Home » 2019 » November » 01

Daily Archives: November 1, 2019

حکومت نے ماہ نومبر کیلئے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

وفاقی حکومت نے ماہ نومبر کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

پیٹرول کی نئی قیمت 114 روپے 24پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 127روپے41 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ مٹی کےتیل کی قیمت میں فی لیٹر 2روپے39 پیسے کمی کی گئی ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 97 روپے18 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 56 پیسے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت85روپے 33 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا۔

تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی، 74 مسافر جاں بحق اور 90 زخمی

کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے باعث 74 افراد جاں بحق جب کہ 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔

کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثہ رحیم یار خان میں ٹانوری اسٹیشن چک نمبر 6 چنی گوٹھ کے قریب پیش آیا اور زیادہ تر جاں بحق افراد کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جو اجتماع میں شرکت کے لیے رائیونڈ جارہے تھے۔

آگ کے شعلوں نے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث 74 افراد آگ سے جھلس کر جاں بحق اور 90 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

ڈپٹی کمشنر جمیل احمد نے بتایا کہ تیز گام ٹرین کی ایئرکنڈیشنڈ اور بزنس کلاس کی تین بوگیوں میں آتشزدگی ہوئی جن میں 209 مسافر سوار تھے، متعدد لاشیں ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔

آگ گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی

ریسکیو ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر آگ تبلیغی جماعت کے مسافروں کا گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی۔ حادثے کا شکار اکانومی کلاس کی دو بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک کی گئی تھیں۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی آپریشن کیا گیا جس میں پاک فوج کے دستے بھی شریک تھے جبکہ خان پور، لیاقت پور اور ریلوے پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔

شیخ رشید

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بتایا کہ تیز گام ایکسپریس کو حادثہ کراچی سے راولپنڈی جاتے ہوئے پیش آیا، آگ ٹرین کی اکانومی کلاس میں گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی جب کہ مسافروں نے ٹرین سے کود کر جانیں بچائیں۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

حکام کے مطابق مسافر ٹرین میں آگ لگنے کے افسوس ناک حادثے کے بعد ضلع بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریسکیو 1122، پولیس، فائر بریگیڈ، سمیت دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جب کہ حادثے میں متاثرہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو لیاقت پور، آر ایچ سی چنی گوٹھ اور بہاولپور وکٹوریہ اسپتال منتقل کیا گیا۔

15 لاکھ روپے معاوضہ

ریلوے انتظامیہ حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو انشورنس کی مد میں 15 لاکھ روپے دے گی جبکہ زخمی ہونے والوں کو 50 ہزار روپے سے 3 لاکھ روپے تک دیے جائیں گے۔

صدر، وزیر اعظم سمیت ورلڈ بینک کے صدر کا بھی اظہار تعزیت

وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت عارف علوی، پاکستان کے دورے پر آئے ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ میل پاس سمیت حکومتی اور دیگر سیاسی شخصیات نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گریڈ 21 کے وفاقی انسپکٹر آفیسر مقرر 

چیئرمین ریلوے سکندر سلطان کے مطابق گریڈ 21 کے وفاقی انسپکٹر دوست علی لغاری کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کردیا گیا ہے جو جائے حادثہ پر تمام شواہد اکٹھے کرکے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں گے۔ چیئرمین ریلوے  نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے دیگر افسران کو بھی جائے حادثہ پر روانہ کردیا گیا ہے۔

نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

ٹرین گارڈ محمد سعید کی مدعیت میں مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمہ نمبر 19/46 کا اندراج تھانہ ریلوے پولیس خان پور ملتان ڈویژن میں کیا گیا ہے جس میں زیر دفعہ 126 ریلوے ایکٹ اور 436,427 تعزیرات پاکستان کی دفعات درج ہیں۔

سانحے کی ابتدائی تحقیقات مکمل

پاکستان ریلوے پولیس نے سانحہ کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلیں جس کے مطابق واقعہ کی بنیادی وجہ گیس سلنڈر پھٹنا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی بات سامنے آئے گی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی ہدایات ہر آئی جی ریلوے پولیس واجد ضیاء نے تحقیات کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ گیا

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ اپنی آخری منزل اسلام آباد پہنچ گیا جہاں جے یو آئی نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، جلسے میں شرکت کے لیے پی پی کے چیئرمین بلاول بھی اسلام آباد پہنچ گئے۔

حکومت سے طے پائے گئے معاہدے کے مطابق سیکٹر ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب میدان میں جے یو آئی (ف) کے جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، شرکاء کے کھانے پینے کے لیے میدان میں ہی کینٹین اور 5000 بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔ آزادی مارچ کے شرکاء اپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لائیں گے جبکہ آزادی مارچ کے شرکاء کو بستر، اضافی کپڑے اور راشن لانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

جلسے کے شرکاء کی پارکنگ کے لیے جگہ مختص کر دی گئی ہے جس کے مطابق موٹروے اور پشاور جی ٹی روڈ سے آنے والے شرکاء 26 نمبر چونگی براستہ کشمیر ہائی وے، پروجیکٹ موڑ اور جی نائن ٹرن کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف گاڑیاں پارک کریں گے۔

اسی طرح لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ ایکسپریس وے اور مری بارہ کہو سے آنے والے حضرات فیض آباد سے ڈھوک کالا خان فلائی اوور سے واپس فیض آباد براستہ نائنتھ ایونیوچوک سے سروس روڈ ویسٹ پر گاڑیاں پارک کرکے جلسہ گاہ میں داخل ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے انتظامات

آزادی مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ سیکیورٹی کے لیے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لیے آرمی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

ٹریفک پلان

اسلام آباد میں مقیم اور گردو نواح سے آنے والے لوگوں کی سہولت کے لیے ٹریفک پلان بھی مرتب کیا گیا ہے۔ شہری اسلام آباد کی طرف آنے جانے کے لیے براستہ 26 نمبر چنگی فلائی اوور سے مہر آباد پیر ودھائی، آئی جے پی روڈ سے فیض آباد فلائی اوور سے مری روڈ، ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

حاجی کیمپ چوک سے اسلام آباد چوک تک ٹریفک کے لیے ڈائیورژن ہوگی، شہری آمدورفت کے لیے پشاور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے جانے کے لیے براستہ 26 نمبر چنگی فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

کشمیرہائی وے جی الیون سے بجانب اسلام آباد چوک ٹریفک کے لیے ڈائیورژن ہوگی، شہریوں کی آمدورفت کے لیے حاجی کیمپ چوک سے آنے والی ٹریفک مہر آباد آئی جے پی روڈ پر موڑ دی جائے گی، جی نائن، جی ٹین، جی الیون سے موٹر وے پشاور اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ جانے والے حضرات جی الیون، جی ٹین، جی نائن سروس روڈ استعمال کرتے ہوئے براستہ جی الیون سگنل سے کشمیرہائی وے استعمال کریں۔

حکومتی حکمت عملی

آزادی مارچ سے متعلق حکومتی حکمت عملی بھی تیار ہے، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا۔ وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ کے پس پردہ مقاصد میڈیا پر نے نقاب کیے جائیں۔ مارچ کے جلسہ گاہ پہنچنے تک کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی۔

دھرنے کی صورت میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اپوزیشن رہنماوں سے مذاکرات کرے گی، اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ دھرنا دینے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات کرے گی تاہم مذاکرات میں وزیر اعظم کے استعفے کی شرط عائد نہیں ہوگی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاس داری کرے گی، احتجاج میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ایجنڈے کے بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے، حکومتی اقدامات اور پالیسی کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔

حکومت ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے

دوسری جانب رات گئے گوجرانوالہ میں حیدری انڈر پاس پر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمان نے کہا کہ میرے گوجرانوالہ کے غیور دوستوں آپ نے جس خلوص کے ساتھ آزادی مارچ کا استقبال کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہ قومی آواز ہے کہ 25 جولائی کا الیکشن فراڈ ہے، عوام کے  مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، میرا ملک داؤ پرلگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کیلیے ہے، تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں کہ حکومت ناجائز ہے اور ناجائز، نا اہل حکومت کا پاکستان پرمسلط ہونے کا حق نہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، پاکستان معاشی حالات سے بیٹھ رہا ہے جب تک نااہل حکمران ملک پر مسلط ہے تب تک پاکستان کی معشیت بہتر نہیں ہو سکتی، 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے کیے گئے گھر بنائے تو نہیں گرائے گئے، خواتین استاتذہ کو سڑکوں پر کھینچا جا رہا ہے، آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرکی ہے لیکن کشمیریوں کی آزادی اورحق خودارادیت کی جنگ لڑتے رہیں گے، ملک کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں ہم تمام سیاسی رہنما مل کر اپنے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، اب بھی موقع ہے ناجائزحکومت دستبردار ہوجائے، ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے اور قوم کومزید اذیت سےنجات دلائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت کے خلاف نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے، احتساب کے نام پر سیاسی قیادت کو دیوارسے لگایا جا رہا ہے، سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے، ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں بیمار ہے خدا ان کو صحت یاب کرے۔

