Home » 2019 » October » 04

Daily Archives: October 4, 2019

مولانا فضل الرحمان کا 27 اکتوبر کو حکومت مخالف مارچ کا اعلان

 اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ سے وجود میں آئی ہے، ناجائز حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے ملکی معیشت ڈوب چکی ہے۔ مذہبی حوالے سے پاکستانی مسلمان کرب کا شکار ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے پورے ملک میں 15 ملین مارچ کیے ہیں۔ فیصلہ کیا ہے کہ پورے ملک سے قافلے 27 اکتوبر کو اسلام آباد آکر دم لیں گے، 27 اکتوبر کو ہم کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بھی رابطے میں رہیں گے،حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لیں گے۔

شہبازشریف کی نوازشریف سے آزادی مارچ میں پارٹی کی قیادت کرنے سے معذرت

لاہور  : مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف سے مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اپنی جماعت کی قیادت سے معذرت کرلی۔

کوٹ لکھپت جیل میں قید مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے شہباز شریف نے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے نواز شریف کو بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات اور آزادی مارچ سے متعلق آگاہ کیا۔

نواز شریف نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ مولانا فضل الرحمان کے مجوزہ آزادی مارچ میں (ن) لیگی کارکن بھرپور شرکت کریں اور شہباز شریف مارچ میں پارٹی کی قیادت کریں۔

شہباز شریف نے مارچ میں پارٹی کی قیادت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں آزادی مارچ میں قیادت کر سکوں، ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ جس پر نواز شریف نے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے اور آپ کی عدم موجودگی میں احسن اقبال پارٹی کی قیادت کریں۔

دوسری جانب نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل کر رکھا ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہے، آزادی مارچ کا ایجنڈا مہنگائی کے خلاف احتجاج رکھا جائے۔

وزیراعظم اور آرمی چیف سے افغان طالبان کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان نے ملاقات کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد میں طالبان کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران افغان امن عمل کی بحالی سمیت دو طرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

اس سے قبل دفترخارجہ میں پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کی جب کہ 12 رکنی طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر نے کی۔ دفتر خارجہ میں یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی جس میں معطل افغان امن مذاکرات کی بحالی سمیت دیگر معاملات پربات چیت کی گئی۔

پاکستانی حکام اور طالبان نے افغان امن کی بحالی پر اتفاق کیا ہے جبکہ طالبان نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد سے پاکستان میں ملاقات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہےاور کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت  پاک فوج کے ہیڈکوارٹرز(جی ایچ کیو) میں کورکمانڈرز منعقد ہوئی جس میں  جیو اسٹرٹیجک، قومی سلامتی اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، کانفرنس میں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی غیرملکی سازشوں سے نمٹنے کی کوششوں کی تعریف بھی کی گئی ہے جب کہ اقوام متحدہ میں تنازع کشمیر موثر طور پر اجاگر کرنے کو تسلیم کیا۔

کورکمانڈر کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ  کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاجائے گااوربھارتی کمانڈرزکی جانب سے غیر ذمے درانہ بیانات کا بھی جارحانہ جواب دیا جائے گا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج مادروطن کے دفاع کے لئے مکمل تیار ہے اور ملک کی عزت، وقار اور سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور بہادر کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

 

پیرس کے پولیس ہیڈکوارٹرز میں چاقو بردار شخص کا حملہ، 4 افراد ہلاک

پیرس: فرانس کے دارالحکومت میں چاقو بردار شخص کے حملے میں پولیس افسر سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ جوابی کارروائی میں حملہ آوربھی مارا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرس شہر کے مرکز میں واقع پولیس ہیڈکوارٹرز میں چاقو بردار شخص نے وہاں موجود افراد پر حملہ کردیا ، حملہ آور کانشانہ بننے والوں میں پولیس افسر سمیت عام شہری بھی  تھے۔

فرانسیسی پولیس کے مطابق  چاقو حملے کے نتیجے میں پولیس افسر سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے جب کہ جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا۔

حملہ آور 20 سال  سے پولیس کے لیے کام کرتاتھا تاہم اس کے محکمے میں ملازمت اور کردار کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی کر کے اضافی پولیس اہلکار تعینات کردیے جب کہ قریبی میٹرو اسٹیشن کو بند کرکے سروس معطل کردی گئی۔

ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام خوش آئند اقدام

کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی حیثیت رکھتاہے چونکہ ہمارے ملک میں ابھی تک فرنگی کا نظام تعلیم راءج ہے جس کے نقصانات ہی نقصانات ہیں ، اس طبقاتی تعلیمی نظام نے غریبوں پرترقی کے راستے مسدود کردئیے ہیں ۔ اب اصل حکومت کا امتحان یہ ہے کہ آیا ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام راءج ہوسکے گا ۔ کیونکہ یہاں تو ایسے بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے یا دیگر تعلیم دینے والے سکول کالج ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پر جلتے ہیں کیا اعلیٰ طبقے کے لوگ برداشت کرسکیں گے کہ غریب کا بچہ اے سی ، ڈی سی یا بڑا افسر بنے ۔ حکومت اگر اس اقدام پر صحیح طرح عملدرآمد کرلیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔ وزارت تعلیم کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا تعلیمی نصاب ختم کیا انگریزی نظام تعلیم نے معاشرتی تقسیم پیدا کی اسی وجہ سے اردو نظام تعلیم کے ذہین طلبہ کی اکثریت اوپر نہیں آ سکی،انگریز کا بنایا گیا طبقاتی تعلیمی نظام ختم کریں گے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم راءج کیا جائے گا ایک ہی ملک میں تین قسم کا تعلیمی نصاب بڑی نا انصافی ہے ۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوئے یکساں نظام تعلیم ترقی کے لئے ضروری ہے مدارس کے طلبا کو بھی جدید تعلیم کے ذریعے اوپر آنے کا موقع ملے گاتعلیم کا مقصد پیسہ بنانا نہیں ہونا چاہئے وزیرتعلیم سے کہوں گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اقبالیات کا مضمون لازمی پڑھایا جائے ،آج ہر جگہ مسلمان قتل ہو رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افراد کو کھلی جیل میں بند کردیا گیا ہے پاکستان، ترکی اور ملائیشیا مسلمانوں کی تاریخ اور موقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے ٹی وی چینل شروع کریں گے ۔ 700 سال تک دنیا کے ممتاز ترین سائنسدان مسلمان تھے، مسلمانوں نے تلوار نہیں بلکہ علم کی وجہ سے ترقی کی دینی مدارس کے طلبا کو بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول کا موقع دیاجائے گا تاکہ وہ بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں کیونکہ اس وقت صرف انگریزی نظام تعلیم حاصل کرنے والے ہی اوپر آسکتے ہیں علامہ اقبال نے مشرق اور مغرب کی تہذبوں کا موازنہ کیا،علامہ اقبال کو سمجھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی کیا تاریخ اور طاقت تھی اور کس طر ح وہ دنیا پر چھا گئے ۔ تعلیمی نظام میں یکسانیت لا کر تحقیق کی راہ ہموار کی جائے ہر پاکستانی کو ہر طرح کی تعلیم دی جائے، اسلام ہ میں انسانیت کا درس دیتا ہے، تعلیم سے کوئی بھی قوم انسانیت کی طرف جاتی ہے دین ہ میں تعلیم اور انسانیت سکھاتا ہے ۔ ایسی فل میں بنائی جائیں جن کے ذریعے بچوں کو اپنے عروج کا علم ہو ۔ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی تاریخ سے آگاہی کےلئے اسی طر ح کی ایک فلم بنائی ہے ، تعلیمی نظام کو بہتر بنا یاجائے ۔ جب ایک نصاب ہو گا تب ہم ایک قوم بن سکیں گے اور ہمارے اندر تقسیم نہیں ہوگی اور ہر پاکستانی کو ترقی کا موقع ملے گا ۔ موجودہ تعلیمی نظام کے تحت اکثریت اوپرنہیں آسکتی ۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بدھ کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے ساتھ ساتھ معیشت کے دیگر اہم شعبہ جات میں چین سے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اجلاس کو سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت اور مختلف منصوبوں پر عمل درآمدکی رفتار کو تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے سی پیک کے اہم منصوبے مین لائن ۔ ون (;7776;-1) پر اب تک کی پیش رفت اور منصوبے کے ممکنہ ثمرات سے شرکا کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کامظہر ہے سی پیک منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ خطے میں سی پیک گیم چینجر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ متعدد ممالک میں ترقی نمایاں طورپرنظرآنا شروع ہوجائے گی اور سی پیک پاکستان کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے، ۔ اس کی تکمیل انتہائی ضروری ہے اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا بھی ہے تو انہیں یہ جان لیناچاہیے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملاہوا ہے، چین کی ترقی پوری دنیا کےلئے نہ صرف قابل مثال بلکہ قابل تقلیدبھی ہے ۔ گوکہ چین نے پاکستان سے بعد میں ترقی حاصل کی لیکن وہ آج دنیا کی بڑی سپرپاورز میں شامل ہے ۔

مہنگائی کنٹرول نہ ہوسکی، عوام پریشان حال

مہنگائی ہے کہ کنٹرول ہونے میں نہیں آرہی ۔ پہلے ہی وزیراعظم اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے پر ناراض ہوئے تو اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ پاکستان بیورو آف شماریات نے بھی تسلیم کیاہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوام پرپھر بجلی گرادی گئی ہے،اگست کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 66 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے صارفین پر 22 ارب 60 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا ،دواءوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیاجبکہ ملک میں مہنگائی پچھلے سال کی نسبت بڑھ گئی ہے ، پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مہنگائی کی شرح میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد اضافہ ہوا ہے ، سبزی، چائے، آٹے، آلو، تازہ دودھ ، دال، تیل ، گھی کی قیمتیں بڑھ گئیں ۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست کے مہینہ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیاہے، اضافے سے300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین پر22 ارب 60 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی طرف سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر کیا ہے ۔ فیصلے کا اطلاق زرعی صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہو گا، ایک روز قبل ہی حکومت کی جانب سے ایک سال کیلئے بجلی 53 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی، حکومتی اقدام سے صارفین پر سالانہ 53 ارب 52 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے ایک روپے66 پیسے کا اضافہ کیا جبکہ اس سے 1;46;8672 روپے کے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگست میں پانی سے 40;46;33 فیصد، کوئلے سے 13;46;34 فیصد جبکہ مقامی گیس سے 11;46;87 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 22;46;89 فیصد بجلی پیدا کی گئی ۔ فرنس آئل سے 3;46;60 فیصد اورایٹمی ذراءع سے 4;46;66 فیصد بجلی پیدا ہوئی ۔ حکومت کی طرف سے دودن میں پاور ٹیرف میں دو بار اضافے سے ایسے صارفین جو تین سو یونٹس سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں جن میں کمرشل اور اندسٹریل دونوں شامل ہیں کو اکتوبر کے بلوں میں 2روپے19پیسے اضافے کا سامنا ہے ۔ دریں اثنا دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیا ہے ۔ فارما کمپنیوں کے مطابق یہ اضافہ سالانہ مہنگائی کی شرح کے تناسب سے کیا گیا ہے، کمپنیوں کے مطابق مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے حکومت نے سالانہ فارمولا طے کر رکھا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں سات اور دیگر کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ ہول سیلرز کے مطابق اضافے کے ساتھ ادویات مارکیٹ میں پہنچا شروع ہو گئی ہیں ۔ اُدھرپاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ماہ ستمبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد بڑھ گئی ہے ۔ اگست 2019 میں مہنگائی کی شرح 11;46;63 فیصد تھی ۔ نئے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح 11;46;37 فیصد بڑھی اور پرانے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 12;46;56 فیصد اضافہ ہوا، اگست 2019کے مقابلے میں مہنگائی میں 0;46;77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اگست کے مقابلے میں شہروں میں جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں سبزیوں کی قیمت میں 15;46;78 فیصد، پیاز 10;46;86 فیصد پتی 8;46;15 فیصد، دودھ کی اشیا میں 4;46;74 فیصد، گندم میں 1;46;92 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت میں 3;46;22 فیصد، آلو 3;46;16 فیصد، تازہ دودھ 2;46;83 فیصد، دال چنا 1;46;41 فیصد، خوردنی گھی 1;46;3 فیصد، گڑ 1;46;16 فیصد اور دال مسور کی قیمت میں 1;46;11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

