Home » 2019 » November » 03 (page 2)

Daily Archives: November 3, 2019

آزادی مارچ کودھرنے میں تبدیل نہ ہونے دیاجائے

آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنا کسی صورت بھی موجودہ سیاسی حالات کے مفاد میں نہیں ، فضل الرحمن نے جو مطالبہ پیش کیا ہے اور حکومت قطعی طورپرراضی نہیں نہ ہی عمران خان نے استعفیٰ دینا ہے اس سے مزیدانارکی پھیلے گی گوکہ دو د ن کی مہلت حکومت کو دی گئی ہے لیکن اس کے بعد کوئی حوصلہ افزانتاءج نہیں برآمد ہوں گے کیونکہ آزادی مارچ کے نام پر مولانا فضل الرحمان تمام لوگوں کو اسلام آباد لیکر پہنچے اوراب اگراس کو دھرنے میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی کہہ چکی ہے کہ مذاکرات کے امکانات نہیں لیکن ضرورت پڑی تومذاکرات کریں گے ، وزیراعظم نے بھی اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ جتنا عرصہ چاہیں دھرنے میں بیٹھیں رہیں ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگرقانون کی خلاف ورزی کی تو پھرکارروائی ہوگی، ہاں دیکھنے اورسمجھنے کی بات ہے کہ ماضی کے دھرنے بھی اسی نوعیت کے تھے،اسی طرح کے مطالبات تھے اورپھراس کے بعد جوحالات درپیش آئے وہ ساری دنیا نے دیکھے ، حکومت فضل الرحمان کے آزادی مارچ اورممکنہ دھرنے کو بہت زیادہ آسا ن نہ لے اگر دو دن کے بعد آزادی مارچ کے شرکاء کو کہہ دیاگیا کہ وہ ڈی چوک روانہ ہوں تو اس سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے لہٰذا درمیانے راستے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین بیٹھ کرآپس میں باہمی افہام وتفہیم سے معاملات کو حل کرسکیں نہ کہ ایک دوسر ے پر پراگندہ سیاست کے الزام عائد کریں ،کیچڑاچھالیں ، ذاتیات پرآئیں اس سے من حیث القوم نقصان کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اور اداروں کو 2دن کی مہلت دیتے ہیں ، وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو عوام کا یہ سمندر انہیں گھر سے بھی گرفتار کرنے کی طاقت رکھتا ہے،کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں ، مزید صبرکا مظاہرہ نہیں کرسکتے، پاکستانی گوربا چوف ناکامی کا اعتراف کرکے حکومت سے دستبردار ہوجائے، جبکہ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان پتھردل، مغرور، خالی دماغ ہیں ، حکومت جادو ٹونے او رپھونکوں سے چل رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹرز کی وجہ سے اقتدار میں آنےوالے عوام کو خوش کیوں رکھیں ، فوج سب کی ہے متنازع نہیں ہونے دیں گے ۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں مانیں گے ۔ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تحریک کو انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ آزادی مارچ کے دھرنے سے دیگر رہنماءوں نے بھی خطاب کیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسے اوراقتدار کےلئے اسلام کا نام لینے کا دور چلا گیا ہے دھرنا دینے والے بے شک جتنے دن چاہیں بیٹھ جائیں جب کھانا ختم ہو گا وہ بھی بھجوا دیں گے لیکن کسی کو این آر او نہیں ملے گا کچھ بھی ہوجائے استعفیٰ نہیں دوں گا، آزادی مارچ والوں کا مقصد صرف اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جن لوگوں نے ملک کو لوٹاہے ان سب کو جیلوں میں بھجواءوں گا، اسحاق ڈارکے والد کی سائیکل کی دکان تھی آج وہ اور ان کے بچے ارب پتی ہیں ، شہباز شریف کا بیٹا اور داماد ملک سے فرار ہیں ،اگر انہوں نے چوری نہیں کی تو یہ باہر کیوں بیٹھے ہیں بلاول بھٹو لبرل نہیں بلکہ لبرلی کرپٹ ہے ۔ دریں اثناگلگت میں یوم آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے قربانی دے کر اپنا علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا، یہ علاقہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے دنیا میں گلگت بلتستان سے زیادہ خوبصورت کوئی علاقہ نہیں ،نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی جیسے ہی کرفیو اٹھے گا انسانوں کا سمندر باہر نکل کر آزادی مانگے گا ۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستوں نے وزیراعظم پاکستان کو سلامی دی ۔ عمران خان نے گلگت بلتستان میں 250بستروں کے اسپتال سمیت چار منصوبوں کا سنگ بنیادبھی رکھا ۔

