Home » 2019 » October » 02 (page 3)

Daily Archives: October 2, 2019

گوگل نے ایک اور اسمارٹ جیکٹ متعارف کرادی

اسمارٹ فون لگتا ہے کہ اب پرانے ہوتے جارہے ہیں، درحقیقت اب آپ کا لباس بھی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہونے جارہا ہے۔

اس مقصد کے لیے گوگل نے معروف کمپنی لیوائز کے اشتراک سے ایک اور اسمارٹ جیکٹ متعارف کرادی ہے جو ڈینم سے تیار کردہ ہے۔

گوگل کے پراجیکٹ جیکارڈ کے تحت عام لباس کو اسمارٹ بنایا جارہا ہے اور اس منصوبے کا پہلا حصہ 2017 میں انٹرنیٹ کنکٹڈ جیکٹ کی شکل میں سامنے آیا تھا جسے ‘دی کمیوٹر’ کا نام دیا گیا۔

مگر اب اس نئی ٹرکر جیکٹ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر تیار کیا گیا ہے۔

اس جیکٹ میں موجود ٹیکنالوجی کے لیے تاحال بلیوٹوتھ ان ایبل ٹیگ سے انحصار کیا گیا ہے جو کہ بائیں کف میں چپ کی شکل میں نصب ہوگا اور ٹچ پیڈ کی طرح کام کرکے موسیقی اور دیگر ایپس کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔

یہ ٹیگ پہلے کے مقابلے میں چھوٹا ہے اور درحقیقت یہ جیکٹ بھی بظاہر عام نظر آتی ہے اور دیکھنے میں اسمارٹ محسوس نہیں ہوتی مگر نوٹیفکیشنز آنے پر ٹیگ سے وائبریشن جسم میں محسوس ہوتا ہے مگر اسے آسانی سے دھویا جاسکتا ہے۔

فوٹو بشکریہ لیوائز
فوٹو بشکریہ لیوائز

اس میں جیکارڈ ایپ کو استعمال کرکے مختلف جیسپر جیسے سوائپ اپ، سوائپ ڈاﺅن، ڈبل ٹیپ اور کور وغیرہ سے ایپس کو استعمال کرسکتے ہیں۔

گوگل نے جیکارڈ کو اپ گریڈ کیا ہے تاکہ یہ جیکٹ زیادہ ایپس پر کام کرسکے اور یہ موسیقی کنٹرول کرنے کے ساتھ کال کا جواب دے سکتی ہے، اپنے فون سے سیلفی کے لیے اسے استعمال کرسکتے ہیں، گوگل اسسٹنٹ کو متحرک کرسکتے ہیں یا ٹریفک کی موجودہ صورتحال جان سکتے ہیں۔

اس میں ایک نیا آل ویز ٹو گیدر فیچر بھی دیا گیا ہے جو فون کہیں رہ جانے پر الرٹ بھیجتا ہے۔

فوٹو بشکریہ لیوائز
فوٹو بشکریہ لیوائز

یہ جیکٹ مردوں اور خواتین کے لیے دستیاب ہوگی اور اس کی قیمت 198 سے 248 ڈالرز تک ہوگی جو عام جینز کی جیکٹ سے مہنگی ہے مگر اسمارٹ ہونے کی وجہ سے قابل فہم بھی ہے جبکہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 کی اسمارٹ جیکٹ 350 ڈالرز کی تھی، تو یہ نیا اضافہ پہلے کے مقابلے میں سستا ہے۔

اس جیکٹ کی تیاری کے لیے ایسے دھاگے کا استعمال کیا گیا ہے جو کنڈیکٹو ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو ممکن بنایا جاسکے۔

دوسرے ون ڈے میں پاکستان نے سری لنکا کو با آسانی ہرا دیا

کراچی: دوسرے ون ڈے میں پاکستان نے سری لنکا کو 67 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

  1. نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے 306 رنز کے جواب میں سری لنکا کی پوری ٹیم 46 عشایہ 5 اوورز میں  238 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔ پاکستانی بولرز کی عمدہ بولنگ کے سامنے لنکن بیٹنگ لائن ابتدا میں ہی لڑکھڑا گئی، پیسرز نے نپی تلی گیند بازی کرتے ہوئے صرف 28 رنز پر مہمان ٹیم کے 5 مستند بلے بازوں کو پویلین بھیجا۔ اوپنر گناتھلاکا 14، سمراوکراما 6، ویا فرنینڈو صفر، بوپ فرنینڈو 1 اور کپتان تھریمانے بغیر کھاتہ کھولے چلتے بنے۔

آدھی ٹیم آؤٹ ہونے کے بعد چھٹی وکٹ پر جےسوریا اور شاناکا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو آگے بڑھایا اور 177 رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ جوڑ کر ٹیم کو مکمل تباہی سے بچا لیا، دونوں کھلاڑیوں نے بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نصف سنچریاں بنائیں تاہم 205 کے مجموعے پر جےسوریا نروس نائینٹیز کا شکار ہو کر 96 رنز پر کیچ آؤٹ ہوگئے جب کہ اگلے ہی اوور میں ان کے جوڑی دار شاناکا 68 رنز پر اونچی شارٹ کھیلتے ہوئے کیچ تھما بیٹھے۔

211 کے مجموعی اسکور پر اوڈانا ایک رن بنا کر عثمان شنواری کا شکار بن گئے، سری لنکا کی نویں وکٹ 232 رنز پر کمارا کی صورت میں گری جو وہاب ریاض کی گیند پر ایلبی ڈبلیو قرار پائے جب کہ آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز ہسارانگا ڈی سلوا تھے جو 30 رنز بنا کر شاداب خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے عثمان شنواری نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 5 وکٹیں حاصل کیں، شاداب خان نے 2، عماد وسیم، محمد عامر اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی۔  فخرزمان اور امام الحق نے ٹیم کو 73 رنز کا آغاز فراہم کیا، امام الحق 31 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور فخرزمان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی وہ 54 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔

بابراعظم اور حارث سہیل کے درمیان 111 رنز کی شراکت قائم ہوئی، حارث 40 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوگئے تاہم بابراعظم نے ایک بار پھر متاثر کن کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلے نصف سنچری اور پھر کیریئر کی 11ویں سنچری مکمل کی اور وہ 115 رنزبناکر آؤٹ ہوئے۔

کپتان سرفراز کی اننگز 8 رنز تک محدود رہی، عماد وسیم  12 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور افتخار احمد نے 32 رنز کی اننگز کھیلی۔

قومی ٹیم میں کپتان سرفراز احمد، فخر زماں ، امام الحق ، بابراعظم ،حارث سہیل، افتخار احمد ، شاداب خان ، عماد وسیم ، محمد عامر ، وہاب ریاض اور عثمان شنواری شامل ہیں جب کہ آصف علی ،عابد علی، محمد رضوان، محمد نواز اور محمد حسنین کو آج کے میچ میں نہیں کھلایا گیا ہے۔

خیال رہے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ایک روزہ میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا جب کہ اس سے قبل کراچی میں  آخری ون ڈے انٹرنیشنل 2009 میں کھیلا گیا تھا۔

پہلی سہ ماہی، ٹیکس وصولیاں ہدف سے 119 ارب روپے کم

اسلام آباد:  بجٹ میں 700ارب روپے کے ٹیکس لگانے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی تمام ترحکومتی کوششوں کے باوجود رواں مالی سال2019-20کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر)ایف بی آر کا عبوری ریونیو شارٹ فال بڑھ کر 119 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کیلئے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف اور ٹیکس دہندگان کو 75 ارب روپے کے ریفنڈز کے اجرا کی شرائط پوری نہیں کی جاسکی ہیں۔ٹیکس دہندگان کو صرف 30 ارب روپے ریفنڈ جاری کیے جاسکے۔

ایف بی آر کو گزشتہ رات گئے تک موصول عبوری ٹیکس وصولیوں کے ’’ایکسپریس‘‘کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی (جولائی تاستمبر)کے دوران مجموعی طور پر 952ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کی گئیں جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران حاصل ہونیوالی ٹیکس وصولیوں سے اگرچہ15 فیصد زیادہ ہیں مگر سہ ماہی( جولائی ستمبر 2019)کیلیے مقرر کردہ 1071ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مقابلہ میں 119 ارب روپے کم ہیںجبکہ مقرر کردہ اصل ہدف 1111 ارب روپے کے مقابلے میں 159 ارب روپے کم ہیں۔

تلخیاں ختم، بورڈ نے فرنچائز کے بیشتر مطالبات مان لیے

کراچی:  تلخیاں ختم ہونے لگیں، پی سی بی نے فرنچائززکے بیشترمطالبات مان لیے، اگلے ایڈیشن کیلیے بینک گارنٹی پر اصرار ختم کرتے ہوئے مکمل فیس کا بعد کی تاریخ والا چیک لیا جائے گا۔

پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز میں سب سے بڑا تنازع بینک گارنٹی کا ہی تھا، قوانین کے تحت ہر ایڈیشن سے 6ماہ قبل ٹیموں کو مکمل فیس کے مساوی رقم کی بینک گارنٹی جمع کرانا ہوتی ہے، اس بار ٹیم مالکان کا کہنا تھا کہ اب لیگ کو چار سال ہو گئے لہذا اعتماد کا رشتہ قائم ہو جانا چاہیے، اگر گارنٹی لینا ضروری ہے تو نئی فرنچائز سے لیں۔

اگست میں منعقدہ اجلاس میں چیئرمین بورڈ احسان مانی اس پر آمادہ بھی نظر آئے مگر بعد میں قائم شدہ کمیٹیز نے معاملات بگاڑ دیے، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ پی سی بی نے 10دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بینک گارنٹی کی عدم ادائیگی پر فرنچائزز کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے دی تھی، معاملات میڈیا میں آنے پر بورڈ کے رویے میں لچک آئی اور گورننگ کونسل کا اجلاس طلب کر لیا جس کا گذشتہ روز کراچی میں انعقاد ہوا۔

ذرائع کے مطابق میٹنگ میں احسان مانی نے اچھے انداز میں ٹیموں کی شکایات کو سنا اور بینک گارنٹی نہ لینے پر آمادگی ظاہر کر دی، مکمل فیسکا بعد کی تاریخ والا چیک لیا جائے گا۔ اس سے فرنچائزز پر مالی بوجھ نہیں پڑے گا، ادائیگی کیلیے 10 اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے، بورڈ چیک 11 نومبر کو  استعمال کر لے گا جس دن فیس واجب الادا ہوگی۔

اس موقع پر گذشتہ برس مالی معاملات میں پریشان کرنے والی فرنچائزز کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور اب عدم ادائیگی پر سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ کرکٹ بورڈ نے ڈالر کا ایک ریٹ 138روپے طے کرنے کے حوالے سے بھی فرنچائزز کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔

ملتان سلطانز کو بھی اسی حساب سے ٹیم فروخت کی گئی تھی، اس حوالے سے ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ فرم کی خدمات لی جائیں گی، وہ  بتائے گی کہ یہ ریٹ ٹھیک ہے یا تبدیلی کرنا چاہیے، اس کی رپورٹ پر عمل ہوگا،پی سی بی نے  فرنچائزز سے چوتھے ایڈیشن کے حسابات بھی شیئر کر لیے اور انھیں بتا دیا کہ ایک کے حصے میں تقریبا 270 ملین روپے آئیں گے۔

البتہ اس میں یوٹیوب ویڈیوز سے ملنے والا منافع شامل نہیں، کھلاڑیوں کے معاوضے، ہوٹل و دیگر اخراجات کی رقم بھی منہا کی جائے گی، ریونیو ماڈل پر تفصیلی بات ہوئی جس میں بعض فرنچائزز تبدیلی چاہتی ہیں، بورڈ نے ایک نیا فارمولہ تیار کیا جس پر مزید تبادلہ خیال ہوگا، اتفاق کی صورت میں آئندہ برس سے اطلاق ہو جائے گا۔

حکام نے ہوم اینڈ اوے میچزکا ماڈل بھی پیش کیا جس کے تحت ہوم ٹیم خود میچ آرگنائز کرے اور منافع بھی پورا اسی کے حصے میں آئے گا، آئندہ برس فرنچائزز سے کہا جائے گا کہ وہ ملک میں ہونے والے میچز کے انتظامی امور کا خود جائزہ لیں اور پھر2021میں انہی کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

پانچویں ایڈیشن کے لیے پلیئرز ڈرافٹ نومبر کے آخری ہفتے میں کرانے کا فیصلہ ہوگیا،  پی سی بی نے کھلاڑیوں کا معاوضہ کم کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے پلیئرز بجٹ کم کر دیا جو اب11 لاکھ ڈالر فی فرنچائز ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ کے دوران خاتون اور بچوں سمیت 16 نوجوان شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ ستمبر میں بھارتی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں ایک خاتون اور 2 بچوں سمیت 16 نوجوان شہید ہوئے جب کہ 4 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ متعدد نام نہاد سرچ آپریشن اور جعلی مقابلوں کے دوران مجموعی طور پر 16 شہادتیں ہوئیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے تحت 16 میں 6 کشمیری جعلی مقابلوں میں شہید ہوئے جب کہ مظاہروں اور احتجاج کے دوران قابض فوج کی ہوائی فائرنگ اور پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال سے 281 کشمیری زخمی ہوئے۔

قابض بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران اور احتجاجی مظاہروں میں سے 157 افراد کو گرفتار کیا جن میں مقامی حریت رہنما بھی شامل ہیں جب کہ 25 گھروں کو مسمار کردیا گیا اور 4 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے، قابض بھارتی فوج کے ذریعے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرلیا گیا ہے۔

امریکی سامراج

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی سامراج نے دنیا کو معاشی حوالے سے یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ قوموں کو جنگوں میں الجھا کر اپنا اسلحہ فروخت کرتا ہے اور تقسیم کرو اور حکومت کرو اس کی پالیسی ہے مگر ابھی عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں چائنا اور روس کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ آئندہ دور ایشیا کا ہے ۔ سی پیک نے دنیا کا سیاسی اور معاشی نقشہ ہی بدل دیا ہے امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے ایشیاء میں خون کا کھیل کھیلا لاکھوں لوگوں کو قتل کیا اور خطے کو آگ میں جھونکے رکھا ۔ مگر اب دنیا جان چکی ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کا کھیل خود کھیلا، افغان جنگ میں بے گناہ لوگوں کا خون کیا ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، یمن اور لیبیا میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے واقعات میں بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیاں اور جمہوریت کے نام پر فوجی دھمکیاں اور اپنی معیشت کے حوالے بلند بانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں ۔ جب سے امریکہ نے اپنے آپ کو جمہوریت کے نام پر بین الاقوامی جنگوں میں الجھایا ہے اس کی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے جبکہ اس کے مقابل چائنا نے اپنے آپ کو جنگوں سے بچایا ہے تو چائنا کی معاشی ترقی دنیا کیلئے اچھی مثال ہے جبکہ امریکہ اپنی غلط حکمت عملیوں اور جنگوں میں الجھنے کی وجہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے ۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ 40 ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے ۔ اگر سوویت یونین ٹوٹ سکتا ہے تو امریکہ کیوں نہیں امریکہ کا جنگوں میں الجھنے کا سب سے زیادہ فائدہ روس اور چین نے اٹھایا ہے اور اب یہ دنیا کی بڑی معاشی قوتیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ چین اور امریکہ مستقبل میں دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سوویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی اور اس کے دیوالیہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ،ایسا اس سے قبل 1790 پھر 1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور 2008 میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستدان اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں ۔ 9;223;11کا واقعہ گویا امریکہ نے اپنے پاءوں پر خود کلہاڑی سے وار کیا ہے اور اس واقعہ کے بعد اربوں ڈالر جنگوں میں جھونک دئے گئے ہیں جس کے نتاءج سب کے سامنے ہیں اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بھی اس کے ذمہ ہے ۔ اور یہ امراب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کو اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے امریکہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کررہا ہے اور اس وقت شام کی حکومت امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہے ۔ اگر سابق امریکی جنگجو صدر جارج بش غور وفکر اور تدبر وفراست اور صحیح انتظامی حکمت عملی سے کام لیتے تو7;46;3 ٹریلین ڈالر یعنی قرض کے ایک تہائی حصے کو تو بچایا جاسکتے تھے ۔ امریکہ کی عراق، لیبیا اورافغانستان میں ’جنگ بازی‘ سے نہ صرف اس کی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے بلکہ اس کے منفی اثرات لگ بھگ پچاس امریکی ریاستوں اور ان کے اتحادیوں پر بھی مرتب ہوں رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قرض ہے اسی قرض کی وجہ سے بدانتظامی اور غلط طرز عمل کا اختیار کرنا اور فوجی کارروائیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنالینا ہے جس نے اس کے سینکڑوں ٹریلین سرمایہ کو بغیر ڈکارمارے ہضم کرلیا اور دنیا کو وہ جنگوں میں اس لئے الجھا رہا ہے کہ اسلحہ فروخت کر کے کمزور معیشت کو سہارا دے سکے اور ممالک کو کمزور کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کر سکے اگر موجودہ حالات میں اس پر ناگفتہ بہ معیشت کو قابو نہیں کیاگیا تو اس آگ کی چنگاریاں دور دور تک پہنچیں گی اور اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہونگے اور جن ممالک کی معیشت کا دارومدار امریکی اور ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر ہے وہ ممالک بری طرح متاثر ہونگے ۔

ذیابیطس سے مکمل نجات پانا چاہتے ہیں؟

ذیابیطس کو لاعلاج مرض قرار دیا جاتا ہے جس کو کنٹرول میں تو رکھا جاسکتا ہے مگر اس سے مکمل نجات ناممکن سمجھی جاتی ہے۔

تاہم اب طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض سے نجات یا ری میشن ممکن ہے۔

درحقیقت ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ اس مرض کی تشخیص کے ابتدائی چند برسوں کے دوران اگر جسمانی وزن میں کمی لائی جائے تو ذیابیطس کو ریورس کیا جاسکتا ہے۔

جیسا اکثر افراد کو معلوم ہوا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے پر جسم خون میں شکر یا گلوکوز کو موثر طریقے سے پراسیس نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول مسلسل بڑھا رہتا ہے۔

یہ مرض دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو شکار کرچکا ہے جبکہ دیگر پیچیدگیوں جیسے فشار خون، بینائی سے محرومی، پیروں کے زخموں کے ناسور سمیت دیگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عام طور ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات اور غذائی تجاویز دی جاتی ہیں تاکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کو کنٹرول میں رکھا جاسکے جبکہ ری میشن یعنی مرض نہ ہونے کے برابر رہ جانا یا علامات کا غائب ہوجانا مخصوص حالات میں ہی ممکن ہوتا ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ممکن ہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے نجات پائی جاسکے۔

جریدے ڈائیبیٹس میڈیسین میں شائع تحقیق میں 40 سے 69 سال کے 867 ایسے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں حال ہی میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوئی تھی۔

ان تمام افراد کو ایڈیشن کیمبرج ٹرائل سے گزارا گیا جس میں مختلف عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔

بعد ازاں محققین نے ان رضاکاروں کے مرض میں کمی یا اضافے پر 5 سال کے عرصے تک نظر رکھی اور میڈیکل ڈیٹا سے محققین نے دریافت کیا کہ 257 افراد میں 5 سال کے بعد ذیابیطس کی علامات لگ بھگ ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

محققین کے مطابق ایسا اس وقت ممکن ہوا جب ان افراد نے ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص کے بعد 5 سال کے اندر اپنا جسمانی وزن کم از کم 10 فیصد تک کم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم کچھ عرصے سے واقف تھے کہ ذیابیطس سے نجات ممکن ہے جس کے لیے کچھ اقدامات جیسے جسمانی وزن میں کمی اور کیلوریز کا سخت کنٹرول وغیرہ شامل ہیں، تاہم یہ اقدامات لوگوں کے لیے بہت چیلنجنگ اور ان کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول مگر ہمارے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ذیابیطس سے کم از کم 5 سال میں نجات ممکن ہے اور اس کے لیے جسمانی وزن میں 10 فیصد تک کمی لانا ہوگی، یہ ہدف بیشتر افراد کے لیے حاصل کرنا زیادہ آسان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے غذا میں تبدیلیاں اور جسمانی سرگرمیوں کو بڑھانا ضروری ہوتا ہے، ذیابیطس ٹائپ ٹو ایسا مرض ہے جو مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اسے کنٹرول بلکہ ریورس کرنا ممکن ہے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ ہفتے میں 3 بار ورک آﺅٹ کرنا انسولین کی حساسیت کو اتنا ہی بہتر بناتا ہے جتنا 45 منٹ کی ورزش۔

انسولین کی حساسیت ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامت ہوتی ہے اور اس تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتہ بھر میں 45 منٹ کی سخت ورزش اس مرض کا ممکنہ علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 10 موٹاپے کے شکار افراد کی خدمات لی گئی تھیں کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین نے ورک آﺅٹ کے انسولین کی حساسیت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کرنے کے لیے ان رضاکاروں کو 2 گروپ میں تقسیم کیا جن میں سے ایک کو15 منٹ جبکہ دوسرے کو 45 منٹ کی سخت ورزش ہفتے میں تین بار کرنے کی ہدایت کی۔

چھ ہفتے کے تجربے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ 15 منٹ کا ورک آﺅٹ بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا 45 منٹ کا۔

دونوں گروپس میں انسولین کی حساسیت کو 16 فیصد بہتر پایا گیا۔

انسولین کی حساسیت خون میں موجود گلوکوز کی شرح کو کنٹرول میں اہمیت رکھتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو میں انسولین کی حساسیت کم ہوجاتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے جو آگے بڑھ کرامراض قلب اور فالج جیسے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دونوں گروپ کے مسلز بھی 2 ہفتے میں زیادہ مضبوط اور پہلے سے زیادہ بڑے ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ہر طرح کی جسامت رکھنے والے افراد پر اتنی ورزش کیسے اثرات مرتب کرتی ہے، اور یہ بھی اہم ہے کہ ہر شخص جم نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا گھر پر جم جیسی ورزشیں کس حد تک فائدہ مند ہوتی ہیں اور اگر نتائج مثبت ہوئے تو مستقبل میں اس طرح کی ورزشوں کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

خفیہ شادی کے بعد جسٹن بیبر نے دوبارہ ‘سرعام شادی’ کرلی

کینیڈین پاپ اسٹار اور اداکار 25 سالہ جسٹن بیبر نے گزشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ ماڈل ہیلی بالڈ وین کے ساتھ خفیہ شادی کی تھی جس کا اعلان انہوں نے دو ماہ قبل سوشل میڈیا پر کیا تھا اور اب اداکار و گلوکار نے ایک مرتبہ پھر سرعام شادی کی تقریب کا انعقاد کیا۔

ان دونوں کی شادی کی تقریب جنوبی کیرولائنا کے شاندار ہوٹل ’مونٹیج پلمٹو بلف‘ میں منعقد ہوئی جہاں ان کے رشتہ دار اور قریبی دوست شریک ہوئے۔

افسانوی کہانیوں جیسا نظر آنے والا یہ ہوٹل ایک پُرتعیش ساحلی ریسورٹ ہے۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق جسٹن بیبر اور ہیلی نے دوسری مرتبہ شادی ایک نہایت شاندار تقریب منعقد کرکے کی، تاکہ وہ اپنے رشتے کا اعلان دنیا کے سامنے کر سکیں۔

ان کی شادی کی تقریب میں نامور ہولی وڈ اسٹارز شریک ہوئے ان میں کینڈل جینر سمیت کئی اور اداکارائیں شامل تھیں۔

ان کی منگنی بھی گزشتہ سال جولائی میں ہی ہوئی تھی، تاہم گلوکار کو شادی کی بہت جلدی تھی جس کے بعد انہوں نے ستمبر میں خفیہ شادی کرلی تھی۔

البتہ اپنی اس خفیہ شادی کا اعلان انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں کردیا تھا۔

شادی کے 150 دن کے بعد ہی ان دونوں کے درمیان طلاق کی خبریں بھی سامنے آنے لگی تھیں۔

رواں ماہ فروری کے آغاز میں شوبز ویب سائٹ ’گوسپ کاپ‘ نے فیشن میگزین کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جسٹن بیبر اور ہیلی بالڈ وین نے طلاق کا فیصلہ کرلیا۔

تاہم بعدازاں ماڈل نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔

یاد رہے کہ ہیلی بالڈ وین سے قبل جسٹس بیبر اور امریکی گلوکارہ سلینا گومز کے درمیان بھی تعلقات رہ چکے ہیں۔

Google Analytics Alternative