گرتی ہوئی معیشت اور

تاجر برادری کے تحفظات

ملک کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں عشائیے میں ملاقات کی اور انہیں معاشی محاذ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ۔ بزنس کمیونٹی نے معاشی جمود سے آگاہ کیا جس میں جی ڈی پی کی افزائش انتہائی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور اس کے نتاءج کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں ۔ کاروباری طبقے نے آرمی چیف کو شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے انہیں اپنا بزنس معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ تاجروں نے اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کے مختلف یونٹس بند ہوتے جا رہے ہیں ، اگر مسائل فوری طور پر حل نہ ہوئے تو پورے کے پورے کاروبار بند ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں ملازمین کی بھی چھانٹی کرنے پڑے گی ۔ لیبر کا بھی روزگار ہمارے کاروبار سے ہی وابستہ ہے ۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے جو مال تیار کر رکھا ہے اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا، حالات کی بہتری کے حوالے سے دور دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ۔ پاکستان بننے کے بعد سے کاروباری طبقے نے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے جو محنت کی ہے اور مختلف ادوار میں آنے والے نشیب و فراز کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ ساری محنت رائیگاں جائے گی ۔ اس موقع پرآرمی چیف نے کہا پاکستان سے ہ میں محبت ہے، آپ کاروباری لوگوں کی پاکستان کیلئے جو خدمات اور قربانیاں ہیں اس سے سب آگاہ ہیں ، آپ کی کوششوں سے ہی ملک آگے چلے گا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ آپ کی پریشانیاں سن کر مجھے بے انتہا ہمدردی ہے اور میں ان کے حل کیلئے ضرور ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ انہوں نے تاجروں کے وفد سے کہا کہ آپ حکومت سے مکمل تعاون کریں اور حکومت مخالف کسی بھی قوت کی حمایت نہ کریں ، آپ کے مسائل حل کیے جائیں گے ۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے والے اداروں میں پیداواری صلاحیت گزشتہ کئی مہینوں سے زوال کا شکار ہے ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر مطلوبہ معیار کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا کیونکہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد ٹیکس کا بوجھ بڑھ چکا ہے ۔ یاد رہے چند ماہ قبل آرمی چیف نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی تھی اور اس وقت ان سے کہا تھا کہ اگر آپ کے مسائل حل نہ ہوں تو آپ براہِ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔

اختیارات دیں 3 ہفتے میں لوٹی دولت واپس لے آؤں گا، چیئرمین نیب

لاہور: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں کہ سعودی عرب نے 4 ہفتے لیے میں 3 ہفتوں میں سب کچھ واپس لاوَں گا ۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ اور بزنس میں فرق ہے، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ الگ الگ ہیں، منی لانڈرنگ قانوناً جرم ہے، سپریم کورٹ نے کئی کیسز ہمارے حوالے کئے، کسی بھی بزنس میں تاجر اور بینک کا چولی دامن کا ساتھ ہے، بینک ڈیفالٹ کیس میں نیب نے کبھی براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ پہلے بندہ رب کے سامنے پھر ضمیر کے سامنے جواب دہ ہے، نیب خود اپنے احتساب کے لیے سامنے ہے، نیب عوام دوست ادارہ ہے اور اپنے دائرہ کار سے نکل کر کچھ نہیں کرتا، کسی کو سزا اور جزا دینا عدالتوں کا کام ہے جب کہ یقین دلاتا ہوں ٹیکس سے بچنے کا کوئی کیس نیب کے پاس نہیں ہوگا، ٹیکس معاملات کے تمام کیسز ایف بی آر کو بھیجیں گے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں جس کی معلومات جلدی آگئیں اس پرجلد فیصلہ کیا گیا، پاناما کے باقی کیسز بھی چل رہے ہیں، ہرانسان میں خامیاں ہیں، کوئی عقل کل نہیں البتہ اللہ نے عقل دی ہے تاکہ خامیوں پر قابو پایا جا سکے، تسلیم کرتا ہوں، ہوسکتا ہے آٹے کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہو جب کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں بہت مافیا ہیں ایک مافیا نہیں، مافیا کی ایسی ایسی داستانیں ہیں، نیب مکمل تحقیقات کے بعد کیس یا ریفرنس فائل کرتا ہے، ایک شخص کو موٹرسائیکل پر دیکھا برسوں بعد وہ پلازوں کا مالک کیسے بن گیا جب کہ پلی بارگین رضاکارانہ فعل ہے، کوئی بزنس مین نہیں کہہ سکتا پلی بارگین میں اس سے زیادتی ہوئی ہے، مجھے ہر ایک کی عزت نفس کا احساس ہے البتہ 100 روپے لوٹنے والے سے 10روپے لینا ملک سے زیادتی ہے اور جب تک میں منظور نہ کروں پلی بارگین ہو نہیں سکتی۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے کرپٹ افراد کے خلاف بڑی کارروائی کی، سعودی عرب میں  تو بادشاہت ہے، وہ جو کہتےہیں قانون بن جاتاہے، سعودی عرب نے بڑے افراد کو 4 ہفتے ہوٹل میں قید رکھا اور سب واپس لیا، مجھے تو دو روز کسی کو قید رکھنے کا اختیار نہیں، مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں گے سعودی عرب سے بہتر اقدام کرتاہوں، سعودی عرب نے 4 ہفتے لیے میں 3 ہفتوں میں سب کچھ واپس لاوَں گا۔

زلزلے کی تباہ کاری

دنےا مےں لےل و نہار کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ موسموں کا کارواں لمحہ بہ لمحہ بغےر سستائے اگلی منزلوں کی جانب رواں دواں رہتا ہے ۔ ےہ اےک صاف دن تھا خنکی کی بجائے حبس کا غلبہ تھا ۔ آسمان کی وسعتوں مےں کہےں کہےں بادلوں کا کوئی ٹکڑا دکھائی دے جاتا ۔ درےائے جہلم کے کنارے دےہات کے باسی اپنے روز مرہ کے معمولات مےں مصروف تھے ۔ روانی مےں مست درےائے جہلم کی رفاقت مےں لہلہاتے درختوں نے موسم کی رنگےنےوں مےں اضافہ کرتے ہوئے اےک سماں باندھ رکھا تھا ۔ درخت اور پودے نرم و نازک کونپلےں لئے نو شگفتہ پھولوں کا لباس زےب تن کئے اپنی بہار دکھا رہے تھے ۔ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی ۔ سچ ہے کہ زندگی اس وقت ہی حسےن لگتی ہے جب آنکھوں مےں درد ،دلوں مےں آہےں اور لبوں پر سسکےاں نہ ہوں ۔ کسے خبر تھی کہ آج کا دن اپنے دامن مےں حشر سامانےاں لئے ہوئے ہے اور اچانک ےہاں کے مکےنوں کی زندگی زےرو زبر ہو جائے گی ۔ ےہاں کے مکےنوں کےلئے اچانک قےامت برپا ہو جائے گی ۔ ابھی 2005ء والے زلزلہ کے اثرات ذہنوں پر حاوی تھے کہ نےا زلزلہ آ گےا ۔ آزاد کشمےر مےر پور سے صرف اےک کلو مےٹر دور جاتلاں کے علاقہ مےں زمےن پھٹ گئی ،گاڑےاں الٹ گئےں ،دو کلو مےٹر تک سڑک ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہر مےں گر گئی ۔ مےر پور مےں متعدد عمارتےں اور دےوارےں گر گئےں ۔ جاتلاں سڑک پر رواں کئی چھوٹی بڑی گاڑےاں شگاف اور نہر مےں جا گرےں ۔ مساجد کے مےنار منہدم ہو گئے ۔ 45سے زائد افراد جاں بحق اور500کے قرےب زخمی ہو گئے ۔ زلزلے کی شدت پانچ اعشارےہ آٹھ اور اس کی گہرائی دس کلومےٹر تھی ۔ زلزلے کا مرکز جہلم سے تئےس کلومےٹر شمال مےں تھا ۔ پاکستان کی تارےخ کا ناقابل فراموش زلزلہ 8اکتوبر2005ء کو آےا جس مےں تقرےباً اےک لاکھ کے قرےب افراد جاں بحق ہوئے ،ہزاروں زخمی اور لاکھوں افراد کو بے گھری کا عذاب بھی سہنا پڑا ۔ گو حالےہ زلزلے مےں جانی اور مالی نقصان کم ہوا لےکن ذرا خےال کرےں کسی گھر مےں اےک فوتےدگی ہو جائے ،کتنے دنوں بلکہ مہےنوں تک سوگ کا ماحول رہتا ہے ،کتنے کام رک جاتے ہےں ،اس سے جڑے کتنے خاندان غم مےں ڈوب جاتے ہےں لےکن ےہاں تو کتنی ماءوں کی گودےں خالی ہو گئےں ،سہاگنےں بےوہ ہو گئےں ،کتنے چاند سے بچے ےتےم ہو گئے ،ےہ سب کسی ماں کی تمنا تھے ،کسی باپ کا سہارا تھے ،کسی کے سر کا ساےہ تھے ،کسی کی آنکھ کا چےن تھے ،کسی کے دل کی ٹھنڈک تھے ،پےارے ہی نہےں بچھڑے املاک بھی تباہ ہو گئےں ۔ اس خوفناک زلزلے نے کتنے دےہات کے حسےن چہرے پر خراشےں ڈال دےں ۔ رقت آمےز مناظر پر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ۔ کئی کے بازو ٹانگےں ٹوٹ گئےں اور جسم مفلوج ہو گئے ۔ ان کے سروں پر ان کی اپنی ہی تعمےر کردہ منوں وزنی چھتےں گر پڑےں ۔ فضائےں سوگوار ،ہوائےں افسردہ اور گھر مسمار ہو گئے ۔ اس امتحان کے بارے مےں علاقہ کے مکےنوں نے سوچا تھا نہ تےاری کی تھی ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ مےں تمہےں مال کے نقصان سے،جان کے نقصان سے آزماتا ہوں ۔ اس آزمائش مےں صبر سے کام لو ۔ ا;203;صابروں کے ساتھ ہے ۔ اس ناگہانی آزمائش اور افتاد نے کئی ہنستے بستے گھروں کو کھنڈرات مےں بدل دےا ،مکان رزق خاک ہو گئے

لٹی جو فصل بہاراں عجےب منظر تھا

لپٹ کے رو دیے پتے بھی آشےانے کے

قدرتی آفات غرےب اور امےر کے مابےن فرق کئے بغےر آتی ہےں ۔ انسانی تہذےب فطرت کے خلاف اس طوےل جدوجہد کی کہانی ہے ۔ فطرت جو کبھی سےلاب ،کبھی بھونچال ،کبھی قحط ، بےماری ،کبھی آسمانی بجلی اور کبھی دےگر ارضی و سماوی آفات کی شکل مےں اس پر حملہ آور ہوتی رہتی ہےں اور صدےوں پر محےط اس کی اجتماعی ،تہذےبی کاوشوں کو پےوند خاک کرنے پر تلی ہوئی ہےں ۔ قدرتی آفات کے سامنے بے چارگی کا ےہ منظر نےا ہے نہ شاید آخری ۔ انسان ازل سے اسی تگ ودو مےں مصروف ہے کہ کسی طرح نظام قدرت پر قابو حاصل کر لے ۔ جب انسان نے زمےن پر بسےرا کےا تب سے آج تک ساری دنےا مےں انسان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کوشش مےں ہی گزرا کہ وہ کسی طرح نظام قدرت نہ صرف اپنے قابو مےں کرے بلکہ اپنا غلام بنا لے ۔ کبھی انسان خلاءوں مےں پہنچا تو کبھی چاند کا سفر کےا لےکن قدرت تو چشم زدن مےں اس کی ہر ترقی اور ہر کامےابی کو تہہ و بالا کر کے رکھ دےتی ہے اور انسان قدرتی آفات کے آگے حقےر تنکے کی طرح بہہ جاتا ہے ۔ کبھی سمندروں مےں زلزلہ آنے سے توانائی پےدا ہو کر اےک قےامت برپا کر دےتی ہے ۔ دنےا کی کوئی حکومت ،کوئی نظام کسی طوفان سے نبٹ تو سکتا ہے مگر قےامت کا مقابلہ کرنے کی سکت سے محروم ہے ۔ جاپان کے وسائل ،ترقی سائنس اور ٹےکنالوجی مےں انتہائی مقامات تک پہنچے ہوئے ہےں لےکن سونامی انہےں بھی خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی نےت سے آ کر گزر گےا اور جاتے جاتے تھپےڑے مار کر فوکر شےما کے اےٹمی ری اےکٹروں کو غضبناک کر گےا ۔ اتنی ہلاکت خےز قدرتی آفت کی زہر ناکےوں مےں گھر کر بھی جاپانی قوم نے بے بسی،بے ہمتی اور شکست خوردگی کا اظہار نہ کےا بلکہ دلےری اور پامردی سے اس آفت ناگہانی کا مقابلہ کےا ۔ معزز قارئےن در اصل اس کائنات رنگ و بو مےں پائےداری تبدےلی کو ہی حاصل ہے ۔ تبدےلی کا عمل لمحوں مےں ظہور پذےر ہو جاتا ہے ۔ ہر چےز بدل جاتی ہے کوئی شے اپنے اصل مقام پر نہےں رہتی ۔ زلزلے ،طوفان،رےٹا تو قدرتی آفات ہےں ،ےہ آتے ہےں اور گزر جاتے ہےں ۔ وقت کی رفتار نہےں تھمتی اور نہ ہی سورج طلوع ہونے سے انکاری ہوتا ہے ۔ خدا کا ٹائم فرےم ورک ہے موت مےں سے زندگی کو نکالے ےا زندگی سے موت کو ۔ وہ اس چےز پر قادر ہے ۔ وہ پانی مےں پگ لگا دےنے پر قادر ہے ۔ ےہی قےامت پر ےقےن محکم کےلئے اس کی نشانےاں ہےں لےکن انسان ہرحادثے اور واقعے سے بڑا ہے جو اتنی تباہی کے بعد بھی اپنے پاءوں پر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اندھےروں کے بعد ہی اجالے طلوع ہوتے ہےں ان مےں انسانوں کےلئے نشانےاں اور سبق پنہاں ہوتے ہےں ۔ زندگی حرکت سے مشابہ ہے ستارے ڈوبتے ہےں نکلنے کےلئے عروج کو زوال آتا ہے دوبارہ عروج کےلئے کبھی سمندری طوفان آتا ہے تو کبھی سونامی ان کے سامنے دےوقامت جہاز کاغذ کی ناءو اور محلات تنکے بن کر بہہ جاتے ہےں ۔ ےہی فطرت ہے ےہی قانون فطرت ہے ۔ ا;203; تعالیٰ کا ہزار شکر ہے کہ دکھوں اور کرب کے قےدی متاثرےن زلزلہ کےلئے ےہاں کے باسےوں کے اندر بھی رواءتی جواں ہمتی ،ثابت قدمی ،جرات اور ہمدردی کے جذبات بحر بےکراں کی صورت مےں امڈ کر آئے ۔ زلزلہ کی پہلی اطلاع پر حسب معمول پاک فوج کی امدادی گاڑےاں اور ہےلی کاپٹر جائے وقوع کی طرف بھاگ پڑے اور فوری امدادی کاروائےاں شروع کر دےں ۔ ڈاکٹر آ گئے ۔ مختلف سماجی ،مذہبی اور سےاسی تنظےموں نے ان آفت زدوں کےلئے کےمپ لگائے ،پٹی ادوےات اور کھانا مہےا کرنے کی کوشش کی ۔ سےاسی عمائدےن بھی موقع پر پہنچے ۔ گو وزےر اعظم پاکستان عمران خان اقوم متحدہ کے سالانہ اجلاس مےں شرکت کےلئے بےرون ملک تھے لےکن ان کی ہداءت پر گورنر اور وزراء موقع پر پہنچے اور متاثرےن کو تسلی دلاسہ دےا ۔ وزےر اعظم عمران خان نے اپنی پاکستان آمد کے اگلے روز ہی مےر پور آزاد کشمےر کا دورہ کےا اور کہا کہ حکومت زلزلہ متاثرےن کےلئے پےکےج تشکےل دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرےن کی بحالی کےلئے تمام ممکن اقدامات کئے جائےں گے ۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال مےر پور مےں زخمےوں کی عےادت اور امدادی کاموں پر برےفنگ لےنے کے بعد وزےر اعظم نے کہا مےر پور کے آفت زدگان کا دکھ محسوس کر رہا ہوں ۔ انہوں نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لےا ۔ رشک آتا ہے ان افراد پر جنہوں نے شکستہ حوصلوں کو جلا بخشی ،وےران آنکھوں کو نشاۃ ثانےہ دکھائی ۔ ےہ جذبہ انمول بھی ہے اور بے مثل بھی ،قابل تقلےد بھی ہے اور لائق رشک بھی ۔

Google Analytics Alternative