Home » 2019 » July » 01

Daily Archives: July 1, 2019

حکومت کا ایمنسٹی اسکیم میں 3 جولائی تک توسیع کا اعلان

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم (ایمنسٹی اسکیم) کی مدت میں 3 جولائی تک توسیع کردی ہے۔

اسلام آباد میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیط شیخ نے کہا کہ اثاثے ظاہرکرنے کی اسکیم ختم ہونے کےبعد بے نامی کمیشن حرکت میں آئے گا.

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ کا پیش ہونا اہم ایونٹ ہوتا ہے، بجٹ نہایت اچھے انداز میں قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی کوشش رہی ہے کہ ہر چیز میں شفافیت ہو،اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور سچ بولا جائے، اسلام آباد:معاشی صورتحال بغیرچھپائےعوام کےسامنے پیش کررہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں حکومت کے کسی بھی قدم، کسی بھی اچھائی کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ عوام کے لیے کتنی اچھی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ کے پانچ بنیادی اور اہم نکات ہیں جب حکومت آئی تو ہم بحران کی صورتحال میں مبتلا تھے جس سے ہم نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، ملکی برآمدات خطرناک حدتک گرچکی تھیں۔


مشیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کے 5 اہم اور بنیادی نکات ہیں:
  • خارجی خطرات سے نمٹا جائے
  • سادگی کو سخت انداز میں اپنایا جائے
  • غریب طبقے کی مدد کی جائے
  • صنعت کاروں کی مدد کی جائے
  • ریونیوز کو موبلائز کیا جائے

انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے 31 ہزار ارب روپے اور غیر ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ایسے حالات میں درآمدات اور برآمدات کا خلا بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے روپے کی قدر ڈالر کی قدر گر رہی تھی۔

بیرونی خطرات

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اس بیرونی خطرے کو قابو کرنے کے لیے ہم نے کچھ اقدامات کیے، جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدات پرڈیوٹی بڑھائی گئی، اس بجٹ میں بھی یہی سلسلہ برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جسے ایک سال کے دوران ساڑھے 13 ارب ڈالر تک لایا گیا ہے اور نئے بجٹ میں اقدامات تجویز دیے گئے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ کو کم کرکے 7 ارب ڈالر تک لایا جائے گا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اس سے برآمدات اور درآمدات میں خلا کم ہوگا اور روپے پر بھی دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے چین، متحدہ ارب امارات اور سعودی عرب سے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر لیے، سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کی حاصل کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامک ڈیولمپنٹ بینک سے موخر ادائیگیوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی گئی، قطر سے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے اور آدھی رقم وصول کی جاچکی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کا 3پیکج جولائی کو منظور ہونے کا امکان ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ایک ارب ڈالر آئندہ سال میں دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک سے بھی آسان شرائط پر قرض کےحصول کیلئےکوشاں ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ حکومتی اخراجات کو انتہائی سخت انداز میں کم کیے جائیں، آنے والے سال میں 2 ہزار 9 سو ارب ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ قرضے ہم نے نہیں لیے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے، جو بھی ریونیو جمع ہوتے ہیں اس میں سے 57.5 فیصد صوبوں کا حق ہے جس سے ہم آئینی طور پر نہیں بچ سکتے یہ ہمیں صوبوں کو لازمی دینا ہے۔

وفاقی کابینہ کی تنخواہوں میں 10 فیصد کٹوتی

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے بجٹ میں 50 ارب روپے کم کرنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں ایک سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد، 17 سے 20 گریڈ افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ 20 گریڈ سے اوپر کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ کابینہ ارکان کی تنخواہ میں 10 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ مسلح افواج کے بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا اور اس پر فوجی اخراجات میں اضافہ نہ کرنےپر آرمی چیف کا اقدام لائق تحسین ہے۔