اداروں کوسیاست

میں نہ گھسیٹا جائے

اداروں کوسیاست میں گھسیٹنا کوئی اچھی روایت نہیں ، سیاستدانوں کو سیاسی مسائل سیاسی اورجمہوری انداز میں حل کرنے چاہئیں اورپھروہ ادارہ جو ملکی سالمیت کاضامن ہو ملک میں کہیں بھی کوئی مشکل آن پڑے تو پیش پیش ہو اس کوموردالزام ٹھہرانا کہاں کی عقلمندی ہے ،اس طرح آزادی مارچ میں مولانافضل الرحمان، شہباز شریف اوربلاول بھٹو نے ٹارگٹ کرکے تقرریں کیں اس سے کسی طرح بھی سلجھی ہوئی سیاست کے زمرے میں نہیں لایاجاسکتا، شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیاکہ جس طرح موجودہ حکومت کواداروں کی حمایت حاصل ہے اگر ہ میں دس فیصدبھی حاصل ہو تو ہم چھ ماہ میں اپوزیشن کے ساتھ ملکر تمام حالات بدل سکتے ہیں ، بات چھ ماہ کی نہیں گزشتہ تیس سال سے یہ لوگ مختلف اشکال میں عنان اقتدار پر براجمان رہے تو کیاکیا;238; اس بیانیے کے بعد ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفورنے ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو میں دوٹوک الفاظ میں کہاکہ قومی استحکام اور یکجہتی کو ہرگزنقصان نہیں پہنچانے دیاجائے گا اور ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی حمایت کریں گے ۔ پاک فوج ایک قومی اور غیرجانبدار ادارہ ہے جو آئین وقانون کی بالادستی پریقین رکھتا ہے اوراس نے کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہمیشہ منتخب جمہوری حکومتوں کی حمایت کی ہے ۔ انتخابات کی شفافیت کے بارے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج نے انتخابات میں اپنی قانونی وآئینی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹرجنرل نے کہاکہ حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹی بہتر طریقے سے کام کررہی ہے اورہ میں امید ہے کہ یہ عمل اچھے انداز میں آگے چلے گا ۔ حکومت کو قائم ہوئے ایک سال سے زائد کاعرصہ گزر گیا ہے اور مسائل محض الزامات کے ذریعے سڑکوں پرحل نہیں ہوتے ۔ حزب اختلاف کو پاک فوج پرالزام لگانے کی بجائے یہ معاملات متعلقہ اداروں کے سامنے رکھنے چاہئیں اوراسے اس کا آئینی حق حاصل ہے سیاسی مسائل جمہوری انداز میں حل کئے جانے چاہئیں ۔ گزشتہ دودہائیوں میں ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے مشکل حالات سے گزرا ہے اوربے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ عوام اور پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو عظیم قربانیاں دیں ان کی مثال کوئی دوسراملک پیش نہیں کر سکا ، کنٹرول لائن پرکشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں ۔ وطن کے دفاع کےلئے مشرقی سرحد پر ایک لاکھ اورمغربی سرحد پر تقریباً دولاکھ جوان تعینات ہیں ۔ ایسے حالات میں ملک میں انتشاراوربے چینی پھیلانا قومی مفاد میں نہیں ہوگا ۔

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر

جرمن چانسلرکا اظہارتشویش

بھارت کانام نہاد جمہوریت پسندکلنگ زدہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے مگرچونکہ مودی کا تعلق آرایس ایس دہشت گرد تنظیم سے ہے اس وجہ سے وہ کسی چیز کوبھی خاطر میں نہیں لارہا،ہٹ دھرمی کی انتہاتویہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرکو اس نے دوحصوں میں تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیرنگرانی کردیا، پاکستان اورچین نے اس بھارتی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ۔ اب جرمن چانسلرنے مودی کوآئینہ دکھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیاہے ،انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ٹھیک نہیں اس میں بہتری آنی چاہئے ۔ انجیلا مرکل اپنے ساتھ آئے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہی تھیں ان کے اس بیان کو مقامی میڈیا بھارتی حکومت کیلئے سبکی قرار دے رہاہے ۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ۔ دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفترکے باہرایک احتجاجی ریلی نے بھارتی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ نہتے کشمیریوں اور سکھوں کی نسل کشی بندکرے ۔ ریلی میں سکھوں اور کشمیریوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ مظاہرین نے کہاکہ مودی حکومت بھارت اورکشمیر میں مسلمانوں اورسکھوں کی نسل کشی کررہی ہے اوراس نے بھارت میں مقیم اقلیتوں کی مذہبی آزادی چھین لی ہے ۔ ریلی کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیوہٹانے اورکشمیریوں کامحاصرہ ختم کرنے کامطالبہ بھی کیا ۔

یورپی یونین پارلیمانی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر!

یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد نے گزشتہ ہفتے کے اوائل میں ’’کشمیر میں کیا صورتحال ہے‘‘جاننے کے لئے انڈین زیر انتظام کشمیر کا غیر سرکاری دورہ کیا بھارتی فوج کی نگرانی میں یورپی یونین کے وفد کے معزز اراکان نے نئی دہلی کی ایما پر جہاں یہ باور کرایا کہ وہ ’’نئی دہلی کے امور مملکت میں دخل اندازی کرنے نہیں آئے‘‘مگر دورے کے اختتام پر اپنی پریس بریفنگ میں جو احوال یورپی یونین کے نمائندہ وفد نے بیان کیئے اْس سے یہ واضح ہوگیا کہ انڈین زیرانتظام کشمیر پر بات کرنا اور اپنی انسانی تشویش کا اظہار کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور نئی دہلی کے’’امور مملکت میں دخل اندازی‘‘مقبوضہ وادی کی تشویش ناک ابتر صورتحال کوئی تعلق نہیں بنتا‘‘ یورپی یونین کے وفد نے اپنی اسی پریس بریفنگ میں مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج کے ہاتھوں منگل انتیس اکتوبرکو جنوبی کشمیر کے کلگام ضلع میں مغربی بنگال کے پانچ مزدوروں کی ہلاکت پر اپنے شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’انڈین کشمیر کی اندرونی غیر انسانی صورتحال نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ‘‘یہاں یاد رہے کہ انڈین زیرانتظام کشمیر کی پولیس انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ’’کلگام میں ایک الرٹ آپریشنل حملہ میں ہلاک ہوئے سبھی مزدور مغربی بنگال مرشد آباد کے رہنے والے تھے‘‘بھارتی سرکار کے زیر اثر ’’گودی میڈیا‘‘ نے مغربی بنگال کے ان بے قصور مزدوروں کی ہلاکت کی ذمہ داری نام نہاد دہشت گردی کے وجہ قرار دی جسے عقل وفہم رکھنے والے باشعور ذہنوں نے با آسانی تسلیم نہیں کیا ایک ایسی محصور وادی میں جہاں نئی دہلی سرپرستی میں کرفیو نافذ ہے لوگوں عام شہریوں کی پل پل کی نقل وحرکت پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے عام کشمیری گھروں سے باہر نہیں نکل پاررہے ایسے میں ’’دہشت گردی کا واقعہ‘‘ کیسے ہوسکتا ہے;238; یہاں یہ امر کیسے پس پشت ڈال دیا جائے یا اسے بھلا دیا جائے کہ سابق امریکی صدر کلنٹن جب بھارت کا سرکاری دورہ کررہے تھے تو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ وادی کے مقام چنڈی سنگھ پورہ میں تیس کے قریب کشمیری سکھوں کو اپنی تیارہ کردہ سازش کے ذریعے سے قتل کرایا تھا جس قاتلانہ سازش کا بروقت انکشاف ہوگیا تھا ایسا ہی ایک اور افسوس ناک واقعہ سابق امریکی صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران پھرہوا مقبوضہ وادی کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی یہ ’’را‘‘کی آزمودہ واردات ہے جسے بار بار دہرایاجاتا ہے مقبوضہ وادی کو مکمل ہڑپ کرنے کی بھارتی ناکام کوشش جو پانچ اگست کو کی گئی دنیا بھر میں اس بھارتی اقدام کی کھل کر ہر جانب سے مذمت کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے اور آپ نے دیکھ لیا جیسا پہلے بھی بیان ہوا کہ یہ ’’حملہ‘‘ اسی دن ہوا ہے جب یورپی یونین کا وفد آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ واپس لیے جانے کے بعد مقامی لوگوں سے بات کرنے اور ان کا تجربہ جاننے کے لیے کشمیر کے سفر پر آیا آرٹیکل 370 پر مرکز کے فیصلے کے بعد سے دہشت گرد ٹرک والوں اور مزدوروں خاص کر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو کشمیر کے باہر سے وادی میں آئے ہوئے ہیں مثلاًادھم پور ضلع کے ایک ٹرک ڈرائیور کو اننت ناگ میں دہشت گردوں نے مار ڈالا تھا5 اگست کو آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد ’’مشکوک دہشت گردوں کے حملوں ‘‘ میں مارا جانے والا یہ چوتھا ٹرک ڈرائیور تھا24 اکتوبر کو دہشت گردوں نے شوپیاں ضلع میں دو غیر کشمیری ٹرک ڈرائیور وں کا قتل کر دیا 14 اکتوبر کو شوپیاں ضلع میں ہی دو دہشت گردوں نے راجستھان کے نمبر والے ایک ٹرک ڈرائیور کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا ۔ قارئین اندازہ لگائیں کہ آرایس ایس جسے ’’غیر ریاستی جنونی تنظیم‘‘کہا جائے یا پھر ’’ریاستی جنونی اسلام فوبیا میں مبتلا متشدد تنظیم کا نام دیں اپنے آپ کو ’’بڑا معتبر‘‘قرار دینے کی ایک ناکام کوشش میں اپنے طور پر یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد کو کشمیرآنے کی دعوت تو دیدی مگر اپنے سازشی مقاصد میں آرایس ایس بہت ہی بْری طرح سے ناکام رہی ہے، ہندوتوا کے جنونی غیر مہذب پیروکار کشمیری مسلمانوں سے اپنی نفرتوں میں بالکل اندھے ہوچکے ہیں وہ مہذب اقوام کی سچی جمہوری فطرت کا اندازہ نہیں لگا سکے یہ عجیب بات نہیں ہے کہ بھارتی کانگریس کے صف اول کے لیڈروں اور سیکولر خیال بھارتی صحافیوں کو تو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے یورپی پارلیمانی وفود کو آر ایس ایس مقبوضہ وادی کے دوروں کی دعوتیں دے رہی ہے وجہ کیا یہی وجوہ ہے یورپی دنیا کسی صورت بھی اب دنیا کے کسی ملک میں ’’نازی ازم‘‘ کو پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دے سکتی انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک بہت شدید تحفطات رکھتے ہیں رتی برابر سمجھوتہ کرنے کےلئے آمادہ نہیں ہونگے اور مقبوضہ وادی میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب یورپی یونین کے تیئس رکنی وفد کے ارکان نے اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں بھارت نے کشمیر کی سرزمین کو ’’عالمی بدامنی‘‘کا استعارہ بنادیا نئی دہلی کی بے حسی کس قدر شرمناک ثابت ہوئی ہے افسوس ہے کشمیر کی سرزمین اپنی تاحد نگاہ پْرکیف خوبصورتی اور زرخیری کے اعتبار سے ‘لبنان’کی ہم پلہ ریاست تسلیم کی جاتی تھی یہ اوربھی افسوس کامقام کہ کشمیر کی خوبصورتی اور دلنشینی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہاں راقم نے ’’ماضی‘‘ کاصیغہ استعمال کیا;238; آپ بھی اتفاق کریں گے اورواقعی اس میں کوئی شک نہیں ہے‘ممتازکشمیری مصنفہ صابرہ سلطانہ کا سوال بجا، ایک کشمیری مصنفہ ہونے کے ناطے اْنہوں نے دنیا کی اس بے مثال خوبصورت ترین وادی کو آج ‘لہولہان وادی’ ہوتے ہوئے دیکھا تو اْن کے اس حقیقی سوال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے کروڑوں پاکستانی اور لاکھوں کشمیری عوام کو جواب کون دے گا;238; بھارت یا اقوام متحدہ جواب دے گا;238;’جنت نظیروادی کشمیر‘کو اپنی ہٹ دھرمی، ضد اور اور انا سے مغلوب مودی، اجیت اور ڈوبھال بدقماش تثلیثی سیاست کی بے رحمانہ مہم جوئی کے نتیجے میں پانچ اگست کے بعد سے اب تک ‘لہولہان وادی’ میں بدل کررکھ دیا ہے ا یسا کیونکر ہوا ہے;238; کشمیر کو’’جنت نظیر وادی‘‘ سے’’جہنم کی دہکتی ہوئی وادی‘‘ بنادینے والے ان سفاک اور انسان کش ہندوتوا کے پیروکار جنونی سیاست دانوں کی اکہتر برس گزرنے کے باوجود آج تک دنیا میں سوائے خوف زدہ وحشت کی فضا قائم رکھنے والے جنونی طاقت کے بل پربھارتی معاشرے میں تقسیم درتقسیم کے سماجی طبقات بنانے والے اورنا انصافی پر مبنی ظالم وبربریت کے انتہائی بدنما وحشیانہ زرد نشان کی چھاپ پرفخر کرنے والوں کی کوئی اور پہچان کیوں ہونہ سکی یہ سوچنا ہوگا بھارت کی نئی نسل کو کیا بھارت کی نئی نسل اسی بدنما پہچان کے یہ داغ لیئے مستقبل کی جانب گامزن رہنا چاہتے ہیں ;238; ابھرتی ہوئی جدید بھارتی نسل کو آج نہیں تو کل فرسودہ بھارتی ہندوتوا کے پیروکاروں کے خونی پنجوں سے اپنے آپ کو آزاد کرانے کےلئے ہر صورت میں جدید اور روشن خیال افکار سے لیس ہوکر میدان میں اترنا پڑے گا تبھی کہیں جاکر بھارت جدید دنیا سے ہم آہنگ ہو گا ۔

عمران خان سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے بیان نے میرا دل توڑدیا، نیلم منیر

کراچی: اداکارہ نیلم منیر نے مولانا فضل الرحمان کے وزیراعظم عمران خان سے متعلق دئیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان  کے بیان نے میرا دل توڑ دیا۔

اداکارہ نیلم منیر نے ملک میں چل رہی سیاسی ہلچل کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آزادی مارچ اور مولانا فضل الرحمان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ نیلم نے انسٹاگرام پر پاکستانی جھنڈے کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرنے کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کی آزادی مارچ کے دوران کی گئی تقریر پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نیلم منیر نے لکھا کہ میں دل سے تمام مذبی اسکالرز کی عزت کرتی ہوں اور ان کی تقاریر اور لیکچرز سے رہنمائی حاصل کرتی ہوں۔ آج مولانا صاحب نے عمران خان کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کی دھمکی دی اور مولانا صاحب کی اس دھمکی نے میرا دل توڑ دیا۔

نیلم منیر نے لکھا کہ ہمارا ملک افراتفری، انتشار اور سول نافرمانی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم نوجوانوں کو اپنی  تقدیر سنبھالنے کی ضرورت ہے جس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی ایک نہ سنیں۔ ہم نوجوانوں کو ان لوگوں اور اداروں کے خلاف متحد ہونا ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو، جو ہمارے پیارے ملک کو برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز تقریر کے دوران کہا تھا وزیراعظم عمران خان کے پاس مستعفی ہونے کےلیے 2 دن کی مہلت ہے، وگرنہ عوام کا سمندر طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کے گھر جاکر انہیں گرفتار کرلے۔

نیلم منیر حال ہی میں فلم ’’کاف کنگنا‘‘ میں کیے گئے آئٹم سانگ اور اس آئٹم سانگ کو آئی ایس پی آر کا پروجیکٹ قرار دینے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی زد میں رہی ہیں۔ نیلم منیر کا کہنا تھا کہ ’’کاف کنگنا‘‘ آئی ایس پی آر کا پروجیکٹ تھا اور اسی لیے انہوں نے آئٹم سانگ کرنے کی ہامی بھری۔ پاکستان کے لیے ان کی جان بھی حاضر ہے

مودی سے ملاقات میں جرمنی کی سربراہ کشمیریوں کے حق میں بول پڑیں

نئی دلی: جرمنی کی سربراہ انجیلا میرکل نے دورہ بھارت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وادی میں تناؤ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق جرمنی کی چانسلر (سربراہ مملکت) انجیلا میرکل نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی معطلی پر تشویش کا اظہار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان باہمی کشیدگی دور کرنے کے لیے مل کر پر امن حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے مزید کہا کہ کشمیریوں کے لیے حالات غیر مستحکم، ناپائیدار اور نامناسب ہے اور اب اس کشیدگی اور تناؤ کو ختم ہونا چاہیئے، ہم عدم استحکام اور غیر یقینی صورت حال کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال اسی طرح نہیں چل سکتی۔

انجیلا میرکل اس وقت بھارت کے 3 روزہ دورے پر ہیں اور اس موقع پر جرمنی کی چانسلر نے کشمیر کی صورت حال پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تفصیلی موقف سننے کی خواہش کا بھی اظہار بھی کیا تھا اور مودی سرکار کی روایتی ڈھٹائی اور کشمیر کی صورت حال پر بات کرنے سے گریز کے باوجود کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا تھا۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے عددی اکثریت کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرکے دو انتظامی حصوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کردیا ہے اور 3 ماہ سے وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ، مواصلاتی نظام منقطع، ذرائع آمد ورفت معطل اور کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جبکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

کئی ارب ڈالر کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کروانے کا فیصلہ

اسلام آباد:  پاکستان نے کئی ارب ڈالر کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کروانے کا فیصلہ کرلیاہے۔

نئے پروجیکٹ آئندہ ہفتے سی پیک کی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے جس میں سی پیک کا مغربی روٹ، تونسہ ہائیڈوپاورپروجیکٹ، رائٹ بینک چشمہ پروجیکٹ، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ، آئل ریفائنری کی توسیع، پختونخوا کی سڑکوں کے منصوبے اور تھر بلاک انجینئرنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔

میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسروبختیار کا کہناہے کہ اگر یہ تمام منصوبے مکمل ہوگئے تو ملکی معیشت 4گنا بڑھ جائے گی۔ صحافیوں نے سوال کیاکہ ان منصوبوں کا مالیاتی حجم کیاہے اور ان منصوبوں کی شمولیت کے بعد سی پیک کا مالیاتی حجم کتناہوجائے گا تو وفاقی وزیر نے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

سی پیک معیشت کا اہم ستون، نئی منزل پر لے جا رہے ہیں، خسروبختیار

وفاقی وزرا نے کہا ہے کہ سی پیک معیشت کا ایک اہم ستون ہے، سی پیک کو نئی منزل پر لے جا رہے ہیں،14سال بعد ایم ایل ون منصوبہ حقیقی بننے جا رہا ہےاسٹیل مل کو فعال کیا جا رہا ہے، 2020ء میں سیاحت اور ثقافت کو بھی شامل کر رہے ہیں، کراچی سرکلر ریلوے کو ترجیح بنیادوں پر رکھا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرا خسرو بختیار، شیخ رشید، عمرایوب معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اورندیم بابرنے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خسروبختیار نے کہا کہ 6 تاریخ کو سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی کی میٹنگ ہے،4 تاریخ کوگوادر جا رہے ہیں وہاں300 میگاواٹ پاور پلانٹ کا افتتاح کریںگے۔

پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی میں سی پیک پر پیش رفت زیر بحث آئیگی۔ سی پیک پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا اہم ستون ہے، سب سے اہم ترین منصوبہ ایم ایل ون جو پاکستان کے فرسودہ ریلوے نظام کو ختم کرکے نئی صدی کا ریلوے نظام لائیگا۔ اسکی فنانسنگ فائنل ہوگئی۔

علی اور میشا کے کیس میں اداکارہ عفت عمر نے بیان ریکارڈ کرادیا

لاہور: علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں اداکارہ عفت عمر نے بھی بیان قلم بند کرادیا۔

لاہور کی سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے میشا کے خلاف علی ظفر کے ہتک عزت کے کیس  کی سماعت کی جس میں عدالت نے دیگر گواہان کا ریکارڈ قلم بند کیا۔

میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی اور علی ظفر کے وکیل حشام احمد خان اور بیرسٹر عنبرین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

دورانِ سماعت اداکارہ عفت عمر نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میں پروفیشنل ایکٹر ہوں، ٹی وی پروگرام کی ڈائریکٹر بھی ہوں اور میں اس شعبے میں پچھلے 30 سال سے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں علی ظفر اور میشا شفیع دونوں کو جانتی ہوں جب کہ علی کے والد میرے استاد بھی تھے، میشا اور ان کی والدہ کی اس پیشے میں بہت زیادہ عزت ہے۔

اداکارہ نے  عدالت کو بتایا کہ علی نے ماڈلنگ شروع کرتے ہوئے مجھ سے رابطہ کیا اور میرے ساتھ ہی مل کر ٹی وی  پر پہلا پلے کیا۔

عدالت نے اداکارہ کا بیان قلم بند کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ دو روز قبل لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کیس کی سماعت ہوئی تھی جس میں ان کی والدہ صبا حمید کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

صبا حمید کا کہنا تھا کہ عام طور پر خواتین ایسے واقعات کا نہیں بتاتیں، البتہ میں نے اس کے مثبت اور منفی نتائج کے بارے میں بتایا تھا۔

گزشتہ سال میشا شفیع نے گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

میشا شفیع کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی پر بات کرنا آسان نہیں لیکن اس پر خاموش رہنا بھی بہت مشکل ہے، میں خاموش رہنے کے کلچر کو توڑوں گی جو معاشرے میں سرائیت کرچکا ہے۔

گلوکار و اداکار علی ظفر نے میشا شفیع کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کر تے ہوئےکہا تھا کہ میں الزام کا جواب الزام سے نہیں دوں گا بلکہ میشا شفیع کے خلاف عدالت جاؤں گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ سچ ہمیشہ غالب ہوتا ہے۔

علی ظفر کی جانب سے ہراسانی کا الزام لگانے پر میشا شفیع پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

مولانا کی سیاست کا آخری داءو

وقتی طور پر مولانا کی یہ چال جسے ہندوستان، افغانستان اور دیگر ہم خیال ممالک کی آشیر باد حاصل ہے ۔ ضرور کامیاب ہوئی ہے ۔ جن عوام اور دوست ممالک کے تکیے پر مولانا اپنے بل سے دیوانہ وار نکلا ہے ۔ وہ انتہائی نادان ہے ۔ کہ ۔ مالٹا جیسا ملک بھی افراتفری کو کچل دیتا ہے ۔ پاکستان دفاعی اعتبار سے دنیا بھر میں معروف ملک ہے ۔ 20 سالوں سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک مثال ہے ۔ ایسی منظم فوج کو للکارنا ۔ اِک حماقت ہے ۔ فوج کے ترجمان کا یہ کہنا کہ ہم فساد کو بر داشت نہیں کریں گے جو کہ انکا آئینی حق ہے اورہم حکومت وقت کی ہدایات کے پابند ہیں نہ کہ سیاسی پارٹیوں کے جتھوں کے ۔ ریاست کی یہ جنگ 2008 سے متحرک ہے ۔ الطاف حسین کا تختہ ایسے تو نہیں بکھرا ۔ کرپشن،سیاسی شعبدہ بازیاں اور امن و امان کے مسائل نتھی ہیں ۔ تیسراقوم کی اخلاقی کشتی ڈوب رہی ہے ۔ تو ریاست کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہوگیا ۔ اس وقت کرپشن کے خلاف جنگ عمران خان کے حکم پر نہیں ہے بلکہ اتفاق سے اور وقت کے تقاضے آپس میں مل چکے ہیں ۔ ۔ اور اس جلسے کی شکست و ریخت کے بعد ۔ احتساب کا عمل انتہائی سخت ہو جائیگا ۔ اور اب تک جو تازہ فہرستیں ۔ وزیرا عظم ہاءوس میں آویزاں ہیں ۔ وہ ان کی بنیادوں سے آخری سریا تک کھینچ لے گا ۔ معاشی طور پر اس حکومت نے ان حالات میں رہتے ہوئے ۔ اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔ ظاہر اس کے اثرات عوام تک پہنچتے پہنچتے 2 سے 3 سال لیں گے ۔ قوم برباد ہوتی ہے رفتہ رفتہ اور بننے میں بھی وقت لگتا ہے ۔ یہ دنیا اسباب پر چلتی ہے ۔ کسی کی خواہش پر نہیں ۔ اس کرپٹ ٹولے کی شکست کے بعد ان میڈیا ہاءوسز اور صحافیوں کی دکانداری ٹھپ ہو جائیگی ۔ جو اس وقت جلسے میں سیاسدانوں کے ہم رکاب ہیں اور اپنے نام کے بل بوتے ۔ غیر یقینی صورتحال کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔ بعض صحافی بھی اپنی کرپشن کے انگاروں پر بیٹھے اچھل رہے ہیں ۔ یہ نظام قدرت ہے اور اے نبی انس کہہ دو جہنم تمہاری نظروں کے سامنے ہے تم اندھے ہو کیوں نظر نہیں آرہا ۔ پھر کہتے ہیں ۔ دراصل انہوں نے قوم کے مفاد کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ یہ اپنی اپنی ٹوکریاں بھر رہے ہیں ۔ لالچ ہوس کے مارے یہ اندھے جانوروں سے بھی برتر ہیں ۔ آخر میں میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں مگر یہ جانتا ہوں کہ عمران خان نہ ہوتے تو یہ اس طرح نہ چیختے ۔ کیونکہ انکو نظر آرہا ہے کہ عمران خان کی ایمانداری چل گئی تو ہمارا سورج ڈوب جائیگا ۔ اور ڈوب چکا ہے ۔ پاکستان کی تشکیل مخالفت کرنے والے ۔ پاکستان کی تباہی پر آمادہ یہ مداری اپنے کردار کے ہاتھوں رسوا ہو گئے ۔ میری اپنی رائے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے کل روح کو قرار ملنے والا ہے ۔ دنیا بدل رہی ہے ۔ اگر ہماری قوم کو تعلیم ہنگامی بنیادوں پر دی جائے توہم اپنے اہداف جو قائد اور اقبال نے دیے جلدی حاصل کر سکتے ہیں ۔ قوم کو مبارک ہو ۔ مگر ریاست کا پنجہ گہرا اور جابرانہ ہونا ضروری ہے ۔ مستقل کامیابی اور ریاست اور عوام کو گمراہ کرنے کی انکی چالیں ہزار پردوں میں چھی ہیں ۔ چور،مجرم اور بد عنوان اپنی محنت کو اتنی آسانی جانے نہیں دیتا ۔ یہی کچھ گزشتہ 50سالوں نت نئے حربوں سے چلتا آرہا ہے اور اب نفسیاتی طور چوری کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ راست طریقے سے کمانا انکے بس کا نہیں رہا ۔ سو اپنی دفاع کیلئے سارے چوروں نے اتحاد کرلیا اور کیوں نہ کرتے ۔ قران میں برائی کو ختم کرنے کے دو اصول بیان ہوئے ۔ ’’ کردار سازی،تعلیم اور ابلاغ‘‘ جب اس میں ناکامی نظر آئے یا مطلوبہ نتاءج نظر نہ آئیں تو معاشرے قوم یا ریاست پر لازم ہے کہ ان کو قوت سے کچلا جائے ۔ یہی اس کا علاج ہے اور اگر ان فسادیوں اور چوروں کے ساتھ مصلحت کی گئی تو یاد رکھنا اے مومنین کی جماعت ۔ سچ کبھی جھوٹ کے ساتھ کمپرومائز مصلحت نہیں کر سکتا ۔ ورنہ آپ کا سچ جھوٹ متصور ہو گا ۔ کیونکہ معاشرے میں ایک کرپٹ انسان معاشرے میں بد اعتدالی پیدا کرتا ہے ۔ لہٰذا حکومت وقت اور ریاستی ادارے،اور عوام ایسے عناصر کا خاتمہ فرض سمجھ کر کریں ۔ اس کی آپ سے باز پرس ہوگی ۔ مولانا اور ;848480; کے روابط جلسے میں ہی نظر آگئے ۔ مودی ;828383; اور مولانا کا پاکستانی ;828383; مشہود ہوگیا ۔ قیام پاکستان سے قبل دیونبدی اس ایجنڈے کا سرخیل حسین مدنی کے نظریات کسی ڈھکے چھپے نہیں ۔ اسفندیار،اچکزئی اور مولانا اسی سازشی سیاست کی گود میں پلے ہیں ۔ انکے قلوب میں زہر بھر ا ہے ۔ ریاست کا پنجہ کسی مصلحت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

امریکا میں پارٹی کے دوران فائرنگ سے 4 افراد ہلاک، 4 زخمی

یلی فورنیا: امریکا میں ہیلووین پارٹی خونی جھڑپ میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں درختوں سے گھرے ایک بڑے گھر میں روایتی ہیلووین پارٹی جاری تھی جس میں 100 سے زائد شرکاء موجود تھے۔ موسیقی کی دھن میں رقص جاری تھا اور سب نے جن، بھوت کے ڈراؤنے لباس زیب تن کیے ہوئے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔

اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3  نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ ایک نے اسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا، مرنے والوں کی عمریں 22 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔ فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔ فائرنگ کی جگہ سے دو بندوقیں بھی ملی ہیں۔ فائرنگ جھگڑے کا شاخسانہ محسوس ہوتی ہے۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر کو ایک رات کے لیے کرایے پر لیا گیا تھا اور مالک مکان کو کہا گیا تھا کہ کرایہ دار دمے کے مریض ہیں جو جنگل میں لگنے والی آگ کے باعث سانس لینے میں دقت محسوس کررہے ہیں اس لیے ایک دن کے لیے گھر کرایے پر لے رہے ہیں۔ ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

واضح رہے کہ ہیلو وین پارٹی میں ہلاکتوں کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے اس سے قبل 30 اکتوبر کو سان فرانسسکو میں ایک پارٹی کے دوران ہونے والی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے تھے۔

Google Analytics Alternative