Home » 2019 » June » 11

Daily Archives: June 11, 2019

بجٹ پر عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

وزیراعظم نے بالکل درست کہا ہے کہ ہر محکمے پر ادارے کے اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی اس کی مثال پاک فوج نے تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے پر پہلے ہی قائم کردی ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ بعض اداروں کے صرف انٹرٹینمنٹ کے ہی اتنے بجٹ ہوتے ہیں کہ وہ خزانے پر ایک بوجھ کے مترادف ہوتے ہیں ۔ ہم تو یہاں حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ سب سے پہلے وزیراعظم ہاءوس ، وزیراعظم آفس ، وزرائے اعلیٰ آفسز،گورنرز آفسز اور ان کے دیگر سیکرٹری اور پی ایس کی مد میں کیے جانے والے اخراجات کو بالکل زیرو پر لایا جائے، چائے پانی کا نظام بالکل ختم کردیا جائے، جب انتہائی کوئی ضروری اجلاس ہو جس میں کوئی خاص وی وی آئی پی شامل ہو تو وہاں پر ایئر کنڈیشن چلانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ نیز گاڑیوں کے اخراجات بھی کم کرنے چاہئیں ، گریڈ 21اور 22 کے ملازمین کو ایک ہزار سی سی تک اور اس سے نیچے کے جو ملازمین ہیں ان کو 800سی سی تک گاڑی دینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ تمام دفاتر میں جو بائیو میٹرک نظام لگا ہے اس پر عمل یقینی طورپر بنایا جائے جو کٹوتیاں کی جارہی ہیں ان کی مثال اوپر سے قائم کرنی چاہیے ، پھر نیچے تک اس کے ثمرات خود بخود پہنچتے رہتے ہیں ۔ جب عوام کے سامنے وزیراعظم خود ایک بچت کی مثال بن کر پیش ہوگا تو عوام کو بھی بچت کرنے میں کوئی آر محسوس نہیں ہوگی ۔ یہ نہ ہوکہ حکمران خود اللے تللے اڑاتے رہیں جیسا کہ گزشتہ روز نعیم الحق نے کہاکہ بعض وزراء اور حکومتی عہدیدار اب بھی وی آئی پی کلچرکو فروغ دے رہے ہیں یہی حکومت کے خزانے پر اخراجات کی مد میں بوجھ ہوتے ہیں ان کو ختم کرنا ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔ معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو ;200;ئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی اور انہیں بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق ;200;گاہ کیا ۔ وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔ بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں وکلا تحریک سے متعلق اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلی کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر نے میڈیا کو بریفنگ دی ۔ میڈیا کو بتایا گیاکہ بجٹ سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں ، بجٹ کے حوالے سے حکومت نے ترجیحات طے کی ہیں ، ;200;ئندہ مالی سال کا بجٹ ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کیا جارہا ہے،ہماری ترجیح ہے کہ بجٹ کوعوام دوست بنایا جائے ۔ یہ بجٹ طویل مدتی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش ہو گا ۔ وزیراعظم نے اس بجٹ کا کئی مرتبہ جائزہ لیا ہے ۔ وزیراعظم جلد عوام کو بجٹ سے متعلق اعتماد میں لیں گے ۔ بجٹ میں ہر حکومتی محکمے اور ادارے کے اخراجات میں کٹوتی ہو گی، اس کا ;200;غاز افواج پاکستان نے کیا، ;200;رمی چیف اور افواج پاکستان نے فیصلہ کیا کہ قبائلی علاقوں پر بجٹ خرچ ہو، مسلح افواج کے تمام اعلی افسران نے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے انکار کیا، پاکستان کے ساتھ کھڑے عام قبائلی کو ترقی میں حصہ دار بنایا جائے گا ۔ دہشت گردی سے پاک پاکستان، وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے، پاکستانی پرچم کو چومنے والوں کو ترقی کا حصہ بنائیں گے ۔ حکومت کسی طرح بھی دفاعی بجٹ سے غافل نہیں ، نادان اپوزیشن قومی سلامتی کو دا وَپر لگانے کا پروپیگنڈا کر رہی ہے ۔ افواج پاکستان نے پہل کرتے ہوئے کفایت شعاری مہم میں حصہ لیا اور دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں مانگا ۔ کفایت شعاری مہم کے تحت تمام سرکاری ادارے غیر ضروری اخراجات کم کریں گے ۔ ہ میں پاکستان کے عوام کا کھویا ہوا مقام واپس لانا اور ملک کو دہشت گردی سے محفوظ بنانا ہے، پاکستان کو پرامن اور معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے، قبائلی اضلاع میں امن امان خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ، ۔ شہباز شریف کی واپسی پر معاون خصوصی نے کہا کہ لاپتہ لیڈر کے استقبال کے لئے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے افراد گئے،احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن جہاں احتجاج کی ;200;ڑ میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا اور عوام کو ایندھن بنا کر استعمال کیا گیا حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے گی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ عوام 30 جون سے قبل ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثاثے ظاہر کردیں ، اس کے بعد کارروائی کا ;200;غاز کریں گے ۔ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی مدت 30 جون تک ہے ۔ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے ۔ 26 ممالک سے 1;46;5 لاکھ اکاوَنٹس کی معلومات حاصل کی ہیں ، اور اس کے علاوہ 10 سے 12 ہزار پراپرٹیز کی معلومات حکومت کو موصول ہوئی ہیں ،پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ملک بھر کی بار ایسوسی ایشن میں صدارتی ریفرنس کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے اور اس حوالے سے وکلاء برادری تقسیم ہوگئی ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ارکان پارلیمنٹ سے ججز کےخلاف ریفرنس بھیجنے پر صدر مملکت عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اس ضمن میں صدر مملکت کو دو خط لکھ چکے ہیں جس میں انھوں نے ریفرنس کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے ۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی دفتر خارجہ کی تردید

افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا گیا، کابل میں مشتعل ہجوم نے پاکستانی سفارتخانے پر ہلہ بولا، ہلہ بولنے والے افغان شہری پاکستان آنے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے فوری ویزہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ افغانستان میں قائم پاکستان کا سفارتخانہ روزانہ کی بنیاد پر 2000 ویزے جاری کرتا ہے وہ اپنا کام تندہی سے کررہا ہے جبکہ دفتر خارجہ پاکستان نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے جس وقت ہلہ بولا گیا اس وقت سفارتخانے کے باہر موجود حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پالیا ۔ یہ بات افغان حکومت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی سرزمین پر پاکستان سمیت جو بھی سفارتخانے قائم ہیں ان کو تحفظ فراہم کرنا اس ملک کی ذمہ داری ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی جانب قدم بڑھایا ہے لیکن افغانستان کی جانب سے کوئی ایسے مثبت اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ گو کہ یہ حملہ ہوا یا نہیں ہوا اس حوالے سے وقت آنے پر حقیقت واضح ہوجائے گی لیکن وزارت خارجہ تردید کررہی ہے کہ کوئی حملہ نہیں ہوا ۔ آخر کچھ نہ کچھ تو ہوا ہوگا،افغان حکومت کو چاہیے اس حوالے سے تحقیقات کرے جبکہ ویزے دینے کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ اپنے فراءض بجا طورپر سرانجام دے رہا ہے پھر ایسے کونسے شرپسند عناصر تھے جنہوں نے جان بوجھ کر حالات کو پراگندہ کیا، ان شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دینی چاہیے اور پاکستانی سفارتخانے کے حفاظتی اقدامات میں خاطر خواہ اضافہ کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

دہشت گردی کی کمر توڑی جائے

شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ کمر بارودی سرنگ میں پاک فوج کے تین افسروں سمیت چار جوان شہید ہو ئے ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوان شمالی وزیرستان میں 10 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35 زخمی ہو چکے ہیں ۔ اسی مقام پر فورسز نے سرچ آپریشن کرکے چند سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا یہ وہی علاقہ ہے جہاں پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر کی سرگردگی میں چوکی پرحملہ کیا گیا تھا ۔ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بھی عید کے موقع پر سکیورٹی پر تعینات ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہو گئے ۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شر پسند عناصر قبائلی علاقوں کے امن کی بحالی کے دشمن ہیں ۔ قوم ان ناپاک سازشوں کیخلاف متحد ہے ۔ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں قابل ستائش ہیں ۔ فوجی جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ دیگر سیاسی رہنماؤں نے خاڑ کمر دھماکہ کی مذمت کی ہے ۔

دشمن پاکستان کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ دہشت گرد اپنے مذموم حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ شہدا کی عظیم قربانیاں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ۔ پوری قوم شہدا کی قرض دار ہے ۔ ہم اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ واقعہ کے ذمہ دار محسن داوڑ اور علی وزیر جوپاکستان دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ وہ آپریشن ہو جاتا جو محسن داوڑ اور علی وزیر نے روکا توآج کا سانحہ نہ ہوتا ۔

خار قمر میں ہی پی ٹی ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اس تنظیم کے اراکین اور خاڑکمر چیک پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں میں تصادم ہوا تھا اور اس واقعے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے ۔ شمالی وزیرستان کو کچھ ہی ماہ قبل عام عوام کے لیے کھولا گیا تھا تاہم خار قمر واقعے کے بعد وہاں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان کے نیٹ ورک نے شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں پاک فوج پر کیے گئے بارودی سرنگ کے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے ۔

