Home » 2019 » July

Monthly Archives: July 2019

کوئٹہ میں دھماکا؛ ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 20 زخمی

کوئٹہ: باچاخان چوک کے قریب بم دھماکے میں ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 20  زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ کے علاقے باچاخان چوک کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی تھانہ شفاعت سمیت 4 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو  سول اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکا لیاقت بازار میں سٹی تھانے کے سامنے ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے جب کہ  سول اور  شہر کے دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دوسری جانب دھاکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہری شہید، پاک فوج کا کرارا جواب

راولپنڈی: لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری شہید جب کہ 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی ہے اور لائن آف کنٹرول کے ڈنا، دھدنیال، جورا، لیپا ، شردا اور شاہ کوٹ سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے 26 سالہ نوجوان نعمان احمد شہید ہوگیا جب کہ 9 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے بھی مؤثر جوابی کارروائی کی گئی ہے جس میں 3 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ بھارتی چوکیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

گووندہ نے ہالی ووڈ فلم ’اویٹار‘ ٹھکرانے کی وجہ بتا دی

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار گووندہ نے مشہور ہالی ووڈ ایکشن فلم ’ اویٹار‘ کو ٹھکرانے کی وجہ بتا دی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گووندہ نے حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ہالی ووڈ کی 2009 میں ریلیز ہونے والی فلم ’اویٹار‘ سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ معروف ہدایتکار جیمز کیمرون کی جانب سے مجھے فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی یہ وہ فلم تھی جوکہ دنیا بھر میں غیرمعمولی طور پر مقبول ہوئی اور بزنس کے کئی ریکارڈ قائم کئے تھے۔

گووندہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے اس فلم کا نام ’اویٹار‘ تجویز کیا تھا اور اس دوران میں نے جیمز کیمرون سے کہا تھا کہ آپ کی یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ترین فلم رہے گی اور ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فلم کو  مکمل ہونے میں کم از کم سات سے آٹھ سال درکار ہوں گے جس پر کیمرون نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

اداکار نے فلم میں کام نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فلم کا اسکرپٹ اچھا تھا لیکن میں نے جیمز کیمرون کو کہا کہ آپ مجھے اس فلم میں معذور اداکار کا مرکزی کردار ادا کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ اور آپ چاہتے ہیں کہ میں 410 دن کی شوٹنگ کے دوران میں جسم کو رنگین رکھوں تو میں نے معذرت کرلی اور فلم سے انکار کردیا۔

اداکار نے یہ بھی کہا کہ میرے انکار کے بعد فلم میں دوسرے اداکار کو کاسٹ کیا گیا لیکن فلم کے حوالے سے کی گئی میری پیشگوئی بلکل صحیح ثابت ہوئی۔ فلم آٹھ سے نو سال بعد ریلیز کی گئی جوکہ سپر ہٹ رہی۔

وزیراعظم مملکت خدادادپاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانے کیلئے پرعزم

