Home » 2019 » July » 08

Daily Archives: July 8, 2019

نواز شریف کیس کا فیصلہ خدا کو حاضر ناظر جان کر اور شواہد کی بنیاد پر دیا، جج ارشد ملک

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کیس کا فیصلہ میں نے خدا کو حاضر ناظر جان کر اور قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے حوالے سے رجسٹرار احتساب کورٹ نے جج ارشد ملک کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا، کوئی لالچ بھی پیش نظر نہیں تھی جب کہ میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔

جج ارشد ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے خلاف ساز ش کی گئی، الزامات لگا کر میرے ادارے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز حقائق کے برعکس ہیں، ویڈیوز میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ میں راولپنڈی کارہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتارہاہوں، ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کاتعلق بھی اسی شہر سے ہے، میر ی ناصر بٹ سے پرانی شناسائی ہے، ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار دفعہ مل چکے ہیں، مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایاجائے۔

جج ارشد ملک نے بیان میں کہا کہ نوازشریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے رشوت کی پیش کش کی گئی، مجھے تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، دھمکیوں کو میں نے سختی سے ردکرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کاعزم کیا۔

احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے جان ومال کو اللہ کے سپرد کردیا ، میں نے اگر دباؤ یارشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمہ میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا، میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنا پر نوازشریف صاحب کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا، یہ پریس کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کی گئی لہذا اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔

جج صاحب نے ویڈیو کا انکار نا کر کے تصدیق کر دی، مریم نواز

 لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جج صاحب نے ویڈیو کاانکار نا کر کے تصدیق کر دی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر فاضل جج صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ سکتی ہوں کہ آج بھی فیصلے کی طرح تیار شدہ پریس ریلیز پر آپ نے مجبوری میں دستخط کیے ہوں گے، بہت شکریہ کہ آپ نے ویڈیو کا انکار نا کر کے تصدیق کر دی۔

اپنی ایک اور ٹوئٹ میں شاعرانہ انداز اپناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مانگے تانگے کی کرسی پر مرتے کیوں ہو؟، عمل نہیں تو جھوٹی باتیں کرتے کیوں ہو؟، کہتے تھے آؤ میں کنٹینر دوں گا، میں جو نکلی ہوں تو ڈرتے کیوں ہو ؟۔

ایک اور ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ خوف انسان کو نا چین سے حکومت کرنے دیتا ہے نا چین سے جینے دیتا ہے ۔

وزیراعظم کا پاکستان کی موجودہ صورتحال پر معروف مصنفہ اینی رینڈ کی تحریر کا حوالہ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر معروف مصنفہ اینی رینڈ کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اینی رینڈ نے 60 برس قبل جو لکھا وہ آج کے حالات پر پورا اترتاہے۔

وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر معروف روسی مصنفہ اینی رینڈ کی تحریر شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ اینی رینڈ نے 60 برس قبل جو لکھا وہ آج کے حالات پر پورا اترتاہے، ایسے ہی وقت میں تحریک انصاف کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا پڑی۔

وزیراعظم نے اینی رینڈ کی تحریر کو نشان زدہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’جب کوئی شےبنانے کیلیے ان سےاجازت لینی پڑےجوخودکچھ نہ بناتے ہوں،جب بد عنوانی کو ایوارڈ اور دیانتداری ذات کی قربانی ہو،جب پیسا ان کے پاس جا رہاہوجو اشیا نہیں مفاد کیلیے کام کرتے ہوں،جب قانون بھی آپ کے خلاف انہیں تحفظ دیتا ہو۔

‘مجھے ایسا لگا جیسے میرا ریپ ہوگیا’

بولی وڈ اداکارہ ایشا گپتا نے دہلی کے ایک ہوٹل کے مالک پر نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ‘مجھے ایسا لگا جیسے میرا ریپ ہوگیا’۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے ایشا گپتا نے لکھا ‘اگر میری جیسی خاتون کو ملک میں عدم تحفظ کا احساس ہوسکتا ہے تو سوچا جاسکتا ہے کہ عام لڑکیاں کیا محسوس کرتی ہوں گی، یہاں تک کہ میرے ساتھ 2 سیکیورٹی گارڈ ہونے کے باوجود مجھے اپنے ریپ کا احساس ہوا’۔

اداکارہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات کے کھانے کے لیے ہوٹل میں آئی تھیں، جہاں انہوں نے ایک اجنبی کے گھورنے کی شکایت کی۔

انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا ‘اس شخص نے آنکھوں سے میرا ریپ کیا، اس شخص سے 3 بار رویہ ٹھیک کرنے کی درخواست کی گئی اور پھر جانے کا کہا گیا، اس کے بعد 2 سیکیورٹی گارڈ میرے پاس ااگئے’۔

انہوں نے مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے کی ویڈیو بھی شیئر کی اور اس شخص کی شناخت بعد ازاں سوشل میڈیا کی مدد سے کی۔

اپنے ایک اور ٹوئیٹ میں انہوں نے لکھا ‘کچھ لوگ بہت زیادہ بدتمیز ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے انہیں کبھی نہیں سکھایا گیا کہ اجنبی افراد سے کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، آپ میں سے کچھ کو اخلاقیات سیکھنے کی ضرورت ہے’۔

انسٹاگرام فوٹو
انسٹاگرام فوٹو

ایک اور ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا ‘ایسے افراد کی وجہ سے خواتین کہیں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں، ایسے افراد کو لگتا ہے کہ پوری رات کسی خاتون کو گھور کر عدم تحفظ کا احساس دلانا ٹھیک ہے، اس نے مجھے چھوا یا کچھ کہا نہیں مگر مسلسل گھورتا رہا، اس لیے نہیں کہ وہ مداح تھا اور نہ ہی اس لیے کیونکہ میں اداکارہ ہوں، اس لیے کیونکہ میں ایک خاتون ہوں، ہم کہاں محفوظ ہیں؟ کیا ایک خاتون ہونا بدبختی ہے’۔

ایک اور جگہ انہوں نے لکھا ‘یہ معروف ہونے کی وجہ سے نہیں، عام لڑکی بھی ایسے تجربے سے گزرتی ہے، آخر ایک مرد قانون سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے اور کسی مرد کے لیے ایسی سوچ ٹھیک کیسے ہوسکتی ہے’۔

ایشا گپتا کی نئی فلم ون ڈے: جسٹس گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی تھی جس میں انوپم کھیر اور اداکارہ نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

مبینہ ویڈیوٹیپ سیکنڈل،فرانزک آڈٹ کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں

ملکی سیاست کے ایوانوں میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک جس نے میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا تھا کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایک نئی ہلچل اور نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ویڈیو منظر عام پر لاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جج ارشد ملک نے نوازشریف کوسزا بلیک میل ہوکر دی تھی ۔ مذکورہ ویڈیو ٹیپ مسلم لیگ (ن)نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے جاری کی ۔ مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نوازشریف کوسزا دباوَ پرسنائی گئی جبکہ نواز شریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں تھا،انہوں نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ کیا نہیں کرایا گیا تھا ۔ پریس کانفرنس میں مریم نواز کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی اور خواجہ ;200;صف بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس میں فاضل جج کی مبینہ ویڈیو میڈیا جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کو مفروضوں پر مبنی الزامات پر نشانہ بنایا گیا، سزا دینے والا خود بول اٹھا ہے کہ سابق وزیراعظم سے زیادتی ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ والدکو مرسی نہیں بننے دونگی،آخری حدتک جاؤں گی ۔ اس موقع پر میاں شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف کو نیب ریفرنس میں سزا بد ترین نا انصافی ہے، امید ہے انہیں ضرورانصاف ملے گا، نوازشریف کے ساتھ انصاف کے حوالے سے بدترین بے انصافی کی گئی ہے،ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں جھول کے ناقابل تردید شواہد ہیں ، عوام کے سامنے ایسے شواہد پیش کرنے جا رہے ہیں امید ہے کہ عدالت عظمی ٰمعاملے کو دیکھے گی ۔ مریم نواز نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی کوئی سازش ہوئی تو ان کے پاس اس سے بھی زیادہ ثبوت موجود ہیں جس میں لوگوں کے نام بھی ہیں ‘‘ ۔ مسلم لیگ ایک بار پھر بھاری الزامات کے ساتھ میدان میں اتری ہے جس سے ماحول کشیدہ ترہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ان الزامات میں کہا ں تک سچائی ہے ،وقت کا تقاضہ ہے کہ درست حقائق سامنے آنے چائیں کیونکہ پانامہ کیس میں مسلم لیگ نون کی اس طرح کی کارروائیوں اور بوگس ثبوتوں کی وجہ سے ساکھ متنازعہ رہی ہے ۔ کیلبری فانٹ اور قطری خط اس کی مثالیں ہیں ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عندیہ دیا ہے کہ مریم نواز نے جج ارشد ملک کے حوالے سے جو ٹیپس پیش کیں ان کی فرانزک جانچ کروائی جائے گی، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میں تاخیر نہ کی جائے ۔ ملک اس قسم کے کسی ایڈونچر کامتحمل نہیں ہو سکتا ۔ اندرونی اور بیرونی خطرات ہر وقت سائے کی طرح ملک کی سالمیت کا پیچھا کرتے رہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن ایسے میں کوئی بھاری چال رہا ہو ۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مریم نواز نے ویڈیو کا سہارا لے کر ہمدردیاں سمیٹنے اور (ن)لیگ کی گرتی ساکھ کو بچانے کی بھونڈی کوشش کی ہے ۔ مریم نواز نے ایک جج پر نہیں پوری عدلیہ پر انگلیاں اٹھائی ہیں ، یہ اداروں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش ہے جبکہ ایسے اقدامات بغض پاکستان اور ملک سے عداوت کے مترادف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس ;200;ڈیو ویڈیو ٹیپ کا فرانزک ;200;ڈٹ ہوگا اور دیکھا جائے گا کہ جج اور اداروں کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں ان کی سچائی کیا ہے، ویڈیو ٹیمپرڈ ہے یا سچ ہے، یہ فرانزک ;200;ڈٹ میں سامنے ;200;جائے گا، ہم قوم سے کچھ نہیں چھپائیں گے ۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کی بھی بات کی کہ ہم وہ نہیں ہیں کہ جسٹس قیوم کی جو ٹیپیں مارکیٹ میں لائی گئیں جو پوری قوم نے سنیں جس میں شہباز شریف جج کو ہدایات دے رہے تھے کہ اسے اتنی نہیں اتنی سزا دو، ہماری حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کو بھاگنے پر مجبور نہیں کیا، سپریم کورٹ کے دروازے توڑنے والی جماعت ;200;ج قانون کی بات کر رہی ہے، دوسروں پر الزام لگانے والوں کے اپنے چہرے داغدار ہیں ، مریم نواز ٹیپس کو عدالتوں میں لے جا کر اپنی بے گناہی ثابت کریں ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات کا یہ نہایت ہی صائب مشورہ ہے کہ اس معاملے کو عدالتوں میں لے جائیں ۔ ان سطور کے ذریعے ہمارا بھی یہی مشورہ ہے کہ اسے میڈیا پر لانے سے قبل عدالت تک لے جایا جاتا تو بہترہوتا کہ آخر ان لزامات اور اس دعوے کے پیچھے ملک کی عدلیہ کی ساکھ جڑی ہے ۔ اب بھی اگر مسلم لیگ سمجھتی ہے کہ اس ویڈیو ٹیپ میں نقاءص نہیں ، درست اور حقائق پر مبنی ہے تو پھر اس سے بہتر موقع نہیں کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ اگرنون لیگی قیادت ایسانہیں کرتی تو پھر اس سارے معاملے کو ایک سیاسی حربہ ہی تصور کیا جائے گا ۔ ویسے بھی جس انداز میں اور جس سور پرسن کے ذریعے یہ ویڈیو تیار کروائی گئی ہے اس کی کریڈیبلٹی بھی متنازعہ ہے ۔ اس امر کی جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں متوجہ کیا کہ مبینہ ویڈیو میں جس شخصیت کو بطور سورس ظاہر کیا گیا وہ ناصر بٹ ہے جو نواز شریف کا کاروباری رفیق اور قریبی دوست ہے، جو ایک قتل کرنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوجاتا ہے،20 سال تک لندن مفرور رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاندان 35 سال تک اقتدار میں رہا، جو نسل در نسل اس قوم اور ملک پر حکمراں رہا، ;200;ج مختلف مقدمات میں مفرور ان کے بچے، ملک کی معیشت کو کھوکھلا کرکے لندن میں عیاشی کرنے والا ان کا سمدھی اسحق ڈار، کرپشن کی داستان بیان کرنے والے کا اپنا داماد علی عمران اور اپنا صاحبزادہ سلمان شہباز ملک سے باہر بیٹھے ہیں ۔ اگر ان کا دامن صاف ہے تو پاکستان ;200;کر اور عدالتوں میں پیش ہو کر اپنی بے گناہی کے ثبوت دے کر خود کو مقدمات سے بری کیوں نہیں کرواتے ۔ مبینہ ویڈیو کامعاملہ انتہائی حساس ہے اسکے جہاں سیاست پرمنفی اثرات ہونگے وہیں ملک کے عدالتی نظام کی ساکھ پربھی حرف آئے گا ۔ ایک طویل عرصہ بعدعدلیہ کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے اور وہ آزادانہ اور بلا امتیاز فیصلے کر رہی ہے ۔ خود مسلم لیگ نون کی حکومت کے دور میں عدلیہ کی خود مختاری اور آزادی کو شدید نقصان پہنچا جاتا رہا ہے ۔ یہ حکومت کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے اور مبینہ ویڈیوسکینڈل کے تمام محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر فرانزک آڈٹ کے ذریعے حقائق کو سامنے لایا جائے ،اس معاملے میں کسی بھی قسم کی سستی اور تاخیرکے منفی اثرات مرتب ہونگے اورسازشیوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے ۔

بھارت سری لنکا میچ کے دوران کشمیر کے حق میں بینر

ورلڈ کپ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لیڈز میں بھارت اور سری لنکا کے میچ کے دوران ایک چھوٹے جہاز کے ذریعے فضا میں مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام اور اس کی ;200;زادی کے حق میں بینرز لہرائے گئے ۔ ان بینرزپرکشمیر کےلئے انصاف، کشمیر میں نسل کشی اور;200;زادی کشمیرکے نعرے درج تھے ۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد ہندوستانی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے جسکے نتیجے میں اب تک 70ہزار سے زائدمظلوم کشمیری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ کرانے کا یہ ایک اچھا موقع تھا کہ وہ برسہا برس سے بھارتی مظالم سہہ رہے ہیں اور کوئی ان کی دادرسی کو آگے نہیں بڑھ رہا ۔

بی ایل اے ، دہشت گرد تنظیم

گزشتہ دنوں امریکا سے ایک بڑی خوشخبری یہ آئی کہ امریکی انتظامیہ نے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیاہے ۔ بی ایل اے پاکستان میں پہلے ہی کالعدم قرار دی جاچکی ہے ۔ بی ایل اے کی جانب سے گزشتہ سال پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے کیے گئے تھے ۔ جند اللہ کا نام بھی امریکی فہرست میں شامل کرلیا گیا ۔ فہرست میں نام آنے پر دونوں تنظی میں امریکا میں دہشت گرد تصور کی جائیں گی ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فہرست میں شامل دونوں تنظیموں کے اثاثہ جات بھی منجمد کیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کو ان تنظیموں سے کسی قسم کے لین دین پر پابندی ہوگی ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کالعدم بی ایل اے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ بی ایل اے مسلح علیحدگی پسند گروپ ہے جو سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے ۔ بی ایل اے نے اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا ۔ نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا اور بی ایل اے نے مئی 2019 میں گوادر پر ایک ہوٹل پر حملہ کیا ۔ پاکستان اور برطانیہ پہلے ہی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں اور حکومت پاکستان اس سے قبل امریکا سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کرچکی تھی ۔ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس کا نام شدت پسندی کی بڑی کارروئیوں میں آتا رہا ہے ۔ چینی قونصل خانے پر حملہ کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کا کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارا گیا تھا لیکن یہ بات جھوٹ ثابت ہوئی ۔ کمانڈر اسلم عرف اچھو2016 میں دالبندین میں فورسز سے مقابلے کے بعد زخمی ہو گیا تھا جس پر اسے اس کے ساتھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ اس وقت تک اسلم عرف اچھو افغانستان کی خفیہ ایجنسی اور بھارتی را کی مدد سے جعلی افغان پاسپورٹ بنواچکا تھا ۔ اسلم اچھو پہلے بلوچستان سے ایران وہاں افغانستان جانے کے بعد بھارت گیا جہاں اسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے علاج کیلئے نئی دلی کے میکس ہیلتھ کیئر اسپتال میں داخل کرایا ۔ اسی دوران پاکستان میں یہ اطلاعات چلتی رہیں کہ کمانڈر اسلم مارا گیا ہے ،تاہم ایسا نہیں ہوا تھا ۔ کالعدم بی ایل اے کے سربراہ حیر بیار مری اور اس کے بدنام زمانہ کمانڈر اللہ نذر کا دست راست ہے ۔ اسلم بلوچ عرف اسلم اچھو اب تک ایف آئی اے کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں 8ویں نمبر پر ہے ۔ حالیہ عرصے میں اسلم اچھو بھارت سے صحت یاب ہونے کے بعد افغانستان واپس آیا جہاں اس کی افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے عہدیداروں سے کئی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ابھی تک یہ قندھار میں ہی موجود ہے ۔ اگست 2018 میں اسلم اچھو کا بیٹا ریحان چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملے میں ہلاک ہوا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشت گردوں اور مذہبی انتہا پسندوں کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے ۔ بھارت پاک چین اقتصادی راہ داری اور پاکستان میں اپنے لے پالک دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے خاتمے سے پاگل پن کا شکار ہے ۔ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر کے امن و امان کی صورت حال بگاڑنے اور بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف ابھارنے میں سرگرم ہے ۔ لیکن بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بعد بلوچ نوجوانوں کا بیرون ملک جا کر پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو جانا ملک کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بنتا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر برطانیہ میں مقیم بلوچ علیحدگی پسندوں کا ایک گروپ پاکستان دشمن پروپیگنڈے پر مبنی زہر آلود لٹریچر بھی تقسیم کر رہا ہے ۔ سوءٹزرلینڈ کے مختلف شہروں میں آزاد بلوچستان کے بینر آویزاں کیے گئے جس میں بلوچستان میں ہونے والی نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ ا ب بھارت مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے معاملے کو اچھال رہا ہے ۔ اس کا ثبوت بی ایل اے کی جانب سے میڈیا کے مثبت کردار پر تنقید ہے ۔ علیحدگی پسند رہنما گہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم بلوچستان و پاکستان کے تمام صحافتی اداروں ، جرنلسٹ فورمز،پریس کلبز،اخباری مالکان ، ہاکرز انجمن ،کیبل آپریٹرزسمیت انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ مقبوضہ بلوچستان میں میڈیا کی یکطرفہ رویہ اور سرکاری بیانیہ پر تکیہ کرنے والے نہ صرف ہماری بلکہ بلوچ قوم کی اْس آواز کو سنا جائے جو پاکستانی بربریت کے نتیجے میں بلوچ ماں اور بہنوں کی آہ اور سسکیوں سے پیدا ہو کر عرش کو چھورہی ہیں ،اس پر خاموشی انتہا قسم کی بد دیانتی ہے ۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی اس کی مدد گار ہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور بی ایل ایف کو افغانستان سے آپریٹ کیا جا رہا ہے ۔ کالعدم بی ایل کے محفوظ ٹھکانے ژوب،سبی ، موسیٰ خیل، نیک کنڈی ، دالبندین اور پنجگور کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہیں جہاں انہیں مقامی افراد کی بھی مدد حاصل ہے ۔ را نے دہشت گرد تنظیموں کے کارندوں کو تربیت کی فراہمی کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور ان دہشت گردوں کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی راپاکستانی سالمیت کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں ۔ دہشتگرد تنظیموں کو افغانستان سے بھی آپریٹ کیا جا رہا ہے ۔ این ڈی ایس اور را نے افغان علاقے زرنج اور ایران کے علاقے چاہ بہار میں بھی پاکستان ڈیسک قائم کر رکھا ہے ۔ پاکستان مخالف دونوں ممالک کے خفیہ ادارے دہشتگردوں کو خودکار ہتھیار چلانے ، بارود کے استعمال اور خودکش جیکٹ تیار کرنے کی بھی تربیت دیتے ہیں ۔ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم ٹی ٹی پی کی بھی مکمل حمایت و مدد حاصل ہے اور یہ تنظی میں آپس میں مل کر کئی اہم شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی ہیں ۔

آڈیو ویڈیو ٹیپ بنانے اور چلانے والے دونوں کردار سند یافتہ جھوٹے ہیں، فردوس عاشق

اسلام آباد: وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آڈیو ویڈیو ٹیپ بنانے اور چلانے والے دونوں کردار سند یافتہ جھوٹے ہیں۔

اپنے ٹوئٹر بیان میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ آڈیو ویڈیو ٹیپ بنانے اور چلانے والے دونوں کردار سند یافتہ جھوٹے ہیں۔ایک قاتل اور غنڈہ گینگ کا سربراہ جبکہ دوسری کیلبری فونٹ کی معروف جعلساز ہے، یہ وہ کردار ہے جو بے نامی دار ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سرکاری خزانے کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے اور عوام کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والوں سے مال مسروقہ کی برآمدگی جاری رہے گی۔ نوازشریف جیل میں ہیں تو مریم صفدر بتائیں کہ وہ کس حیثیت میں بغیر کسی استحقاق اتنا عرصہ سرکاری بلٹ پروف کار استعمال کر رہی تھیں۔

دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان کردیا۔

چوہے میں ایچ آئی وی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا پہلا کامیاب تجربہ

واشنگٹن: طبی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جانور کے ماڈل سے انسانی ایچ آئی وی کو مکمل طور پر ختم کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس اہم کام کو دو مراحل میں انجام دیا ہے۔

تاہم اس کے لیے ماہرین نے چوہے کے جینوم (جینیاتی سیٹ) میں ایک قدرے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلیاں بھی کی ہے۔ پہلے مرحلے میں لانگ ایکٹنگ سلو ایفیکٹوو ریلیز ( لیزر) کا عمل کیا گیا ہے جو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کی ایک قسم ہے۔

اس کے بعد کرسپر، سی ایس نائن جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے وائرس سے متاثرہ ڈی این اے نکال باہر کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس سارے عمل کی تفصیل مشہور سائنسی جریدے نیچر میں پیش کی ہے۔ واضح رہے کہ چوہے میں انسانی ایچ آئی وی موجود تھا۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ انہوں نے خلیات (سیل) اور بافتوں (ٹشوز) سے متاثرہ وائرس نکالنے کا کام کیا اور ایک تہائی جانوروں میں کامیابی ملی ۔ یہ تحقیق کامل خلیلی اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جو لیوس کاٹز اسکول آف میڈیسن میں تحقیق کررہے ہیں۔

’ اگر ان دو طریقوں میں سے صرف ایک کیا جاتا تو وائرس دوبارہ لوٹ آنے کے 100 فیصد خدشات تھے۔ اسی لیے کرسپر سی ایس نائن اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کو ایک ساتھ آزمایا گیا اور یوں چوہے سے ایچ آئی وی 100 فیصد ختم ہوگیا،‘ پروفیسر کامل خلیلی نے کہا۔

عالمی اداروں کے مطابق صرف 2017 میں پوری دنیا میں ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی تعداد تین کروڑ 69 لاکھ تھی اور اسی سال مزید 18 لاکھ لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوگیا۔ ضروری نہیں کہ ایچ آئی وی سے ایڈز کا مرض لاحق ہو لیکن کسی نہ کسی مرحلے میں اس وائرس کے حامل افراد ایڈز کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں یا ان میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ایڈز کا وائرس جسمانی رطوبتوں اور خون کی منتقلی کے ذریعے پھیلتا ہے اور امنیاتی نظام کو تباہ کردیتا ہے۔ ایڈز کے مریض اگر کوئی علاج نہ کروائیں تو بمشکل تین یا چار برس تک ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative