کے واقعہ سمیت 35 اہلکار زخمی ہیں ۔ ادھر دوسری جانب بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں دہشتگردوں کے حملے میں سیکورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ ضلع ہرنائی میں عید الفطر کی سیکورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکاروں کو دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے ۔ شہدا میں 23 سالہ سپاہی یار محمد اور 19 سالہ سپاہی مہتاب خان عمر شامل ہیں ، شہید یار محمد کچ ضلع سبی جب کہ شہید سپاہی مہتاب خان لکی مروت کے رہائشی ہیں ۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ ;200;وروں کی تلاش شروع کردی ۔ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے والے دشمن کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کے مذموم حملوں کی وجہ سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ، یہ جوان ہماری سرحدوں کے محافظ ، قوم کی جانوں کے امین اور ملکی استحکام کی علامت ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی مزید تیز تر کردی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان کے سہولت کار کون ہیں ، مذکورہ علاقے سے گرفتاریاں اور پھر وہاں پر بارودی سرنگ سے دھماکہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سہولت کار وہاں موجود ہیں لہذا ان کی گرفتاری اور بیخ کنی بھی انتہائی ضروری ہے ۔ جب تک دہشت گردوں کی کمر توڑ کر ان کو عبرتناک سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک ایسے مسائل درپیش آتے رہیں گے ۔ پوری قوم پاک فوج کی قربانیوں کو سیلوٹ پیش کرتی ہے کیونکہ ان ہی کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن و امان قائم ہے اور ملک کے سارے عوام سکون کی نیند سوتے ہیں جب یہ جوان سرحدوں پر جاگتے اور اپنی قیمتی جانیں اس مادر وطن کی حفاظت کیلئے نچھاور کرتے ہیں ۔ ان کو جتنا بھی خراج عقیدت اورخراج تحسین پیش کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔

بھارت کو ایک مرتبہ پھرامن کی دعوت

خطے میں قیام امن و امان کیلئے پاکستان کی کاوشیں ہمیشہ کلیدی رہی ہیں اور بین الاقوامی برادری نے بھی اس کی تصدیق کی ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ ان کوششوں پر پانی پھیرا اور ہر امن کے قدم کا جارحیت سے جواب دیا ۔ وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصبوں کو پھر خط لکھ کر امن کی دعوت دی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب کو خط میں مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں نریندر مودی کو دوبارہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو خط میں مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطہ میں امن کا خواہاں ہے، امن و استحکام سے ہی خطے میں ترقی ;200;سکتی ہے، اور ترقی کے لئے ایک ساتھ کام کرنا ضروری ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ;200;گے بڑھے کے لئے مشترکہ طور پر خطے میں امن و استحکام ضروری ہے، پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے، اور مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ممالک کے عوام کو غربت، افلاس اور دیگر مسائل سے نکالا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے بھارتی ہم منصب جے شنکر کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے ۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چاہتاہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت ہو جب کہ خطے میں امن و استحکام سے ہی ترقی ممکن ہے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم ;200;گے بڑھے گا تو پاکستان 2 قدم بڑھائے گا، وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندرا مودی کو خط بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے پاک بھارت مذاکرات کی دوبارہ بحالی پر زور دیا تھا ۔ لیکن بھارت نے اسی طرح اپنے جارحانہ عزائم کوجاری رکھا ہوا ہے عید کے موقع پر چار نہتے کشمیریوں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا ۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم کو روکے ۔

آرمی چیف کا احسن فیصلہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ افسروں کا ہے اس کا اطلاق جوانوں پر نہیں ہوگا، دفاعی بجٹ میں کٹوتی قوم پر احسان نہیں ہر قسم کے حالات میں ہم ساتھ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آرمی چیف کا یہ فیصلہ انتہائی احسن ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ چونکہ ملکی معاشی حالات ناگفتہ بہ ہیں ایسے میں یہ اقدام انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہاکہ کٹوتی کو خطرات کیخلاف دفاعی صلاحیت پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے ، یہ بات انہوں نے عید کے دن لائن آف کنٹرول پر جوانوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ آرمی چیف نے عید بھی ایل اوسی پر جوانوں کے ساتھ منائی جبکہ بھارتی میڈیا کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوگئے ہیں اور انہوں نے دفاعی بجٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جس پر ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ابھی نندن کی گرفتاری کو یاد کرے اور مت بولو 27فروری کو یہی فوج تھی اور اس کا یہی بجٹ تھا ۔