ابھی کچھ ہی سال قبل شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ تھا ۔ وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحہ کے گودام بھی تھے ۔ یہیں سے دہشت گرد اور اسلحہ پورے ملک میں دہشت گردی کےلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ بھی یہیں تھے جو افغان سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے انتہائی محفوظ گردانے جاتے تھے ۔ کیونکہ یہ علاقہ پاکستانیوں کےلئے ممنوعہ قرار دیا جا چکا تھا ۔ لیکن پھر ہماری بہادر فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کو چن چن کر مارا بلکہ ان کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر کو بھی تباہ کر دیا ۔ افغانستان سے آمدورفت روکنے کےلئے سرحد پر باڑ لگائی گئی جس کی وجہ سے یہ علاقہ بہت محفوظ ہو چکا ہے مگر اب بھی کوئی اکا دکا دہشت گرد اپنی دہشت گردی دکھا جاتے ہیں ۔

یہاں بیرونی مداخلت بند ہونے کے بعد را اور این ڈی سی نے مقامی لوگوں کو غلط ترغیبات دینا شروع کر دیں اور انہیں اپنے ساتھ ملالیا ۔ ایک جماعت پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی گئی جن کے مقاصد تو اچھے تھے مگر ان کا رویہ اور طریقہ بالکل غلط ہے ۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاک فوج کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے اور گزشتہ ماہ سرحدی چوکی پر حملہ بھی کیا گیا ۔ کیونکہ فوج نے یہاں سے دہشت گردوں کے کچھ سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ان کو چھڑانے کےلئے سرحدی چوکی پر حملہ کیا گیا ۔ محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے افراد بیرونی سرمایہ کے سہارے اسمبلی ممبر بنے تاکہ ان کی ذات شک وشبہ سے نکل جائے ۔ انہوں نے باقاعدہ طورپر احتجاج کو بڑھاوا دیا اور چوکی پر حملہ کےلئے ورغلایا ۔

یہ حقیقت تو واضح ہو چکی ہے کہ یہ غدار ہمارے دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ ان سے بھاری فنڈز لیتے ہیں اور ان کی زبان بولتے ہیں ۔ انہی کے کہنے پر پاک فوج اور دیگر اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں ۔ دہشت گردی کےلئے اپنے آدمیوں کو استعمال کرتے ہیں ۔ علاقے میں دہشت پھیلاتے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے اگر محب وطن ہیں تو ان کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے ۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے ، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے;238;

یہ سادہ لوح عوام کو ورغلاتے ہیں اور دہشت گردوں کےلئے سہولت کار ی کا کام کرتے ہیں ۔ پھر انہیں اتنی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے ۔ ان کا فوری طورپر قلع قمع ضروری ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو فوری طورپر کیفر و کردار تک پہنچائیں ۔ بیرونی دشمنوں کو شکست دینے کےلئے ان کے اندرونی ایجنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ۔

