Home » 2019 » July » 04

Daily Archives: July 4, 2019

وفاقی کابینہ کے تاریخ ساز فیصلے

پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے حکومت وقت کا فیصلہ عین حالات کے مطابق ہے، ہمارا دنیا بھر میں واحد ملک ہے جہاں پر ان ملزمان کو جو پابند سلاسل ہیں ایسی نایاب قسم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جہاں وہ فلور آف دی ہاءوس آکر حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے ، دیگر اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے بلکہ اب یوں کہیں کہ کئی اجلاسوں کی صدارت بھی کرتا ہے، فیصلے صادر کرتا ہے اور پھر واپس پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے صحیح کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے قوانین میں ترامیم کی جانی چاہئیں تاکہ ملزمان قومی و صوبائی اسمبلی میں آکر مختلف قسم کی لغویات استعمال نہ کرسکیں ، حیران کن بات یہ ہے کہ ایک صوبائی اسمبلی کا اسپیکر جس کو گرفتار کیا گیا اس کے گھر سے مختلف ناجائز مال و دولت اور زیورات برآمد ہوئے پھر اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ، اس نے آکر اجلاس کی صدارت کی اور اب بھی وہ کررہا ہے ۔ اگر ان قوانین کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اس اعتبار سے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی اقدام کو عملی جامہ پہنائے اور آئندہ کیلئے کوئی بھی ملزم چاہے اس کا کسی بھی ایوان سے تعلق ہو اس کے پروڈکشن آرڈر کسی صورت جاری نہیں ہونے چاہئیں ۔ پھر ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہاکہ ان ملزمان کو سیاسی پروٹوکول نہیں ملنا چاہیے ۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ سیاسی پروٹوکول کیا چیز ہوتی ہے کسی بھی قسم کا پروٹوکول نہیں دینا چاہیے، ملزم ملزم ہوتا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے، پتہ چلنا چاہیے کہ جیل کیا چیز ہے بلکہ دیگر قیدیوں سے ان لوگوں کو زیادہ صعوبتوں میں رکھنا چاہیے اور کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم کو قطعی طورپر کوئی چھوٹ نہیں بلکہ زیرو ٹالرنس پر عمل کرنا چاہیے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ جیل میں مینول میں بھی تبدیلی کرے بلکہ انہیں چکی میں رکھے تاکہ یہ جلد ازجلد پیسے برآمد کراسکیں ۔ جیل تو ان لوگوں کیلئے جیل کم اور جنت زیادہ ہوتی ہے وہاں پر اے اور بی کلاسز الاٹ کراتے ہیں مزید مال، دولت لگا کر ہسپتال داخل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح قید گزر جاتی ہے ۔ وفاقی کابینہ میں کیے جانے والے فیصلے انتہائی مستحسن ہیں البتہ جہاں تک چالیس ہزار روپے کے پرائز بانڈز کے خاتمے کا معاملہ ہے تو اس سے یقینی طورپر کاروبار متاثر ہوگا، 40ہزار کے بعد 25 ہزار اور پھر شاید 15 ہزار کا نمبر بھی آجائے ۔ حکومت کو چاہیے یہ تھا کہ چالیس ہزار کے پرائز بانڈ کو ختم کرنے کی بجائے ان کو جو بھی اس کامالک تھا اس کے نام رجسٹرڈ کرتے تاکہ یہ کاروبار بھی چلتا رہتا اور حکومت کے نیٹ ورک میں دولت کا حساب بھی آجاتا پھر وہ ان سے ٹیکس وصول کرتی تو یہ زیادہ بہتر تھا ۔ وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں ارکان اسمبلی پروڈکشن آرڈر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں سیاسی قیدیوں کا پروٹوکول نہ دیا جائے حکومت کا راناثنا اللہ کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ۔ وفاقی کابینہ نے اولڈ ایج ہومز کے قیام کےلئے سینئر سٹیزن بل 2019اور نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے قیام کی اصولی منظوری دیدی سعودی عرب کی جانب سے حج 2019کے اضافی کوٹے کو سرکاری حج اسکیم کے تحت بروئے کار لانے، اسلام آباد میں ماڈل جیل کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا معاملہ تحقیقات کےلئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے، اور ملکی ایئر پورٹس کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے کےلئے ایک ہفتے میں مستقبل کا لاءحہ عمل مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے کابینہ نے زبیر گیلانی کو چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ شاہ جہاں مرزا کو ایم ڈی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ تعینات کرنے چالیس ہزار مالیت کے نیشنل پرائز بانڈز(حامل ہذا) ختم کرنے کی منظوری دیدی ۔ بانڈ کیش کروانے کےلئے مناسب وقت دیا جائےگا ۔ وزیراعظم پہلی حج پرواز میں روانہ ہونے والے عازمین حج کو خود رخصت کریں گے ۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جیلیں جرم کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے قائم کی جاتی ہیں لیکن جو لوگ لوٹ مار کرکے بد حالی اور تباہی کے ذمہ دار ہیں وہ جیلوں میں اے کلاس لیکر اور پروڈکشن آرڈر لیکر پاکستان میں ایک عام قیدی کے منہ پر طمانچہ ماررہے ہیں ایک مجرم کے دل کی دھڑکن کوٹھیک رکھنے کیلئے 21ڈاکٹر ز کی ٹیم ہے دل کا کونسا مریض ہریسہ اورسری پائے کھاتاہے نواز شریف کی صحت کےلئے گھر کے مرغن کھانوں کی بجائے جیل کا پرہیزی کھانا زیادہ مناسب ہے 71 سالوں میں ان کا جو علاج کوئی اور نہیں کر سکا وہ عمران خان کر رہے ہیں ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلی حج پرواز جمعہ کے روز روانہ ہوگی اس پرواز کے تمام مسافروں کے لئے امیگریشن کا تمام عمل اسلام آباد میں ہی مکمل ہوگا ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے شمالی کوریا کے شہریوں کے لئے پاکستانی ویزوں کے حوالے سے طریقہ کار کی بھی منظوری دی ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد کے نئے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دینے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔ اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کراچی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈزیزز کراچی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی صوبوں سے وفاقی حکومت کو منتقلی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور عدالت کو وفاقی حکومت کی مالی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا ، عدالت کو مطلع کیا جائے گا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے معاملات طے کئے جائیں گے تاکہ صوبائی حکومتیں ان کا انتظام جاری رکھیں ۔ توانائی کے شعبے میں ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے، بعض عناصر اپنے مفادات کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاہم استقامت اور مستقل مزاجی سے ایسے عناصر کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔

پاکستان کی سفارتی سطح پر زبردست کامیابی

امریکہ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور جیش العدل کو دہشتگردتنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے )کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ جیش العدل کا نام بھی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان تمام تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور یہ امریکہ میں دہشتگرد تنظی میں تصور ہونگی ۔ بی ایل اے کا نام دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیئے جانا اس کے دہشتگرد ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ ان کو دہشتگرد تنظی میں قرار دینے کےلئے اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی جائے گی ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے کالعدم بی ایل اے کودہشت گرد تنظیم قرار دینے کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ بی ایل اے کو پاکستان میں 2006 میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا،امیدہے بی ایل اے کوبیرونی تعاون دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن ;200;رمی نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کیں ، امید ہے کہ امریکی اقدام سے کالعدم بی ایل اے کی کارروائیاں کم ہونگی ۔ امید ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے کارندوں ، سہولت کاروں اور مالی تعاون کرنے والوں کوپکڑا جائیگا ۔

میشا شفیع جنسی ہراساں کیس : علی ظفر کا بیان قلمبند

گلوکار علی ظفر نے کہا ہے کہ میشا شفیع نے ان کے خلاف ‘ می ٹو تحریک’ کا غلط استعمال کیا اور ان کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔

علی ظفر نے یہ بیان میشاشفیع کے خلاف دائر کیے جانے والے ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

سیشن جج امجد علی شاہ نے علی ظفر کی جانب سے دائر کیے جانے والے مقدمے کی سماعت کی اور گلوکار نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے زور دیا میشا شفیع کے بے بنیاد اور بے سروپا الزامات سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔

علی ظفر نے اس مقدمے میں اپنا بیان پیر کو ریکارڈ کرانا شروع کیا تھا مگر نامکمل ہونے پر سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی۔

آج سماعت کے دوران علی ظفر نے کہا کہ میشا شفیع کے الزامات کے نتیجے میں انہیں 40 کروڑ روپے تک کے نقصانات کا سامنا ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا نقصان گزشتہ سال ریلیز ہونے والی فلم طیفا ان ٹربل کے بزنس میں ہوا کیونکہ ان الزامات کے نتیجے میں ایک بڑے برانڈ نے اپنی ادائیگیاں مقدمے کے فیصلے تک کے لیے روک لیں۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ وہ می ٹو تحریک کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد جنسی ہراساں اور تشدد کا خاتمہ کرنا ہے مگر ‘میشا شفیع نے اس تحریک کا میرے خلاف غلط استعمال کیا اور ان کے الزامات میں کوئی وزن نہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ میشا شفیع نے ہراساں کرنے کے الزامات سے قبل دیگر خواتین کے تعاون سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔

گزشتہ سماعت کے دوران گلوکار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میشا شفیع نے انہیں بیٹل آف دی بینڈ سے الگ ہونے کا پیغام منیجر کے ہاتھ بھجوایا اور ساتھ ہی آگاہ کیا کہ وہ جیسے ہی ان پر جنسی ہراساں کا الزام لگائیں گی ان کے ساتھ دیگر خواتین بھی شامل ہوجائیں گی۔

عدالت نے علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے پیپسی کے معاہدے کی دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا، جس میشا شفیع کے وکیل نے اعتراض بھی کیا، جس پر جج نے کہا کہ ان کا اعتراض بعد میں ریکارڈ پر لایا جائے گا۔

علی ظفر نے یہ بھی کہا کہ میشا شفیع نے ان کے خلاف مہم کے لیے ‘جعلی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس’ بنائے اور اس حوالے سے انہوں نے عدالت میں مبینہ اکاﺅنٹس کی تفصیالت بھی پیش کیں۔

گلوکار نے بیان میں مزید کہا کہ ان پر جنسی ہراساں کا الزام عائد کرنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے انہیں جب ہراساں کیا جب وہ اے لیول کے طالبعلم تھے، تاہم وہ کبھی اے لیول کے طالبعلم نہیں رہے، بلکہ انٹرمیڈیٹ کیا، جس کا سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں جمع کرایا گیا۔

انہوں نے امریکا میں ایک کنسرٹ کے دوران بیک اسٹیج ہراساں کرنے کے ایک الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ان الزامات پر ٹوئٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ اس کنسرٹ میں کوئی بیک اسٹیج ہی نہیں تھا۔

گلوکار کا دعویٰ تھا کہ ان کے خلاف ہراساں کرنے کے الزامات عائد کرنے والی خواتین کا تعلق ‘میشا شفیع اور ان کے نمائندے’ سے ہے۔

انہوں نے مختلف بلاگرز اور سوشل میڈیا صارفین کے نام لیے جن کی جانب سے ان پر ہراساں کرنے کے الزامات میشا شفیع کے دعویٰ کے بعد سامنے آئے تھے۔

علی ظفر کا دعویٰ تھا کہ ان سب خواتین کا ایک دوسرے سے تعلق ہے ، اس حوالے سے میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی سے انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ سب خواتین عدالت میں پیش ہوں گی۔

جس پر ثاقب جیلانی نے کہا کہ وہ عدالت میں آئیں گی بلکہ دیگر متعدد خواتین بھی یہاں پیش ہوں گی’۔

علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ میشا شفیع سے خاندان کے اراکین کی موجودگی میں ملتے تھے، جبکہ میشا کے شوہر 2015 میں ایک ایونٹ کے دوران ان کے ساتھ کام کررہے تھے، حالانکہ یہ وہ وقت ہے جو جس کے بارے میں میشا شفیع کا کہنا ہے کہ انہیں علی ظفر کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔

علی ظفر کے مطابق میشا شفیع نے ہراساں کرنے کے مبینہ واقعے کے بعد بھی علی ظفر کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔

میشا شفیع- علی ظفر کیس

دونوں کے درمیان تنازع اپریل 2018 میں اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ایک ٹوئٹ میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکار بھی بن چکی تھیں۔

تاہم علی ظفر نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

بعد ازاں میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کی محتسب اعلیٰ میں درخواست بھی دائر کی تھی اور اس کے جواب میں علی ظفر نے بھی گلوکارہ کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اور دونوں کا یہی کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو تین ماہ کے اندر گواہوں پر جرح کے بعد فیصلہ سنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی ہراساں کرنے کا الزام،علی ظفر نے میشا شفیع کو جھوٹاقرار دیدیا

چند دن قبل سماعت میں پیش ہونے کے بعد علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ میشا شفیع نے انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹکیا۔

علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر منظم منصوبہ بندی کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکارہ نےعلی ظفر کو 200 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا اور ان سے 15 دن کے اندر معافی مانگنےکا مطالبہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں میشا شفیع نے گواہوں سے جرح کے معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت عظمیٰ نے 9 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے بیان ریکارڈ اور جرح ایک ساتھ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی ۔

علاوہ ازیں میشا شفیع نے سیشن کورٹ میں سماعتیں کرنے والے پہلے جج پر جانبدار ہونے کا الزام لگایا تھا اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جج تبدیل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

پہلے اس کیس کی سماعت سیشن جج شکیل احمد کرتے تھے جسے گلوکارہ کی درخوست پر تبدیل کیا گیا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالرقرض کی منظوری دے دی

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 3 سال کے لئے 6 ارب ڈالرقرض کی منظوری دے دی۔

ترجمان آئی ایم ایف جیری رائس کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لئے  6 ارب ڈالر کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ جیری رائس کا کہنا ہے کہ قرض سے پاکستان کی معیشت کو استحکام اور معیشت کی بحال میں مدد ملے گی جب کہ پاکستان میں معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر کا پلان منظور کرلیا ہے۔ اس توسیعی فنڈ کی سہولتت ( ای ایف ایف) سے معاشی بحالی پروگرام کو مدد فراہم ہوگی۔ ہمارے منصوبے میں ادائیگیوں میں عدم توازن کا خاتمہ شامل ہے۔ سماجی بہتری کے لیے اخراجات شامل ہیں جس سے ملک کے مفلوک الحال طبقوں کا مکمل تحفظ شامل ہے۔

ایک اور پیغام میں مشیرِ خزانہ نے کہا کہ اس سے معاشی ڈھانچے کی اصلاحات کی جائیں گی جن میں قرض کم کرنا اور آمدنی میں اضافہ شامل ہے۔ اس مدد سے معاشی انتظام اور مالیاتی ڈسپلن کو یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان معاشی بہتری کے لیے ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر دوست ممالک سے بھی مالی مدد اور قرض حاصل کرچکا ہے۔

ایل او سی کے قریب دھماکے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید

مظفر آباد: ایل او سی کے چھمب سیکٹر میں دھماکے سے 5 فوجی جوان شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آزاد کشمیر کی تحصیل برنالہ میں دھماکا خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں 5 فوجی جوان شہید ہوگئے ہیں جب کہ ایک جوان زخمی بھی ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے،  دھماکے کا واقعہ ایل او سی سے چند میٹر دور چھمب سیکٹر میں پیش آیا ہے، اور یہ دھماکا بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور دو طرفہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کا ثبوت ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں صوبیدار محمد صادق ، سپاہی محمد طیب ، سپاہی زوہیب ،  سپاہی غلام قاسم اور نائیک شیر زمان شامل ہیں۔ شہید ہونے والے صوبیدارمحمد صادق کی عمر 44 سال، سروس 23 سال اور ضلع نیلم کے علاقے جورا کے رہائشی تھے۔ شہید سپاہی محمد طیب کی عمر 26 سال، سروس 5 سال اورگاوں سراخئی ضلع خوشاب کے رہائشی تھے۔

شہید سپاہی زوہیب کی عمر 20 سال اور سروس 7 ماہ تھی، اور وہ گاؤں نندی نار گامر ضلع پونچھ کے رہائشی تھے۔ شہید سپاہی غلام قاسم کی عمر 22 سال سروس ایک سال اور وہ گاوں سائیوال ضلع سرگودھا کے رہائشی تھے، جب کہ شہید سپاہی شیر زمان عمر 36 سال ، سروس 13 سال اور وہ گاؤں شمہ شکی ضلع کرک کے رہائشی تھے۔