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے کہا ہماری جنگ حقوق اور قانون کی بالادستی کی جنگ ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی آجائے تو تمام مسائل ختم ہو جائیں گے ۔ وزیراعظم پاکستان کی یہ بات سوفیصد درست ہے کہ یہاں پر قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طبقاتی نظام، وڈیرا عزم، جرگہ سسٹم اور با اثر افراد کی اپنی اپنی چوہدراہٹ کا نظام ہے، قانون اگر ہے تو وہ صرف غریب اور بے سہارا افراد کیلئے جن کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، المیہ تو یہ ہے کہ کوئی غریب معمولی سا بھی جرم کرلے تو وہ سالہا سال اس نظام کی بھینٹ چڑھ کر جیل میں زندگی گزار دیتا ہے، ماضی میں متعدد اس قسم کی مثالیں موجود ہیں ۔ با اثر کوئی قتل کرے ، چوری کرے، ڈکیتی کرے، کرپشن کرے، ملکی خزانہ لوٹے، اربوں ، کھربوں کی منی لانڈرنگ کرے، اس کوکوئی پوچھنے یا پکڑنے والا نہیں ، پکڑا بھی جائے تو جیل میں اے سی اور تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں ۔ گھر کا کھانا جاتا ہے، وی آئی پی ملاقاتیں ہوتی ہیں ۔ ٹی وی اخبار کی سہولیات میسر ہوتی ہیں ۔ جبکہ ایک غریب قیدی بیچارا’’چکی‘‘ میں پس رہا ہوتا ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا وہ یہی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے، با اثر لوگوں کیلئے تو جیل بھی جنت ہے، یہی سب سے بڑا فرق ہے قانون کی حکمرانی کا جس کا وزیراعظم نے ذکر کیا ہے، اسلام میں مساوات اور قانون کا بہت زیادہ بول بالا ہے اگر قانون سب کیلئے برابر ہو جائے تو اس ملک سے جرائم ختم ہو جائیں ، یہاں پر زیادہ جرائم با اثر لوگ ہی کرتے ہیں ان میں سے دوچار لوگوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے تو پھر کوئی بھی جرم کرنے کی جراَت نہیں کرسکے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا صدر اور وزیراعظم جیسے عہدوں پر رہنے والے بڑے بڑے لوگ کرپشن پر عدالتوں میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت نہیں کرسکے، ملک پر دس سال میں قرضہ چڑھانے والوں سے جواب طلب کریں تو وہ اسے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں اس میں کونسا ایسا ظلم ہے کرپشن کی ہے تو جواب دینا چاہیے ، ہم نے پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، سابق حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے کمزور طبقہ پس رہا ہے، پاکستان کو مدینہ کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں گے، وزیراعظم کی اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے، حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ، اگلا سال آن پہنچا اگر ابھی تک حکومت سے کہے کہ ہم پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس چاہنے کے لفظ کو ہٹانا ہوگا، ملک کے طول و عرض میں اب وقت کی ضرورت ہے کہ اس حوالے سے کوئی نہ کوئی مثال قائم کریں کہ وطن عزیز کا نظام مدینہ جیسی ریاست کی جانب گامزن ہوچکا ہے، فیصلے جلد اور ٹائم فریم کے تحت کرنے ہوں گے ، مدینہ منورہ جیسی ریاست کی مثال قائم کرنا ہوگی، غریب کو اس کے حقوق دینے ہوں گے، امیر اور غریب کا فرق ختم کرنا ہوگا، مساوات قائم کرنی ہوں گی، قانون کا بول بالا کرنا ہوگا، انصاف کا علم بلند کرنا ہوگا، محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا ہوگا، ریاست کے طاقت سے طاقتور ترین کرپٹ شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، سزاءوں پر عملدرآمد تیز کرنا ہوگا، حق دار کو اس کا حق دینا ہوگا، سرمایہ دارانہ ، جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا ہوگا، چوہدراہٹیں اور علاقائی با اثر شخصیات کو ناپید کرنا ہوگا، سب کو علم ہو اگر انہوں نے کوئی بھی غلط کام کیا تو انہیں قرار واقعی سزا ملے گی تب قانون کا بول بالا ہوگا، ایسے نہیں ہوسکتا کہ صدر اور وزیراعظم یا دیگر با اثر شخصیات قانون سے ماورا ہوں ۔ اپنے خزانے بھرتے رہیں ، غریب کا خون چوستے رہیں ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کرتے رہیں ،قانون کو گھر کی لونڈی بنائے رکھیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر اس طرح مدینے جیسی ریاست بن سکے گی، وقت تقاضا کررہا ہے کہ اب کپتان عملی طورپر قدم اٹھائے جس جس کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا ہے اس کا جرم ثابت ہونے پر اس سے رقم وصول کی جائے اور اگر رقم وصول نہیں ہوپاتی تو پھر سزا پر عملدرآمد کیا جائے ۔ اسلام کہیں بھی اجازت نہیں دیتا کہ مجرم اور ملزم کو پکڑ کر تاریخوں کی صورت میں اس سے آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہے ، قوم منتظر ہے وہ عمل دیکھنا چاہتی ہے، حکومت اب نتاءج دے ، با اختیار ہے، تمام چیزیں اس کے ہاتھ میں ہیں ، کرنا چاہیے کی گردان نہیں بلکہ کہے کہ کردیا ہے ۔ پھر وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ، اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اس بات سے بھی ہم اتفاق کرتے ہیں کہ دین محبت، امن و آشتی، بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔ نیز اقلیتوں کو بھی مکمل طورپر تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ ہمارے ملک میں اقلیتیں آزادی سے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کررہی ہیں ، جبکہ پڑوسی ملک صرف بھارت کو ہی دیکھ لیا جائے تو وہاں پر اقلیتوں کا جینا حرام کررکھا ہے، دلتوں اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہے، ’’گاءو ماتا ‘‘کے نام پر اور ’’جے شیری رام‘‘ نہ کہنے پر مسلمانوں کو تشدد کرکے شہید کردیا جاتا ہے وہاں پر انسانی حقوق کی تنظی میں خاموش ہیں ، جتنا انسانیت کا قتل عام بھارت میں ہورہا ہے شاید ہی کسی ملک میں ہو ۔ فلسطین اور کشمیر کی مثالیں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ، اب ہم اپنے ملک کی طرف آتے ہیں تو ہمارے ملک میں اقلیتیں سر اٹھا کر زندگی بسر کررہی ہیں ، دین اسلام میں انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے ۔ ایوان صدر میں اقلیتوں کے قومی دن کے حوالے سے تقریب میں وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کے ریاست کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں ۔ قوم منتظر ہے کاش کہ وزیراعظم کے ان بیانات پر آنے والے دنوں میں عمل درآمد نظر آئے جہاں سب کو آزادی حاصل ہو، سب کو تحفظ حاصل ہو، سب کے حقوق برابر ہوں ، ظالم ظلم نہ کرسکے، مظلوم کی فریاد سنی جائے، کرپشن سے پاک معاشرہ ہو، امن و امان کا دور دورہ ہو بس یہی ہیں ریاست مدینہ کے بنیادی اصول جہاں پر سب برابر ہوں ۔

پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کی پرمغز گفتگو

عرفان صدیقی کی گرفتاری پتہ نہیں کیوں ہوئی کس وجہ سے ہوئی،عرفان صدیقی کی گرفتار ی سے مجھے بہت دکھ اور وہ میرے استاد ہیں ،عرفان صدیقی سے ہمارا رشتہ نہ ختم ہونے والا ہے ،عرفان صدیقی انتہائی ایماندار آدمی ہیں ، ان خیالات کا اظہار پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظم کے بعد اگر اس ملک کو کوئی لیڈر ملا ہے تو وہ عمران خان ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ عمران خان کو اگر مرد بحران کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ہر مشکل کا انتہائی دلیری سے مقابلہ کیا اور وہ اپنی منزل کو حاصل کرنے کیلئے کامیاب و کامران رہے ۔ آج وہ پھر ملک کی بری معاشی صورتحال سے نمٹنے کیلئے نبردآزما ہیں ۔ امید واثق کی جارہی ہیں کہ وہ ان حالات سے بھی نمٹ لیں گے ۔ سفارتی محاذ پر بھی وزیراعظم کی کارکردگی بہترین جارہی ہے ۔ حالیہ امریکہ کا دورہ اس کی واضح مثال ہے جس میں حکومت وہاں سے ایڈ نہیں ٹریڈ لے کر آئی اور برابری کی سطح پر بات چیت کی، پھر مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش حکومت پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اس کامیابی کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ہے، رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب ٹرمپ کے ترجمان نے واضح طورپر کہہ دیا کہ مودی نے خود کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ممدو معاون ثابت ہوں ۔ اس دن سے لیکر آج تک لوک سبھا، راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی جاری ہے اور بھارتی بنیا قوم مودی سے وضاحت طلب کررہی ہے اور مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے ۔

راولپنڈی میں پاک آرمی کا طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 2 پائلٹس سمیت 18 افراد جاں بحق

راولپنڈی: پاک آرمی کا چھوٹا تربیتی طیارہ موہڑہ کالو کے علاقے میں آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹس سمیت 18 افراد جاں بحق جب کہ 12 سے زائد زخمی ہوگئے۔

پاک آرمی کا چھوٹا تربیتی طیارہ راولپنڈی کے علاقہ موہڑہ کالو میں آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 18 افراد شہید ہوگئے جن میں طیارے میں سوار 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 اہلکار جب کہ گھروں میں سوئے 13 عام شہری شامل ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی تھے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں 12 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں سے زیادہ تر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

دوسری جانب آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق راولپنڈی موہڑہ کالو میں آبادی پر گرکر تباہ ہونے والا چھوٹا طیارہ پاک آرمی کا ہے جو کہ معمول کے مطابق تربیتی پرواز پر تھا۔ طیارے میں سوار 2 پائلٹ سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوئے جن میں پائلٹ لیفٹیننٹ کرنل ثاقب، لیفٹیننٹ کرنل وسیم، نائب صوبیدار افضل، حوالدار ابن امین اور حوالدار رحمت شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے جائے حادثہ کو حصار میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان نے طیارہ حادثے میں 18 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 12 سے زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طیارہ آبادی کے جن گھروں پر گرا وہاں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا اور کولنگ کا عمل جاری ہے، علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی ہے جب کہ لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں مدغم کیا جائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ ابھی گزشتہ برس ہی مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے نریندر مودی سرکار کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے آرٹیکل 370 سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ آرٹیکل 370 بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا نظریاتی فریم ورک ہے ۔ عدالت کے مطابق دیگر راجواڑوں کی طرح جموں و کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 اے 1954 کے بعد جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی اور حکومت کے وضع کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو بھارتی پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت حاصل محدود خودمختاری کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی غیرکشمیری حتیٰ کہ کسی فوجی افسر کو لاکر آباد کیا جا سکتا ہے نہ اسے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے الیکشن سے پہلے اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا واضح عندیہ دیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مستقلاً ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے مودی اور ان کے حامی بی جے رہنماؤں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد مجریہ 21 اپریل 1948ء ، اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندو پاکستان مجربہ 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں کی گئی رائے شماری کے نتاءج کے مطابق پاکستان یا ہندوستان میں ریاست جموں اور کشمیر کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ریاست پر فوجی قبضہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی شقوں 39 تا 1947 کے تحت کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اسی عالمی تنظیم نے 1999 ء میں انڈونیشیا کی مشرقی تیمور سے علیحدگی کی مزاحمت پر اس ریاست کے خلاف کونسل کے ارکان کو ہر کارروائی کی ہدایت کر دی تھی جبکہ سلامتی کونسل کی چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضہ مستحکم کر لیا اور اس پر 6 لاکھ فوج ، نیم فوجی دستے اور پولیس کو مسلط کر دیا ۔ چنانچہ بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف مقامی آبادی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جب بھارت نے ان کے پر امن احتجاج کو کچلنے کےلئے فوجی ہتھکنڈے استعمال کئے تو مظلوم عوام قابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بین الاقوامی قانون مقبوضہ آبادی کو اپنا وطن آزاد کرانے کےلئے مسلح جدوجہد کا حق دیتا ہے لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں کشمیری عوام کی نسل کشی کرنا ہے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور بعض بڑی طاقتوں نے یہ موَقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو معاہدہ شملہ میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ یہ بڑی طاقتوں کی انتہائی بددیانتی اور پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی موَقف کو مانتے ہیں جس سے بھارت کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو طول دیتا جا رہا ہے ۔ اول تو معاہدہ شملہ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ فریقین کسی تنازع کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھا سکتے ، دوم یہ کہ اگر بالفرض ایسی کوئی شق ہوتی بھی تو وہ کالعدم ہو جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 103 کی روسے اگر کوئی معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو تو وہ نافذ العمل نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن ;737373; کے تحت سلوک کرے نہ کہ اپنے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون ;6570838065; کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کرے بھارت کو 80 ہزار کشمیریوں کے قتل پر بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔

افغانستان: رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ

کابل: اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں افغانستان میں 4 ہزار شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں سال 2019 کے پہلے 6 ماہ میں 3ہزار 812 افغان شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے درمیان سب سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد گھروں میں تیار کیے گئے بموں اور فضائی حملوں سے لوگ مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2019 سے 30 جون 2019 تک طالبان اور شدت پسندوں نے 531 عام افغان شہریوں کو ہلاک اور 1400 سے زائد کو زخمی کیا، شدت پسند گروپوں نے دانستہ طور پر 985 عام شہریوں کو نشانہ بنایا جن میں سرکاری افسران، قبائلی عمائدین، امدادی کارکن اور مذہبی شخصیات شامل تھیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ 6 ماہ میں حکومتی فورسز کے ہاتھوں 717 افغانی ہلاک اور 680 کے قریب زخمی ہوئے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 144 خواتین اور 327 بچے بھی ہلاک ہوئے جب کہ فضائی حملوں میں 519 عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جن میں 150 بچے بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی طالبان سے ایک طویل جنگ جاری ہے جس کے بعد امریکا افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کررہا ہے جو اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

طالبان نے امریکی فوج کی واپسی کے اعلان سے پہلے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور اس حوالے سے طالبان کا کہنا ہےکہ افغان حکومت کےس اتھ مذاکرات اس وقت ہوں گے جب امریکا کے ساتھ غیر ملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔

ماضی کے فوجی اور سیاسی حکمرانوں کا ۔ تقابلی جائزہ

اس میں کوئی دوراے نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں جمہوری نظام ہائے حکومت میں سیاسی جماعتیں کلیدی اہمیت کی حامل قرار پاتی ہیں یہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر جمہوری ملک وقوم کے سیاسی طرزحکمرانی میں جمہوریت کی نشوونما سیاسی جماعتوں کی کلی کارکردگی اور سیاسی جماعتوں کی سینٹرل کمیٹی سے ابھرنے والی قیادت سے نتھی ہوتی ہے یہ ہمارالمیہ ہے کہ قیام پاکستان کے صرف نوبرس بعد اکتوبر1958 کوفوج کے کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کرنا پڑا یہ انتہائی اقدام فوجی سربراہ نے کیوں اْٹھایا یقینا یہ ایک غلط اور غیر جمہوری اقدام تھا اس کی جنتی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر کوئی یہ بتلائے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم شہید لیاقت علی خان کے بعد پیدا ہونے والا قیادت کا سیاسی خلاپْر کیوں نہیں ہوسکا;238; بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح;231; کے انتقال کے بعد سویلین بیوروکریسی نے کیسے اور کیونکر سیاسی حکمرانی کا رول پلے کرنا شروع کردیا;238; وزارت خزانہ کے سیکریٹری غلام محمد اور چودھری محمد علی اورمحمد علی بوگرا کے علاوہ وزارت دفاع سے ریٹا ئرڈ میجرجنرل اسکندرمرزا وغیرہ کیسے جنوبی ایشیا میں قائم ہونے والے ایک نئی ریاست کرتادھرتا بن گئے;238; جو نوبرس تک ملک کو سیاسی پارلیمانی جمہو ری پٹڑی پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئے، جس پر بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو نے ایک زور دار طنز کیا تھا جو آج بھی ہ میں یاد ہے نہرو نے کہا تھا کہ میں اتنی جلدی پاجامے نہیں بدلتا جتنے جلدی پاکستان میں وزیراعظم بدل جاتے ہیں افسوس! مسلم لیگ ایک منظم سیاسی جماعت نہ بن سکی تو پھر ملک میں مستحکم سیاسی قیادتیں کیسے ابھرتیں ;238; قائداعظم کے قول واقوال تواب صرف سننے سنانے کے لئے باقی رہ گئے ہیں قائداعظم اور قائدملت کے بعد جاگیردار مسلم لیگی لیڈر ایک دوسرے سے الجھ پڑے جبکہ مشرقی پاکستان کی مسلم لیگی لیڈرشپ کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ہی نہیں گیا مغربی پاکستان کی ہوشیار اور چالاک بیوروکریسی نے ملکی سیاسی قیادت کا جنازہ نکال دیا مگر اس ملک نے تو آگے چلنا تھا, اب معلوم ہوا کہ واقعی اگر قائداعظم سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے تھے;238; صحیح معلوم دیتی ہے اگر اْس وقت مسلم لیگ کے پاس ملک گیر مقبولیت کی حامل ایک بڑی ذمہ داراور دیانت دار سیاسی کیڈر موجود ہوتا جو ملکی اور قومی امنگوں کے منشور اور نظریات کے سیاسی‘ثقافتی وجمہوری افکارسے لیس ہوتا ابتدا کی لیگی قیادت اْن کی خدمات سے استفادہ کرتی ایسا کیوں نہ ہوا;238;سیاسی اور جمہوری بالغ لنظری کا فوری فیصلہ کرنے کا یہی وقت توتھا، جو اْس وقت کی لیگی قیادت نے گنوا دیا اور یوں اسکندرمرزا کے ایک جلدباز فیصلہ نے اس وقت کی فوج پر یہ ذمہ داری ڈال دی کہ وہ ملک کا انتظام وانصرام چلائے، امریکا میں بیٹھے ہوئے، برطانیہ میں براجمان ہمہ وقت فوج پر تنقید وتنقیص کے تیروتبر چلانے والی چاہے ڈاکٹرعائشہ صدیقی ہوں یا سرمد ماروی ایچ حقانی ہو یا ان جیسے کوئی اور وہ ملکی سیاسی تاریخی حقائق کو توڑمروڑ کر مسخ نہ کریں ، اس ملک کا نمک اْن کے لہو میں گردش کررہا ہے حد ہوتی ہے پاکستان دشمنوں کے مفادات کے خاطر سودے بازیاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی، امریکا میں بیٹھے ہوئے ایچ حقانی جیسوں نے چندہفتوں پیشتر غیرملکی میڈیا میں یہ گھسا پٹا راگ الاپنا شروع کیا ہے کہ پاکستان کی سویلین سیاست کو سب سے زیادہ نقصان پاکستانی فوج کے پہلے کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان نے پہنچایا جنہیں قائداعظم بالکل پسند نہ کرتے تھے، یہ بہت بڑاجھوٹ ہے، کاش!ان سطور پر ہم وہ تصویر دکھا سکتے جب قیام پاکستان کے فورا بعد ایک عسکری تقریب میں قائداعظم بحیثیت گورنرجنرل ایک پلاٹون کو قومی پرچم دے رہے ہیں اْن کے برابر ایک قدم پیچھے جنرل محمد ایوب خان کھڑے ہوئے ہیں قیام پاکستان سے قبل بحیثیت بریگیڈئیرایوب خان کی اے سی آر پر سوالات اْٹھانے والوں کے پاس کیا ثبوت ہے کہ اْن کی اے سی آر خراب تھی;238; بس صرف تنقید کرنی ہے سوکردی گئی;238; یہ جو سی آئی اے کا ایجنٹ ایچ حقانی ہے کاش اس کا باپ زندہ ہوتا تو یہ اْن سے پوچھ لیتا;238;مگر خفیہ ہاتھوں سے بے پناہ ملنے والی دولت اچھے خاصے آدمی کی حکمت کوداغدار کردیتی ہے اور اپنی ساری توانیاں منفی سرگرمیوں میں بسرکرنے پر رضامند ہوجاتا ہے ڈاکٹرعائشہ صدیقی اور سرمد ماروی نے نام نہاد روشن خیالی کے لبادے میں سماجی بے راہ روی کی جس گمراہی کا اپنے لئے انتخاب کیا ہے جلد یا بادیر خود ہی مکافات عمل کے خودتکنیکی انجام کو پاکستان مخالف یہ گروہ ضرور دیکھ لیں گے مرحوم جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں سیاسی جماعتوں کے خلاکو بہت قریب سے دیکھا یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملک کو ہرقیمت پر آگے ضرور لیجانا ہے، یہی نہیں بلکہ اْنہوں نے پاکستان کے اْس وقت کے سیاسی سسٹم کے فلاپ ہونے کے اصل سبب کو پھانپ لیا تھا مثلاً اْنہوں نے بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو کے اْس ایک اہم تاریخی فیصلے کے مثبت نتاءج پر ٹھنڈے دل ودماغ سے جائزہ لیا ،جس میں نہرو نے بھارت بھرسے بڑے جاگیرداری سسٹم کو فی الفور ختم کردیا بھارت آج جس مضبوط جمہوری نظام پر قائم چلا آرہا ہے وہ وہاں کے ظالم وسفاک جاگیرداری کے نظام کے خاتمہ کی وجہ ہے1958 اکتوبر میں مارشل لانافذہوا کوئی خون خرابہ نہیں ہوا ،اس وقت آئین بھی ملک میں نہیں تھا، ایسے میں کیسے نظام حکومت چلایا جاتا، جنرل ایوب خان کے چاروں اطراف میں جو مسلم لیگی طواف کررہے تھے وہ سب کے سب پنجاب سے لیکر سندھ تک بڑے بڑے جاگیردار تھے، جنرل ایوب خان نے پھربھی اپنی ہمت نہیں ہاری پہلے دوتین برس جنرل ایوب خان کو بھرپور عوامی مقبولیت حاصل رہی، آج ملک میں جو دوبڑے ڈیمز تربیلا اور منگلا ڈیم قائم ہوئے ہیں ، یہ جنرل ایوب خان کے زمانہ حکمرانی کے قیمتی تحفے ہیں ، پاکستان کو ہنگامی فیصلوں کے نتیجے میں جنرل ایوب خان مرحوم کے عہد میں صنعتی شعبہ میں اپنی نمایاں کارکردگی دکھانے کا مواقع میسرآئے، اور یادرہے کہ راقم ابتدا میں تسلیم کرچکا ہے کہ قو میں اورممالک جمہوری طرز حکمرانی کے درپے طرز عمل کی بدولت ہراقسام کی ترقی کرتی ہیں فوج کی جانب اپنی متعصابہ تنگ نظری کی فرسودہ سوچ کو ہمہ وقت بڑھاوادینے والوں کے پاس کوئی جواب ہے کہ پاکستان کی گزشتہ چالیس پچاس سالہ سیاسی تاریخ میں کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت کانام بتادیں سوائے جماعت اسلامی کے’ راقم کے اس سیاسی کم جماعت کے بارے میں تحفظات اپنی جگہ’ جس سیاسی جماعت