Home » 2019 » June » 10

Daily Archives: June 10, 2019

لاکھوں غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم،قابل ِقدر اقدام

حکومت نے ملک کے سب سے کمزور طبقے کو معاشی اور سماجی حقوق کی فراہمی میں مدد کے لیے احساس پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو اپنے قدموں پر کھڑا کیا جائے گا ۔ غربت مٹاو پروگرام احساس کے سلسلے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ، خاتمہ غربت اور چیئرپرسن احساس پروگرام ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک پریس کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ حکومت 10 لاکھ غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم لا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے شفاف طریقے سے کارڈ تقسیم کئے جائینگے، تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیئے جائیں گے، پروگرام کے خدو خال بتاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ معذوروں کوویل چیئر،آلہ سماعت، سفید چھڑی مفت دی جائیگی، اسٹریٹ چلڈرن، جبری مشقت کے شکار بچوں کے تحفظ کیلئے نیا ادارہ بنے گا، نیا پاکستان ہاءوسنگ اسکیم میں بھی معذور افراد کیلئے 2فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے، کفایت شعار پروگرام کے تحت70 لاکھ غریب خواتین کو وظاءف دیئے جائینگے، یتیموں کیلئے ایک نئی پالیسی لائی جا رہی ہے جو کہ یتیم خانوں کی حالت بہتر بنائے گی اور ضرورت کے مطابق انکی تعداد میں اضافہ کریگی، ہر ماہ 80ہزار بیروز گارافراد کو بلا سودقرضے ،سلائی مشینیں ، مال مویشی، دکان کا سامان دینگے،غریب طالبعلموں کیلئے انڈر گریجویٹ اسکالرشپ اسکیم،ٹیوشن فیس، ہاسٹل کا خرچہ اور وظیفہ دیا جائیگا ۔ بلاشبہ یہ ایک جامع پروگرام ہے جس پر صحیح معنوں میں عمل در;200;مد سے ملک سے غربت اور بے روزگار کے خاتمہ میں مدد ملے گی ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غربت اور بےروزگاری کی شرح تشویشناک ہے ۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بیروزگاری کی شرح چھ فیصدکے لگ بھگ ہے ۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے قریبی ممالک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے سنگاپور میں 1;46;8فیصد، بھوٹان میں 2;46;4فیصد، مالدیپ اور نیپال میں 3;46;2فیصد، بھارت میں 3;46;5فیصد،کوریا میں 3;46;7فیصد، بنگلہ دیش میں 4;46;1 فیصد،چین میں 4;46;6فیصد، سری لنکا میں 5فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6فیصد سے زائدہے ۔ اسکے علاوہ ایسے غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جہاں بیروزگاری کا تناسب انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے جیسے کمبوڈیا میں 0;46;3فیصد، بیلاروس میں 0;46;5 فیصد اورمیانمار میں 0;46;8 فیصد ہے ۔ جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی سطح گزشتہ 13سالوں میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے اوربیروزگاروں کی زیادہ تعداد میں ان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں ۔ بیروزگاری کے اضافے میں توانائی کے بحران، امن وامان کے مسائل اور مہنگائی کا کلیدی کردار ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اس جانب عملی اقدامات اٹھانے شروع کر رکھے ہیں ۔ ان اقدامات کو نہ صرف اندرون ملک اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے غربت کے خاتمے کے حکومتی منصوبے احساس کو سراہا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ خوراک، ہاوَسنگ، تعلیم اور صحت کے حقوق ایک ایسی بنیاد رکھتے ہیں جن پر ایک باوقار زندگی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ شدید معاشی حالات میں بھی سماجی تحفظ کے بجٹ کو دو گنا کر دینا وزیر اعظم عمران خان کا ایک اہم اور جرات مندانہ قدم ہے، یہ فلاحی ریاست کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے ضمن میں تین گروپ ہیں جن کو پالیسی کور دینا ہے، پہلا گروپ وہ ہے جو سالہا سال سے غربت میں گھِرا ہوا ہے، دوسرا ;200;فت زدہ گروپ ہے جو کسی ;200;فت کی وجہ سے غریب ہو رہا ہے اور تیسرا گروپ ہمارے معذور بہن بھائیوں کا گروپ ہے ۔ پاکستان کے 2 اعشاریہ 5 فیصد لوگوں کو کسی نہ کسی معذوری کا سامنا ہے، ان افراد کی تعداد 5 لاکھ بنتی ہے ۔ رواں سال کے بجٹ میں معذور افراد کے لیے اہم پالیسیاں ہیں جن میں تمام مستحق افراد کو ویل چیئر مفت دی جائے گی، سماعت سے محروم مستحق افراد کو مفت ;200;لہ سماعت دیئے جائیں گے، بینائی سے محروم تمام مستحق افراد کو سفید چھڑی مفت مہیا کی جائے گی، جبکہ تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا اور اپنے خاندان کا علاج حکومتی خرچے پر مخصوص ہسپتالوں میں مفت کروا سکیں ۔ ملک کے20پسماندہ اضلاع میں مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں پر خصوصی افراد کے لیے مصنوعی اعضا تیار کیے جائیں گے ۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بے روزگارافراد کے لیے ایک نئی اسکیم کے بارے میں ;200;گاہ کیا جس کے تحت ہر ماہ 80 ہزار افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے دینے کا بھی اعلان کیا ۔ اسی طرح غریب طلبہ کے لیے ایچ ای سی کے تعاون سے نئی انڈر گریجوایٹ اسکیم بارے بھی بتایا کہ انڈر گریجوایٹ طلبہ کی یونیورسٹی اور ہوسٹل فیس حکومت ادا کرے گی ۔ وزیراعظم کا احساس پروگرام ایک انقلابی پروگرام ہے جس میں تمام سماجی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں ہیں ۔ حکومت کی توجہ نہایت بنیادی مسائل پر ہے جن کا حل کسی معاشرے کے لئے اشد ضروری ہوتا ہے ۔ ان بنیادی ایشو میں سے ایک بے روز گاری ہے اور حکومت اس جانب خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بے روزگاری کے اثرات جہاں معاشرے کومتاثر کرتے ہیں وہیں جرائم ، سماجی اورنفسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ حکومت جہاں انقلابی پروگرام متعارف کرا رہی ہے وہاں اس نے اگر مالیاتی بحران کوحل کرنے پر فوری توجہ نہیں دی تومعاشرے میں پھیلی بے چینی اورانحطاط کوکوئی نہیں روک سکے گا ۔

امریکہ کی بھارت پر نوازشات،جنوبی ایشیا کےلئے خطرناک

خطے میں طاقت کا توازن خراب کرنے میں جہاں بھارت پیش پیش رہتا ہے وہاں امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے نہیں تھکتا ۔ جنوبی ایشیاجو اس وقت گولہ بارود کا ڈھیربن چکا ہے امریکہ نے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ فضائی اور دفاعی میزائل نظام کی فروخت کی بھی پیش کش کی ہے ۔ مسلح ڈرونز کا معاہدہ ڈھائی ارب ڈالرکا بتایا جا رہا ہے ۔ مودی اور ٹرمپ کے درمیان جون 2017 میں بھارت کونگرانی کرنے والے گارڈین ڈرونز کی فروخت پر اتفاق ہوا تھا ۔ بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے ، مشترکہ سلامتی کے مفادات اور اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل انڈوپیسفک خطے میں اہم علاقائی مفادات کی حفاظت میں مدد دینے کے مقصد کے لئے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دی ہے اس کے ساتھ مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی بھی بھارت کو پیشکش کی ہے ۔ امریکہ نے بھارت کو حالیہ سالوں میں جو دفاعی سازوسامان فروخت کیا ہے ان میں دو ارب 60کروڑ ڈالر کے سی ہاک ہیلی کاپٹرز، دو ارب تیس کروڑ ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر، تین ارب ڈالر کے پی81میری ٹائم پٹرول ائیرکرافٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ امریکہ کی اسلحہ کی خریدو فروخت میں بھارت پر نوازشات پورے خطے کے امن کےلئے خطرناک ہیں ،چین اور روس کو اس معاملے کوسلامتی کونسل میں لے کر جانا چاہیے تاکہ اسلحہ کی دوذ کی حوصلہ شکنی ہو ۔

کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو کچلا نہیں جا سکتا

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ2016ء کے عوامی انتفادہ نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی اور یہ تحریک اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ کشمیریوں نے حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ کے نام نہاد ضمنی انتخابات کے مو قع پر جو مثالی بائیکاٹ کیا اس سے بھارت اور مقبوضہ علاقے میں اس کی کٹھ پتلی حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک انتفادہ شروع کرنے کا مقصد بھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کیخلاف بھر پور مزاحمت کرنا ہے ۔ سلام ہے کشمیر کے ان غیور مسلمانوں پر کہ وہ اپنا خون پیش کرکے، جوانیاں لٹاکر، بھوک و افلاس کی صعوبتیں جھیل کر بھی ڈٹے ہوئے ہیں ۔ وہ نہ تو جھکے ہیں ، نہ ہی بکے ہیں ۔ اگر ان شہداء کے جنازے اٹھتے ہیں تو وہ بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوئے ۔ بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ وادی کشمیر میں موجودہ انتفادہ ایک شعوری تحریک ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ کسی فرد یا جماعت کی پیدا کرہ تحریک نہیں ۔ بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں اورفورسز کے ذریعے حریت قیادت کی کردار کشی کر کے کشمیریوں کو تحریک آزادی سے دور کرنا چاہتا ہے تاہم اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیریوں کا مقدمہ ہر لحاظ سے مضبو ط ہے ۔ دراصل بھارت کو معلوم ہے کہ جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تیار نہیں ہوگا کوئی بھی مخلص کشمیری اسکے بہکاوے میں آکر نام نہاد بات چیت میں شامل نہیں ہوگا ۔ بھارت کو معلوم ہے کہ کشمیر کی حقیقی قیادت نام نہاد مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیگی اسی لئے اس نے ہٹ دھرمی پر مبنی موقف اختیا ر کر رکھا ہے ۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہا ہے ۔ ہندوستان کبھی بھی کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لیے کی جانے والی جائز جدوجہد سے نہیں روک سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشنز کے بہانے معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا جاتا ہے پھر ان کاقتل کیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ بڑے واضح طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتی ہے ۔ اور اس رپورٹ میں دو کالے قوانین آرمڈ فوررسز سپیشل پاور ایکٹ اینڈ پبلک سیفٹی ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ان قوانین کے تحت بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں یعنی گولیاں چلانے سے سنگین نوعیت کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے سلسلے میں قانونی کارروائی سے ان کو استثنٰی حاصل ہے اور اس قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم سے بھارتی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں انکار کردیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اٹھائیس برسوں میں اس قانون کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں بہت زیادہ خون بہا ہے اور اس کے علاوہ کروڑوں کی جائیداد تباہ کردی گئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کانگرس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہناہے کہ مقبوضہ علاقے میں راءج کالاقانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ افسپاء مہلک اور غیر مہذب قانون ہے جسے فوری طورپر منسوخ کیاجانا چاہیے ۔ کیونکہ یہ قانون اول تو ہندوستان کو زیب ہی نہیں دیتا کیونکہ یہ مہلک اور غیر مہذب قانون ہے دوم اس قانون کو بیشتر مواقع پر غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس قانون کے تحت فورسز کو قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی مسلمہ رائے ہے کہ افسپا جیسا کالاقانون بھارت کے جمہوری ملک ہونے کے دعوے پر ایک بدنما داغ ہے ۔ اگر مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز نے آٹھ جولائی کو مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پر امن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال خاص طورپر پیلٹ گن اور براہ راست فائرنگ نہ کی ہوتی تو 56قیمتی جانوں کا زیاں نہ ہوتا اور پانچ ہزار سے زائدکشمیری زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کیلئے معذور اور بینائی سے محروم نہ ہوتے ۔ لوگوں کو اس بات کی امید تھی کہ اس قانون کے نفاذ سے کشمیری عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں ان کا احساس بھارت کو ہوگا لیکن دہلی کی طرف سے اس بارے میں جو تازہ اعلان کیا گیا ان سے لوگوں کو زبردست مایوسی ہوئی ۔ ماضی میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نافذ سخت فوجی قانون کو ہٹانے کے لئے فوج اور خفیہ اداروں پر مشتمل یونیفاءڈ ہیڈکوارٹرس کا اہم اجلاس مقبوضہ کشمیر کے اس وقت کے وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے طلب کیا تھا ۔ اس اجلاس میں جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں تعینات بھارتی فوج کے پانچ کمانڈروں نے افسپا ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی لیکن سابق وزیر اعلیٰ نے انہیں بتایا کہ بھارت کے وزیرداخلہ نے انہیں ایسے علاقوں سے اس قانون کا نفاذ ختم کرنے کو جائز قراردیا ہے جہاں تشدد کی سطح کم ہوگئی ہے اور فوج کا کردار باقی نہیں رہا ہے ۔ مودی حکومت چاہے جتنے بھی مظالم ڈھا لے، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلا نہیں جا سکتا ۔ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد کررہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی غاصب فوج کے جاری مظالم بھی ان کی جدوجہد آزادی کو روک نہیں سکتے ۔ کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان شاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی ۔

’’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘‘کی اسموک اسکرین چہل پہل

