Home » 2019 » September » 03 (page 2)

Daily Archives: September 3, 2019

وزیراعظم عمران خان کا ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا اور ملکی  دفاع میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ، وزیردفاعی پیداوار زبیدہ جلال اور مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم نے ایئر ہیڈ کوارٹر میں یادگار شہداء پر حاضری  دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی جانب سے پاکستان کا بہتر تشخص اجاگر کرنے اور قومی تعمیر و ترقی کے بے شمار اقدامات کی بھی تعریف کی۔

 

نوازالدین صدیقی پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن کے دیوانے

کراچی: بھارتی اداکار نوازالدین صدیقی پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن کی آواز کے دیوانے نکلے۔

ایک انٹریو میں بھارتی اداکار نوازالدین صدیقی کا کہنا تھا کہ فلم ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن کا گانا ’تیرا وہ پیار‘ سنا کرتا تھا، فلم کی شوٹنگ کے دوران یہ گانا سننے کے بعد فلم کے سارے سین شوٹ کرائے۔

نوازالدین صدیقی نے کہا کہ جب بھی کوئی سین کرنے جاتا تھا تو ایک بار مومنہ مستحسن کا گانا سنا کرتا، اس گانے کا کوئی مقابل نہیں تھا اور یہ گانا سننے کے بعد میں اپنے ہی خیالوں میں گم ہوجاتا تھا۔

واضح رہے کہ ’تیرا وہ پیار‘ کوک اسٹوڈیو میں پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن اور عاصم اظہر نے گایا تھا جس کو مداحوں نے کافی پسند کیا تھا۔

نوید اکرم چیمہ کو ایک بار پھر کرکٹ ٹیم کا مینجر مقرر کیے جانے کا امکان

سینئر بیورو کریٹ نوید اکرم چیمہ ایک بارپھر قومی ٹیم کے مینجر کے عہدے کے لیے فیورٹ امیدوار  کے طورپر سامنے آگئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی کی منظوری کے بعد ان کی تقرری کا جلد باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ ا س عہدے کے لیے  دو معروف سابق کرکٹرز نے بھی  امیدیں وابستہ کررکھی تھیں لیکن ذرائع کے مطابق  نوید اکرم چیمہ اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں ، بورڈ کے ساتھ معاملات طے ہونے پر ان کا انتخاب یقینی دکھائی دے رہا ہے۔

سری لنکا کے خلاف سیریز  کے لیے مینجر، ہیڈکوچ سمیت دوسرے کوچنگ اسٹاف کے نام کا  باقاعدہ اعلان  چیئرمین پی سی بی کی جانب سے منظوری ملنے پر ایک سے دو روز میں کسی بھی وقت سامنے آسکتا ہے۔  ایک سال پہلے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین  کےعہدے سے ریٹائرمنٹ لینے والے نویداکرم چیمہ اس سے پہلے  دوبار قومی ٹیم  کے ساتھ بطور  مینجر ذمہ داریاں نبھانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک سخت گیر اور ڈسپلن پر مکمل پاسداری کرنے والے مینجر کے طورپر ان کی شہرت ہے۔

نوید اکرم چیمہ چیف سیکرٹری پنجاب، چف سیکرٹری اسپورٹس پنجاب کے طورپر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نوید اکرم چیمہ سری لنکا کے خلاف سیریز سے اپنی ذمہ داریان سنبھال سکتے ہیں، اطلاعات کے مطابق  ٹیم کے ڈسپلن کو بہتر بنانے اور کسی ناخوشگوارواقعہ سے بچنے کے لیے پی سی بی حکام کی اکثریت نوید اکرم چیمہ کی تقرری کے حق میں ہے ۔

روبوٹ پائلٹ کو طیارے پر کنٹرول کا پہلا لائسنس مل گیا

کیلفورنیا: دنیا میں پہلی مرتبہ کسی روبوٹ نے باقاعدہ پرواز کنٹرول کرنے کا لائسنس حاصل کرلیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ کوئی سافٹ ویئر نہیں بلکہ عین انسان کی طرح روبوٹ ہے جس کے لیے پائلٹ کی سیٹ نکالی گئی ہے اور اس روبوٹ کو وہاں نصب کیا گیا تھا۔

یہ کوئی سافٹ ویئر نہیں ہے بلکہ ایک باقاعدہ روبوٹ ہے جو روبوٹ آٹو پائلٹ کی طرح ہے۔ اس کا پورا نام ’روبو پائلٹ ان مینڈ ایئرکرافٹ کنورژن سسٹم‘ ہے جو باقاعدہ اپنی مصنوعی ٹانگوں سے ہوائی جہاز کا پیڈل دباتا ہے اور ہاتھوں سے اس کی اسٹک قابو کرتا ہے۔ اپنے کمپیوٹرائزڈ بصری سسٹم سے وہ طیارے میں لگے ڈائل، میٹراوردیگراشیا کو دیکھتا ہے اور انہیں سمجھتا ہے۔

یہ روبوٹ طیارے کو ٹیک آف کراتا ہے، فلائٹ منصوبے (پلان) کے مطابق سفر طے کرتا ہے اور کسی انسانی مدد کے بغیر طیارے کو بحفاظت زمین پر اتارسکتا ہے۔ اس کے لیے انسانی پائلٹ کی نشت کو نکال کر اس پر پورا روبوٹ رکھا گیا ہے۔ ماہرین نے روبوٹ کو ایک ہوائی جہاز پر لگایا ہے اور اس کی کامیاب پرواز کے بعد اس نے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن پریکٹکل ٹیسٹ پاس کرلیا ہے۔ روبوٹ نے اپنی پہلی پرواز امریکی ریاست یوٹاہ میں 9 اگست کو مکمل کی ہے۔ لیکن اس سے قبل ہی روبوٹ ایک حادثے سے بھی گزرچکا تھا۔

اوپر کی تصویر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ روبو پائلٹ کو 1968 سیسنا 206 طیارے پر نصب کرکے ابتدائی پروازیں کی گئی ہیں۔ یہ نظام ڈی زی وائے این ای ٹیکنالوجیز کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی بدولت کسی بھی طیارے کو خودکار بنادیتا ہے۔ اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع اور جنوبی کوریا نے بھی ایسے روبوٹ پائلٹ بنائے ہیں لیکن کوئی بھی روبوپائلٹ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

کمپنی کے مطابق روبوٹ پائلٹ سے سامان اٹھوانے، پرخطرعلاقوں اور جاسوسی کا کام لیا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ روبوٹ انسانی پروازوں کے لیے کسی طرح بھی آزمائش کے قابل نہیں۔

طالبان سے مذاکرات کے بعد امریکی نمائندے کی افغان صدر سے ملاقات

کابل: افغان طالبان سے قطر میں امن مذاکرات کے کامیاب دور کے بعد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کابل میں صدر اشرف غنی سے اہم ملاقات کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دوحہ میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے قطر سے کابل پہنچتے ہی سب سے پہلے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران امریکی نمائندے نے افغان صدر کو مذاکرات میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

افغان صدر کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ملاقات میں امن مذاکرات اور افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مشاورت بھی کی گئی، افغان صدر نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پر واضح کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں لیکن افغان عوام کی امنگوں کے برخلاف کوئی بھی معاہدہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکتا۔

قطر میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں جن میں فریقین کے درمیان اکثر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا ہے تاہم طالبان کی جناب سے کابل حکومت پر حملے بند کرنے کی یقین دہانی نہ کرانے کے باعث مذاکرات پر تاحال دستخط نہیں ہوسکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے صدر اشرف غنی سے ملاقات میں اسی اہم معاملے ہر گفتگو کی ہوگی۔ افغان طالبان کے ترجمان امن مذاکرات کے کسی بھی مرحلے میں کابل حکومت کی شرکت سے انکاری رہے ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات طول پکڑ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور پُرامن انخلاء کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے زلمے خلیل زاد کو خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے جن کی سربراہی میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔

یو ایس اوپن: دفاعی چیمپئن نواک جوکووچ انجری کا شکار ہوکر ٹائٹل سے دستبردار

یو ایس اوپن کے میچ کے دوران انجری کا شکار ہونے والے نواک جوکووچ ایونٹ سے باہر ہوگئے جبکہ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ٹائٹل سے بھی دستبردار ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عالمی نمبر ایک سربیا کے نواک جوکووچ سوئٹزرلینڈ کے اسٹن واورینکا کے خلاف میچ ادھورا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

سربیا کے نواک جوکووچ میچ کے ابتدائی 2 سیٹ 4-6 اور 5-7 سے اپنے نام کر چکے تھے جبکہ آخری سیٹ میں بھی انہیں 1-2 سے برتری حاصل تھی تاہم وہ اچانک کندھے کی انجری کا شکار ہوگئے۔

انجری شدید ہونے کی وجہ سے دفاعی چیمپئن میچ سے دستبردار ہوگئے اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ٹائٹل سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔

اپنی انجری سے متعلق نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی انجری کی وجہ سے زندگی نہیں رکتی، وہ چلتی رہتی ہے‘۔

خیال رہے کہ سربیئن اسٹار کو یو ایس اوپن کے آغاز سے ہی کندھے میں تکلیف کا سامنا رہا ہے جس نے اب تک کے میچز میں انہیں بہت پریشان کیا۔

نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ ’چند ہفتوں سے اس تکلیف کا سامنا ہے، کبھی اس میں کمی آجاتی ہے اور کبھی شدید درد کا سامنا رہتاہے تاہم ایسے میں درد کو فوری ختم کرنے کے لیے مخلتف ادویات اور طریقہ کار بھی استعمال کیے‘۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار نے کہا کہ کبھی کھبار یہ طریقہ کار کارآمد ہوتے تھے جبکہ کبھی ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا، تاہم اس کا احساس اس وقت ہی ہوتا تھا جب آپ کو یہ محسوس ہوجائے کہ اب آپ میں ٹینس گیند کو ہٹ کرنے کی ہمت نہیں ہے‘۔

تاہم سربیئن اسٹار نے اپنی انجری کی نوعیت کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے انہیں دوسرے راؤنڈ میں جوان اگنیشیو کے خلاف میچ میں تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ ’میں آپ لوگوں کو بتا چکا ہوں کہ میں دستبردار ہوگیا ہوں، انجری میرے بائیں کندھے میں ہوئی ہے، میرے پاس اس سے زیادہ بات کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے‘۔

تین مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل اپنے نام کرنے والے نواک جوکووچ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ’میں اپنی انجری کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا‘۔

سوئٹزر لینڈ کے حریف کے ساتھ مقابلے سے قبل انہیں ادویات دی گئی تھیں، تاہم دوران میچ انہیں مزید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ گرینڈ سلام ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوگئے۔

نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بہت ہی مایوس کن ہے کیونکہ نہ تو وہ پہلے شخص ہیں جو انجری کا شکار ہوکر کسی بھی اسپورٹس کے اتنے بڑے ایونٹ سے باہر ہوئے ہیں اور نہ ہی آخری شخص ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں ٹینس کورٹ سے باہر ہوگیا ہوں، بس اس وجہ سے مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے، تاہم میں جانتا ہوں کہ زندگی اسی طرح چلتی رہتی ہے۔

خیال رہے کہ نواک جوکووچ اس سے قبل رواں برس آسٹریلین اوپن اور ومبلڈن ٹائٹل جیت چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 16 گرینڈ سلام ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں۔

امر خان ‘روپ’ میں احساس کمتری کا شکار

ہم ٹی وی پر جلد ‘روپ’ نامی منی سیریز سامنے آرہی ہے جس میں امر خان مرکزی کردار نبھاتی نظر آئیں گی۔

4 اقساط پر مبنی اس سیریز میں امر ایک ایسی خاتون کا کردار نبھارہی ہیں جو اپنی ظاہری شخصیت کے باعث احساس کمتری کا شکار ہیں جبکہ رایان نامی کردار سے محبت میں مبتلا ہونے کے بعد وہ اس احساس کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

سیریز میں رایان کا کردار اداکار منیب بٹ نبھاتے نظر آئیں گے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے امر خان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے زینیا نامی لڑکی کا کردار نبھایا ہے جس کی شخصیت بہت پیاری اور سادی ہے، وہ بےحد محنتی ہے اور اپنے کام کی ماہر، لیکن لوگ اس کی ظاہری شخصیت کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس تنقید کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتی ہے’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘اس سیریز کی کہانی منیب کے کردار کی میرے کردار سے محبت پر مبنی ہے، جو لوگوں کی تنقید کے باوجود اس سے محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے، وہ دیکھنا ہے کہ زینیا کی شخصیت کتنی مثبت ہے، جیسا کے کہا جاتا ہے کہ صورت پر نہیں سیرت پر جانا چاہیے’۔

اس سیریز کی ہدایات انجلینا ملک دے رہی ہیں، جن کا کہنا تھا کہ ‘اس ڈرامے میں دکھایا جائے گا کہ زینیا کے کردار کا اس کے والدین اس کی خوبصورت بہن سے موازنہ کریں گے، ہم ڈرامے میں دکھانا چاہتے ہیں کہ بچوں پر اس کا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور والدین کو ایسا نہیں کرنا چاہیے’۔

امر خان نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں آج ایک لڑکی کو یہ تو سمجھایا جاتا ہے کہ وہ ایسی نظر آئے جس سے سب متاثر ہوں لیکن یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت خود بنائے۔

‘روپ’ نامی ڈرامہ سیریز ہر اتوار کو ہم ٹی وی پر نشر ہوگی۔

ےہ مسےحائی

حضرت علی کرم ا;203; وجہہ کے حقائق و اصلےت پر کہے ےہ جملے کہ’’ انسان کتنا بے بس و لاچار ہے کہ بےمارےاں اس سے نہاں لےکن اس کے اعمال عےاں ہےں اور کسی بندے کےلئے لازم نہےں کہ وہ دو چےزوں پر بھروسہ کرے اےک صحت اور دوسری دولت‘‘ ۔ باب دروازہ علوم کی ےہ کہی باتےں واقعی انسان پر اس وقت اپنی پوری صداقتوں سے عےاں ہوتی ہےں جب ےہ اچانک عود کر آتی اور انسان ان کی گرفت مےں پھنس جاتا ہے ۔ سچ ہے کہ تکلےف و مصائب مےں ہی بھولے ہوئے انسان کو خدا کی ےاد آتی ہے ۔ کہتے ہےں کہ کوئی بےماری اےسی پےدا ہی نہےں کی گئی جس کا علاج نہ ہو لےکن بڑھاپا جو بتدرےج نزول کر کے انسانی اعضاء کو مضحمل کر دےتا ہے اس کا علاج ابھی تک انسانی عقل درےافت کرنے سے معذور ہے ۔ بڑھاپے مےں انسان کو مختلف بےمارےاں گھےر لےتی ہےں ۔ انسان اپنی جوانی کے اےام مستقبل مےں نزول کرنے والی ناتوانی اور لاچاری سے بے خبری مےں گزار دےتا ہے ۔ جوانی کے اےام ہر خزاں کے بعد بہار کی توقع پر بسر ہوتے ہےں لےکن بڑھاپے کی خزاں کے بعد امےد بہار صرف اےک سراب ہے ۔ اکبر الہٰ آبادی نے ’’عالم پےری‘‘ کے عنوان سے بڑھاپے پر اےک طوےل نظم لکھی ہے پہلا بند ملاحظہ کرےں ۔

کےا قہر ہے ےارو جسے آ جائے بڑھاپا

عشرت کو ملا خاک مےں غم لائے بڑھاپا

ہر کام کو ہر بات کو ترسائے بڑھاپا

ہر چےز سے ہوتا ہے برا ہائے بڑھاپا

تو معزز قارئےن راقم بھی اب مختلف امراض کا اسےر اسی بڑھاپے کی منزل کا مسافر ہے ۔ دوسال قبل راقم موٹر سائےکل کے حادثے کا شکار ہوا ۔ کافی جلی اور خفی چوٹےں آئےں ۔ راقم کسی پرائےوےٹ ہسپتال کا رخ کرنا چاہتا تھا لےکن مےرے اےک عزےز طارق طےب نے مشورہ دےا کہ ہمارے قصبہ کوٹلی لوہاراں کا رورل ہےلتھ سنٹر ٹی اےچ کےو مےں بدل چکا ہے اور ہر مرض کے خصوصی ماہرےن تعےنات ہو چکے ہےں تو جب قرےب سے ہی درےا گزر رہا ہو تو پےاس بجھانے کےلئے کسی دور افتادہ جگہ کا رخ کرنے کی کےا ضرورت ہے اور وےسے بھی جب پانی کے دام بھی خرچ نہ کرنے پڑےں ےہ الگ مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتوں نے صحت کے مراکز صرف بڑے شہروں تک محدود کر دیے ہےں ۔ ےہ علاقہ کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ کوٹلی لوہاراں رانا شمےم احمد خان کی نظر التفات سے ٹی اےچ کےو ہسپتال کی کم عرصہ مےں ہی تکمےل ممکن ہوئی وطن عزےز مےں دو جگہوں پر بہت رش دےکھنے مےں آتا ہے اےک ہوٹلوں مےں دوسرا پرائےوےٹ اور گورنمنٹ کے بڑے ہسپتالوں مےں ۔ کھانا کھانے والے اس پرےشانی مےں ہوتے ہےں کہ کھانے کی مےز نہ ملی تو بہت انتظار کرنا پڑے گا اور مرےض اس لئے پرےشان ہوتے ہےں کہ اگر ڈاکٹر اٹھ گےا تو وہ کہاں جائے گا ۔ وطن عزےز کے غرباء کو ضرورےات زندگی کی تو فراوانی نہےں لےکن ان کے پاس اےک ہی چےز ہے جس کا قحط انہوں نے نہےں رہنے دےا وہ صرف آبادی مےں تےزی سے اضافہ ہی ہے ۔ ہسپتال جانا ہوا تو وہاں ہر ڈاکٹر کے دروازے پر مرےضوں کا اک اژدہام تھا ۔ تمام ڈاکٹرز پوری دےانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ مرےضوں کو چےک کر رہے تھے ۔ پرچی بنوا کر ڈاکٹر سرجن عبد الخاق باسط کے پاس چےک کروانے کےلئے گئے جو نہاءت اور شفےق اور انسان دوست ثابت ہوئے ۔ انہوں نے کمال شفقت سے دےکھا اور دوائی تجوےز کی ۔ وہ مرےض کی ہر بات کو سمجھ کر علاج کرتے ہےں اور ےہ بھی سچ ہے کہ ان کے ہاتھ مےں شفا ہے ۔ اب جب کبھی راقم کو کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو ان کے پاس ہی جاتا ہے ۔ اےک سال قبل جسم اےک رسولی;67;ystکی زد مےں آ گےا ۔ سےالکوٹ سے اےک سرجن کو دکھاےا انہوں نے آپرےٹ تجوےز کےا لےکن دل اور شوگر کی گرفت کے باعث مشورہ دےا کہ کسی اےسے ہسپتال سے آپرےٹ کروائےں جہاں دل کا شعبہ بھی ہو ۔ راقم پھر ڈاکٹر سرجن عبدالخالق باسط کے پاس کوٹلی لوہاراں ہسپتال حاضر ہوا انہوں نے تسلی دی کہ آپرےٹ کروانے کی کوئی ضرورت نہےں دوائی لکھ دی اور ا;203; کے فضل سے ابھی تک کام چل رہا ہے ۔ راقم کے مشاہدہ مےں کئی اےسے مرےض آئے جن کو ڈاکٹر صاحب ادوےات بھی اپنے پاس سے دے دےتے ہےں ۔ خواجہ مےر درد نے کہا تھا

درد دل کے واسطے پےدا کےا انسان کو

ورنہ اطاعت کےلئے کچھ کم نہ تھے کرو بےاں

ےہ کرو فر اور حکمرانےاں سب اس عارضی دنےا کا فرےب ہےں جنہےں اقبال نے بتان وہم و گماں سے تعبےر کےا ہے ۔ وہی کچھ باقی رہے گا جس سے انسانوں کو فائدہ ہو گا اور انہی کے نام باقی رہےں گے جنہوں نے مخلوق خدا کی خدمت کی ۔ دراصل مسےحائی ہی وہ احساس لمس ہے جو خوابےدہ بتوں کو زندوں مےں شامل کرتا ہے ۔ بحثےت مجموعی اس مادی دور مےں اخلاقی تنزلی گو ہر شعبہ زندگی مےں ملتی ہے ۔ اس مہذب دور کے تہذےب ےافتہ اپنے شعبے کے ماہرےن کے کارنامے دےکھو کہ انسان تحےر کا شکار ہو جاتا ہے ۔ آج کے مسےحا صرف جےبےں کاٹنے تک ہی محدود نہےں رہے بلکہ مرےضوں کے گلے کاٹنے تک پہنچ چکے ہےں لےکن آج بھی انسانوں سے پےار کرنے والے مسےحا موجود ہےں جن کا دست شفقت پےشانی کو چھو ئے تو بخار اتر جائے بےماری ختم ہو جائے ۔ ہےں تو سب خواب کی باتےں لےکن خواب کو سچ ثابت کرنے والوں کے وجود سے دنےا ابھی خالی نہےں ہوئی ۔ وطن عزےز کے پرائےوےٹ ہسپتال چےرےٹی کے بہت کام کرتے ہےں ۔ ان پرائےوےٹ ہسپتالوں کے مالک بعض معروف ڈاکٹرز بڑی بڑی تصاوےر بنواتے ہےں لےکن اپنے ہاں ہسپتالوں مےں زےر علاج مرےضوں کی فےس کم کرنے کو تےار نہےں ۔ راقم کو ان دنوں پھر رےڑھ کی ہڈی کے قرےب اےک ابھار ہو گےا پھر ڈاکٹر سرجن عبد الخالق کے پاس پہنچا اور استفسار کےا کہ آپ سےالکوٹ مےں کہاں مرےض دےکھتے ہےں تو انہوں نے کمال شفقت سے فرماےا آپ کو جب بھی کوئی مسئلہ ہو ےہاں گورنمنٹ کے ہسپتال ہی آناہے ۔ وطن عزےز مےں تو اس کے برعکس مسےحا مرےضوں کو ےہی ےقےن دلانے کی سعی کرتے رہتے ہےں کہ ان کے پرائےوےٹ ہسپتال سے نکلنے کا انجام ےقےنی موت ہے ۔ اسی تبلےغ کے باعث مرےض ان کے ہاتھوں مےں کٹھ پتلےاں بنے ان کی ہداےات پر عمل پےرائی پر مجبور ہےں ۔ اےلوپےتھی ادوےات اےک دہائی سے زےادہ راقم کے استعمال مےں ہےں ۔ ان کی بھرمار کسی نئی بےماری کی وجہ بنتی ہےں کےونکہ ےونانی کے برعکس اےلو پےتھی والے اپنی زود اثر ادوےات کے بعض ناگوار اثرات سے نجات نہےں پا سکے مگر اس کے باوجود فوری علاج اےلو پےتھی کے پاس ہی ہے ۔ آج کے مسےحا اپنی مشےنوں پر سےر کرائے بغےر مرےض کی فراغت کو ممکن نہےں بناتے اتنی مہنگی مشےنوں کو جب تک استعمال نہ کرےں ان کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں ۔ خلق خدا پر اےک قہر تو بےماری نے توڑا ہوتا ہے دوسرے ےہ مسےحا بلا ضرورت ٹےسٹوں کی بھرمار کر دےتے ہےں اور واضع طور پر لےبارٹی بھی مشروط کر دےتے ہےں ۔ تمام مرےضوں سے ڈاکٹر صاحب کی شفقت دےکھ کر ےہ محسوس ہوا کہ ےہ دنےا اگر ڈھارس بندھانے والوں سے خالی ہو جائے تو شائد اس کا وجود ہی ختم ہو جائے مصےبت و تکلےف مےں ہمدردی کے دو بول ہی کافی ہوتے ہےں مصائب زدہ انسان انہےں نہےں بولتے جو ان کی مدد کےلئے آگے بڑھتے ہےں ۔ ڈاکٹر صاحب کا خلوص نےت ،انسانےت کےلئے فلاح و خدمت کا موثر جذبہ ،اپنے پےشہ سے لگن جےسے اوصاف ہی ہےں جن سے متاثر ہونا انسانی بشری تقاضا ہے ۔ دعا ہے کہ ا;203; تعالیٰ وطن عزےز کے ہر مسےحا کو ان خوبےوں سے متصف کرے ۔ آمےن کالم کو سمےٹنے سے قبل حکومت کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں مےں مفت تشخےصی ٹےسٹوں کی سہولتوں کا خاتمہ اور ٹےسٹوں کے نرخوں مےں سو فےصد اضافہ کر دےا گےا ہے جس نے کم آمدنی والے طبقے پر ہی بوجھ ڈالا اور غرےب عوام کی مشکلات مےں اضافہ کےا ہے ۔ ےہ اقدام اصلاح کا متقاضی ہے اس پر نظر ثانی کی جائے ۔

Google Analytics Alternative