سانحہ گولڈن ٹیمپل ۔ نئی دہلی کےلئے رستاہو ا ناسور

بھارت کے شمال مغرب میں پنجاب کا ایک بڑاحصہ جس پر بھارت گزشتہ ستراکہتر برسوں سے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک قابض ہے تقسیم ہند کے موقع پرکانگریسیوں نے سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو وقتی طور پر تسلی دلادی تھی کہ وہ بٹوارے کے جھمیلوں کے بعد سکھوں کی علیحدہ ریاست کی مانگ کو پورا ضرور کریں گے یاد رہے کہ اْس وقت ماسٹر تارا سنگھ نے انگریزوں اور کانگریسی لیڈروں سے پْزور مطالبہ کیا تھا کہ’’سکھ تشخص‘‘ کو جدیدیت اورہندومت کے سیلاب میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے اْن کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ سکھوں کو سرکاری طور پر ایک الگ قوم تسلیم کیا جائے اْنہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے قوم پر ست ہیں تو قوم کی خاطر سکھوں قوم کو بھی عزت سے رہنے دیں قوم پرستی کے نام پر اگرآپ سکھوں کی امتیازی شناخت کو ختم کرنے کی اپنی ناپاک کوشش کرتے ہیں تویہ آپ کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، ہم سکھ قوم اپنی عزت کوبہت اہمیت دیتے ہیں اگر ہماری الگ سے شناخت نہ ہو تو ہمارے پاس فخر کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں بچتا’’ اگرسکھ رہنما ماسٹر تاراسنگھ سے کانگریسیوں اور برطانوی سامراج نے یہ وعدہ کیا تھا تو اْنہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا سقوط حیدرآباد سقوط جونا گڑھ اور مقبوضہ کشمیر کی طرح سے سکھوں کے علاقہ کو بھی زبردستی بھارتی حدود میں شامل کرلیا گیا جبھی اپنے کالم کی ابتدا میں ہم نے ‘بھارتی زیر کنٹرول پنجاب’ کی استبدادی اصطلا ح کو استعمال کیا ہے جناب والہ!یہ علاقہ جب تک خالصتان کا وجود پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچتا بھارتی انتظامی کنٹرول والا علاقہ کہلایا جانا چاہیئے اسی بھارتی پنجاب کے دارلحکومت کانام’’چندی گڑھ‘‘ ہے اور چندی گڑھ سے دوسوسترہ کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستانی باڈر شروع ہوجاتا ہے یعنی پاکستانی پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور سے صرف اٹھائیس کلومیٹرکے فاصلے پربھارت کے مشرق کی جانب امرتسر واقع ہے امرتسر کی آبادی دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق گیارہ لاکھ تینتیس ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے امرتسر شہر میں سکھ مت کا روحانی مقام ‘ہرمندر صاحب’ واقع ہے ہرمندرصاحب یا دربارصاحب کوعام طور پر‘گولڈن ٹیمپل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اوراس مقام کو سکھوں کی اہم مقدس عبادت گاہ کادرجہ حاصل ہے جیسا بین السطور تاریخی حقائق کے دلائل کی روشنی میں اشارتا ًگفتگو کی گئی کہ سکھوں نے اپنے ثقافتی وسماجی کلچر کو ہندومت میں شامل کرنے والوں کے خلاف تقسیم ہند کے بعد سے 36برس تک پرامن جدوجہد جاری رکھی نئی دہلی کی ہٹ دھرمی کو چیلنج کرتے رہے ہڑتالیں اور مظاہرے کرتے رہے چارجولائی انیس سوپچپن کا دن بھی سکھوں کے لئے کبھی نہ بھلایا جانے والا دن ہے جس روز جب نئی دہلی کے حکم پر اکالی دل اور شرومنی کمیٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کے لئے مسلح پولیس کے کمانڈوز کے دستے گولڈن ٹیمپل کے سامنے سڑک کے پارواقع ہوسٹل کمپلکس میں داخل ہوگئے امرتسر کے عوام کو جونہی اس کی اطلاع ملی تو ہزاروں اکالی واہ گرو کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اس مقام پر جمع ہوگئے یوں بھارتی حکمرانی کی استبدادی تاریخ میں یہ دن بھی سکھوں کے نزدیک ایک یادگار دن کا مقام حاصل کرگیا اْس روز کچھ کم نہیں ہوا تھا پولیس کمانڈوز نے شدید لاٹھی چارج کیا بے تحاشہ آنسوگیس کے گولوں کی بوچھاڑ کردی گئی تھی آنسو گیس کے یہ گولے گولڈن ٹیمپل کے مقدس تلاب تک پہنچے یہ گولڈن ٹیمپل کی پہلی بار بے حرمتی کی گئی اور یوں سکھوں میں براہمن ہندوجاتی کی سامراجیت کے خلاف مزاحمتی تحریک ابھر کر سامنے آگئے اور سردار بھنڈرانوالے