کمزور طبقے کیلئے اقدامات

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے کمزور ترین طبقے پر حکومتی پیسہ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے سماجی تحفظ کے بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے کیا گیا، اس ضمن میں نقد رقم، صحت کارڈ وغیرہ فراہم کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والےصارفین پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں پڑے گا جس کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ قبائلی علاقے کے عوام کے لیے 152 ارب روپے مختص کیے گئے اور پی ایس ڈی پی میں 925 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں بلوچستان، جنوبی پنجاب کو توجہ دی جائے گی۔

صنعتوں کی ترقی کے لیے اقدامات

ان کا کہنا تھا کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتوں کو بجلی اور گیس سبسڈی دی ہے،کاروبار میں اضافے کے لیے قرضوں کی کچھ ادائیگی حکومت کرے گا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ صنعتوں کو خام مال کی خریداری پر عائد درآمدی ڈیوٹی صفر کی جائے گی ، اس طرح سے 1650 ارب روپے سے زائد کی اشیا پر ڈیوٹی صفر کی گئی ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں کی گیا لیکن اندرون ملک فروخت پر عائد کیا گیا ہے، 10 سے 12 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیرون ملک فروخت ہوتی ہیں تو اتنی ہی مقامی مارکیٹ میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم صنعت کاروں کو ہر قسم کی مراعات دینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور اندرون ملک سیلز پر ٹیکس ادا کریں۔

ریونیو کا حصول

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ریونیو کا ہدف 5 ہزار 5 سو ارب طے کیا ہے لیکن امیر طبقے سے ٹیکس لیے بغیر کوئی چارہ نہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ٹیکس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر کوشش کریں گے کہ یہ ہدف پورا ہو کیونکہ یہ ہدف پورا ہوگا تبھی حکومت انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور صاف پانی سمیت دیگر شعبوں میں بہتری لائے گی جس کے لیے فنڈز ضروری ہیں۔

وفاقی وزیر برائے ریونیو نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے آج سے 10 سے پہلے ایف بی آر ڈیٹا کو نادرہ کے ڈیٹا سے ضم کرنے کا کہا تھا اور ہماری حکومت یہ کام 10 دن میں کرنے میں کامیاب ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ریونیو کے اضافے میں جو اقدامات نہیں کیے گئے تھے وہ ہم نے ابتدائی 10 ماہ میں کیے۔

بے نامی کمیشن کا قیام

مشیر خزانہ نے عوام سے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے مستفید ہونے کی اپیل کی،انہوں نے کہا کہ بےنامی کمیشن بنایا گیا ہے جس کا کام ہوگا کہ ایمنسٹی اسکیم کے بعد جن جائیدادوں کا اعلان نہیں کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں 3 جولائی تک توسیع کررہے ہیں جس سے بینکنگ اوقات میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

ایمنسٹی اسکیم میں توسیع سے متعلق مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت نے شبر زیدی کی سفارش پر کیا۔

وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ اسکیم سے اب تک ہزاروں افراد مستفید ہوچکے ہیں جن کی تفصیلات آئندہ چند روز میں جاری کی جائیں گی۔

چیئرمین فیڈرل بیورو آف ریونیو ( ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ حکومت کے پاس ان کی ٹیکس ادائیگی کا کوئی ڈیٹا موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

حماد اظہر نے سگریٹ پر عائد ٹیکسز سے متعلق کہا کہ تمباکو کی صنعت پر ٹیکس کسی لابی کو خوش کرنے کے لیے واپس لینے کا دعویٰ مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ صرف درآمدی ٹیکس واپس لایا گیا ہے، ٹیئر ون کے لیے سگریٹ کے فی پیک پر 14 روپے اور ٹیئر 2 کے لیے فی پیک پر 8 روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو براہ راست محکمہ صحت کو دیا جائے گا۔

کل سے سی این جی 22 روپے فی کلو مہنگی، نوٹی فکیشن جاری

اسلام آباد: اوگرا نے یکم جولائی سے سی این جی مہنگی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

آئل اینڈ گیس ریگولٰیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے سی این جی مہنگی ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق سی این جی سیکٹر کے لیے گیس کی قیمت 980 روپے سے بڑھ کر 1283 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کردی گئی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق گیس کی قیمتیں بڑھنے سے 19 روپے فی کلو گرام اضافہ ہوگا اور سیلز ٹیکس فارمولے شامل کرکے سی این جی کی قیمتوں پر مجموعی اضافہ 22 روپے فی کلو گرام کیا گیا۔

