Home » 2019 » September » 02

Daily Archives: September 2, 2019

مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت دوبارہ جارحیت کا مرتکب ہوسکتا ہے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر جارحیت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے شمالی امریکا کی مسلم کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں، ہمیں دہشت گردی اور اسلام کو الگ رکھنا ہوگا، ہمیں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنا ہوگا، دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اسلام امن کا مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہارکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کومجروح کیاجائے، 9/11 سے پہلے تامل ٹائیگرز خودکش دھماکوں میں ملوث تھے، 9/11 کے بعد دہشت گرد حملوں کو اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے، 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کانام دیدیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، بھارتی تنظیم آر ایس ایس کا نظریہ ہٹلر اور موسولینی کی سوچ کاحامل ہے، پاکستان دنیا میں امن کے لیےکوششیں جاری رکھےگا، بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہوگیاہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے، بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی، مقبوضہ وادی میں26دن سے کرفیو نافذ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کشمیریوں سے حق خودارادیت چھین رہی ہے، بھارت اب سیکولر ریاست نہیں رہا، آرایس ایس کا نظریہ ہندو برتری کا ہے، مودی کا بھارت گاندھی اور نہرو کے ہندوستان کے برعکس ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، نازیوں سے متاثر جماعت بھارت پر قابض ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے فروری کی طرح بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرے گا، خدشہ ہے بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی قدم اٹھاسکتا ہے، ہمیں خدشہ ہے بھارت آزاد کشمیرمیں کارروائی کرے گا، بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا، کشمیر کے باعث 2 نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوچکی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرناچاہتی ہے، مقبوضہ وادی کی قیادت کو حراست میں لیا گیا ہے، دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، اہل کشمیر کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے، مسئلہ کشمیر پر میں نے خود متعدد سربراہان مملکت سے بات کی۔

ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی وفد آگ بگولہ

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم پوری دنیا کے سامنے رکھ دیئے۔           

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے مالدیب میں ہونے والی ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں کشمیریوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم پوری دنیا کے سامنے رکھ دیئے، کانفرنس کے دوران شرکا نے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی اور ارکان پارلمینٹ نے دنیا سے بھارتی مظالم کے نوٹس کا مطالبہ بھی کیا۔

ڈپٹی اسپیکر کی تقریر کے دوران کشمیر سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی وفد آگ بگولہ ہو گیا اور ہنگامہ آرائی شروع کر دی لیکن اس کے باوجود ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی 14 منٹ کی تقریر جاری رکھی اور اپنی تقریر مکمل کرنے کے بعد سیٹ پر واپس آکر بھی بھارتی وفد پر برس پڑے، انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں سے ان کی آزادی چھین لی گئی۔

واضح رہے پاکستان اور بھارت کا 5 اگست کے بعد حکومتی سطح پر پہلی دفعہ آمنا سامنا ہوا اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے پہلے ٹاکرے میں بھارتی وفد کو ناک آؤٹ کردیا۔ بھارتی وفد کی قیادت لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کر رہے تھے۔

مودی حکومت کے شیطانی ہتھکنڈے مہذب دنیا کےلئے چیلنج

وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی)جیسے کالے قانون کی ;200;ڑ میں 19لاکھ افراد جن میں زیادہ تر مسلمان شامل ہیں کو شہریت سے محروم کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو ستانی اور عالمی میڈیا میں مودی سرکار کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی اطلاعات سے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھنی چاہئیں ‘ ۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ ردعمل بھارت میں جبر کی زندگی بسر کرنے والے 25کروڑ سے زائدمسلمانوں کی ;200;واز ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حوالے سے اختیار کردہ گھناوَنی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے اسکا سیکولر چہرہ اگرچہ پہلے ہی داغدار تھا مگر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے ۔ انتہاپسند ;200;رایس ایس کی سوچ کے پیروکار مودی نے اقتدار میں قدم جماتے ہی اقلیتوں خصوصاً مسلم کش اقدامات سے ;200;گے بڑھنا شروع کیا اور پھر دوسری بار وزارت عظمیٰ کا موقع ملتے ہی کشمیر کی اصل شناخت پر وہ حملہ کیا جس سے جہاں بھارتی ;200;ئین کی دھجیاں اڑ گئی ہیں وہاں بھارت کی تمام ریاستوں کی اقلیتوں کا مستقبل بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہو گیا ہے ۔ بھارت کا ;200;ئین اسے سیکولر شناخت دیتا ہے مگر اب یہ دعویٰ قصہ پارینہ لگتا ہے ۔ دنیا بھر کے ذی ہوش ناقدین یہ بات اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں کہ نریندر مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 ختم کر کے بھارت کی سیکولر حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ اسطرح کا اظہار گزشتہ روز امریکی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس اینڈی لیون نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر اپنا مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 2005ء میں بش انتظامیہ نے گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات نہ روکنے پر نریندر مودی جو اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ انہوں نے لکھا کہ نریندر مودی نے آرٹیکل 370ختم کر کے بھارت کی سیکولر حیثیت کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے ۔ امریکی سفارتی حلقے بھی اس حوالے سے تنقید کرتے نظر ;200;تے ہیں انکا کہنا ہے کہ نریندر مودی اپنی مذہبی عقیدت سے متاثر ہوتے ہوئے بھارت کو سیکولر سے ہندو ریاست بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اس حوالے سے مطمئن ہیں کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں بھی پاکستان میں مذہبی عنصر کو ;200;گے نہیں ;200;نے دیا جا رہا ۔ واشنگٹن میں سفارت کاروں نے اس جانب نشاندہی کی ہے کہ جہاں پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بھارتی اقدام کےخلاف احتجاج کیا جارہا ہے وہیں اس احتجاج کا مرکز مذہبی تنظی میں نہیں ہیں ۔ اس احتجاج کے دوران نہ تو کوئی مذہبی بیان بازی ہوئی نہ جہاد کی کال دی گئی اور نہ ہی اسلحے کی نمائش کی گئی جبکہ بی جے پی حکومت نے پورے بھارت میں مسلمانوں کو عوامی سطح پر پاکستان کی مذمت کروا کر اپنی وفاداری ثابت کرنے کےلئے مجبور کیا اور انکے بیان سوشل میڈیا پر چلائے گئے ہیں ۔ یہ ہے وہ واضح فرق جو دنیا محسوس کر رہی ہے ۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمر کوٹ میں ہندو برادری کے کشمیری عوام سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کےخلاف منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا عمدہ بات کی کہ ;200;ج بھارت میں ;200;ر ایس ایس کی سوچ غالب ;200;چکی ہے اور مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد ویران کر دیں لیکن پاکستان میں مندر ;200;باد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر اور عمر کوٹ میں بہت بڑی ہندو ;200;بادی ;200;باد ہے، مودی اور جے شنکر تم سرینگر میں مسلمانوں کے سامنے نہیں کھڑے ہو سکتے لیکن ;200;ج ہندووَں کے سامنے کھڑا ہوں ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ;200;ج کا بھارت نہرو اور گاندھی کے سیاسی فلسفے کی نفی کر رہا ہے، فاشسٹ مودی نے کشمیری مسلمانوں کو عید کی نماز اور قربانی کی اجازت نہیں دی،جمعہ کو مقبوضہ کشمیر میں مسجدوں کوتالے لگائے گئے، مودی نے بھارت کی منتخب قیادت اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے نہیں دیا، لیکن انسانی حقوق کا کوئی نمائندہ ;200;زاد کشمیر ;200;نا چاہے تو ;200;سکتا ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی اداروں کےلئے مکمل طور پر شجر ممنوعہ ہے ۔ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظی میں اس امر پر تشویش ظاہر کر رہی ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے جاری کی گئیں حالیہ دو رپورٹس میں بھارتی حکومت کو باور کروایا گیا ہے کہ کشمیر میں اس کی ترجیح شہری آزادی کا تحفظ ہونا چاہیے ۔ اسی قسم کی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تمام سیاسی رہنماں کو فوری طور پر رہا اور وادی میں اٹھنے والی آوازوں کو جان بوجھ کر خاموش کروانے کا سلسلہ ختم کیا جائے امریکی ادارے سی ایس آئی ایس کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو علاقائی طاقتور شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس طاقتور شخصیت کے اردگرد ہندو قوم پرستوں کی حمایت بھی دکھانا چاہتے ہیں ۔ اس سب کچھ کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ تنظی میں محض بیان بازی اور کاغذی کارروائی سے ;200;گے نہیں بڑھ پا رہیں اور نہ انکا سرپرست ادارہ اقوام متحدہ مودی کو شٹ اپ کال دے سکا ہے ۔ اقوام متحدہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ کشمیر کو متنازعہ حیثیت خود اس کی اپنی قراردادوں نے دے رکھی ہے ۔ یو این سیکریٹری جنرل کبھی وقت نکال کر قرارداد ایک بار پڑھ لیں شاید انہیں احساس ہو کہ مودی نے صرف کشمیر کی الگ شناخت کو چیلنج نہیں کیا بلکہ یو این کی ساکھ کو بھی چیلنج کر ڈالا ہے ۔ یہ اندھیر نگری نہیں ہے تو کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 28 روز سے لاک ڈاوَن ہے اور اس دوران 10 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ اس درندگی کو ;200;خر کسی نے توروکناہے ۔ ایکطرف جہاں مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارت کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ،اب وہیں ;200;سام کے مسلمانوں کا جینا بھی مشکل کردیا گیا ہے ۔ ایک اور کالے قانون این آر سی کی ;200;ڑ میں ;200;سام سے 19لاکھ شہریوں کو بھارتی شہریت سے محروم کرنا اقلیت دشمنی ہے، ان میں اکثریت غریب مسلمانوں کی ہے ۔ یہ لاکھوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ ماہ جولائی میں ہندو قوم پرست بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بیان دیا تھا کہ حکومت آسام میں اپنی کوششوں کو محدود نہیں رکھے گی بلکہ سختی کی جائے گی جس پر عمل شروع ہو چکا ہے ۔ مودی حکومت کے یہ شیطانی ہتھکنڈے مہذب دنیا کے لئے چیلنج ہیں ۔

تیل کی قیمتوں میں کمی،حکومت پرا ئس کنٹرول کمیٹیوں کو بھی جگائے

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو منتقل کرتے ہوئے ماہ ستمبر کےلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے63پیسے تک کی نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے جسکے تحت اب پٹرول کی نئی قیمت117روپے83پیسے سے کم ہوکر 113 روپے24پیسے ہوگئی ہے جبکہ لاءٹ ڈیزل ;200;ئل کی قیمت میں 5روپے63پیسے کمی کے بعد97روپے 52 پیسے سے کم ہو کر91روپے89پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے گزشتہ ماہ اگست میں قیمتوں میں اضافہ جبکہ ماہ جولائی میں قیمتیں برقرار رکھی تھیں ۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنا احسن اقدام ہے کیونکہ اس سے عوام کو کسی حد تک ریلیف کا احساس ہو گا ۔ اگرچہ یہ ریلیف صرف ٹرانسپوٹیشن سے وابستہ افراد کو ہی ہو گا مہنگائی میں کمی نہیں ;200;ئے گی تاہم اس سے یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کےلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے جہاں اسے موقع ملتا ہے ۔ امید ہے کہ حکومت دوسری جانب مہنگائی کو قابو پانے کےلئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو بھی جگائے گی جو ان دنوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں ۔

افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ

پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ پاکستان نے بھارت کو یہ بھی واضح کردیا تھا کہ افغانستان میں ازبک و دیگر غیرملکی باشندوں کو بھارتی عسکری ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ ماضی میں کراچی ائرپورٹ پر ازبک باشندوں کے حملے میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے کے بعد کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ اس حملے میں بھارت ملوث ہے ۔

بھارت کی طرف سے غیر ملکیوں کو تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے اور کراچی ائر پورٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے غیر ملکی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ بھارت کس طرح غیر ملکیوں کو تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکا رہا ہے اس کا اندازہ ایک اطالوی صحافی کی چشم کْشا تحقیقات سے کیا جاسکتا ہے جو دہشت گردی کے خوفناک بھارتی پراجیکٹ کا چشم دید گواہ بھی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فارخور ائربیس (;70;arkhor ;65;irbase) اور آئنی ائر بیس ، تاجکستان کے قریب بھارت نے ٹریننگ کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں تاجکستان اور ازبکستان کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لئے بھیجا جاتاہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ تاجکستان اور ازبکستان کے پسماندہ علاقوں سے نو عمر بے روزگار لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو شاندار ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے اور ان کے خاندان کو پیشگی رقوم ادا کی جاتی ہیں ۔ کیمپ میں قیام کے دوران ان نوجوانوں کو ہر طرح کی آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں اور بھارت سے آنے والے مذہبی انسٹرکٹر دو سے تین ہفتے تک مذہبی تعلیم کے نام پر ان کے ذہنوں میں شدت پسندی ، دہشت گردی اور پاکستان سے نفرت کے خیالات بھرتے ہیں ۔

ازبک اور تاجک زبانوں میں دی جانے والی اس تعلیم میں پاکستان کو مسلمانوں کے مسائل کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے اور ان نوجوانوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ بھارت مذہبی آزادی امن و آشتی کا گہوارہ ہے اور اسے پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں سے تباہی کا خطرہ لاحق ہے ۔ تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر ان نوجوانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کے لئے تیار ہیں یا نہیں ۔ ہاں میں جواب دینے والوں کی تنخواہ دوگنی کر دی جاتی ہے اور چار سے چھ ماہ پر مشتمل ان کی فوجی تربیت کا مرحلہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔

جو نوجوان متذبذب ہوتے ہیں انہیں مائل کرنے کے لئے مزید تربیت کے لئے بھارت بھیج دیا جاتا ہے ۔ فوجی تربیت کے مرحلہ میں ان نوجوانوں کو آٹومیٹک ہتھیار چلانے ، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور مطلوبہ جگہ پر لگانے اور گوریلا جنگ کی تربیت دی جاتی ہے ۔ اس تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے دوران بھارت سے نوجوان اورخوبرو دوشیزائیں کیمپ میں لائی جاتی ہیں جو کہ ان نوجوانوں پر اپنا سحر مکمل طاری کردیتی ہیں اور ان کا دل بہلاتی ہیں ۔ تربیت مکمل ہونے پر ان نوجوانوں کو ایک خصوصی دورے پر بھارت لے جایا جاتا ہے جہاں سے واپسی پر انہیں افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل کردیا جاتا ہے ۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ فاٹا اور بلوچستان کے نو جوانوں کو بھی تاجک اور ازبک نوجوانوں کے ساتھ تربیت میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کواکیلا محسوس نہ کریں ۔

دہشت گردی کی تربیت دینے والے یہ بھارتی کیمپ 2005ء سے مسلسل کام کر رہے ہیں اور پہلی مرتبہ بھارت کے تاجکستان میں ا ڈ ے بنانے کی خواہش پہلی مرتبہ 2002 میں سامنے آئی تھی ، گو کہ اس بات کا اعتراف حکومتی سطح پر نہیں کیا جاتا ۔

کشمیری مررہے ہیں اور ہمارے مسلمان حکمران مودی کو ایوارڈ دے رہے ہیں، خورشید شاہ

سکھر: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کشمیری مررہے ہیں اور ہمارے مسلمان حکمران مودی کو ایوارڈ دے رہے ہیں۔

سکھر میں میڈٰیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے غریبوں کی مجبوری سے کھیلا گیا، ہم الیکشن سے قبل وعدے کرتے ہیں کہ آپ کو ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے اور تیسرے دنیا کے لوگوں کا بڑا مسئلہ روزگار ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ تعلیم کا اچھا معیار دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، ملک کے ہر حصے میں آپ کو تعلیم کا یہی ماحول ملے گا جیسا یہاں ہے، سکھر ضلع میں دو ہزار اساتذہ کی دو ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں، ڈھائی سے تین سو اسکول بند پڑے ہیں، وفاق سے بجٹ بند ہے جس کی وجہ سے اسکول بند ہیں، کچرے پر سیاست کی جارہی ہے لیکن بند اسکول کی خبر نہیں چلائی جاتی، ہمارے پاس تعلیم ہوتی تو احساس ہوتا کہ کچرا کس طرح سے تلف کیا جائے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آج عزت دار آدمی سیاست نہیں کرسکتا، جس نے پلاٹ مافیا کے خلاف بات کی انکو کام نہیں کرنے دیا گیا، جب تک ثابت نہ تب تک کسی سیاستدان کو خراب نہ کرو، جس کی چوری پکڑی جائے، اس کو کوڑے مارو اور جیل بھیجو جب کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی بھارتی حکمران ملکوں کے دورے کررہا ہے اور ہمارے حکمران صرف ٹیلیفون کررہے ہیں، کشمیری مررہے ہیں اور ہمارے مسلمان حکمران ان کو ایوارڈ دے رہے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کی انعامی رقوم میں 233 فیصد اضافہ کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے تحت قومی سطح پر کھیلے جانے والے ٹورنامنٹس کی انعامی رقوم میں 233 فیصد تک اضافہ کر دیا۔

پی سی بی کے ترجمان کے مطابق پی سی بی ڈومیسٹک سیزن 2019-20 پر ایک ارب روپے سے زائد خرچ کرے گا اور پورے سیزن میں ایک کھلاڑی کو سالانہ 20 لاکھ روپے کی آمدن ہو گی جب کہ ڈومیسٹک سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرے گا۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ نے قائداعظم ٹرافی کی انعامی رقم میں 233 فیصد، پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کی انعافی رقم میں 150 فیصد اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کی انعامی رقم میں 100 فیصد اضافہ کیا ہے

