Home » 2019 » October » 02 (page 2)

Daily Archives: October 2, 2019

فردوس جمال کے بیان پر ’’بھولے‘‘ کا رد عمل سامنے آگیا

کراچی: معروف  اداکار فردوس جمال کے بھولا کی اداکاری سے متعلق کی گئی تنقید پر عمران اشرف کا رد عمل سامنے آگیا۔

عمران اشرف نے  سوشل میڈیا پیچ پر فردوس جمال کی تنقید پر رد عمل میں  کہا کہ وہ بہت ہی با کمال اداکار ہیں اور میں اُن کی رائے اور نظریے کا احترام کرتا ہوں کیوں کہ فردوس جمال صاحب ہماری انڈسٹری کے بڑے ہیں اور یقیناً اگر فردوس صاحب  ’’ بھولے ‘‘  کا کردار ادا کرتے تو مجھ سے ہزار گناہ زیادہ بہتر کرتے۔

عمران اشرف نے سوشل میڈیا صارفین سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فردوس صاحب کی بات پر جذبات سے بھرا کمنٹ اور رائے کا اظہار نہیں کرے۔ جیسے گھر میں بڑے ہمیں سمجھانے کے لئے کچھ کہتے ہیں تو ہم بُرا نہیں مانتے ٹھیک اسی طرح فردوس جمال صاحب بھی ہمارے بڑے ہیں اور مجھے اُن کی بات کا بالکل بھی بُرا نہیں لگا بلکہ میں مزید سیکھنے کی کوشش کروں گا۔

واضح رہے کہ اداکارفردوس جمال نے عمران اشرف سے متعلق  کہا تھا ڈرامہ ’’رانجھا رانجھا کردی‘‘ میں ان کی جانب سے ادا کیا گیا بھولے کا کرداربہترین اداکاری نہیں بلکہ محض دکھاوا تھا، اورایسا کردارپہلے بھی بہت سے فنکارادا کرچکے ہیں۔

ایک اوربھارتی مسجد کی شہادت کا خدشہ

بھارت میں مسلم شناخت کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی مذہبی عبادتگاہوں کومنہدم کرنے کا سلسلہ جو بابری مسجد سے شروع ہوا تھا ، ابھی تک جاری ہے ۔ مسلم تاریخی ورثے اور مساجد کی تذلیل کی جا رہی ہے ۔ بیسیوں مساجد، قبرستانوں ، قلعوں اور دیگر تاریخی عمارات کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا چکا ہے ۔ تاریخی مساجد میں مسلمانوں کو نمازوں کی ادائیگی کی اجازت نہیں ۔ بعض مساجد میں ہندووَں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کی تصاویر لگا رکھی ہیں اور انہیں بطور مندر پوجا جا رہا ہے ۔ بھارتی شہر وارانسی میں ایک ایسی ہی تاریخی مسجد جسے عالمگیر مسجد، بنی مادھو کی درگاہ اور اورنگزیب مسجد بھی کہا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے بنوایا تھا، کو صرف اس لئے مسمار کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ بعض ہندو انتہا پسند موَرخین کے مطابق یہ مسجد ایک مندر کے کھنڈر پر بنائی گئی ہے ۔ 1192 میں تعمیر کی گئی تاریخی قوت الاسلام مسجد جسے قطب الدین ایبک نے تعمیرکروایا تھا، اس میں بھی مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں ۔ بابری مسجد کی طرح راشٹریہ سیوک سنگھ اس مسجد کو بھی مندر قرار دینے کا دعویٰ کر رہی ہے ۔ مندروں کی تعمیر اور تزئین و آرائش کےلئے محکمہ آثار قدیمہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے ۔ ہندو کبھی بھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا ۔ بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے کے بعد بھارتی جنونی ہندووَں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے بھارت کی مزید دو تاریخی مساجد کو شہید کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔ اس سلسلے میں وشواپریشد کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ بابری مسجد کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارتی مساجد پر ہندووَں کا حق ہے ۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم وشواپریشد مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے میں سرفہرست ہے ۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی تھی ۔ جہاں کہیں مسلمانوں کے نقصان کا معاملہ سامنے آتا ہے تو انتہا پسند اور فرقہ پرست ہندو تنظی میں پیش پیش ہوتی ہیں ۔ ہندوستان میں فرقہ پرست اور انتہا پسند جماعتوں میں سازشی ہندو مختلف سازشوں میں دن رات مصروف ہیں ، جو مسلمانوں کے ہر اس مفاد کو کچلنے کےلئے تیار رہتے ہیں جس میں ان کی ترقی اور خوشحالی مضمر ہو ۔ اگر بھارت اور اس کی ہندو فرقہ پرست جماعتیں اپنے زہر ایک ہی مرتبہ اگل کر ختم کر دیں تو بہتر ہے ۔ ہندوستان میں متعصب ہندوؤں نے صرف بابری مسجد ہی شہید نہیں کی بلکہ انہوں نے بعد میں پھوٹنے والے مسلم کش فسادات میں کم از کم دوہزار مسلمان شہید کئے ۔ چنانچہ مسلمانوں پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ ان کا مستقبل اب بھارت میں غیر محفوظ ہو گیا ہے اور بھارت کی ہر حکومت چاہے وہ کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسکا سیکولر ازم کا نعرہ صرف ڈھونگ ہے اور انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کےلئے ایک بہانہ ہے ۔ بھارتی سیاستدانوں اور ذراءع ابلاغ نے ہندو عوام کو اس حد تک متعصب بنا دیا ہے کہ اس نے مسجدوں اور گرجا گھروں کو نذرآتش کرنے والے دہشت گردوں اور جنونیوں کو اپنا ہیرو بنالیاہے ۔ بھارت میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کو ملیچھ، بھارت ماتا کے ٹکڑے کرنے والے اور دہشت گرد کہا جاتا ہے ۔ ان پر تعلیم، تجارت اور سرکاری ملازمتوں کے راستے بند ہیں ۔ انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ۔ تیس فیصد مسلمانوں کو سرکاری طور پر پندرہ فیصد تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ اس تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں نہ دینا پڑیں ۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے ۔ اگرچہ 2001ء میں سرکاری مردم شماری میں بھارتی حکومت نے مسلم آبادی کی شرح 13 فیصد سے معمولی کم بتائی ہے مگر غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان کم وبیش 20 کروڑ کے لگ بھگ ہیں ۔ بھارتی فوج میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ان میں سے بھی اکثر یت انڈین آرمی میں انتہائی معمولی نوعیت کے کاموں پر مامور ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت انڈین آرمی میں مسلم نمائندگی 14 فیصد کے قریب تھی جسے بتدریج کم کر کے ایک فیصد سے بھی کم کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کو علم ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کی تعمیر ایک سنگین معاملہ ہے اور بھارتی مسلمان بھی اس اقدام کو برداشت نہیں کریں گے مگر وہ اس پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ۔ اسی وجہ سے جنونی ہندووَں کی ہمت بڑھ رہی ہے اور وہ مزید مساجد کی شہادت کا سوچنے لگے ہیں ۔

شمعون عباسی کی فلم ’ دُرج ‘ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد

کراچی: اداکار و ہدایت کار شمعون عباسی کی آنے والی فلم ’دُرج‘ کی پاکستان بھر میں نمائش پر پابندی عائد کردی گئی۔

حقیقی کہانی پر مبنی فلم ’ دُرج ‘ میں شمعون عباسی نہ صرف مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ وہ ہدایت کار کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ فلم رواں ماہ خلیجی ممالک سمیت امریکا، برطانیہ، کنیڈا، ناروے اور ڈنمارک میں ریلیز ہو رہی ہے اور رواں ماہ ہی پاکستان بھر میں 18 اکتوبر کو سنیما گھروں کی زینت بننے جارہی تھی۔

سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کی پاکستان بھر میں نمائش پر پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن اب تک فلم پر پابندی کی وجوہات کے لیے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ فلم کی کہانی پاکستان میں ہونے والے ہولناک واقعے پر مبنی ہے جس میں دو بھائی مردہ انسانوں کا گوشت کھانے کے الزام میں پکڑے گئے تھے۔ فلم میں شمعون عباسی اور شیری شاہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

وہ غلطیاں جو توند سے نجات کی کوششیں ناکام بنادیں

کیا پیٹ اور کمر کے بڑھتی چربی یا آسان الفاظ میں توند سے نجات میں مشکل کا سامنا ہے؟ تو آپ اکیلے نہیں، دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔

ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک متعدد طریقوں سے لوگ توند سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس اضافی چربی کو جلدازجلد گھلایا جاسکے۔

مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود اس اضافی چربی سے نجات ممکن نہیں ہوتی اور اس کی وجہ آپ کی اپنی چند غلطیاں ہوتی ہیں۔

درحقیقت ناقص غذا کا استعمال ہی نہیں بلکہ متعدد طرز زندگی کے عناصر ایسے ہیں، جو توند کا باعث بن سکتے ہیں اور چند عام تبدیلیوں سے آپ اس چربی کو گھلانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

تو طرز زندگی میں درج ذیل عناصر کو نکال دیں تاکہ توند سے نجات پانے میں کامیاب ہوسکیں۔

درست غذا کا انتخاب نہ کرنا

صحت کے لیے نقصان دہ غذا کے نتیجے میں توند بھی تیزی سے پھولنے لگتی ہے، بہت زیادہ نشاستہ دار کاربوہائیڈریٹس اور نقصان دہ چکنائی کا استعمال جسم کے اس درمیانی حصے کو پھیلانے کا باعث بنتا ہے، اس کی جگہ سبزیوں، چربی سے پاک گوشت والے پروٹین، مچھلی، گریاں اور دیگر صحت بخش چربی کو دیں، یہاں تک کہ اجناس، شکر اور پاستا وغیرہ کی مقدار میں معمولی کمی لانا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

بہت زیادہ کھانا

صحت بخش غذا کا بہت زیادہ استعمال بھی توند نکلنے کا باعث بن سکتا ہے، کھانے کی مقدار کو محدود کرکے پیٹ کے اندر جلد میں بڑھنے والی اس چربی کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تمباکو نوشی

ہم سب کو تمباکو نوشی کے خطرات کا علم ہے اور اس کا ایک اور نقصان جان لیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ تمباکو نوشی کی عادت کے نتیجے میں شکم اور اس کے ارگرد چربی بڑھ جاتی ہے۔

تناﺅ کا شکار

جب جسم میں تناﺅ کا باعث بننے والا ہارمون کورٹیسول جسم میں گزرتا ہے تو چربی پیٹ کے ارگرد جمع ہونے لگتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے بات کریں کہ کس طرح تناﺅ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، ورزش سے بھی اس میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، مراقبہ اور یوگا بھی مددگار ہیں۔

ورزش نہ کرنا

یہ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ توند کی چربی گھٹانا آسان ہے، اگر آپ مردوں کی کمر 40 اور خواتین کی 35 انچ سے زائد ہو تو پھر ہفتہ بھر میں کم از کم 150 منٹ تک کچھ ورزش جیسے چہل قدمی یا 75 منٹ تک جاگنگ یا کم از کم ہفتے میں 2 بار جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں کو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

درست ورزش نہ کرنا

اٹھک بیٹھک کافی نہیں، آپ کو مسلز بنانے کے لیے ویٹ ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ مسلز کا مطلب کیلوریز زیادہ جلنا ہے۔ اگر آپ صرف ایک ہی ورزش کرتے ہیں تو ایروبک ورزش جیسے چہل قدمی یا دوڑنے کا انتخاب کریں، یہ چربی گھلانے کے لیے بہترین ہے اور اسے عادت بنالیں۔

میٹھے مشروبات کو پسند کرنا

میٹھے مشروبات میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کیلوریز بڑھاتے ہیں، اگر آپ ان مشروبات کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو خود کو توند کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔تو زیادہ چینی اور کیلوریز والے ان مشروبات میں کٹوتی لائیں اور ان میں انرجی ڈرنکس اور نان ڈائیٹ مشروبات بھی شامل ہیں۔

ناکافی مقدار میں پانی پینا

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ زیادہ پانی پینا جسمانی وزن میں کمی میں مدد دے سکتا ہے۔ میٹھے مشروبات کی جگہ پانی کو ترجیح دینے کا مطلب کم کیلوریز جزوبدن بنانا ہے، جس سے توند کی چربی کو گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے اور ہاں پانی واحد مشروب ہے جو جسم کو بغیر شکر یا دیگر اجزا کے بغیر ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جینیاتی کردار

