Home » 2019 » October » 01

Daily Archives: October 1, 2019

جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں انہیں تبدیل کررہا ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں انہیں تبدیل کررہا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم نے دورہ امریکا پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا، جب کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر حکومتی سفارتکاری پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت بدترین ظلم کررہا ہے اور ہم کشمیریوں کا مقدمہ ظلم کے خلاف جہاد سمجھ کر لڑ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف ایم این اے ارباب عامر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے وزیراعظم سے شکایت کی کہ وزرا ہمیں ملاقات کے لیے وقت بھی نہیں دیتے جب کہ حلقوں سے عوامی پریشر ہے لیکن کوئی کام ہو رہے نہ ہی بات سن رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے وزرا کو اراکین کے شکوے دور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں انہیں تبدیل کررہا ہوں، اور ارکان کے تحفظات سننے کے لیے خود ملاقاتیں کروں گا۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے نورعالم خان کی اسمبلی فلور پر حکومت پر تنقید کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ ادوار میں جب لوٹ مار ہو رہی تھی نورعالم اس وقت کیوں نہیں بولے، گزشتہ دور کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ڈالر کا ریٹ اور مہنگائی بڑھی ۔

سفیروں اور قونصل جنرل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، ملیحہ لودھی کو بھی ہٹا دیا گیا

اسلام آباد: اقوام متحدہ کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ منیر اکرم کو تعینات کردیا گیا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر مختلف ممالک میں سفیر اور قونصل جنرل کے عہدوں میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارتِ خارجہ میں نئی تعیناتیوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملیحہ لودھی کو اقوام متحدہ کی مستقل مندوب کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ منیراکرم کو تعینات کردیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ڈائریکٹر جنرل برائے اقوام متحدہ خلیل احمد ہاشمی کو جنیوا میں مستقل مندوب تعینات کیا گیا ہے، جب کہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری وزارت خارجہ محمد اعجاز کو ہنگری، احسن کے کے کو مسقط اور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق قونصلر جنرل ٹورنٹو عمران احمد صدیقی ڈھاکا میں ہائی کمشنر مقرر کیے گئے ہیں اور ان کی جگہ عبدالحمید ٹورنٹو میں پاکستانی سفارت خانے میں قونصل جنرل تعینات بن گئے ہیں۔ میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک سری لنکا میں ہائی کمشنر بن گئے  جب کہ ابرار حسین ہاشمی کو ہوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا اسد عمر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ دے دیا جب کہ ذرائع کے مطابق کابینہ میں شامل دیگر ارکان کے بھی قلم دان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عمران خان نے اسد عمر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ دے دیا۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں شامل دیگر ارکان کے بھی قلم دان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس میں اسد عمر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم این ایز میں رہتا ہوں اس لئے مسائل کا علم ہے، جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسد آپ کے پاس ایم این ایز میں بیٹھنے کا زیادہ وقت نہیں میں چاہتا ہوں کہ اسد عمر دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل ہوں۔

اجلاس کے بعد ایکسپریس نیوز نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر سے سوال کیا کہ کیا آپ وفاقی کابینہ میں واپس آرہے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ جانتا ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 18 اپریل کو ملک کی معاشی حالت کے پیش نظر حکومت بالخصوص اسد عمر پر تنقید کی جارہی تھی، اس کے علاوہ اسد عمر کو کابینہ میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، صورت حال اس حد تک جاپہنچی تھی کہ کابینہ میں رد و بدل کی خبریں منظر عام پر آگئی تھیں جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے ہٹا دیا۔

بابر اور شنواری کی شاندار کارکردگی، سری لنکا کو 67رنز سے شکست

بابر اعظم کی سنچری اور عثمان خان شنواری کی شاندار باؤلنگ کی بدولت پاکستان نے سری لنکا کو دوسرے ون ڈے میچ میں 67رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر 10سال بعد ہونے والے پہلے ون ڈے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

اوپنرز امام الحق اور فخر زمان نے ٹیم کو 73رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا تاہم دونوں کھلاڑی زیادہ تیزی سے رنز اسکور نہ کر سکے، امام 33رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ٹاس کا سکہ  اچھا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ٹاس کا سکہ اچھا رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

فخر زمان بھی مزاحمت کرتے نظر آئے اور ٹیم کی سنچری اور اپنی نصف سنچری کی تکمیل کے بعد ہسارنگا ڈی سلوا کی دوسری وکٹ بن گئے، انہوں نے 65 گیندوں پر 54رنز کی اننگز کھیلی۔