نے عوام کی جڑوں سے متوسط طبقے کے قدآورسیاست دان نمایاں کیئے ہوں ;238; مثلاً ذوالفقارعلی بھٹو بے شک ایک قدآور لیڈرتھے اْن جیسا اْن کے خونی رشتہ داروں کے علاوہ کوئی اور بڑا لیڈر کیوں نہیں آسکا;238; چلیں اْن کی بیٹی بے نظیر بھٹو میں اپنے باپ جیسی اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت وصلاحیت تھی اور بس اْن کے بعد کس نے پارٹی قیادت سنبھالی;238; مانیں تسلیم کرلیں کہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ نون سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں ان میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کم مذہبی عنصر زیادہ رکھنے والی جماعت کہہ لیں یہ سب کے سب اپنے آباواجداد کے نام اور اْن کی کارکردگیاں عوام میں فروخت کررہے ہیں کیا یہ قابل غور المیہ نہیں ہے یہاں صرف پاکستان کے پہلے مارشل لا پر بات ہورہی ہے مرحوم جنرل ایوب خان سے کئی غلط سیاسی فیصلے بھی ہوئے پھر تین مارشل لا اور ملک میں لگے غلط بالکل غلط لگے مگر کیا سیاسی جماعتوں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی متحد پاکستان کے دولخت ہونے کے تلخ تاریخی حقائق کو نظرانداز کردیا جاتا ہے اوریہ یادنہیں رکھاجاتا کہ جب سیاسی مفادات باہم ٹکراتے ہیں اور ہرفریق کے ذاتی پسندوناپسند کے مطالبات پر ضرب یازد پڑتی ہے تو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے بھی اور پارلیمنٹ کے باہر کے سیاسی پریشر گروہ باہم الجھ پڑتے ہیں ہاں مغرب میں ایسا ہوتا ہے مگر وہاں کے سیاست دان مطلق ان پڑھ نہیں ہوتے اکثریت اْن میں قانون دانوں کی یا قانونی موشگافیوں کی برابر سمجھ بوجھ ہوتی ہے وہ اپنے سیاسی یا پارلیمانی جھگڑوں کی کشمکش میں ہر قیمت پر دوسروں کو نیچا دکھانے کےلئے عوام کو ملک کی سڑکوں پر گہراو جلاو پر نہیں اکساتے جیسا آج پاکستان میں ہورہا ہے یا ہونے جارہا ہے اکتوبر1958 سے اب تک پاکستان اسی صورتحال سے دنیا کو دوچار نظرآرہاہے پاکستان کا ایک واحد مسئلہ ملک میں قانون کی عدم بالادستی یعنی عوام کو انصاف کی عدم فراہمی کا سنگین مسئلہ قیام پاکستان سے آج تک درپیش ہے عدالتیں تو کسی نہ کسی صورت انصاف کردیتی ہیں اْس انصاف کے نتیجے میں بے گناہ ا;63;زاد ہوجاتے ہیں اور مجرمان کو سزائیں دینے والے ہی اگر مجرمان کے حماءتی بن جائیں تو عوام کہاں جائے;238; اسی لئے بعض اوقات عوام کی اکثریت سمجھتی ہے ملک کے جغرافیائی تنازعات،سرحدی خطرات اور اندرونی امن وامان پر اگر کوئی فورس بخوبی قابو پاسکتی ہے تو وہ صرف ملک کی فوج ہے بقول عوام کے’ملکی فوج کو اقتدار کے منابع سے الگ نہیں رہنا چاہیئے مگر اس کے باوجود آج کی پاکستانی فوج نے دوٹوک فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ملکی آئینی حدود سے ایک قدم آگے نہیں جائے گی پاکستان کے عوام اب سیاست دانوں پر اپنا پریشر بڑھائیں اپنے اسٹیڈی سرکلز قائم کریں پارلیمنٹ میں جانے والے معززارکان کےلئے تعلیمی قابلیت کے ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے علاوہ ملکی معیشتی انفراسٹریکچر کو بہتر بنانے کے اہم پیشہ ورانہ امور پر دسترس حاصل ہونی چاہیئے، یہی ایک واحد راستہ باقی بچا ہے پاکستان میں جمہوری پارلیمانی سسٹم کو ترقی یافتہ اور متمدن جمہوری معاشروں سے ہم آہنگ کرنے کا راستہ، جس پر گامزن ہوکر پاکستان اور مزید جمہوری ملک بن کر خطہ میں اپنا علاقائی کردار ادا سکے گا ۔

Google Analytics Alternative