زراعت کی بہتری سے ہی ملکی ترقی ممکن ہے

پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت نے جہاں شہروں میں عوام الناس کی فلاح و بہبود کےلئے بہت سے منصوبے شروع کئے ہیں وہیں دیہی ترقی ، کسانوں کی حالت زار بہتر بنانے کےلئے بھی بہت سے اقدامات کیے ہیں ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت و خوراک کے حوالے سے پنجاب کا ایک خاص مقام ہے ۔ یہاں پانی کی فراوانی سے زرخیز زمین پاکستان بھر کےلئے اناج پیدا ہوتا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت کاشتکاروں کےساتھ مکمل ہمدردی رکھتی ہے اور مشکل وقت میں کاشتکاروں کےساتھ کھڑے ہیں ۔ نئے پاکستان میں کاشتکار سر اٹھا کر جئے گا ۔ پنجاب حکومت نے گندم خریداری مہم کےلئے بھی بہترین انتظامات کیے ہیں اورپنجاب حکومت کے ان اقدامات سے کاشتکارکے مفادات کوتحفظ ملے گا ۔ گندم خریداری کا ٹارگٹ پورا کیا ۔ گندم خریداری کیلئے رواں سال سے 130 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ پنجاب حکومت کسان کے مفاد کونقصان نہیں پہنچنے دے گی ۔ رقو م کی ادائیگی کی پالیسی کے مطابق چھوٹے کاشتکاروں کی سہولت کیلئے 50بوری گندم کی قیمت بینک کی مقررہ شاخ سے سپیشل کاءونٹرز پر ادا کی گئی جس کیلئے بینکوں کو سکرول اسی روز ہر حال میں شام تک پہنچادیاجبکہ کاشتکاروں کو نقد رقوم کی ادائیگی اگلے روز یقینی بنائی گئی ۔ 50بوری سے زیادہ گندم کی بوریوں کی قیمت کا بل کاشتکاروں کے اکاءونٹس میں جمع ہوا جس کی زیادہ سے زیادہ 72گھنٹوں کے اندر کلیئرنس کر دی گئی ۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے گندم خریداری مہم کی کامیابی پر کاشتکاروں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 32لاکھ ٹن گندم کے عوض 106ارب روپے کی فوری ادائیگی کردی گئی ہے ۔ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر تمام کاشتکاروں کو بلا تخصیص باردانہ کی فراہمی یقینی بنائی گئی ۔ گندم کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرکے انہیں ان کا حق دیا گیا اور چھوٹے کاشتکار کے حقوق کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا گیا ۔ کاشتکاروں کو گندم کی فصل کامقررکردہ معاوضہ ملا ۔ کسانوں سے کئے گئے وعدے پورے کئے اور آئندہ بھی کاشتکاروں کی فلاح اوران کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے ۔ امسال اپریل، مئی کے مہینے میں پاکستان مغربی ہواؤں کے سلسلے سے پیدا ہونے والی موسمی صورت حال سے دوچار رہا جس کی وجہ سے ملک کے کئی حصے تواتر سے طوفانی بارش کی لپیٹ میں رہے ۔ بارش سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کھڑی فصلوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ۔ شدید بارشوں سے فصلیں اور پھلوں کو نقصان پہنچا ۔ پاکستان میں ہونے والی حالیہ بارش سے صوبہ پنجاب میں گندم، چنا اور اسٹرابیری کی فصلیں بہت زیادہ متاثرہوئی ۔ پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کے نقصانات کے ازالے کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ دیہی علاقوں کو بڑے شہروں و قصبوں سے ملانے کےلئے پختہ سڑکوں کی بہت اہمیت ہے ۔ فصلیں ، پھل اور دیگر زرعی اجناس شہروں کی منڈیوں تک پہنچانے کےلئے رابطہ سڑکیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے صوبہ بھر میں دیہی علاقوں کو مین روڈز اور شہروں سے ملانے کیلئے نئی رابطہ سڑکوں کی تعمیر میں اعلیٰ معیار کا میٹریل استعمال کرنے کا بھی حکم دیاگیاہے تاکہ کاشتکاروں کو زرعی اجناس ، سبزیاں ، پھل وغیرہ فارم و کھیتوں سے مارکیٹوں ، سبزی و غلہ منڈیوں تک لانے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرناپڑے ۔ گاؤں ، دیہات اور شہروں کے مابین اچھی رابطہ سڑکیں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گی اور معاشی خوشحالی کی راہ ہموار ہو گی ۔ ماضی میں دیہی علاقوں میں بنائی جانے والی سڑکیں سال دو سال میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جایا کرتی تھیں تاہم اس منصوبے کے تحت سڑکوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔ پنجاب میں پہلے مرحلے میں پرانی سڑکوں کو تیار کیا جارہاہے اور بعد ازاں نئی رابطہ سڑکوں کی تعمیر عمل میں آئیگی ۔ یہ ایک میگا پراجیکٹ ہے جس میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جارہاہے ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے زراعت ، کسانوں اور دیہی ترقی کےلئے کئے گئے اقدامات ، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی دیہی عوام سے محبت کی نشانی ہے ۔ حکومت پنجاب پسماندہ گاؤں اور دیہی آبادی کو ترقی دینے کےلئے دن رات محنت کر رہی ہے اور جلد ہی اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے ۔ دیہی ترقی سے نہ صرف ہماری غذائی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ ہمارے دیہاتی عوام بھی ترقی کی منازل طے کریں گے ۔ تعلیم کے فروغ سے کسان کھیتی باڑی میں جدید طریقے اور آلات استعمال کرسکیں گے اور ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے ۔

قو م کے یہ محسن ۔۔۔!!!