آزادی مارچ میں موٹر سائیکلوں سوار نوجوانوں کی بڑی تعداد

جے یوآئی کے آزادی مارچ کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر نوجوانوں کی بڑی تعداد لاہور سے اسلام آباد پہنچی، کئی موٹر سائیکل سوار ایسے بھی تھے جو ملتان سے آزادی مارچ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

موٹر سائیکل سواروں میں سے کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے بستر اور کھانے کا سامان بھی ساتھ باندھ رکھا تھا، ماضی میں ہونے والے لانگ اور آزادی مارچز سے مولانا فضل الرحمن کا مارچ اس حوالےمنفرد تھا کہ اس کے شرکا کی اکثریت کے پاس لوٹے بھی تھے۔

 

آزادی مارچ لاہور اور گوجر خان میں غیر ضروری طویل قیام کی وجہ سے لیٹ اسلام آبادپہنچا، گوجر خاں سے اسلام آباد کی طرف سفر کے دوران مولانا صرف نماز کی ادائیگی کے لیے رکے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ماہ نومبر کے لئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے  کا اضافہ کردیا۔

اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات میں ردو بدل کی سمری وزارت پٹرولیم کو بھجوائی تھی، جس میں پیٹرول ایک روپیہ فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 27 پیسے مہنگا کرنے جب کہ لائٹ ڈیزل 6.56 روپے اور مٹی کا تیل 2.39 روپے سستا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

وزارت خزانہ نے ماہ نومبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نو ٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے اور  ہائی اسپیڈ ڈیزل 27 پیسے مہنگا جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 56  پیسے اور مٹی کے تیل کے قیمت میں 2 روپے 39 پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔

پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے، صدرورلڈ بینک

اسلام آباد: ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ میل پاس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کاروباری آسانیوں سے متعلق رینکنگ میں بہتری آئی، پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ  کاروبارمیں آسانیوں سے متعلق تقریب میں شرکت پرخوشی ہے، گزشتہ ہفتے کاروبار سے متعلق رپورٹ شائع ہوئی، وزیراعظم عمران خان کاروبار میں آسانی سے متعلق اقدامات پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

صدر ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے، پاکستان میں کاروباری آسانیوں سے متعلق رینکنگ میں بہتری آئی ہے، خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے کے اقدامات بھی حوصلہ افزاء ہیں۔ ورلڈ بینک پاکستان کو ایک کامیاب اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان سے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

صدر ورلڈ بینک نے کہا کہ تجارتی اصلاحات کا مقصد معاشی استحکام ہے، اصلاحات سے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کو فروغ ملے گا، محصولات کی وصولی آسان اور کاروباری طبقےاور حکومت کے درمیان دوری کم ہوگی، پاکستان میں اہم اصلاحات کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، پاکستان کو اپنی برآمدات میں نمایاں اضافے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے نیب ترمیمی سمیت 8 نئے آرڈیننس پر دستخط کردیے

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت آٹھ  نئے آرڈیننس پر دستخط کردیئے۔

صدر مملکت عارف علوی نے نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت 8 نئے آرڈیننس پر دستخط کردیے ، نیب آرڈیننس کے تحت وہ افراد جو پانچ کروڑ یا زائد مالیت کی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہوں انہیں جیل میں سی کلاس دی جائے گی۔

صدر نے نیب آرڈیننس کے علاوہ  لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ، انفورسٹمنٹ آف ایڈمنسٹریشن آف ویمن پراپرٹی رائٹس آرڈیننس، بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ (ترمیمی آرڈیننس)،  لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس، سو ل پروسیجر کوڈ ترمیمی آرڈیننس اور سپیریئر کورٹس آرڈیننس پر بھی دستخط کیے ہیں۔

صدر مملکت کے دستخط کے بعد ان آرڈیننس کو اب ایکٹ کا درج حاصل ہے اور یہ ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔

حکومت مخالف مارچ اور دھرنوں کی سیاست!

ملک میں حکومت مخالف مارچ،اپوزیشن اتحاد اور دھرنوں کی سیاست نے پورے ملک کے باشعور اورفکرمندلوگوں کو ہلاکررکھ دیاہے ، دوستی اوردشمنی کامعیارذاتی مفادبنتا جارہا ہے ۔ سیاست کی ڈوری جن کے ہاتھ میں ہے وہ دوستی اور رشتے ناتے چمک کودیکھ کرہی آگے بڑھتے ہیں ، تشدد کی سیاست کا دور دورہ ہے اور رواداری معدوم ہے اور اب تک تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سب کی سوچ تنگ نظری پر مبنی ہے جب کہ جو کچھ وسیع القلب واقع ہوئے ہیں ان پر فتوے کا ٹھپہ لگادیا جاتا ہے ۔ مسلکی بنیادوں پر کافی دوریاں محسوس کی گئی ہیں اواسلامی تہذیب کے جملہ راہ ورسم یہاں ہوا ہوتے نظرآرہے ہیں ۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھاہے ۔ تمام فرقے اپنے آپ کو ہی سچا مسلمان اور محب وطن تصورکرتے ہیں جبکہ باقی سب ہی یہود و ہنود اور استعمار کے ایجنٹ قرار دئے جاتے ہیں ۔ انا و لا غیری کے فارمولے پر ہر فرقہ کے پیروکار عمل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مخالف فرقے کا ردعمل بھی شدید اور نہایت سخت اورجارحانہ ہوتا ہے جبکہ بہت لوگوں کو لوگوں کو اعتدال پسند کہاجاسکتاہے اور مگر ان کی حب الوطنی کو شکوک سمجھا جاتا ہے اور فتوے لگا کر ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہمارا ملک اب تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کیوں شامل نہیں ہوسکا ا س کی سب سے بڑی وجہ کچھ لوگ یہاں ناخواندگی کو قرار دیتے ہیں ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صحت کی ناگفتہ بہ حالت نے اس ملک کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے،ایک حلقہ غربت کو قصوروارگردانا جاتاہے، ایک گروہ ایسابھی ہے جن کا خیال ہے کہ اس ملک کو آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے ۔ لیکن ایک بہت بڑاطبقہ وطن عزیز کی ترقی میں بدعنوانی اورچوربازاری کو سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتاہے لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی کی راہ میں فرقہ واریت کا ایک جنونی بھوت کھڑاہے جو بظاہرنظرنہیں آتا لیکن وہ گھن کی طرح اس ملک کے تمام سماجی رشتوں کے تانے بانے کو تباہ کرنے پر مصرہے، فرقہ واریت کی آگ اس ملک کی اسلامی اقدار و تہذیب کو مٹانے پر آمادہ ہے اوراگر جلد ا س پر توجہ نہیں دی گئی توپھر یہ آگ جھونپڑیوں کو بھی جلائے گی اورقصرسلطانی کوبھی ۔ اگرہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہے کہ کچھ سیاست دانوں نے ووٹوں کی صف بندی کےلئے الفت ومحبت کو تاراج کر دیا اور اس میں سبھی سیاسی جماعتیں یکساں طورپر ذمہ دار ہیں ، اسی طرح فرقہ وارانہ فسادات نے بھی لوگوں میں دوریاں پیداکی ہیں ۔ فسادات کا دور ملک میں جنرل ضیاء کے عہدسے زیادہ فروغ پکڑ چکا ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کی جڑیں مستحکم ہوئی ہیں اور فرقہ واریت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی گئی طرفین کے بڑے بڑے لیڈر بھی مارے گئے اور ایسی دوریاں شروع ہوئی جو مٹنے کانام نہیں لے رہی ہیں ۔ اگرہم انتخابی سیاست کاجائزہ لیں تواندازہ ہوتاہے کہ عیار اور مکار سیاست دان نہایت تکنیک سے ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کرتے ہیں اور ووٹروں کے درمیانفرت کی لکیرکھینچ کر مفادات پورے کرتے ہیں ۔ ظاہرہے کہ ووٹوں کےلئے اس قسم کی کوششیں دوفرقوں میں دوریاں ہی پیداکرسکتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کےلئے صرف مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے سرگرم ہیں بلکہ اس کام میں دیگر جماعتوں کے لیڈران بھی کچھ کم نہیں ہیں ، انہوں نے بھی کہیں لسانیت کے نام پر توکہیں ذات برادری کے نام پر ووٹروں کی صف بندی کی ہے ۔ مسلمانوں کے غلبے کے دور کے ایک ہزار سال کی اسلامی تاریخ میں کبھی ایسی کیفیت دیکھنے کو نہیں ملی جن سے آج ہمارا ملک دوچارہے ۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکمرانی کے وقت بھانت بھانت کے نظریات اور زبان والے لوگ آپس میں متحد تھے ۔ گزشتہ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے وطن عزیز میں حقیقی سیاسی قیادت موجود نہیں رہی ابتدا ء سے لے کر آج تک سیاست کے سنگھاسن پر براجمان جمہوریت اور ملک و قوم کا نام تو لیتے رہے لیکن ملک و قوم کی تعریف ان کے ہاں ذاتی جاگیر اورخاندان و گروہ ہوتا تھاقومی سیاست کے نام پرذاتی مفادات کا حصو ل اولین ترجیح ہوتی تھی اور جب بات ذاتی مفادات کی ہوئی تو اس میں لڑائی و جھگڑے کا کھیل لازمی عنصرکی حیثیت اختیارکر گیا یہ کھیل اُسوقت اور مظبوط ہو گیا جب امریکی سامراج نے یہاں کے مقتدر طبقات کو اپنے زیر اثر کر لیا ۔ یہاں ہر اچھے عمل کو سبوتاژ کرنابھی ایک روایت ہے اوریہ ایک بھی حقیقت ہے کہ یہاں آئین میں ترمیمات ہوتی رہتی ہیں اور بل وغیرہ پاس کئے جاتے ہیں لیکن کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں ملک میں موجود سامراجی استحصالی نظام تبدیل تبدیل ہوتا ہے;238; اور کیا ان ترمیمات کے ذریعے جاگیرداریت اور سرمایہ داریت کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے ;238;یقینا اس کا جواب نفی میں ہے اور کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں مزدوروں کے معیار ذندگی میں کوئی فرق آیا اورغریبوں کی غربت اور امیروں کی کی عمارت میں کوئی کمی ہوئی ہوئی ہے اور کیا طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوا ہے;238; اور کیا ججوں کے تقرر کے جھگڑے چکانے میں عد ل و انصاف کا بول بالا ہوا اور کیاقوم کے حقیقی مجرم کیفر کردار کو پہنچے ;238; عدالت اگر مافیا کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو عدلیہ کو دھمکیاں دی جاتی ہے اور چنے چبوانے کی بات کی جاتی ہے اور پھر ان کے گھروں پہ فائرنگ کروائی جاتی ہے مگر نظام عدل کےلئے آواز اٹھائی گئی ہے;238; ایک آدمی کو بار بار وزیر اعظم بنانے اور ایک نا اہل کو اہل کرنے کیلئے تو قانون سازی کی جاتی ہے مگر کیا عوام کا خیال بھی کسی کو ہے;238; اور کیادہشت گردی اور بنیاد پرستی ختم ہوئی یامذہبی و سیاسی فرقہ واریت کے جراثیموں کا خاتمہ ہوا;238;آخر یہ دھرنے اوربلیک میلنگ کی سیاست کب تک

حکومت بہترین معاشی ٹیم کی بدولت چیلنجز پر قابو پا رہی ہے، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملکی نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہیں، حکومت بہترین معاشی ٹیم کی بدولت چیلنجز پر قابو پا رہی ہے۔

اسلام آباد میں کاروبار میں آسانیوں سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا اور اس ترقی میں زیادہ حصہ صنعتوں کا تھا، ایشیا میں پاکستان کا نظام حکومت اور بیورو کریسی بہترین تھی لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے عام آدمی کو ترقی کے ثمرات نہیں ملے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو مختصر اور طویل المدتی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہم پھر بھی ملکی نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ملکی ترقی کے لیے نظام تعلیم کو بہتر بنانا اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کا فروغ ضروری ہے، کاروباری آسانیوں سے متعلق اقدامات پر ماہرین کی کاوشیں قابل تعریف اور کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں کمی پر معاشی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، حکومت بہترین معاشی ٹیم کی بدولت چیلنجز پر قابو پا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ انصاف کے نظام کو بہتر بنانے پرکام کر رہے ہیں، اس حوالے سے موجودہ چیف جسٹس کے اقدامات قابل تعریف ہیں، ہم غریب طبقے کوغربت سے باہرلانا چاہتے ہیں، معاشی مشکلات کے باوجود غربت کے خاتمے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا، خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

Google Analytics Alternative