پاکستان کا افغانستان کے ساتھ میچ کے بعد پیش آنے والے واقعات پر اظہار تشویش

اسلام آباد: پاک افغان میچ میں پاکستان مخالف بینرز لہرانے اور گرین شرٹس کے کھلاڑیوں پر دھاوا بولنے پر پاکستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعات میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق عالمی کپ میں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ میچ کے بعد پیش آنے والے واقعات، پاکستان مخالف بینرز لہرانے اور کچھ تماشاہیوں کے کھلاڑیوں پر دھاوا بولنے پر گہری تشویش ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مخالفانہ پراپیگنڈا کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کو استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، یہ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہےاور ہمیں قانون نافذ کرنے والی اتھارٹیز سے واقعہ کی جامع تحقیقات کی توقع ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ واقعات میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

 

واضح رہے کہ پاکستان سے سنسنی خیر مقابلے کے بعد شکست پر افغان شائقین آپے سے باہر ہوگئے، بعض مشتعل شائقین نے پاکستانی کھلاڑیوں پر حملے کی کوشش بھی کی جب کہ گرین شرٹس کی سپورٹ پر اسٹیڈیم اور اطراف کی سڑکوں پر دھاوا بھی بولا جس سے کچھ پاکستانی سپورٹرز زخمی ہوئے۔

ویرات کوہلی بھی پاکستانی شائقین کے رویے کے مداح نکلے

برمنگھم: بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی بھی پاکستانی شائقین کے رویئے کے مداح ہو گئے۔

ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ آج پاکستانی کرکٹ شائقین ہمیں سپورٹ کریں گے جو کہ نہایت نایاب چیز ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگلینڈ اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ کا یہ میچ پاکستانی ٹیم کے لئے بھی اس لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بھارتی ٹیم کی فتح کی صورت میں گرین شرٹس کے عالمی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گ

میچ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی شائقین کی بھی دلی خواہش ہے کہ بھارتی ٹیم ہر حال میں یہ میچ جیتے۔ انگلینڈ اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ کے اہم میچ میں ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ باہر کیا ہو رہاہے لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے کرکٹ شائقین میچ کے دوران ہمیں بھر سپورٹ کریں۔