بھارتی فضائی صلاحیتیں انتہائی ناقص ہیں

امسال 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی علاقہ میں چھ جگہوں پر نشانہ بازی کی ۔ اس کے ساتھ ہی دو بھارتی مگ 21 جو ایک دفعہ پھرہماری فضائی حدود عبور کر کے اندر آگئے تھے، کو ہمارے شاہینوں نے نشانہ بنایا اور دونوں طیارے مار گرائے ۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔ اسی ہزیمت کو لے کر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی صدارت میں فوجی افسران کے اجلاس میں بعض جرنیلوں کا کہنا تھا کہ 27 فروری کو پاکستانی طیاروں کے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر اپنے ٹارگٹس حاصل کرلینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری فضائی صلاحیتیں کتنی کمزور ہیں لہذا بھارت نے پاکستان کی سرحد پر ائیر ڈیفنس یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارتی فوجی افسران نے بھارتی فضائی صلاحیتیں کمزور ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بالا کوٹ ائیر اسٹرائیک کے بعد پاکستان کا ہماری حدود میں داخل ہونا یہ ثابت کرتا ہے وہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے لہٰذا ہ میں اپنے ائیر ڈیفنس یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے پاکستانی سرحدوں کے قریب تعینات کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کبھی ایسا واقعہ ہو تو ائیر ڈیفنس یونٹس بروقت جواب دے سکیں ۔ اسی سلسلے میں ریاست جموں و کشمیر کے کئی سرحدی علاقوں میں عارضی ایئر بیس قائم کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی کسی بھی ایئر سٹرائیک کی کوشش کو فوری طورپر ناکام بنا سکتے ہیں ۔ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری سے پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی اورجوانوں کا مورال بھی ڈاوَن ہوا ۔ پاکستان نے بھی بھارتی فضائی جارحیت کا توڑ کرنے کےلئے سرحد پر اپنی فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کے لیے نیا ائیر ڈیفنس سسٹم تعینات کر دیا ہے جس میں کم رینج والے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل، نگرانی کرنے والے ریڈار اور ڈرون شامل ہیں ۔ دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرحدوں پرزمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایل وائے80 میزائل اور آئی بی آئی ایس150 ریڈار کے پانچ یونٹ نصب کر دیے ہیں ۔ میزائلوں اور ریڈار کے علاوہ پاکستان نے رین بو سی ایچ4 اور رین بو سی ایچ5 ڈرون بھی سرحد پر تعینات کیے ہیں تا کہ بھارت کے کسی بھی جہاز کی آمد کا پیشگی پتا لگایا جا سکے ۔ اسی طرح بھارت نے پاک سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کرنے کا بھی پروگرام بنایا ہے ۔ ان مشقوں میں ایسے جدید ہتھیار وں کو بھی استعمال کیا جائے گاجو بھارتی فوج کو جدید ترین فوج بنانے کےلئے حاصل کیے گئے ہیں ۔ ان مشقوں کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر اپنی حربی دھاک بٹھانا اور اسے دھمکانا ہے ۔ بھارت کی اس کمینگی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مکار ہندو بنیا کس حد تک جا سکتا ہے ۔ ایک طرف تو بھارتی سرکارکہتی ہے کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اس لئے مذاکرات کا عمل ٹوٹنے نہیں دیں گے تو دوسری طرف پاکستان پر فضائی حملہ بھی کر دیا جاتا ہے ۔ یہ صورتحال ہندو بنئے کے متعلق مشہور کہاوت ’’بغل میں چھری منہ پر رام رام‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ اگر آپ کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے تو اس کی ترقی، بقاء اور خوشحالی کےلئے اقدامات کرنے چاہیں ۔ اس کی سالمیت کو یقینی بنانا چاہیے چہ جائیکہ آپ کے طیارے سرحد پار کر کے ویرانے میں اسلحہ گرا کر بھاگ جائیں ۔ یوں بھارت نے پیغام دیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک سے پہلے ہم تمہارے سر پر لٹھ لئے کھڑے ہیں ۔ بھارت میں جنگی جنون تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اپنے عزائم کی تکمیل کےلئے جدید ترین اسلحہ اور ہتھیاروں کے انبار جمع کر رہا ہے ۔ بھارت یہ تمام اسلحہ،جدید طیارے، ٹینک، طیارہ بردار جنگی جہاز، آبدوزیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت ڈھرا ڈھر روس، امریکہ ، سویڈن، برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک سے جنگی سازو سامان اور طیارے خرید رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ بھارت یہ ہتھیارپاکستان کے خلاف ہی استعمال کرے گا تبھی تو جنگی مشقوں کے نام پر ان کی رونمائی کی جا رہی ہے ۔ یہ حیران کن بات ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی اور خطے میں پرامن ماحول کے لئے مذاکرات چاہتا ہے مگر دوسری جانب بھارت کے معاندانہ جنگی عزائم میں ذرہ بھر کمی نہیں آرہی اور بھارت ایک کے بعد دوسرا ایسا قدم اٹھا رہا ہے جس سے پاکستان کی سلامتی اور حمیت پر حرف آتا ہے ۔ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جس کی فوج دنیا کی کسی بھی فوج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2002ء میں بھی بھارت اپنی فوج سرحد کے ساتھ لگانے کے باوجود حملے کی جرات نہ کر سکا ۔ پاکستانی قوم اپنی سرحد کے چپہ چپہ کا تحفظ کرنے کےلئے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے اور اس بات کا بھارت کے حکمرانوں کو بھی علم ہے ۔ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں رہا اور نہ رہے گا ۔

