Home » 2019 » October » 02

Daily Archives: October 2, 2019

مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ویتنام ثابت ہوگا، سابق بھارتی جج

 لندن: بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ویتنام ثابت ہوگا۔

برطانوی جریدے ’دی ویک‘ میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے لکھا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بڑے پیمانے پر گوریلا وار کا بیج بویا ہے جس کے باعث مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ویتنام جنگ کے مترادف ثابت ہوگی۔

سابق جج نے مزید لکھا ہے کہ جو لوگ آج مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں، وہ جلد ہی وادی سے بڑے پیمانے پر لاشیں آتی دیکھیں گے۔ با لکل ویسے ہی جیسے امریکا میں ویتنام سے امریکیوں کی لاشیں آئی تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سچ بولے۔

سابق جج مرکھنڈے کاٹجو نے مزید لکھا ہے آج کے دور میں انٹرنیٹ اور موبائل ضرورت بن گئی ہے اور ہم سوچ نہیں سکتے کہ دو ماہ سے محروم کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہوگی؟ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹایا گیا تو عوامی مظاہرے پھوٹ پڑیں گے اور اگر کرفیو نہ اٹھایا گیا تو کشمیریوں کا غم و غصہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے گا۔

بھارتی جج نے مودی سرکار پر واضح کیا کہ مقبوضہ وادی بھارتی حکومت کے لیے ایک ایسی ہڈی بن جائے گی جو نہ اُگلی جائے گی اور نہ نگلی جائے گی، ایک فوج دوسرے ملک کی فوج کا تو مقابلہ کرسکتی ہے مگر عوام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بی جے پی سرکار کے اقدام سے وادی کے لوگوں میں بھارت سے نفرت پہلے سے مزید بڑھ گئی ہے۔

قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ایک نوجوان شہید ہوگیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرچ آپریشن کے دوران ضلع گندربال میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

قابض بھارتی فوج نے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی لی اور خواتین و بزرگوں سے بدتمیزی کی، سہمے ہوئے بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے لے گئے۔

نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کردیا اور مریضوں کو لینے کے لیے آنے والی ایمبولینسوں کو بھی آنے کی اجازت نہیں دی۔

واضح رہے کہ محض گزشتہ ماہ ستمبر میں قابض بھارتی فوج کی جارحیت میں 16 کشمیری نوجوان شہید ہوئے جب کہ 4 خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 25 گھروں کو مسمار کیا گیا۔

طالبان کے حملے میں 11 افغان پولیس اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان میں موٹر سائیکل سوار طالبان جنگجوؤں نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 11 افغان اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ درجن سے زائد اہلکاروں کو اغوا کرکے لے گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں موٹر سائیکل سوار طالبان جنگجوؤں نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران 11 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

طالبان جنگجو حملے کے بعد درجن سے زائد افغان پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے، افغان فوج نے حملے کی اطلاع کے بعد علاقے کا گھیراؤ کرلیا اور پولیس اہلکاروں کو بازیاب کرانے کیلیے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔

گورنر بلخ کے ترجمان نے مقابلے میں طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا گیا تاہم ہلاک ہونے والے طالبان جنگجوؤں کی تعداد اور شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن میں عوام کو انتخابات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملے کی دھمکی دی تھی۔

سرفرازاحمد کو کپتان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

لاہور:پی سی بی نے سرفراز احمد کو کپتان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ان کی جگہ بابر اعظم کو نیا کپتان بنائے جانے کا قوی امکان ہے۔

چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی کارکردگی متاثر کن نہیں اس لیے انہیں تبدیل کیا جارہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سرفراز کی جگہ بابر اعظم کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان بنانے کے امکانات روشن ہیں تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان کا اعلان پاک سری لنکا سریز کے بعد متوقع ہے۔

وزیراعظم کادورہ میرپور، زلزلہ متاثرین کی بحالی کی ہدایت

وزیراعظم پاکستان جیسے ہی یو این کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو فی الفور زلزلہ سے متاثرین کی عیادت کرنے کیلئے میرپور گئے ۔ متاثرین کو انہوں نے ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ جلد ازجلد بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں وزیراعظم کے یو این کے کامیاب دورے پرا نہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ اراکین نے کہاکہ وزیراعظم نے جس طرح کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیاہے انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ اس موقع سے عمران خان نے پھراعادہ کیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کیساتھ ہیں ۔ اس مسئلہ کو ہر جگہ اٹھاتے رہیں گے ۔ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کے خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ۔ مودی نے جس انداز سے ہٹ دھرمی قائم کررکھی ہے اس سے حالات خراب ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ صدرمملکت نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر جنگ ہوئی تو آخری دم تک لڑیں گے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ اگر اس کوتکلیف پہنچے تو کیونکر پاکستان خاموش بیٹھ سکتاہے ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے معاشی حالات مضبوط کرنے پربھی زور دیتے ہوئے کہاکہ جب تک کسی ملک کے معاشی حالات درست نہ ہوں اس وقت تک کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ مضبوط جمہوریت کیلئے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے ۔ بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے باقاعدہ عملی طورپر ون ونڈو آپریشن کاہونا ضروری ہے ۔ تجارت مضبوط ہوئی تو روزگار کے مواقع کھلیں گے ۔ نیز وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ احساس پروگرام میں غریب اور نادار لوگوں کو شامل کیا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احساس پروگرام کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس نظام ہونا چاہیے ۔ آیا کہیں اقربا پروری تو نہیں ہورہی ۔ جس کا حق ہے اس کو مل رہا ہے یا نہیں جب معاشرے میں غریب خوشحال ہوگا تو آسودگی آئے گی ۔ معاشرے میں بھی امن و امان کا دور دورہ ہوگا ۔ جن شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے ان میں تاجروں کا اعتماد بھی بحال ہونا ضروری ہے ۔ ملک میں متوازن ترقی کیلئے اس میں خواتین کی شرکت بھی ضروری ہے ویسے بھی ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے ۔ اگر ان کو نظر انداز کیا گیا تو ترقی کے مراحل مکمل نہیں ہوسکیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز میرپور میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کادورہ کیا ، میرپور ;200;زاد کشمیر میں ایک اجلاس میں وزیراعظم کو زلزلے سے جانی و مالی نقصان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہاکہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے جبکہ ;200;زاد کشمیر اور میرپور کے لوگوں سے دلی ہمدردی ہے، حکومت متاثرین کی بحالی کےلئے پیکج تشکیل دے رہی ہے ۔ زلزلہ متا ثرین کے لئے ہر ممکن اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ شہر میں بازار اور دکانیں کھلنے کا آغاز اور معمولات زندگی کی بحالی شروع ہوچکی ہے ۔ متاثرہ سڑکیں ٹریفک کے لئے کھل گئی ہیں ۔ تاہم نہر اپر جہلم پر 6 متاثرہ پلوں کی مرمت یا تعمیر شروع نہیں ہو سکی جبکہ 24 ستمبر سے میرپور کے تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ اُدھرو زیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، پارلیمانی پارٹی نے اقوام کے کامیاب دورے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا، عمران خان نے کشمیری اور پاکستانی عوام کے دل جیت لئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے دورے پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاءوں گا، مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کو بے نقاب کرتے رہیں گے، ارکان پارلیمنٹ کشمیر پر حکومتی پالیسیوں کو موثر انداز میں اجاگر کریں ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، کاروباری برادری کو تحفظ فراہم کیے بغیر معیشت ترقی نہیں کر سکتی ، تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے لئے تاجر برادری کا اعتماد بڑھانا چاہیے ، غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ خواتین کو سماجی ، اقتصادی ، ترقی میں شرکت کے لئے مراعات اور سہولیات دی جائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سابق وزیراطلاعات اور موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی ایک بار پھر وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے ۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لے کر کئی بار وزرا کے قلمدان تبدیل کرچکے ہیں ۔

آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی

فضل الرحمان کی جانب سے آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی نہیں دکھائی دے رہی، مسلم لیگ نون نے فضل الرحمان کو آزادی مارچ موخر کرنے کامشورہ دیدیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ فضل الرحمان کاکہنا ہے کہ وہ آزادی مارچ کے لئے اکیلے ہی کافی ہیں لیکن اس دوران حالات کسی اور بات کاتقاضا کررہے ہیں ۔ فضل الرحمان چونکہ زیرک اور نبض شناس سیاستدان ہیں لہٰذا وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے کیونکہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی ۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی گئی تو یہ ریڈلائن کراس کرنے کے مترادف ہوگی ۔ پیپلزپارٹی اس اقدام کے خلاف بڑی تحریک چلائی گی جس کو پوراملک دیکھے گا ۔ فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران اخلاقی حمایت سے بات آگے بڑھ سکتی ہے ایسے میں حکومت کو بھی بصیرت سے کام لینا ہوگا کیونکہ جمہوریت میں مسائل گرفتاریوں سے حل نہیں ہوتے باہمی مذاکرات سے بیٹھ کرمعاملات کو حل کی جانب لے جایا جائے جو سرحدوں کے حالات ہیں اور جس طرح وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے ایسے میں باہمی اتحادویگانگت کاپیغام دنیا کو جانا بہت ضروری ہے ۔ اگر کوئی بھی نفاق سامنے آتا ہے تو اس کافائدہ صرف اور صرف دشمن کو پہنچے گا ۔ اپوزیشن احتجاج ضرور کرے مگر سڑکوں پر نہیں ، جب جمہوریت میں پارلیمنٹ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم موجود ہوتو وہاں احتجاج کرناچاہیے ۔ جمہور نے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے اس وجہ سے ایوان میں بھیجا ہے کہ وہ وہاں جاکرعوامی، سیاسی اور ملک کو درپیش دیگرمسائل کو حل کریں نہ کہ سڑکوں پراحتجاج اور واویلامچاتے رہیں ۔ ایوان بہترین فورم ہے جہاں بیٹھ کرہرمسئلہ حل کیاجاسکتاہے ۔

سفارتی سطح پربڑی تبدیلیاں

حکومت نے مختلف ملکوں میں سفیروں کو تبدیل کیا ہے اور سفراء کوذمہ داریاں دی ہیں جن کے تحت وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور موثرانداز میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کریں گے ۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ میں اے آئی ٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد اعجاز کو ہنگری میں پاکستان کا سفیر، پیانگ یانگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے ۔ ایمبیسڈر منیر اکرم کو ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی جگہ اقوام متحدہ نیویارک میں پاکستان کا مستقبل مندوب مقرر کیا گیا ہے ۔ خلیل احمد ہاشمی ڈائریکٹر جنرل یو این وزارت خارجہ کو اقوام متحدہ جنیوا میں پاکستان کا مستقل مندوب تعینات کر دیا گیا ۔ ٹورنٹو میں پاکستانی سفارتخانے کے قونصل جنرل عمران احمد صدیقی کو ڈھاکہ(بنگلہ دیش) میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا ۔ نیامی، ناءجر میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور احسن کے کے وگن کو مسقط عمان میں پاکستانی سفیر تعینات کر دیا گیا ۔ میجر جنرل ریٹائرڈ محمد سعد خٹک کو سری لنکا میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا جبکہ عبد الحمید پاکستانی سفارت خانے ٹورنٹو میں قونصل جنرل تعینات ہوئے ہیں ۔ ابرار ہاشمی کو ہوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے ۔

سیاسی وعسکری قیادت کی ایک ہی سوچ

ہردلعزیزسیاسی قائد محترم عمران خان نے پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کا جب منصب سنبھالا تو اْنہوں نے وزیراعظم کا حلف اْٹھانے کےلئے منعقدہ اہم تاریخی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے اپنے ماضی کے انڈین کرکٹر دوستوں میں سے سنیل گواسکر،کیپل دیو اور نجوت سنگھ سدھوکو خصوصی طور پراسلام آباد آنے کی دعوت دی سنیل گواسکر اور کیپل دیو اپنی نجی مصروفیات کی باعث اس تقریب میں گو شرکت نہ کرسکے اْنہوں نے اپنا تہنیتی پیغام عمران خان کو پہنچا دیا جبکہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی اور ثقافتی امور کے ریاستی وزیرنجوت سنگھ سدھو لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستہ عمران خان کی دعوت پر دو روز کےلئے پاکستان تشریف لائے لاہور واگہ بارڈر پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے نجوت سنگھ جی کا پْرتپاک استقبال کیا یقینا نجوت سنگھ جی کی زندگی کا یہ دورہ پاکستان اپنی زندگی میں وہ خود کبھی نہ بھلا سکیں گے اسلام آباد میں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی روداد کوہم کیا دہرائیں کیونکہ سبھی باخبر اورخوب آگاہ ہیں کہ ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس اہم رنگارنگ تقریب میں پل پھر میں یکایک ایک موقع بھارت اور دنیا بھر میں آباد کروڑوں سکھوں کےلئے ایک ایسے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند آیا جسے سکھ دنیا اپنی زندگیوں کے لمحات میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی اس سنہری اور یادگار موقع کو ہم کیا نام دیں جن لمحوں میں پاکستان کی عسکری قیادت سمیت نئی منتخب ہونے والی جمہوری قیادت نے سکھ دنیا کے ہر ایک فرد کے انسانی جذبات کوبیش بہا قیمتی موتیوں میں یوں سمجھیں لادھ دیا اور ہم نے بغور دیکھا کہ اس موقع پر جب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے عالمی شہرت یافتہ انڈین سابق کرکٹراورسیاست دان نجوت سنگھ سدھو بغگیر ہورہا تھا تو جوکچھ بھی جنرل باجوہ نے سدھو جی کے کان میں سرگوشی کی تو خوشی سے اْس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اْس کے کانوں میں یکایک سریلی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگی ہونگی گھنٹیوں کی اْن اوازوں میں بابا گورونانک صاحب کے یہ بول اْسے صاف سنائی دے رہے ہونگے سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب نے اپنے پیرو کاروں کو انسانیت کی بقا اور تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے تبلیغ کرتے ہوئے کبھی یہ کہا تھا کہ ‘‘ جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں ، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا’’سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب کے انسانیت پرور اس قول میں اْن کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے ہر فرد کےلئے یہ بڑا اہم سبق پوشیدہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے دنیا میں اْس کا نام اوراْس کا کام باقی رہے گا جس نے دنیا کے انسانوں کے لئے بلا کسی امتیازی سلوک اور بلارنگ ونسل اور ذات پات سے ماورا اور بالاتر ہوکر اْن کےلئے آسانیاں فراہم کیں اور اْن کی دنیا میں رہنمائی کا انسانی فریضہ ادا کیا وہ ہی باقی رہے گا اور گمراہی خود بخود ہر صورت تاریکی اور اندھیرے کی کھائیوں میں کہیں گم ہوجائے گی، بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں سکھ روایات کے مطابق ایسے معجزنما واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوا کہ باباگورو نانک صاحب کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے بابا صاحب کے سوانح نگاروں کے مطابق، کم عمری ہی سے بابا صاحب اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے پانچ برس کی عمر میں گورونانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں ایک روایت کے مطابق کم سنی میں ہی گورونانک صاحب جب کہیں کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تو اْنہیں تیز دھوپ سے بچانے کےلئے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ایک زہریلا ناگ اْن کے سرپر سایہ کیئے رہتا تھا بابا گورو نانک کو زمانے کا عظیم ترین موجد قرار دیا جاتا ہے بابا گورونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب موجودہ پاکستان کے شہر میں 15 اپریل 1469 میں ہوئی اور اْن کی وفات22 ستمبر1539 میں پنجاب کے شہرنارووال کے نزدیکی گاوں کرتارپورہ میں ہوئی بابا گورونانک صاحب سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گوروں میں سے پہلے گروتھے ان کا یوم پیدائش گرونانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک یعنی اکتوبر ۔ نومبر میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے بابا گورونانک صاحب نے سکھ مت کے روحانی سماجی اور سیاسی نظام کر ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اور حسن سیرت پر استوار ہے بابا گورونانک صاحب سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں بڑی عزت واحترام کی حامل مذہبی شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں بابا گوروناک صاحب کی الہامی تعلیمات میں انسانیت کے احترام کو اولین مقام دیا گیا ہے آفاقی مذاہب کے علم پر دسترس رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ سکھ مت توحیدی مذہب ہے اور وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ہندوازم میں جسے اب عرف عام میں ہندوتوا کہا جاتا ہے اس دھرم میں خداءوں اور اوتاروں کی کوئی تعداد ہی نہیں ہے لہٰذا یہی وجوہ ہے کہ سکھ مت کو ہندوازم سے ملایا نہیں جاسکتا ابتدا میں جیسے کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لئے ماہ اگست غیرت مند خوشیوں اور پْرجوش والہانہ ایمانی مسرتوں کا اہم مہینہ ہے اب سے بہتربرس قبل 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی ایماندارانہ قیادت میں ایک آ زاد وخود مختار ریاست پاکستان حاصل کیا تھا چارجون کے مشہور لندن پلان کے تحت تقسیم ہند جب عمل میں لائی گئی تو پنجاب کی تحصیل شکرگڑھ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے جغرافیہ میں آگیا تحصیل شکر گڑھ میں ہی کرتارپورہ میں سکھوں کے روحانی پیشوا باباصاحب گورونانک کا سفید چاند کی مانند چمکتا ہوا مزار ہے، جیسے گرودوارہ کرتارپور کے نام سے دنیا جاننے لگی ہے، کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت 1920 سے 1929 کے درمیان 1;44#44;600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا ۔ اسی مناسبت سے اسے ;39;سری کْھو صاحب;39; کہا جاتا ہے کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا ۔ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بہت تیز رفتاری سے تعمیراتی امور کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ قارئین کو ہم یہ بتادیں کہ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا تعمیراتی کام اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا اور مقررہ مدت تک منصوبے کی تکمیل کےلئے چھوٹ بڑے کنٹریکڑوں کو ملاکرستر سے زائد کمپنیاں ایف ڈبلیواو کے ساتھ مل کر مصرف عمل ہیں کرتارپورزیروپوائنٹ سے لے کر شکرگڑھ روڈ تک سڑک مکمل کردی گئی ہے ۔ دربار صاحب میں داخلہ کےلئے دواطراف گیٹ اور تالاب مکمل کردئیے گئے ہیں لنگرخانہ،مہمان ہال،درشن استھان، ایڈمن بلاک،رہائش گاہوں اور ٹوائلٹس سمیت دیگر عمارتوں کا نوے فی صد بلڈنگ ورک مکمل ہوچکا ہے ماربل گرناءٹ لگانے کے ساتھ ساتھ دروازے، کھڑکیاں ، الیکٹرک ورک، سیوریج، واٹر پلائی اور پلمبنگ کاکام کیا گیا ہے احاطہ دربار صاحب کے سولہ میں سے بارہ پینلز میں آرسی سی کنکریٹ ڈال دیا گیا ہے تمام تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ کمپلیکس دربار،پارکنگ، سڑک اور بارڈرٹرمینل کے اردگردلینڈاسیکپنگ اور خوبصورت پودے لگانے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دوسری جانب بے حد بے رخی کی افسوس ناک صورتحال سے کون واقف نہیں دنیا کل تک شاکی تھی کہ پاکستان میں وہ وقت نجانے کب آئے گا جب اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سوچ کے تابع ہوگی مطلب یہ کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی اس خطے میں امن کےلئے بھارت سے امن بات چیت کے خواہشمند ہونگے اب جبکہ وہ وقت آگیا لیکن بھارت کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے تاحال نہیں ملے مودی سرکار نے تو خطہ میں امن کی جڑبیخ ہی اکھاڑ پھینکی ہے جس کی چرچا آجکل بھارت کی لوک سبھا میں ہرکوئی سن سکتا ہے ۔

امراض قلب سے بچنے کے لیے سرخ گوشت کا استعمال کم کردیں، تحقیق

اگر آپ زندگی میں امراض قلب کو خود سے ہمیشہ دور رکھنا اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو اپنی غذا میں سرخ گوشت کی مقدار میں کمی لے آئیں۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ناٹنگھن یونیورسٹی کی تحقیق میں 46 افراد کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں 12 ہفتوں کے لیے سرخ گوشت کی مقدار میں کمی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس دورانیے میں ان کے خون کے نمونوں کا کئی بار تجزیہ کیا گیا۔

سرخ گوشت کا استعمال کم کریدنے سے ان کے خون میں نقصان دہ سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی دیکھی گئی جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سرخ اور پراسیس شدہ گوشت میں چربی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو خون میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بڑھاتی ہے جو وقت کے ساتھ خون کی شریانوں میں جمع ہونے لگتا ہے اور رکاوٹ کے باعث ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سرخ گوشت کے ھوالے سے حالیہ برسوں میں کئی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں لوگوں کو گوشت کی جگہ سبزیوں پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔

مگر اس نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ اگر سرخ گوشت کو مکمل طور پر غذا سے نکالنے کی بجائے اس کی مقدار میں کمی لائی جائے تو صحت پر کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل فوڈ اینڈ فنکشن میں شائع ہوئے جس میں بتایا گیا کہ سرخ اور پراسیس گوشت سے مکمل منہ موڑنے کی بجائے غذا میں ان کی مقدار میں کمی لانے سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں مردوں میں 10 فیصد تک اس طریقے سے کمی لائی جاسکتی ہے جو کہ بڑی پیشرفت سمجھی جاسکتی ہے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 12 ہفتوں تک سفید گوشت، مچھلی یا متبادل غذا استمعال کرائی گئی یا ان کی غذا میں سرخ گوشت کی مقدار کو کم کردیا گیا جبکہ آغاز سے ہی غذا کو ڈائری میں درج بھی کیا گیا۔

محقق پروفیسر اینڈریو سالٹر کے مطابق بہت زیادہ چربی یا سچورٹیٹڈ فیٹی ایسڈ جو سرخ اور پراسیس گوشت میں پائے جاتے ہیں اور امراض قلب کے ساتھ دیگر سنگین امراض خصوصاً آنتوں کے کینسر کے درمیان تعلق موجود ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ گوشت کھاتے ہیں ان میں امراض قلب کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے مگر اس نئی تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ گوشت کے استعمال کی مقدار میں کمی تبدیلی بھی نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی لاسکتی ہے اور وقت کے ساتھ امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

کولیسٹرول کی سطح میں کمی کے ساتھ ساتھ محققین یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گئے کہ اس کے نتیجے میں خون میں سرخ اور سفید خلیات کی مقدار میں بھی کمی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ گوشت وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کے خلیات کو بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اگرچہ سبزیوں والی غذا سے بھی ان اجزا کا حصول ممکن ہوسکتا ہے مگر ہمارے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ گوشت کی مقدار میں کمی کے ساتھ پھلوں، سبزیوں اور دالوں کا زیادہ استعمال بھی ان اجزا کو فراہم کرسکتا ہے۔

ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں31اکتوبر تک توسیع

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کردی ہے۔

ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کردی ہے۔ ٹیکس دہندگان اب31 اکتوبر تک ٹیکس گوشوارے جمع کرواسکیں گے۔

واضح رہے کہ 30 ستمبر تک مجموعی طور پر صرف 4لاکھ 41 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے وصول ہوسکے ہیں اور ٹیکس گوشواروں کے ہمراہ ایف بی آر کو محض ڈیڑھ ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوسکا ہے۔

Google Analytics Alternative