ملک بھر کے اخبارات’الیکڑونک میڈیا ’ایف ایم ریڈیوسمیت سوشل میڈیا میں ہیجان خیز طوفان نما ‘اسموک اسکرین’کی فریب زدگی کے سحر نے ہرسیاسی فکرمند بزرجمہرے کو اپنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے، ہر کوئی اسموک اسکرین پر نموداران ہی ;39;سیاسی گتھیوں ;39;کو سلجھانے میں لگا ہوا حیران وپریشان ہے خود سرابی کے فریب کا شکار;39;ارے یہ کیا ہوگیا;23839; یہ کیوں کردیا گیا;238;ارے ایسی‘ٹاورنگ پرسنلیٹی’کو جوابدہی کے کٹہرے میں لاکھڑا کردیا گیا;238; بلاوجہ عمران حکومت نے اپنے ہی لئے’عدالتی بحران‘ ساپیدا کردیا;238;ایسی’’لائق و فائق کرشماتی شخصیت‘‘اتنے’’ اونچے قدکاٹھ کی شخصیت‘‘ پر الزامات عائد کردئیے گئے;238; لگتا ہے حکومت نے یہ قدم اْٹھا کراپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی ماردی ہے;238; بس موجودہ حکومت یوں سمجھئے گھر چلی ہی جائے گی جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے’’ احتساب احتساب‘‘ کی باتیں سنتے سنتے پاکستانی عوام تنگ آگئے ہیں ;238;قارئین یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ ملک کے چند فی صد کرپٹ مافیا ز گروہ کی یہی دہائیاں یہی راگ ہیں ، ان ہی سرابوں میں چاہے ماضی کی پالی ہوئی بیوروکریسی کی بقایاجات ہویا ناجائز منافع خور تجارتی شعبہ کے گروہوں کے افراد ہوں یاپھر ذراءع ابلاغ کے ’’ناخداؤں ‘‘ ہوں اُن کے حواری اور چیلے ہوں یہ سب مل کر پاکستان کے نوے فی صد عوام کو یقین دلانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں کہ ماضی کا حکمرانی سسٹم عمران حکومت سے بہتر تھا ماضی کے مسترد شدہ حکمرانوں پر سنگین کرپشنز کے الزامات غلط لگائے گئے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے بلاوجہ سزا سنائی ‘ اور اْنہیں جیل میں ڈالا گیا ہے ایک’’ انتہائی معصوم ‘‘سابق صدر اور اْن دیگر قریبی افراد پرمن گھڑت الزامات لگا ئے جارہے ہیں ;238; مطلب یہ کہ موجودہ حکومت نے’’ عدل عدل‘‘ کا شور تو بہت مچا رکھا ہے پر اب تک تاریخوں پر تاریخیں ہی دی جارہی ہیں بقول ان سیاسی مفاداتی بزرجمروں کے چاہے وہ صحافیوں کے بھیس میں ہوں یا وکلاکے بھیس میں ‘ پاکستانی عوام پر حکمرانی کا یکطرفہ حق جتلانے والے جولائی سال دوہزاراٹھارہ سے قبل کے جمہوری ‘اسٹیٹس کو’ کی دوبارہ بحالی کے لئے لگتا ہے کہ اپنی کشتیاں جلانے پر اتر آئے ہیں یہ موقع پرست ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں کہ ’’کوئی سافٹ بال‘‘ اگر مل جائے تو اْس پر جیت کا چھکا ماردیا جائے’لیجئے انہیں ایک’سافٹ بال‘ اور مل گئی پاکستانی عوام کی واضح اکثریت منتظرہے اس ‘سافٹ بال’ کو پاکستان کی کرپٹ مافیاز ٹیم کھیل پاتی بھی ہے یا پھر’’ کلین بولڈ‘‘ ہوجائے گی کیونکہ دس گیارہ ماہ ہونے کو آئے ہیں ان کرپٹ مافیا میں سے کسی ایک کو بھی اب تک کوئی عبرتناک سزا ہوتی کسی کو دکھائی نہیں دی ہے اب ایک اور ‘بڑی شخصیت’پر الزامات کا نیا ایشو اور سامنے آگیا مفروضوں پر مبنی باتیں ہیں کہ ختم ہونے پر آ نہیں رہیں ;39;مباحث;39;مناظرات اور مکالمات کی سیاسی جگتیں سب اپنی جگہ مگر کوئی یہ کہتا ہوا تاحال نظر نہیں آیا جو ببانگ دہل کہے کہ عدل اور انصاف کی اہمیت وضرورت قرآن وحدیث کی روشنی میں پاکستانی معاشرے میں استحکام پیدا کرنے کے لئے کل سے زیادہ آج کتنی ضروری ہو چکی ہے حقیقی عدل وانصاف یا پھربقول ایسوں کے جو آج کل اس بارے میں معترض ہیں ،اْن کے نزدیک عدل وانصاف کا کیا ایسا دوہرا نظام قائم رہے ’بڑی شخصیتوں ‘کے لئے کچھ ہو اور عام پاکستانیوں کے لئے سخت اور کڑانظام علیحدہ ہو;23839; اگر ایسا ہوجائے ماضی میں ایسا ہی ناکارہ سسٹم راءج تھا توکیا اس طرح سے ہمارامعاشرہ مجرمانہ چھپن چھپائی اور منکرات سے پاک صاف ہوجائے گا;238;جناب والہ! معاشرے کو ایسی مجموعی سماجی اور ادارہ جاتی برائیوں سے مبرا رکھنے کے لئے قانون اور عدل کا اطلاق بلاشرکت طبقات یکساں رکھے بغیر کیسے پاک و صاف رکھا جاسکتا ہے;238; کیونکہ عدل سب کے لئے یکساں پوچھ گچھ کا متقاضی ہوتا ہے، عدل کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے، کسی بالاطبقہ کے فرد کے لئے عدل کی شکل کچھ اور ہو اور عدل میں مصلحت برتی جائے تو پہلی معاشرتی انارکی کی زد سماجی ومعاشرتی امن وامان پربراہ راست پڑتی ہے، یہی وجوہ ہے کہ دین اسلام نے ایسے جرائم میں حدیں مقرر کی ہوئی ہیں جیسے چوری;39;قتل وغارت گری;39;جھوٹے افعال واعمال کی فتنہ گری;39; اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والوں کا اپنے حلف پر پورا نہ اترنا;39;ریاستی خزانوں کی لوٹ مار میں ملوث ہونا یہ جرائم ہیں جن کی جوابدہی ہر کسی کو دینی ہوگی جوابدہی کا قانون سختی سے نافذ ہوگا تو تبھی کہیں جاکرہمارامعاشرہ کسی حد تک جرائم سے پاک وصاف ہوگا ’’عدل‘‘ کے حقیقی نظام کو چیلنج کرنے والوں نے یہ جو ملک میں ایک غیر ضروری سا طوفان اْٹھانے کے لئے منفی سرگرمیاں شروع کرنے کے جمع ہونے کی منصوبہ بندیاں کرنے پر کمربستہ نظرآرہے ہیں کہ;39;اتنی بڑی قدآور قانون کو سمجھنے والی شخصیت پر الزام کیوں ;238;مگر کوئی یہ نہیں سوچ رہا ہے کل اگراسی ‘قدآور قانون دان‘شخصیت نے سپریم جوڈیشل کونسل کو تسلی بخش جوابات دیدئے تو ان الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی پھر یقینا حکومت سے پوچھا جانا حق بنتا ہے کہ ;39;غلط اور بوگس الزامات کیوں لگائے گئے;238; صبر تحمل مزاجی یکسوی اور وقار اور متانت کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جارہا جس اعلی قانون شناس شخصیت پر الزامات کا تعلق ہے اْن کا یہ کہنا اپنی جگہ برحق کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے گئے اْن کے خلاف ریفرنس کے مندرجات میڈیا میں کیسے شاءع ہوئے نشرہوئے اور ٹیلی کاسٹ ہوئے;238;قانون کی ادنیٰ سی سوچ رکھنے والے کی اس رائے اورمنطق میں کتنا وزن ہے کہ جس ‘ٹاورنگ شخصیت’ کے خلاف کوئی ریفرنس اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا ہے تو کیا اْنہیں صدر مملکت کو خط لکھنا صحیح تھایا وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھتے یوں بات اندرون خانہ رہتی ‘ٹاورنگ پرسنیلیٹی’ کے صدر پاکستان کو تحریر کردہ دونوں اہم خطوط جو اب شائد اس اہم ریفرنس کا حصہ بن چکے ہیں وہ میڈیا کی خبروں ‘ٹاک شوز اور سوشل میڈیاپر مختلف پیراؤں میں یوں زیر بحث کیسے آئے;238; اہل وطن یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ مذکورہ’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ جو آئین اور قانون پر مکمل سوجھ بوجھ کی قابلیت واہلیت کی برتری کی حامل قرار دی جارہی ہے اور اُوپر سے بلوچستان صوبہ سے تعلق رکھنے کی اہمیت کی تکرار قوم پر آخر باور کیا کرایا جارہا ہے یہ افراد آئین اور قانون سے بالاتر ہوتے ہیں اب ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کراپنے ایمان کی تازگی کو توانا کرکے کوئی بتلائے توسہی کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ مشہور واقعہ کسے یاد نہیں جن سے مسلمانوں کے ایک اجتماع سے بھری ہوئی مسجد میں جب وہ خلفیہ دوئم کے منصب جلیلہ پر فائز تھے اْن سے ایک عام مسلمان نے سوال کردیا تھا کیا حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی بڑی کوئی اور’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ ہوسکتی ہے;238; خلفیہ دوئم نے تو اس عام مسلمان کو موقع پر گواہ بھی فراہم کردیا تھا اور تشفی جواب بھی دیا مسلمانوں کے مجمع سے کسی ایک بھی مسلمان نے خلیفہ وقت سے سوال پوچھنے والے عام مسلمان کا گھیراو نہیں کیا اور نہ ہی وقت کے عظیم المرتبت خلیفہ دوئم نے عام مسلمان کے سوال پوچھنے پر اس عمل کو اپنے خلاف کسی سازش کا کوئی نتیجہ قرار نہیں دیا تھا جناب والہ!یہ ہے اسلام کا نظام عدل جو متمدن تہذیب کے تمام تر تجربات کاپختہ نچوڑ ہوتا ہے عدل کی کرسی کے متمنی ہر عادل کو انتہائی مطمئن اورپرسکون ہونا چاہیئے اورعاجز طبعیت کا حامل ہوناچاہیئے اور یہی نہیں بلکہ ایسوں کا حلقہ احباب اور ایسے عادل کے دیگر شناور ہر قسم کے الزامات کے ہر شائبہ سے بھی مبرا ہونے چائیں ۔

آوَ ملکی سا لمیت کا مل کر دفاع کریں

پاکستان میں ایک رواج ہے اور بہت عام ہے کہ سیاسی مخالفت ہو، علاقائی مصلحت ہو یا سیاستدانوں کا ذاتی نقصان ہوجائے تو فوراََ کہہ دیا جاتا ہے کہ ملکی سالمیت خطرے میں ہے یعنی یوں کہئے کہ ہمارے ہاں سب سے کمزور شے ملکی سلامتی ہے جس کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ اس کے لیے حساسیت قابلِ تعریف ہے کہ ہم محتاط رہیں لیکن اس کو پستہ بادام سمجھ لینا کہ دانت کے نیچے رکھا اور توڑ دیا یہ تصور بالکل غلط ہے لیکن ہو یہی رہا ہے اور اس کو ایسا ہی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ ہر ایک اس کو لا ولد کی جاگیر سمجھے کہ جب چاہا تا راج کر دیا ۔ اس سے میرا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ خطرات سے آنکھیں بند کر دی جائیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ بد خواہوں کو ہر وقت یہ بتایا جائے کہ ہم تمہاری ہر سازش ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں ۔ ہم لمبے عرصے سے بلوچستان کے بارے میں خاکم بدہن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بس ہو اچلی اور اس سوکھے پتے کو اڑا لے جائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نصف سے کچھ کم پاکستان ، یعنی بلوچستان کے وسیع و عریض صوبے میں کچھ جگہوں پر بد امنی اور خود غرض قوم پرستی پھیلانے والے عناصر ضرور ہیں لیکن ہمارا ہر سیاستدان اور سیاسی جماعت بلوچ کارڈ ضرور کھیلتا ہے ہاں اپنے دورِ حکومت میں وہ آنکھیں اور کان بند کر لیتے ہیں اور جب حکومت جاتی ہے تو پھر وہی ملکی سالمیت کی دھمکیاں ۔ ایسی ہی دھمکی سندھو دیش کی بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور پختونستان کی بھی ۔ دہشت گردی کی تباہ کاریوں نے قومی منظر نامے کو جہاں بحیثیت مجموعی متاثر کیا وہیں خیبر پختونخواہ پر خصوصی اثرات چھوڑے ۔ یہاں عرصے تک خوف و ہراس کی فضا چھائی رہی، ترقی کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا بلکہ روک دیا گیا اور دہشت گردی کی روک تھام ظاہر ہے پہلی ترجیح بن گئی ۔ کو ئی دوسرا منصوبہ نہ توجہ پا رہا تھا نہ تکمیل اور پھر جب ناقابلِ تلافی نقصان کے بعد خدا خدا کر کے دہشت گردی میں کمی آئی اور کافی حد تک اس پر قابو پا لیا گیا اور دشمن نے جب دیکھا کہ اُس کے مسلک فرقے کی چال کو عوام نے سمجھ لیا اور اُن پر واضح ہو گیا ہے کہ اُن سے دوسروں کی جنگ لڑوائی جا رہی ہے تو اُس نے ایک اور چال چلی اور اُنہی شمالی علاقوں جہاں سے وہ خود کش تیار کرکے بھیجتا تھاوہاں سے لسانیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش شروع کر دی ۔ یہ علاقے جن میں تاریخ میں شاید پہلی بار ترقی کا عمل شروع ہوا تھا یا ہونے جا رہا تھا یہاں منظور پشتین کے فتنے کو اُٹھا دیا گیا اور ہمارے کچھ سیاسی لیڈر انہیں اپنے حقوق کی جنگ لڑتے کچھ نوجوان کہہ کر انہیں کریڈٹ دینے کو کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی اِن سے پوچھے کہ یہ لوگ اُس وقت کہاں تھے جب اِن کے علاقے جلائے جا رہے تھے سکول اڑا دیے جاتے تھے بازار بموں کی زد میں ہوتے تھے کہ کاوبار نہ چلے یہ اُن لوگوں کے خلاف کیوں کبھی نہ اُٹھے کہ آج اُس فوج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں اس ناسور سے نجات دلانے کے لیے اپنے ہزاروں جوانوں کی قربانی دی ہے ۔ میں ہر بار بلوچستان کارڈ کھیلنے والوں سے یہی عرض کرتی ہو کہ بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں باقی تینوں صوبوں سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ایک ہزار میل کے فاصلے پر بھی نہیں جہاں کے مکینوں کو پتہ بھی نہ چلے کہ پاکستان کے دوسرے صوبے بھی لندن یا پیرس نہیں ایک ایسے غریب ترقی پذیر ملک کے صوبے ہیں جہاں غربت ہر جگہ پائی جاتی ہے صرف اُن کے ہاں نہیں ۔ ہاں اُن کے سرداروں نے اُن پراپنی گرفت کچھ زیادہ سخت رکھی ہوئی ہے لہٰذا ان کے مسائل یقیناََ زیادہ ہیں اور ان کا حل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے اورصرف سیاسی فوائد کے لیے ان مسائل کو لاینحل بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے ۔ وہاں مسائل حل کرنے کے بجائے اب یہی کھیل خیبر پختونخواہ میں کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہمارے سیاستدان جو یہاں پھر بنگلہ دیش کو یاد کر رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پٹھان وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا جو اس کی پہلی جنگ لڑ کراس کی بقا ء کے ضامن بنے اُس وقت میں جب یہ ملک جنگی سازوسامان سے بھی تہی دامن تھا اورخزانے میں بھی کچھ نہ تھا یہ اپنی بنیادوں پر ابھی نیا نیا اُٹھنے لگا تھا ایسے میں یہی پٹھان اٹھے اور اس کے بازوئے شمشیرزن بنے ۔ یہ بات بھارت بھی خوب جانتا ہے اور دوسرا ہر دشمن بھی لہٰذا ان لوگوں نے ان پٹھانوں پر کئی بار کام کرنا شروع کیاپختونستان کانعرہ بھی کئی بار لگوایا گیا لیکن انہی پختونوں نے اسے ختم کردیا اور یوں دشمن کی چال کو ناکام بنادیا اوریہی پختون ہیں جو آج بھی پاکستان کے دفاع کی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ جو پٹھانوں کی محرومی کا رونا رو رہے ہیں کیا اُن کے خیال میں باقی پورے پاکستان سے غربت ختم ہو گئی ہے، صحت کے مسائل حل ہو گئے یا تعلیم سب کے لیے یکساں اور مفت ہو گئی ہے جو اِن کے علاقوں میں نہیں ہے ۔ اس وقت پاک فوج کو لیں تو یہاں پٹھان جوان سے لے کر افسر اور جرنیل تک موجود ہیں ۔ آپ کو بڑے بڑے عہدوں پر پٹھان سول افسران نظر آئیں گے جج، عدالت، تعلیم اورصحافت کے میدان میں غرض ہر جگہ پٹھان اپنے ملک کی خدمت کرتا نظر آتا ہے اور یہ کوئی انہونی بات نہیں یہ اُن کی اپنی ذہانت اور قابلیت ہے جس کے بَل بوتے پر وہ ہر اُس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں پر کوئی بھی دوسرا پاکستانی ۔ لہٰذا کو نسی محرومیت لیکن یہ گروہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے خود اعتماد پختونوں کی خود اعتمادی کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور یہی دشمن کی چال ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے اندر سے کیوں بار بار بنگلہ دیش سے مماثلت کے آوازے اُٹھ رہے ہیں اور کیوں مسئلے کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کیوں لسا نیت کو ہوا دی جارہی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے ،کیوں یہ یاد نہیں رکھا جا رہا کہ مسائل کو ہوا دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کو شش کی ضرورت ہوتی ہے ان پر سیاست کی نہیں ۔ پٹھان انتہائی محبِ وطن پاکستانی ہیں اور وہ سب میری طرح اس بات پر اپنی توہین محسوس کرتے ہیں کہ کیوں ان کو غدارانِ وطن کے ساتھ جوڑا جارہا ہے اور کم از کم میں اس بات پر شدید احتجاج کرتی ہوں کہ کیوں ہماری مما ثلت بنگلہ دیش سے پیدا کی جا رہی ہے ۔ میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر کہوں گی کہ بنگلہ دیش بد قسمتی سے تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہو اتھا ہزاورں کلومیٹر دور بنگالی ٹیلی وژن اور فلموں میں دکھائے جانے والے مغربی پاکستان کے پوش علاقوں کو ہی دیکھ سکتے تھے اُنہیں اسلام آباد کی اونچی عمارتیں تو نظر آجاتی تھیں اس کے مضافات میں واقع کچی آبادیاں نہیں ، وہ کراچی میں اونچے اونچے پلازے ہی دیکھ سکتے تھے اس میں بستے بے گھر بے چھت مزدور کی کہانی سے وہ بے خبر تھے لیکن اب یہی اسلام آبادپشاور کے پڑوس میں واقع ہے اور وہاں کا سارا حال پشاور کا باشندہ جانتا ہے ۔ فاصلے بہت بڑا کردار کرتے ہیں ورنہ آج پاکستان میں رہنے والے یہ نہ سمجھتے کہ امریکہ میں کوئی غریب نہیں پایا جاتا ۔ وہ فلموں میں ایک ایسا امریکہ دیکھتا ہے جہاں سب اچھا ہے لیکن اسی امریکہ میں ترقی یافتہ دنیا میں دوسرے نمبر پر غربت پائی جاتی ہے ۔ یہاں کی ایک بہت بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، بہت بڑی تعداد بے گھر بلکہ بے چھت گلیوں میں سوتی ہے، بہت بڑی آبادی ٹرکوں اور کاروں پر رہ رہی ہے اوربے شمار ریلوے سرنگوں میں رہ رہے ہیں تو آخر ہم کیوں اپنے بارے میں اس قدر منفی تاثر پھیلا تے ہیں اور کیوں منظور پشتین اوراس کا گروہ اور اس گروہ کی جینزشرٹ والی لڑکیاں مستقل ہماری بے بسی کا رونا روتے ہیں ۔ ایک مشورہ ان کے لیے یہ بھی ہے کہ گلالئی اسماعیل اور ثناء اعجاز جیسی خواتین اپنے یورپ اور امریکہ کے دورے کم کر کے ان پر آنے والے اخراجات پختونوں کے انتہائی مصائب زدہ خاندانوں پر کیوں نہیں لگا دیتیں اور ان کے حامی بلاول زرداری جیسے انتہائی دولت مند سیاستدان کیوں اپنی دولت کا عشرِعشیر کسی ایک غریب پختون علاقے پر نہیں خرچ کر دیتے یا اسفندیار ولی اپنی فالتو دولت میں سے کچھ ان کو کیوں نہیں دے دیتے ۔ یقین کریں ان کی دولت کا یہ نا محسوس حصہ ان غریب لوگوں کی زندگی بنا دے گا، لہٰذا صرف روئیے مت کچھ کیجیے اور ملک کی سالمیت کو کانچ کا بنا کر پیش مت کریں اسے اتنا مضبوط بنائیے کہ اس کے خلاف کام کرنے کا سوچنے والا ہزار دفعہ سوچ کر بھی کچھ کرنے کی ہمت نہ کر سکے ۔

سمندروں کی حفاظت!

کائنات کی وسعت پر سوچیں تو خوف ناک صورت حال سامنے آتی ہے ۔ یہ زمین ایک معمولی سیارہ ہے ۔ اس سے کہیں بڑے سیارے ،زمین کے ہمراہ سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں ۔ ان سیاروں کے اپنے چاند بھی ہیں ۔ جیسے زمین کا چاند ،زمین سمیت سورج کے گرد گھوم رہا ہے ایسے ان سیاروں کے چاند بھی ان کے ساتھ سورج کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اس کی خوفناک بات یہ ہے کہ سورج اپنے ان سب سیاروں کے ساتھ کسی اور مرکز کے گرد گھوم رہا ہے ۔ یہ سورج اور اس کے سیارے انہیں انسانوں نے نظام شمسی کا نام دیا ۔ ایسے بے شمار نظام اور ہیں ۔ جن کی وسعت کا اندازہ اتنی سائنسی ترقی کے باوجود نہیں کیا جا سکا ۔ اسی طرح ایک خوفناک صورت حال پانی کے بارے میں بھی ہے ۔ یہ زمین جو ہے اس پر تین گنا پانی اور ایک حصہ خشکی ہے ۔ اسے تو ہم جانتے ہیں ۔ ویسے پانی کا تین گنا ہونا کتنا لرزا دینے والا ہے اب مزید سنیں ماہرین ارضیات ہمیشہ اس کھوج میں رہے ہیں کہ سمندروں میں اتنا زیادہ پانی کہاں سے آتا ہے ۔ جس کا جواب حال میں ہی ملا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس میں پانی کی مقدار کرۃ ارض پر تمام سمندروں کے پانی سے تین گنا زیادہ ہے ۔ (خیال رہے کرۃ ارض پر پہلے ہی پانی ،خشکی سے تین گنا زیادہ ہے ۔ سمندروں کے اجتماعی پانی سے تین گنا زیادہ پانی زیر ز میں ہے )یہ پانی زیر زمین چٹانوں کی کئی پرتوں کے بعد 700 کلومیٹر گہرائی میں نیلی چٹانوں کے اندر موجود ہے ۔ زمین کے اس اندرونی حصے کو مینٹل کہا جاتا ہے ۔ زیر زمین یہ پانی ماءع ، برف یا بخارات کے بجائے ایک چوتھی شکل میں موجود ہے جس سے ہم آشنا نہیں ہیں ہماری زمین کے اندر پانی کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے اندر یہ پانی کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے ۔ ہماری اس زمین پر اتنا پانی ہے ۔ یہ پانی سمندوروں میں ،زمین کی گہرائیوں میں پایا جاتا ہے ۔ سمندروں کی اہمیت اور ان بارے معلومات فراہم کرنے کے لیے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر کے ممالک میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد انسان کے لیے سمندروں کی اس کے پانی کی ،آبی جانوروں کی اور سمندر سے جڑے ماحول کی اہمیت بیان کرنا ہے ۔ عوام الناس میں اس کا شعور پیدا کرنا کہ سمندری آلودگی سے نوع انسانی کو خطرہ ہے ،سمندری آلودگی جسے آبی آلودگی کہنا چاہیے اسے کم کرنے کی مہم چلانا وغیراس مقصد کے لیے اس دن دنیا بھر میں سیمینار ،تقاریب،کانفرنسیں ،ٹی وی پر پروگرام ،اخبارات میں کالم و آرٹیکل لکھے جاتے ہیں ۔ یہ دن 1992 ء میں ;34; ریوڈی جینرو;34; میں زمین کے نام سے منعقد کی جانے والی کانفرنس سے منانے کا آغاز ہوا ۔ اقوام متحدہ کے تحت 2008 ء سے ہر سال سمندر کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لئے منایا جاتا ہے ۔ انسان کو سمندر سے 40 فیصد تازہ پانی ،50 فیصد سے زائد آکسیجن حاصل ہوتی ہے پانی اور آکسیجن پر تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار ہے ۔ سمندری علوم کے ماہرین زمین پر پھیلے وسیع و عریض سمندروں کو معدنی ذخائر کا بھی ایک بے بہا خزانہ سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا کی 40فیصد آبادی سمندروں کے نزدیکی ساحلوں پر رہتی ہے ۔ یہ ساحل ان افراد کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں ۔ انسانوں کی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو سمندر روزگار فراہم کرتے ہیں ۔ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ کی ضروریات کا انحصار سمندری حیات اور اس سے وابستہ کاروبار پر ہے، اس لیے سمندروں کا ماحول انسان اور اس کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ سمندر ماحول پر ایسے بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ موسموں کا نظام سمندروں سے بدلتا ہے ،بارشیں سمندر کے دم سے ہوتی ہیں ۔ کیونکہپانی بھاپ بن کر اوپر اٹھتا ہے جو اوپر جا کر ٹھنڈا ہوتا ہے ۔ ہوائیں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتی ہیں ۔ مناسب حرارت کی کمی بیشی سے بارش برستی ہے ۔ اس لیے سمندروں کی حفاظت اور اسے آلودگی سے پاک رکھنا سب کی قومی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ جو آلودگی سیوریج پانی کے ذریعے دریاءوں تک پہنچتی ہے وہی دریاءوں سے سمندر کا حصہ بن جاتی ہے ۔ پاکستان کا ساحل سمندر 1050 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ پاکستان ہر سال سمندر سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آبی اشیاء بیرون ممالک فروخت کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ 45لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں ۔ پاکستان کے سمندری حدود میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ جہازوں اور لانچوں کا بہنے والا گندا تیل اور بغیر صفائی کے فیکٹریوں سے آنے والا فضلہ،زہریلے کیمیکل وغیرہ ہے ۔ پاکستان کی صنعتوں اور رہائشی علاقوں کا استعمال شدہ نصف سے زائد پانی سیوریج کے ذریعے ندیوں ،دریاءوں سے ہوتا ہوا سمندر میں بہایا جاتا ہے ۔ جس سے سمندر آلودہ ہوتے ہیں ، سمندری آلودگی سے آبی حیات بری طرح متاثر ہوتی ہے ، خاص طور پر سمندرسے حاصل ہونے والی خوراک، مچھلیاں ، جھینگے ، کیکڑے وغیرہ اس کے علاوہ سمندری نباتاتی حیات پر بھی منفی اثر پڑتا ہے ۔ الغرض آلودہ سمندروں سے کرۃ ارض کے ماحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کے براہ راست منفی اثر ات انسانی حیات پر بھی پڑتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذراءع ہیں یعنی دریاءوں کی ا ٓلودگی،شہروں اور صنعتوں سے خارج ہوتا گندا پانی وغیرہ ہے ۔ سمندر نمکین پانی کے ایک بڑے پھیلاوَ کو کہتے ہیں ۔ یہ بعض اوقات کسی (عموماً نمکین) جھیل کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جس سے پانی کے اِخراج کے لئے کوئی راستہ میسّر نہ ہو ۔ دنیا میں پانچ بڑے سمندرپائے جاتے ہیں ۔ جن کے بارے میں مختصر معلومات یہ ہیں ۔ ;34;بحر الکاہل;34; دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے ۔ اسے یہ نام پرتگیزی جہاز راں فرڈیننڈ میگلن نے دیا تھا،جس کا مطلب;34; پرسکون سمندر;34; ہے ۔ بحر الکاہل زمین کے کل رقبے کے ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے، جس کا کل رقبہ 179;46;7 ملین مربع کلومیٹر (69;46;4 ملین مربع میل) ہے ۔ ;34;بحر اوقیانوس ;34;دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے5;223;1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے ۔ اس کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے ۔ اٹلانٹک کا مطلب ;34;اطلس کا بیٹا;34; ہے ۔ ;34;بحر ہند ;34;دنیا کا پانی کا تیسرا بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس میں دنیا کا تقریبا 20 فیصد پانی ذخیرہ ہے ۔ ;34;بحرمنجمد جنوبی;34; دنیا کا چوتھا سب سے بڑا بحر ہے ۔ اس نے چاروں طرف سے براعظم انٹارکٹکا کو گھیرا ہوا ہے ۔ ;34; بحر منجمد شمالی;34; دنیا کے5 سمندروں میں سب سے چھوٹا اور کم گہرا ہے ۔ حالانکہ بین الاقوامی تنظیم برائے آبی جغرافیہ (آئی ایچ او) اسے بحر تسلیم کرتی ہے لیکن ماہرین بحریات اسے بحیرہ آرکٹک کہتے ہیں ۔ قطب شمالی اسی سمندر میں واقع ہے ۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہم تو سمندروں کے عالمی دن کے حوالے سے لکھ رہے تھے ۔ یہ کہنا تھا کہ نسل انسانی کے لیے سمندروں کی کیا اہمیت ہے، اس سے صاف پانی،آکسیجن ،خوراک ،روزگار،معدنی ذخائر حاصل ہوتے ہیں ۔ سمندروں کے اندر اتنے وسائل ہیں کہ ان کا لاکھواں حصہ بھی انسان دریافت نہیں کر پایا ۔ خیرسمندر وں سے موسم تبدیل ہوتے ہیں ۔ یہ بھی کہنا تھا کہ سمندری آلودگی سے انسانوں کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے ،سمندری آلودگی انسان کی وجہ سے پھیل رہی ہے اور اسے کم کرنے کے لیے انسانوں کو ہی کوشش کرنا ہوگی ۔

Google Analytics Alternative