سبھی جانتے ہیں کہ پچھلے ایک ماہ میں پاک افواج کے دس افسر اور جوان جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 35 سے زائد شدید زخمی ہوئے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ قوم کے ان فرزندوں کی قربانیوں کی بدولت ہی ہم سکون کی سانس لے پاتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کر رہے ہیں ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی ان کی اس جدوجہد میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈالیں ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب کوئی قوم مسائل کے ایسے بھنور میں پھنس جائے، جن کا سرا ڈھونڈنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے اور ہر سعی معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھاءو پیدا کرنے لگے تو ایسے میں اس قوم کے اہل فکر سنجیدگی سے سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں کیونکہ دوراندیش قوموں کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے مسائل سے نمٹنے کیلئے جب کمر بستہ ہوتی ہیں تو ان عوامل کا جائزہ لیتی ہیں جن کی وجہ سے وہ مسائل کا شکار ہوئیں کیونکہ اصل میں کسی مسئلے کو تب ہی حل کر پانا ممکن ہوتا ہے جب اس کے اسباب کا جائزہ لیا جائے ۔ اہل دانش کے مطابق افسوس کہ بیتی چند صدیوں میں صنعتی انقلاب کی دستک کو اسلامی ممالک نے نہیں سمجھا مگر مغربی ممالک نے اسے سمجھ کر ترقی کی منازل طے کر کے قوموں کی برادری میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ۔ لیکن ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق اب وطنِ عزیز میں بھی اس ضمن میں ٹھوس پیش رفت ہو رہی ہے ۔ مبصرین کے مطابق دور حاضر میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ آج چونکہ کمپیوٹر کا دور ہے، جدید سائنسی اور صنعتی تحقیق کی بدولت نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں لہذا ہر قسم کی ٹیکنیکل اور جدید تعلیم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضا ہے ۔ ایسے میں حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے ملک کے نوجوانوں کو ایسی تمام سہولیات مہیا کرے جس سے وہ جدید علوم کی طرف راغب ہو سکیں مگر بد قسمتی سے اس عظیم پیشے کی قدر و قیمت کی جانب خاطر خواہ دھیان نہیں دیا جاتا رہا یا پھر سبھی حکمرانوں نے اپنے وقتی مفادات کی خاطر اس ضمن میں کوئی توجہ نہ دی اور جدید دور کے ساتھ بڑھتی ہوئی تعلیمی ضرورت کو دانستہ نظر انداز کیا ۔ اب اس بات پر بھلا کیا تبصرہ کیا جائے کہ وطن عزیز کے جڑواں شہر وں میں 33 سال سے کوئی بڑا اور قومی سطح کا پولی ٹیکنیکل کالج تک ہی موجود نہیں جہاں سے نوجوان جدید علوم سے آراستہ ہو کر وطن کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کریں ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ کسی بھی باوقار معاشرے میں رواداری خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے اور ہر طرح کے گروہی تعصبات سے اوپر اٹھ کر ہی یہ مقصدِ عظیم حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ بحیثیت مجموعی پاکستانی سوساءٹی اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود بہت اچھی شکل میں موجود ہے البتہ بہتری کی گنجائش چونکہ ہمیشہ موجود ہوتی ہے لہذا اس ضمن میں مزید کوشش کی جانے چاہیے ۔ مگر اس بابت یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ’’ خود احتسابی‘‘ اگرچہ بہت اچھی چیز ہے مگر اس ضمن میں ’’خود مذمتی‘‘ اور ’’خود احتسابی‘‘ کے مابین موجود بظاہر چھوٹے لیکن بے انتہا وسیع حدِ فاصل کو پیش نظر رکھا جانا اشد ضروری ہے کیونکہ پاکستانی سوساءٹی کا ایک حصہ دانستہ یا غیرشعوری طور پر گذشتہ خاصے عرصے سے اس کوشش میں مصروف ہے کہ پاکستانی قوم کو ’’خود مذمتی‘‘ اور خود ملامتی کی علامت میں تبدیل کر دیا جائے تا کہ یہ بجائے تمام پہلوءوں کا جائزہ لینے اور ان کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے کے ، احساس کمتری کا شکار ہو کر ہر ضمن میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے اور یوں بحیثیت مجموعی قوم کے مورال کو پست کیا جا سکے اور اس بابت ہر طرح کے حربے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین کا کہنا ہے کہ خود احتسابی اور اپنا محاسبہ کرنا اگرچہ بہترین حکمت عملی اور شاید تقاضائے وقت بھی ہے، مگر ایسا کرتے ہوئے خود مذمتی کی روش کسی طور اختیار نہ کی جائے ۔ بہرحال اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں یقینا بہت سے سکم اور جھول موجود ہیں جن کی اصلاح کیے بنا باوقار ڈھنگ سے آگے بڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ نہ ممکن بھی ہے ۔ عدم رواداری اور عدم برداشت ایسے عنصر ہیں جو کسی معاشرے کو دیمک کی مانند چاٹ جاتے ہیں اور اگر ان کو روکنے کے لئے ٹھوس اور بروقت اقدامات نہ کیے جائیں ، تو معاشرے دھیرے دھیرے بد ترین انتشار اور شکست و ریخت میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ لہذا یہ امر بہرحال خاصا اطمینان بخش ہے کہ پاکستانی قوم نے بحیثیت مجموعی اپنی بہتری کی جانب بہت سی ٹھوس پیش رفت کی ہے ۔ اس ضمن میں وطن عزیز کے سبھی حلقوں نے بالعموم اور پاک افواج نے بالخصوص ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے جس کی مثال ضرب عضب اور ردالفساد کی وجہ سے ملکی امن و امان کی صورتحال میں آئی قابلِ لحاظ بہتری کی صورت میں نظر آتی ہے جس کے لئے عام شہریوں نے بھی پاک افواج کے شانہ بشانہ بدی کی قوتوں کے خلاف جاری اس جہاد میں بے شمار قربانیاں دی ۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ بیرونی دنیا نے ابھی تک پاکستان کی ان قربانیوں کا کھلے دل سے اعتراف نہیں کیا بلکہ ڈو مور کی گردان جاری رکھی ہوئی ہے ۔ اور امریکہ سمیت اکثر مغربی طاقتوں نے اپنا وہ انسانی کردار یا تو سرے سے ادا ہی نہیں کیا یا اس ضمن میں بے انتہا بخل سے کام لیا ۔ مگر قوموں کی برادری کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی گھناءونے مظالم کا سدباب کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کے قیام میں پاکستانی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے رواداری سے بھرپور ماحول کے قیام کیلئے آگے آنا ہو گا ۔

نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل کی ضرورت

افغانستان سے نکلنے کے بعد بھارت کو امریکی مفادات کا پہرہ دار بناکربٹھلانا;39; شمالی وزیرستان کے بارڈر پر ;39;فینسنگ کی تعمیر;39; میں مصروف پاکستانی فوجی جوانوں پر سرحد پار سے بلا اشتعال جارحانہ حملہ اورسلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی کا القاعدہ سے تعلق کی بناء پر کالعدم تنظیم جیش محمد کے رہنما اظہر مسعود کو ;39;عالمی دہشت گرد;39; قرار دیا جانا ان تینوں اہم ترین موضوعات پر راقم کی کوشش ہوگی کہ زیرنظر مضمون میں کچھ بات کی جاسکے پہلی بات دوڈیڑھ ماہ گزرے امریکی صدر ٹرمپ نے شکایتی لب ولہجے میں صلاح کاری کا رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا ;3939; امریکا سمجھتا ہے کہ بھارت میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں وہ امریکا کا متبادل ہوسکتا ہے اْن کا یہ کہنا بھی تھا کہ پاکستان بالکل بے فکر رہے بھارت پاکستان کےلئے افغانستان سے مشکلات پیدا نہیں کرئے گا ;3939;سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد بھارت اْس سرزمین پر امریکی پہرہ داری کا کیسا رول ادا کرئے گا;238; خود اپنے دیش کی جو پہرہ داری نہیں کرسکتا اپنے دیش کی ;39;رکھشا;39; نہیں کرسکتا جس کے چار سو علیحدگی کی مسلح تحریکیں روز بروز مضبوط