Home » 2019 » November » 03

Daily Archives: November 3, 2019

لوگ آگے جانا چاہتے ہیں ہم نے انہیں روکا ہوا ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء کا ہم پر دباؤ ہے کہ وہ آگے جانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے انہیں روکا ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 2 دن کی مہلت دی ہے جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لوگوں کا ہم پر دباؤ ہے کہ وہ آگے جانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے آگے نہیں جانے دے رہے، ہم نے انہیں روکا ہوا ہے اور ہم مشاورت کے ساتھ تمام فیصلے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا موڈ جارحانہ نہیں بلکہ ہمارا موڈ جارحانہ ہے، حکومت تو دفاعی پوزیشن میں ہے اس کے اوسان خطا ہوچکے ہیں، یہاں جو لوگ دھرنے میں آئے ہیں وہ  تاریخ کے اوراق میں کچھ ثبت کرنا چاہتے ہیں۔

 

جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اداروں کے حوالے سے احتیاط سے کام لے رہے ہیں، کل کی تقریر میں جو باتیں ہوگئیں وہ ٹھیک تھیں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کے سوال میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے، پچھلے دھرنے جائز حکومت کے خلاف تھے یہ دھرنا ناجائز حکومت کے خلاف ہے ہماری طرف سے ایک ہی آپشن ہے وہ صرف  وزیراعظم کا استعفیٰ ہے۔

اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے سوال پر جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ اس حوالے سے فوری نہیں کہہ سکتا لیکن اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔

فضل الرحمن کیخلاف عدالت سے رجوع کر رہے ہیں، حکومتی مذاکراتی کمیٹی

اسلام آباد: حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کا بیان بغاوت ہے جس پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف عدالت جارہے ہیں۔

پرویز خٹک نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کے بیان پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، کل کی تقریروں پر افسوس ہوا، تیس چالیس ہزار لوگ استعفی مانگنا شروع کردیں تو ملک نہیں چل سکے گا، ہزاروں کےمجمع سے حکومت نہیں گرائی جا سکتی، میں اکیلا اس سے زیادہ بندے لا سکتا ہوں، مولانا عوام کو حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں، وزیراعظم ساری صورتحال خود مانیٹر کر رہے ہیں۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، بات چیت کیلئے تیار ہیں، کل اپوزیشن نے زیادہ تقریر اداروں کے خلاف کی، آئی ایس پی آر کا بیان بھی سامنے ہے، اگر یہ اداروں کے خلاف بولیں گے تو ملک سے دشمنی کریں گے، تمام ادارے حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، فوج نیوٹرل ہے اس لیے انہیں تکلیف ہورہی ہے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ حکومت کے معیشت کے اقدامات بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو ڈر ہے کہ حکومت نے ڈیلور کیا تو یہ ناکام ہو جائیں گے، آزادی مارچ نے انتظامیہ سے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو انتظامیہ خود ان کے خلاف کارروائی کرے گی، غیرملکی تنظیموں کےجھنڈے فساد پھیلانےکیلئےلہرائے گئے ہیں، مارچ کاشوشہ حکومت کو دباؤمیں لانےکیلئےچھوڑا جارہاہے، لیکن ہم کسی دھونس دھمکی میں نہیں آئیں گے، معاہدےکی خلاف ورزی پرکوئی رعایت نہیں کریں گے، اداروں پر تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کو گلہ اس بات کا ہے فوج نے انکی چوری کو نہیں بچایا، مولانا کا اداروں سے متعلق بیان بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

فضل الرحمن کا حکومت کے خلاف سخت فیصلہ کرنے کا اعلان

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حالات بگاڑنا نہیں چاہتے لیکن دو روز بعد حکومت کے خلاف سخت فیصلے کریں گے۔

دھرنے کے دوسرے دن شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 126 کا دھرنا ہمارے لیے آئیڈیل نہیں، ہماری تحریک بڑی ہے، ہمیں کل فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ دنوں میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اس حکومت کے خلاف تحریک کا تسلسل برقرار رہے، دو روز بعد اس سے بھی سخت فیصلے کریں گے، ہم حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتے یہ پرامن اور منظم مارچ اس گواہی کے لیے کافی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے خواتین کو جلسے میں آنے سے نہیں روکا، ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر جلسے میں شریک ہیں، ہماری کامیابی کے لیے روزے رکھ رہی ہیں، دعائیں کررہی ہیں اور اللہ کے سامنے گڑگڑا رہیں ہیں، ہماری خواتین قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان1947ء میں گھوم رہے ہیں لیکن ہم 72 سال آگے جاچکے ہیں، ہم سے آج کے پاکستان کی بات کی جائے، ہم اقبال و قائد اعظم کے نظریے کے مطابق پاکستان کو استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت کی حماقتوں اور کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا ہوچکا، پڑوسی ممالک آپ سے ناراض ہیں، کشمیر پر ممالک آپ کا ساتھ نہیں دے رہے کس منہ سے آپ کشمیر کی نمائندگی کی بات کرتے ہیں؟ کشمیر کے نمائندے آپ نہیں ہم ہیں۔

قائد جے یو آئی نے کہا کہ حکومت جلسے کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے کچھ چیزیں ڈھونڈ رہی ہے، انتظامیہ یہاں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ہم انہیں موقع نہیں دے رہے۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کیا کہ جے یو آئی کی قیادت آپ کو جو حکم دے گی آپ اس پر لبیک کہیں، ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے شرکا ہمارے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں اور اس وقت تک مارچ کے شرکا یہیں پر قیام کریں۔

(ن) لیگ اور پی پی کا ڈی چوک کی جانب مارچ پر جے یو آئی سے اختلاف

اسلام آباد: ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) وزیراعظم ہاؤس اور ڈی چوک کی جانب مارچ پر متفق نہ ہوسکے۔

آزادی مارچ کے آئندہ لائحہ عمل پر رہبر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا اور شرکاء وزیراعظم ہاوس یا ڈی چوک کی جانب مارچ پر متفق نہ ہوسکے۔

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما اور رہبر کمیٹی کے رکن نیئر بخاری سے سوال کیا کہ پی پی پی ڈی چوک جانے میں جے یو آئی (ف) کا ساتھ دے گی، جس پر نیئر بخاری نے جواب دیا کہ قیاس آرائیوں پرمبنی سوال نہ کریں تجاویز پر پارٹی کے اندر مشاورت کریں گے۔

یہی سوال جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان، جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کو آگے لے کر جائے گی، اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد مشترکہ لائحہ عمل پیش کریں گے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ آزادی مارچ کو ڈی چوک لے جانے پر جے یو آئی کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

جے یوآئی ف کے دھرنے میں افغان باشندوں کی بڑی تعداد میں شرکت کا انکشاف

لاہور: اسلام آباد میں جاری جے یوآئی ف کے احتجاجی دھرنے میں افغان باشندوں کی بڑی تعداد میں شرکت کا انکشاف ہوا ہے۔

دھرنے میں کچھ باشندے مملکت اسلامیہ افغانستان کے بینرز اٹھائے نظر آئے ہیں جس کی باقاعدہ تصاویر اور ویڈیوز بھی حاصل کی گئی ہیں۔

یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد حساس ادارے متحرک ہوگئے ہیں کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ اس دھرنے میں افغان باشندوں کی کتنی تعداد شریک ہے۔

قبل ازیں حساس ادارے یہ الرٹس بھی جاری کرچکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن یا پھر دھرنے کے اجتماع کو دہشت گرد نشانہ بناسکتے ہیں، اس حوالے سے بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں اپنا کام دکھا سکتی ہیں جس پر افغان باشندوں کی دھرنے میں موجودگی نے سیکیورٹی اداروں کومزید چوکنا کردیا ہے۔

نہ تو وزیراعظم مستعفی ہوں گے اور نہ ہی نئے انتخابات ہوں گے، حکومت

بنی گالہ: وفاقی حکومت نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ نہ تو وزیراعظم مستعفی ہوں گے اور نہ ہی نئے انتخابات ہوں گے۔

بنی گالا میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیراعظم کو اپوزیشن سے رابطوں پر بریفنگ دی اور آزادی مارچ سے نمٹنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔ اجلاس کے دوران اہم فیصلے کیے گئے۔

کور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نہ تو وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوں گے اور نہ ہی ملک میں نئے انتخابات ہوں گے، جبکہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والے شرپسندوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

کور کمیٹی نے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکاء جب تک چاہیں بیٹھے رہیں، لیکن اگر انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ کور کمیٹی نے افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کے اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سیاسی اور جمہوری جماعتیں آئین سے بغاوت کرتی ہیں اور نہ ہی اس کا درس دیتی ہیں، وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک اور قابل مذمت ہے۔

علاوہ ازیں بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی سخت کرتے ہوئے ایف سی جوان تعینات کردیے گئے اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے جبکہ بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین آج شام پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کریں گے۔

وزیراعظم کی توہین عدالت نوٹس پر فردوس عاشق کی مکمل حمایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس معاملے پر عدالت نے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو طلبی کا نوٹس جاری کیا وہ پریس کانفرنس حکومتی پالیسی کے مطابق اور میری ہدایت پر کی گئی۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کے نوٹس پر وزیراعظم عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاملے پرعدالت نے معاون خصوصہ اطلاعات کو طلبی کا نوٹس جاری کیا وہ پریس کانفرنس حکومتی پالیسی کے مطابق کی گئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمان ہوتے ہوئے حکومتی بیانیے کو عوام تک پہنچانا معاون اطلاعات کی ذمہ داری ہے، فردوس عاشق اعوان نے جو کہا وہ میری ہدایات کے مطابق تھا۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل اور بیرسٹر بابر اعوان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فردوس عاشق اعوان  قانونی رہنمائی فراہم کریںا اور وزیرقانون بھی عدالت میں پیشی سے متعلق قانونی معاونت فراہم کریں۔

وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبے پر قائم ہیں، رہبرکمیٹی

اسلام آباد: رہبرکمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن میں تمام جماعتیں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبے پر قائم ہیں۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کنوینئر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ آج رہبرکمیٹی کے اجلاس میں مختلف امور زیرغور آئے، اپوزیشن کی تمام 9 جماعتیں وزیراعظم عمران خان استعفے  اور نئے انتخابات یہی ہمارا مطالبہ ہے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ آج تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ آزادی مارچ کے مقاصد اور وزیراعظم کے استعفے اور فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات کے مطالبے کو آگے بڑھایا جائے گا، ڈی چوک جانا ابھی زیرغور نہیں، دیگرآپشنز پر مشاورت جاری ہے۔

سربراہ رہبر کمیٹی نے بتایا کہ تمام غیر جمہوری قوتوں کو خبردار کرتے ہیں اگر ماورائے آئین اقدام کیا تو تمام جماعتیں احتجاج کریں گی، ہمارے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، پارلیمنٹ سے مشترکہ استعفے، ہائی ویز کی بندش اور اضلاع کی سطح پر احتجاج بھی زیرغور ہے۔

اکرم درانی نے کہا کہ معاہدے سے ہم نہیں بلکہ حکومت بھاگ رہی ہے، حکومت نے کہا تھا کہ کسی قافلے کو روکا نہیں جائے گا لیکن اس کے برعکس میرے ساتھ آنے والے قافلوں کو روکا گیا، ہمارے مریضوں کو اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں، ہم رابطے سے انکاری نہیں ہیں لیکن وزیراعظم اور وزیردفاع پرویزخٹک کا لب ولہجہ درست نہیں، ہم بات کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر وزیراعظم کے استعفیٰ پربات نہیں ہوسکتی تو پھر رابطے کی کیا ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative