Home » 2019 » September » 04

Daily Archives: September 4, 2019

قرض معاف کرنے کے حوالے سے حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کیا جارہا ہے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 208  ارب روپے معاف کرنے کے حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، پہلے اسلامی کیلنڈر کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کابینہ ارکان کی جانب سے عوامی فلاح کے منصوبوں پر تجاویز دی گئیں جب کہ کابینہ ارکان نے مختلف کمپنیوں کو 208 ارب روپے معاف کرنے پر سوالات اٹھا دیے، اجلاس میں گیس انفراسٹرکچر سرچارج کی مد میں 208 ارب روپے معاف کرنے پر طویل بحث ہوئی اور حکومتی معاشی ٹیم نے کابینہ ارکان کو معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشی ٹیم 208 ارب روپے معاف کرنے کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے رکھے، قرض معاف کرنے کے حوالے سے حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کیا جارہا ہے، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کے حوالے سے حقائق بتانا ضروری ہیں، قومی خزانے کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے، کسی کو نہیں نوازا جائے گا۔

اجلاس میں کابینہ نے وفاقی تعلیمی اداروں کے ملازمین کی مستقلی کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، میٹی دیگر اداروں میں بھی ڈیلی ویجز ملازمین کے حوالے سے بھی فیصلہ کرے گی، جب کہ اسلامی کیلنڈر کا معاملہ وزارت مذہبی امور کو بھجوادیا گیا، وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔

 

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کل پاکستان پہنچیں گے

 اسلام آباد: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کل پاکستان پہنچیں گے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس کے دوران مسئلہ کشمیر بھی زیر بحث آئے گا۔

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کل ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کریں گے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید بن سلطان النہیان بھی کل پاکستان کے دورے پر پہنچیں گے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو آج فون کرکے مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا ہے اور انہیں وہاں کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو ہفتوں میں یہ تیسرا رابطہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ ہوگیا، کشمیری فاقوں کا شکار

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بہیمانہ پابندیوں اور لاک ڈاؤن کو ایک ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے بھارتی کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ذرائع نقل و حمل اور ہر طرح کے مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ دکانیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں جس کے نتیجے میں کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا ہے۔

5 اگست سے ٹی وی، انٹرنیٹ، اخبار اور فون کی بندش سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوچکا ہے۔ قابض فوج نے کشمیریوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل کردیا ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی چیزوں، ادویات اور دیگر ضرورت کی اشیائے کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کشمیری ایک انسانی بحران سے دوچار ہوگئے ہیں۔

بھارتی حکومت نے آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں سے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کردیا ہے جب کہ ریاست کو دو حصوں میں بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔

کرفیو کی وجہ سے جموں و کشمیر کے تاجروں کو مالی طور پر کم از کم 500 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جو کشمیریوں کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔

رواں سال جون جولائی میں سوا تین لاکھ سیاحوں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اگست میں یہ تعداد صفر ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کشمیری دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں پہلے سے 7 لاکھ بھارتی فوج تعینات تھی اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے باعث مزید 70 ہزار بھارتی فوج تعینات کی گئی ہے جو کشمیریوں کے احتجاج کو پوری طاقت سے کچلنے میں مصروف ہے۔ آئے روز عالمی میڈیا کے ذریعے کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

اس ساری صورتحال سے یہ نظر آرہا ہے کہ بھارتی حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیریوں کو معاشی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے۔

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اس نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم عالمی برادری محض زبانی کلامی باتوں تک محدود ہے اور کشمیریوں کی مدد کے لیے عملا کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔

مسائل جنگوں سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتے ہیں

کسی بھی مسئلے کا حل جنگ نہیں ہوتی ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کیے جاتے ہیں ، جن ملکوں کے مابین جنگیں ہوئیں وہاں پر نقصان اور بربادی کے سوا کچھ بھی دیکھا جاسکتا ۔ آج تک وہاں بربادی، ماتم کناں ہے، ترقی معدوم ہوچکی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں ، انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوچکا ہے ۔ جب بھی کسی ملک میں جنگ ہوتی ہے تو اس تباہی کو سمٹینے کیلئے کئی دہائیاں ضرورت ہوتی ہیں ۔ ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے گئے تھے وہاں پر تاریخ گواہ ہے کہ کتنے برے حالات ہوئے ، کتنی دہائیوں تک بچے معذور پیدا ہوتے رہے ۔ آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں ۔ لہذا مودی کی ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کی وجہ سے دوبارہ سے خطہ ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے ۔ یہاں ذرا سی بھی لغزش پوری دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک دے گی ۔ مقبوضہ وادی میں جو انڈیا اس وقت کرفیو نافذ کررکھا ہے وہ جوالامکھی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اسی وجہ سے پاکستان بار بار دنیا کو باور کرانا چا رہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کردارادا کرے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ،پاکستان اوربھارت نیوکلیئر ملک ہیں اور اگر دونوں میں ٹینشن بڑھتی ہے تو دنیا کو خطرہ ہے ، ہماری طرف سے کبھی بھی پہل نہیں ہو گی،;200;رایس ایس کے نظریات کے خلاف ;200;واز اٹھانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کو خطرہ ہے ،کشمیریوں کے ساتھ اس وقت جو سلوک ہو رہاہے اگر اس کی جگہ سکھوں سے ایسا سلوک ہوتا تو میں تب بھی بھرپور ;200;واز بلند کرتا ، سکھوں کو ملٹی پل ویزے دیں گے اور مزید ;200;سانی پیدا کرینگے، یہ کوشش بھی ہو گی کہ ائیر پورٹ پر ہی ویزا ملے ۔ گورنر ہاءوس میں انٹر نیشنل سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دنیا بھر سے ;200;ئے ہوئے سکھوں کو خوش ;200;مدید کہتاہوں ۔ ;200;پ نے بتایا ہے کہ ویزے کے مسئلے ہیں ، میں ;200;پ کو یقین دہانی کراتا ہوں ان مسائل کو حل کریں گے ، ;200;پ کو ملٹی ویزے دیں گے او ر;200; پ کے لئے ہر قسم کی ;200;سانی پیدا کریں گے ۔ برصغیر میں سب سے بڑا عذاب کلائمینٹ چینچ کا ;200;نا والا ہے اورہم بم پر بیٹھے ہوئے ہیں ، گلیشیئر پگھل رہے ہیں ،اگر ہم نے مشترکہ طو رپر کچھ نہ کیا تودریاءوں میں پانی کم ہوتا جائے گا اور کروڑوں لوگ دریا کے پانی پر گزارا کرتے ہیں ۔ ایک ہی مسئلہ کشمیر کا ہے وہ ہم مذاکرات سے حل کر سکتے ہیں لیکن ;200;پ کے سامنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے جتنی بھی کوشش کی اس کے بدلے میں شرائط رکھی گئیں اورایسے کہا گیا جیسے کسی غریب ملک کو کہہ رہے ہوتے ہیں اور میں اس پر حیران تھا ۔ جنگ سے مسئلے حل ہوتے نہیں ہوتے ۔ ایک کوئی جنگ جیتا ہے تو اس کے لئے چار اورمسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اگر کوئی جیتے بھی تو وہ ایک طرح سے ہار گیا ۔ میں قائد اعظم کو داد دیتا ہوں کہ وہ سمجھ گئے تھے تب انہوں نے پاکستان کی بات کی تھی ،ہندوستان میں جو ہو رہا ہے مجھے اس سے خوف ;200;رہاہے ۔ ;200;ر ایس ایس ہندوستان کو جس طرف لے کر جارہی ہے اس سے واضح ہے وہاں کسی اقلیت کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔ ;200;ج مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ،20کروڑ مسلمان ڈرتے ہیں کیونکہ وہ انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں ، اگراسے روکا نہ گیا تو یہ سب اقلیتوں کو تنگ کرےں گے ، یہ کسی اقلیت کو نہیں بخشے گی ۔ ;200;ر ایس ایس کے بانی ہٹلر کے نظریے کے پیرو کار تھے ،;200;ج بھی ;200;ر ایس ایس ہٹلرکے نسل پرستانہ نظریے پر عمل پیرا ہے اور اس سے ہندوستان کے لوگوں کوخطرہ ہے ۔ ;200;ر ایس ایس کے تربیت یافتہ لوگ جاتے ہیں اورلوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، جو ان کے نظریے کے خلاف جائے اسے غدار کہہ دیتے ہیں ۔ ہم کوشش کررہے ہیں ۔ سب کو اس نظریے کےخلاف ;200;واز اٹھانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کو خطرہ ہے ۔ دونوں نیوکلیئر ملک ہیں اگرٹینشن بڑھتی ہے دنیا کو خطرہ ہے ۔ ہماری طرف سے کبھی بھی پہل نہیں ہو گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں جو صورتحال ہے اسے کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ;200;پ 27دن سے 80لاکھ لوگوں کو بند کردیں ،اسے قبول نہیں کر سکتے ۔ اگر کشمیریوں کی جگہ سکھ ہوتے تب بھی ;200;واز بلند کرنی تھی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں صحت سے حوالے سے بھی اجلاس منعقدہوا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب ہسپتالوں میں عوام کا رش دیکھتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتاہے ۔ پنجاب کے بڑے ہسپتالوں کو ٹھیک کریں ،ہسپتالوں میں عوام کا بہت رش ہوتا ہے انہیں مزید سہولیات دینی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کے تصفیہ طلب معاملات کے ایکشن پلان پر عملدر;200;مد کے حوالے سے جلد از اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ اس نظام کی بدولت عوام الناس کو بھرپورسہولت میسر;200;ئے گی اور وہ تھانہ کچہری کی روایتی پریشانیوں سے بھی محفوظ رہیں گے اور عوام میں پولیس کا امیج بھی بہتر ہوگا ۔ خیبر پختونخواہ میں ہماری صوبائی حکومت نے اس ضمن میں بہترین اقدامات اٹھائے جس پر لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ماحولیاتی ;200;لودگی کی وجہ سے عوام صحت کے مسائل کا شکار ہو گئے ہیں ، اس ضمن میں ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا اور ملکی دفاع میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ وزیراعظم نے ایئر ہیڈ کوارٹر میں یادگار شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی ۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا ۔