وزیر اعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم عمران خان نے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور اپوزیشن کو ;200;ئینہ دکھایا اور انہیں یاد دلایا کہ ملکی معیشت اس نہج پر کیسے پہنچی ۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے پوچھا کہ وہ کس منہ سے ڈالرکی بات کرتے ہیں ;238; وہ خود ہی ڈالرمہنگا کرنے کے ذمے دار ہیں اور ڈالر باہر لے جاتے رہے،انہوں نے روپے کی قدرگرنے کی ذمے داری ماضی کی حکمران اشرافیہ پر ڈالتے ہوئے کہاوہ ملک سے منی لانڈرنگ کرتی رہی ۔ اپوزیشن کو ;200;ڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ کی بات وہ کر رہے ہیں جن کی مینوفیکچرنگ ہی فوجی آمروں کی نرسری میں ہوئی،اس حوالے سے وزیراعظم نے کونڈالیزا کی کتاب کا بھی حوالہ دیا جس میں این ;200;ر او بارے تفصیل درج ہے ۔ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منی لانڈرنگ کرنے والوں سے مجرمانہ سلوک کرے ۔ وزیراعظم نے خطاب میں دل کے پھپھولے کھول کر رکھتے ہوئے ملکی معیشت کی زبوں حالی اور ماضی کی حکومتوں کی مفادپرستانہ پالیسیوں کو جہاں تنقید کا نشانہ بنایا وہ اپنی حکومتی کوششوں کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے، کوشش ہے نچلے طبقے پر کم سے کم بوجھ پڑے، بجٹ میں بھی یہی کوشش کی ہے ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ملک کی سب سے بڑی لعنت ہے اور یہ معاشی خسارے کی بڑی وجہ بھی ہے ۔ حکومت کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ملا جو ساڑھے 19 ارب ڈالر تھا ۔ دنیا جانتی ہے جب ملک میں ڈالر کی کمی ہوتی ہے تو اسکی قیمت اوپر چلی جاتی ہے ۔ وزیراعظم کی یہ بات بھی سوفیصد درست ہے کہ جب صاحب اقتدار پیسہ چوری کرکے لے جاتے ہیں تو پھر آپ کسی کو نہیں روک سکتے ۔ زرداری فیملی اور اومنی گروپ سے جعلی اکاونٹس کی چیزیں سامنے آرہی ہیں ، پیسہ چوری کرکے ہنڈی حوالے سے باہر بھجوایا گیا، ہل میٹل اور حدیبیہ مل کا پیسہ پاکستان سے باہر گیا،اس حولے سے اپوزیشن لیڈر کس منہ سے بات کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے اسمبلی پر بھی تنقید کی کہ وہ لوگ جن پر عوام کا پیسہ چوری کرنے کا الزام ہے وہ ایوان میں آکر کیسے تقریر کرسکتے ہیں ;238; ۔ انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہ وہاں اگر کسی پر کرپشن کا دھبہ لگ جائے یا ٹیکس کے پیسے کی چوری کی تو نہ اس ملک کا میڈیا اسے انٹرٹین کرتا ہے اور نہ وہ پارلیمنٹ میں جاکر گھنٹوں تقریرکر سکتا ہے وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی پر وہ آکر بیٹھ جاتا ہے جس پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزام ہیں ، جن پر 30 سال سے کرپشن کے الزام ہیں ، وہ اس کمیٹی پر کیسے بیٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے ملکی معیشت کی زبوں حالی سے نکالنے کےلئے سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاونٹ خسارہ کو قرار دیا کہ اسے برابر کرنا ہے، مشکل حالات میں ہم نے کرنٹ اکاونٹ خسارہ 30 فیصد کم کیا ہے ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے زرمبادلہ بڑھتے جارہے ہیں ، باہر سے سرمایہ کاری کیلئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں ، ہم نے درآمدات کم کردی ہیں ، لگژری امپورٹس بھی کم کریں گے ۔ احساس پروگرام کو 100 ارب سے 190 ارپ روپے کردیا ہے، 217 ارب روپے کی سبسڈی بجلی میں رکھی ہے تاکہ نچلے طبقے پر بوجھ نہ پڑے، ہاوَسنگ میں کوشش کررہے ہیں ، نچلے طبقے کے لیے پہلی مرتبہ ہاوَسنگ اسکیم لے کر آئے ہیں ، اس کے لیے 5 ارب رکھا ہے جو مزیدبڑھے گا ۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ نوجوانوں کے لیے 100ارب روپے رکھے ہیں تاکہ انہیں روزگار دے سکیں ، زراعت اور کسان کے لیے کوشش کررہے ہیں ، آنے والے ہفتے میں کسانوں کیلئے تفصیلی پیکج لے کر آئیں گے ۔ پاکستان میں ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی ہے ، دنیا آگے اور ہم پیچھے چلے گئے، اگر نوجوانوں کو روزگار دینا ہے تو انڈسٹری اہم چیز ہے، بزنس کمیونٹی دیکھے گی 60 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے انڈسٹری اٹھانے کے لیے پورا زور لگایا ہے ۔ ملک کا مسئلہ رہا ہے کہ جو ترقی ہوئی اور جس طرح لوگ آگے بڑھے، امیر امیر ہوا اور غریب کو اس کا اثر نہیں ہوا، کئی علاقے پیچھے رہ گئے لیکن ہم نے بجٹ میں کوشش کی ہے، اس بار ان علاقوں کو آگے لائیں جو پیچھے رہ گئے، اس میں بلوچستان اور فاٹا شامل ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فاٹا اور بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لایا جا چکا ہے کہ جب بلوچستان کی محرومی کے خاتمے کےلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ پاک فوج کے دفاعی بجٹ کو منجمد کرنے سے بچنے والے پیسے کو بلوچستان میں لگانے کا عندیہ دیا گیا ہے ،وزیراعظم نے اس کا بھی حوالہ دیا کہ آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ نے خاص طور پر کہا کہ ہم چاہتے ہیں دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے سے جو پیسہ بچے وہ بلوچستان اور فاٹا پر خرچ ہو،جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہاں کی عوام کی سماجی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ لہٰذا اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کے جھنجٹ سے نکل کر ملکی ترقی کی خاطر بلاوجہ کی ہلڑ بازی سے گریز کرے ۔