سکھوں کی اس مزاحمتی تحریک کے قائد بن گئے پہلے اْنہوں نے گولڈن ٹیمپل کے سامنے واقع اسی مقام کو اپنا ہیڈکواٹر بنالیا اور نئی دہلی نے نیم فوجی دستوں کو ہمیشہ کے لئے اسی ہیڈکواٹر کے سامنے اپنی چوکیاں قائم کرنے کاحکم دیدیا یوں وقت بیتا رہا سکھ قوم اپنے ملی تشخص کے حصول کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے خیالات سے متفق ہونے لگی امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر اندراگاندھی نے فوجی کشی کرنے کا خطرناک فیصلہ کیوں کیا ایک ملکی خبررساں ایجنسی کے نمائندے کی اس بارے میں لکھی گئی یادداشت پڑھنے کا راقم کو موقع ملا جس میں وہ لکھتا ہے ‘‘یہ 1984 کی بات ہے جب میں ابھی کالج میں ہی تھا اتنے زیادہ ٹی وی چینل نہیں تھے جتنے اب ہیں بلکہ پی ٹی وی کے علاوہ صرف امرتسر ٹی وی ہی لاہور میں دیکھا جا سکتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب موسم صاف ہو نہ ہی خبر حاصل کرنے کے لیے کوئی سوشل میڈیا تھا اس لیے اچھی اور بری خبریں دھیرے دھیرے ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچا کرتی تھیں گھر میں امرتسر ٹی وی آتا تھا لیکن یہ خبر وہاں سے نہیں ملی یہ خبر ملی پاکستانی اخباروں ، پی ٹی وی اور ریڈیو سے ملی کہ سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر تین جون 1984 کو بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہے اور اس میں کئی سکھ جاں بحق ہوئے اس وقت یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت ایک ہی عمارت کا نام ہے یا یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں اس فوجی آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا تھا’’ا;63;گے چل کر اْس نے لکھا کہ‘‘مجھے یاد ہے میری اور میرے جیسے بیشتر پاکستانیوں کی ہمدردیاں فوراً سکھ برادری سے ہو گئیں اور کم از کم پاکستان میں یہ سمجھا جانے لگا کہ کیونکہ اب بھارتی فوج نے سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا ہے اس لیے سکھ اسے کبھی نہیں بھولیں گے’’ اورہماری یہ سوچ آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ہم بالکل صحیح سوچ رہے تھے تین جون سے آٹھ جون تک ہندو فوجی جوانوں اور افسروں نے مقدس اکال تخت سمیت گولڈن ٹیمپل کے سفید دودھیا جیسے سنگ مرمر کے تلاب اور صحن کو سکھ مردوں ’ عورتوں اور معصوم بچوں کے خون سے لال سرخ کردیا تھا گولڈن ٹیمپل میں مزید پانچ دن خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی بھارتی فوجیوں کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جاں بحق ہوگئے سکھ قوم کی تاریخ میں امر ہوگئے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد چار سو سکھوں اور تراسی فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں اور یہی صحیح ہے سانحہ گولڈن ٹیمپل کے بعد امرتسر سمیت بھارتی زیر کنٹرل پنجاب کئی ہفتے تک سوگ میں ڈوب گیا ہر طرف سوگ سکھ قوم کے ہر فرد میں ایک غصہ تھا جو دبا ہوا تھا یہ غصہ اس واقعہ کے صرف چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنھیں ان ہی کے سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اوریوں گولڈن ٹیمپل پربلاوجواز فوج کشی کا بدلہ لے لیا گیا، لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم تین ہزار سکھ ہلاک کر دیے گئے سنہ 2012 میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی انڈین فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل سے واپس آ رہے تھے کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انھیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے سکھ قوم کی تیسری نسل اپنے ملی سکھ تشخص کی بقا کے لئے بہت تیزی سے متحدہونے لگی ہے بھارت کو آج نہیں تو کل لیکن بہت جلد ہی مقبوضہ کشمیر سمیت سکھوں کو بھی اْن کا حق خود ارادیت ہر صورت میں دینا ہی پڑے گا اور نئی دہلی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ’’سانحہ گولڈن ٹیمپل آج بھی اُس کے چہرے کا ایک رستہ ہوا ناسور ہے ۔