جی ہاں آپ کی خاندانی تاریخ بھی موٹاپے کے امکانات پر اثرانداز ہوتی ہے، اور اس تاریخ سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ چربی کہاں ذخیرہ ہوگی، مگر پریشان مت ہو پھر بھی بچنا ممکن ہے۔ بس غذا میں کیلوریز کی مقدار اور انہیں جلانے کے درمیان درست توازن کی ضرورت ہوتی ہے، جو جسمانی وزن میں اضافے سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ناکافی نیند

رات کی نیند صحت کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کی کمی تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کی تعداد کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے، جس سے جسم میں چربی کے ذخیرے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے سونے سے کچھ دیر پہلے اپنا فون دور رکھ دیں، لیپ ٹاپ بند کردیں، سونے کا ایک وقت طے کرلیں اور ورزش کریں۔

جسمانی وزن پر بہت زیادہ توجہ دینا

درحقیقت ہوسکتا ہے کہ توند کی چربی میں کمی آئی ہے اور آپ کو اس کا احساس ہی نہ ہوا ہو۔ اگر آپ متوازن غذا کا استعمال کررہے ہیں اور ورزش کررہے ہیں تو یاد کریں کہ کچھ عرصے پہلے آپ کی کمر کا سائز کیا ہے، یہ اس سے زیادہ اہم ہے جو اسکیل آپ کو بتاتا ہے، اگر کمر کی پیمائش پہلے سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ توند کی چربی کی کچھ مقدار مسلز سے بدل گئی ہے۔

فردوس جمال نے بھولے کی اداکاری پربھی سوال اٹھادیئے

لاہور: اپنی اداکاری سے سب کو محظوظ کرنے والے بھولے کو کس نے نہیں سراہا تاہم اداکارفردوس جمال نے ماہرہ خان کے بعد اب ایک بارپھرعمران اشرف پر وارکرنا شروع کر دیئے۔

پاکستانی اداکار فردوس جمال نے کچھ عرصے قبل اداکارہ ماہرہ خان پرتیربرسائے تھے اورکہا تھا کہ ماہرہ خان کو اب اداکارہ کا نہیں بلکہ ماں کا کردارادا کرنا چاہیئے جب کہ ان کے نزدیک ماہرہ خان ہیروئن بننے کے لائق نہیں ہیں، جس پرماہرہ خان نے بھی انہیں جواب دیا تھا جب کہ ماہرہ خان کے مداحوں کی جانب سے بھی فردوس جمال پرکڑی تنقید کی گئی تھی۔

اب اداکارفردوس جمال نے ایک بار پھرٹی وی شو کے دوران عمران اشرف کی طرف توپوں کا رخ موڑتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ ’’رانجھا رانجھا کردی‘‘ میں ان کی جانب سے ادا کیا گیا بھولے کا کرداربہترین اداکاری نہیں بلکہ محض دکھاوا تھا، اورایسا کردارپہلے بھی بہت سے فنکارادا کرچکے ہیں اورعمران اشرف نے اُن جیسی ہی اداکاری کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایک بھی ایسا اداکار نہیں جو آگے چل کر ایک اسٹاربن جائے۔

واضح رہے کہ اداکار فردوس جمال پرماہرہ  خان کی اداکاری کرنے پربھی تنقید کی گئی تھی اور اب بھولے کی اداکاری پروار کرنے کے بعد انہیں ایک بار مداحوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

واٹس ایپ میں ایک اور بہترین فیچر متعارف ہونے کے لیے تیار

واٹس ایپ نے ایک نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے جو صارفین کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغامات ایک مخصوص وقت کے بعد خودکار طور پر ڈیلیٹ یا غائب ہوجائیں گے۔

واٹس ایپ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی سائٹ WABetainfo کے مطابق غائب ہوجانے والے پیغامات کا یہ نیا فیچر سب سے پہلے اینڈرائیڈ کے بیٹا ورژن 2.19.275 میں نظر آیا تھا۔

مگر ابھی یہ بیٹا ورژن میں ہر ایک کے لیے دستیاب نہیں۔

بیٹا ورژن میں یہ فیچر صرف گروپ چیٹ میں دستیاب ہے اور اس میں پیغام 5 سیکنڈ یا ایک گھنٹے بعد ڈیلیٹ ہوجاتا ہے جبکہ صارفین کے لیے مخصوص پیغامات کو غائب کرنے کا اختیار نہیں، یا تو سب پیغامات ڈیلیٹ ہوں گے یا کوئی بھی نہیں ہوگا۔

اگرچہ یہ فیچر فی الحال عام صارفین کے لیے نہیں مگر خودکار طور پر ڈیلیٹ ہوجانے والے پیغامات حساس معلومات بھیجنے کے حوالے سے کارآمد ثابت ہوگا۔

ٹیلیگرام نے یہ فیچر اپنی ایپ میں پہلے ہی متعارف کرا دیا ہے اور اب فیس بک اسے اپنی مقبول ترین میسجنگ ایپ میں اسے پیش کرنے والی ہے۔

واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کے تحفظ اور پرائیویسی کے حوالے سے فیچرز کو کافی عرصے سے بہتر بنایا جارہا ہے، پہلے انکرپشن کو شامل کیا گیا جبکہ گزشتہ سال اپلیکشن میں کسی پیغام کو بھیجے جانے کے بعد ڈیلیٹ کرنے کا وقت بڑھا کر ایک گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ کردیا، جو اس سے پہلے 7 منٹ تھا۔

مگر ٹیلیگرام میں ایک صارف اپنے بھیجے گئے پیغام کو 48 گھنٹوں تک ڈیلیٹ کرسکتا ہے جبکہ فیس بک میسنجر میں یہ وقت 10 منٹ ہے اور وہ بھی پڑھے جانے سے قبل۔

فوٹو بشکریہ ڈبلیو اے بیٹا انفو
فوٹو بشکریہ ڈبلیو اے بیٹا انفو

اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ جب یہ فیچر واٹس ایپ میں عام صارفین کو دستیاب ہوگا تو اس میں کچھ تبدیلیاں آسکتی ہیں مگر یہ کب تک متعارف ہوگا، فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔

ٹیلیگرام میں اس طرح کے فیچر میں جو پیغامات بھیجے جاتے ہیں، وہ دیگر صارفین فارورڈ نہیں کرسکے اور نہ ہی اس کا اسکرین شاٹ بھی نہیں لے سکتے، مگر واٹس ایپ میں یہ کس طرح کا ہوگا، اس بارے میں ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ماضی میں واٹس ایپ میں تھرڈ پارٹی ایپس کے ذریعے اس طرح کے فیچر کی سہولت دی گئی تھی مگر پھر کمپنی کی جانب سے صارفین کے تحفظ کے لیے ان ایپس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

فیس بک میں پائریٹ بے کے لنکس شیئر کرنے پر پابندی عائد

اب دنیا کی سب سے بڑی پائریسی ویب سائٹ دی پائریٹ بے کے لنک فیس بک پر شیئر نہیں کیے جاسکیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اگر کوئی صارف فیس بک یا میسنجر پر اس پائریسی سائٹ کا لنک شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک نوٹیفکیشن میں یہ لکھا نظر آئے گا ‘آپ کی پوسٹ شیئر نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ لنک ہماری برادری کے اصولوں کے خلاف ہے’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند روز پہلے تک فیس بک میں پائریٹ بے کے لکس شیئر کیے جاسکتے تھے حالانکہ دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ دیگر ٹورینٹ سائٹس کے خلاف کارروائی کررہی تھی۔

خیال رہے کہ ٹورینٹ سائٹس غیرقانونی نہیں اور لوگ انہیں کسی بھی قسم کے مواد کو دیگر سے شیئر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں مگر وہاں کاپی رائٹ والے ٹی وی شوز اور فلموں کو اپ لوڈ کرنے کی وجہ سے قانونی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اس کو دیکھتے ہوئے یہ قابل فہم ہے کہ فیس بک اس سائٹ سے کسی قسم کا تعل نہیں چاہتی۔

10 سال قبل جب پائریٹ بے کو کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے کا سامنا تھا تو فیس بک نے درخواست ک یتھی اس سائٹ پر اس کے شیئر بٹن کو ہٹا دیا جائے۔

تاہم پائریٹ بے نے بٹن کو نہیں ہٹایا اور فیس بک نے سائٹ کے لنکس کو بلاک کرنا شروع کردیا، مگر بتدریج اس پابندی کو ختم کردیا گیا۔

مگر اس فیس بک کی جانب سے ٹورینٹس کو ہی بلاک نہیں کیا جارہا بلکہ اس نے پوری سائٹ کو ہی بین کردیا ہے یہاں تک کہ اس کے ہوم پیج کو بھی۔

مگر حالیہ پابندی کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ حالیہ برسوں میں اس طرح کی ویب سائٹس کے استعمال میں کمی آئی ہے تاہم نیٹ فلیکس اور دیگر اسٹریمنگ سروسز کی مقبولیت کے ساتھ ٹورینٹس سائٹس کو بھی ایک نئی زندگی ملی ہے۔

بیشتر افراد ان اسٹریمنگ سروسز کی فیس کی بجائے مفت ٹورنٹس سائٹس کو استعمال کرکے مقبول فلموں اور ٹی وی شوز کو دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے فیس بک نے حالیہ پابندی عائد کی ہے۔

اشرافیہ کی لوٹ مار۔۔۔ملک کو لیڈرکی ضرورت

کسی ملک کی ترقی اور کامرانی میں وہاں کی لیڈر شپ اور قیا دت کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے ۔ لیڈر اور ملکی قیادت ملک اور عوام کے قسمت بدلتے رہتے ہیں ۔ اگر ہم غور کرلیں یورپ اور بعض ایشائی ممالک نے جو ترقی کی ہے یہ ترقی لیڈر شپ اور قیادت کی مر ہون منت ہے ۔ پاکستان 1947 میں وجود میں آیا ۔ 1947 یا اسکے بعد 120 ممالک وجود میں آئے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان ان 120 ممالک کی فہرست میں سماجی اقتصادی اشاروں میں سب سے نیچے ہے ۔ ہم یورپ یا ترقی یافتہ اقوام کی بات نہیں کرتے اور نہ اُن ممالک سے پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں بلکہ ہم جنوبی ایشاء کی بات کرتے ہیں ۔ جنوبی ایشاء میں سماجی اقتصادی اشاروں میں پاکستان 8 ممالک کی فہرست میں سب سے نیچے ہیں ۔ پاکستان کو وہ قیا دت میسر نہیں ہوئی جو ملک کو بُحران سے نکالیں اور ان کو ترقی دیں ۔ 1954 سے اب تک 14 عام انتخابات ہوئے ۔ وطن عزیز پر 33 سال فوجی حکمران رہے اور 37 سال تک سول حکومت رہی مگر ان 70 سالہ تاریخ میں ذولفقار علی بھٹو اور ایوب خان کے علاوہ کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جو ملک کو صحیح ٹریک پر چڑھائیں ۔ دنیا کے ممالک دن دوگنی رات چو گنی ترقی کر رہے ہیں ، جبکہ پاکستان بے تحا شا وسائل کے باوجود بھی بھی پیچھے کی طرف جا رہا ہے ۔ موجودہ دور میں جن جن لیڈروں نے اپنی ذہانت اور سمجھ بو جھ سے اپنے ممالک کو جو ترقی دی ہے اُن میں وینزویلا کے ہو گو شاویز ، چین کی قیادت، مہاتیر محمد اور طیب اُر دگان شامل ہیں ۔ وینز ویلا کے ہوگو شاویز نے اپنے دور اقتدار میں وینزویلا کی اقتصادیات میں 6 چند اضافہ کیا ۔ اسی طرح چین ، ترکی اور ملائیشیاء کی لیڈر شپ نے ملک کو انتہائی ترقی دی ۔ اگر ہم دنیا کے کئی ممالک پر نظر ڈالیں گو کہ یہ بُہت چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں مگر وہاں کی لیڈر شپ اور قیا دت نے اپنے اپنے ممالک کو بُہت ترقی دی ۔ لگزمبرگ جو رقبے کے لحاظ سے سندھ کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی ایک لاکھ 10 ہزار ڈالرہے ۔ سنگا پو ر کا رقبہ 7 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 82ہزار امریکی ڈالر ہے ۔ اسی طرح سوئزرلینڈ کا کل رقبہ 41 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 78 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ نا روے اور فن لینڈ کا رقبہ بلوچستان کے برابر ہے مگر وہاں کی فی کس آمدنی بالترتیب 71 ہزار ڈالر اور 47 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ آسٹریا کا کل رقبہ گلگت بلتستان کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 45 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ نیوزی لینڈ صوبہ پنجاب کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 45 ہزار ارب ڈالر فی کس ہے ۔ جبکہ اسکے بر عکس پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہاں پر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحا شا قُد رتی وسائل سے بھی مالا مال فرمایا ہے مگر اس کے باوجود بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی 1458 ڈالر فی کس ہے ۔ اگر ہم غور کرلیں تو ملک اور قوم کے ساتھ مخلص قیادت اور لیڈر شپ ملکی ترقی اور عوام کے فلاح و بہبود کےلئے نئی نئی راہیں اور طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بد قسمتی سے پاکستان کو وہ قیادت میسر نہیں آئی جو اتنا لائق فائق ، ذہین اور دور اندیش ہو تاکہ وہ ملک اور عوام کی قسمت بدل سکیں ۔ پاکستان کے عوام خواہ اُنکا تعلق پنجاب سے ہو یا سندھ سے ، بلو چستان سے ہو یا خیبر پختون خوا سے ، فاٹا سے ہو یا گلگت بلتستان سے ، یہ لوگ انتہائی جفا کش اور محنتی ہیں ۔ فی الوقت 90 لاکھ پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں فکر معاش میں لگے ہوئے ہیں ، جن میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے 57 لاکھ کے قریب پختون ہیں ، جو ملکی معیشت میں انتہائی اہم کر دار ادا کر رہے ہیں اور ملک کوسالانہ 20 ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کرلیں ہمارے ملک کے لوگ لانچوں ، کشتیوں مو ٹر کار کی ڈگیوں اور دوسرے ناجائز ذراءعوں سے بیرون ممالک جانے کی کو ششیں کرتے ہیں اور ان میں اکثر جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں ۔ وہ اسلئے بیرون ممالک جاتے ہیں کیونکہ وہاں کی لیڈر شپ نے اپنے ممالک کو جنت نظیر بنائے ہوئے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہماری لیڈر شپ اور قیا دت کےلئے پاکستان کمانے کی جگہ ہے ۔ وہ یہاں سے مختلف جائز اور ناجائز طریقوں سے دولت کما کماکر بیرون ممالک بینکوں میں منتقل کرتے ہیں ۔ نہ تو وہ علاج پاکستان میں کرتے ہیں اور نہ اُنکے بچے یہاں پڑھتے ہیں بلکہ یہاں سے کما کماکر بیرون ممالک منتقل کراتے ہیں ۔ اگر ہم مزید غور کرلیں تو وطن عزیز کی ۶ ہزار نام نہاد اشرافیہ نے اس ملک کے ۱۲ کروڑ عوام کو معاشی، ذہنی اور ہر طریقے سے یر غمال بنایا ہوا ہے اور یہی نام نہاد اشرافیہ یکے بعد دیگرے مختلف طریقوں سے اقتدار میں آکر اقتدار کے مزے لوٹتے رہتے ہیں ۔ پہلے انکے دادے پر دادے اور اب انکے بچے بچیاں اقتدار میں ہوتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی سیاسی پا رٹی میں جمہو ریت نہیں ۔ بد قسمتی سے پاکستان کی اکثریت عوام کو ان نام نہاد اشرافیہ نے ہر قسم کے مسائل میں جکڑا ہوا ہے جنکی وجہ سے غریب عوام کو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں ۔ وہ کبھی ایک کو ووٹ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو ، مگر حقیقت میں یہ لوگ ایک ہیں ۔ اگر ہم پاکستان کے سیاسی خاندانوں پر نظر ڈالیں تو بے نظیر اور نواز شریف کے خاندانوں کے علاوہ باقی پاکستان کے تمام سیاست دان آپس میں رشتہ دار ہیں ۔ جب تک سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں ہوگی اور الیکشن ریفارمز نہیں ہونگے، اشرافیہ ملکی قوانین کا احترام نہیں کرے گی، اُس وقت تک انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس کالم کی تو سط سے میں مسلح افواج سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کو ٹریک پر لائیں کیونکہ پاکستان میں مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے جو اس ملک کو صحیح ٹریک پر لاسکتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative