Home » 2019 » September » 03 (page 4)

Daily Archives: September 3, 2019

ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار بہترین مصالحہ

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق 2016 میں 16 لاکھ اموات ذیابیطس کے باعث ہوئیں اور وہ اس برس اموات کی 7 ویں بڑی وجہ بننے والا مرض تھا۔

2017 کے ایک سروے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پونے 4 کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھا یا پانچواں پاکستانی اس موذی مرض میں مبتلا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے دارچینی، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دارچنی کا استعمال انسولین کی حساسیت بڑھا کر ذیابیطس ٹائپ ٹو کی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مصالحے سے وہ خلیات متحرک ہوتے ہیں جو گلوکوز کو استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ دارچینی کھانے سے جسم یں انسولین کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہے جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے جس سے گلوکوز کو پراسیس کرنے میں مدد ملتی ہے۔

درج ذیل میں چند طریقے دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے دارچینی کو غذا میں استعمال کرکے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پانی میں ملائیں

صبح نہار منہ سادہ پانی میں چٹکی بھر دارچینی کو شامل کرکے ابالیں اور پھر اس گرم پانی کو پی لیں، اس سے نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ اضافی چربی گھلانے میں بھی مدد دے گا۔

چینی کا اچھا متبادل

دارچینی کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے تو اسے قدرتی سویٹنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ چینی کا صحت بخش متبادل بھی بن سکتا ہے، یعنی میٹھی اشیا جیسے حلوہ یا کھیر وغیرہ میں کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

چائے میں شامل کریں

چائے میں دارچینی کو ملانے سے اس گرم مشروب کا ذائقہ اچھا ہوجاتا ہے جبکہ صحت کو الگ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

دلیے میں شامل کریں

اگر ناشتے میں دلیہ کھانے کے عادی ہیں تو کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کو شامل کرلیں، جو ذائقہ بھی بہتر بنائے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

لوگ ایسے گھورتے ہیں جیسے وہ لباس پھاڑ کر سب کچھ دیکھ رہے ہوں، میا خلیفہ

قابل اعتراض اور فحش مناظر فلم بند کروانے والی سابق اداکارہ، سوشل میڈیا اسٹار اور اسپورٹس اینکر میا خلیفہ نے گزشتہ ماہ 15 اگست کو ایک انٹرویو کے دوران پہلی مرتبہ پورن انڈسٹری کے حوالے سے کھل کر بات کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

میا خلیفہ کا کہنا تھا کہ پورن انڈسٹری میں لڑکیاں مجبوری کے تحت آتی ہیں اور ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے ایسی فلمیں بنانے والے ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے ماضی پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ وہ مجبوری کے تحت فحش فلموں میں گئیں اور اب تک انہیں اپنے ماضی پر شرمندگی ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ انہوں نے پورن فلموں میں کام کرنے سے محض 12 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی لگ بھگ 15 لاکھ روپے کمائے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ فحش فلموں میں کام کرنے والی اداکاراؤں کو کثیر رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

اور اب انہوں نے اپنے ماضی اور حال کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پورن انڈسٹری کو چھوڑے جانے کے باوجود آج تک انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ میں بات کرتے ہوئے میا خلیفہ کا کہنا تھا کہ انہیں انڈسٹری چھوڑے ہوئے 4 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا لیکن اب بھی ان کا نام اسی انڈسٹری سے جوڑا جاتا ہے اور انہیں ماضی جیسا ہی سمجھا جاتا ہے۔

میا خلیفہ کے مطابق انہیں شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ ہر انسان سے زندگی میں کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی کبھی بھی معافی نہیں ملتی اور شاید ان سے ایسی ہی ایک غلطی ہوگئی۔

اداکارہ و سوشل میڈیا اسٹار نے بتایا کہ فحش انڈسٹری میں کام کرنے کے بعد جہاں انہیں اپنے اہل خانہ نے دور کرتے ہوئے لاتعلقی کا اظہار کیا، وہیں انہیں سماج میں بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

میا خلیفہ نے کہا کہ انہیں آج بھی لوگ ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ ان کا لباس پھاڑ کر ان کے پورے جسم کو دیکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ایسے رویے کی وجہ سے انہیں سخت ذہنی اذیت اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔

اداکارہ نے تسلیم کیا کہ بچپن میں ان کا وزن زیادہ تھا — اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
اداکارہ نے تسلیم کیا کہ بچپن میں ان کا وزن زیادہ تھا — اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

انہوں نے اپنے ماضی سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ گریجویشن کے بعد پورن انڈسٹری میں آئیں اور ایک شخص نے انہیں ماڈلنگ کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔

میا خلیفہ کے مطابق انہیں ماڈلنگ کی پیش کش کرنے والے شخص نے پہلی بار انہیں نہیں بتایا تھا کہ وہ فحش فلموں کے لیے انہیں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اس شخص کے ساتھ امریکی ریاست میامی کے ایک اسٹوڈیو میں گئیں تو وہاں ہر چیز انتہائی صاف ستھری تھی اور ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا، کسی طرح بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہاں کچھ برہنہ ماڈلنگ بھی ہوتی ہے۔

میا خلیفہ کے مطابق وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی مرد ان میں دلچسپی نہیں لیتا تھا—اسکرین شاٹ/یوٹیوب
میا خلیفہ کے مطابق وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی مرد ان میں دلچسپی نہیں لیتا تھا—اسکرین شاٹ/یوٹیوب

میا خلیفہ کے مطابق انہیں اسٹوڈیو میں جا کر پتہ چلا کہ انہیں پورن ماڈلنگ کے لیے کاسٹ کیا گیا ہے اور پھر جب انہوں نے پہلی بار ماڈلنگ کی تو انہیں دوسری بار بھی وہی ماڈلنگ کرنے کی پیش کش کی گئی اور پھر ان سے معاہدہ کیا گیا۔

میا خلیفہ نے بتایا کہ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا جب وہ لبنان سے تاریخ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا منتقل ہوئی تھیں اور گریجویشن کے پہلے ہی سال میں ان کے جسمانی خدوخال بے حد تبدیل ہوئے۔

میا خلیفہ نے اسپورٹس اینکر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں—اسکرین شاٹ/یوٹیوب
میا خلیفہ نے اسپورٹس اینکر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں—اسکرین شاٹ/یوٹیوب

ان کے مطابق وہ بچپن سے ہی بھاری بھر کم تھیں اور اضافی وزن ہونے کی وجہ سے وہ مخالف جنس کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی تھیں، تاہم امریکا میں آتے ہی ان کا وزن کم ہونے لگا اور وہ پرکشش ہوگئیں۔

انہوں نے پورن انڈسٹری میں کام کرنے کو اپنی سب سے بڑی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہ انڈسٹری چھوڑے ہوئے بھی 4 سال ہوگئے لیکن لوگ اب بھی ان کا تعلق فحش انڈسٹری سے جوڑ دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان سے تعلق رکھنے والے کیتھولک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والی میا خلیفہ انتہائی کم عمری میں اہل خانہ سمیت امریکا منتقل ہوگئی تھیں، جہاں انہوں نے 2014 کے اختتام اور 2015 کے آغاز کے دوران چند ماہ تک فحش فلموں میں کام کیا تھا۔

فحش فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے انہیں شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئیں، جس کے بعد انہوں نے انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا۔

چند ماہ تک پورن انڈسٹری میں کام کرنے والی میا خلیفہ انتہائی کم وقت میں دنیا بھر میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مشہور ہوگئی تھیں جبکہ انہیں اس انڈسٹری کی نمبر ون اداکارہ بھی قرار دیا گیا تھا۔

فحش فلم انڈسٹری میں لڑکیوں کا استحصال ہوتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
فحش فلم انڈسٹری میں لڑکیوں کا استحصال ہوتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
Google Analytics Alternative