Home » 2019 » July » 09 (page 3)

Daily Archives: July 9, 2019

اترپردیش میں مسافر بس نالے میں گرنے سے 29 افراد ہلاک، 23 زخمی

اتر پردیش: بھارتی ریاست اترپردیش میں مسافر بس نالے میں گرنے کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک جب کہ 23 زخمی ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں مسافروں سے بھری بس نالے میں گرگئی جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک جب کہ 23 زخمی ہوگئے، واقعہ کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوراً اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے 29 افراد کی ہلاک کی تصدیق کردی۔

بھارتی پولیس کے مطابق بس دہلی سے آگرہ آرہی تھی کہ راستے میں 2 پلوں کے درمیان نالے میں جاگری، بس میں 50 کے قریب مسافر سوار تھے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سے پیش آیا تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ۔ ایک المیہ

کسی بھی معاشرے میں خاندان کا اہم اور کلیدی کر دار ہوتاہے ۔ خاندان میں جو لوگ شامل ہیں اُن میں والدین اور بچے ہیں ۔ خاندان کسی ملک کے بنانے اور سُنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے ۔ اگر کسی ملک کا خاندانی نظام مختلف معاشرتی، سماجی اور اقتصادی وجوہات کی وجہ سے خراب ہو جائے تو وہ معا شرہ اور ملک تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔ مشرقی خاندان میں ماں باپ، خاوند بیوی اور بچوں کا اہم کردار ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہمارے معا شرے میں دوسری کئی سماجی برائیوں کی طر ح طلاق کا رواج زیادہ عروج پر جا ر ہا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے معا شرے کو وہ موثر خاندانی نظام مہیا نہیں کر سکتے جو ایک فلا حی معاشرے اور ریاست کی بنیا د اور آساس ہو تا ہے ۔ نپولین کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپکو بہترین قوم دوں گا ۔ اگر ہم وطن عزیز میں طلاق کے اعداد و شمارپر نظر ڈالیں تو بد قسمتی سے پاکستان میں طلاق کے اعداد و شمار انتہائی تکلیف دہ ہیں ۔ اگر ہم ما ضی میں مغربی ممالک سے مشرقی اور اسلامی ممالک کی طلاق کی شرح کا موازنہ کریں تو ما ضی میں مسلمان ممالک میں اسلامی تعلیمات ، مشرقی اقدار اور روایات کی وجہ سے طلاق کی شرح انتہائی کم تھی مگر بد قسمتی سے فی الوقت اسلامی اور مشرقی ممالک میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ما ہرین سماجیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں طلاق کی شرح میں انتہائی اضافہ ہوا ۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 55 ہزار عورتوں کو طلاق ہو جاتا ہے ۔ ایک مشہور سماجی سائنس دان اور شادی سے متعلق امور کے ماہر ویلیم ایج ڈونی کہتے ہیں کہ امریکہ میں پہلی شادی کی 40 سے 50 فیصد تک اور دوسری شادی کی 60 فیصد شادیوں کا خاتمہ طلاق پر ہو تا ہے، ڈاکٹر صاحب نے معاشرے میں طلاق کی بُہت ساری وجوہات بیان کی ہیں جن میں چھو ٹی عمر میں شادی، کم تعلیم، کم آمدنی، طلاق یافتہ خاندان سے تعلق رکھنا، مذہب سے دوری اور نا وابستگی، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی آپس میں اکٹھا رہنا، اللہ کی ہستی سے انکار، خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے سے توقعات رکھنا، میاں بیوی کے اقتصادی لحا ظ سے ناہمواری اور غیر مسا ویانہ بر تری، شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں صحیح معلومات نہ رکھنا،امریکہ اور اکثر یو رپی ممالک میں شادی سے پہلے ایک تہائی یعنی 40 فیصد بچوں کو جنم لینا ، میڈیا کردار اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل شامل ہیں ۔ پاکستان کے ایک مشہور ماہر اقتصادیات اور سماجی علوم کے ماہر رءوف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں طلاق کی شرح 2001 میں مسلم فیملی قانون میں تبدیلی ، این جی اوز کے منفی کر دار ، الیکٹرانک میڈیا پر بے ہودہ فیشن شو اور فضول پروگرام دکھانا،، حد سے زیادہ غُربت ، بھارت اور پاکستانی چینلز سے بے ہو دہ ڈرامےاور پروگرام دکھانا ، دلہن کی طرف سے جہیز کانہ ہونا وغیرہ ۔ اُنہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے کئی این جی اوز اور الیکٹرانک میڈیا کے چینلز اسلامی معاشرتی آساس کو نہ جا نتے ہوئے بغیر عورتوں کے حقوق کے نام پر معصوم عورتوں کو expolite کرتے ہیں ، جسکی وجہ سے وطن عزیز میں طلاق کی شرح ، خلعہ اور ماں بیوی کے درمیان علیحدگی میں اضافہ ہوا ۔ گیلانی سر وے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح میں اضافہ صبر اور بر داشت کی کمی اور الیکٹرانک میڈیا پر غیر اخلاقی ، غیر اسلامی چیزوں کے دکھانے کی وجہ سے ہوا ۔ گیلانی سروے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شر ح میں زیادتی کی وجوہات میں 60 فیصد دین سے دوری اور 40فیصد مغرب اور مغربی میڈیا کا اثر رسوخ ہے ۔ مگر جب میں اپنے ارد گر د پر نظر ڈالتا ہوں تو میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں طلاق کی تین بڑی وجوہات ہیں 1) اسلام اور مذہب سے دوری2) الیکٹرانک میڈیا کی یلغار اور اس پر پیش کی جانی والے بے ہو دہ اور فضول پروگرام 3) تیسری بڑی وجہ غُر بت اور افلاس جس سے ہمارے پیغمبرحضرت محمد ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے اور چو تھی سب سے بڑی وجہ جہیز ہے ۔ مگر اس میں سب سے زیادہ تیزی الیکٹرانک میڈیا ، کیبلز ، انٹرنیٹ اور موبائیل کی وجہ سے آئی ۔ اگر ہم جا ئزہ لیں تو الیکٹرا نک میڈیا نے نہ صرف ہ میں مذہب، کتابوں اور مُثبت سر گر میوں سے دور کیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر ملک کے ٹی وی چینلز کے مالک اور پر و ڈیو سرز مغربی اور یہودی ایجنڈے کے تحت ایسے پروگرام ، ڈرامے ٹی وی ٹاک بچوں کے لئے کارٹون کے بیہو دہ پروگرام اور ایسے فیشن شو دکھاتے ہیں جو ہماری نئی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کی اخلاقی قدروں اور مشرقی روایات کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں ۔ مُجھے وطن عزیز کے اہل دانش اور اہل علم اور صا حب قلم لوگ بتا دیں کہ جس گھر میں بیٹا بیٹی، بہن بھائی ماں باپ اور خاندان کے دوسرے افراد اور رشتہ دار ڈراموں ، بیہو دہ فیشن شوز اور فلموں میں لڑکے لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے، عدالتوں میں اپنی مر ضی سے شادی کر نے ، فیشن کے نام پر عریاں لباس اور بیہو دہ لباس زیب تن کر رہے ہو نگے اُس معاشرے میں طلاق جیسا فعل معیوب کب سمجھا جائے گا ۔ میں پھر ایک یہودی سکالر اور نوبل انعام یا فتہ ابلاع عامہ کے اس بات کو دہراءوں گا کہ ہماری نسل کی تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار ، میڈیا موبائیل فو ن اور سگریٹ نو شی ہے ۔ اس کالم کی تو سط سے میری مذہبی سکالروں ، تمام سیاسی پا رٹیوں کے راہنماءوں اور اس معاشرے کے درد رکھنے والے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وطن عزیز میں کم ازکم اپنے ٹی وی چینلز پر ایسے پروگراموں سے گریز کیا جائے جو وطن عزیز میں مشرقی اسلامی اخلاقی اقدار کے لئے نُقصان دہ ہو ۔ ہ میں ایک مشرقی ملک ہونے کے ناطے ;74;oint ;70;amily systemیعنی مشترکہ خاندان کو رواج دینا چاہئے ۔ بد قسمتی سے آج کل ہم دنیاوی علوم سیکھنے پر حد سے زیادہ زور دے رہے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم اپنی دینی علوم سیکھنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ کیونکہ ہ میں موبائیل ، سوشل میڈیا، ٹی وی اور کیبلز سے فُرصت ہوگی تو ہم دین کو سیکھنے کی کوشش کریں گے ۔ ہم نے ہر چیز جانی اور جاننے کے لئے کی کوشش کررہے ہیں مگر بد قسمتی ہم نے کبھی اللہ کو جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر ہم ایک فی صد اللہ کو سمجھنے اور جاننے میں کامیاب ہوئے تو ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے ۔