کم ظرف افغان کرکٹ شائقین کا قابل مذمت رویہ

ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں افغان ٹیم کی شکست افغان شائقین کو ہضم نہ ہوئی اور کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوگئے ۔ افغان تماشائیوں کا یہ شرمناک رویہ تمام کرکٹ لووور کےلئے شرمندگی کا باعث بنا ۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے مگر پاکستان کی جیت پر جشن منانے والے پاکستانی تماشائیوں پر گراءونڈ کے اندر دھاوا بول دینا ، کرسیوں ، لاتوں اور گھونسوں کا استعمال ،میچ وننگ اننگ کھیلنے والے وہاب ریاض اور عماد وسیم پر حملے کی کوشش شرمناک اور قابل مذمت رویہ ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے میچز اس سے بھی زیا دہ سنسنی خیز ہوتے ہیں لیکن دونوں ممالک کی عوام سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی ایسی صورتحال پید ا نہیں کی جو افغان تماشائیوں نے کی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور شر پسند عناصر کسی کی ہلہ شیری پر کھیل کے میدان کو سیاسی میدان جنگ بنانے آئے تھے ۔ پاکستانی شائقین نے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا ورنہ کشیدگی بڑھ سکتی تھی ۔ یہاں برطانوی انتظامیہ کی بھی نا اہلی ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے بروقت انتظامات نہ کئے ، میچ کے آغاز سے قبل ہی افغان تماشائیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی، کئی افغان تماشائی ٹکٹ کے بغیر ہی میدان میں زبردستی گھس گئے اور انہوں نے اسٹیڈیم میں دوسروں کی نشستوں پر قبضہ کرلیا،اس حوالے سے پاکستانی شائقین شکایات کرتے ہوئے نظر آئے ۔ آئی سی سی کو اس حوالے سے ایکشن لینا چاہیے کہ آئندہ ایسا نہ ہو، سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہوں ۔ یہاں افغان حکومت کو بھی اس بات کا نوٹس لینا چاہئے اور وہ اپنی عوام کو تنبیہ کرے کہ ایسا جاہلانہ رویہ کسی بھی کھیل کےلئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔

مری کیبل کار حادثہ،آپریٹرکی غفلت

مری میں تیز آندھی کے باعث پتریاٹہ میں کیبل کار کا رسہ پلی سے اتر گیا،جس سے 12کیبل کاروں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 100کے قریب سیاح پھنس گئے ۔ صد شکر کہ کوئی بڑا سانحہ پیش نہیں آیا اور تمام سیاحوں کو چھ گھنٹوں کے مسلسل ریسکیو آپریشن کے بعد وہاں سے نکال لیا گیا لیکن اس امر کا سخت نوٹس لینا چاہئے کہ آخر ایسا کیوں ہوا ۔ ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیاد پر ان چیئر لفٹوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سیر کو پر لطف بناتے ہیں ، اگر اس طرح کے ناقص انتظامات کئے گئے ہیں تو یہ سیاحوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ ان کیبل آپریٹرکو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اس کی فٹنس کا مکمل بندوبست رکھیں ۔

پنجاب کا بچت اور کفایت شعار بجٹ

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی اور یاد گار دن ہے جب پنجاب میں موجودہ حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ منظور ہوا اور اس پر پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے ۔ پنجاب کا بجٹ بچت اور کفایت شعاری کا بجٹ ہے جس کوپاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے خوداپنے آپ سے شروع کیا ۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والی شاہ خرچیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ سکیورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے جس پر سابق دور میں 28 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے ۔ سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 2 ہزار سے کم کرکے 5 سو کردی گئی ہے ۔ ہم قومی خزانے کے امین ہیں اور عوام کا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کریں گے ۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ دفترکے بجٹ میں سب سے زیادہ کٹوتی کی گئی ہے ۔ آفس کے آپریشنل اخراجات میں 58فیصد کمی کی گئی جبکہ جاری اخراجات میں صرف 2;46;7 فیصد اضافہ کرکے سب سے کم اضافے کی ایک نئی مثال قائم کی ۔ یہ حقیقت ہے کہ سابقہ دور میں لاہورہی میں وزیر اعلیٰ آفس کے علاوہ بھی کئی آفس قائم تھے ۔ کیمپ آفس، نجی رہائشگاہ اوراپنی سہولت کے اعتبار سے کوئی بھی دوسرا دفترجس کی تزئین و آرائش اور عملہ کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوتے تھے ۔ جبکہ عثمان بزدار ایک ہی دفتر میں بیٹھتے ہیں جس کو دیکھ کر ان کی سادگی اور عوام دوستی کا تاثر مزید گہرا ہوتا ہے ۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے گزشتہ سال کی نسبت 47 فیصد زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں ۔ اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے پیش نظر ’’پنجاب احساس پروگرام‘‘ کے تحت 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کیلئے ’’باہمت‘‘ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے ۔ معذور افراد کیلئے ’’ہمقدم‘‘ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ یتیموں اور بیواؤں کیلئے ’’سرپرست‘‘ پروگرام لایا جا رہا ہے ۔ معاشرے کے محروم طبقے کیلئے ’’مساوات پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ تیزاب گردی کا شکار خواتین کی بحالی کیلئے ’’نئی زندگی‘‘ پروگرام لائے جا رہے ہیں ۔ حالیہ بجٹ میں پنجاب میں صحت کا سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ دیا جا رہا ہے جو تقریباً46فیصد ہے ۔ اس سے پنجاب میں 9 نئے ہسپتال بنا ئیں گے اور 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے 70 لاکھ خاندانوں کومعیاری نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولت فراہم کرنے کا پروگرام بھی روبہ عمل ہے ۔ عام آدمی کیلئے نیاپاکستان ہاوَسنگ سکیم کے تحت اگلے 5 سال میں پنجاب میں 25 لاکھ گھر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ صوبے میں 6 نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے ۔ کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لئے زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور کاشتکاروں کو زرعی کریڈٹ کارڈ بھی دئیے جائیں گے ۔ پنجاب میں نئی ایگریکلچر پالیسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کےلئے بھی بہت زیادہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے فنڈز مختص کر دئیے گئے جبکہ جگہ کا تعین اتفاق رائے سے کیا جائے گا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ماضی کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے فنڈز دیگر منصوبوں کو منتقل کئے ۔ زیادہ تر فنڈز لاہور اور اپر پنجاب کے بڑے شہروں میں مہنگے منصوبوں میں جھونک دیئے گئے ۔ جنوبی پنجاب کے عوام پسماندگی اور غربت کی چکی میں پستے رہے اور سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کو ترقی کے نام پر دھوکہ دیا ۔ بزدار حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے بجٹ میں 35فیصد فنڈز رکھے ہیں جبکہ ماضی صرف 14 یا 17 فیصد بجٹ ہی رکھا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملتان ڈویژن کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات میں اپنے حلقوں ، علاقوں کے مسائل کے حل اور فلاح عامہ کے منصوبوں کے بارے میں تجاویز دیں ۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اراکین اسمبلی کی تجاویز اور سفارشات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے مل کرصوبے کے عوام کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنا ہے ۔ نیا پاکستان منزلیں آسان پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دور دراز کے دیہات کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے اور 15 سوکلومیٹر طویل کارپٹڈ سڑکیں بنائی جا رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی 14 بڑی شاہراہوں کی تعمیر اور توسیع کا منصوبہ بھی تیار ہے ۔ اس مقصد کےلئے بجٹ میں 42 ار ب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر پنجاب میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کےلئے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی مانیٹرنگ کا موَثر میکنزم نافذ کیا جا رہا ہے جس کی بدولت ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل میں قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائےگا اور ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب کا بجٹ عام آدمی کی فلاح و بہبود کےلئے ہے اور اس بجٹ میں عام لوگوں کا احساس کیا گیا ہے ۔ مشکل حالات کے باوجود بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں اور بجٹ تحریک انصاف کے منشور کے عین مطابق بنایا گیا ہے ۔ تمام علاقوں کی پائیدار اور متوازن ترقی کو ترجیح دی گئی ہے ۔ سماجی شعبے کی بہتری کیلئے بے مثال اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ پہلی بار ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے پائیدار اقدامات کئے گئے ہیں ۔ بجٹ میں حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کئے ہیں اور صوبے کے عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے ۔ سردار عثمان بزدارکی قیادت میں پنجاب اسمبلی کارکردگی کے حوالے سے سب سے متحرک اسمبلی ہے اور اسے قانون سازی میں دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک با صلاحیت اور بے لوث سیاسی رہنماء ہیں ان کی قیادت میں صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے ۔ پنجاب حکومت عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔

اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلوصارفین کے لیے کم ازکم بل 172.58 روپے جب کہ سرکاری ونیم سرکاری صارفین کے لیے 780روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق کمرشل صارفین اور سی این جی سیکٹر کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو 1283روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ سی این جی سیکٹر کے لئے کم ازکم بل33ہزار 45روپے ہوگا، سیمنٹ انڈسٹری کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو 1277روپے مقرر کیا گیا ہے اور سیمنٹ انڈسٹر ی کے لیے کم ازکم بل 32ہزار 877روپے ہوگا۔

واپڈا اور کے الیکٹرک کے لیے گیس کی قیمت 824روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، واپڈا اور کے الیکٹرک کے لیے کم ازکم بل 21ہزار 202روپے ہوگا جب کہ کیپٹیو پاور کے لیے گیس کی قیمت 1021روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے۔

بے خوابی دور کرکے اچھی نیند میں مدد دینے والا مشروب

نیند کی کمی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ بے خوابی کی شکایت اکثر ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہوتی ہے۔

بیشتر افراد کو نیند کے مختلف عوارض جیسے بے خوابی یا خراٹوں کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے جو دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

نیند کی کمی سے متاثر جسم اپنے افعال مناسب طریقے سے کرنے میں ناکام رہتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

تو کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟

اگر ہاں تو سونے سے پہلے ایک مزیدار مشروب کا استعمال اس مسئلے کو دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لائف اسٹائل اور صحت کے حوالے سے ٹپس دینے کے حوالے سے معروف لیوک کیوٹینو نے اس مشروب کو تیار کرنے کی آسان ترکیب حال ہی میں شیئر کی تھی جو اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتی ہے۔

اس کے لیے پر چیز آپ کو کچن میں مل جائے گی۔

بنانے کا طریقہ

ایک برتن لیں اور اس میں ایک گلاس پانی ڈال دیں اور پھر اسے ابالنے کے لیے رکھ دیں۔

جب پانی ابل جائے تو اس میں چٹکی بھر پسی ہوئی دار چینی، جائفل اور سونف کا اضافہ کردیں،

اس مکسچر کو اچھی طرح ابلنے دیں اور پھر چولہا بند کردیں۔

اس کے بعد کپ میں اس مشروب کو ڈال کر نیم گرم حالت میں آہستگی سے سونے کے لیے لیٹنے سے قبل پی لیں۔

فوائد

یہ مشروب متعدد فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ اعصاب کو سکون دیتے ہیں جس سے جسم پرسکون ہوجاتا ہے۔

اس مشروب میں سونف سب سے اہم ہے جو مسلز کو ریلیکس کرتی ہے اور بے خوابی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔

اسی طرح جائفل میں ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین کو حرکت میں لاتا ہے جبکہ جسم کو سکون دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative