Home » 2019 » September » 03

Daily Archives: September 3, 2019

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دنیا کیلیے خطرناک ہوگی، وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات سے ہی حل ہوگا اور پاکستان اور بھارت تناؤ کے درمیان کشیدگی دنیا کے لیے خطرناک ہوگی۔ 

لاہور میں سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم سکھوں کو ملٹی پل ویزے جاری کریں گے اور سکھوں کو ایئرپورٹ پرویزا ملے گا، وزیراعظم بنتے ہی کوشش کی بھارت سے تعلقات بہترہوں، مودی کو فون پرکہا دونوں ممالک کے ایک جیسے مسائل ہیں، بھارت سے تعلقات بہترکرنے میں کوشش کی لیکن مثبت جواب نہ ملا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا میری خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل ہو لیکن جو لوگ جنگ کی باتیں کرتے ہیں، انہوں نے تاریخ نہیں پڑھی، جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ جنگ کے بعد مسائل بڑھ جاتے ہیں اور جنگ کے بعد ملکوں کو کھڑاہونے میں کئی سال لگتے ہیں جب کہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ممالک ہیں، ان میں تناؤ سے دنیا کو خطرہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس جو حرکتیں کررہا اس کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا اور جس طرف یہ بھارت کو لے کر جارہے ہیں اس میں کسی اور کی جگہ نہیں، آرایس ایس صرف ہندوتوا چاہتے ہیں، ان کو جس کا پتہ چلے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے اور اگر آر ایس ایس کو روکا نہ گیا تو یہ دیگر مذاہب کے افراد کو بھی تنگ کرے گی جب کہ کشمیرمیں 27 روزسے کرفیولگا ہے لوگوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوچکا ہے، اور یہ انسانیت کے خلاف ہے، کشمیر میں مسلمانوں کے بجائے سکھ بھی ہوتے ہیں میں آواز بلند کرتا۔

کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دے دی گئی

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دے دی ہے اور اس کی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے  2 گھنٹے سے زائد دورانیے کی ملاقات ہوئی ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے حاضر سروس ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن یادیو کو بھارتی قونصلر تک رسائی دے دی ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کلبھوشن کی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات خفیہ مقام پر کرائی گئی۔ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل بھارتی امور فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔

گزشتہ روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو قانونی طور پر قونصلر رسائی دینے کا پابند ہے اس لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں کلبھوشن یادیو کو پیر کو قونصلر رسائی دی جائے گی۔

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کوعالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں قونصلر رسائی دی جا رہی ہے، کمانڈر کلبوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی میں ملوث ہونے پر حراست میں ہے۔

واضح رہے کہ 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی بریت اور بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق بھارتی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی   فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

بھارت کو سفارتی سطح پر ایک اور شکست کا سامنا

بھارت کو بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کے حوالے سے پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا، مالدیپ میں ہونے والی چوتھی جنوبی ایشیائی اسپیکر کانفرنس میں بھارتی موقف کو قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے اسے ناک آءوٹ کردیا، جب پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی تو بھارتی وفد نے شوروغوغا مچاتے ہوئے اس کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا لیکن کانفرنس میں بھارتی موقف تسلیم نہیں کیا گیا ۔ ان تمام کے باوجود بھارت پھر بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو28روز گزرچکے ہیں لیکن کشمیری بھی اپنے موقف پر مکمل طورپر ڈٹ چکے ہیں کہ انہیں آزادی کے سوا کچھ بھی قبول نہیں ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے اسلامی سوساءٹی آف نارتھ امریکہ کے کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نازیوں نے ثابت کیا تھا چھوٹا مگر منظم نظریاتی گروہ ملک پر کیسے قبضہ کرسکتا ہے اور ایسا ہی کچھ بھارت میں بھی ہورہا ہے ۔ شدت پسندانہ نظریات نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ۔ بی جے پی حکومت کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرکے اسے مسلم اکثریتی صوبے اقلیتی صوبہ بنانا چاہتی ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے کسی بھی مقبوضہ زمین کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتے ، مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کی نسل کشی کررہے ہیں بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے فروری کی طرح آزاد کشمیر میں کارروائی کرسکتا ہے ۔ ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ حکمران جماعت بی جے پی کی سرپرستی کرنے والی جماعت ہے ، میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں لیکن آپ کو بھی اس پلیٹ فارم سے کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ لوگوں کو بی جے پی کے فلسفے کے حوالے سے آگاہ کیا جاسکے، مغربی ریاستوں کو آر ایس ایس کے بارے میں سمجھانا ہوگا ۔ یہ جماعت ہندونسل پرستی اور بھارت سے اس کی تخلیق کے بارے میں حقائق جانے، بی جے پی انتخابات جیت کر مزید قوت کے ساتھ واپس آئی ہے ۔ ہم اربوں لوگوں کے ملک کی بات کررہے ہیں جہاں جوہری ہتھیار انتہا پسند سوچ کے ہاتھوں میں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا کیونکہ مودی جس نازی نظریے پر کارفرما ہے دنیا ان کا ماضی دیکھ لے کہ انہوں نے کس طرح زندہ لوگوں کو گیس چیمبر میں نذر آتش کردیا تھا ۔ دنیا کو اس کا نوٹس لینا ہوگا گو کہ سفارتی سطح پر بھارت کو ناکامیوں پر ناکامیاں ہورہی ہیں ۔ مالدیپ میں ہونے والی چوتھی ایشین اسپیکرز کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر اٹھائے جانے پر بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر آپے سے باہر ہو گئے،پاکستان نے بھارت کو مکمل ناک آوٹ کردیا، پاکستانی وفد نے بھارتی وفد کو آئینہ دکھادیا،وفود میں تلخ کلامی ، گرما گرمی ، مالدیپ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد نشید صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ، کھانے کا وقفہ کردیا ، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی تقریر کے دوران کشمیر سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی وفد نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اپنے وفد کے ہمراہ شور شرابا شروع کر دیا، تاہم کانفرنس نے بھارتی اعتراض مسترد کردیا ،پوائنٹ آف آرڈر پر پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر قرا العین مری نے کہا کہ ایس ڈی جی خواتین، نوجوان، فوڈ سیکورٹی سمیت دیگر تمام معاملات کے حوالے سے ہے اور انسانی حقوق کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ سینیٹر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زیادہ لوگوں کو ایس ڈی جی کے مقاصد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو آپ پرعمل کس کے لیے جارہا ہے صرف زمین کے لیے، کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم بھی براہ راست ایس ڈی جی سے منسلک ہیں اس لیے پاکستانی اسپیکر کو اپنی تقریر مکمل کرنے دی جائے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھارتی وفد کے شور کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا پردہ فاش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی،انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نا انصافی کوئی بھی ہو وہ ہر جگہ انصاف کے لیے بڑاخطرہ ہے، اگر اقوام میں امتیاز موجود ہو تو دنیا ایک محفوظ جگہ نہیں بن سکتی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر جمہوریت پسے ہوئے طبقے بالخصوص خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے تو وہ اپنے عوام کی صحیح نمائندگی کا دعوی نہیں کرسکتی ۔ قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ اگر ہم پرامن اور جمہوری ایشیا کی تعمیر چاہتے ہیں تو فلسطینیوں ، روہنگیا کے مسلمانوں اور ظلم وستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم و ستم کا شکار کشمیریوں کی حالت زار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بین الاقوامی برادری کو ظلم وستم کا شکار ان نظر انداز افراد کے خلاف نا انصافیوں کا ازالہ کرنا ہوگا ۔ قاسم خان سوری نے اپنی تقریر مکمل کی تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ڈپٹی چیئرمین ہرویناش ناریان سنگھ نے کہا کہ بھارت کے اندرونی معاملے کو اس سطح پر اٹھانے کی مذمت کرتے ہیں جس کا سمٹ سے کوئی تعلق نہیں ، ناریان سنگھ کے جواب میں پاکستانی سینیٹر قر العین نے کہا کہ انسانی حقوق کی بحالی کے بغیر ڈویلپمنٹ نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کو سفاکیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370ختم کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی بین الاقوامی فورم پر پاکستان اور بھارت کے حکومتی وفود آمنے سامنے آئے ۔ پاکستان کے ارکین پارلیمنٹ نے دنیا سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔ ذراءع کا بتانا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیے اور اپنی نشست پر واپس آکر بھی بھارتی وفد پر خود برسے ۔

کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دیناخوش آئند

پاکستان نے جاسوسی، دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کرکے بھارت پر ایک مرتبہ پھر اپنی سفارتی برتری ثابت کردی ہے ۔ جنیوا کنونشن کے تحت پاکستان یہ کرنے کا پابند ہے لیکن بھارت کی جانب سے ایسے کوئی اقدام سامنے نظر نہیں آرہے حتیٰ کہ انڈیا نے یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کو بھی ان سے ملنے کی تاحال اجازت نہیں دی ہے ۔ تمام قومی و بین الاقوامی قوانین کو وہ لگاتار روند رہا ہے لیکن اس کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ بھارت پورے خطے کو اس دہانے پر لے آیا ہے جہاں پر اتنی خطرناک تباہی پھیل سکتی ہے جس سے ساری دنیا متاثر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن کوشش کررہا ہے کسی نہ کسی طرح دنیا بھارت کو اس کے مذموم عزائم سے روکے لیکن دنیا شاید اپنی مارکیٹ کی جانب توجہ دے رہی ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹ پر توجہ ضرور دی جائے لیکن اگر خدانخواستہ دنیا میں اتنے وسیع پیمانے پر تباہی ہوتی ہے تو پھر کونسی مارکیٹ اور کیسی توجہ ۔ یہ ساری چیزیں تو اس وقت تک بھلی لگتی ہیں جب تک دنیا میں امن و امان قائم ہے لیکن بھارت نے صرف اس خطے کا نہیں پوری دنیا کا امن تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ۔

ایپل کے ایک ارب آئی فون صارفین پر ہیکرز کے حملے کا انکشاف

ایپل کے آئی فون کو سیکیورٹی کے لحاظ سے بہترین سمجھا جاتا ہے تو یہ ان ڈیوائسز کو استعمال کرنے والے کروڑوں افراد کے لیے گوگل نے ایک دھچکا پہنچا دینے والی رپورٹ جاری کی ہے۔

درحقیقت گوگل کے سیکیورٹی محققین نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے رواں سال کے شروع میں آئی فونز میں ایسی کمزوری دریافت کی تھی، جس کے باعث ان ڈیوائسز سے مخصوص ویب سائٹس پر جانے سے ہی انہیں ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اور یہ بہت بڑے پیمانے پر ہوا جو کہ ایپل کے مشہور زمانہ اسمارٹ فون کے تمام صارفین کے لیے بہت زیادہ باعث تشویش ہے۔

گوگل محققین کے مطابق کسی ویب سائٹ پر وزٹ کرنے پر ہی نامعلوم عناصر انہیں خاموشی سے ہیک کرلیتے اور وہ انکرپٹڈ پیغامات جیسے واٹس ایپ، آئی میسج اور ٹیلیگرام سمیت دیگر تک رسائی کرلیتے۔

رپورٹ کے مطابق ان ویب سائٹس پر جانے کے بعد ہیکرز کی جانب سے آئی فون میں ایک مانیٹرنگ امپلانٹ انسٹال کردیا جاتا جس کو تمام ڈیٹا بیس فائلز تک رسائی ہوتی، جن میں تصاویر، ویڈیوز اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ایپس کا ڈیٹا شامل تھا۔

اس امپلانٹ کی بدولت یہ ہیکرز جی میل اور گوگل ہینگ آﺅٹس کے مواد کی جاسوسی کرتے، کانٹیکٹس دیکھ سکتے اور صارف کی لائیو جی پی ایس لوکیشن ٹریکر کو بھی دیکھ سکتے۔

اور ہاں یہ میل وئیر کی چین کو بھی چوری کرلیتا جہاں پاس ورڈز جیسے وائی فائی پوائنٹس کے پاس ورڈ موجود ہوتے ہیں۔

گوگل کی پراجیکٹ زیرو ٹیم نے اس کمزوری کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز کی جانب سے یہ کام 2 برسوں سے کیا جارہا تھا اور ہر آئی فون اس کا شکار ہوسکتا تھا، بس چند مخصوص ویب سائٹس پر وزٹ کرنا ہی کافی تھا۔

ان مخصوص ویب سائٹس کی تفصیلات تو رپورٹ میں نہیں دی گئیں مگر یہ ضرور بتایا گیا کہ ایپل نے رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے لیے فروری میں سیکیورٹی اپ ڈیٹ آئی او پایس 12.1.14 میں جاری کی تھی۔

ٹیک کرنچ کی ایک الگ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ مخصوص وی سائٹس ایک اسٹیٹ بیک اٹیک کا حصہ ہے اور بظاہر یہ ریاست چین ہے۔

آئی فون کے حوالے سے یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایپل کی جانب سے 10 ستمبر کو آئی فون 11 متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا۔

گوگل کے محققین کے مطابق اس امپلانٹ کا ایک توڑ تو یہی تھا کہ فون کو ری اسٹارٹ کردیا جائے مگر ہیکرز کو جن معلومات تک رسائی مل جاتی وہ انہیں استعمال کرسکتے تھے۔

انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ اگر انہوں نے اب تک اپنے آئی فون کے آئی او ایس کو اپ ڈیٹ نہیں کیا تو فوراً سے پہلے ایسا کرلیں اور ویب سائٹس کے حوالے سے ایسی سائٹس کو ترجیح دیں جو عالمی سطح پر قابل اعتبار سمجھ جاتی ہیں۔

ایپل کی جان سے اس معاملے میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور کے پوسٹرز آویزاں

مقبوضہ کشمیر کی شاہراؤں اورگلیوں میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز اور ہینڈبلز آویزاں کیے گئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج  کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور کے پوسٹرزآویزاں کیے گئے ہیں جس میں میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کشمیریوں کے لئے آخری گولی اورآخری سپاہی تک لڑنے کابیان تحریر کیا گیا ہے۔

کشمیرکی شاہراؤں اورگلیوں میں آویزاں کیے گئے میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز اور ہینڈبلز پر حریت کارکنان کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ ہم زمین پر جنت کشمیر سے بھارت کو نکال باہر پھینکنے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ہوں گے، جنت غاصب بھارتی فوجیوں کا ٹھکانہ نہیں بن سکتی۔

آسامی مسلمانوں کی شہریت کی منسوخی

مودی سرکار کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مسلمانوں کے بعد دیگر اقلیتوں کا بھی بھارت میں رہنا مشکل کردیا گیا ہے ۔ کشمیریوں کے بعد بھارتی انتہا پسند حکومت نے آسام میں بھی مسلمانوں کو نشانے پر رکھ لیا ۔ وہ یوں کہ حکومت نے آسام کے 19 لاکھ افراد سے بھارتی شہریت چھین لی ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں جنہیں بنگلہ دیشی قرار دے دیا گیا ہے ۔

حکومتی اہلکاروں نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی حتمی فہرست سے ان لوگوں کے نام نکال دیے گئے جو یہ ثابت نہ کرسکے کہ وہ 24 مارچ 1971 کو یا اس سے پہلے آسام پہنچے تھے ۔ ان میں کچھ ہندو بھی شامل ہیں ۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرکے آسام میں آباد ہوگئے تھے ۔ ان 19 لاکھ افراد کو اپیل کیلئے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے ۔

بھارتی اقدام سے اب مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے 19 لاکھ سے زیادہ افراد نہ صرف بے گھر ہو گئے ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اب انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا جس کے لیے پہلے سے ہی آسام میں دس جیلوں کی تعمیر جاری ہے ۔ ایک جیل میں تین ہزار افراد تک کو قید کرنے کی گنجائش ہے ۔ مودی سرکار نے ریاست آسام میں ممکنہ احتجاج کو طاقت کے زریعے دبانے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا ۔ علاقے میں صورتحال پر قابو رکھنے کیلئے 60 ہزار پولیس اہلکار اور 19 ہزار پیرا ملٹری اہلکار تعینات کر دئیے گئے ۔ احتجاج کرنے والوں کو ملک بدر کرنے یاجیلوں میں ڈالنے کی تیاری کر لی گئی ہے ۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے شہریت کی فہرست جاری کرنے کے عمل کو ناقدین لاکھوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔ فسادات کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے 4 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ۔ حکومت کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام حتمی فہرست میں شامل نہیں وہ 60 سے 120 روز میں غیر ملکی ٹریبونل میں اپیل کرسکتے ہیں ۔ تاہم اس عمل میں اس سے قبل بھی خامیوں کا انکشاف ہوچکا ہے جس میں آسام سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہی وزیر نے کہا تھا کہ اس فہرست میں متعدد اصلی بھارتیوں کو بھی درج نہیں کیا گیا ۔ بھارتی حکومت کے مطابق اس فہرست میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا جو 1971 سے پہلے بھارت میں رہائش پذیر ہونے کے دستاویزی ثبوت فراہم کرسکے ۔

آسام میں بسنے والے ان باشندوں کےلئے شہریت ثابت کرنے کا یہ عمل کافی پیچیدہ اور انتہائی کم شرح خواندگی والی ریاست کے لیے مشکل ثابت ہوا جہاں اکثر کے پاس ضروری دستاو یزات ہی موجود نہیں ۔ ملک بھر میں ہندوں کی بڑی تعداد نے اسے ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے اور حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک ایسے کام کے لیے تعریف کی ہے بقول ان کے جسے کرنے کی دوسری ریاستی حکومتوں میں ہمت نہیں تھی ۔ لیکن بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خاندانوں کو الگ کر رہے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو راتوں رات درحقیقت بیریاست بنا رہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اس فہرست نے لوگوں میں بڑہے پیمانے پر عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے ۔ آسام کی ہمسایہ ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی اس کی سب سے زیادہ نقاد رہی ہیں ۔ انھوں نے خون خرابے کی پیش گوئی کی اور کہا کہ اس عمل سے جمہوریت کا مذاق اڑ رہا ہے ۔ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس نامی تنظیم کے زمسار علی نے آسام میں اس طرح کی 51 خود کشیوں کی فہرست فراہم کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات شہریت کے متوقع نقصان پر صدمے اور تنا سے جڑے ہوئے ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے تحت تقریباً 19 لاکھ افراد کو شہریت سے محروم کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی اور عالمی میڈیا میں مودی سرکار کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی اطلاعات سے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھنی چاہئیں ۔ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔

عالمی میڈیا نے بھی مودی سرکار کی تمام تر چالاکیوں اور عیاریوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے مظالم کا پردہ چاک کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں بی بی سی‘ سی این این‘ واشنگٹن پوسٹ‘ وائس آف امریکہ اور نیویارک ٹائمز سمیت متعدد عالمی خبررساں ادارے بھارتی فوج کے مظالم پر اشک بار ہیں جنہوں نے اپنی رپورٹس میں مودی سرکار کے ’’سب اچھا ہے‘‘ کے راگ الاپنے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے ۔ بھارتی مظالم برداشت کرنیوالے متعدد کشمیری باشندوں نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے انہیں گھروں میں گھس کر گرفتار کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا‘ انہیں بجلی کے جھٹکے دیئے گئے اور الٹا لٹکایا گیا ۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ اسے داڑھی سے پکڑ کر مارا گیا اور زندہ جلانے کی کوشش کی گئی ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں ایک آبدیدہ باپ کی کہانی شاءع کی ہے جس کے معصوم بچے کو قابض بھارتی فورسز نے حراست میں لے رکھا ہے ۔

مودی سرکار نے کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے اب بھارت کی دوسری ریاستوں میں بھی چھیڑچھاڑ شروع کر دی ہے تاہم اسکے تمام اقدامات مذہبی اور نسلی امتیاز کو اجاگر کرنیوالے ہیں جن کے تحت وہ بھارت میں ہندوءوں کے سوا کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ اسکی یہی سوچ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے ۔

ایف بی آر غیر رجسٹرڈ ملازمین و افسران کے خلاف حرکت میں آگیا

لاہور:  وفاقی و صوبائی سرکاری محکموں کے غیر رجسٹرڈ ملازمین و افسران کے خلاف ایف بی آر حرکت میں آگیا۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں وفاقی و صوبائی اداروں کے 3لاکھ 33ہزار 600 ملازمین ہیں، جن میں سے 4 لاکھ سے زائد سالانہ تنخواہ والے ایک لاکھ 53 ہزار سرکاری ملازمین و افسران ہیں۔

وفاقی و صوبائی اداروں میں 18303 فائلرز ، 19623 نان فائلرز اور 115403 سرکاری ملازمین تاحال غیر رجسٹرڈ ہیں۔ ریلوے ہیڈکوارٹر میں 1762 میں سے 985 سرکاری ملازمین غیر رجسٹرڈ ہیں۔ لیسکو ہیڈ آفس میں 9324 میں سے 7286 ملازمین، ایل ڈی اے آفس جوہر ٹاؤن میں 1365 میں سے 1190 ملازمین، واسا میں 2756 میں سے 1990 ملازمین، سول ایوی ایشن اے ایس ایف کے 307 میں سے 137 ملازمین، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریٹ ہیڈ آفس میں 697 میں سے 301 ملازمین غیر رجسٹرڈ ہیں۔

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ لاہور میں 848 میں سے 506 ملازمین غیر رجسٹرڈ جبکہ شیخ زید اسپتال میں 3147 میں سے 2767 ملازمین غیر رجسٹرڈ، گورنمنٹ کالج فار وویمن میں 42 میں سے 18 غیر رجسٹرڈ، جناح کالج میں 37 میں سے 16 غیر رجسٹرڈ، پائلٹ سکول لاہور میں 147 میں سے 82 ملازمین غیر رجسٹرڈ ، فاطمہ جناح اسپتال میں 168 ملازمین میں سے 65 غیر رجسٹرڈ ، بورڈ آف ریونیو اینڈ اری گیشن ڈیپارٹمنٹ میں 468 میں سے 102 ملازمین غیر رجسٹرڈ ہیں۔

امریکا اور یورپ ڈونلڈٹرمپ کے ہوتے ہوئے…!!

اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی ، خواہشِ ٹرمپ ہے کہ سمندری طوفانوں پر ایٹم بم ماردو،جو امریکا میں روز آکر ہ میں پریشانی سے دوچار کرتے ہیں ، اِن سے چھٹکارہ اٹیم بم کو استعمال کرکے حاصل کیا جائے;234; یہ انوکھی اور حیران کُن خواہش ہے ۔ دنیا کے سُپر طاقت کہلانے والے مُلک امریکا کے محترم المقام عزت مآب خبطی صدر ڈونلڈٹرمپ کی ۔ جس نے عالمِ کُل کو حیرت میں ڈال دیاہے ۔ امریکی صدر کی اِس حیران کُن خواہش کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آج امریکا اور یورپ اپنے عہدتاریک سے نکل کر بھی ڈونلڈٹرمپ کے ہوتے ہوئے;234; دوبارہ عہدتاریک میں بہت جلدجانے والے ہیں ،آج اگر باریک بینی سے امریکاویورپ کے حالاتِ حاضرہ اور دنیا میں پیش آئے ۔ واقعات کا جائزہ لیں ۔ تو ہمارایہ اندازہ شک میں بدل کر یقین میں تبدیل ہوجائے گا کہ اِن دِنوں اقوامِ عالم میں سیاسی، معاشی اور اقتصادی بحرانوں اور عدم استحکام کا ذمہ دار خبطی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسخرانہ اور غیر سنجیدہ پالیساں اوروہ بیانہ ہیں ۔ جواکثر سُننے میں آتے رہتے ہیں ۔ بیشک امریکی صدرنے امریکاسمیت ساری دنیا کا صحیح طرح سے بیڑاغرق کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی ہے;234;مگر پھر بھی اِس کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح دنیا اِسے سُپر طاقت تسلیم کرلے ،اور جو نہ کرے ۔ وہ اِس کے خلا ف اپنی طاقت اور سازشوں کے جال بُن کر اِس کی تباہی کا سامان پیداکردیتا ہے ۔ طاقت کے بل پر دنیا میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کے عزائم کو لے کر عالمِ اسلام کو زیر نے کا عزمِ ناپاک لئے امریکی خبطی صدر ٹرمپ دنیا کو خطرات سے دوچار کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ خبردار،عنقریب دنیا وی دولت اور چکا چوند میں مست اُمتِ مسلمہ کو اپنے دوست نما یہود و ہنود سے کاری ضرب لگنے والی ہے ۔ تب مسلم ممالک کے سربراہان زن، زمین اور زر کے جادوئی اثر سے نکل گئے،توپھر امریکی صدرکو لگ پتہ جائے گاکہ اِس کی دنیاوی لالچ کی گرفت سے آزاد ہوتے مسلمان ،اسلام دُشمن طاقتوں کے لئے قیامت ثابت ہوں گے ۔ آج قدم قدم پہ مسلمانوں کو زن ، زمین اور زر کا لالچ دے کر اِن سے دوستیاں نبھاتے اغیار ہوش کے ناخن لیں ۔ اور آنے والے وقتوں میں اپنی بقاوسا لمیت سے متعلق سوچیں ۔ بہر کیف،اَب اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ امریکا اور یورپ بہت جلد خبطی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے ہوتے ہوئے، تاریک کی راہوں میں بھٹکنے والے ہیں یقین نہیں آتاہے تو دنیا پر سُپر طاقت کے گھمنڈ میں مست سفید ہاتھی (چوہدراہٹ کا خواب دیکھنے والے) ٹرمپ کی اِس ذہنی کیفیت اور سوچ کر اندازہ لگا کر خود سمجھ جا ئیں کہ اگر ٹرمپ مزید امریکی صدر رہ گیاتو پھر ;464646;!!امریکا اور دنیا کا کیا بنے گا;238;تاہم ، واشنگٹن سے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوران امریکی ہوم سیکورٹی اور دفاع کے ما اہرین سے تجوید مانگی کہ کیا امریکا کی جانب آنے والے سمندری طوفانوں کو جوہری (ایٹم) بم سے روکاجاسکتاہے‘‘،یہ وہ خواہش تھی جو برسوں سے خبطی امریکی صدر اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے تھے ،آج جب موقعہ ملا تو اُنہوں نے فوراََ اِس کا اظہار کردیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ نے قدرتی طوفانوں کو طاقت کے زور پر روکنے کی خواہش کا اظہارکرکے سب کو جہاں حیران کیا ہے;234; تو وہیں امریکی ہوم سیکورٹی اور دفاعی ماہرین سمیت دنیا کو بھی خود کو خبطی ہونے کے شک کو یقین میں بدل دیاہے ۔ اگرچہ، امریکی صدر کی یہ بات بھی اِن کی بہت سی سابقہ پالیسیوں اور بیانات کی طرح مسخرانہ اور غیرسنجیدہ ہیں ۔ مگراَب اتنا ضرور ہے کہ اِس خواہشِ ٹرمپ نے امریکی صدر کی رہی سہی عقل مندی کو بھی خاک میں ملا کر سمندر برد کردیا ہے;234; ویسے تو پہلے ہی امریکی سمیت ساری دنیا ٹرمپ کی باولی طبیعت سے پریشان اور تنگ تھی ۔ مگر امریکی ہوم سیکورٹی اور دفاع کے ماہرین کے اجلاس میں اپنی ضدنما خواہش کو ہر حال میں عملی جامہ پہنانے کی وضاحت دیتے ہوئے ۔ ڈونلڈٹرمپ نے مزید کہاکہ ’’طوفان امریکا کےلئے مسائل پیدا کرتے ہیں اور اگر اِنہیں امریکی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی جوہری بم مار کر ختم یا روکاجائے تو اِس کامیابی سے امریکاطوفانوں کو پسپا کرنے والی دنیا کی پہلی سپُر طاقت بن کراُبھرے گا ‘‘ذراءع نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے طوفان کو جوہری بم سے روکنے کے سوال پر اجلاس میں شامل تمام ماہرین اور اعلیٰ عہدیدار حیران رہ گئے;234; اور اُنہوں نے اپنے خبطی صدر کی ذہنی کیفیت پر چند منٹوں کی خاموشی کے بعد جیسے اپنی جان چھڑاتے ہوئے ۔ صدر کو بتایاکہ وہ اِن کی اِس انوکھی اور حیران کن مسخرانہ تجویز پر سوچیں گے‘‘ اور اجلاس ختم ہوگیا ۔ اَب اِسے کون یہ سمجھا ئے کہ اِس کی طوفانوں کوایٹم بم مارکر پسپا کرنے والا اقدام امریکاکے سُپر طاقت کے ہونے کے گھمنڈاور تکبرکا کھلا عکاس ہے ۔ امریکی صدر کی قدرتی آفات کو روکنے کےلئے جوہری بم استعمال کرنے اور مسلم ممالک پر اپنی اور اپنے بغل بچے اسرائیل و بھارت اور اپنے حواریوں کے ہمراہ چوہدراہٹ کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ چوں کہ اللہ کے حکم سے سب بے کار جائے گا ۔ ۔ لگتا ہے کہ اَب بہت جلد امریکا سمیت ساری دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہوگی ۔ کیوں کہ یہود وہنود کے ممالک پرمسلمانوں کے فتوحات کا سلسلہ بہت جلد پاکستان سے شروع ہونے والاہے ۔ تب پھر ساری دنیا پرصرف مسلم فاتح حکمرانوں کی حکمرانی قائم ہو گی اور پھر تاقیامت ساری دنیا پر اسلام کا پرچم لہرائے گا ۔ اور بس رہے گا بلند نام اللہ کا ۔

Google Analytics Alternative