پاکستان کی نا قص سفارت کاری اور ناکام میڈیا

سال1979 سے روس کا افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد اور پھر 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد ، پورے 41 سال سے پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ دھشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار لوگ شہید ہوئے جن میں ڈاکٹر، انجینیر ز، مسلح افواج ، پولیس اور قانون نا فذکرنے والے اداروں کے اہل کار، سائنس دان ، پروفیسر، وکلاء، سکول اور کالج کے طالب علم ، صف اول کے پاکستانی سیاست دان ، سیاسی ورکرز، مزدور ، راہگیر اور یہاں تک کہ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس سے وابستہ لوگ دہشت گر دی کی جنگ میں شہید یازخمی نہیں ہوئے ۔ ہمارے سیاست دان ، قانون ساز اداروں میں حکومتی اور مخا لف بنچوں پر بیٹھے سیا ست دان جب بھی قومی ، صوبائی اسمبلی ، سینیٹ یا عام اجتماعات یا قومی اور بین الاقوامی فورم پر تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ضرور دہشت گردی کی جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں کی شہادت اور اس جنگ کی وجہ سے 120 ارب ڈالر کے نُقصان کا ذکر کرتے ہیں ۔ مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہماری میڈیا اور بیرون ممالک سفارت کار پاکستان کے اس قربانیوں کو اصلی شکل میں اُجاگر کرنے میں ناکام رہے ۔ نتیجتاً امریکہ ، اور دوسرے یو رپی ممالک کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے پاس کوئی ایسا ٹی وی، ریڈیو چینل نہیں جسکی وساطت سے عالمی سطح پر پاکستان کے ان قربانیوں کو منظم طریقے سے ;80;ortrayیا انکی تشہیر کی جائے ۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک اور بیدار معزاقوام کے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہ ملک کے مُثبت امیج کو اچھے طریقے سے پروجیکٹ کرتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم نے دہشت گردی اور انتہائی پسندی کی جنگ میں اتنی بھاری قربانیاں دیں جو دنیا میں کسی قوم نے نہیں دی مگر اسکے باجود بھی ہ میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہ میں ہل من مزید کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اُردو،انگریزی یا علاقائی زبان کا کوئی ایسا ریڈیو ٹی وی چینلز نہیں جس کے ذریعے بیرونی دنیا کو پاکستان کی آواز پہنچائی جائے ۔ اگر ہم غور کریں تو بر طانیہ کا بی بی سی ، امریکہ کا سی ا ین این ، پشتو چینل ڈیوہ، اور بھارت کے سینکڑوں ٹی وی چینلز کس منظم طریقے سے اپنے ملکوں کے ا یجنڈے کو آگے لے کے جا رہے ہیں ۔ بی بی سی کی اُردو سروس اور ڈیوہ ریڈیو کی پشتو سر وس کی خبریں میوزیکل پروگرام اور تبصرے سوشل میڈیا کے اس دور میں سامعین ریڈیو کو بھی انتہائی انہماک سے سُنتے ہیں ۔ ہمارا الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پاکستان کے کاز کو لوگوں تک پہنچانے میں ناکام ہے جبکہ اسکے بر عکس دشمن یا پاک مخالف ممالک ہمارے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ کرتا ہے اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو ایک دہشت گرد اور انتہا پسند کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ ریاستی الیکٹرانک میڈیا کے نام پر ہر مہینے بجلی کے بل میں 35 روپے لئے جاتے ہیں مگر اسکے با وجود ریاستی الیکٹرانک میڈیا کا رکردگی بالکل صفر ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ اچھی ڈپلومیسی اور سفارت کاری کسی ملک کی اچھے امیج کو اُجاگر کرنے میں اہم کام ادا کرتا ہے مگر مُجھے پھر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرح ہماری ڈپلومیسی اور سفارت کاری بھی صفر ہے ۔ بیرون ممالک سفارت کار اور ڈپلومیٹ ملک کے اچھے اور نرم امیج بنانے میں ناکام ہیں ۔ وہ اپنے فراءض منصبی کے دوران ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفا دات کو اہم سمجھتے ہیں اور ان میں اکثر بیرون ملک تجارت اور کاروبار کرتے ہیں ۔ جو سفارت کار اور دُپلومیٹس بیرون ممالک بھیجے جاتے ہیں اُنکا تعلق اکثر و بیشتر حکمران پا رٹی یا فوجی حکومت سے ہوتا ہے اور انکی تقرری میرٹ اوراہلیت کے بجائے سفارش پر ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انکی نا اہلی کی وجہ سے وہ ملکی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ اگر ملکی میڈیا اورسفارتکاری اچھی ہوتی تو آج کل پاکستان کو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے ۔ اورپاکستان کا امیج انتہائی اچھا ہوتا اور قدر اور عزت سے دیکھا جاتا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں قومی اور بین الاقوامی زبانوں کے سا تھ ساتھ پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی میں ٹی وی چینلز ہونے چاہئیں تاکہ عام پاکستانی کو بھی وطن عزیز کے مسائل سمجھنے میں آسانی ہو ۔ اسکے علاوہ جو ڈپلومیٹ اور سفارت کار باہر بھیجے جاتے ہیں اُنکی تقرری بھی صاف شفاف اور میرٹ پر ہو تاکہ وہ صحیح ، محب وطن پاکستانی ہو کر ملک اور قوم کی صحیح ترجمانی کر سکیں ۔ میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ;77;edia is the eye and ear of society یعنی میڈیا کسی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جبکہ سفارت کار اور ڈپلومیٹ اس سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ ونسٹن چر چل کہتے ہیں

;68;iplomate is a man who thinks twice before saying any thingکہ ڈپلومیٹ ایک ایسا انسان ہوتا ہے کہ کچھ نہ بولنے سے بھی دو دفعہ سوچتا ہے ۔ جو کچھ آج کل ہم بھگت رہے ہیں اسکی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ نہ تو ہمارے پاس اچھا میڈیا ہے اور نہ اچھے سفارت کار اور ڈپلومیٹ جو ملک اور قوم کے کاز کو اچھے طریقے سے دنیا کو دکھا سکیں ۔ اچھی سفارت کاری سے ناکامی کامیابی میں بدل جاتی ہے ۔

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

گزشتہ سے پیوستہ

انکے برجستہ اور موقع محل کے مطابق لطاءف خاص و عام میں ;200;ج بھی بہت مقبول ہیں ۔ وہ اٹاری شام سنگھ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے اٹاری سکول سے میٹرک کرکے خالصہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی چلے گئے اور ریاست اخبار میں چھے پیسے روزانہ کے حساب سے کام کرنے لگےپھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور راشننگ کے محکمہ میں کام کرنے لگے اور مختلف جگہوں پر جن میں قرقی ،قیاب ،ہر ہنس پورہ میں پھرتے پھراتے رہے یہ پھر نا پھرانا ان کی بصیرت میں بہت کام ;200;یا ان کا حافظہ بہت کمال کا تھا اور پنجابی کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ شعر کا ایک مصرع مجھے بالکل یاد نہیں ;200;رہا تھا تو اس کے لیے میں نے جا لندھرکا سفر کیا جنڈ یالا اور تھابل کے ;59; کارخ کرکے چل پڑا ایک دیہات میں پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا جو حقے کےکش لگا رہا تھا کنویں میں چلتے ہوئے بیلوں کو چلا رہا تھا کہتے ہیں کہ میں نے بھی کنویں سے پانی پیا اور بوڑھے کے پاس بیٹھ کر حال احوال پوچھنے کے بعد مختلف شعر پڑھنے لگا تاکہ اس بوڑھے کا( مرا ہوا بوڑھا )بیدار کر سکوں ۔ کتے ٹکریں تے حال سناواں ۔ ۔ ۔ ۔ تے دکھا وچ جند رل گئی منڈا روئی دے کیکر توں کالا ۔ ۔ ۔ ۔ تے باپو نوں پسند ;200; گیا اس طرح کے مزید کئی بول سنا کر اس کے مرے ہوئے بو ڑھےکو جگا لیا تو وہ شعر جس کا مجھے ایک مصرع بھولاہوا تھا وہ پڑھا وہ یوں تھا پتناں نوں لادے بیڑیاں : وہ فورا بولا جٹی ہیر نے سیالی جانا جوں ہی اس بڈھے نے دوسرا مصرع پڑھا تو میری مطلب بر;200;ری ہوگی 1965کی جنگ میں نظام دین;59; چھمب جوڑیاں ، چو نڈے اور باقی محاذوں پر جاکرمورچوں میں بیٹھ کر کاروائی دیکھ کر شام کو واپس ;200; کر اتنا شاندار پروگرام کرتے تھے اور اپنے فوجیوں کی اتنی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ قوت ایمانی سے سرشار ہوکر دشمن کے ٹینکوں اور جہازوں کو نیست و نابود کردیتے تھے ۔ ریڈیو جا لندھر، دلی ،جموں کشمیر نظام دین کا نام لے کر للکارتے ادھر نظام دین اپنے مخصوص انداز میں ان کی مٹی پلید کرتا سرگودھا میں کچھ جہاز ہمارے فوجیوں نے مار گرائے نظام دین وہ جہاز دیکھ کر ;200;ئے شام کو پروگرام شروع کیا جب انڈیا والوں نے اپنے ریڈیو سٹیشن سے اپنے جہاز سینا کا ذکر کرنے لگے تو نظام دین کہنے لگے(تواڈی سئینہ مری پء جے) سرگودھا میں جہاز ایسے پڑے ہیں جیو یں کمیٹی والیا ں نے کتیاں نوں زہر د تا اے ۔ نظام دین کے بھپر ے دریا کے ;200;گے چوہدری عبداللطیف مسافر ہی بند با ندھتے تھے ۔ پر یہ پروگرام ;200;ج بھی اتنی ہی مقبولیت کے ساتھ اon air ہوتا ہے کردار وہی ہیں مگر کردار کرنے والے لوگ نئے ہیں بلکہ ان میں سے بھی بیشتر ملک راہی عدم ہوچکے ہیں حسین شاد، منیر نادر ، دلدارپرویز بھٹی، حیدرعباس ، پرویز بھٹی، عباس نجمی جن کے نام لیتے ہوئے کلیجہ منہ کو ;200;تا ہے عباس نجمی (شاہ جی )کا کردار اور فخر چیمہ (چیمہ صاحب)کا کردار ادا کرتے تھے پروگرام کا فارمیٹ دیہاتی ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی کنویں (کھو) پر بیٹھ کر پروگرام ہو رہا ہے پورے ہفتے کے پروگرام کا شیڈول ہوتا ہے ایک دن صحت کا پروگرام ۔ سب سے زیادہ خطوط فخر چیمہ کی پذیرائی کے ہوتے اس لیے کہ ان کا لہجہ (ایکسنٹ)بڑا زبردست ہوتا پھر انگریزی ادب کا مطالعہ اور دوسرے علوم سے واقفیت انہیں دیگر کرداروں سے ممتاز کر دیتی ۔ پروگرام کے ;200;خر پر گمشدگی کے اعلان بھی فخر چیمہ ہی کرتے 8 بجے کی خبروں کا اعلان بھی وہی کرتے فلمی گیتوں کی فرمائش کے نام اور جگہوں کے نام صحیح ادا کرنے میں ید طولی رکھتے تھے ریڈیو کی یہی تربیت انہیں پاکستان ٹیلی ویژن تک لے گئی پی ٹی وی ناءٹ اور;59; پنجابی خبریں ;59; ان کی پہچان بنی ہوئی ہے ناظرین و سامعین ;200;ج بھی ان کے منتظر ہیں دیکھیے کب دوبارہ انٹری دیتے ہیں ۔ ریڈیو پاکستان کے سب ہی پروگرام اپنی مثال ;200;پ ہیں ریڈیو فیچر، ریڈیو کالم ،تبصرے، ریڈیائی ڈرامہ، موسیقی پورے پورے کالم کے مقتضی ہیں ۔ موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتا ہے غالب نے کہا جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں ریڈیو پاکستان تھکےماندے لوگوں کی تفریح کے لئے ہر روز موسیقی پروگرام پیش کرتا ہے موسیقی کے یہ پروگرام رزمیہ بھی ہوتے ہیں اور عشقیہ بھی ریڈیو کے ذریعے مختلف تاریخی یا مخصوص دونوں میں خصوصی طور پر ملی نغمے اور افواج پاکستان اور عوام پاکستان کے حوصلے بلند کرنے کی خاطر خصوصی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں کلاسیکی موسیقی کے لیے ;59200;ہنگ خسروی ;59;کے نام سے پروگرام پیش کیا جاتا ہے ۔ کلاسیکی موسیقی کی ;200;بیاری میں ریڈیو پاکستان کا کردار لازوال ہے نامور غزل گائیک اعجازحسین حضروی، اقبال بانو، فریدہ خانم حسین بخش گلو ،غلام علی، اعجاز قیصر ،غلام عباس ،ثریا ملتانی گھر اور شہنشاہ غزل مہدی حسن جس نے غزل گائیکی کو وہ ;200;برو بخشی کہ رہتی دنیا تک اس کا نام رہے گا مہدی حسن کے گاءکی کی نہ صرف باکمال بلکہ بے مثال بھی ہے ۔

مہدی حسن کی گائی ہوئی ہزاروں غزلیں ریڈیو پاکستان کا شاخسانہ ہیں موسیقی کے ہر شعبے سے وابستہ نا بغےصرف ریڈیو پاکستان کی مرہونِ منت ہے ان سازندوں ، موسیقاروں کے ساتھ ساتھ میوزک پروڈیوسرز کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مجاہد حسین، حسن فاروقی، خالد اصغر اور سلیم بزمی ناقابل فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں سلیم بزمی جو خود بھی بہت بڑے گا ئیک ہیں اسکول اور کالج کے زمانے ہی سے گائیکی میں حصہ لے رہے ہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں زمانہ طالب علمی میں کالج کے ہفتہ وار میوزک پروگرام میں باقاعدہ حصہ لیتے رہے ۔ انہیں کشور گائیکی کا سپیشلسٹ سمجھا جاتا تھا ریڈیو پر بطور پروڈیوسر ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے میوزک سے ہی وابستہ کر دیا گیا سلیم بزمی نے کئی ملی نغموں اور غزلوں کی دھنیں بھی تیار کی ہیں ملک کے تمام چیدہ چیدہ اقوال پارٹیوں کی قوالیوں کی پروڈکشن تیار کر چکے ہیں ۔ گلوکاری میں غلام علی، فدا حسین گلوکارہ خورشید بیگم ،ممتاز بیگم ،زاہدہ نذر، فتح علی کمالوی ،پارو جی، استاد لیاقت علی خان گواچکے ہیں ۔ سلمی ;200;غا ،;200;غا کوثر ،شفقت امانت علی خان، سیمی لالیکا ،صائمہ ممتاز ،صنم ماروی، سارہ رضا خان، علی عباس، سجاد طافو، ندیم عباس لونے والا اور بہت سے موسیقاروں اور سازندوں کو ریڈیو پاکستان پر متعارف کروا چکے ہیں ریڈیو پاکستان لاہور سی پی یو میں کلاسیکل ،سیمی کلاسیکل اور لاءٹ میوزیکل، غزل، گیت، ملی نغمے ،موسموں کے گیت، شخصیات کے گیت اور دیگر اصناف سے میں ساڑھے سات ہزار گیت پروڈیوس کیے ۔ 2006 میں بہترین میوزک پروڈیوسر کا پی بی سی نیشنل ایکسیلینس ایوارڈ، 2018 میں کلاسیکل میوزک ۔ کی جانب سے امیر خسرو ایوارڈ ملا ۔ ورق کی تنگ دامنی کی وجہ سے ان کے بقیہ کام کا احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ مہدی حسن کی وفات پر تمام پروڈیوسرز نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بڑے شاندار پروگرام پیش کیے مگر حسن فاروقی اوربطور خاص سلیم بزمی کی ترتیب شدہ پروگرام کی گونج سامعین اب تک نہیں بھلا سکے ہیں ۔ مگر افسوس صد افسوس !سینٹرل پروڈکشن یونٹ لاہور، کراچی کی بندش جس کے ساتھ گیت، غزل، ٹھمری ، کافی کی گائیکی ،دم توڑ جائے گی وہاں بہت سے سازندے موسیقار اپنے فن سمیت لقمہ اجل بن جائیں گے اس لیے ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان صاحب سے ملتمس ہوں کہ اس کی بندش کے نوٹیفکیشن کو جلد از جلد کالعدم قرار دیں ۔

ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

Google Analytics Alternative