اس کے بعد بابر اعظم کا ساتھ دینے حارث سہیل آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے عمدہ شراکت قائم کرتے ہوئے قومی ٹیم کے بڑے اسکور کی راہ ہموار کی۔

حارث اور بابر نے تیسری وکٹ کے لیے 111 رنز کی شراکت قائم کی جس کے بعد وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں حارث کی 40رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

دوسرے اینڈ سے بابر نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور لہیرو کمارا کو چوکا لگا کر ون ڈے کرکٹ میں اپنی 11ویں سنچری مکمل کی۔

کپتان سرفراز ایک مربتہ پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے جبکہ بابر اعظم 115 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

عماد وسیم بھی صرف 12 رنز بنا سکے لیکن اننگز کے آخری اوور میں افتخار احمد کے دو چھکوں کی بدولت قومی ٹیم 300 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہی۔

قومی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر 305 رنز بنائے، افتحار احمد نے ناقابل شکست 32رنز کی اننگز کھیلی۔

سری لنکا کی جانب سے ہسارنگا ڈی سلوا دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔

ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی اننگز کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا اور عثمان خان شنواری کی تباہ کن باؤلنگ کے سبب سری لنکن ٹیم صرف 28 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی۔

پانچ وکٹیں گرنے کے بعد شیہان جو سوریا اور داسن شناکا کی جوڑی وکٹ پر ڈٹ گئی اور دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے تمام پاکستانی باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

عثمان خان شنواری نے پانچ وکٹیں حاصل کیں— فوٹو: اے ایف پی
عثمان خان شنواری نے پانچ وکٹیں حاصل کیں— فوٹو: اے ایف پی

دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 177 رنز کی شراکت قائم کر کے میچ میں سری لنکا کی واپسی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کی جیت کی امیدیں بھی روشن کردیں۔

تاہم اس مرحلے پر ایک مرتبہ پھر عثمان شنواری نے کپتان کو مایوسی نہ کرتے ہوئے 96رنز کی اننگز کھیلنے والے جے سوریا کو پویلین واپسی پر مجبور کردیا، ان کی اننگز میں 7 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

ابھی سری لنکن ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ اگلے اوور میں شناکا بھی 68رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد شاداب کو وکٹ دے بیٹھے جس کے ساتھ ہی سری لنکا کی میچ جیتنے کی امیدیں بھی ختم ہو گئیں۔

اس کے بعد پاکستان کو سری لنکن اننگز کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری ٹیم 238 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

پاکستان کی جانب سے عثمان خان شنواری نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں لیں جبکہ شاداب خان دو وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

پاکستان نے میچ میں 67 رنز سے کامیابی سمیٹتے ہوئے تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں بھی 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 3 روزہ ون ڈے سیریز کا آغاز 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم جمعہ کے روز ہونے والی شدید بارش کے نتیجے میں پہلا ون ڈے منسوخ کردیا گیا تھا۔

تاہم بارش کے باعث آؤٹ فیلڈ کی تیاری میں 2 روز کا وقت درکار ہونے کے پیشِ نظر اتوار کو ہونے والے میچ کو بھی پیر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

قومی کرکٹ ٹیم میں کپتان سرفراز احمد، عابد علی، امام الحق، فخر زمان، بابر زمان، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب خان، محمد نواز، محمد عامر، وہاب ریاض،محمد حسنین، محمد رضوان افتخار احمد، آصف علی اور عثمان خان شنواری شامل ہیں۔

دوسری جانب سری لنکن ٹیم کپتان لہرو تھری مانے، دنوشکا گناتھیکالا، اوشادا فرنینڈو، سدیراسمارا وکراما، شیہان ھؤ جے سوریا، دسون شناکا، ونندو ہسارنگا، اینجیلو پریرا، مِنود بھنوسکا، اسورو اڈانا، نوان پریدپ، کسون رجیتھا، لہرو کمارا، لاکشن سنڈکن پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ کراچی کا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم 10 سال بعد کسی عالمی ایک روزہ میچ کی میزبانی کررہا ہے جس کا آغاز سہ پہر 3 بجے ہوا اس میچ کے لیے دونوں ٹیمز نے اتوار کے روز پریکٹس سیشن میں شرلت کی تھی۔

پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ کے میچ کے لیے خریدے گئے ٹکٹ 30 ستمبر یا 2 اکتوبر کو ہونے والے میچ کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے جبکہ شائقین 29 ستمبر کے میچ کے لیے خریدے گئے ٹکٹ بھی 30 ستمبر یا دو اکتوبر کے میچ میں استعمال کر سکتے ہیں۔

پی سی بی کی پالیسی کے تحت جن افراد نے اتوار کے میچ کے ٹکٹ لیے ہیں اور اگر وہ پیر کو میچ نہیں دیکھ سکے تو انہیں ان کی رقم مکمل طور پر واپس کردی جائے گی۔

مسئلہ کشمیر اورعمران خان کی بہترین سفارتکاری

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے وطن واپسی پرایئرپورٹ پر والہانہ استقبال کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قوم کی دعاءوں سے کشمیریوں پر جو مشکل وقت ہے ہم ان کا کیس قوم کی دعاءوں سے اقوام متحدہ کے سامنے بھرپور طریقے سے رکھ ;200;ئے ہیں ۔ قوم کا شکریہ اداکرتا ہوں اور خاص طور پر بشریٰ بیگم کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے میری کامیابی کیلئے بہت دعائیں کیں ۔ ہم سب مقبوضہ کشمیر میں عوام پر مشکل حالات میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، اگر پوری دنیا بھی کشمیریوں کے ساتھ نہ ہو پاکستان پھر بھی کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا ۔ یہ ایک جہاد ہے، ان پر جو بھارت ظلم کررہا ہے ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم اسطرح اپنے اللہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت 80 لاکھ کشمیریوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں قید کر کے رکھا ہوا ہے ۔ جدوجہد میں اونچ نیچ ;200;تی ہے اچھے برے وقت ;200;تے ہیں ۔ برے وقت میں گھبرانا نہیں ;200;ج کشمیر کے بوڑھے، خواتین، بچے سب ;200;پ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں اس لئے میرا وعدہ ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کرنے والی مودی کی فاشسٹ حکومت کو ہر فورم پر بے نقاب کریں گے جو میرے ساتھ 20 سال سے میرے ساتھ سفر کر رہے ہیں ان کو میں نے بتایا ہے کہ کوشش انسان کی ہوتی ہے کامیابی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ۔ ایئرپورٹ پر وزیر اعظم کی ;200;مد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ ایئرپورٹ ٹرمینل کی سیڑھیوں پر ہر طرف کارکنان اپنے قائد عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بیتابی سے ان کے منتظر رہے ۔ قبل ازیں کارکنان اور پارٹی رہنما گاڑیوں کے جلوسوں میں ایئرپورٹ پہنچے جس سے پارکنگ میں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی رہیں ۔ یواین کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے سفیرکشمیر ہونا ثابت کردیا ، انہوں نے پوری دنیا کاضمیرجھنجھوڑ کررکھ دیا، بین الاقوامی برادری کو ;200;گاہی کرادی کہ فسطائیت کے پیروکار مودی کا اصل چہرہ کیا ہے ،وطن واپسی پربھی انہوں نے بابانگ دہل خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کاساتھ دینا جہاد کے مترادف ہے چونکہ کشمیرہماری شہ رگ ہے اورجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک برصغیرکی تقسیم کا ایجنڈا بھی نامکمل ہے ، ;200;ج سے قبل شاید بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حساس ہونے کا اتنا ادراک نہیں تھا جتنا کہ عمران خان نے کرایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی عمران خان کے اقدامات اورتقریر کے بعدایک خوشی کی لہردوڑ گئی ہے ، اس وقت دنیا بھی کہہ رہی ہے کہ مودی کووادی میں ظلم وستم کاباب بندکرنا ہوگا ۔ نیزامریکہ نے بھی کہاکہ خطے میں اورمذاکرات کے لئے عمران خان کاخطاب بنیاد فراہم کرتا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ فرارحاصل کیا کیونکہ مودی ;200;ر ایس ایس کی پیداوار ہے اور دہشت گردی اس کے انگ انگ میں بھری ہوئی ہے ، ;200;رایس ایس تنظیم کابنیادی نقطہ نظر ہی مسلمانوں کوتہہ تیغ کرنا ہے اس کو روکنے کے لئے دنیا کو;200;گے بڑھنا ہوگا،اب کام صرف بیانات سے نہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور یہ چیز وزیراعظم پاکستان دنیا کو باورکرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھے گی خواہ اس کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کب تک سیاسی اور اقتصادی مفادات انسانی اور اخلاقی اقدار پر غلبہ برقرار رکھیں گے ۔ پانچ اگست کے بھارتی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی ذراءع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد عالمی رہنماءوں نے اسی لاکھ کشمیریوں کی حالت زار اور بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش کا اظہارکیا ہے تاہم بعض ملکوں نے اپنے کاروباری اور تجارتی مفادات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والے عالمی انسانی المیے پر ترجیح دی ۔ مودی کو خوش کرنے کی پالیسی اسی پالیسی کا اعادہ ہے جو دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی ایسی صورتحال میں عالمی برادری کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا دنیا اسی طرح کے المناک سانحے کیلئے تیار ہے خصوصا ایسے حالات میں جب پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں ;238; بھارت کشمیریوں کی جدوجہد ;200;زادی کو پاکستان کی زیر سرپرستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کررہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جیسے ہی کرفیو کی پابندی میں نرمی کریگا توہ وہ بوکھلاہٹ میں ایک بار پھر علاقائی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریگا ۔ بھارت تنازعہ کشمیر کو دوطرفہ معاملہ قرار دیکر موجودہ کشیدہ صورتحال پر پردہ ڈال رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دوطرفہ مذاکرات سے انکاری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال کا خمیازہ نہ صرف دونوں ملکوں ، کشمیری عوام بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا ہوگا ۔ بھارت جتنا بھی فرار حاصل کرلے بال;200;خراس کو مذاکرات کی میزپر;200;نا ہی ہوگا اور جب تک کوئی تیسرافریق اس مسئلے کو حل نہیں کراتا تو اس کاحل ممکن نہیں ۔ اب مودی نہ تو مقبوضہ کشمیرجاسکتاہے نہ کشمیریوں کے سامنے تقریر کرسکتاہے البتہ اس نے وادی پرجودنیاکی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہے اس میں مقیدلاکھوں کشمیری ;200;ج دنیا کے سامنے سوال کنہ ہیں کہ عالمی برادری ;200;خر کس بات کا انتظار کررہی ہے ۔ یہا ں ہم ایک بات اوربتاتے چلیں کہ پانچ فروری 1948 میں مودی کی دہشت گرد تنظیم ;200;رایس ایس پرپابندی عائد کردی گئی تھی یہ پابندی ان پراس وقت لگائی گئی تھی جب ;200;رایس ایس کے دہشت گردوں نے گاندھی کوقتل کیاتھا اس اعتبار سے بھی دیکھاجائے تو یہ تنظیم دہشت گرد ہے اس تنظیم کے رہنما کرشن گوپال نے باقاعدہ تسلیم کیاہے کہ ہاں ہم دہشت گرد ہیں مودی بھارت اور ;200;رایس ایس ایک ہی ہیں اب اس کے بعد ایسی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی جس سے ان کا دہشت گرد ثابت ہونا باقی ہو،اب یہ بات بالکل ثابت ہوچکی ہے کہ وادی اوربھارت میں یہ دہشت گردی پھیلارہے ہیں دنیا ;200;گے بڑھے، ان کی بربریت کو روکے ورنہ پوری دنیاخطرناک جنگ کی لپیٹ میں ;200;سکتی ہے ۔

عمران خان کے خطاب کے بعدبھارت کی بوکھلاہٹ، ایل

او سی پربلا اشتعال فائرنگ

تمام ترکاوشوں کے باوجودبھارت کاجنگی جنون کسی صورت تھمنے میں نہیں ;200;رہا، ایل او سی پروہ بلا اشتعال فائرنگ سے قطعی طورپرباز نہیں ;200;رہا ۔ گزشتہ روز لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;رکے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی کے نکیال اور رکھ چکری سیکٹرز کی شہری ;200;بادی کونشانہ بنایا جس میں تین شہری بھی زخمی ہوئے ۔ نکیال سیکٹر کے علاقے کوٹلی میں 60 سالہ خاتون اور 13 سالہ بچہ شہید ہوئے ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ کا ;200;غاز 3 بجے شروع ہوا جوساڑھے 6بجے تک جاری رہا ۔ شیلنگ سے 2گھر بھی متاثر ہوئے ۔ خیال رہے کہ بھارتی فورسز نے ;200;بادی کو ایسے وقت پر نشانہ بنایا جب وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد پاکستان پہنچے ہیں ۔ تین روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم ;200;خر تک لڑیں گے اور اس کے نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے ۔ بھارتی فوج کی جانب سے لائن ;200;ف کنٹرول اور ورکنگ باءونڈری پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے اور خاص طور پر مقبوضہ جموں اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد ایل او سی پر بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ بھارت جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے باز نہیں ;200;رہا ۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پرفائرنگ کاسلسلہ شروع کردیا ہے ،بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثرہوتے ہیں ۔ بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ پاک فوج کے جوان بھارتی فوج کی فائرنگ کابھرپور جواب دیتے ہیں جس سے دشمن کی توپیں خاموش ہوجاتی ہیں ۔ پاک فورسزکے جوان دن رات سرحدوں پرالرٹ ہیں اور وہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کابھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

ضرورت پڑنے پر لائن آف کنٹرول عبور کرسکتے ہیں، بھارتی آرمی چیف کی بڑھک

نئی دلی: بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے خود ہی مودی سرکار کے جنگی عزائم کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پیش آنے پر لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے سرحد کے اُس پار داخل ہوسکتے ہیں۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں انڈین آرمی چیف نے جارحیت پسندی اور جنگی عزائم کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب آنکھ مچولی کا کھیل نہیں چلنے دیں گے جس کے لیے ایل او سی کو پار بھی کرنا پڑ جائے تو گریز نہیں کریں گے چاہے زمینی راستہ اختیار کرنا پڑے یا فضائی کارروائی کرنی ہو یا ایک ساتھ ہی دونوں آپشنز کا استعمال کرنا پڑے۔

فوج کے سربراہ بپن راوت نے ایک مرتبہ پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹے دعوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعے اپنا پیغام پڑوسی ملک تک واضح طور پر پہنچایا تھا کہ دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا اور کسی صورت مداخلت کسی برداشت نہیں کی جائے گی۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی مدلل تقریر میں مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی صورت میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کے خدشات کے منطقی استدلال پر آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ روایتی جنگ میں بھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، کیا عالمی برادری کسی بھی صورت حال میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے گی؟

بھارتی آرمی چیف نے اپنے انٹرویو میں پاکستان پر بلاجواز اور بغیر کسی ثبوت کے نوجوانوں کو سرحد پار کرانے کا الزام بھی عائد کیا اور دوسرے ہی لمحے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر پلواما سمیت دیگر حملوں میں مقامی نوجوانوں کے ملوث ہونے کی تصدیق بھی کی۔

جھوٹ نہیں بول رہی، جنسی ہراساں کیا گیا تھا، کار ڈی بی

بولڈ ریپر، گلوکارہ و امریکی ماڈل کار ڈی بی نے چند دن قبل ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ جب ان کی عمر 20 برس تھی تب انہیں ایک فوٹوشوٹ کے ذریعے جنسی ہراساں کیا گیا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ بولڈ گلوکارہ نے خود کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف کیا تھا، اس سے قبل وہ خواتین کی جنسی ہراسگی اور انہیں استحصال کا نشانہ بنائے جانے پر بات کرتی آئی تھیں۔

کار ڈی بی ’می ٹو مہم‘ پر بھی کھل کر بات کرتی رہی ہیں اور خواتین کو درپیش مسائل کے حوالے سے سخت بیانات بھی دیتی آئی ہیں۔ تاہم ان کی جانب سے خود کو جنسی ہراساں کیے جانے کے انکشاف نے سب کو حیران کردیا تھا۔

گلوکارہ نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ پہلی بار فیشن میگزین کے لیے فوٹوشوٹ کرواتے وقت فوٹوگرافر نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتے ہوئے انہیں نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ فوٹوگرافر نے حدود پار کرتے ہوئے ان کے ساتھ فحش حرکت کرنے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے اس وقت ہی چلانا شروع کیا اور فوٹوگرافر کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا۔

کار ڈی بی کے مطابق میگزین مالک کو شکایت کرنے کے باوجود انہیں جنسی ہراساں کرنے والے فوٹوگرافر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

کار ڈی کو بھی اپنے منفرد اسٹائل کی وجہ سے بھی شہرت حاصل ہے—فوٹو: اے ایف پی
کار ڈی کو بھی اپنے منفرد اسٹائل کی وجہ سے بھی شہرت حاصل ہے—فوٹو: اے ایف پی

اداکارہ کے جنسی ہراسگی کے انکشاف کے بعد جہاں خواتین نے ان کے ساتھ ہمدردی کی تھی، وہیں متعدد مداحوں نے انہیں جھوٹا بھی قرار دیا اور ان کی باتوں پر یقین ہی نہیں کیا۔

امریکی شوبز ویب سائٹ ’پیج سکس‘ کے مطابق انسٹاگرام لائیو پر مداحوں کی تنقید پر بات کرتے وقت گلوکارہ نے خود کو جھوٹا کہنے والے مداحوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

رپورٹ کے مطابق بیشتر مداحوں نے جنسی ہراسگی کے کار ڈی بی کے بیان کو جھوٹا قرار دیا اور اداکارہ کا یقین ہی نہیں کیا۔

مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والی تنقید کے بعد کار ڈی بی نے انسٹاگرام پر لائیو ویڈیو کے دوران غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ شہری دنیا میں ’می ٹو مہم‘ کب شروع ہوگی اور کب وہاں رہنے والے افراد کو خواتین کو جنسی ہراساں کرنے سے متعلق آگاہی ملے گی۔

مداحوں کی جانب سے جنسی ہراسگی کے دعوے کو جھوٹا قرار دینے پر گلوکارہ انتہائی غصے میں دکھائی دیں اور انہیں براہ راست ویڈیو میں مداحوں کے اعتبار نہ کرنے پر چلاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

کارڈی بی کو اپنے اچھوتے لباس اور انداز کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
کارڈی بی کو اپنے اچھوتے لباس اور انداز کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام

کار ڈی بی نے خود کو جنسی ہراساں کرنے کے دعوے کو جھوٹا قرار دینے والے مداحوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں کھری کھری سنادیں۔

شوبز ویب سائٹ کے مطابق کار ڈی بی نے مداحوں کی جانب سے اعتبار نہ کرنے پر انہیں سخت جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ کیوں جھوٹ بولیں گی اور انہیں ہراساں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کار ڈی بی سے قبل متعدد امریکی گلوکاراؤں و اداکاراؤں نے خود کو جنسی ہراساں کرنے کے انکشافات کیے، تاہم کسی بھی اداکارہ و گلوکارہ کے مداحوں نے انہیں جھوٹا قرار نہیں دیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اداکارہ کو ان کے مداح ہی جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

گلوکارہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فوٹوشوٹ کے دوران ہراساں کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی
گلوکارہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فوٹوشوٹ کے دوران ہراساں کیا گیا—فوٹو: اے ایف پی

کارڈی بی نے ابتدائی طورپر سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کی، جہاں ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئے جس کے بعد انہوں نے 2015 میں گلوکاری کا آغاز کیا۔

گزشتہ 4 سال میں کارڈی بی کا نام امریکا کی معروف گلوکاراؤں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے اور وہ دنیا کے معروف ترین ریپر اور گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔

کارڈی بی نے موسیقی کے اعلیٰ ترین ایوارڈ گریمی سمیت بل بورڈز اور دیگر ایوارڈز بھی جیت رکھے ہیں۔

کارڈی بی نے 2017 میں ریپر اور گلوکار کیاری سیفس سے شادی کی اور ان سے انہیں ایک بچہ بھی ہے۔

کارڈی بی کا شمار ہپ ہاپ کی معروف ترین ریپرز میں ہوتا ہے، وہ اپنے بولڈ انداز اور پرفارمنس کی وجہ سے بھی خبروں میں رہتی ہیں۔

گلوکارہ نے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے بعد ماڈلنگ و گلوکاری کا آغاز کیا تھا—فوٹو: پیور پیپل
گلوکارہ نے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے بعد ماڈلنگ و گلوکاری کا آغاز کیا تھا—فوٹو: پیور پیپل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی آرمی چیف کی ملاقات

راولپنڈی: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودیہ عرب کے آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی اور خطے کی سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سعودی آرمی چیف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا  دورہ کیا، مہمان کو جی ایچ کیو میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جب کہ سعودی آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

بعد ازاں دونوں ہم عصر کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں باہمی اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا اور علاقائی سیکیورٹی کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے رائل سعودی لینڈ فورس کی استعداد کار میں اضافہ و تربیت کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی جب کہ سعودی آرمی چیف نے خطے میں استحکام کے لیے پاک آرمی کی کوششوں اور  پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔

Google Analytics Alternative