پاک فوج سے بھارتی فوج خوفزدہ

بھارت چاہے جتنے بھی ظلم و ستم ڈھالے ،کرفیو نافذ کرلے،قتل و غارت گری کرلے، اغواء کرلے، گرفتاریاں کرلے، جیلیں بھر لے، زندگی کی بنیادی سہولیات پر پابندی عائد کردے، حتیٰ کہ تمام حدود بھی کراس کرلے پھر بھی مقبوضہ وادی کے لوگ کسی صورت بھارت کا تسلط تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ اتنی زیادہ پابندیوں کے باوجود وادی میں کشمیریوں نے پاک فوج کے تر جمان کی تصاویر آویزاں کردیں ، بھارتی آرمی چیف بھی اس بات کو تسلیم کررہا ہے کہ سوشل میڈیا وار میں پاک فوج نے بھارت کو بری طرح شکست دی ہے ۔ پاک فوج اس وقت بھارت کیلئے ایک ڈراءونا خواب بن چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز آویزاں کردئیے گئے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی شاہراہوں اور گلیوں میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز اور ہینڈبلز آویزاں کیے گئے ہیں ۔ پوسٹرز میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کشمیریوں کےلئے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے کا بیان تحریر کیا گیا ہے ۔ پوسٹر میں حریت رہنماؤں کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ کشمیری زمین پر جنت اپنے وطن سے بھارت کو نکالنے کے لیے شانہ بشانہ ہوں گے اور جنت غاصب بھارتی فوج کا مسکن نہیں بن سکتی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاوَن کی صورتحال ہے جہاں میڈیا کے نمائندوں کا داخلہ بھی بند ہے ۔

بھارتی آرمی چیف کا اعتراف شکست

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے انفارمیشن وار فیئر میں پاکستان کی جیت کا اعتراف کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے ریٹائرڈ فوجی افسران کو سوشل میڈیا پر محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ پاکستان انفارمیشن وار میں بھی دشمن کے چھکے چھڑا رہا ہے ۔ لہذا بھارتی آرمی چیف نے بھارتی فوج ے ریٹائرڈ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سائبر واریرز سے چوکنار ہیں ۔

بپن راوت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ گزشتہ ہفتے بھارت کی آپریشنل معلومات لیک ہوئی ہیں اسی لیے سیکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ۔ اس سے قبل سابق بھارتی لیفٹینٹ جنرل بھی انفارمیشن جنگ کے میدان میں پاکستان کی جیت کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس پی آر نے پاکستان کے لیے بہترین کام کیا اس پر انہیں پورے نمبر دینا چاہوں گا ۔ جس طرح انہوں نے معلومات شیئر کرنے میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کیا ۔ بھارت میں سب آئی ایس آئی کو جانتے ہیں لیکن آئی ایس پی آر سے غافل ہیں ۔ صرف میرے جیسے لوگ ہی آئی ایس پی آر کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ آئی ایس پی آر نے پاکستان کے لیے شاندار کام کیا ۔ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں کشمیریوں کو بھارتی فوج اور بھارتی قوم سے دور کر دیا ۔ جنرل بپن راوت نے بالآخر اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ وادی کے حالات بہتر کرنے کا طریقہ صرف امن ہی ہے ۔ مجاہدین بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے ۔ وادی کے زیادہ تر لوگ امن چاہتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ وہ بھارتی ہیں ۔ کشمیریات کا تصور واپس لانے کی ضرورت ہے ۔

موجودہ پاک بھارت کشیدگی اور جنگی حالات میں بھارتی ائیر چیف نے اپنی فضائیہ کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور اپنے ہی ادارے کا پول کھولتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کتنی قابل ہے ۔ بھارتی ائیر چیف کا کہنا ہے کہ ہم 44 سال پرانے 21 مگ طیارے استعمال کر رہے ہیں ۔ اتنی پرانی تو کوئی گاڑی بھی نہیں چلاتا ۔ بھارتی ائیر چیف کا کہنا تھا کہ مگ طیارے اب بہت پرانے ہو چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ سری نگرکی شاہراہوں ، گلیوں میں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفورکے پوسٹرز، ہینڈ بلز لگ گئے ہیں ۔ پوسٹرز پر کشمیریوں کے لئے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے کی تحریر درج ہے ۔ ان پوسٹر پر بھارتی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اور واویلا شروع کر دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کیسے وہ لہو رائیکاں جانے دیں جو کشمیرکی آزادی کیلئے بہاہے ۔ کشمیرکیلئے تین جنگیں لڑی ہیں چوتھی کیلئے بھی تیار ہیں ۔ جنگ ہوئی تو ملک کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا ۔ جنگ ہوئی توشدت پوری دنیا میں محسوس کی جائے گی ۔ بھارت اور مووی آگ سے کھیل رہے ہیں خود اس میں جلیں گے ۔ آج کشمیر میں کوئی بھارت کا نام لینے کو بھی تیار نہیں ۔

بھارت کشمیر کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرناچاہتا ہے ۔ کشمیریوں کے دلوں میں تو پاکستان رہتا ہے ۔ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔ پاکستان امن کے قیام کیلئے برسر پیکار ہے ۔ وزیراعظم نے کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھے پاکستان دو قدم بڑھے گا ۔ پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرکے امن پسندی کو ثبوت دیا ۔ اب بھارت کی باری ہے اگر بھارت بھی امن پروگرام کے تحت کشمیریوں کا حق خود ارادیت قبول کر لے تو تمام مسائل خود ہی حل ہو جائیں ۔ کیونکہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی مودی سرکار کے پیدا کردہ حالات کے باعث ہم ہمہ وقت حالتِ جنگ میں ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرکمان عساکر پاکستان دفاع وطن کے تمام تقاضے نبھانے کیلئے چاک و چوبند اور ہمہ وقت تیار ہیں ۔ بھارت ہماری سلامتی کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کریگا تو اسکی آنکھیں پھوڑنے اور بازو مروڑنے کی عساکر پاکستان میں مکمل صلاحیت ہے ۔ بھارتی خطرات سے عہدہ برا ہونا بہرصورت عساکر پاکستان کی ہی ذمہ داری ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی بھارتی سازش کا کشمیری عوا م بھی موَثر جواب دے رہے ہیں اور پاکستان اور اسکے عوام آزادی کشمیر کی جدوجہد میں کشمیری عوام کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں ۔ آج مودی سرکار کی حماقتوں اور جلدبازی سے مسئلہ کشمیر زندہ اور اجاگر ہوکر اقوام متحدہ کیلئے کور ایشو بن چکا ہے ۔ ہر پاکستانی کی یہی تمنا ہے کہ بھارت ہماری سلامتی پر وار کریگا تو صفحہ ہستی سے مٹ جائیگا ۔

فوجی قوت سے زیادہ طاقتور اخلاقی قوت ہوتی ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوجی قوت سے زیادہ طاقتور اخلاقی قوت ہوتی ہے اور ایمانداری سے اپنا جائزہ نہیں لیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سندھ کے نوجوانوں کے نمائندہ وفد نے آئی ایس پی آر کا دورہ کیا جہاں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ان سے گفتگو کی۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ سندھ پاکستان کی جان ہے اور ملک بنانے میں سندھ نے اہم کردار ادا کیا، ہم نے ملک کو وہاں لے جانا ہے جو اس کا حق بنتا ہے، اگر ہم ایمان داری سے اپنا جائزہ نہیں لیں گے تو کوئی اور ہماری مدد نہیں کرے گا، ہم نے پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو میرٹ کی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔

جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ کوئی مذہب دوسروں کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا اور فوجی قوت سے زیادہ طاقتور اخلاقی قوت ہوتی ہے، ہم نے کراچی کو دہشت گردوں سے آزاد کرایا، پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ نوجوانوں نے پاکستان کی قیادت کے لئے ترجیحات طے کرنی ہیں اور بطور لیڈر پاکستان کی سمت کاتعین کرنا ہے، ہماری مائیں ایسی ہیں جو ملک پر جان نچھاور کرنے والے بچے پیدا کرتی ہیں اور ہمارے جوان ایسے ہیں کہ پسینہ مانگتا ہوں تو وہ خون دیتے ہیں۔

پی سی بی کا قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچز کا نام کل جاری کرنے کا اعلان

 لاہور: پی سی بی نے قومی ٹیم کے ہیڈکوچ اور بولنگ کوچ کا نام کل جاری کرنے کا اعلان کردیا۔

پی سی بی ترجمان کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈکوچ اور بولنگ کوچ کے لیے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اب بدھ کو منظوری پانے والے کوچز کے ناموں کا اعلان کردیا جاے گا۔

پہلے مرحلے میں پریس ریلیز کے ذریعے نام جاری کیے جائیں گے اس کے بعد ہیڈکوچ پریس کانفرنس کرکے اپنے پلان سے میڈیا کو بریف کرنے کے ساتھ مختلف سوالات کے جوابات بھی دیں گے۔

پی سی بی کے پانچ رکنی پینل وسیم خان، ذاکر خان،انتخاب عالم، بازید خان اورممبر گورننگ بورڈ اسد علی نے مصباح الحق، ڈین جونز ، محسن خان اور جوہان بوتھا کے ہیڈکوچ کے لیے انٹرویو کیے تھے ۔وقاریونس بولنگ کوچ کے لیے انٹرویو دینے والے واحد امیدوار تھے۔

بھارت کے ہندوتوا نظریے کے خلاف کھڑے ہونا ہماری پالیسی ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کے ہندوتوا نظریے کےخلاف کھڑے ہونا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خارجہ پالیسی کئی اداروں کی مدد سے بنائی جاتی ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی اندرونی اور بیرونی معاملات کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے، خارجہ پالیسی میں ترجیحات کا تسلسل رکھا گیا ہے، بہترین خارجہ پالیسی سے پاکستان تنہائی سے نکل آیا ہے۔

بھارت 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کو جیل بنے ہوئے 4 ہفتے گزر چکے، کشمیری ایک ماہ سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وادی کے نہتے عوام مسلح قابض فوج کا مقابلہ کررہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو بھی نظربند کردیا گیا ہے، بھارتی اقدام پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے، بھارتی مظالم پر برطانوی پارلیمنٹ، یورپی یونین، او آئی سی، اقوام متحدہ اور دیگر ادارے بھی بول رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمسایوں سے پرامن اوراچھے تعلقات ہماری ترجیح ہے، مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے مستقل حل چاہتے ہیں، نریندرمودی ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہے، ہندوتوا نظریے کےخلاف کھڑے ہونا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، خدشہ ہے بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کےلیے کوئی مس ایڈونچر کرسکتا ہے اور پاکستان اپنے دفاع کےلیے مکمل تیار ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی کے علاوہ دوطرفہ تجارت اور سمجھوتہ ایکسپریس بھی بند کردی ہے۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزرات خزانہ سے زیادہ مجھے ایف اے ٹی ایف کا بخار چڑھا ہوا ہے کیونکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ہماری معیشت پر گہرا اثر ہے ،پاکستان کومتاثر کرنے کے لئے بھارت پوری کوشش کررہا ہے، ایف اے ٹی ایف ایشو پر ترک وزیر خارجہ سے بات کی ہے اور مزید کئے ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی بات کروں گا۔

Google Analytics Alternative