دیرپا امن اور استحکام کے لیے سفر جاری رکھیں گے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، کانفرنس میں بھارت، افغانستان، ایران اورداخلی سکیورٹی صورتحال پرغورکیا گیا، جب کہ جیو اسٹرٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال بھی زیرغور آئی۔ آرمی چیف نے کور کمانڈر ز کو حکومت کی طرف سے قومی معیشت کی مضبوبی کے لئے مشکل اور ضروری اقدامات سے آگاہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی راہ پرگامزن ہے اوردیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنا سفر رکھے گا۔

 

اکشے کمار کے ساتھ کام کرنے کی آفر ہوئی تھی، مایا علی

کراچی: معروف اداکارہ مایا علی کا کہنا ہے کہ انہیں اکشے کمار کی فلم میں کام کی آفر ہوئی تھی اور اس کے لیے آڈیشن دینے بھارت بھی گئی تھی۔

مایا علی نے ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بالی ووڈ کی فلمیں بہت پسند ہیں۔ میں لڑکپن میں کرن جوہر کی تقریباً تمام ہی فلمیں دیکھ چکی ہوں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں کتنی فلمی ہوں گی۔ در حقیقت میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اداکارہ بن جاؤں گی۔ لیکن جب آپ کے نصیب میں کچھ لکھ دیا جاتا ہے تو وہ ہو کر رہتا ہے اور بلآخر وہ ہوا جس پر میں نے کبھی نظر ثانی ہی نہیں کی۔

مایا علی نے شہریار منور کے ساتھ نئی آنے والی فلم ’ پرے ہٹ لو‘ میں اداکاری کے حوالے سے اپنے تجربے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریار منور کے ساتھ کام کرنا میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا کیوں کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ فلم کا کام مکمل کرنا اتنا آسان ہوگا۔ شہریار نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور اور موقع فراہم کیا تاکہ میں اطمینان محسوس کرتے ہوئے بہترین اداکاری کرسکوں۔

مایا علی نے یہ بھی کہا کہ فلم طیفا ان ٹربل کے بعد پرے ہٹ لو میری دوسری فلم ہے لیکن میری یہ فلم پہلی فلم سے بالکل مختلف ہے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے دونوں فلموں میں مختلف کردار ادا کرنے کا موقع ملا کیوں کہ طیفا ان ٹربل ایکشن کامیڈی  فلم تھی جب کہ ’پرے ہٹ لو‘ جذبات سے بھرپور محبت پر مبنی فلم ہے۔

بالی ووڈ سے آفر کے حوالے سے مایا علی نے انکشاف کرتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے اکشے کمار کی فلم کے لئے آفر آئی تھی یہاں تک کہ میں آڈیشن دینے بھارت بھی گئی تھی، سب کچھ سوچا ہوا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے میں آگے نہ جا سکی۔

مایا علی نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں رنویر سنگھ کے کام کرنے کے جذبے کو بہت پسند کرتی ہوں اور اگر کبھی مجھے موقع ملا تو میں ان کے ساتھ ضرور کام کرنا پسند کروں گی لیکن جہاں تک بات ساتھ کام کرنے والے پرکشش شخص کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ شہریار منور پُرکشش شخصیت کے مالک ہیں۔

ایران کا عالمی جوہری معاہدے کے تحت بند نیوکلیر ریکٹر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

تہران: ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آراک ریکٹر کو بحال کرکے ہمیں جتنی ضرورت ہوگی اُتنی مقدار میں یورینیئم افزود کریں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے سرکاری ٹیلی وژن پر عوام سے اپنے خطاب میں عالمی قوتوں کے اعتراض کے باوجود یورینیئم افزودگی کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے عالمی قوتوں کو متنبہ کیا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے اور امریکی پابندیوں کو لگام نہ دی گئی تو ایران اپنے ’آراک ریکٹر‘ کو 7 جولائی کے بعد سے دوبارہ بحال کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران یورینیئم افزودگی کا عمل 7 جولائی کے بعد سے دوبارہ شروع کرے گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اپنی ضرورت کو پورا کرنے کیلیے درکار مقدار حاصل نہ کرلے۔

واضح رہے کہ ایران نے 2015 میں کیے گئے عالمی جوہری معاہدے کے تحت آراک ریکٹر کو بند کردیا تھا اور اقتصادی پابندیاں ہٹانے کی شرط پر 300 کلو گرام سے زائد یورینیئم افزودگی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم امریکا کے گزشتہ برس معاہدے سے دستبردار ہونے پر ایران نے بھی معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد سے انکار کردیا تھا۔

Google Analytics Alternative