ماہرہ خان اورعاطف اسلم کے رقص کی وڈیو وائرل

کراچی: اداکارہ ماہرہ خان اورگلوکارعاطف اسلم کی ایک ساتھ رقص کرنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

گزشتہ روزکراچی میں منعقد ہونے والے ’لکس اسٹائل ایوارڈز‘ میں جہاں ہراسٹارمنفرد نظرآیا وہیں دلکش ماہرہ خان اورعاطف اسلم نے بھی مداحوں کے دل جیت لیے۔

ایوارڈ کی تقریب میں عاطف اسلم اورماہرہ خان نے وہاں موجود دیگرحاضرین کے خواہش پر ایک ساتھ رقص کیا، جس کی وڈیوسوشل میڈیا پرخوب وائرل ہورہی ہے جب کہ مداح ان کے ایک ساتھ رقص کوبہت سراہ رہے ہیں۔

ماہرہ خان نے بھی چند تصاویرسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرشیئرکیں جس میں نہایت خوبصورت لگ رہی ہیں۔

 

آواران زلزلے سے بننے والا جزیرہ چھ سال بعد غائب ہوگیا

لندن: اب سے چھ برس قبل بلوچستان میں آنے والے جان لیوا زلزلے کے بعد بحیرہ عرب میں بننے والا ایک جزیرہ اب دھیرے دھیرے تقریباً مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے۔

24 ستمبر 2013 کو بلوچستان کے ضلع آواراں میں اس زلزلے نے شدید تباہی مچائی تھی اور مرنے والوں کی تعداد 400 سے 600 بتائی گئی تھی۔ آواراں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر چھ علاقے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے تھے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.7 تھی ۔

اس سانحے کے بعد گوادر کے پاس ایک جزیرہ نمودار ہوگیا تھا جسے ’کوہِ زلزلہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ زلزلے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا تھا ۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس جزیرے پر ہائیڈروکاربنز موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ 2010 میں ہنگول کے قریب پانیوں میں بھی ایسا ہی ایک زلزلہ پھوٹ پڑا تھا جس سے میتھین گیس خارج ہورہی تھی۔

اب ناسا کی خلائی تصاویر سے عیاں کہ ہے دھیرے دھیرے سمندر میں جاتا ہوا جزیرہ اب مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ناسا کے مطابق اس مقام پر نرم گاڑھے کا ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جس کی وجہ جزیرہ نمودار ہوا تھا۔

اگرچہ اب بھی یہ تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے لیکن جزیرے کی دھندلی تصویر سے عیاں ہے کہ جزیرہ اب اتھلے پانی میں جاچکا ہے۔ سطح آب پر ظاہر ہونے کے بعد کوہِ زلزلہ کی کل لمبائی 20 میٹر اور اونچائی 135 فٹ تک نوٹ کی گئی تھی۔

ناسا کے زمینی مشاہدے کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرونگ ون اور لینڈ سیٹ 8 نے یہ تصاویر لی ہیں اور ماہرین نے اس پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔

یوایس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے پروفیسر بِل برنارٹ ایران اور پاکستان کے زلزلے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کا سمندر ایسے جزائر کی تشکیل کے لیے نہایت موزوں جگہ ہے۔ ارضیاتی طور پر کم گہرے پانی میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مائعات موجود ہیں۔ زلزلے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے اور اوپر کی جانب ابل پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ مکران کے قریب تین ارضیاتی پلیٹیں انتہائی سرگرم ہیں اور یوں اس خطے میں زلزلے کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان ٹیکٹونک پلیٹوں میں یورپی، عربین اور ایشین پلیٹیں شامل ہیں۔

جعلی حکومت نے نواز شریف کے گھر کے کھانے پر پابندی عائد کردی، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جعلی حکومت نے نواز شریف صاحب کے گھر کے کھانے پر پابندی عائد کر دی ہے، مجھے ان پر بھروسہ نہیں یہ نوازشریف کے کھانے میں کچھ بھی ملا سکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت نے نواز شریف کے گھر کے کھانے پر پابندی عائد کر دی ہے،  کھانا لے جانے والا اسٹاف پچھلے 5 گھنٹے سے جیل کے باہر کھڑا ہے، اور نوازشریف نے جیل کا کھانا کھانے سے انکار کر دیا ہے، ان ظالموں پر مجھے بھروسہ نہیں  یہ نوازشریف  کے کھانے میں کچھ بھی ملا سکتے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر  اگلے 24 گھنٹے میں یہ پابندی واپس نہ لی گئی تو میں عدالت سے رجوع کروں گی، عدالت سے بھی مدد نہ ملی تو میں کوٹ لکھپت جیل کے باہر جاکر بیٹھوں گی، بھوک ہڑتال بھی کرنا پڑی تو کروں گی، اس بات کو دھمکی نہ سمجھا جائے کیونکہ میں یہ کر گزروں گی۔

دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ نوازشریف عدالت سے سزایافتہ قیدی ہیں، جیل مینؤل کے مطابق سلوک ہو گا اور جیل مینؤل میں گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت نہیں ہے، بیگم صفدر شوق سے عدالت جائیں اور بھوک ہرٹال بھی کریں، خلافِ قانون کچھ نہیں ہوسکتا اور تحریک انصاف کی حکومت بھوک ہڑتالوں اور دھرنوں کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ جاتی عمرہ سے نوازشریف کیلئے مضر صحت کھانا آ رہا تھا دل کے مریض کو روزانہ مضرصحت گوشت اور انڈے دیے جارہے تھے، حکومت نے نواز شریف کو صحت افزاء غذا فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو صحت افزا کھانا دینے کیلئے ماہرین کا بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، نوازشریف پاکستان میں واحد شخص ہیں جن کیلئے 21 کاڈیالوجسٹ ڈیوٹی پر معمور ہیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بیگم صفدر نواز شریف کی صحت پر پراپیگنڈا کے زریعے اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہیں، وہ خود فریب دہی پر عدالت سے سزایافتہ ہیں؛ جھوٹ ان کی عادت ہے، کیلبری کوئین کا ویڈیو ڈرامہ فلاپ ہوا تو نیا ڈرامہ رچانا چاہتی ہیں۔

 

اقراعزیزنے کردی یاسرخان کوہاں!

کراچی: پاکستانی ٹی وی ادکارہ اقرا عزیز اور اداکاروکامیڈین یاسر خان کے دوستی کے چرچے تو شوبز انڈسٹری میں تھے ہی پر اب اداکارہ نے یاسر خان کی شادی کی پیشکش پرہاں کردی ہے۔

اقرا عزیز اور یاسرخان کی گہری دوستی کے بارے کسے خبرنہ تھی۔ لیکن دونوں کی جانب سے کبھی محبت کا اعتراف نہیں کیا گیا تھا۔ پچھلے دنوں دونوں کی ساتھ بیرون ملک گھومنے پھرنے کی تصاویر بھی خوب میڈیا کی زینت بنی تھیں۔

تاہم لکس اسٹائل ایوارڈزمیں اداکاریاسر خان نے ٹی وی اداکارہ اقرا عزیز کو شادی کی پیشکش کی جوانہوں نے فوری طور پر خوشی خوشی قبول کرلی۔ دونوں ہی اس موقع نہایت خوش نظر آئے۔

دونوں کی وڈیوسوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہے جہاں یاسر خان بے حد خوشی کا اظہارکرتے ہوئے اداکارہ کو انگوٹھی پہنا رہے ہیں۔

دوسری جانب اداکاریاسرخان کی جانب سے شادی کی پیشکش کے اندازکوسوشل میڈیا پرتنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مداحوں کی زیادہ تر تعداد نے ان کے بے باک انداز پر خوب کھری کھری سنائی ہیں۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک ایوارڈ شو میں منگنی کے اس اندازکو اپنانے کے بعد وہ کیا بتانا چاہتے ہیں۔  دوسرے صارف کے مطابق یاسرحسین کو ایورڈ شو میں بالی ووڈ اداکارعمران ہاشمی بننے کی ضرورت نہیں تھی جب کہ کچھ صارفین نے دونوں کومعروف کارٹون ’ٹام اورجیری‘ سے بھی تشبیہہ دے دی۔

ایک اورصارف نے دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ یاسرخان اقراعزیز کے باپ جیسے لگتے ہیں جب کہ دونوں کی جوڑی بہت بے کار ہے۔

نیا پاکستان بھی ویسا ہی ہے

پی ٹی آئی کے اکابرین اور راہنما اقتدار میں آنے سے پہلے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گے ۔ اس میں ہر پرانی چیز کو نئے انداز میں پیش کیا جانا مطلوب تھا یا پھر واقعی نیا پاکستان بنا نا مقصود تھا ۔ جس میں نئی روایات اور طرز معاشرت و تمدن بھی نیا ہی ہو تا ۔ شروع سے ہی مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ بھی دیوانے کی بڑھی ہے ۔ سالہا سال پہلے کے سوال کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت بھی خان صاحب کا ویژن دھندلا تھا اور آج بھی و ہ بے بس ہے ۔ اقتدار سے پہلے کم از کم یہ بھرم تو قائم تھا کہ اسے موقع دیا جائے تو پاکستا ن اور پاکستانیوں کیلئے بہتری لائے گا ۔ محترم خان صاحب اس وقت کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں کہ کپتان اگر چاہے تو ٹیم پر اپنی گرفت سے فتح کی بنیاد رکھ سکتا ہے ۔ خان جی اگر ٹیم ہی بکی ہوئی ہو تو آپ کی گرفت کیا کرے گی ۔ کیسا کھیل اور کیسے نتاءج ۔ آپ نے جیتے ہوئے میچ ہارے اور ہارے ہوئے جیتے کہ نہیں ۔ کہیں سوئنگ کے بادشاہوں کی جوڑی نے وہ مار کھائی کہ آپ دیکھتے ہی رہ گئے اور جہاں آپ نے امید لگائی کہ میچ ڈرا ہو وہاں پر جیت ہوئی کیونکہ ہم جیت چاہتے تھے اورآپ ڈرا ۔ یہ جواری مافیا بھی بہت اوپر کی فلم ہیں ۔ جو نہ تو آپ کرسکتے ہو اور نہ ہی سمجھ سکتے ہو ۔ سمجھو تو تب جب آپ کر نا چاہو اور اس میں دلچسپی لو اور اس کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کر و ۔ یہی فارمولا آپ کے سیاسی کیریئر پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ آپ سیدھی سادی خدمت کی سیاست کرنا چاہتے ہو اور جو آپ کے ساتھی ہیں وہ سیدھا سادہ ہاتھ مارنا چاہتے ہیں ۔ اگر پاکستان میں خدمت کی سیاست کو ترجیح دی جاتی توکیا خیال ہے کہ پاکستان کے گوشے گوشے میں فلاحی مراکز اورتعلیمی ادارے مفت تعلیم نہ دے رہے ہوتے ۔ معذرت کے ساتھ تلخ جملہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ یہاں جو مسیحا کہلاتے ہیں وہ بھی میموریل ہسپتال میں مریض کا فری علاج نہیں کرتے ۔ اس کی بھی پرچی فیس سے لیکر آخری بل تک مریض کی مسیحائی کہیں بھی نظر نہیں آتی ۔ یہاں پر اساتذہ کہلانے والے تنخواہ اور مراعات کیلئے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرتے ہیں لیکن کسی بھی لائق اور مستحق طالبعلم کی سکالر شپ حاصل کرنے کیلئے راہنمائی سے قاصر ہیں ۔ اپنی اکیڈمی میں ٹیوشن تو پڑھا سکتے ہیں لیکن قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے کلاس روم میں طلبا کو دوسری دفعہ سوال پوچھنے پر ذلیل و رسوا کردیتے ہیں تاکہ کوئی علمیت کو پول نہ کھل جائے ۔ بات سیاست کے موضوع پر ہو رہی ہے تو سیاسی ارباب اختیار کی طرف واپس آتے ہیں ۔ اکابرین سیاست سات دہائیوں سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے دعویٰ اور نعرہ پر سیاست کر رہے ہیں ۔ ایسا کوئی بھی سیاستدان میرے علم میں نہیں جس نے اپنی سیاست کا محور و مرکز اس نعرہ کی بجائے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے نعرہ سے سیاست کی ہو ۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ اور فلاحی ریاست تو نہیں بن پایا لیکن دنیا اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ضرور بن گیا ۔ اس میں سیاستدانوں کو کوئی خاص کردار نہیں کیونکہ جرنل ایوب دور میں شروع کیا گیا ایٹمی پروگرام جرنل ضیاء کے دور میں مکمل ہو گیا تھا ۔ سیاستدانوں نے اس پر بھی سیاست کی اور اس میں لہو لگا کر شہید ہونے کے دعویدار بن بیٹھے ۔ 1962 میں شروع ہوئے ایٹمی پروگرام کا بھٹو کے ساتھ کیا تعلق اورضیاء دور میں کولڈ ٹیسٹ کرنے سے ہمارے محترم میاں نواز شریف کا کیا رشتہ ۔ شیخ رشید ویسے تو کم ہی سچ بولتے ہیں لیکن کلنٹن کی دھمکی اور دیگر مراعات سے بھرپور کالز رد کرنے والے بیانات کے سرخیلوں کیلئے یہ کافی ہے کہ آرمی کے اس وقت کے بڑوں نے میاں صاحب کو مجبور بھی کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ بھی رکھا تب دنیا کے سامنے ایٹمی قوت ہونے کا مظاہر ہ کیا گیا ۔ یہ بات پورے ثبوت کے ساتھ موجود ہے کہ اس پروگرام میں کسی بھی سیاسی مداخلت کی کسی بھی نوعیت اور کسی بھی سطح سے کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ براہ راست ایک ادارے کے ماتحت اور اس کے زیر نگرانی ہی کام کرتا ہے ۔ سیاستدان بس زبانی جمع خرچ سے سنی سنائی باتوں پر بیان بازی سے منہ کا ذائقہ بدلتے اور میڈل کے طلبگار رہتے ہیں ۔ بات پھر سیاسیوں سے چلتی تھوڑی ادھر ادھر ہو گئی ۔ نیا پاکستا ن بنانا خان صاحب اور ان کی ٹیم کا نعرہ تھا کیونکہ کہیں نظر نہیں آرہا کہ وہ اپنے نعرے پر عمل پیرا ہونے کیلئے پیش قدمی کر رہے ہیں یا اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ نہ تو وہ بادشاہانہ پروٹوکول میں کوئی خاص کمی کرنے میں کامیاب ہو سکے کہ تیل پٹرول کی بچت ہو کر قومی خزانے کا بوجھ کم ہو ۔ وزیر مشیر بھی اسی تعداو میں ہیں جیسے کہ پرانے پاکستان کی کابینہ کا دستور تھا ۔ جو جو حلیف ہیں ان کو قابلیت پر نہیں بلکہ حمایت کرنے پر قومی لوٹ سیل میں سے حصہ دیا جاتا تھا اور آج بھی دیا جا رہا ہے ۔ وہی مشرف کی آمریت کے دست و بازو آج انصافی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہیں ۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ جو مشرف دور میں سیاسی طور پر محترک کردار ادا کرتے رہے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں ۔ مشرف دور کے کابینہ کے وزیر آج پی ٹی آئی کے اقتدار کی ناءو کے ملاح ہیں ۔ تنقید برائے تنقید کی بات نہیں لیکن مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرانے والوں کو جمہوریت سے کیا غرض ہو سکتی ہے ۔ ان کی سیاست کو فلاحی سیاست کیسے کہا جائے ۔ آمر کے ٹریننگ کیمپ اور کوچنگ سے فارغ التحصیل سیاستدانوں کو جمہوری رویوں کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے ۔ ایک سپنر کیسے فاسٹ باءولنگ کر سکتا ہے ۔ لیگ بریک کرنے والا آف بریک کرے گا ۔ نہیں کر سکتا تو پھر آمریت کی گود میں پلنے والے جمہوریت کے محافظ بھی نہیں ۔ ان کی سیاست بھی جمہوری نہیں اور ان کی جماعتیں بھی جمہوری نہیں ۔ میاں نواز شریف ہو ں یا راجہ ظفر الحق صاحب یا یوسف رضا گیلانی یا چوہدری برادران سب کو ضیا ء الحق نے جمہوریت کا درس دیا تھا ۔ آج یہ جمہوریت کیلئے بوجھ اسی لئے بننے ہیں کہ یہ اس ہنر سے آشنا ہی نہیں جس کی ان سے توقع رکھی جارہی ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد کو چاہیے کہ یا انصاف کریں یا پھر اپنی جماعت کا نام بدلیں کیونکہ ان کی جماعت کے بڑے بڑے معتبر نام نا اہل قرار پائے ہیں ۔ اپنے ماضی کے حوالے سے وہ سب کرپشن اور دوسرے جرائم میں سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھیس بدل کر قومی راہنماکا کردار اداکر رہے ہیں ۔ ویسے کرپٹ قوم کے راہنما کرپٹ نہ ہو ں تو کیا ہوں ۔ چوروں کے سردار چور اور سادھوں کے گرو سادھو ہوتے ہیں ۔ خان صاحب اٹھارہ بیس سال پہلے کہا تھا کہ وہ فرشتے کہاں سے لاءو گے جو اس قوم کو اپنے کردار کے سحر میں جکڑ کر راہ راست پر لا سکیں ۔ اگر وہ مل گئے تو وہ دھرتی کہاں سے لاءو گے جہاں پر آپ اپنی مرضی کا نیا پاکستان بنانا چاہتے ہو ۔ آپ کو اس وقت بھی غصہ آیا تھا اور آج بھی آئے گا ۔ مجھے اس وقت بھی آپ پر رحم آیا تھا اور آج بھی آ رہا ہے ۔ چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ خان جی پرانے پاپیوں کی جماعت آپ کے پیچھے بے وضو نماز پڑھتے ہیں ۔ مہنگائی بے روزگاری اور عوام کی ہائے ہائے آپ کو شاید سنائی نہیں دے رہی پرانے پاکستان میں بھی یہی کچھ تھا اور نیا پاکستان بھی ویسا ہی ہے ۔

بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں کا مسلمان نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد

رانچی: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے 3 مسلمان نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا بنایا اور جے شری رام کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کرتے رہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں انتہا پسند ہندوؤں نے ایک بار پھر مسلمان نوجوانوں پر انسانیت سوز تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ عامر وسیم، الطاف علی اور علی احمد نامی نوجوانوں کو مشتعل ہجوم نے زدوکوب کیا اور زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے۔

انتہا پسند ہندو لاٹھی، لاتوں اور گھونسوں سے حملے کرتے رہے، الطاف علی اور علی احمد کو شدید زخمی ہونے پر اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ عامر وسیم نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور تھانے پہنچ کر پولیس کو آگاہ کیا تاہم پولیس نے روایتی سست روی کا مظاہرہ کیا۔

بھارت میں جارحیت پسند مودی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہیں جنہیں پولیس کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ان واقعات سے بھارت کا نام نہاد اور داغدار سیکولر چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسی بھارتی ریاست میں مشتعل ہجوم نے مسلمان نوجوان کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور لوہے کی راڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے نوجوان شدید زخمی ہوگیا تھا اور دوران علاج زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

Google Analytics Alternative