ہورہی ہیں ابھی یکم مئی کو بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ماونکسلائیٹ تحریک نے نئی دہلی سیکورٹی فورسنز کے ایک کانوائے کو اپنی بچھائی گئی ریموٹ ڈیوائس سے بھون کر رکھ دیا بھارتی اندرونی سیکورٹی پانی کے بلبلے کی مانند دھری کی دھری رہ گئی بھارتی سیکورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی اپنا گھر سنبھالا نہیں جارہا امریکا نے کیسے سمجھ لیا کہ وہ افغانستان میں امریکی مفادات کے لئے افغان طالبان کی سخت مزاحمتوں کے سامنے ڈھال بننے میں کامیاب ہوجائے گا پہلے ہی سے امریکی ذہن جو شکست وریخت سے ٹوٹاپھوٹا ہو اور شکست کی اصل وجوہات کو تسلیم کرنے کی بجائے مختلف کمزور سہاروں کی آڑ لیتا رہاہو اْس سے ایسے ہی فیصلہ کی توقع تھی جہاں تک امریکا کا یہ کہنا کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کےلئے مشکلات پیدا نہیں کرئے گا مطلب یہی ہوا نا کہ وہ صدر غنی کی پاکستان مخالف پالیسیوں کو من وعن جاری وساری رکھے گا پاکستانی فوج کو مغربی بارڈرپر صدر غنی سے زیادہ مصروف رکھنے کی پالیسی کو اپنائے گا ہم صدر ٹرمپ کے پیش کردہ مفروضوں کو جیسا اْنہوں نے عندیہ دیا کہ بھارت افغانستان میں امریکا کا متبادل ہوسکتا ہے پاکستان اْسے قبول کرلے ٹرمپ نے کہہ دیا پاکستانی کیسے مان لیں ابھی تو صرف بات ہوئی ہے کہ یکم مئی کو اشرف غنی نے شمالی وزیرستان کی پاک افغان باڈرپر لگائی جانے والی فینسنگ کے امور میں مشغول پاکستانی فوجیوں پر حملہ کروادیا امریکا چاہتا ہے کہ وہ بطور شکلاً افغانستان سے چلا جائے مگر اْس کے مفادات کی جنگ وہاں کبھی ختم نہ ہو اْس کے افغانی آلہ کار اْس کے بھارتی آلہ کاراس کے پہرہ دار بن کر خطہ میں یونہی عدم استحکام کے سلسلہ کو جاری رکھیں تاکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ثمرات وسطی ایشیائی ریاستوں تک نہ پہنچ پائیں یہی افسوس ہے کہ سترہ برس افغانستان میں امریکی فوجیوں کے تابوت ڈھونے کے باوجود امریکا افغانی مزاحمت پسند طالبان کی غیرافغان حملہ آوروں سے شدید نفرت کی سائیکی کو سمجھ نہیں سکا شمالی وزیرستان میں افغان علاقے سے ہونے والے جارحانہ حملہ میں پاکستانی فوج کے تین جوان شہید ہوئے سات زخمی ہوئے ہاں ، یہ غلط نہیں ہے کہ افغان انتظامیہ کی جب ہم بات کرتے ہیں تواصل میں ہمارا اشارہ امریکا کی طرف ہوتا ہے شمالی وزیرستان کے بارڈر پر یہ ایک بزدلانہ کارروائی تھی جس کا پاکستانی فوج نے افغان جارحیت کا بروقت منہ توڑ جواب دیدیا ، ہ میں افسوس ہوتا ہے کہ افغانستان کے امریکی اور افغانی حکام کی پاکستان دشمن پالیسیوں پرپاکستان نے اپنے محدود مالی وسائل سے افغانستان کے دارلحکومت کابل میں چند ہفتوں قبل دوسو بستروں کا جدید ہسپتال قائم کیا جناح ہسپتال کابل کی دیدہ زیب عمارت اورجدید ہسپتال کے آلات پردوکروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جو افغان عوام کےلئے پاکستان کی طرف سے ایک تحفہ ہے افغانستان کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے پاکستان کا یہ طرز عمل ہے اور افغان صدر غنی اور اْن کے امریکی وبھارتی عناصر کی پاکستان دشمنی کا موازنہ کیجئے کیا یہی ہے انسانیت ہے پاکستان کی دوستی اور بھائی چارے کا جواب;238; پاکستانی قوم کا سوال کابل انتظامیہ سے ہے جنہوں نے اپنی عبا قباوں میں پاکستان مخالف سانپوں کے بچے پالے ہوئے ہیں اب ذرا بات ہوجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی سے پاکستان میں پہلے سے کالعدم تنظیم جیش محمد کے غیر متحرک رہنما مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے والے ایشوپر یقینا اس فیصلے نےاکستانیوں کو ایک فیصلہ کن مقام پرضرور لاکھڑا کیا ہے ہم دنیا کوبتانا چاہیں گے کہ آج کا پاکستان 70;245;80 ۔ 90 یا2001کا پاکستان نہیں رہا پاکستانی قوم کے مزاج اور تیوربدل گئے ہیں سیاسی وجمہوری حکومت کا طرز حکمرانی بھی بدل چکا ہے پاکستان کی فوج بھی وہ فوج نہیں رہی آج کی پاکستانی فوج شعبہ زندگی کے اسباق کے ہرمضمون کی جزوکْل کے امور پر کمال ومہارت کے معجزات دکھانے کی برابر اہلیت رکھتی ہے جس کے مظاہرقوم کے ساتھ ساتھ دنیا بھی دیکھ رہی ہے اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی کے اُس منظور کردہ قرار داد کے مسودہ کی روح کو سمجھنے والے پاکستانیوں سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے ہمارا سوال ہے کہ اظہر مسعود کا نام عالمی دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہو نے سے نئی دہلی نے کیا حاصل کرلیا نئی دہلی کی توساری بھاگ دوڑ ہی یہی تھی کہ مسعود اظہر کو بھارت میں ہونے والی اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزامات میں شامل قرار دے کر دہشت گرد قرار دیا جائے تاکہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو بھی دہشت گردی سے نتھی کیا جانے سکے جو نہیں ہوا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئےبھارت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا ہے ہاں ! پاکستانیوں نے اب ضرور سوچنا ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر جو فکری وذہنی متشدد رویوں کے مکالموں کی آبیاری کا فروغ کر نے سے اب تک باز نہیں آتے اب ہ میں اْن سے دوٹوک بات کرنی ہوگئی وہ یہ ہے کہ ایک محفوظ;39;متمدن;39; پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان جہاں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے لسانی عصبیت کے دنگے فساد اور تلخیاں نہ پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے چونکہ پاکستانی معاشرے میں فکری ،شعوری اورنظری تبدیلیاں اب پروان چڑھ رہی ہیں پاکستانی قوم کی نئی نسل نے یہ ٹھان لیا ہے کہ ہم اپنی بنیادی ضروریات کو کم سے کم کرلیں گے ہم پوری روٹی کی جگہ آدھی روٹی پر گزارا کرلیں گے مگر مغربی دنیا اور امریکا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وہ لگادیں جتنی پابندیاں لگانا چاہتے ہیں قوم قناعت کے ایمانی ثمرات کے فوائد سے آگاہ ہے قوم پْر کٹھن اور مصائب وابتلا کے ہر آنے والے وقت کو خوش آمدیدکہے گی لیکن اپنے ملی اور نظریاتی فہم وادراک ;39;سیاسی وجمہوری نظریاتی شعور وآگہی اورقومی فکری وذہنی عملیات پرمن گھڑت انتہا پسندانہ جنونیت کے مضر اور منفی اثرات کو کسی صورت میں غالب آنے نہیں دے گی کج فہم;39; کم علم;39; ادھوری تشنہ;39;نامکمل اور تنگ نظر علما ء کے بھیسوں میں جگہ جگہ وارد ہونے والے;39; قوم کی اکثریت کو دین اسلام کے نام پر گمراہ کرنے والے چرب زبان رہنما ٹاءپ کے گروہوں کو جو جب چاہیں پاکستانی معاشرے کو انارکی;39;انتشار وافتراق سے دوچار کردیں قوم اْن کے بہکاوے میں اْن کے اکسانے میں اب آنے والی نہیں ہے;39;پاکستان کی نئی نسل نے فیصلہ کرلیا ہے لہٰذا پاکستان دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے مفروضات پر من وعن فرسودہ خوابوں کی تعبیروں کے متلاشی سیاسی دکانداریاں چمکانے والوں ‘ فرقہ ورانہ تعصبات پھیلانے والوں اور سماجی وثقافتی نفرتوں کو ہوا دینے والوں کو قوم بتانا چاہ رہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے ایک ایک نکات پر اْس کی روح کے مطابق فیصلہ ملک بھر میں فی الفور لاگو ہونے میں ہی پاکستان کی سلامتی ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کا راز بھی اسی پلان میں پنہاں ہے لہٰذا ہم وطنو ں کو اب اور زیادہ ہوشیار ہونا پڑے گا ملک کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی طرف ملک کے ازلی دشمن لالچائی نظروں سے رال ٹپکا رہے ہیں پہلے مرحلے میں ہ میں اپنے اُن ازلی دشمنوں کے ملکی آلہ کاروں کے گرد اپنا شکنجہ کسنا ہے ۔

عیدالفطر مسلمانوں کا پُروقار سنجیدہ تہوار!

مسلمان عیدالفطر رمضان کے ۰۳;241; روزوں کے بعد شکرانے کے طور پر مسلمان مناتے ہیں ۔ اس موقعے پر عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں مسلمان۲ رکعت نماز عیدالفطر ادا کرتے ہیں ۔ عید الفطر سے قبل اپنے غریب مسلمان بھائیوں میں فطرانے کے پیسے تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ۔ رمضان میں مسلمان اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اپنے گناہوں کو معاف کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں ۔ طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں ۔ اللہ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ روزوں کا ثواب میں خود دوں گا ۔ باقی نیکیوں کے لیے اجر تو ۰۷;241; گنا تک کہا گیا ہے مگر رمضان میں اللہ نے اَجر خود دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور اللہ تو بے حساب دیتا ہے پھر بھی اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوتی ۔ اِس لیے مسلمان رمضان میں خوب دل لگا کر عبادت کرتے ہیں ۔ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں زیادہ سے زیاد ہ نوافل ادا کرتے ہیں ۔ راتوں کو جاگ کر تہجد پڑھتے ہیں ۔ نفلی عبادت تراویح کے لیے مساجد ماشاء اللہ بھر جاتی ہیں ۔ جس میں قرآن کے حافظ صاحبان قرآن شریف سناتے ہیں ۔ انفرادی طور پر ہر مسلمان قرآن شریف کی تلاوت کرتاہے ۔ مساجد میں قرآن کی تلاوت کی آواز سن کر بے ساختہ دل اللہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ بچے، جوان ،بوڑھے عورتیں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں ۔ ہر طرف نیکیوں کی ایک بہار ہوتی ہے ۔ ہر سال یہ ایک قسم کا تربیتی کورس ہے جو ہر رمضان کے مہینے میں ہوتا ہے ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی بستیوں میں نیکیوں کی بہار کا موسم ہوتا ہے ۔ شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے ۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ عذا ب ِجہنم سے نجات کا ہے ۔ صاحبو!اسلام کے جتنے بھی خوشی کے تہوار ہوتے ہیں وہ ایک پُرقار سنجیدہ اُمتِ مسلمہ کے شا یان شان ہیں ۔ کیوں نہ ہوں امت مسلمہ کو دنیا کی امامت کے لیے اُٹھایا گیاہے ۔ مسلمانوں کو فریضہ شہادت حق ادا کرنا ہے ۔ یہ کام ایک سنجیدہ امت ہی کر سکتی ہے ۔ مسلمان اُس روز عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں اکھٹے ہوتے ہیں دو رکعت نماز عیدالفطر ادا کرتے ہیں ۔ اللہ کے سامنے عاجزی سے گڑ گڑا کے دعائیں مانگتے ہیں ۔ کہ اے اللہ رمضان کے مقدس مہینے میں اگر عبادت میں کچھ کمی رہ گئی ہے تو معاف کر دی جائے ۔ اے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے ایک دوسرے کوعیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہیں ۔ روزوں کی مقبولیت کے لیے ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہیں ۔ نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے مل کر ایک دوسرے سے معاف کرنے کی درخواست کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اپنے اور رشتہ داروں کے بچوں میں عیدی تقسیم کرتے ہیں ۔ لذید قسم کی سویاں اور دل پسند کھانے کھاتے ہیں ۔ محبت،اخوت اور الفت کا موسم ہوتا ہے ۔ بچے، نوجوان،بوڑھے نئے کپڑے پہنتے ہیں ۔ ایک دوسرے میں تحاءف کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ پوری اسلامی دنیا کے ملکوں میں امت ِمسلمہ کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ایک جیسا پُر وقار سنجیدہ عیدالفطر کا دن مناتے ہیں ۔ وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے خیر امت بنایا ہے ۔ جو درمیانے راستے پر چلنے والی ہے ۔ اس امت کو فریضہ شہادتِ حق کے لیے اُٹھایا گیا ہے ۔ یہ دنیا کی دوسری قوموں پر شہادت کا فریضہ ادا کرے گی ۔ یہ امت امر با المعروف و نہی المنکر پر عمل کرے گی ۔ یعنی نیکی کے کاموں میں تعاون اور بُرائی کے کاموں سے منع کرے گی ۔ اس لیے اس کے شایان شان یہ بات ہے کہ اس کے سارے تہوار پُرقار سنجیدہ ہوں جےسے عےدالفطر ہے ۔ اس موقعے پر دوسر ے مذاہب کے تہواروں کی طرح کے غل غپاڑہ،آتش بازی،شراب و کباب کی محفلیں اور غٖیر اخلاقی حرکتیں نہیں ہوتیں ۔ بلکہ امتِ مسلمہ عیدالفطرایک بارعب،پُروقار سنجیدہ طریقے سے مناتی ہے ۔ مسلمان عیدالفطر کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں ایک راستے جاتے ہیں ۔ واپس دوسرے راستے سے گھر آتے ہیں اس سے مسلمانوں کی شان شوکت اور طاقت کے مظہر کی نشان دہی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی ہے ۔ جس مسلمان کے پاس مال ایک سال تک جمع رہے وہ اس مال سے ڈھائی فی صد زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے ۔ یہ ادائیگی مسلمان رمضا ن کے مہینے میں اپنے غریب بھائیوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عیدالفطر کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں زکوٰۃ کی ۸ ;241;مدَات قائم کر دی ہیں ۔ ان مدَوں میں زکوٰۃ خرچ کی جاتی ہے ۔ (۱) فُقرا : ۔ زکوٰۃ فقےروں کےلیے جو تنگ دست ہوں ۔ ےہ وہ لوگ ہےں جو اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھےلاتے ہوں ۔ ( ۲) مساکین : ۔ مساکےن وہ ہےں جو اپنی ضرورےات پوری نہےں کر سکتے ۔ ےہ بہت ہی تنگ دست لوگ ہےں جو اپنی ضرورےات پوری نہےں کر سکتے کمانے کے قابل ہوں مگر روزگار نہ ملتا ہو ۔ ( ۳) عا ملےن علےہا : ۔ ےعنی زکوٰۃ کا مصرف زکوٰۃ وصول کرنے پر جو مامورہوں ۔ اسلامی حکومت ان کو جو کچھ تنخواہ کی مد مےں دے ۔ ( ۴)موٗلفۃ القلوب : ۔ زکوٰۃ اُن کےلیے جن کی تالےف قلب مطلوب ہوں ےعنی جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں ےا جنکی اسلام دشمنی کو کم کرنے مےں مدد کی ضرورت ہو ۔ (۵)فی الرً قاب : ۔ اس سے مراد جو شخص غلام ہواسکو آ زاد کرانے مےں ےعنی غلاموں کی آزادی کےلیے زکوٰۃ کا استعمال جائز ہے ۔ آجکل جےل کے اندر قےدحقدار قےدےوں کی رہائی کےلیے زکوٰۃ استعمال کےا جا سکتی ہے ۔ (۶) الغارمےن : ۔ اس سے مراد جو لوگ قرضدار ہو ں مگر اپنا قرض ادا نہ کر سکتے ہوں ان کا قرض ادا کرنے کےلیے زکوۃ استعمال کی جا سکتی ہے ۔ (۷)فی سبےل اللہ: ۔ اللہ کے دےن کو قائم کرنے کےلیے ےعنی جہاد کےلیے زکوٰۃ استعمال کی جا سکتی ہے کوئی شخص مال دار ہے مگر اللہ کے دےن کو قائم کرنے مےں لگا ہوا ہے اس کو بھی ز کوٰ ۃ دی جا سکتی ہے ۔ (۸) ابنُ السّبےل : ۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے اور اسے پےسے کی ضرورت ہے اس کی زکوٰۃ مےں سے مدد کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپنے ملک مےں ما لدار ہی کےوں نہ ہو ۔ فطرانے اور زکوٰۃ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ رمضان میں مال دار حضرت اور اسلامی این جی اوزغریبوں ، مسافروں اور عام لوگوں کے لیے اجتماعی افطار ی کا اہتمام کرتی ہیں ۔ مسلمان اپنے اپنے گھروں میں ایک دوسرے کو بُلا کر افطار کا اہتمام کرتے ہیں ۔ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں ۔ ان تمام عبادات کو ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ اب عید الفطر کی خوشیاں مناءو تم نے پورے رمضان کے مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے کی عام مہینوں سے زیادہ محنت کی ہے ۔ زکوٰۃ مسلمانوں میں معاشی توازن کے لیے بہت ہی معاون ہے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے ۔ رسول;248;اللہ نے فرمایا تم میری لائی ہوئی شریعت کونافذ کردو تم دیکھو گے کہ تم اپنے ہاتھوں میں زکوٰۃ تقسیم کرنے کے لیے نکلو گے مگر تمہیں کوئی غریب نہیں ملے گا ۔ یہی ہوا دنیا نے دیکھا جب مدینے میں اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی تو کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ تھا ۔ سب کو اللہ نے مال دار بنا دیا تھا ۔ اگر آج بھی اسلامی ملکوں میں صدقِ دل سے اسلامی نظام زندگی راءج کر دیا جائے تو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست جیسے نتاءج نکل سکتے ہیں ۔ امن و امان قائم ہو سکتا ہے ۔ ایک دوسرے کا احترام اور قدر کا ماحول قائم ہو سکتا ہے ۔ بیرونی قرضوں اور سودی نظامِ معیشت سے مسلمان ملکوں کی جان چھوٹ سکتی ہے ۔ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت العالمین بنا کر بھیجا ہے وہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کے رسول;248; ہیں ۔ کاش یہودی،عیسائی اور دنیا کے تمام مشرکین رسول;248; کی تعلیمات کو اپنالیں تو دنیا جو اُن ہی کی وجہ سے دکھوں میں مبتلا ہے امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اور تمام مصیبتیں ختم ہوسکتی ہیں ۔

Google Analytics Alternative