قائداعظم ٹرافی کی میچ فیس 50 سے بڑھا کر 75 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے جب کہ پاکستان کپ اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی میچ فیس 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک سیزن کے دوران کھلاڑی تھری اور فور اسٹار ہوٹل میں رہائش اختیار کریں گے اور بین الصوبائی سفر کے لیے کھلاڑی ہوائی جہاز کا استعمال کریں گے۔

چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو طویل عرصہ ان کے جائز حق سے محروم رکھنا افسوسناک تھا، نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر کھلاڑیوں کا معیار زندگی بہتر کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک اسٹرکچر تبدیل کر کے 16 ریجنز کو 6 ایسوسی ایشنز میں ضم کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت قائداعظم ٹرافی کا پہلا مرحلہ 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اور دوسرا مرحلہ 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہے گا۔ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہے گا۔

قائمہ کمیٹی کا 228 ارب روپے قرض معاف کرنے کی خبروں کا نوٹس

 اسلام آباد: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرنے کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے اور گورنر اسٹیٹ بینک سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک سے  228 ارب روپے  کے قرضے معاف کرنے کی تفصیلات مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک بتائے کہ کن افراد  کے قرضے معاف کئے گئے، جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے ان کی فہرست کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہت سے نادہندگان کے خلاف ایف آئی اے میں کیس چل رہے ہیں اس لیے جن نادہندگان کے خلاف ایف آئی اے تفتیش کر رہی ہے کیا ان کے قرضے بھی معاف کئے گئے، یہ بھی بتایا جائے کہ کس قانون اور معاہدے کے تحت حکومت نے قرضے معاف کئے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے سوالات اٹھائے  کہ قرضہ بینک اور موکل کے درمیان کا معاملہ ہے پھر کیسے حکومت معاف کر سکتی ہے،  ان قرضوں کے مد میں جو سیکورٹی جمع کی گئی تھی اس کا کیا فیصلہ کیا گیا، کیا 228 ارب روپے قرضہ ہے یا بمعہ سود واجب الادا رقم ہے، حیران کن بات ہے کہ حکومت کو واجب الادا 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں۔

پھلوں، سبزیوں اور کپڑوں کو جراثیم سے پاک کرنے والا آلہ تیار

لندن: کیا کبھی آپ نے سوچا کہ کوئی ایسا جادوئی طریقہ دریافت ہوجائے کہ کپڑوں سے لے کر دیگر اشیا تک صاف اور جراثیم سے پاک ہوجائیں؟ تو اب حاضر ہے ’سونک سوک الٹرا سانک کلینر‘ کو الٹرا ساؤنڈ ارتعاشات سے پھلوں اور سبزیوں سے لے کر کپڑوں تک کو پاک کرسکتا ہے۔

یہ چھوٹا اور مٹھی میں سما جانے والا آلہ صرف 50 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور فی سیکنڈ 50 ہزار ارتعاشات (وائبریشن) سے اشیا کو صاف اور جراثیم سے پاک کرتا ہے۔ اسے بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ مختلف اشیا سے نہ صرف جراثیم اور بیکٹیریا ختم کرسکتی ہے بلکہ سبزیوں اور پھلوں سے مضر کیمیکل اور کیڑے مار ادویہ کےآثار بھی دور کردیتی ہے۔

اسے استعمال کرنا بھی بہت آسان ہے۔ جس شے کو صاف کرنا ہو اسے پانی میں ڈبویئے اور اس پیالے میں سونک سوک رکھ کر اسے اسٹارٹ کا بٹن دبادیں اور اس طرح تھوڑی دیر میں وہ شے مکمل طور پر صاف ہوجاتی ہے۔ یہ ایجاد جہاں اشیا کو گہرائی سے صاف کرتی ہے وہیں ایک عام واشنگ مشین کے مقابلے میں پانی کا استعمال بھی 400 گنا کم ہوتا  اور توانائی بھی 15 گنا کم خرچ ہوتی ہے۔

سونک سوک کلینر کو ایک سے دوسری جگہ لے جانا قدرے آسان ہے۔ اس طرح اس جدید آلے کی صورت میں نہ صرف آپ واشنگ مشین کو ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں بلکہ الٹرا سونک آلے کی صورت میں ایک بہترین جراثیم کش سسٹم بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ آلہ مکمل طور پر واٹر پروف ہے اور دنیا بھر کی ویب سائٹ نے اس آلے کی تعریف کی ہے۔ یہ آلہ 150 ڈالر میں دستیاب ہے اور ہر ملک کے بجلی کے نظام کے تحت اسے تیار کیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative